Ayah 57:1فہم القرآن
ربط سورت : سورة الواقعہ کے آخر میں حکم ہوا کہ اپنے عظیم رب کی تسبیح پڑھا کریں۔ الحدید کی ابتدا میں یہ ارشادہوا ہے کہ زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ ” اللہ “ کی تسبیح پڑھتے ہیں کیونکہ ” اللہ “ ہر اعتبار سے غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔
سورۃ الحدید ان تین سورتوں میں سے ہے جن کی ابتدا ” سَبَّحَ لِلّٰہِ “ کے پیارے الفاظ سے ہورہی ہے۔ ان پانچ سورتوں کو اہل علم مسبِّحات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جن میں سورة الحدید، الحشر اور الصّف ” سَبَّحَ “ کے لفظ سے، سورة الجمعہ اور التغابن ” یُسَبِّحُ “ کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں ان الفاظ میں یہ بات بتلائی اور سمجھائی گئی ہے کہ اے انسان جب تیرا وجود نہیں تھا تو اس وقت بھی زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ستائش بیان کرتی تھی اور اب بھی کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی بیان کرتی رہے گی۔ یاد رہے کہ ” سَبَّحَ “ ماضی کے لیے آتا ہے اور ” یُسَبِّحُ “ حال اور مستقبل کا احاطہ کرتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس بات کا اقرار اور اظہار کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ذرّے ذرّے پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے بےمثال اور لازوال اقتدار اور اختیار رکھنے کے باوجود اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اس فرمان میں پہلا سبق یہ ہے کہ اے انسان ! جس دھرتی کے ا وپر تیرا بسیرا اور جس آسمان کے نیچے تیرا ڈیرا ہے اور جن فضاؤں میں تو سانس لیتا ہے وہ ماضی، حال اور مستقبل میں اپنے رب کے ثناء خواں ہیں اور رہیں گے۔ تجھے چاہیے کہ تو بھی اپنے رب کی حمد وثناء کرے اور ہر حال میں اپنے آپ پر ” اللہ “ غالب سمجھے۔ اس یقین کے ساتھ اس کے حکم کی تعمیل کر کہ جس بات کا اس نے حکم دیا اور جس کام سے اس نے منع کیا ہے۔ اس میں میری خیرخواہی پائی جاتی ہے۔
(یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا) (الاحزاب : 41، 42)
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) (رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، وہ جہاں بھی میرا ذکر کرے اور جب بھی اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “
رسول گرامی ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یہ دعا سکھلائی کہ اسے ہر نماز کے بعد پڑھا کرو۔
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) (رواہ أبوداوٗد : باب فی الإستغفار)
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔
(عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ ) (رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ )
حضرت ابومالک اشعری ؓ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے، ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سُبْحَان اللّٰہِ “ اور ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔
(اَلْإِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْإِیْمَانِ ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان)
” ایمان کے ستر سے کچھ اوپر اجزاء ہیں۔ ان میں افضل ترین لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان میں شامل ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے اور حال اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی۔
2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ثناء خواں ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے :
1۔ رعد اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرعد : 12) 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : 1)
3۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (نبی اسرائیل : 44)
4۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : 5)
5۔ مومن ” اللہ “ کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ (السجدۃ : 15)
Ayahs 57:2–3فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز پر غالب ہے بلکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک ہے اور وہ ذرّے ذرّے پر دائمی اور کلّی اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے۔
زمین و آسمان کی ہر چیز زبان حال اور قال کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ہر چیز کا حقیقی اور دائمی مالک صرف ” اللہ “ ہے۔ ” اللہ “ ہی ہر چیز کی بقاء اور فنا پر اختیار رکھنے والا ہے۔ جب تک چاہتا ہے ہر چیز کو زندگی عطا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے کیونکہ وہ موت وحیات پر اختیار رکھتا ہے۔ وہ اس وقت موجود تھا جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی موجود ہوگا جب کچھ نہیں ہوگا، وہ اپنی قدرتوں اور نعمتوں کے حوالے سے ہر جگہ ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی۔ وہ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کلّی علم رکھتا ہے۔
” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے اونچی آواز سے کرے اور جو رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔ “ (الرعد : 8 تا 10)
(وَاَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِاجْہَرُوْا بِہٖ اِِنَّہٗ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) (الملک : 13)
