57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsفہم القرآن

Ayahs 57:16–17

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ” اللہ “ کے ذکر سے ڈر جائیں اور اللہ کے نازل کردہ حق کے سامنے جھک جائیں، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی۔ ان پر ایک لمبی مدت گزری تو ان کے دل سخت ہوگئے، اور ان میں اکثر نافرمان ہیں

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

پوری طرح جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے تم کو صاف صاف نشانیاں دکھا دی ہیں شاید کہ تم عقل سے کام لو

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا انجام بتلانے کے بعد دین اسلام میں نئے داخل ہونے والے مسلمانوں سے خطاب۔ اسی سورت کی آیت 10 میں نبی کریم ﷺ کے دور میں ایمان لانے والوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنہوں نے مکہ فتح ہونے سے پہلے اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کیا وہ الفتح کے بعد ایمان لانے، قتال کرنے اور صدقہ کرنے والوں سے اعلیٰ ہیں۔ الفتح کا معنٰی آیت 10 کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ فتح مکہ کے بعد ایسے مسلمان بھی تھے جو اپنے ایمان لانے کے ابتدائی دور میں اس معیار تک نہیں پہنچے تھے جو قرآن مجید کا مطلوب ہے اس لیے ان ایمانداروں کو بالخصوص ارشادہوا کہ کیا ان ایمانداروں کے لیے وہ وقت نہیں آیا جب ان کے دل اللہ کی یاد سے لرز جائیں اور جو حق ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اس کے سامنے پوری طرح مطیع ہوجائیں۔ انہیں حکم ہوا کہ اے ایماندارو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے جب ان پر طویل مدت گزری تو ان کے دل اللہ اور اس کی کتاب کے بارے میں سخت ہوگئے اور ان کی اکثریت نافرمان تھی اور یادرکھو ! اللہ ہی وہ ذات ہے جو زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے ارشادات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔” اُوْتُوا الْکِتٰبَ “ سے مراد عیسائی اور یہودی ہیں۔ ایک مدت گزرنے کے بعد ان کی بد عملی اور بےحسی کا عالم یہ تھا اور ہے نہ انہیں اللہ کا خوف ہے اور نہ ہی تورات اور انجیل کی نصیحتیں ان پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ عیسائی اور یہودی اپنی کتابوں کے حوالے سے یہ جانتے ہیں کہ آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ہوں گے اور وہ عربی النسل ہونے کے ساتھ مکہ معظمہ میں معبوث کیے جائیں گے اور لوگوں کو وہی دعوت دیں گے جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے یہ حقیقت جاننے کے باوجود عیسائیوں اور یہودیوں کی غالب اکثریت اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ حق کے ساتھ تعصب اور دنیاوی مفادات مقدم رکھتے ہیں۔ ایمانداروں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو ایک مدت گزرنے کے بعد اپنے رب سے غافل ہوئے اور تورات اور انجیل کو فراموش کربیٹھے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے حالات سے آگاہ ہونے کے باوجود آج مسلمانوں کی غالب اکثریت کا وہی حال ہے جو عیسائیوں اور یہودیوں کا حال دکھائی دیتا ہے۔ عیسائی اور یہودی بھی دنیا کی خاطر شقی القلب ہوئے اور مسلمان بھی دنیا کے مفاد کے لیے اللہ اور اس کے رسول سے بےاعتنائی کا شکار ہورہے ہیں۔ اے مسلمانو ! یادرکھو ! کہ اللہ ہی مردہ زمین کو زندہ کرنے والا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے زمین کے حوالے سے اپنی قدرت کی عظیم نشانی کا ذکر کرتے ہوئے دو خوشخبریوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 1 ۔ جس طرح ویران اور سنسان زمین بارش کے بعد تروتازہ اور زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اس کی کتاب کی پیروی سے مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں۔ جس طرح بارش کے بعد زمین سے نباتات اگتی ہیں اور اس سے زمین پر ہریالی چھا جاتی ہے اسی طرح اللہ کی آیات اور قرآن مجید کی تلاوت سے ایمان زندہ ہوتا ہے اور مسلمان کے نیک اعمال میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی طبیعت پر نیکیوں کی ایک بہار آتی ہے۔ 2 ۔ جس طرح بارش کے بعد مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ضعف کو قوت میں تبدیل کرے گا جس سے دنیا میں امن و سکون پیدا ہوگا اور نیکی کی فضا قائم ہوگی۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) ) (رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو گناہ کی سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ ” ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ “ ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ بالکل اس طرح مل جائے گی جس طرح جو تا ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ضرور ہوگا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گئے۔ صحابہ نے استفسار کیا اے رسول ﷺ ! وہ کون سا گروہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کرام ؓ کے طریقے پر عمل کرنے والا ہوگا۔ “ (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ، قال البانی ھذا حدیث حسن صحیح) مسائل 1۔ ایمانداروں کو اللہ کے ذکر اور کتاب اللہ کی پیروی کرنی چاہیے 2۔ مسلمانوں کو یہود ونصارٰی کا انداز اور کردار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ کی یاد اور قرآن مجید کی تلاوت سے غفلت کرنے پر انسان کا دل سخت ہوجاتا ہے۔ 4۔ یہود ونصارٰی کی غالب اکثریت نافرمان لوگوں پر مشتمل ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اس لیے اپنے ارشاد ات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ عقل سے کام لیں۔ تفسیر بالقرآن دل کی سختی اور برے شخص کا انجام : 1۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے دل سخت ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 74) 2۔ عہد شکنی کی وجہ سے دل سخت ہوتا ہے۔ (المائدۃ : 13) 3۔ اللہ کی یاد سے غافل ہونے والوں کے لیے جہنم ہے۔ ( الزمر : 22)
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقہ کرنے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا ہے ان کو یقیناً کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے

فہم القرآن ربط کلام : عقل مندی کا تقاضا ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے۔ سورۃ الحدید کی آیت 7 سے لے کر 18 تک سات مرتبہ انفاق اور قرض کے نام پر صدقہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں وہ مرد ہوں یا عورتیں جو بھی ایمان اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتے ہیں انہیں دوگنا واپس کرنے کے ساتھ اجر کریم سے نوازا جائے گا۔ قرض حسنہ سے مرادایسا قرض ہے جس میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے۔ 1 ۔ صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ 2 ۔ رزق حلال سے صدقہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے کیے ہوئے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔ 3 ۔ صدقہ کرنے والا کا اللہ اور اس کے رسول پر خالص ایمان ہونا چاہیے۔ 4 ۔ جسے صدقہ دیا جائے نہ اس پر احسان جتلایا جائے اور نہ اسے تکلیف دی جائے۔ (عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَاِنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَبِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (یَا اَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صالِحًا) (پ 18۔ رکوع 3) وَقَالَ یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ۔۔ ) (رواہ مسلم : باب کسب الحلال والطیب وتربیتہا) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ پاک ہے اور پاک کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان باتوں کا حکم دیا ہے جن باتوں کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” میرے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل صالح کرو۔ “ اے ایمان والو ! جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ “ (مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 261) ” جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھاکر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) (رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا عورتیں ” اللہ “ انہیں دوگنا عنایت کرے گا۔ 2۔ صدقہ کرنے والا ” اللہ “ کو قرض دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اجر کریم سے ہمکنار فرمائے گا۔ 3۔ قرض حسنہ وہ ہے جس میں احسان جتلانا اور تکلیف دینا شامل نہ ہو۔ تفسیر بالقرآن صدقہ کرنے والوں کا مقام اور انجام : 1۔ مسلمان کو اس کے دئیے ہوئے صدقہ پر سات سو گنا ثواب دیا جائے گا۔ ( البقرۃ : 261) 2۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17) 3۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88) 4۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ( التوبہ : 99) 5۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39) 6۔ مومنین اللہ کے راستے میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ (الرعد : 22) 7۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : 134)
