59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الحشرکا تعارف اس سورت کا نزول مدینہ طیبہ میں ہوا۔ یہ سورت تین رکوعات اور چوبیس (٢٤) آیات پر محیط ہے۔ مسبّحات میں یہ دوسری سورت ہے اس کا پہلا فرمان یہ ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کی ہر چیز ” اللہ “ کی تعریف کر رہی ہے وہ اللہ ہر اعتبار سے غالب حکمت والا ہے۔ اسی غالب آنے والے نے مدینہ سے ان کافروں کو نکلنے پر مجبور کیا جو اپنی افرادی قوت اور مضبوط قلعوں کی بنیاد پر مدینہ سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ واقعہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ یہودی کئی صدیوں سے حجاز بلخصوص مدینہ کے علاقے میں اپنا تسلّطجمائے ہوئے تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو بقائے باہمی کے اصول پر یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا کہ خارجی خطرات کی صورت میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مدینہ کا دفاع کریں گے لیکن انہوں نے غزوہ بدر سے لے کر مکہ فتح ہونے تک ہر بار مشرکین مکہ کا پورا پورا ساتھ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خندق سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا اور انہیں مہلت دی کہ اتنے دنوں میں اپنے معاملات سمیٹ لو اور جس قدر سامان اٹھا سکتے ہو اسے لے کر نکل جاؤ لیکن منافقوں کی حوصلہ افزائی پر یہودیوں کے قبیلہ بنوقریظہ نے نکل جانے سے انکار کردیا۔ اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے علاقے کی طرف پیش قدمی فرمائی اور ان کے کچھ باغ کاٹنے کا حکم دیا جس پر انہوں نے پروپگنڈہ کیا کہ یہ جہاد کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ جہادی ضرورت کے لیے اگر فصل کاٹنا پڑے تو یہ فساد نہیں بلکہ جہاد کے لیے ضروری ہے اس کے بعد جہاد میں حاصل ہونے والے مال فے کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا اس اصول میں یہ اصول بھی بتلا دیا گیا کہ مسلمانوں کا نظام معیشت ایسا ہونا چاہیے جس میں دولت کا بھاؤ غریب اور مسکین کی طرف رہے۔ سورت کے دوسرے رکوع میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اے مسلمانوں تم کفار کو متحد سمجھتے ہو یہ بظاہر ایک ہیں لیکن ان کے خیالات اور مفادات الگ الگ ہیں اس لیے ان کے ظاہری اکٹھ سے خوف زدہ نہیں ہونا۔ سورت کے آخری رکوع میں قرآن مجید کی عظمت اور تاثیر کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ قرآن کس قدر تاثیر اور عظمت والا ہے اگر یہ پہاڑ پر اتارا جاتا تو پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتا۔

Ayah 59:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط سورت : دنیا اور آخرت میں کامیابی کے اسباب میں ایک بڑا سبب ” اللہ “ کی یاد ہے۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو یاد کرتی ہے۔ اس میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ اے انسان ! تجھے بھی ” اللہ “ کو یاد کرنا چاہیے۔ یہ بات سورة الحدید کی ابتدا میں عرض ہوچکی ہے کہ ” سَبَّحَ یُسَبِّحُ “ سے شروع ہونے والی چھ سورتیں ہیں جنہیں مسبِّحات کہتے ہیں۔ چناچہ سورة حشر کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال اور با رعب لفظ سے ہو رہی ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتی ہے جو اپنی ذات، صفات اور حکم کے حوالے سے پوری مخلوق پر غالب ہے لیکن اس کے غلبہ میں ظلم کی بجائے شفقت پائی جاتی ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن میں بڑے بھاری ہیں۔ “ (رواہ البخاری : کتاب التوحید) ” حضرت ابومالک اشعری ؓ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے۔ ” الحمدللہ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سبحان اللہ “ اور ” الحمدللہ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔ “ (رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ) مسائل 1۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی ہر چیز تسبیح کرتی اور اس کے حضور سربسجود ہوتی ہے : (حٰم السجدۃ : 37) (الحجر : 98) (الحج : 77) (النجم : 62) (النحل : 48) (النحل : 49) (الرحمن : 6) (الاعراف : 206)
Ayahs 59:2–3

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اہل کتاب سے کفار کو پہلے ہی ہلے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا، تمہیں گمان بھی نہیں تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ بھی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے، مگر اللہ ان پر اس طرف سے آیا جس طرف کا وہ خیال نہیں رکھتے تھے۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اے عقل رکھنے والو عبرت حاصل کرو