” تم چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے کرو۔ اللہ کے لیے برابر ہے وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔ “
Ayahs 57:4–6فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات اوّل اور آخر، ظاہر اور باطن اور ہر چیز کا علم رکھتی ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا ہے۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر متمکن ہوا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ عرش پر متمکن ہونے کا یہ معنٰی نہیں کہ وہ کائنات کے نظام سے لاتعلق ہوچکا ہے ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے، وہ جانتا ہے جو آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے، وہ سمندر سے اٹھنے والے بخارات، بارش کے قطرات، زمین سے اگنے والی نباتات، آسمان سے اترنے والے ملائکہ اور آسمان کی طرف چڑھنے والے ملائکہ، ارواح اور اعمال کو جانتا ہے۔ اے لوگو ! تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو اللہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور وہ تمہارے ہر کام کو دیکھ رہا ہے، زمین و آسمانوں کی بادشاہی اسی کے لیے ہے اور ہر کام کا فیصلہ اور اس کا انجام اسی کے حضور پیش کیا جاتا ہے، وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ لوگو ! میں ہر آن تمہارے ساتھ ہوتا ہوں اور اس آیت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اس نے زمین و آسمانوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور پھر عرش پر مستوی ہوا۔ اسی بات کو سورة طٰہٰ کی آیت 5 میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ دونوں آیات کو سامنے رکھ کر اس بات کی حقیقی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش معلی پر ہے اور وہ اپنے اقتدار، اختیار، علم و آگہی کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے اور کائنات کے تمام امور کی ابتدا اور انتہا اسی کے حکم پر ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان اور آن کے مطابق عرش پر مستوی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو زمین و آسمانوں میں داخل ہوتا اور جو زمین سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان کی طرف چڑھتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم و آگہی کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے۔
5۔ کائنات کی تمام حر کات و سکنات اس کے حکم کے تابع ہیں۔
6۔ ” اللہ “ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اقتدار، اختیار اور علم و آگہی کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 2۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبہ : 36)
3۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ (النساء : 146) 4۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128)
5۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128)
6۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29)
7۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہے۔ ( الحدید : 4)
8۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
9۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ( المجادلہ : 7)
Ayah 57:7فہم القرآن
ربط کلام : کائنات کو پیدا کرنے والا اور اس کے نظام کو چلانے والا صرف ” اللہ “ ہے اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ان کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور بات سمجھانے اور منوانے کے لیے رسول مبعوث فرمائے۔ سب سے آخر میں نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا اور حکم دیا کہ لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں خرچ کرو۔ اسی نے تم کو زمین کا وارث اور مال کا مالک بنایا ہے، تم میں جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کی ر اہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اس آیت مبارکہ میں سب لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کے راستے میں خرچ کرتے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں ایک دوسرے کا وارث اور مال کا مالک بنایا ہے۔ اس میں یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ مال ہمیشہ ایک ہاتھ میں نہیں رہتا۔ غور فرمائیں کہ ایک غریب سے لے کر امیر تک اس کی زندگی میں کتنا مال اس کے ہاتھ لگتا ہے اور کتنا اس کے ہاتھوں سے دوسروں تک منتقل ہوتا ہے۔ یہی حقیقت انسان کی ذات کی ہے۔ جس زمین کے کچھ حصے کا آج وہ وارث ہے اور جس سرزمین پر چلتا پھرتا ہے ماضی میں اس کا کوئی اور وارث تھا اور مستقبل میں کوئی دوسرا وارث ہوگا۔ اس لیے بہتر ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور حسب استعداد اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اللہ تعالیٰ نہیں اجرعظیم سے ہمکنار کرے گا۔
(عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ وَہُوَ یَقْرَأُ (أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ ) قَالَ یَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِی مَالِی قَالَ وَہَلْ لَکَ یَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِکَ إِلاَّ مَا أَکَلْتَ فَأَفْنَیْتَ أَوْلَبِسْتَ فَأَبْلَیْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَیْتَ ) (رواہ مسلم : باب الزہد والرقائق)
