Ayah 58:1فہم القرآن
ربط سورت : سورة الحدید کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ فضل و کرم صرف ” اللہ “ کے ہاتھ اور اس کے اختیار میں ہے۔ سورة المجاد لہ کی ابتدا ایسے واقعہ سے ہورہی ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ واقعتا فضل وکرم اور اختیارات کا مالک صرف ایک اللہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک بی بی نبی ﷺ کو اپنا دکھڑا سنا رہی تھی تو آپ ﷺ کے پاس اس وقت اس مسئلے کا کوئی حل نہیں تھا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس بی بی پر اپنا فضل کیا اور اس کا مسئلہ حل فرما دیا۔
مدینہ طیبہ میں اوس قبیلے کے سردار عبادہ بن صامت ؓ کی بھاوج جو اوس بن صامت ؓ کی بیوی تھی اس کے خاوند اوس بن صامت ؓ نے طیش میں آکر اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ کو یہ الفاظ کہے۔ ” اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ “ ” تو مجھ پر ایسے ہی حرام ہے جس طرح میری ماں مجھ پر حرام ہے۔ “ اوس بن صامت ؓ کے یہ الفاظ کہنے تھے کہ خولہ ؓ پر قیامت ٹوٹ پڑی کیونکہ اسلام سے قبل جو شخص اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہتا اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوجاتی اور رجوع کی کوئی شکل باقی نہیں رہتی تھی۔ خولہ بنت ثعلبہ ؓ روتی ہوئی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا دکھڑا سناتے ہوئے باربار کہتی کہ اللہ کے رسول ﷺ ! میں جاؤں تو کدھر جاؤں۔ آپ ضرور اس مسئلے کا حل فرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا بی بی ! میرے پاس اس مسئلے کا ابھی تک کوئی حل موجود نہیں ہے۔ خولہ فریاد کرتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ! میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میں ان کی جدائی برداشت نہیں کرسکتی۔ آپ نے پھر ارشاد فرمایا کہ بی بی ! ابھی تک آسمان سے میرے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نازل نہیں ہوا۔ یہ سنتے ہی حضرت خولہ کی ہچکی بندھ گئی۔ حضرت خولہ ؓ کانپتے ہوئے وجود اور لڑ کھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ واپس پلٹتی ہے۔ کچھ مفسرین نے لکھا ہے جونہی خولہ آپ ﷺ کی مجلس سے اٹھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی کہ ” اللہ “ نے اس عورت کی فریاد سن لی ہے جو اپنے خاوند کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی تھی اور بار بار اللہ کے حضور فریاد کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اور اس کی گفتگو کو پوری طرح سن رہا تھا، یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور سب کو دیکھنے والا ہے۔
حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ کا مقام :
اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کی نگاہوں میں حضرت خولہ کا مقام اتنا بلند ہوا کہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ اپنے دور حکومت میں قریش کے چند سرداروں کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ راستے میں خولہ بنت ثعلبہ ؓ نے کسی مسئلے کے لیے انہیں روکا۔ حضرت عمر ؓ نگاہیں جھکاکر کھڑے ہوگئے، حضرت خولہ ؓ نے کہا کہ اے عمر ؓ ! ایک وقت وہ تھا جب لوگ تجھے عمیر کہتے تھے۔ اب تم امیر المومنین بن چکے ہو۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بی بی آپ نے سچ فرمایا حضرت خولہ ؓ نے فرمایا کہ اے امیر المومنین ! ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا۔ خولہ اور امیرالمومنین کی گفتگو قدرے طویل ہوئی تو آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک نے کہا کہ عجب عورت ہے، امیر المومنین کو سر بازار کھڑے کیے ہوئے ہے۔ حضرت عمر ؓ نے یہ الفاظ سنے تو فرمایا خاموش ہوجائیں ! یہ وہ عورت ہے جس کی بات کو اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر سنا تھا۔ اس لیے میں کون ہوتا ہوں کہ اس کی بات نہ سنوں۔ حضرت عمر ؓ نے خولہ کا مسئلہ حل فرمایا اور اجازت لے کر آگے چل دئیے۔ (رواہ احمد : مسند عبداللہ)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی بات کو سنتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہ کی فریاد کو سنا اور ہمیشہ کے لیے ظہار کے مسئلہ کا حل فرمادیا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ لوگوں کی فریاد سننے والا اور انہیں ہر حال میں دیکھنے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ( المائدۃ : 98)
2۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو سب کچھ اللہ کو معلوم ہے۔ ( المائدۃ : 99)
3۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے۔ ( المؤمن : 19)
4۔ جو کچھ ہوچکا اور جو ہونے والا ہے سب ” اللہ “ کو معلوم ہے اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ ( طٰہٰ : 110)
5۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : 1)
6۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ : 11)
Ayah 58:2فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ کی فریاد قبول کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے ظہار کے مسئلے کا حل نازل فرمادیا۔
ارشاد ہوتا ہے کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں ان کے کہنے سے ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اپنی بیوی کو ماں کہنا بڑی بیہودہ اور جھوٹی بات ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔
1۔ کسی کے ماں کہنے پر اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہی لوگوں کے درمیان رشتہ داری قائم فرمائی ہے ان میں کچھ رشتے ہمیشہ کے لیے محرم قرار دیئے ہیں۔ کسی کو محرم یا غیرمحرم قرار دینا یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس کی تفصیل قرآن مجید میں بیان کردی گئی ہے۔ اب کسی شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ محرم کو غیر محرم یا غیر محرم کو محرم، حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرسکے۔ جو شخص محرم کو غیر محرم قرار دیتا ہے تو یہ اس کی یا وہ گوئی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، تاہم معافی مانگنے والوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔