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ دنیا میں بھی انہیں عذاب دیتا، اور آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر چیز پر ہر اعتبار سے غالب ہے اس کے غالب ہونے کا ایک ثبوت۔ نبی معظم ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے اس کا نام یثرب تھا۔ یثرب میں رہنے والوں کی غالب اکثریت یہود پر مشتمل تھی۔ یہودیوں کا ہر لحاظ سے مدینہ اور اس کے گرد پیش کے علاقے پر تسلط تھا۔ نبی معظم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے بقائے باہمی کے اصول پر یہودیوں سے ایک معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں ایک شرط یہ تھی کہ آپس میں مل جل کر رہیں گے اور خطرہ کی صورت میں اکٹھے ہو کر مدینہ کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودیوں نے غزوہ بدر، اُحد، خندق اور دیگر مواقعوں پر مدینے کے منافقین اور مکہ کے کفار کی درپردہ حمایت جاری رکھی۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر نبی ﷺ کو شہید کرنے کی کوشش کی جس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ ﷺ ایک جھگڑے کے حل کے لیے یہودیوں کے قبیلہ بنو نضیر کے ایک محلے میں تشریف لے گئے۔ یہودیوں کو آپ کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے یہ سازش تیار کی کہ جب آپ مجلس میں بیٹھے ہوں تو مکان کی چھت سے بھاری پتھر پھینک کر آپ کو ختم کردیا جائے۔ آپ پروگرام کے مطابق وہاں تشریف لے گئے اور ابھی دیوار کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے ہی تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعے یہودیوں کی سازش کا علم ہوا تو آپ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان حالات میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ فیصلہ فرمایا کہ بنونضیر کو مدینہ سے نکال باہر کیا جائے۔ آپ ﷺ نے انہیں پیغام بھیجا کہ اپنا سامان لے کر مدینہ سے نکل جاؤ اور پورے علاقے کو خالی کر دو ۔ قریب تھا کہ یہودی اپنا سازوسامان لے کر نکل جاتے لیکن رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے انہیں پیغام بھیجا کہ تمہیں اپنے گھر بار اور علاقہ نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ میں دوہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری حفاظت کے لیے پہنچ جاؤں گا، بنوقریظہ اور بنو غطفان بھی تمہاری مدد کریں گے۔ اس پر بنو نضیر کے سردار حی بن اخطب کا حوصلہ بڑھا اور اس نے علاقہ چھوڑنے کی بجائے مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کا عزم کرلیا۔ نبی معظم ﷺ نے اس صورت حال میں بنو نضیر کا محاصرہ کیا بنو نضیر کی بستی کے چاروں طرف گنجان باغات تھے جس وجہ سے ان کی طرف پیش قدمی کرنے میں دقت پیش آئی اس لیے آپ نے چند درخت کاٹنے کا حکم دیا، اس پر منافقین اور یہودیوں نے شور مچایا کہ یہ جہاد نہیں فساد فی الارض ہے۔ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے رب ذوالجلال نے فرمایا کہ وہی ذات ہے جس نے پہلے ہی حملے میں اہل کتاب کے کفار کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا حالانکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ لڑائی کے بغیر اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کے قلعے انہیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت اس طرح کی جس کا وہ خواب و خیال بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ان کے دلوں پر اس طرح رعب ڈال دیا کہ ایک طرف مسلمان ان کا سازوسامان اٹھا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود اپنے گھروں کو مسمار کررہے تھے۔ یاد رہے کہ اللہ کے رسول نے انہیں یہ اختیار دیا تھا کہ جس قدر اپنا سازوسامان لے جاسکتے ہو اسے اٹھانے کی تمہیں اجازت دی جاتی ہے اس لیے یہودی اپنے مکانوں کے دروازے اور سامان اکھاڑ اکھاڑ کرلے جارہے تھے باقی ماندہ سامان مسلمانوں نے اکٹھا کرلیا۔ یہودیوں کے لیے یہ ایسا اندوہ ناک لمحہ تھا کہ جس کا اس سے پہلے وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ اے آنکھیں رکھنے والو ! اسے کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھو اور پوری بصیرت کے ساتھ غورو فکر کرو اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اس کسم پرسی کے عالم میں کچھ یہودی شام کی طرف چلے گئے اور باقی نے خیبر میں جاکر پناہ لی جنہیں حضرت عمر ؓ کے دور میں خیبر سے نکال دیا گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں یہ بات نہ لکھی ہوتی کہ یہودیوں کو جلاوطن کیا جائے گا تو وہ دنیا میں انہیں سخت ترین عذاب دیتا اور آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہوگا۔ ” لِاَوَّلِ الْحَشْرِ “ کے اہل علم نے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ پہلے حشر سے مراد نبی ﷺ کے دور میں یہودیوں کا مدینہ سے اخراج ہے، دوسرا حشر وہ ہے جب یہودیوں کو حضرت عمر ؓ کے زمانے میں جزیرۃ العرب سے نکال دیا گیا۔ دوسری جماعت کا نظر یہ ہے کہ ” لِاَوَّلِ الْحَشْرِ “ سے مراد مسلمانوں کا پہلے مرحلے میں یہودیوں کے خلاف اکٹھا ہونا ہے۔ ابھی مسلمان یہودیوں کے خلاف اکٹھے ہوئے ہی تھے کہ یہودی مرعوب ہو کر خود بخود مدینہ چھوڑ کر خیبر کی طرف روانہ ہوگئے۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز کے علاقے سے جلاوطن کردیا۔ جب رسول اکرم ﷺ نے خیبر پر غلبہ پایا تو آپ نے ارادہ کیا کہ وہاں سے یہودیوں کو جلا وطن کیا جائے کیونکہ اس علاقے پر جب غلبہ حاصل ہوا تو یہ زمین اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کی ہوگئی تھی۔ یہودیوں نے رسول مکرم ﷺ کی خدمت میں درخواست کی وہ زمینوں اور باغات میں کام کریں گے اور انہیں پھلوں سے نصف حصہ دیا جائے۔ اس پر رسول معظم ﷺ نے فرمایا جب تک ہم پسند کریں گے تمہیں یہاں رہنے دیں گے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے ان کو اپنے دور خلافت میں شام کے ملک میں تیما اور اریحا بستی کی جانب جلا وطن کردیا۔ “ (رواہ البخاری : باب مَا کَان النَّبِیُّ ﷺ یُعْطِی الْمُؤَلَّفَۃَ قُلُوبُہُمْ وَغَیْرَہُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِہِ ) (کیونکہ یہودی شرارتوں اور سازشوں سے باز نہیں آتے تھے۔ ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو مدینہ سے نکلنے پر مجبور کیا حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم قلعہ بند ہو کر اپنی حفاظت کرسکیں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے اہل کتاب کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا۔ 3۔ یہودی اپنے آپ کو مدینہ میں بڑا طاقتور سمجھتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کردیئے جس سے یہودی مدینہ سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ 4۔ دشمن کی ذلّت اور بربادی سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے اہل کتاب کو دنیا میں ذلیل کیا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کی آگ ہوگی۔
Ayah 59:4

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو بھی ” اللہ “ کی مخالفت کرے گا ” اللہ “ اس کو سخت سزا دینے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : بنو نضیر دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں انہیں شدید عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والی تھے، جو بھی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چلے گا وہ آخرت میں سزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ صرف یہودی نہیں بلکہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے شدید عذاب میں مبتلا کرے گا۔ آیت کے پہلے حصے میں یہ ارشاد ہے کہ یہودیوں کو دنیا میں اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں لیکن آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنا نام لیا گیا ہے۔ اکیلا اپنا نام اس لیے لیا ہے کیونکہ رسول کی مخالفت آپ کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ ﷺ کی دعوت کی وجہ سے تھی۔ نبی ﷺ کی سیرت پر غور فرمائیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ دعوت پیش کرنے سے پہلے اہل مکہ آپ کو صادق اور امین کے معزز لقب سے یاد کیا کرتے تھے لیکن جونہی آپ نے توحید کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کے برے نام رکھے اور آپ کو مختلف قسم کی اذّیتیں دیں اور آپ کی ذات کے دشمن ہوئے۔ یہی رویہ یہود و نصاریٰ کا تھا اور ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ جو بھی اللہ کی مخالفت کرے گا ” اللہ “ اسے شدید عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی مختلف صورتیں۔ 1۔ ” اللہ “ کی ذات اور صفات میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ 2۔ جو شخص ” اللہ “ کی عبادت نہیں کرتا یا اس کی عبادت میں دوسرے کو شریک کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان کی مخالفت کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو خاتم المرسلین بنایا ہے جو شخص آپ کو خاتم المرسلین رسول نہیں مانتا اور آپ کی اطاعت نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ عملاً اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے اور جو ” اللہ “ کی مخالفت کرتا ہے۔ ” اللہ تعالیٰ “ اسے شدید عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا) (النساء : 80) ” جس نے رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ پھیر لے ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ “ (وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ اُمَّتِیْ ےَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ اَبٰی قِےْلَ وَمَنْ اَبٰی قَالَ مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَد اَبٰی) (رواہ البخاری : باب الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : میری پوری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا جنت میں جانے سے کون انکار کرتا ہے ؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔ “ مسائل 1۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ انسان کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنا چاہیے۔ 3۔ جو شخص اللہ کے رسول کی مخالفت کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ 4۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے شدید ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو سخت عذاب دے گا : 1۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ (المائدۃ : 98) 2۔ ” اللہ “ کفر کرنے والوں کو سخت ترین عذاب سے دو چار کرے گا۔ (آل عمران : 56) 3۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ (آل عمران : 4) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کے لیے شدید عذاب ہوگا۔ (الانفال : 13) 5۔ اللہ کی گرفت بہت سخت ہوا کرتی ہے۔ (البروج : 12)
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