” حضرت مطرّف اپنے باپ سے بیان کریں ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے سورة التکاثر کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ ابن ادم کہتا ہے میرا مال، میرا مال، پھر فرمایا اے انسان ! تیرا کوئی مال نہیں مگر جو تو نے کھالیا وہ ختم ہو، جو تو نے پہن لیا اس کو بوسیدہ کرلیا اور جو تو نے صدقہ کیا اس کا اجر تیرے لیے جاری ہوگیا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَےِّبٍ وَّلَا ےَقْبَلُ اللّٰہُ اِلَّا الطَّےِّبَ فَاِنَّ اللّٰہَ ےَتَقَبَّلُھَا بِےَمِےْنِہٖ ثُمَّ ےُرَبِّےْھَا لِصَاحِبِھَا کَمَا ےُرَبِّیْ اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) (رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ من کسب طیب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے شرف قبولیت بخشتا ہے۔ پھر اس کو اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کا حکم ہے کہ لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ! 2۔ ازل تا ابد انسان ایک دوسرے کے وارث بنتے رہیں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کا ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ اس کی راہ میں خرچ کرتے رہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو بڑا اجر عطا فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
انفاق فی سبیل اللہ کا حکم اور اس کا اجر :
1۔ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کس طرح مال خرچ کریں ؟ فرمائیں کہ جو مال خرچ کرنا چاہو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیم، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو۔ (البقرۃ : 215)
2۔ اللہ کے لیے خرچ کرنے والے کو کوئی خوف نہیں۔ (البقرۃ : 262)
3۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والوں کی مثال سدا بہار باغ جیسی ہے۔ (البقرۃ : 265)
4۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (البقرۃ : 272)
5۔ اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے کام کا بڑا اجر ہے۔ (النساء : 114)
6۔ مخلص، مخیرحضرات لوگوں کے شکریہ اور جزا سے بےنیاز ہوتے ہیں۔ (الدھر : 9)
7۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11) 8۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
9۔ اللہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 261) 10۔ اللہ کے ہاں اضافے کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ : 261)
Ayah 57:8فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اللہ تعالیٰ کا تمام لوگوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں لیکن لوگوں کی غالب اکثریت کی یہ حالت رہی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے انکار اور تکذیب کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول تمہیں بار بار اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے، تمہارے لیے ایمان لانا اس لیے بھی لازم ہے کہ تم ” اللہ “ سے عہد کرچکے ہو۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس آیت میں یوں ارشاد ہوا کہ آخر تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول تمہیں اس پر ایمان لانے کے دعوت دے رہا ہے۔ پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم تھا۔ اس آیت میں صرف اللہ پر ایمان لانے کا ارشاد ہوا ہے جو تمہارا رب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان اور اسلام میں پہلی اور مرکزی بات اللہ پر ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ جن میں سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ ” اللہ “ پر اس طرح ایمان لایا جائے جس طرح اس کے رسول نے بتلایا اور عمل کرکے دکھلایا ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے کئی مقامات پر صرف اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جس میں ایمان کے تمام اجزاشامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر اس لیے ایمان لانا ہے کیونکہ اس نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور عوام الناس سے عہد لے رکھا ہے جس کی یاددہانی یہ کہہ کر کروائی گئی کہ اگر تم اس عہد کو مانتے ہو تو پھر اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ آیت کے پہلے حصہ میں اللہ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس کے بعد رب پر ایمان لانے کا ارشاد ہوا ہے۔ لفظ اللہ کی بجائے رب کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اگر انسان کو حقیقی علم اور یقین حاصل ہوجائے کہ اللہ کا دوسرا عظیم نام ” رب “ ہے اور وہی میرا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس کے بعد انسان اپنے ” اللہ “ کے ساتھ کبھی کفر و شرک نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ایمان قابل قبول ہے جو اس کے رسول نے بتلایا۔
(وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ ) (الاعراف : 172)
” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو بیشک ہم اس سے غافل تھے۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَاإِیْمَانَ لِمَنْ لَّآ أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَادِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہٗ ) (مسند احمد، 31: مسند انس بن مالک، ھذا حدیث حسن صحیح)
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں جب کبھی بھی خطبہ ارشاد فرمایا تو یہ الفاظ ضرور ادا فرمائے کہ اس کا ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا دین نہیں جو وعدے کا پاسدار نہیں۔ “