2۔ بیوی کو ماں کہنا جھوٹ ہے کیونکہ ماں ماں ہی ہوتی ہے اور بیوی بیوی ہوتی ہے۔ ماں اور بیوی کے رشتہ اور تعلقات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ماں کبھی بیوی نہیں ہوسکتی اور بیوی کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ اس لیے فرمایا کہ بیوی کو ماں کہنا جھوٹ ہے اور مومن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنی زبان سے اس قسم کی بات کرے کہ جس کے کہنے کی شریعت نے اسے اجازت نہیں دی۔
3۔ اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور معاف فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی درگزر پر غور فرمائیں کہ ایک شخص اپنی زبان سے وہ بات کہتا ہے جس کے کہنے کی اسے اجازت نہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کی زبان گونگی کردے مگر وہ بڑے حوصلے والا ہے وہ ہر بات پر گر فت کرنے کی بجائے درگزر سے کام لیتا ہے اگر کوئی اس سے معافی طلب کرے تو وہ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ رحیم ہے، یہ بھی اس کی بخشش کا نتیجہ ہے کہ اس نے لوگوں کی یا وہ گوئی کو صرف نظر کرتے ہوئے ظہار کے مسئلے میں نرمی فرمائی اور اس کا آسان حل نازل فرمایا ہے۔
ظہار کس صورت میں ہوگا :
صحابہ کرام ؓ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ظہار اس خاوند کا معتبر ہوگا جس نے ہوش و حواس کی حالت میں اپنی بیوی سے ظہار کیا ہو بصورت دیگر اس کا اظہار تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ جس نے ظہار کیا اس کی سزا اگلی آیات میں بیان کی گئی ہے۔
(وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ) (المومنون : 3)
” اور مومن فضولیات سے دور رہتے ہیں۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ )
(رواہ الترمذی : کتاب الزہد، قال البانی صحیح)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اسلام کی اچھائی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔ “
مسائل
1۔ کسی آدمی کے کہنے پر اس کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ 2۔ آدمی کی ماں وہی ہوتی ہے جس نے اسے جنم دیا ہوتا ہے۔
3۔ بیوی کو ماں کہنا جھوٹ اور بےہودہ بات ہے۔ 4۔ مسلمان بےہودہ گوئی سے بچتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ درگزر کرنے اور معاف فرمانے والا ہے :
1۔ ” اللہ “ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284)
2۔ ” اللہ “ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بیشک ” اللہ “ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبہ : 99)
3۔ ” اللہ “ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبہ : 27)
4۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے اور ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ ” اللہ “ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (الفرقان : 70)
5۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
Ayahs 58:3–4فہم القرآن
ربط کلام : ظہار کا کفارہ۔
جو شخص اپنی بیوی کو محرم رشتوں میں سے کسی ایک رشتہ کے برابرکہہ دے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی گویا کہ وہ اب اس کی بیوی نہیں رہی، البتہ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کرے اور پھر اس بات پر شرمندہ ہو کر اپنی بات سے رجوع کرنا چاہے تو بیوی کو چھونے سے پہلے اسے درج ذیل کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنا ہوگا۔
1 ۔ ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو یا غلامی کا رواج ختم ہوچکا ہو تو۔ 2 ۔ دومہینوں کے مسلسل روزے رکھے اگر شرعی عذر کے بغیر ناغہ کیا تو اسے ازسر نو دو مہینوں کے روزے پورے کرنے ہوں گے۔ 3 ۔ روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو ساٹھ مسکینوں کو صبح شام کا کھانا کھلائے۔ یاد رہے کہ کسی ایک آدمی کو ساٹھ دن کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ صحابہ کی غالب اکثریت کا یہی خیال ہے کہ ظہار کرنے والے کو ساٹھ مسکینوں کو بیک وقت کھانا کھلانا چاہیے۔ جس سے لامحالہ یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ کھانا ظہار کے کفارہ میں کھلایا جارہا ہے۔ اس سے ظہار کرنے والے کو قدرے شرمندگی ہوگی جس بنا پر آئندہ ایسی بات کہنے سے پرہیز کرے گا۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کو حکم دیتا ہے تاکہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی ایمان لائیں اور حدود اللہ کا خیال رکھیں۔ انکار کرنے والوں کو قیامت کے دن اذّیت ناک سزادی جائے گی۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ظہار کے کفارے کی تین صورتیں بتلانے کے بعد تین ار شاد ات فرمائے ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصیحت فرماتا ہے تاکہ مسلمان اس کی نصیحت کے مطابق عمل کریں اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے کردار اور اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے۔
2۔” اللہ “ کا فرمان ہے کہ تمہارے لیے ظہار کی سزا اس لیے مقرر کی گئی ہے تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر پوری طرح ایمان لاؤ اور اس کے احکام کی پیروی کرو۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزائیں اس کی حدود ہیں جن کا ہر صورت خیال رکھنا چاہیے جو مسلمان حدود اللہ کا خیال نہیں رکھیں گے وہ عملاً کفر کا ارتکاب کریں گے اور ایسے لوگوں کو اذّیت ناک عذاب ہوگا۔
مسائل
1۔ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنا چاہے تو اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہیے۔
2۔ غلام آزاد نہ کرنے کی صورت میں دومہینے بلاناغہ روزے رکھنے ہوں گے۔
3۔ روزے رکھنے کی ہمت نہ ہو تو اسے بیک وقت صبح وشام ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا چاہیے۔
4۔ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے تقاضے پورے کرنے چاہیے۔