تم نے جو کھجوروں کے درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، یہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا تاکہ اللہ نافرمانوں کو ذلیل و خوار کرے

فہم القرآن ربط کلام : مدینہ سے یہودیوں کے اخراج کا ذکرجاری ہے۔ نبی معظم ﷺ نے بنونضیر کا محاصرہ کرنے کے لیے کھجوروں کے کچھ درخت کاٹنے کا حکم دیا جس پر منافقین اور یہودیوں نے پراپیگنڈہ کیا کہ ” محمد “ نے جہاد کے نام پر فساد فی الارض شروع کردیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے درخت کاٹنے کے عمل کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنو ! تم نے جو کھجور کے درخت کاٹے یا جنہیں اپنی حالت پر کھڑے رہنے دیا یہ اللہ کا حکم تھا اور یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ناگزیر حالات میں دشمن کی جائیداد اور فصل کو تباہ کیا جاسکتا ہے البتہ اہم مجبوری کی صورت کے بغیر دشمن کی جائیداد اور فصل کو نقصان پہچانا جائز نہیں۔ (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَمَرَاُمَرَاؤَہٗ اَن لَّا ےَقْتُلُوْا اِلَّامَنْ قَاتَلَھُمْ ) (فتح الباری : باب این رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح) ” رسول اکرم ﷺ نے فوجی افسروں کو حکم دیا تھا کہ ان لوگوں سے جنگ نہیں کرنا جو تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ “ (لَا تَقْتُلُوا شَےْخًا فَانِےًا وَّلَا طِفْلاً وَّلَا صَغِےْرًا وَّلَا اِمْرَاَۃً ) (مشکوٰۃ : باب القتال فی الجہاد) ” بوڑھوں، نو عمر لڑکوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔ “ (عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ وَہَذَا حَدِیثُ ابْنِ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی سَرِیَّۃٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُہَیْنَۃَ فَأَدْرَکْتُ رَجُلاً فَقَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَطَعَنْتُہُ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُہُ للنَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَقَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَقَتَلْتَہُ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّمَا قَالَہَا خَوْفًا مِنَ السِّلاَحِ قَالَ أَفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَہَا أَمْ لاَ فَمَازَالَ یُکَرِّرُہَا عَلَیَّ حَتَّی تَمَنَّیْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ یَوْمَءِذٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّہِ لاَ أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّی یَقْتُلَہُ ذو الْبُطَیْنِ یَعْنِی أُسَامَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَلَمْ یَقُلِ اللَّہُ (وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُون الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ ) فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِیدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونَ فِتْنَۃٌ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب تحریم قتل الکافر بعد أن قال لاإلہ إلا اللّٰہ) ” حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (جنگ) میں بھیجا ہم صبح صبح جہینہ کے علاقہ میں پہنچ گئے میں نے وہاں ایک دشمنوں کے آدمی کو پایا اس نے مجھے دیکھ کر لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ، کہا لیکن میں نے اسے قتل کردیا پھر میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوا کہ میں نے مسلمان کو قتل کیا یا کافر کو ؟ میں نے اس کی خبر نبی ﷺ کو دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ پڑھا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں، آپ ﷺ باربار یہی کلمات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا حضرت سعد ؓ نے کہا اللہ کی قسم میں مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک کہ اس کو اسامہ قتل کردیں ایک آدمی نے کہا کہ کیا اللہ عز وجل نے نہیں فرمایا کافروں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ فتنہ نہ رہے اور اللہ کا دین عام ہوجائے حضرت سعد ؓ نے کہا کہ ہم فتنہ مٹانے کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھی فتنہ پھیلانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔ “ نبی ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اس بات کا خیال رکھا کہ نہ صرف آبادی پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے پائے بلکہ جانوروں اور کھیتوں کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچنے۔ شام پر فوج کشی کا ارادہ کیا تو فوج کو رخصت کرتے وقت سپہ سالارکو ہدایات فرمائیں : ” تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے ان کو چھوڑ دینا۔ میں تم کو دس وصیتیں کرتا ہوں کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آبادیوں کو ویران نہ کرنا، بکری اور اونٹ کو ذبح کرنے کے سوا بےوجہ نہ مارنا، باغات کو نہ جلانا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور بزدلی نہ دکھانا۔ “ (تاریخ الخلفاء : سیوطی) نبی ﷺ کے زمانہ میں تقریبا پوراجزیرۃ العرب زیر نگیں ہوچکا تھا۔ غیر مسلم رعایا کی حیثیت سے سب سے پہلے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ کیا ان کو آپ نے جو حقوق دیے وہ اب تک تاریخ میں محفوظ ہیں جن کو من وعن نقل کیا جاتا ہے۔ اہل نجران کے ساتھمحمد ﷺ کا معاہدہ : (وَلِنَجْرَانَ وَحَاشِےَتِھَا جَوَار اللّٰہِ وَذِمَّۃُ مُحَمَّدِ النَّبِیِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَمِلَّتِھِمْ وَاَرْضِھِمْ وَاَمْوَالِھِمْ وَغَاءِبِھِمْ وَشَاھِدِھِمْ وَعِےْرِھِمْ وَبَعْثِھِمْ وَاَمْثِلَتِھِمْ لَا ےُغَیَّرُ مَا کَانُوْا عَلَےْہِ وَلَا ےُغَیَّرُ حَقٌ مِنْ حُقُوْقِھِمْ وَاَمْثِلَتِھِمْ وَلَا ےُفَتَّنَّ اُُسُقُّفٌ مِنْ اَسْقِفِیَّتِہٖ وَلَا رَاھِبٌ مِنْ رَھْبَانِیَّتِہَٖ ولاَ وَاقِہٌ مِنْ وَقَاھِےْنَتِۃٖ عَلٰی مَا تَحْتَ اَےْدِےْھِمْ مِنْ قَلِےْلٍ اَوْ کَثِےْرٍ وَّلَےْسَ عَلَےْھِمْ رَھْقٌ وَلَا دَمُّ جَاھِلِیَّۃٍ وَلَا ےُحْشَرُوْنَ وَلَا ےُعْشَرُوْنَ وَلَا ےَطَاءُ اَرْضَھُمْ جَےْشٌ مَنْ سَاَلَ مِنْھُمْ حَقًّافَبَےْنَھُمُ النِّصْفُ غَےْرَ ظَالِمِےْنَ وَلَا مَظْلُوْمِےْنَ بِنَجْرَانَ وَمَنْ اَکَلَ مِنْھُمْ رِبًا مِنْ ذِی قِبَلٍ فَذِمَّتِی مِنْہُ بَرِےْءَۃٌ وَلَا ےُؤْخَذُ مِنْھُمْ رَجُلٌ بِظُلْمِ اَخَرَ وَلَھمُْ عَلٰی مَا فِی ھَذٰہِ الصَّحِےْفَۃِ جَوَار اللّٰہِ وَذِمَّۃُ مُحَمَّدِالنّٰبِی اَبَدًا حَتَّی ےَاْتِی اَمَرُ اللّٰہِ مَا نَصَحُوا واصْلَحُوا فِےْمَا عَلَےْھِمْ غَےْرَ مُکَلِّفِےْنَ شَےْءًا بِظُلْمٍ ) (فتوح البلدان : کتاب الخراج، امام ابو یوسف) ” نجران اور اس کے رہنے والوں کی جانیں، ان کا مذہب، ان کی زمینیں، ان کا مال، ان کے حاضرو غائب، ان کی مورتیاں، ان کے قافلے اور قاصد، اللہ کی امان اور اس کے رسول ﷺ کی ضمانت میں ہوں گے۔ ان کی موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی ان کے حقوق میں سے کسی حق میں مداخلت نہیں کی جائے گی، کوئی اسقف اپنی اسقفیت سے، کوئی راہب اپنی رہبانیت سے، کنیسہ کا کوئی منتظم اپنے عہدہ سے ہٹایانہ جائے گا، اور جو کچھ بھی ان کے قبضے میں ہے اسی طرح رہے گا۔ ان کے زمانۂ جاہلیت کے کسی جرم یا خون کا بدلہ نہ لیا جائے گا، نہ ان سے فوجی خدمت لی جائے گی اور نہ ان پر عشر لگایا جائے گا اور نہ اسلامی فوج ان کے علا قے کو پامال کرے گی۔ ان میں سے جو شخص اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے گا تو اس کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ نہ انہیں ظلم کرنے دیا جائے گا اور نہ ان پر ظلم ہوگا۔ ان میں سے جو شخص سود کھائے گا وہ میری ضمانت سے بری ہے۔ اس صحیفہ میں جو لکھا گیا ہے اس کے ایفا کے بارے میں اللہ کی امان اور محمد ﷺ کی ذمہ داری ہے یہاں تک کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دوسرا حکم نازل ہو۔ جب تک یہ لوگ مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے ان کے ساتھ کیے ہوئے معاہدہ کی پابندی کریں گے ان کو جبراً کسی بات پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے محاصرے میں آپ ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے درخت کاٹ دیئے جائیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں بھی ذلیل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں کو دنیا میں ذلیل کیا : 1۔ یہودی دنیا میں ذلیل اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ (البقرۃ : 85) 2۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے والے دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (البقرۃ : 114) 3۔ کفار کو دنیا وآخرت میں شدید عذاب ہوگا۔ (الرعد : 34، آل عمران : 56) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن اور فسادی دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ (المائدۃ : 33) 5۔ بچھڑے کے پجاری دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (الاعراف : 152) 6۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبہ : 74) (النور : 19) (الزمر : 26)
Ayahs 59:6–7