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ ) (رواہ مسلم : باب تحریم الغدر)
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا، جو اس کی عہد شکنی کے بقدر بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ “
مسائل
1۔ لوگوں کو ہر صورت اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا چاہیے۔
2۔ وعدے کا پورہ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
تفسیر بالقرآن
ایمان کی مبادیات :
1۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ (البقرۃ : 3)
2۔ پہلی کتابوں پر مجموعی طور پر اور قرآن مجید پر کلی طور پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 4)
3۔ اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابوں، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 285)
4۔ صحابہ کرام جیسا ایمان لانا فرض ہے۔ ( البقرۃ : 137)
Ayah 57:9فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور رسول پر ایمان لانے کی دعوت قرآن مجید کے ذریعے دی ہے اس لیے مختصر طور پر قرآن مجید کا تعارف اور اس کے فوائد کا ذکر کیا گیا ہے۔
جس اللہ نے اپنی ذات پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے اسی نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا ہے جس کے فرمان بڑے واضح اور اس کے احکام ٹھوس دلائل پر مبنی ہیں۔ نبی ﷺ پر قرآن اس لیے نازل کیا گیا تاکہ آپ لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور قرآن کی روشنی میں لے آئے اے لوگو ! یقین جا نو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ نہایت شفقت کرنے اور بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو جانتا ہے لہٰذا یہ بات اس کے علم میں ہے کہ لوگ بہانہ بنائیں گے کہ بندہ رسول نہیں ہوسکتا۔ اس لیے قرآن مجید میں کئی بار واضح کیا ہے کہ اس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا ہے۔ قرآن مجید کے نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ہر قسم کی ظلمات سے نکال کر کتاب اللہ کی روشنی میں چلنے کی تلقین کی جائے۔
(اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓءُہُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ) ( البقرۃ : 257)
” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کفار کے ساتھی شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ جہنمی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “
(اآرٰ کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّہِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ) (ابراہیم : 1)
” الر۔ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں، ان کے رب کے حکم سے اور اس کے راستے کی طرف جو سب پر غالب، بہت تعریف والا ہے۔ “
رستم کے سامنے حضرت ربعی ؓ کا ارشاد :
یہی وہ دعوت ہے جس کی وضاحت ایران کی سر زمین پر ایرانی کمانڈر رستم کے سامنے مسلمانوں کے نمائندے حضرت ربعی ؓ نے کی تھی رستم نے اپنا نمائندہ بھیجا اور کہا کہ تم ہماری سرزمین پر کس لیے وارد ہوئے ہو، اگر تمہیں مال چاہیے تو میں سپاہی سے لے کر تمہارے جرنیل تک سب کو تمہاری حسب منشاء مال دے کر راضی کرتا ہوں لیکن مسلمانوں کے نمائندے حضرت ربیع ؓ نے جس شان بےنیازی سے اس کا جواب دیا وہ تاریخ کا ایک تحفہ ہے۔ جناب ربیع ؓ نہایت ہی سادہ لباس میں ملبوس ہاتھ میں تلوار لئے ہوئے ایرانی قالینوں پر چلتے ہوئے رستم کے برابر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایرانیوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ کسی عام آدمی کو اپنے سردار کے برابر بیٹھا ہوا دیکھیں وہ دانت پیس کر رہ گئے۔ مذاکرات کے دوران رستم کے ایک سوال کے جواب میں حضرت ربیع ؓ نے اپنی آمد اور جماعت کا مقصد بیان کیا۔
(إِنَّا قَدْ اُرْسِلْنَا لِنُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ ظُلُمَتِ الْجِھَالَۃِ إِلٰی نُوْرِ الْاے مانِ وَمِنْ جَوْرِ الْمُلُوکِ إِلٰی عَدْلِ الْاِسْلَامِ ) (البدایہ والنہایۃ)
” ہمیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ لوگوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لا کھڑا کریں۔ ہمارے آنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ عوام کو بادشاہوں کے جورو ستم سے نکال کر اسلام کے عادلانہ نظام میں زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کریں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا جس کے احکام اور فرمان بالکل واضح ہیں۔
2۔ قرآن مجید نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہر قسم کی ظلمات سے نکال کر ایمان اور قرآن مجید کی روشنی میں لاکھڑا کیا جائے۔ 3۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور انسان تھے :
1۔ نبی آخر الزماں ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ (الکہف : 110، حم السجدۃ : 6)
2۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر تھے۔ (النحل : 43)
3۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف : 109) 4۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء : 34)