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے ہاں سچے اور گواہی دینے والے ہیں، ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتے ہیں ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ سے اجرِکریم پانے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی طور پر ایمان لائیں جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل کے ساتھ ایمان لاتے ہیں وہ اپنے رب کے ہاں سچے اور سچ کی گواہی دینے والے شمار ہوں گے۔ ان کو اجرِکریم ملنے کے ساتھ ایک روشنی نصیب ہوگی اور جو لوگ کفر کریں اور اپنے رب کے ارشادات کی تکذیب کریں گے وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرمان میں ایمان لانے والوں کو صدیق اور شہید کا لقب عطا کرنے کے ساتھ اجر اور نور کی خوشخبری عطا فرمائی ہے۔ صدیق کا معنٰی : صدیق سے مراد ایسا شخص جو ہر حال میں سچ بولنے والا، سچ پر قائم رہنے والا اور سچ کے لیے ہر چیز قربان کردینے والا ہو، امت میں اس مقام پر سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ فائز ہوئے باقی لوگ درجہ بدرجہ اس مقام کے حامل ہوں گے۔ شہید کا معنٰی اور مقام : شہید ایسی شخصیت کو کہتے ہیں جو دل کی سچائی کے ساتھ اسلام میں داخل ہو اور دین کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ اور تیار رہے۔ میدان کارزار میں کٹ مرنے والے کو بھی شہید کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے خون جگر سے حق کی گواہی دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے شہادت کے کئی درجے ذکر فرمائے اور کئی قسم کے لوگوں کو شہداء میں شامل فرمایا ہے۔ امام رازی نے سورة آل عمران آیت 18 سے استدلال کیا ہے کہ عدل و انصاف کی گواہی دینے والے بھی شہداء میں شمار ہوں گے۔ ” حضرت سعید بن زید ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفا ظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔ “ (رواہ الترمذی : بَاب مَا جَاء فیمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ، حدیث صحیح) (أَوَّلُ مَا یُہْرَاقُ مِنْ دَمٍ اَلشَّہِیْدُ یُغْفَرُ لَہٗ ذَنْبُہٗ کُلُّہٗ إِلَّا الدّیْنَ ) (صحیح الجامع : باب اول مایقضیٰ بین الناس یوم القیامۃ فی الدماء) ” شہید کے خون کے پہلے قطرہ سے قرض کے سوا سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ اِنَّ الصَّدَ قَۃَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّ بِّ وَ تَدْفَعُ مِےْتَۃَ السَّوْءِ ) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّدَقَۃِ ، قال ابو عیسیٰ حدیث حسن غریب) ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچا تا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو دنیا اور آخرت میں اپنی طرف سے اجر دینے کی ضمانت دیتا ہے۔ صدقہ کرنے سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی مشکلات سے نجات ملتی ہے۔ آخرت میں اسے اجرِعظیم کے ساتھ ایک نور عطا کیا جائے گا جس کی روشنی میں چل کر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَانَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ وَّمَازَاد اللّٰہُ عَبْدًابِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَّمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب) ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور کسی بھائی کو معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو مزید عزت بخشتا ہے۔ جو ” اللہ “ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سر بلندفرماتا ہے۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کیے وہ ” اللہ “ کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ 2۔ صدیقین اور شہداء کے لیے بہترین اجر ہوگا۔ 3۔ صدیقین اور شہداء کے لیے محشر کے میدان میں ہر جانب روشنی ہوگی۔ 4۔ ” اللہ “ کی آیات کا انکار اور ان کی تکذیب کرنے والے جہنم میں داخل ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن صدیقین اور شہداء کا انجام اور مقام : 1۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ (النساء : 69) (الحشر : 8) (الاحزاب : 24) (المائدۃ : 119) (الحجرات : 15) (البقرۃ : 154) (آل عمران : 169) (آل عمران : 170)
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان لو کہ دنیا کی زندگی ایک کھیل، تماشا، زینت، فخر کا باعث اور تمہارا آپس میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر کثرت جتلانے کی کوشش کرنا ہے، اس کی مثال بارش سے پیدا ہونے والی نباتات جیسی ہے جسے دیکھ کر کاشت کار خوش ہوتے ہیں پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو کر بھس بن جاتی ہے اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب، اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی بھی ہے، دنیا کی زندگی دھوکے کے سوا کچھ نہیں