5۔ حدود اللہ کا احترام کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ 6۔ جو شخص حدود اللہ کا خیال نہیں رکھتا اسے اذیت ناک عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کی مقرر کردہ حدود :
1۔ چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ (المائدۃ : 38)
2۔ شادی شدہ زانی مرد اور عورت کو رجم کرنے کا حکم۔ (النور : 2)
3۔ بہتان لگانے والے کو اسّی کوڑے لگائیں جائیں اور اس کے بعد اس کی گواہی قبول نہ کی جائے۔ (النور : 4)
4۔ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے کو قتل کردینا چاہیے۔ (المائدہ : 33)
Ayahs 58:5–6فہم القرآن
ربط کلام : حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے والوں کی دنیا میں سزا۔
جو لگ اللہ کی مقرر کردہ حدود کا خیال اور احترام نہیں کرتے حقیقت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ اسی طرح ہی ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اپنے احکام نازل کردیئے ہیں جو ان کو نہیں مانتے انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو زندہ کرے گا اور پھر انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا عمل کیا کرتے تھے۔ لوگ اپنے اعمال کو بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے والے لوگوں کو نہ صرف آخرت میں اذّیت ناک عذاب ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی اسی طرح ذلیل کرے گا جس طرح ان سے پہلے مجرموں کو ذلیل کیا اور قیامت کے دن انہیں ان کے برے اعمال کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ برے اعمال کرنے والے لوگ عام طور پر اپنے کردار کو بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی معاملے میں نہیں بھولتا۔ کیونکہ وہ ہر چیز اس کے احاطہ علم میں رہتی ہے اور ہر وقت اپنی مخلوق کی نگرانی کرتا ہے۔ وہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی پوری پوری سزادے گا۔ پہلے ذلیل ہونے والوں میں سر فہرست یہودی ہیں جن میں حدود اللہ توڑنے کی وجہ سے کچھ کو دنیا میں بندر بنادیا گیا اور باقی پر دوسرے لوگوں کو مسلط کرکے ذلیل کیا گیا۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ مَسْخٌ، وَخَسْفٌ، وَقَذْفٌ)
(رواہ ابن ماجہ : کتاب الفتن، باب الاٰیاتِ ، ھٰذا حدیث صحیح)
” عبد اللہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے قریب لوگوں کی شکلیں تبدیل ہونا، دھنسایا جانا اور تہمت لگانا عام ہوگا۔ “
مسائل
1۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اسی طرح ہی ذلیل کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو ذلیل کیا گیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرامین کھول کھول کر بیان کیے ہیں جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں وہ انہیں آخرت میں ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا اور ان سے پورا پورا حساب لے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت میں ذلیل ہونے والے لوگ :
1۔ یہودی دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ (البقرۃ : 85)
2۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے والے دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (البقرۃ : 114)
3۔ کفار کو دنیا وآخرت میں شدید عذاب ہوگا۔ (الرعد : 34، آل عمران : 56)
4۔ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن اور فسادی دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ (المائدۃ : 33)
5۔ بچھڑے کے پجاری دنیا وآخرت میں ذلیل ہوئے۔ (الاعراف : 152)
6۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبہ : 74)
7۔ فحاشی پھیلانے والوں کو دنیا وآخرت میں ذلت اٹھانی پڑے گی۔ (النور : 19)
8۔ دین حق جھٹلانے والوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب عظیم ہوگا۔ (الزمر : 26)
Ayah 58:7فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہی نہیں بلکہ وہ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کے اعتبار سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔
انسان کو اس حقیقت پر ایمان لانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ جب تین شخص آپس میں بیٹھ کر سرگوشیاں کرتے ہیں تو ان کے ساتھ چوتھا ” اللہ “ ہوتا ہے۔ جب پانچ ہوتے ہیں تو چھٹا ” اللہ “ ہوتا ہے۔ لوگ اس سے کم ہوں یا زیادہ ” اللہ “ ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا جو وہ عمل کیا کرتے تھے یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ حقیقت بتلائی ہے کہ اے انسان ! میں اپنے علم، اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے ہر وقت تیرے ساتھ ہوتا ہوں۔ جس شخص کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے اس کے لیے برائی سے بچنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے انسان سمجھتا ہے کہ نہ صرف میں اپنے رب کی نگرانی میں ہوں بلکہ قیامت کے دن مجھے اپنے اعمال کا جواب بھی دینا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک کی بجائے تین کی گنتی سے بات کا آغاز کیا اور فرمایا ہے کہ لوگ اس سے تھوڑے ہوں یا زیادہ ” اللہ “ اپنے اقتدار اور اختیار کے لحاظ سے ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ گنتی کا آغاز تین سے کرنے میں بات کے حسن میں بےپناہ اضافہ پایا جاتا ہے جو اللہ کی کلام کا خاصہ ہے۔ کچھ لوگ ان آیات سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور اپنے مریدوں سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ ایسے صوفیائے کرام بھی گزرے اور موجود ہیں جو یہ بھی عقیدہ رکھتے اور پھیلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز میں موجود ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے سورة الحدید کی آیت 3 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
حالانکہ ” اللہ “ کا فرمان ہے کہ میں عرش پر متمکن ہوں۔
(اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی۔ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَہُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰی) (طٰہٰ : 5، 6)
