Ayah 57:27فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی بعثت کا مقصد۔
اللہ تعالیٰ نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد وقفے وقفے کے بعد بیشمار انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ ان کے آخر اور حضرت محمد ﷺ سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل کے ساتھ بڑے بڑے معجزات عطا فرمائے جن لوگوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اتباع کی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نرمی اور شفقت پیدا فرمادی۔ عیسائیوں نے از خود اپنے لیے رہبانیت ایجاد کرلی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لازم قرار نہیں دیا تھا۔ انہوں نے اسے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ پر فرض کرلیا جس کا وہ حق ادا نہ کرسکے۔ جس طرح انہیں حق ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان میں جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے انہیں اجر سے سرفراز فرمایا لیکن ان کی اکثریت نافرمان تھی۔
رہبانیت کا مادہ رہب ہے جس کا معنٰی خوف ہے۔ ” رَہبانیّت “ کا مطلب ہے مسلک خوفزدگی اور ” رُہبانیّت “ کا معنٰی مسلک خوفزدگان ہے۔ اصطلاحاً اس سے مراد کسی شخص کا خوف کی بنا پر تارک الدنیا بن جانا اور دنیوی زندگی سے الگ تھلگ ہونا ہے۔
رَأْفَۃً کا معنٰی :
عربی ڈکشنری کے لحاظ سے ” رَأْفَۃً “ کا معنٰی دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانا اور رحمت کا معنٰی شفقت اور کسی دوسرے کی مدد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نہایت ہی مشفق اور نرم دل پیدا فرمایا۔ اس وقت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کی جائے کیونکہ یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی بار بار نافرمانی کرکے اپنے لیے سختیاں پیدا کرلی تھیں، اس سختی کے خاتمے کے لیے شریعت عیسوی میں نرمی اور شفقت کا پہلو غالب رکھا گیا۔ اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے امتی کو یہ تعلیم اور تلقین کی کہ اگر تیرے چہرے پر کوئی تھپڑ مارے تو تجھے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ اس کے سامنے کردینا چاہیے تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے۔ اسی تعلیم کا اثر تھا اور ہے کہ عیسائیوں میں اپنے آپ کو نصاریٰ کہلوانے والے مسلمانوں کے بارے میں نسبتاً نرم گوشہ رکھتے ہیں جس کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔
(لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُہْبَانًا وَّ اَنَّہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (المائدۃ : 82)
” یقیناً آپ ایمان داروں کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو شرک کرتے ہیں اور یقیناً آپ ایمانداروں کے ساتھ دوستی میں ان کو قریب پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں کیونکہ ان میں عالم اور راہب ہیں جو تکبر نہیں کرتے۔ “
رہبانیت :
حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہنے کے لیے رہبانیت اختیار کرلی حالانکہ ان پر فرض نہیں کی گئی تھی۔ رہبانیت کو اپنے آپ پر فرض قرار دینے کے باوجود اس کے تقاضے پورے نہ کرسکے۔ رہبانیت اختیار کرنے والوں کی غالب اکثریت نے اپنے آپ پر کچھ حلال چیزوں کو حرام کرلیا اور کچھ حرام چیزوں کو جائز قرار دیا۔ جس طرح ہمارے ہاں صوفیائے کرام نے تصوف اختیار کرنے کے بعد طریقت کے نام پر اپنے طور پر کچھ باتوں کو حلال سمجھا اور کچھ کو اپنے لیے حرام قرار دیا۔
شادی سے اجتناب کرنا :
رہبانیت اختیار کرنے کی وجہ سے جو لوگ پاد ری اور پوپ بنے انہوں نے اپنے آپ پر یہ پابندی لگا لی کہ وہ زندگی بھر کسی عورت سے نکاح نہیں کریں گے۔ اسی اصول کے پیش نظر آج بھی شادی کرنے والا شخص پادری، پوپ اور بشپ نہیں بن سکتا۔ اس پابندی کے باوجود شروع سے لے کر آج تک اس منصب پر فائز ہونے والے پادری اور پوپ اخلاقی جرائم کے مرتکب ہوئے یہاں تک کہ ان کے بارے میں لواطت زدگی کے سکینڈل بھی زبان زد عام ہوتے رہے ہیں۔
دین اسلام اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ نبی آخرالزمان ﷺ نے کھلے الفاظ میں اس سے منع کیا ہے۔
(عَنْ أَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِکُلِّ أَمَۃٍ رَہْبَانِیَّۃًوَرَہْبَانِیَّۃُ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللہِ ) (رواہ البیہقی فی شعب الایمان : باب الجھاد)
” حضرت انس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر امت کے لیے رہبانیت کا ایک انداز تھا میری امت کی رہبانیت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔ “
بدعت کی مذّمت :
جو کام قرآن وسنت سے ثابت نہیں اسے دین اور ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے بیشک وہ کام کتنا ہی اچھا دکھائی کیوں دیتاہو۔ ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں داخل کرنے والی ہے کیونکہ بدعتی شخص عملاً اور اعتقاداً دین کو نامکمل سمجھتا ہے اس لیے نبی معظم ﷺ خطبہ جمعہ کی ابتدا میں یہ الفاظ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِذَا خَطَبَ ۔۔ یقول أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ ) ( رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ)
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ جب بھی خطبہ دیتے تو ارشاد فرماتے۔۔۔ بلاشبہ سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور ہدایت کا بہترین راستہ محمد ﷺ کا ہے اور برے کاموں میں سے بدترین کام بدعت ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَےْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) (رواہ مسلم : باب نَقْضِ الأَحْکَامِ الْبَاطِلَۃِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ )
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئی بات ایجاد کی جو دین میں نہیں ہے وہ ٹھکرا دی جائے گی۔ “
(عَنْ حُذَیْفَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ ) (رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ ، قال الالبانی صحیح)
” حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بدعتی آدمی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا۔ ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا سلسلہ جاری رکھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا فرمائی۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سچے پیروکاروں میں مسلمانوں کے بارے میں نرمی رکھ دی ہے۔