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف لوٹاوہ ایسا مال نہیں ہے جس پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو بھی بستیوں کے لوگوں سے اللہ اپنے رسول کی طرف لوٹائے۔ وہ اللہ اور رسول اور قرابت داروں اور یتامٰی مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔ تاکہ مال تمہارے مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے۔ اسے لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : بنو نضیر کے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں حکم۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر پر مسلمانوں کا اس طرح دبدبہ اور رعب طاری کیا کہ انہوں نے مسلمانوں کے حملہ کیے بغیر ہی اپنے گھر بار اور پورا علاقہ خالی کردیا۔ اس طرح مسلمان ان کے گھروں اور زمینوں پر قابض ہوگئے۔ جب بنو نضیر اپنی جائیدادیں چھوڑ کر نکل گئے تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اس مال کی کس طرح تقسیم کی جائے بالخصوص جب منافقین نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی مال غنیمت سے حصہ دیا جائے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ یہ مال غنیمت نہیں بلکہ اسکی حیثیت مال فئی کی ہے کیونکہ اس پر مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ یعنی مسلمانوں کے حملہ کی وجہ سے یہودیوں نے اپنا گھربار نہیں چھوڑا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول کا دبدبہ طاری کیا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے حملہ آور ہونے سے پہلے ہی وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ جن پر چاہتا ہے اپنے رسول کو غالب کردیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو مال بستی والوں سے اپنے رسول کو عطا کیا ہے وہ اللہ، اس کے رسول، اور اس کے رشتہ دار، یتامیٰ ، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔ تقسیم کا مقصد یہ ہے کہ دولت دولت مندوں کے ہاتھوں میں محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ جو چیز رسول تمہیں عطا فرمائے اسے لے لوجس سے تمہیں منع کرے اس سے رک جاؤ اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو، یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس فرمان میں یہودیوں کے چھوڑے ہوئے مال کو مال فئی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے مراد دشمن کا وہ مال ہے جو بغیر جنگ کے حاصل ہو۔ (فئی کا معنٰی لوٹنا، واپس آنا، ہٹ جانا، رجوع کرنا ہے۔ ) اس ارشاد میں تین بنیادی مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1 ۔ جنگ کیے بغیر جو مال حاصل ہو اس کی تقسیم درج ذیل اصول کی بنیاد پر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا حصہ : اس کے بارے میں اہل علم کا خیال ہے کہ یہ مال بیت اللہ پر خرچ ہونا چاہیے۔ اللہ کے رسول کا حصہ : اللہ کے رسول کے زمانے میں اس مال سے آپ ﷺ اپنی گھریلو ضروریات پوری کرتے تھے۔ اسی بنا پر خیبر کے موقع پر آپ کے حصہ میں جو باغ آیا اس کی آمدنی آپ کے بعد امہات المومنین پر خرچ کی جاتی تھی اس کی تفصیل حدیث کی کتب میں موجود ہے۔ ” حضرت مالک بن اوس بن حدثان (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جس سال حضرت عمر ؓ نے حج کیا تھا آپ ﷺ کے پاس خیبر، فدک اور بنو نضیرتین باغ تھے جو بنو نضیر کا باغ تھا وہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو لیے رکھا ہوا تھا جن کو اسلام میں مشکلات اور تکالیف آتیں تھیں اور جو فدک کا باغ تھا اس کی آمدنی آپ ﷺ مسافروں پر خرچ کرتے تھے جبکہ خیبر کے باغ کی آمدنی کو آپ ﷺ نے تین حصوں میں بانٹ رکھا تھا دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے اس ایک حصے میں سے جو رقم بچ جاتی وہ بھی آپ ﷺ فقراء اور مہاجرین میں تقسیم کردیتے تھے۔ “ (رواہ ابوداؤد : بَابٌ فِی صَفَایَا رَسُول اللَّہ ﷺ مِنَ الْأَمْوَالِ ، قال البانی ھذا حدیث حسن) مستحق قریبی رشتہ داروں کا حصہ : رسول کے مستحق قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے۔ مالِ فئی سے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر بھی خرچ کرنا چاہیے۔ 2 ۔ دولت کا معاشرے میں گردش کرنا ضروری ہے، دولت کا لفظی معنٰی گھوم گھوم کر آنا ہے۔ عام طور پر دولت کا لفظ جن چیزوں پر بولا جاتا ہے وہ کسی نہ کسی صورت میں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ دولت کے بارے میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ اسے سود کی بجائے تجارت میں استعمال کرنا چاہیے، سودی نظام میں دولت کا بہاؤ سرمایہ دار کی طرف رہتا ہے اور تجارت میں مال مختلف ہاتھوں میں گھومتا ہے جس سے بیک وقت سرمایہ دار اور دوسرے لوگ اپنی اپنی استعداد کے مطابق فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 3 ۔ تیسرا اصول یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو رسول تمہیں دے اسے پکڑلو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔ اسی اصول پر سارے دین کا انحصار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جو حکم اور ہدایت دی ہے وہ رسول کے ذریعے دی ہے، اس لیے حکم ہے کہ جو رسول دے اسے پکڑ لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء : 80) رسول کی اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق اور اس کی محبت کا واحد ذریعہ ہے۔ (آل عمران : 31) اس کے بغیر نہ امت متحد رہ سکتی ہے اور نہ ہی اللہ کے ہاں کسی کی نیکی قبول ہوگی، اس لیے اس اصول میں کسی قسم کے ترمیم و اضافہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو اس کے خلاف کرے گا اسے شدید عذاب دیا جائے گا۔ (لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) (شرح السنۃ : باب رد البدع والاہواہ) ” تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے۔ “ مسائل 1۔ جنگ کے دوران بلامقابلہ ہاتھ آنے والے مال کو مال فئی کہتے ہیں۔ 2۔ فئی کا مال غنیمت کے اصول پر تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ وہ مملکت کی ملکیت ہوتا ہے۔ 3۔ فئی کا مال اہل بیت، غرباء، یتامیٰ اور مساکین پر خرچ ہونا چاہیے۔ 4۔ اسلامی حکومت میں ایسا نظام ہونا چاہیے جس سے دولت لوگوں کے درمیان گردش کرتی رہے۔ 5۔ اللہ کے رسول نے جو کچھ فرمایا ہے اس پر سختی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انسان کو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے : 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ خاص مجھ ہی سے ڈر و۔ (البقرۃ : 41) 2۔ اے عقل مندو ” اللہ “ سے ڈر جاؤ۔ (الطلاق : 10) 3۔ اے عقل مند و ! اللہ سے ڈر جاؤ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 100) (الاحزاب : 70) (النساء : 1) (الاحزاب : 70)
Ayahs 59:8–9