” وہ رحمٰن عرش پر مستویٰ ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو زمین کے نیچے ہیں۔ “
” بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلاآتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے، اس حال میں کہ اس کے حکم کے تابع ہیں سن لو پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ “ (الاعراف : 54)
مسائل
1۔ لوگ تھوڑے ہوں یا زیادہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی سرگوشیوں کو جانتا ہے۔
3۔ لوگ جہاں بھی ہوں اللہ تعالیٰ اپنے علم، اقتدار اور اختیار کے حوالے سے ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
4۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور قیامت کے دن وہ لوگوں کو ان کے اعمال سے آگاہ فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اپنے علم، اقتدار اور اختیارات کے حوالے سے ہر جگہ موجود ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے قریب ہوتا ہے۔ ( البقرۃ : 186)
2۔ نبی ﷺ نے غار ثور میں ابوبکر کو فرمایا کہ ” اللہ “ ہمارے ساتھ ہے۔ ( التوبہ : 40)
3۔ اللہ تعالیٰ انسان کی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16، الواقعہ : 85)
4۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ( المجادلہ : 7) (الحدید : 3)
Ayah 58:8فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ اپنے علم، اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے لوگوں کی سرگوشیوں کو جانتا ہے۔ وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا کہ جو وہ کیا کرتے تھے لیکن اس کے باروجود لوگ اپنی روش سے باز نہیں آتے۔
لوگوں کو یہ بات بتلانے اور سمجھانے کا مقصد یہ ہے کہ کفار، منافق اور برے لوگ اپنی روش سے بازآجائیں۔ لیکن برے لوگ اپنی روش سے باز آنے کی بجائے اس میں آگے ہی بڑھے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کے دور میں منافقین اور کفار کی حالت یہ تھی کہ وہ گناہ، ظلم اور آپ کی مخالفت کرنے کے لیے خفیہ مجالس میں منصوبہ بندی کرتے تھے کہ اسلام کی ترقی اور آپ ﷺ کے مقام کو لوگوں کی نظروں میں کس طرح ختم کیا جائے۔ اس کے لیے اہل مکہ دارالندویٰ میں اجلاس کرتے، منافق مسجد ضرار میں منصوبے بناتے اور یہودی راعنا کے لفظ کو مخصوص انداز میں ادا کرتے اور آپ سے ملاقات کرتے وقت آپ کو اس طرح سلام کہتے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی یعنی اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقہ کے خلاف دعا، سلام کرتے تھے۔ برے لوگ اپنے کردار اور انداز پر نظر ثانی کرنے کی بجائے کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارے الفاظ اور انداز پسند نہ ہوتے تو وہ ہمیں ضرور عذاب دیتا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کی مخالفت اور نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کے لیے جہنم کافی ہے جو بدترین جگہ ہے۔ اس میں کفار، منافقین اور نبی ﷺ کی گستاخیاں کرنے والوں کو پوری پوری سزادی جائے گی۔
” حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ کچھ یہودی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا السام علیکم یعنی تم پر موت واقع ہو۔ حضرت عائشہ نے جواباً کہا تم پر بھی موت واقع ہو، ” اللہ “ تم پر لعنت کرے اور اپنا غضب نازل کرے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو سختی اور ترش کلامی نہ کرو عائشہ ؓ نے عرض کی اے اللہ کے نبی ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی ؟ آپ نے فرمایا جو میں نے انہیں جواب دیا ہے تو نے اسے نہیں سنا ؟ میری بات ان کے بارے میں قبول ہوگئی ہے اور ان کی بات میرے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ “ (رواہ البخاری : باب الرفق فی الامر کلہ)
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ إِذَا کَانَ ثَلاَثَۃٌ فَلاَ یَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ )
(صحیح مسلم : باب تحریم مناجاۃ الاثنین)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب تین آدمی بیٹھے ہوں تو ان میں سے دو آدمی آپس میں سر گوشی نہ کیا کریں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے بری سرگوشیاں کرنے سے منع کیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ پر سلام بھیجتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو گناہ، ظلم اور نبی اکرم ﷺ کی نافرمانی کرنے سے منع کیا ہے۔
4۔ نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ 5۔ جہنم ہر اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ہر قسم کے گناہ اور نبی ﷺ کی نافرمانی سے منع کیا ہے :
1۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ (محمد : 33)
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو۔ (المائدۃ : 92)
3۔ آپ ﷺ فرما دیں کہ میرے رب نے ظاہری اور پوشیدہ بےحیائی اور گناہ کے کاموں سے منع کیا ہے۔ (الاعراف : 33)
4۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : 56)
5۔ اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم ان سے دوستی کرو جنھوں نے تمہارے دین میں جھگڑا کیا اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ (الممتحنہ : 9) 6۔ جو نبی ﷺ دیں اسے لیا جائے جس سے آپ نے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیاجائے۔ (الحشر : 7)
Ayahs 58:9–10فہم القرآن