Ayah 57:10فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات کا یہ اہم اصول ہے کہ لوگوں کو عسر، یُسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ جو لوگ تنگی کے وقت خرچ کرتے ہیں وہ خوشحالی میں خرچ کرنے والوں سے بہتر ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کی ابتدا میں ارشاد ہوا کہ ” ا آمّ “ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں یہ برائی سے بچنے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے اس سے ہدایت پانے والے لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں گویا کہ یہ ایمانیات کا بنیادی جز ہے کہ انسان زکوٰۃ کے علاوہ بھی حسب استعداد اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہے۔ یہاں خرچ کرنے سے مراد جہاد فی سبیل اللہ کے لیے خرچ کرنا ہے۔ قرآن مجید اکثر مقامات پر جہاد بالنفس کی بجائے جہاد بالمال کا پہلے ذکر کرتا ہے جس کے دو سبب ہیں۔ پہلا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بخل ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ بخیل آدمی ہر چیز سے زیادہ مال سے محبت کرتا ہے، جو لوگ مال سے زیادہ محبت کرتے ہیں وہ لڑنے سے کترایا کرتے ہیں دوسرا سبب واضح ہے کہ ہر مجاہد اپنے پاس مال نہیں رکھتا اور مال کے بغیر جہاد جاری نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ مجاہد کو کھانے پینے کے ساتھ سواری اور اسلحہ کی ضرورت ہوتی ہے جن کا حصول مال کے بغیر ممکن نہیں مسلمانوں کو بخل سے بچانے کے لیے حکم ہوا ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ؟
سوچو اور غور کرو کہ زمین و آسمانوں کی میراث حقیقی اور دائمی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، تمہیں تو ایک محدود حد کے اندر وارث بنایا گیا ہے۔ یادرکھو کہ جس نے الفتح سے پہلے انفاق اور قتال فی سبیل اللہ میں حصہ لیا وہ اس کے بعد انفاق اور قتال فی سبیل اللہ کرنے والوں سے کردار اور درجے میں اعلیٰ ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے ساتھ اجر وثواب کا وعدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہوتا ہے۔ الفتح کے بارے میں اہل علم نے تین مؤقف اختیار کیے ہیں۔ (1) ۔ الفتح سے مراد مکہ کی فتح ہے۔ (2) ۔ الفتح سے مراد صلح حدیبیہ سے پہلے کے غزوات ہیں۔ 3۔ الفتح سے مراد غزوہ تبوک ہے۔
انفاق اور قتال فی سبیل اللہ کے ادوار کی تقسیم کے باوجود تمام صحابہ بعد میں آنے والے مسلمانوں سے انفاق اور کردار کے اعتبار سے افضل ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ پوری امت سے افضل اور اعلیٰ ہیں۔
(عن عِمْرَانَ بن حُصَیْنٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُوْنَہُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ) ( رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ )
” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : تم سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان کے بعد والوں کا اور پھر ان کے بعد کے لوگوں کا۔ “
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْاَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ ۔ )
(رواہ البخاری : باب مناقب ابی بکر)
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے اصحاب ؓ کو برا نہ کہو۔ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو صحابہ کرام ؓ کے مد (نصف کلو گرام تقریبا) اور آدھے مد (چوتھائی کلو گرام) کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَےِّبٍ وَّلَا ےَقْبَلُ اللّٰہُ اِلَّا الطَّےِّبَ فَاِنَّ اللّٰہَ ےَتَقَبَّلُھَا بِےَمِےْنِہٖ ثُمَّ ےُرَبِّےْھَا لِصَاحِبِھَا کَمَا ےُرَبِّیْ اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) (رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ من کسب طیب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے شرف قبولیت بخشتے ہیں۔ پھر اس کو اس طرح بڑھاتے ہیں جیسا کہ تم اپنے بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ “
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
(اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ) (رواہ البخاری : باب إتقوا النار ولوبشق تمرۃ )
” لوگوآگ سے بچو ! اگرچہ تمہیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔ “
(عَنْ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ) (رواہ البخاری : باب لاَ صَدَقَۃَ إِلاَّ عَنْ ظَہْرِ غِنًی)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کر کے دیا جائے اور خرچ کرنے میں اپنے اہل و عیال سے آغاز کرنا چاہیے۔ “
مسائل
1۔ مسلمانوں کو ہر حال میں انفاق فی سبیل اللہ کرتے رہنا چاہیے۔
2۔ قتال فی سبیل اللہ کے لیے خرچ کرنا فرض ہے۔ 3۔ زمین و آسمان کی میراث کا حقیقی اور دائمی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
4۔ مشکل حالات میں صدقہ کرنا زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کے اعمال سے باخبر رہتا ہے۔
6۔ مشکل حالات میں انفاق اور قتال فی سبیل اللہ کرنے والے صحابہ بعد کے صحابہ سے افضل ہیں۔
7۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں سے اجرو ثواب کا وعدہ کیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انفاق فی سبیل اللہ کا حکم اور اس کا اجر :
1۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والوں کی مثال سدا بہار باغ جیسی ہے۔ (البقرۃ : 265)
2۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (البقرۃ : 272)
3۔ اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے کام کا بڑا اجر ہے۔ (النساء : 114)
4۔ اللہ کی رضا کے چاہنے والوں کا انجام بہترین ہوگا۔ (الرعد : 22)
5۔ مخلص، مخیرحضرات لوگوں کے شکریہ اور جزا سے بےنیاز ہوتے ہیں۔ (الدھر : 9)
6۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39)
7۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : 134)
8۔ مسلمان کو اس کے دئیے ہوئے صدقہ پر سات سو گنا ثواب دیا جائے گا۔ ( البقرۃ : 261)
Ayah 57:11فہم القرآن
ربط کلام : مال کی حیثیت بتلانے کے بعد اسے ” اللہ “ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم۔
پہلے حکم فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ تم اس کے دائمی مالک نہیں ہو بلکہ اپنے سے پہلے لوگوں کے وارث ہو۔ جس طرح تم پہلے لوگوں کے وارث بنے ہو اسی طرح تمہارے بعد آنے والے تمہارے وارث ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ تم اس کے حقیقی وارث نہیں ہو۔ حقیقی اور دائمی وارث تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جن لوگوں نے الفتح سے پہلے خرچ کیا وہ بعد میں خرچ کرنے والوں سے بہتر ہیں۔ اب چوتھا ارشاد ہوا کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ؟ جو ” اللہ “ کو قرض حسنہ دے گا ” اللہ “ اسے کئی گنا اضافے کے ساتھ واپس کرے گا اور اسے بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بخل سے بچانے کے لیے قرآن مجید میں کئی مقامات پر صدقہ کرنے کو اپنے لیے قرض حسنہ قرار دیا ہے۔ انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ مال وہاں خرچ کرتا ہے جہاں اسے فائدہ نظر آتا ہے۔ انسانی کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے اور اپنی فیاضی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو اپنے رب کو قرض حسنہ دے۔
غور فرمائیں ! کہ ” اللہ “ ہی انسان کو سب کچھ عطا کرنے والا ہے اور پھر وہی انسان سے قرض مانگتا ہے اپنے لیے نہیں بلکہ غریبوں، یتیموں، بیوگان اور جہاد کرنے والوں کے لیے۔ اس کی کرم نوازی کی انتہا دیکھیں کہ وہ محتاجوں کے ساتھ تعاون کی ترغیب دیتا ہے تو اسے اپنی ذات کے لیے قرض قرار دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود محتاج لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ کفر و شرک چھوڑتے ہیں اور نہ ہی اس کے حضور جھکنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ صدقہ کرنے والے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اس کے لیے اجر کریم ہے۔ اجر کریم سے مراد دنیا میں مال کی برکت اور آخرت میں جنت کی نعمتیں ہیں۔
( مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 261)
” جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھاکر دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَانَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ وَّمَازَاد اللّٰہُ عَبْدًابِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَّمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی بھائی کو معاف کرنے سے اللہ معاف کرنے والے کو مزید عزت بخشتا ہے۔ جو کوئی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سر بلندفرماتا ہے۔ “
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت (مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا) نازل ہوئی تو ابودحداح نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ ہم سے قرض کا مطالبہ کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! اے ابوالدحداح۔ ابودحداح نے کہا کہ میں نے اپنے رب کو وہ باغ قرض دیا جس میں کھجوروں کے چھ سو درخت ہیں۔ پھر وہ اپنے باغ میں آئے اور اس میں ام دحداح اپنے بچوں سمیت بیٹھی ہوئی تھی۔ ابودحداح نے اسے آواز دی تو اس نے ہاں میں جواب دیا۔ ابودحداح نے کہا یہاں سے نکل جاؤ ! بیشک میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔ “
(مسند البزار : جلد 1، ص، 321، قال البانی صحیح)
مسائل
1۔ جہاد فی سبیل اللہ اور محتاجوں پر خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔
2۔ قرض دینے والے کو اللہ تعالیٰ کئی گنا اضافے کے ساتھ واپس کرے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدقہ کرنے والے کے لیے اجر کریم ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قرض مانگتا ہے :
1۔ اللہ کو قرض حسنہ دینے کا حکم۔ (المزمل : 20) 2۔ صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ (البقرۃ : 265)
3۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11) 4۔ اللہ اسے بڑھا کر واپس کرے گا۔ (الحدید : 11)
5۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
6۔ اللہ اسے سات سو گناہ سے بھی زیادہ بڑھائے گا۔ (البقرہ : 261)
Ayah 57:12فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے، انفاق فی سبیل اللہ کرنے اور قتال فی سبیل اللہ میں شامل ہونے والوں کے لیے روشن مستقبل کی نوید۔
قیامت کے دن جب جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت عطا فرمائیں گے۔ جب مومن اور مومنات جنت میں جانے لگیں گے تو اس سے پہلے ایک ایسامرحلہ آئے گا جس وقت کوئی چیز دکھائی اور سجھائی نہیں دے گی۔ جنتی جونہی جنت کی طرف رواں دواں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اور دائیں طرف ہر چیز روشن فرمادیں گے ہر جنتی اپنے اعمال کے مطابق جنت کے راستہ کو منور پائے گا، جونہی جنتی جنت کے دروازوں کے قریب جائیں گے تو ملائکہ انہیں سلام کرتے ہوئے خوش آمدید کہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور ہر جنتی اپنے مقام اور اعمال کے مطابق جنت کے مخصوص دروازے سے داخل ہو کر اپنے مقام پر پہنچ جائے گا، جنت میں نہریں اور آبشاریں جاری ہوں گی اس جنت میں جنتی ہمیشہ رہیں گے اور یہ سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