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

مالِ فئی ان غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال دئیے گئے ہیں، یہ وہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ، اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں، یہی سچے لوگ ہیں

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ایمان لا کر دارالہجرت میں مقیم ہیں یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں۔ اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے۔ اس کی کوئی حاجت اپنے دلوں میں نہیں پاتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ اپنی جگہ ضرورت مند ہوتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی کنجوسی، بخل سے بچا لیے گئے وہی کامیاب ہونے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : مال فئی میں غریب مہاجرین اور مستحق انصار کا حصہ بھی شامل ہوگا۔ مالِ فئی میں ان مسلمانوں کو بھی حصہ ملنا چاہیے جنہیں ان کے مالوں اور گھروں سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں۔ یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مال فئی میں وہ ایماندار بھی حصہ دار ہیں جو پہلے سے مدینہ میں مقیم ہیں اور اپنے ہاں آنے والے مہاجرین کے ساتھ محبت رکھنے والے ہیں وہ مہاجرین کے لیے ایثار کرتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی ضرورت مند ہیں۔ اپنی ضرورت کے باوجود اپنے آپ پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں جو شخص شح سے بچا لیا گیا وہ کامیاب ہوگا۔ یاد رہے کہ انسان بخل، گناہ اور ہر قسم کی کمزوری سے اللہ کی توفیق سے بچتا ہے۔ یہاں انصارِمدینہ کی یہ کہہ کر تعریف کی گئی ہے کہ وہ اس قدر مخلص اور ایثار پیشہ لوگ ہیں کہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود مہاجرین کی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ انصار مدینہ نے اسی وصف کی بنا پر مہاجرین کے ساتھ دلی محبت کا اظہار کیا اور ایثار کی ایسی مثالیں قائم کیں جس کی نظیر دنیا میں ملنا مشکل ہے۔ ایمان کی تازگی کے لیے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ ” شُحَّ “ کا لغوی معنی ہے کنجوسی، بخل مگر جب اصطلاح میں اس لفظ کو نفس کی طرف منسوب کیا جائے۔ ” شُحَّ نَفْسِ “ کہا جائے تو یہ دل کی تنگی، کم حوصلگی اور دل کے چھوٹے پن کا معنی دیتا ہے۔ انصار کا مہاجرین کے لیے ایثار : مکہ سے ہجرت کرنے والے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آئے تھے جن کے لیے انصار نے اس قدر محبت اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے اور مہاجرین کے درمیان ہماری جائیدادیں اور باغات تقسیم کردئیے جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہادی جائیدادیں تمہارے پاس ہی رہیں گی۔ انصار نے مہاجرین سے کہا کہ اگر آپ ہمارے ساتھ کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹائیں تو پیداوار میں آپ برابر کے شریک ہوں گے۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مہاجرین کھیتی باڑی نہیں جانتے۔ انصار نے عرض کی تو پھر بھی ہم پیداوار میں انہیں آدھا حصہ دیں گے۔ ایثار کی انتہا : (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَدِمَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَۃَ فَآخَی النَّبِیُّ َ بَیْنَہُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ الْأَنْصَارِیِّ ؓ وَکَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًی فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أُقَاسِمُکَ مَالِی نِصْفَیْنِ وَأُزَوِّجُکَ قَالَ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِی أَہْلِکَ وَمَالِکَ دُلُّونِی عَلٰی السُّوقِ فَمَا رَجَعَ حَتَّی اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا فَأَتَی بِہٖ أَہْلَ مَنْزِلِہِ فَمَکَثْنَا یَسِیرًا أَوْ مَا شَاء اللّٰہُ فَجَاءَ وَعَلَیْہِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَۃٍ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ ﷺ مَہْیَمْ قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا سُقْتَ إِلَیْہَا قَالَ نَوَاۃً مِّنْ ذَہَبٍ أَوْ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ ) (رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب قول اللہ تعالیٰ فإذا قضیت الصلاۃ) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں عبدالرحمن بن عوف ؓ مدینہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے سعد بن ربیع انصاری اور ابن عوف ؓ کے درمیان مواخات قائم کی سعد مال دار آدمی تھے انھوں نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے کہا میں اپنے مال کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں اور آپ کی شادی کا انتظام کرتا ہوں عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور اہل میں برکت کرے مجھے بازار کے بارے میں معلومات دیں اس کے بعد عبدالرحمن بن عوف ؓ بازار گئے اور وہاں سے گھی اور پنیر لے کر واپس آئے۔ ہمیں مدینہ میں ٹھہرے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ آئے تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ کے نشانات تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے انصاری عورت سے شادی کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کتنا مہر ادا کیا ہے ؟ عبدالرحمن نے کہا گٹھلی کے برابر سونا یا اس سے کچھ کم دیا ہے۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ولیمہ کریں خواہ ایک بکری ہی ذبح کرو۔ “ ” حضرت عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ نے فرمایا : میں آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ ہجرت میں پہل کرنے والے مہاجرین کے حق کا خیال رکھے اور جن انصار نے آپ ﷺ کی ہجرت سے پہلے اس گھر اور ایمان میں جگہ بنالی ان کے بارے میں خلیفہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کی اچھائی قبول کرئے اور ان کی کمزوری سے درگذر کرے۔ “ (رواہ البخاری : باب ” وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ “ ) مسائل 1۔ جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے اپنا گھر بار چھوڑتے ہیں وہ اپنے ایمان میں سچے ہوتے ہیں۔ 2۔ جو لوگ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں اور اپنی ضرورت کے باوجود ان کی ضرورت کے لیے ایثار کرتے ہیں وہ فلاح پائیں گے۔ 3۔ جو دل کی بخیلی سے بچالیا گیا وہ کامیاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن کامیاب ہونے والے لوگوں کے اوصاف : 1۔ جو اللہ کی توحید کا اقرار کرکے اس پر ڈٹ جاتے ہیں وہ کامیاب ہیں۔ (الاحقاف : 13، 14، حم السجدۃ : 30) 2۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں وہ کامیاب ہوں گے۔ (البقرۃ : 82) 3۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ (النساء : 13) 4۔ اللہ سے ڈرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔ (الرحمن : 46) 5۔ جو برائی سے بچ گیا اس پر اللہ کا رحم ہوا، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (المومن : 9)
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

جو پہلے لوگوں کے بعد آئے ہیں وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے بارے میں بغض نہ رہنے دے، اے ہمارے رب تو بڑا نرمی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مال فئی میں بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی حصہ رکھنا چاہیے اور پہلے فوت شدگان کے لیے دعا کرنی چاہئے۔ مالِ فئی میں ان لوگوں کا حصہ بھی شامل ہے جو ہجرت میں پہل کرنے والوں کے بعد ایمان لانے والے ہیں کیونکہ ان کا تعلق اور محبت ان مومنوں کے ساتھ ہے جو ان سے پہلے دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ بعد میں مسلمان ہونے والے نہ صرف فوت ہونے والے مومنوں کے ساتھ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں بلکہ ان کے لیے ان الفاظ میں دعا گو ہیں۔ اے ہمارے رب ! ہمارے ان بھائیوں کی بشری کمزوریوں کو معاف فرمادے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں کو ایمانداروں کے بارے میں حسد و کینہ سے محفوظ فرما۔ اے ہمارے رب ! تو بڑا ہی شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔ دین اسلام کی یہی تعلیم نہیں کہ مال فئی میں بعد میں آنے والوں کا حصہ ہونا چاہیے، دین کی یہ بھی تعلیم ہے کہ اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے ان ایمانداروں کے لیے بھی بخشش کی دعا کرنی چاہئے جو پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ کیونکہ ان کی خدمات سے ان کے بعد آنے والے مسلمان مستفید ہوتے ہیں اس کے ساتھ ہی موجود مسلمانوں کے لیے بھی دعا ہونی چاہیے۔ کہ اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ایمانداروں کے بارے میں حسدوکینہ سے محفوظ فرما بیشک تو بڑا شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ عَبْدًا اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ فَاغْفِرْہُ فَقَالَ رَبُّہُ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُبِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَا شَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْہُ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَ ےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَاشَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا قَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا اٰخَرَ فَاغْفِرْہُ لِیْ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْےَفْعَلْ مَا شَآءَ ) (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اپنے رب سے عرض کرتا ہے کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں تو اے رب مجھے معاف فرما۔ اس کا رب فرشتوں سے کہتا ہے ‘ کیا میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے ؟ لہٰذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ کی توفیق ہوتی ہے وہ گناہ سے باز رہتا ہے، پھر اس سے گناہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنے رب کو پکارتا ہے۔ میرے پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا ہے۔ میرے اللہ ! مجھے معاف فرما۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے استفسار کرتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ کوئی اس کا مالک ہے جو گناہوں کو معاف بھی کرتا ہے اور انہیں پر پکڑتا بھی ہے ؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا ! اب وہ جو چاہے کرے۔ “ (یعنی سابقہ گناہ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ ) “ فوت شدگان کے بارے میں حضرت نوح اور نبی ﷺ کی دعائیں : (رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ) (نوح : 28) ” میرے رب مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے۔ “ (اَللّٰہُمّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَصَغِیرِنَا وَکَبِیرِنَا وَذَکَرِنَا وَأُنْثَانَا وَشَاہِدِنَا وَغَاءِبِنَا اللَّہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَأَحْیِہِ عَلَی الإِیمَانِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الإِسْلاَمِ اللَّہُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ وَلاَ تُضِلَّنَا بَعْدَہُ ) (رواہ ابوداؤد : باب الدُّعَاءِ لِلْمَیِّتِ قال البانی ہذا حدیث صحیحٌ) ” اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدگان اور چھوٹے، مذکر اور مؤنث جو حاضر ہیں اور جو غائب ہیں سب کو معاف فرما۔ اے اللہ ! ہم میں جو بھی زندہ رہے تو اسے ایمان پر قائم و دائم رکھنا اور ہم میں سے جس کو بھی موت آئے اسے اسلام پر موت آئے۔ اے اللہ ! ہمارے اجر کو ضائع مت کرنا اور نہ ہی ہمیں بعد میں کوئی ذلت اٹھانی پڑھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے نیک بندے اپنے رب سے اپنے اور اپنے سے پہلے فوت شدگان کے لیے بخشش مانگتے ہیں۔ 2۔ ایماندار لوگ دوسرے ایمانداروں کے بارے میں حسد وبغض سے پناہ مانگتے ہیں۔ 3۔ ایمانداروں کا عقیدہ ہے کہ ان کا رب بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔
Ayahs 59:11–13