ربط کلام : بری سرگوشی سے منع کرنے کے بعد نیکی اور اچھے کاموں پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہر قسم کی سرگوشی کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے گناہ، ظلم اور رسول کی مخالفت کرنے پر سرگوشی سے منع کرنے کے ساتھ اور نیکی اور تقویٰ کے کام پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو ! بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ جو بری سرگوشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ شیطان کی سرگوشی ہوتی ہے۔ شیطان اپنے کارندوں سے یہ کام اس لیے کرواتا ہے تاکہ اس سے ایمان دار لوگ پریشان ہوں، لیکن ایمان داروں کو برے لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے غم زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کو تکلیف نہیں دے سکتا کیونکہ دکھ اور سکھ اللہ کے حکم کے تابع ہیں لہٰذا ایمانداروں کو اللہ کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی سے منع کرنے کے بعدا یمان داروں کو ہر حال میں نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور مومنوں کو تسلی دی ہے کہ نفع اور نقصان، دُکھ اور سکھ ” اللہ “ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں اگر مومن کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اللہ کے اذن سے پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے لہٰذا نیک بندوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہیے، یہاں نیکی اور تقویٰ کا بیک وقت حکم دیا گیا ہے اس لیے کہ نیکی اور تقویٰ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ تقویٰ کے بغیر انسان نہ کوئی نیکی کرسکتا اور نہ نیکی کی حفاظت کرسکتا ہے تقویٰ ہی انسان کو نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور اسے نیکی پر اترانے سے بچاتا ہے۔
نجویٰ کا معنٰی ہے بھید، ہم راز اور سرگوشی وغیرہ۔ اصطلاح میں دو آدمیوں کے رازداری سے بات کرنے کو نجویٰ کہتے ہیں۔
توکل کا معنٰی ہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق ومالک پر کامل اعتماد و یقین رکھے جو اپنے رب پر اعتماد اور یقین کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔
مسائل
1۔ برائی کی کانا پھوسی سے منع کیا گیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو گناہ، زیادتی اور نبی ﷺ کی نافرمانی سے منع کیا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
4۔ ایمان والوں کو ہمیشہ اللہ سے ڈرنا اور یقین رکھنا چاہیے کہ سب نے اس کے حضور جمع ہونا ہے۔
5۔ شیطان اپنے کارندوں کی شرارتوں سے مومنوں کو پریشان کرتا ہے۔
6۔ مومنوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی تکلیف اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔
تفسیر بالقرآن
مومنوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہیے :
1۔ جب آپ ﷺ کسی کام کا عز م کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔ (آل عمران : 159)
2۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ (یوسف : 67)
3۔ مومن اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ (المائدۃ : 11) 4۔ مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (التوبہ : 51)
5۔ آپ ﷺ ان سے اعراض کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں کیوں کہ اللہ ہی نگہبان ہے۔ (النساء : 81)
6۔ سب کاموں کا انجام اللہ کی جانب ہے آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ کریں۔ (ھود : 123)
7۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ (المائدۃ : 23) 8۔ صابر لوگ اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہیں۔ (العنکبوت : 59)
9۔ رسول کریم ﷺ کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79) (التوبہ : 129)
10۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلہ : 10) 11۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3)
Ayah 58:11فہم القرآن
ربط کلام : مشاورت اور سرگوشی عمومی طور پر مجالس میں کی جاتی ہے اس لیے مجالس کے آداب بتلائے گئے ہیں۔
اے ایمان والوں جب تمہیں کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو آپس میں کھل جایا کرو ! اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فراخی اور کشادگی پیدا کرے گا اور جب تمہیں مجلس سے اٹھ جانے کا حکم دیا جائے تو اٹھ جایا کرو ! جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا ہے۔ یاد رکھو ! تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے باخبر ہوتا ہے۔ درجات بلند کرنے کی خوشخبری سنا کر بتلایا ہے کہ جب نبی ﷺ مجلس برخواست کریں تو اٹھ جانا چاہیے اور اس میں اپنی توہین نہیں سمجھنی چاہیے جو لوگ نبی ﷺ کے حکم پر اٹھ جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے گا۔ ایمانداروں کے ساتھ اہل علم کا الگ ذکر فرما کر دواشارے فرمائے ہیں۔ پہلا اشارہ یہ ہے کہ علم کا تقاضا ہے کہ اپنی مجالس میں آنے والوں کو جگہ دی جائے، کیونکہ ایسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، حقیقی علم والے ہی اللہ کے حکم کو سمجھتے اور مانتے ہیں۔ دوسرا اشارہ یہ ہے کہ علم والوں کا مقام دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے انہیں عام لوگوں سے زیادہ ” اللہ “ کے احکام کی اتباع کرنی چاہیے۔
(وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَّجْلِسِہٖ ثُمَّ یَجْلِسْ فِیْہِ وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَ تَوَسَّعُوْا) (رواہ البخاری : باب لاَ یُقِیم الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہ) ِ
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص خود بیٹھنے کے لیے کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے۔ اس کی بجائے مجلس میں فراخی اور کشادگی اختیار کیا کرو۔ “
(وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنْ قَامَ مِنْ مَّجْلِسِہٖ ثُمَّ رَجَعَ اِلَیْہِ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ ) (رواہ مسلم : باب إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِہِ ثُمَّ عَادَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آئے تو اسے اپنی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق ہے۔ “
( وَعَنْ اَنسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا صَافَحَ الرَّجُلُ لَمْ یَنْزِعْ یَدَہٗ مِنْ یَدِہٖ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوُ الَّذِیْ یَنْزِعْ یَدَہٗ وَلَا یَصْرِفُ وَجَہَہٗ عَنْ وَجْہِہٖ حَتّٰی یَکْوْنَ ہُوَالَّذِیْ یَصْرِفُ وَجْہَہٗ عَنْ وَجْہِہٖ وَلَمْ یُرَ مُقَدِّماً رُکْبَتَیْہِ بَیْنَ یَدَیْ جَلِیْسٍ لَہٗ ) (رواہ الترمذی : باب المصافحۃ)