4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پیروکاروں نے رہبانیت کی بدعت ایجاد کی۔
5۔ نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت سے پہلے جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے رہے اللہ تعالیٰ انہیں دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔
6۔ عیسائیوں کی غالب اکثریت ہمیشہ سے ” اللہ “ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمان رہی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو انجیل اور معجزات عطا فرمائے :
1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو باذن اللہ اچھا کرنا۔ ( آل عمران : 49)
2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کلمۃ اللہ ہیں اور دنیا و آخرت میں عزت پانے والے ہیں۔ (آل عمران : 45)
3۔ ” اللہ “ نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات سے نوازا اور روح القدس کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔ (البقرۃ : 87)
4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران : 47) 5۔ روح القدس کی تائید حاصل ہونا۔ (البقرۃ : 253)
6۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (النساء : 158)
7۔ پیدائش کے چند دن بعد اپنی نبوت کا اعلان کرنا۔ (مریم : 30)
8۔ گود میں اپنی والدہ کی براءت کا اعلان کرنا۔ (آل عمران : 47)
9۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا لوگوں کو انکی کھانے پینے اور ذخیرہ کی ہوئی چیزوں کے بارے مطلع کرنا۔ (آل عمران : 49)
Ayah 57:28فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نافرمان ٹھہری۔ اے ایمان والو ! تمہیں ” اللہ “ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
اے ایمان والو ! ہر حال میں ” اللہ “ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ! ” اللہ “ تمہیں دوگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لیے روشنی پیدا کرے گا جس میں تم زندگی بسر کر وگے اور بتقاضا بشریت جو تم سے غلطیاں ہوں گی انہیں معاف فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ یہاں ایمان داروں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں رسول اکرم ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس خطاب کے مفسرین نے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ” اٰمِنُوْا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اس لیے انہیں اے ایمان والو کہہ کر خطاب کیا معنٰی یہ ہے کہ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہو اسی طرح نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لاؤ ! جس کا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دوگنا اجر عطا فرمائے گا۔
دوسری جماعت کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان مسلمانوں کو خطاب کیا ہے جو ایمان لانے کے باوجود اس کے تقاضے پورے نہیں کرتے انہیں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کے تقاضے پورے کرو ! اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تمہیں دوگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہاری غلطیاں معاف کرتے ہوئے تمہارے لیے روشنی کا بندوبست کرے گا جس میں تم چلو گے۔ روشنی سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم اور خداداد بصیرت ہے جو شخص ایمان کے تقاضے پورے کرتا اور ” اللہ “ سے ڈر کر زندگی بسر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خاص بصیرت اور توفیق عطا کرتا ہے جس بنا پر وہ نیکی اور برائی حلال اور حرام، ظلم اور عدل میں تمیز کرتا ہے اسی طرح روشنی میں چل کر وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔
(یٰٓا أَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ وَ اللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) (الانفال : 29)
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی قوت دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا۔ تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ “
(عن أَبی بُرْدَۃَ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ یُؤْتَوْنَ أَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ الرَّجُلُ تَکُونُ لَہُ الْأَمَۃُ فَیُعَلِّمُہَا فَیُحْسِنُ تَعْلِیمَہَا وَیُؤَدِّبُہَا فَیُحْسِنُ أَدَبَہَا ثُمَّ یُعْتِقُہَا فَیَتَزَوَّجُہَا فَلَہُ أَجْرَانِ وَمُؤْمِنُ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِی کَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ اٰمَنَ بالنَّبِیِّ ﷺ فَلَہُ أَجْرَانِ وَالْعَبْدُ الَّذِی یُؤَدِّی حَقَّ اللّٰہِ وَیَنْصَحُ لِسَیِّدِہِ ) (رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، بَاب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ )
” حضرت ابوبردہ ؓ نے اپنے والد گرامی سے نبی مکرم ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا : تین طرح کے افراد کو دوہرا اجر عنایت کیا جائے گا، ان میں ایک وہ ہوگا جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے اچھی تعلیم دی اور اس کو ادب سکھایا پھر وہ اس کو آزاد کرتے ہوئے اس سے نکاح کرلیا۔ دوسرا یہود و نصاریٰ میں وہ شخص جو اپنے دین میں پکا تھا اور بعد ازاں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے تیسرا وہ شخص جو غلام ہے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے مالک کے کام اور خدمت میں اس کی خیرخواہی کرتا ہے۔ “
( عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ إِنِّی أُبْدِعَ بِیْ فَاحْمِلْنِی فَقَالَ مَا عِنْدِیْ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللّٰہِ أَنَا أَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ یَحْمِلُہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ )
(رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی)
” حضرت ابو مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا میرے پاس سواری نہیں ہے مجھے سواری عنایت کیجیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس بھی سواری نہیں ہے دوسرے آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں اس کو اس شخص کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جو اسے سواری دے گا۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی کی بھلائی کی طرف رہنمائی کی تو اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہی اجر دیا جائے گا۔ “
( یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ نُوْرُہُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا اِِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (التحریم : 8)
” جس دن اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگون کو جو اس پر ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “
(” اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِےْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّتَحْتِیْ نُوْرًا وَّاَمَامِیْ نُوْرًا وَّخَلْفِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّزَادَ بَعْضُھُمْ وَفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّذَکَرَ وَعَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ “ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ لَّھُمَا ” وَاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَّفِیْ اُخْریٰ لِمُسْلِمٍ اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا “ ) (رواہ البخاری : باب الدُّعَاءِ إِذَا انْتَبَہَ باللَّیْلِ )
الٰہی ! میرے دل، میری آنکھوں، میرے کانوں، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے سامنے، میرے پیچھے اور مجھے ہر طرف سے روشنی عطا فرما اور دوسری روایات میں ان الفاظ کا اضافہ ہے۔ میری زبان، میرے اعصاب، میرا گوشت پوست، میرے خون اور بال حتیٰ کہ میرے سارے جسم کو منور فرمادے۔ (بخاری و مسلم) دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ میرے دل میں بھی نور پیدا کر دے اور نور کو میرے لیے اور زیادہ کر دے۔ مسلم کی دوسری حدیث میں ہے ” اے اللہ مجھے نور عطا فرما۔ “
مسائل
1۔ ایمانداروں کو ہر حال میں ” اللہ “ سے ڈر کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔
2۔ ایمانداروں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے چاہیے۔
3۔ اہل کتاب میں جو شخص نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لائے گا اسے دوگنا اجر عطا کیا جائے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کے لیے ایک روشنی پیدا کرتا ہے جس میں وہ چل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور متقین کی غلطیاں معاف کردیتا ہے 6۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے فوائد :
1۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : 198)
2۔ اللہ سے خلوت میں ڈرنے والے کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ (یٰس : 11)
3۔ ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ (یونس : 63۔ 64)
4۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ (النور : 52)
Ayah 57:29فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان نہیں لائیں گے انہیں انتباہ کیا گیا ہے۔
اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کے الفاظ صرف یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں بھی اہل کتاب سے مراد دونوں فریق ہیں جن کی اکثریت حسد اور بغض کی بنا پر نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان نہیں لاتی بالخصوص یہودیوں کی کیفیت یہ تھی اور ہے کہ وہ کسی صورت بھی نبی ﷺ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اہل کتاب کی کثیر تعداد چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے ایمان سے پھیر دیا جائے حالانکہ ان کے سامنے حق واضح کردیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے حسد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ ( البقرۃ : 109)
اہل کتاب میں بالخصوص یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد کے علاوہ کوئی شخص نبوت کا حقدار نہیں ہوسکتا، انہیں اس کا جواب دیا گیا کہ کسی کو نبوت عطا کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اس فضل سے پہلی مراد نبوت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہے اس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ عظیم فضل کا مالک ہے۔ یہ حقیقت بتلانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ خاص طور پر اہل کتاب کے کان کھل جائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں ذرہ بھر بھی اختیار نہیں رکھتے اور کوئی شخص بھی اللہ کی ذات، صفات اور اختیارات میں رائی کے دانے کے برابر اختیار نہیں رکھتا۔ جب کوئی شخص اپنے یا کسی کے بارے میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا تو اسے دوسرے شخص پر حسد نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص حسد و بغض سے بچ کر حقیقت پر غور کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ ہدایت کا راستہ کھول دیتا ہے۔
(وَ اِذَا جَآءَ تْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ م اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ ) (الانعام : 124)
اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کس کو اپنے پیغام کا حامل بنائے، عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیے اللہ کے ہاں ذلّت پہنچے گی اور سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “
(یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) (آل عمران : 74)
” وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کرلے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ” اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ “ ) (رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ )
” حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ دعا کرتے اے اللہ ! جو چیز تو عطاء فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع نہیں دے سکتا۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ کے اختیارات میں اہل کتاب یا کسی اور کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے اپنا فضل فرمائے۔ ہر قسم کا فضل صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے :
1۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189)
2۔ بیشک زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبہ : 116)
3۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 107)
4۔ ہر قسم کی خیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ( آل عمران : 73)
5۔ اللہ ہر نقص سے پاک ہے اور ہر چیز اس کے ہاتھ میں ہے سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ( یٰس : 83)