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

آپ نے منافقوں کو نہیں دیکھا ؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے خلاف ہم کسی کی بات نہیں مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی بالکل مدد نہیں کریں گے اور اگر ان کی مدد کے لیے نکلیں گے تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کسی سے کوئی مدد نہیں پائیں گے

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا ڈر ہے کیونکہ یہ سمجھدار نہیں ہیں

فہم القرآن ربط کلام : مخلص مسلمانوں کی خدمات کے ذکر کے بعد منافقین کا ذکر۔ بنونضیر کی بدعہدی اور مسلسل سازشوں کی وجہ سے اللہ کے رسول نے انہیں ان کے علاقے سے دس دن کے اندر نکل جانے کا حکم دیا۔ بنو نضیر اپنا علاقہ چھوڑنے کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے پیغام بھیجا کہ تمہیں اپنا وطن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر محمد ﷺ نے آپ کی طرف پیش قدمی کی تو میں دوہزار ساتھیوں اور فلاں فلاں قبائل کے ساتھ مل کر تمہاری مدد کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین اور بنو نضیر کی سازش کو بےنقاب کرتے ہوئے نبی ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ کیا آپ نے منافقوں کی اس بات اور چال پر غور نہیں کیا کہ انہوں نے اپنے کافر بھائیوں جو اہل کتاب میں سے ہیں کہا کہ اگر انہیں جلاوطن کرنے پر مجبور کیا گیا تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہیں مانیں گے۔ یعنی جنگ ہوئی تو ہم ہر صورت تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ منافق اپنی بات میں جھوٹے ہیں۔ جب بنونضیر کو ان کے علاقہ سے نکال دیا جائے گا تو منافق نہ مدینہ چھوڑ کر ان کے ساتھ جائیں گے۔ اگر بنو نضیر کی مسلمانوں کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہوگئی تو منافق ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ بالفرض کچھ منافق بنونضیر کی مدد کے لیے نکل پڑے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ اس صورت میں ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ اے مسلمانو ! منافق اور یہودی اس لیے مقابلہ نہیں کر پائیں گے کیونکہ وہ اللہ سے زیادہ تم سے ڈرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ سے عاری ہوچکے ہیں، حقیقی سمجھ یہ ہے کہ انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کی نافرمانی اور منافقت چھوڑ دے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو منافقین کی سازش اور بزدلی سے پہلے ہی آگاہ کردیا۔ 2۔ منافق مسلمانوں کی کھل کر مخالفت کرنے کی بجائے عام طور پر چھپ کر مخالفت کرتا ہے۔ 3۔ منافق اور کفار اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ 4۔ حقیقی سمجھ کا تقاضا ہے کہ انسان صرف ” اللہ “ سے ڈرتا رہے۔ 5۔ منافق اپنے وعدے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنا چاہیے : 1۔ مومنوں کو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 150) 2۔ اللہ کے بندے صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں۔ (المائدۃ : 28) 3۔” نبی “ صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ (یونس : 15، الزمر : 3) 4۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ (النور : 52)
Ayahs 59:14–17

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ تمہارا مقابلہ کبھی اکٹھے ہو کر نہیں کریں گے اگر لڑیں گے تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر لڑیں گے ان درمیان بڑے اختلافات ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے الگ ہیں یہ اس لیے ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

یہ انہی لوگوں کی مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

ان کی مثال شیطان جیسی ہے کہ وہ پہلے انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں مجھے تو اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

لہٰذا دونوں کا انجام یہ ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے 3 میں جائیں، اور ظالموں کی یہی جزا ہے

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی بزدلی کا ذکرجاری ہے۔ نبی معظم ﷺ کو منافقین کی سازش بتلانے کے بعد یہ بھی بتلادیا گیا ہے کہ منافق اور یہودی کبھی بھی اکٹھے ہو کر تمہارے سامنے نہیں آسکتے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قلعوں میں رہ کر یا دیواروں کی اوٹ میں تمہارے خلاف لڑنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل آپس میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ایسا اس لیے کہ یہ لوگ حقیقی سمجھ نہیں رکھتے۔ ان کا حال ان لوگوں کی طرح ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کیے کی سزا پا چکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہے۔ پہلے لوگوں سے مراد اہل مکہ ہیں جو بدر میں ذلیل ہوئے۔ منافقوں کی چال اور مثال شیطان جیسی ہے کہ وہ انسان کو کفر پر اکستا ہے جب انسان کفرکا کام کر بیٹھتا ہے تو شیطان اس سے یہ کہہ کر بری الذّمہ ہوجاتا ہے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ شیطان اور اس کے ساتھیوں کا انجام جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، ظالموں کی یہی سزا ہوگی۔ اس فرمان میں آپ ﷺ کو اطلاع دی گئی کہ منافق اور یہودی اکٹھے ہو کر آپ کے خلاف نہیں لڑیں گے کیونکہ ان کے دل ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ اس سے مراد بنو نضیر کے آپس میں اختلافات بھی ہوسکتے ہیں جو بظاہر اکٹھے تھے مگر ان کے دل ایک دوسرے سے دور تھے لیکن اسلام دشمنی میں اکٹھے تھے۔ مکہ کے لوگ اپنی جگہ ذلیل ہوکرواپس پلٹے اور منافق اور یہودی اپنے اپنے مقام پر ذلیل ہوئے۔ یہاں منافقین کے کردار کو شیطان کے کردار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح شیطان چھپ کر بار، بار انسان کو گمراہ کرتا ہے اسی طرح ہی منافق بار، بار اور چھپ چھپ کر مسلمانوں کا نقصان کرتے ہیں۔ منافق مشکل میں اسی طرح ہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ جس طرح شیطان انسان سے برے کام کرواکر اپنے آپ میں کہتا ہے کہ میں تو رب العالمین ڈرتا ہوں اس لیے تم سے الگ ہوتا ہوں۔ جیسا کہ اس نے غزوہ بدر کے موقع پر کیا تھا۔ تفصیل کے لیے سورة الانفال کی آیت 48 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرنے والے لوگ حقیقت میں سمجھ دار نہیں ہوتے۔ 2۔ حقیقی سمجھ یہ ہے کہ انسان صرف اللہ سے ڈرتا رہے۔ 3۔ منافق کی چال اور انداز شیطان کی مانند ہوتا ہے۔ 4۔ شیطان کی طرح منافق بھی مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ 5۔ شیطان اور اس کے ساتھی جہنم میں جھونکیں جائیں گے۔ 6۔ کفارمخلص ہو کر آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ تفسیر بالقرآن مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے : (البقرۃ : 150) (المائدۃ : 28) (یونس : 15، الزمر : 3) (النور : 52) (الانفال : 48) (النساء : 77)
Ayahs 59:18–19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو اللہ یقیناً تمہارے اعمال سے باخبر ہے