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ جب کسی آدمی سے ہاتھ ملاتے تو اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ سے الگ نہ کرتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ کو کھینچ لیتا اور نہ ہی آپ اپنی توجہ اس کے چہرے سے ہٹاتے جب تلک وہ اپنے چہرے کو خود نہ ہٹا لیتا اور نہ مجلس میں بیٹھے ہوئے اپنے گھٹنوں کو دراز کرتے۔ “
( اَلْمَجَالِسُ بالْأَمَانَۃِ ) (رواہ أبو داؤد : کتاب الأدب)
” مجالس امانت ہوا کرتی ہیں۔ “
مسائل
1۔ ایمانداروں کو اپنی مجالس میں آنے والے بھائی کے لیے فراخی پیدا کرنی چاہیے۔
2۔ جو شخص دوسرے کے لیے فراخی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی پیدا کرے گا۔
3۔ صاحب مجلس مجلس برخاست کرنے کا اعلان کرے تو مجلس سے اٹھ جانا چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور اہل علم کے درجات بلند فرمائے گا۔ 5۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
علم اور اہل علم کا مقام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا سکھایا۔ (العلق : 4) 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھلایا۔ (الرحمن : 4)
3۔ انسان کو الرّحمان نے قرآن سکھایا۔ (الرحمن : 2) 4۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا۔ (البقرۃ : 31)
5۔ فرشتوں نے بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔ (البقرۃ : 32)
6۔ ” اللہ “ نے اہل علم کے درجات کو بلند فرمایا ہے۔ (المجادلہ : 11) 8۔ کیا علم والے اور بےعلم برابر ہوسکتے ہیں۔ ( الزمر : 9)
Ayahs 58:12–13فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو منافقین کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے خصوصی حکم۔
اسی سورت کی آیت 8 میں ا رشاد ہوا ہے کہ کچھ لوگ آپ ﷺ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام کہنے کی تعلیم دی ہے اس طرح سلام نہ کہنے والے عام طور پر منافق تھے۔ منافقین کو نبی ﷺ سے دور رکھنے اور ان کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے حکم ہوا کہ اے مومنو ! جب تم نے اللہ کے رسول سے علیحدگی میں بات کرنا ہو تو آپ ﷺ سے ملاقات کرنے سے پہلے صدقہ کیا کرو یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزگی کا عمل ہے، اگر کوئی مومن صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیزنہ پائے اور وہ نبی ﷺ سے علیحدگی میں ملاقات کرنا چاہے تو اسے ملاقات کرنے کی اجازت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ اگر تم صدقہ کرنے میں تنگی محسوس کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس شرط کو معاف کردیا ہے۔ اب اخلاص کے ساتھ نماز پڑھو، زکوٰۃ دو ، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ ہمیشہ یادر کھو کہ جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہوتا ہے۔ یہاں صدقہ کرنے کو خیر اور پاکیزگی قرار دیا گیا ہے صدقہ اس لیے خیر ہے کہ یہ نیکی کا کام ہے۔ اس سے مال میں برکت ہوتی ہے اور مسلمان کے گناہ معاف ہونے کے ساتھ اس کا مال میل کچیل سے اور دل بخیلی سے پاک ہوتا ہے۔ آپ ﷺ سے ملاقات سے پہلے صدقہ کرنے کی پابندی اس لیے لگائی گئی تاکہ منافق اور دوسرے لوگ خوامخواہ آپ ﷺ کا قیمتی وقت ضائع نہ کریں اور لوگ آپ ﷺ سے ملنے کے آداب سیکھ جائیں لیکن اس حکم میں ایک مشقت پائی جاتی تھی۔ اس لیے چند دنوں کے بعد صدقہ کرنے کی پابندی اٹھالی گئی تاکہ مسلمانوں کو آپ ﷺ کے ساتھ ملاقات کرنے میں کوئی دِ قت اور رکاوٹ نہ رہے، اس لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی یعنی اس نے اپنا کرم فرماتے ہوئے نبی ﷺ سے ملاقات کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کی پابندی ختم کردی ہے۔ اب تم اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے رہو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی بسر کرو۔
مسائل
1۔ صدقہ کرنا انسان کے لیے بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کرم فرمانے والا ہے۔
3۔ ایمانداروں کے لیے حکم ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیتے رہیں اور ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہیں۔
4۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم اور اس کے فائدے :
1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ایمان کی نشانی ہے۔ (الانفال : 1)
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت باعث رحمت ہے۔ (التوبہ : 71)
3۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ (النور : 52)
4۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (النساء : 13)
5۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، صلحاء شہداء، اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء : 69)
Ayahs 58:14–15فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس رسول کی اطاعت اور محبت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ان لوگوں کے ساتھ دلی دوستی نہ رکھیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
نبی (علیہ السلام) کے دور میں منافقوں کی حالت یہ تھی کہ اگر انہیں مسلمانوں کی طرف سے فائدہ پہنچتا تو وہ سر عام مسلمانوں کی حمایت کرتے اگر انہیں کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا اور دوسروں کی طرف سے فائدہ پہنچتا دکھائی دیتا تو وہ کفار اور یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے۔ اس پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو ارشاد ہوا کہ کیا تم نے ان لوگوں کے بارے میں غور نہیں کیا جو ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوچکا ہے۔ یہ منافق نہ تمہارے ساتھ ہیں اور نہ ہی یہود و کفارہ کے ساتھ ہیں۔ جب انہیں منافقت سے منع کیا جاتا تو وہ جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ جو کرتے ہیں برا ہی کرتے ہیں۔ مسلسل منافقت کرنے کی وجہ سے منافق پر ایسا وقت آتا ہے کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب تک میری گرفت نہیں ہوئی لہٰذا میں اپنے کردار اور مؤقف میں سچا ہوں کچھ لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ کھلے الفاظ میں کہتے ہیں جو ہم کرتے ہیں ” اللہ “ کو ایسے ہی منظور ہے۔ یہ کہنا بھی اللہ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جھوٹ، فریب اور منافقت کو پسند نہیں کرتا۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً ) (رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔ “
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ ) (رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر)
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی دبر کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر غضب نازل کیا۔ 2۔ منافق پر بھی ” اللہ “ کا غضب ہوتا ہے۔
3۔ منافق نہ مسلمانوں کا ساتھی ہوتا ہے اور نہ دوسروں کا۔ 4۔ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔
5۔ منافقت بدترین عمل ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لیے شدید ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر بالقرآن
منافق کا کردار اور اس کی سزا :
1۔ منافق دغا باز اور ریا کار ہونے کے ساتھ بےتوجہگی کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ (النساء : 142)
2۔ منافق کے کلمہ پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ (المنافقون : 1)
3۔ منافق کی قسم پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ اسے ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (المنافقون : 2)
4۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ : 14) 5۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبہ : 74)
6۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الفتح : 6) 7۔ اللہ تعالیٰ منافقین کو معاف نہیں کرے گا۔ (المنافقون : 6)
8۔ منافقوں کے دلوں میں بیماری ہے۔ ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 10)
9۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کو دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (التوبہ : 79)
10۔ اگر آپ ﷺ منافق کے لیے ستر بار بھی بخشش طلب کریں اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ (التوبہ : 80)
11۔ منافق ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبہ : 68) 12۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء : 145)
Ayahs 58:16–18فہم القرآن
ربط کلام : منافق صرف جھوٹ ہی نہیں بولتا بلکہ اکثر طور پر جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔
قرآن مجید نے منافقین کے بارے میں کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ منافقین نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا اور قیامت کے دن ان کے مال اور اولاد ” اللہ “ کے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے، یہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے دن اپنے حضور پیش کرے گا تو وہ اس کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے جس طرح لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ وہ خیال کریں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹی قسمیں اٹھانے سے ہم اپنا کام نکال لیا کرتے تھے یہاں بھی جھوٹی قسموں کے ذریعے نجات پاجائیں گے حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر بات سے واقف ہے اس لیے وہاں ان کی قسمیں ان کے کام نہیں آئیں گی۔ جھوٹا انسان عام طور پر مالی فائدے اور اپنی اولاد کی خاطر جھوٹ بولتا ہے۔ اس لیے یہاں بالخصوص مال اور اولاد کا ذکر فرماکر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ جس مال اور اولاد کی خاطر عام لوگ اور منافق جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں قیامت کے دن مال اور اولاد انہیں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ منافق شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی گفتار اور کردار سے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اس لیے انہیں ذلّت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ منافقین کو جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں پھینکا جائے گا، وہاں ان کی کوئی مدد نہیں کرپائے گا۔ ( النساء : 145)
(عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ قَالَ فَقَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ أَبُوْ ذَرّے ؓ خَابُوْا وَخَسِرُوْامَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہٗ بالْحَلْفِ الْکَاذِبِ ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ)
” حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں سے اللہ کلام نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ ابوذر ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ ناکام اور نامراد ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : 1 اپنا تہہ بندٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا 2 احسان جتلانے والا 3 جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔ “
مسائل
1۔ منافق لوگ اپنی قسموں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
2۔ منافق لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔
3۔ منافقین کو قیامت کے دن ان کا مال اور اولاد کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔
4۔ منافق اپنی عادت کے مطابق قیامت کے دن بھی جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے۔
5۔ منافق جہنم میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ وہ اپنے ایمان اور گفتار میں جھوٹے ہیں۔
Ayahs 58:19–20فہم القرآن
ربط کلام : جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں اٹھانے کی وجہ سے منافق اور برے شخص پر شیطان مسلّط ہوجاتا ہے جس وجہ سے یہ لوگ اللہ کی ذات اور بات کو بھول جاتے ہیں۔
استحوذ کا معنٰی اثر کرنا، زیر کرنا، قابو پانا، قبضہ کرنا اور غصب کرنا ہے۔