” اے ایمان والو ! اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسی جنت میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں ذلیل نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہماری بخشش فرما تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ (التحریم : 8)
(عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ رَقِیتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی ظَہْرِ الْمَسْجِدِ ، فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ إِنَّ أُمَّتِی یُدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یُطِیلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ ) (رواہ البخاری : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ )
” حضرت نعیم مجمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ابوہریرہ ؓ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے وضو کیا پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کو قیامت کے دن جب بلایا جائے گا تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کے پانچ کلیان یعنی ہاتھ پاؤں اور چہرے چمکتے ہوں گے۔ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم سے جو اپنی چمک کو زیادہ کرنے کی طاقت رکھتا اسے ایسا کرنا چاہیے۔ “
(اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) (رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل)
” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور ہی نور فرما دے۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن ہر ایماندار مومن اور مومنہ اپنے ایمان کے مطابق روشنی پائیں گے۔
2۔ جس کو جنت میں داخلہ نصیب ہوا وہ کامیاب ٹھہرے گا۔
تفسیر بالقرآن
بڑی کامیابی پانے والے لوگ :
1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں، مومنات سے ہمیشہ کی جنت اور اپنی رضا مندی کا وعدہ فرمایا ہے یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ : 72، 89، 100)
2۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جنت کے بدلے ان کے مال و جان خرید لیے ہیں، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ : 111)
3۔ اے اللہ نیک لوگوں کو برائی سے بچا جو برائی سے بچ گیا اس پر تیرا رحم ہوا یہ بڑی کامیابی ہے۔ (المومن : 9)
4۔ مومنوں کا جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کے فضل سے ہوگا اور یہی کامیابی ہے۔ (الدخان : 57)
5۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہ کھلی کامیابی ہے۔ (الجاثیہ : 30)
6۔ مومنوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے جس میں پاک صاف مکان ہوں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (الصف : 12)
Ayah 57:13فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا مومنوں سے الگ کیا جانا اور ان کا انجام۔
اس سے پہلی آیت کی تفسیر میں یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے کہ جو لوگ نماز کا اہتمام کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے ہاتھ پاؤں اور چہرے چمک رہے ہوں گے۔ حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ تک منافقین کے چہرے بھی روشن ہوں گے اور جس طرح منافقین دنیا میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے اسی طرح ہی کچھ مراحل میں قیامت کے دن بھی منافق مومنوں کے ساتھ جڑے رہیں گے جب مومنوں کو جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوگا اور جنتی قافلوں کی صورت میں جنت کی طرف جارہے ہوں گے۔ تو منافق بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ جب پل صراط سے پہلے تاریک وادی سے گزریں گے تو مومن اپنے اعمال کے مطابق ہر جانب روشنی پائیں گے لیکن منافقوں کو ہر طرف سے اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے گا۔ اس موقع پر منافق مرد اور عورتیں، مومن مرد اور عورتوں سے فریاد کریں گے کہ ہمیں بھی ساتھ لے کر چلو کیونکہ ہمیں کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی لیکن مومن مرد اور عورتیں منافقوں کی پرواہ کیے بغیر جنت کی طرف رواں دواں رہیں گے۔ منافق ٹھوکریں کھاتے ہوئے فریاد پر فریاد کریں گے کہ براہ کرم ہماری طرف اپنے چہرے فرمائیں تاکہ آپ کے منور چہروں کی روشنی سے ہم مستفید ہو سکیں۔ اس پر مومن منافقوں سے کہیں گے کہ ہمارے نور کا تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر روشنی چاہتے ہو تو واپس پلٹ کر روشنی تلاش کرو ! جونہی منافق پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو جنتیوں اور ان کے درمیان ایک بہت بڑی دیوار حائل کردی جائے گی جس میں بہت بڑا دروازہ ہوگا۔ اس کے اندر کی طرف اللہ کی رحمت یعنی جنت ہوگی اور اس کے باہر جہنم ہوگی۔ جنتی دروازے سے گزر کر جنت میں داخل ہوجائیں گے اور منافق مرد اور عورتیں جہنم کے عذاب میں مبتلا کر دئیے جائیں گے۔ منافق مرد اور عورتوں کو جنت کے دروازے تک جنتیوں کے ساتھ اس لیے جانے دیا جائے گا تاکہ انہیں اپنی منافقت کے انجام کا پوری طرح احساس ہو کیونکہ یہ دنیا میں فائدے کے وقت مومنوں کے ساتھ ہوا کرتے تھے اور مشکل کے وقت مومنوں کو چھوڑ کر کفار کا ساتھ دیتے تھے۔ قیامت کے دن ان کی منافقت کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کیا جائے گا تاکہ ان کی حسرتوں میں اضافہ ہوتا رہے اور یہ ہمیشہ جہنم کے نچلے درجے میں جلتے اور ذلیل ہوتے رہیں۔
(عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنِّی فَرَطُکُمْ عَلٰی الْحَوْضِ مَنْ مَرَّ عَلَیَّ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ أَبَدًا لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُونِی ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِی۔۔ وَبَیْنَہُمْ فَأَقُولُ إِنَّہُمْ مِنِّی فَیُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِی مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَیِّرَ بَعْدِی) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق باب الحوض)
” حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تمہارا حوض کوثر پر انتظار کروں گا جو بھی میرے پاس آئے گا وہ اس سے پیے گا اور جو شخص بھی اس سے ایک مرتبہ پیے گا وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا۔ میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے وہ مجھے پہچان لیں گے اور میں انھیں اپنے امتی کے طور پر سمجھوں گا پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا۔۔ میں کہوں گا یہ تو میرے امتی ہیں کہا جائے گا آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا بدعتیں شروع کیں میں ان سے کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن منافق مرد اور عورتیں ایمانداروں سے روشنی حاصل کرنے کے لیے فریاد کریں گے۔
2۔ قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔ دیوار کی ایک طرف جنت ہوگی اور دوسری طرف جہنم ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن جنتیوں کا انعام اور منافقوں کا انجام :
1۔ ہم نے جنت میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34)
2۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15) 3۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17)
4۔ جنتی جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33) (التوبہ : 68)
5۔ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ (النساء : 142) (التوبہ : 73)
Ayahs 57:14–15فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی جنتیوں سے آخری فریاد۔
جب جنتی منافقین سے یہ کہیں گے کہ اپنے پیچھے جاکر روشنی تلاش کرو تو منافق کہیں گے کیا دنیا میں ہم تمہارے ساتھ نہیں رہتے تھے ؟ جنتی جواب دیں گے کیوں نہیں ! تم ہمارے ساتھ رہتے تھے لیکن تم نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھا، اسلام کے بارے میں شک میں مبتلا رہے، ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منتظر رہے کہ کب اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان آرزؤں اور شیاطین نے تمہیں ہمیشہ دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا۔ تم یہ کام دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت کرتے تھے لہٰذا آج اپنے کیے کی سزا پاؤ۔ آج کفار اور تم سے نہ کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ تم عذاب سے نجات پاسکو گے۔ لہٰذا تمہارا ٹھکانہ آگ ہے جس کے تم سزاوار ہو۔ رہنے کے اعتبار سے یہ بدترین اور اذّیت ناک جگہ ہے۔ اس موقع پر جنتی لوگ منافق عورتوں اور مردوں کو پانچ باتیں ارشاد فرمائیں گے۔ 1 ۔ دنیا میں تم نے منافقت کر کے اپنے آپ کو لامتناہی مصیبت میں ڈال لیا ہے۔ 2 ۔ دنیا میں تم ہمارے نقصان کے منتظررہتے تھے لہٰذا آج تم ناقابل برداشت اور لامحدود نقصان میں مبتلا رہو گے۔ 3 ۔ دنیا میں تم دین اسلام کے بارے میں شک کا شکار رہے اور اب اس شک کی ہمیشہ سزا پاؤ گے۔ 4 ۔ دنیا میں شیطان نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے فرمان کے فرامین میں دھوکہ میں رکھا اس لیے آج اس دھوکے کی سزا پاتے رہو۔ 5 ۔ دنیا میں تم اپنے مفاد کی خاطر دین اور مسلمانوں کا نقصان چاہتے اور کرتے تھے لہٰذا تم جہنم کے لائق ہو، جو تمہارے رہنے کے لیے بدترین جگہ ہے، تم دنیا کے مفاد کی خاطر اللہ اور اس کے رسول کے فرمان پر حقیقی ایمان نہ لائے اس لیے آج تم سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَہَبً وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْن) (آل عمران : 91)
” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کفر کی حالت میں مرگئے ان میں سے کسی ایک سے بھی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ زمین بھر کر سونا پیش کرئے ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا اور کوئی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔ “
مسائل
1۔ کفار اور منافقین کو ہمیشہ جہنم میں رہنا ہوگا۔ 2۔ رہنے کے اعتبار سے جہنم بدترین جگہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
منافقین کا اللہ اور اس کے رسول اور دین کے بارے میں روّیہ :
1۔ منافق دوغلی زبان اور دوغلے کردار کا مالک ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 13، 14)
2۔ منافق اسلام کا دعویٰ کرتا ہے لیکن طاغوت کے فیصلہ پر خوش ہوتا ہے۔ (النساء : 60)
3۔ مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر صفائی کی قسمیں اٹھاتا ہے۔ (النساء : 62) 4۔ منافق کی زبان اور دل میں تضاد ہونا۔ (آل عمران : 167)
5۔ منافق بغیر تحقیق کے افواہیں اڑاتا ہے۔ (النساء : 82)
6۔ منافق صرف دنیا کی کامیابی چاہتا ہے۔ (النساء : 141)
7۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ (التوبہ : 127)
8۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ؟ (التوبہ : 124)
9۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبہ : 86)