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ہر انسان کو اللہ سے ڈرنا اور قیامت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس سے پہلی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کفار اور منافق اللہ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ انسان کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اسی اصول کے پیش نظر ایمانداروں کو حکم دیا ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے آنے والے کل یعنی قیامت کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو جو تم عمل کرتے ہو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے ” اللہ “ کو فراموش کردیا۔ جب انہوں نے ” اللہ “ کو فراموش کیا تو ” اللہ تعالیٰ “ نے بھی انہیں اس طرح کردیا کہ وہ خود اپنے آپ کو بھول گئے یہی لوگ نافرمان ہیں۔ یہاں قیامت کے لیے ” غَدٍ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ دنیا اور قیامت کا معاملہ آج اور کل کی طرح ہے گویا کہ جس طرح آج کے بعد کل کا آنا یقینی ہے اسی طرح ہی اس دنیا کے بعد قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے۔ اس میں یہ بھی اشارہ موجود ہے کہ ہر انسان کی زندگی آج اور کل پر مشتمل ہے آج سے مراد دنیا کی زندگی ہے اور کل سے مراد قیامت، فرق یہ ہے کہ یہ زندگی مختصر ہے اور آنے والا کل طویل ہی نہیں بلکہ لامتناہی ہوگا۔ آج کے دکھ مرنے کے ساتھ ختم ہوجائیں گے لیکن کل کے دکھ ختم نہیں ہو پائیں گے لہٰذا انسان کو اپنے آنے والے کل کی تیاری کرنا چاہیے اور اس کا پختہ ایمان ہونا چاہیے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ مسلمان کو ان لوگوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کی خاطر اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا۔ اللہ تعالیٰ کو فراموش کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود فراموشی کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسان جب خود فراموشی کا شکار ہوجائے تو اسے حقیقی نفع و نقصان کا شعور نہیں رہتا جس وجہ سے وہ اللہ کی ذات اور اس کے احکام کو فراموش کردیتا ہے، ایسا شخص ہر وہ کام کرتا ہے جس پر اس کا دل آتا ہے۔ سورة الجاثیہ کی آیت 23 میں اس بارے میں بتلایا ہے کہ کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نفس کو الٰہ بنالیا ہے اور وہ سب کچھ جاننے کے باوجود گمراہ ہوچکا ہے۔ جو لوگ اس طرح زندگی گزارتے ہیں حقیقت میں وہ اپنے رب کے نافرمان ہوتے ہیں۔ نافرمان لوگ قیامت کے دن بےانتہا نقصان پائیں گے۔ (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِبَعْضِ جَسَدِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَھْلِ القُبُوْرِ ) (رواہ البخاری : باب قول النبی ﷺ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْل) ” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑکر فرمایا۔ دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرو۔ “ ” حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ! آپ اجازت دیں تو ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ ایک مسافر جیسا تعلق ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔ “ (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی أَخْذِ الْمَالِ ، قال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح) مسائل 1۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 2۔ ہر انسان کو آنے والے کل کے لیے سوچنا چاہیے کہ اس نے اس کے لیے کیا بھیجا ہے۔ 3۔ مسلمانوں کو ان لوگوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا اور بالآخر خود فراموشی کا شکار ہوئے۔ 4۔ خودفراموشی کا شکار ہونے والے لوگ اپنے رب کے نافرمان ہوتے ہیں۔ 5۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہر عمل سے باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن ایمانداروں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے : 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ خاص مجھ ہی سے ڈر و۔ (البقرۃ : 41) 2۔ اے عقل مندو ! اللہ سے ڈر جاؤ۔ (الطلاق : 10) 3۔ اے عقل مند و ! اللہ سے ڈر جاؤ تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 100) (الاحزاب : 70) 4۔ تم ” اللہ “ سے ڈرو گے تو ” اللہ “ اسے تمہارے لیے روشنی بنا دے گا۔ (الانفال : 29)
Ayah 59:20

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

آگ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے برابر نہیں ہوسکتے، جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں

فہم القرآن ربط کلام : خود فراموشی کا شکار ہونے والے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن مجید نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18) سورة ص کی آیت 28 میں فرمایا کہ کیا ہم ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو ان کے برابر کردیں جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں کیا ہم متقین کو برے لوگوں کے برابر کردیں گے ؟ ظاہر بات ہے کہ مومن اور فاسق، متقی اور بدکردار اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ جب عقائد اور کردار کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں تو پھر انجام کے لحاظ سے کس طرح برابر ہوں گے۔ ؟ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے، جہنمی ہمیشہ ہمیش کا نقصان پائیں گے اور جنتی ہمیشہ رہنے والے انعام پائیں گے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا اور اپنے آپ کو خود فراموشی سے بچالیا۔ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے مقصد کو پالے گا بلکہ آخرت کی دائمی زندگی میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا تصور پیدا ہوا۔ اگر پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ) ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم میں ڈالا جایا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے، تب بھی اس سایہ ختم نہیں ہوگا اور یقیناً تم میں سے کسی ایک شخص کی جنت میں کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ) (عَنْ سَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰیحُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ ) (رواہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار) ” حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا : جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کو ٹخنوں تک، بعض کو گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردنوں تک پہنچی ہوگی۔ “ مسائل 1۔ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ 2۔ جنتی کامیاب ہوں گے اور جہنمی ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں میں فرق : 1۔ قیامت کے دن جنتیوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26) 2۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامہ : 22) 3۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کہیں گے۔ (الزمر : 73) 4۔ جنتیوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : 73) 5۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کریں گے۔ (الفرقان : 75) 6۔ جہنمیوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : 27) 7۔ جہنمیوں کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 72) 8۔ جہنمیوں کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40) 9۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : 27) 10۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اور اوندھے ہوں گے۔ (الغاشیہ : 2) 11۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : 24) 12۔ مشرک، کافر اور منافق جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 39، الزخرف : 74، التوبہ : 68)