منافق کی منافقت اور برے کی مسلسل برائی کی وجہ سے شیطان اس پر اس طرح مسلّط ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو اللہ کی یاد کی طرف آنے ہی نہیں دیتا حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ شیطان کا لشکر ہوتے ہیں، یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شیطان کا لشکر بالآخر نقصان پائے گا۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ہر صورت ذلیل ہوں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ذکر کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کا فرمان ہے۔ انسان پر جب شیطان پوری طرح مسلّط ہوجاتا ہے تو انسان اپنے رب کے حکم اور نصیحت کو کلی طور پر فراموش کردیتا ہے۔ شیطان کی سب سے بڑی کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کو پوری طرح اس کے رب سے غافل اور دور کردے۔ جو لوگ اپنے رب سے دور ہوتے ہیں وہ شیطان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ بیشک ظاہری طور پر وہ کتنے ہی شریف نظر آئیں لیکن حقیقت میں وہ شیطان کی فوج کے سپاہی اور اس کے کارندے ہوتے ہیں۔ شیطان کے ساتھی ہمیشہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو آخرت میں ضرورذلیل کرے گا۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلشَّےْطٰنُ جَاثِمٌ عَلٰی قَلْبِ ابْنِ اٰدَمَ فَاِذَا ذَکَرَ اللّہَ خَنَسَ وَاِذَا غَفَلَ وَسْوَسَ ) ( مصنف ابن ابی شیبہ : باب کلام ابن عباس ؓ
” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ کا ارشاد ہے، شیطان ابن آدم کے دل سے چمٹا رہتا ہے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو دور ہٹ جاتا جب وہ ذکر سے غافل ہوتا ہے تو شیطان واپس آکر وسوسے ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ “
(وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ) (الزخرف : 36)
” جو شخص الرّحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر شیطان اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ “
(عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَیْنٍ ۔ أَنَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ ۔۔إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِيْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ۔۔ ) (رواہ البخاری : کتاب الإعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ زوجھا في اعتکافہ )
” حضرت علی بن حسین ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یقیناً شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ “
قرآن مجید نے ارشاد فرمایا :
(اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَآء الشَّیْطٰنِ اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا) (النساء : 76)
” جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو۔ بلاشبہ شیطان کا حربہ نہایت کمزور ہے۔ “
مسائل
1۔ جن لوگوں پر شیطان مسلط ہوجائے وہ اللہ کے ذکر کو بھول جاتے ہیں۔
2۔ شیطان کے ساتھی آخرت میں ضرور ذلیل ہوں گے۔ 3۔ سن لو ! شیطان کے ساتھی بالآخر نقصان پائیں گے۔
4۔ اللہ کی ذات اور فرمان کو بھول جانے والے لوگ شیطان کے ساتھی ہوتے ہیں۔
5۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں وہ ذلیل ترین مخلوق ہیں۔
تفسیر بالقرآن
شیطان اور اس کے ساتھی ہمیشہ ہمیش نقصان پائیں گے :
1۔ شیطان کی تابعداری کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (المجادلہ : 19)
2۔ جس نے اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنالیا اس نے بہت نقصان پایا۔ (النساء : 119)
3۔ شیطان کی دوستی اختیار کرنے والوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الاعراف : 30)
4۔ تم شیطان کے دوستوں سے لڑائی کرو یقیناً شیطان کی تدبیر کمزور ہے۔ (النساء : 76)
5۔ جس نے شیطان کو اپنا دوست بنایا وہ خائب و خاسر ہوا۔ (النساء : 119)
6۔ شیطان کی رفاقت کا بدترین انجام ہوگا۔ (الفرقان : 27، 29) 7۔ شیطان انسان کا بدترین ساتھی ہے۔ (النساء : 38)
8۔ ” اللہ “ کے بندوں پر شیطان کی کوئی دلیل کار گر نہ ہوگی۔ (بنی اسرائیل : 65)
Ayah 58:21فہم القرآن
ربط کلام : حزب الشیطان کے بعد حزب اللہ کا بیان۔
کردار کے حوالے سے دنیا میں بنیادی طور پر دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کی جماعت اور دوسری اللہ اور اس کے رسول کے تابعداروں کی جماعت ہے۔ یہاں نافرمانوں کو حزب الشیطان کہا گیا ہے اور تابعدار لوگوں کو حزب اللہ قرار دیا گیا ہے۔ (المجادلہ : 22) دوسرے مقام پر پہلے گروہ کو اولیاء الشیطان اور دوسرے کو اولیاء اللہ کا اعزاز بخشا گیا ہے۔ (البقرۃ : 257) دونوں گروہوں کے درمیان روز اوّل سے کشمکش جاری ہے کبھی حزب الشیطان کا شورو غوغا غالب آتا ہے اور کبھی حزب اللہ غالب آتے ہیں۔ یہاں تک حقائق اور دلائل کے اعتبار سے غلبہ پانے کی صورت ہے وہ ہمیشہ اللہ کا فرمان اور اس کے رسول غالب رہے ہیں کیونکہ کسی دور میں بھی کتاب اللہ اور انبیائے کرام کو شیطان کا گروہ دلائل کی بنیاد پر انہیں جھوٹا ثابت نہیں کرسکا۔ یہاں تک سیاسی غلبے کی بات ہے وہ اسی صورت میں حزب اللہ کو حاصل ہوگا جب وہ ایمان کے تقاضے پورے کریں گے کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
( وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (آل عمران : 139)
” تم سستی نہ کرو اور نہ غم کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایماندار ہو۔
” حضرت ثوبان ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت سے ایک جماعت حق پر غالب رہے گی۔ ان کو رسوا کرنے والا ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکے گا یہاں تک کہ قیامت تک وہ اسی پر قائم رہیں گے۔ “ (رواہ مسلم : باب قَوْلِہِ لَا تَزَالُ طَاءِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ عَلَی الْحَقِّ لاَ یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ )
(اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَ لَا یُعْلٰیٰ ) (ارواء الغلیل حدیث نمبر : 1268)
” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے۔
2۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑاطاقتور اور ہر اعتبار سے غالب رہنے والا ہے۔