فہم القرآن ربط کلام : لوگ جس دنیا کی خاطر اپنے رب کے ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرتے ہیں اس دنیا کی حیثیت اور حقیقت۔ اے لوگو ! یہ حقیقت اچھی طرح جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، زیب وزینت، فخر و غرور، مال اور اولاد میں تقابل اور تفاخر کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا کی مثال بارش کی طرح ہے جب بارش ہوتی ہے تو اس سے فصلیں اگتی اور لہلہا اٹھتی ہیں جس سے زمیندار خوش ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کھیتی پروان چڑھتی ہے، رنگ پکڑتی ہے پھر اس کا رنگ زرد ہوجاتا ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے یہی مثال دنیا دار شخص کی ہے کہ وہ زندگی بھر کماتا رہتا ہے لیکن موت کے وقت اس کے پاس حسرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بڑی حسرتوں کے ساتھ خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور جونہی اس کی آنکھ بند ہوتی ہے وہ آخرت کے شدید عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جس نے دنیا اور اس کی لذّات پر فریفتہ ہونے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی بسر کی اس کے لیے اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا مندی ہے۔ لوگو ! غور کرو کہ دنیا کی زندگی کے مال و اسباب دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اس آیت مبارکہ میں دنیا اور اس کے اسباب کے بارے میں چار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ 1۔ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا ہے : کھیل، تماشے کی اچھی اور بری کئی اقسام ہیں کھیل اور تماشا آپس میں مترادف الفاظ ہیں جو ہر زبان میں اسی طرح استعمال ہوتے ہیں کھیل اور تماشے کے الفاظ ایسے کام پر بولے جاتے ہیں جو وقت گزارنے اور دل بہلانے کے لیے ہوتا ہے ان میں بہتر سے بہتر جو کھیل تماشا ہوتا ہے اس کے بھی دائمی اور مستقل نتائج نہیں ہوتے، ہر زبان میں کھیل اور تماشے کے الفاظ کسی بامقصد اور مستقل کام کے لیے استعمال نہیں ہوتے ان الفاظ کو عارضی اور محض وقت گزارنے والے کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کھیل، تماشا بظاہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو پوری زندگی کھیل میں نہیں گزاری جاسکتی ہے، یہی دنیا اور اس کے اسباب کی حقیقت ہے کہ اگر انسان کی زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں نہ ہو تو پوری کی پوری زندگی بےمقصد ہوجاتی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہٖ ) (رواہ الترمذی : کتاب الزہد) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول یعنی بےفائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔ “ 2۔ دنیا کا مال اور اسباب زیب وزینت کا باعث ہیں : اللہ تعالیٰ نے انسان کو طبعی طور پر جمالیاتی حس عطا فرمائی ہے جس بنا پر اپنے چہرے اور وجود کو سنوارنا، بہتر سے بہترین لباس زیب تن کرنا، اچھی سے اچھی سواری رکھنا اور رہائش اور بودوباش کے اعتبار سے خوبصورت سے خوبصورت ہونے کی خواہش رکھنا اور کوشش کرنا اس کی فطرت میں سمودیا گیا ہے۔ بیشک شریعت کے دائرہ میں رہ کر زیب وزینت اختیار کرنا جائز ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک موقع پر ایک پراگندہ بال اور گندے لباس والے شخص کو دیکھا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ مرد ہو یا عورت وہ دنیا کی زیب وزینت پر ہی فریفتہ ہو کر رہ جائے اور شریعت کی حدود اور اخلاقی قیود کو پامال کرتا چلا جائے ایسا شخص قیامت کے دن شدید عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ ) (رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکِبْرِ وَبَیَانِہِ ) ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ بیشک ہر شخص پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب صورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق بات کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ 3۔ دنیا کا مال واسباب تفاخر کا باعث ہیں : شریعت نے دنیا کی ترقی میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے سے منع نہیں کیا البتہ اس بات کو ہرگز پسند نہیں کیا کہ مالدار، غریب پر، حاکم محکوم پر، طاقت ور کمزور پر، اکثریت رکھنے والا اقلیت پر فخرو غرور کا مظاہرہ کرے۔ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کوئی نعمت عطافر مائے تو وہ دوسروں پر فخر کرنے کی بجائے تواضع اور انکساری اختیار کرے۔ فخر و غرور کرنے سے انسان دو سروں کی نگاہوں میں حقیر بنتا ہے اور تواضع اختیار کرنے سے آدمی کا احترام بڑھتا ہے۔ 4۔ تکاثر : تکاثر کا معنٰی ہے مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا۔ دین اسلام نے اخلاقی قیود کے اندر رہ کر مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے نہیں روکا۔ قرآن مجید نے اس تکاثر کی نفی کی ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر انسان مال، افرادی قوت، اقتدار، اختیار اور دیگر اسباب میں آگے بڑھنے کی کوشش کرے یہ تکاثر انسان کو دنیا میں اخلاقی طور پر اور آخرت میں انجام کے حوالے سے تباہ کردیتا ہے جس کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں مذمت کی ہے۔ (اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ ) (التکاثر : 1) ” تمہیں مال کی ہوس نے ہلاکت میں ڈال رکھا ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَوْ أَنَّ لِإِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مِّنْ ذَھَبٍ أَحَبَّ أَنْ یَکُوْنَ لَہٗ وَادِیَانِ وَلَنْ یَمْلَأَ فَاہُ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب مایتقی من فتنۃ المال) ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اللہ جس پر چاہتا ہے کرم فرماتا ہے۔ “ دنیا کے مال و اسباب کو اس کھیتی اور نباتات کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو بارش کے بعد زمین سے نکلتی اور لہلہاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ جسے دیکھ کر زمیندار خوش ہوتا ہے لیکن کچھ مدت کے بعد ہری بھری کھیتی زردی کا لباس پہن لیتی ہے اور بالآخر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ موسم خزاں میں باغ خالی ٹہنیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ گندم کی فصل پر غور فرمائیں کہ پکنے کے وقت جڑ سے لے کر سٹے تک زرد ہوجاتی ہے۔ صحرا کے رہنے والے اس مثال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ویرانی کے وقت زمین پر نظر نہیں ٹکتی۔ مگر بارش کے بعد وہ زمین یوں دکھائی دیتی ہے جیسے اس نے سبز چادر اوڑھ لی ہو۔ لیکن تھوڑے دنوں کے بعد اس پر اگنے والی جڑی بوٹیاں اور گھاس خود بخود گل سڑ جاتے ہیں، یہی حال اس شخص کا ہوگا جس نے دنیا کی عیش و عشرت سے فائدہ اٹھایا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کی۔ موت کے بعد اس کا کمایا ہوا مال اس کے لیے بےکار ثابت ہوگا اور آخرت میں اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ نَامَ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَلَی حَصِیرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِہِ فَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَکَ وِطَاءً فَقَالَ مَا لِی وَمَا للدُّنْیَا مَا أَنَا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی أَخْذِ الْمَال، قال الشیخ البانی صحیح) ” حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ! ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ تعلق ایک مسافر جیسا ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا، زیب وزینت، فخر و غرور اور مال و اولاد میں تفاخر کے سوا کچھ نہیں۔ 2۔ دنیا کی زندگی ایسی نباتات کی طرح ہے جو بارش کے بعد اگتی ہے لیکن ایک وقت کے بعد ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ 3۔ دنیا کے مال واسباب پر فخر کرنے والے شدید عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ 4۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے جس نے اپنے آپ کو اس دھوکے سے بچا لیا اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرے گا اور اس پر راضی ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت کا تقابل : 1۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : 32) 2۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : 26) 3۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن : 39) 4۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : 46) 5۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا بہت کمتر ہے۔ (التوبہ : 38) 6۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص : 60) 7۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (آل عمران : 185) 8۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : 20) 9۔ مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔ (التغابن : 15)
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

اپنے رب کی مغفرت اور اس 3 کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کے مال پر فخر کرنے اور اس کی طلب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی بجائے اپنے رب کی بخشش اور جنت میں آگے بڑھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ بات سورة آل عمران کی آیت 133 میں بیان ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس قوم اور معاشرے میں نیکی اور اپنے مقصد کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے بالآخر وہ قوم مردگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی جنت کا حصول ہے اس لیے قرآن مجید نے ایک سے زائد مقامات پر ترغیب دی ہے کہ اس کے لیے آگے بڑھو اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔ اس فرمان کی روشنی میں صحابہ کرام ؓ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کے لیے حضرت عمر فاروق ؓ یہ سوچ کر مسجد نبوی سے اٹھے کہ اس مرتبہ ابوبکر صدیق ؓ سے صدقہ کرنے میں آگے بڑھ جاؤں گا۔ جب عمر فاروق اور ابوبکر صدیق ؓ اپنا اپنا حصہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے عمرفاروق ؓ سے پوچھا کہ کتنا مال جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کررہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کل مال کا آدھا حصہ پیش کررہا ہوں۔ ابوبکر صدیق ؓ سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ پورے کا پورا مال آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں ابوبکر صدیق ؓ سے سبقت نہیں لے جاسکتا۔ (رواہ الترمذی : باب مناقب ابی بکر وعمر ؓ ، قال البانی حسن) (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِيْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَأُوْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑے پر سوار شخص اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( اور سائے ہیں لمبے لمبے) ۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ .....) ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے پاس وہی جائے گا۔ کوئی اور انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ “ قرآن مجید کا مقصد جنت کا طول و عرض بتانا نہیں بلکہ اس کی وسعت و کشادگی کا تصور دینا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَہِّرِینَ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَاءَ ) (رواہ الترمذی : باب فیما یقال بعد الوضوء، قال الالبانی ھذاحدیث صحیح) ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں میں اور پاک صاف رہنے والوں میں شامل فرما۔ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہاں سے چاہے داخل ہوجائے۔ “ مسائل 1۔ لوگو ! اپنے رب کی بخشش اور جنت کے لیے آگے بڑھو ! 2۔ جنت کی چوڑائی زمین و آسمانوں سے کشادہ ہے۔ 3۔ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔ 4۔ جنت کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے فضل فرماتا ہے وہ بڑے فضل والا ہے۔ تفسیر بالقرآن جنت اور بخشش کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے : 1۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کی کوشش کرو۔ (الحدید : 21) 2۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ : 148) 3۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر : 32) (الواقعہ : 10، 11)
Ayahs 57:22–23

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین پر یا تم پر آتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں نہ لکھ رکھا ہو، ایسا کرنا ” اللہ “ کے لیے بہت آسان ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ جو نقصان تمہیں پہنچے اس پر تم دل برداشتہ نہ ہو اور جو تمہیں اللہ عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ، اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جنت کا حصول مشکلات کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں اس لیے مشکلات کی حقیقت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیقت حال بتانے اور اسے تسلی دینے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ تم پر اور زمین پر کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر ” اللہ “ ہی اسے بھیجنے والا ہے۔ جسے اس نے اپنے ہاں لوح محفوظ پر ثبت کر رکھا ہے۔ مصیبت نازل کرنا اور اسے ٹالنا صرف اور صرف ” اللہ “ کے اختیار میں ہے اور اس نے انسان کی تخلیق سے پہلے اس کے مقدر میں لکھ رکھا ہے۔ مصیبت نازل کرنا اور اس کو ٹالنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں اس کے لیے کسی کام کو مشکل خیال کرنا ہی بہت بڑا کفر ہے۔ کسی کو مصیبت میں مبتلا کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ جو تم سے کھو جائے اس پر حد سے زیادہ غم نہ کرو اور جو تمہیں عطا کیا جائے اس پر فخر و غرور نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فخرو غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفَِ والْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) (البقرۃ : 155، 156) ” اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے دشمن کے ڈر، بھوک، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے، ان صبر کرنے والوں کو خوش خبری دیجئے۔ انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یقیناً ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور بلاسبہ ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ “ (وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ مُّسْلِمٍ تُصِےْبُہُ مُصِےْبَۃٌ فَےَقُوْلُ مَا اَمَرَہُ اللّٰہُ بِہٖ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَےْہِ رَاجِعُوْنَ ” اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِےْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَےْرًا مِّنْھَا “ اِلَّا اَخْلِفَ اللّٰہُ لَہُ خَےْرًا مِّنْھَا فَلَمَّا مَاتَ اَبُوْ سَلَمَۃَ قُلْتُ اَیُّ الْمُسْلِمِےْنَ خَےْرٌ مِّنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ اَوَّلُ بَےْتٍ ھَاجَرَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ اِنِّیْ قُلْتُھَا فَاَخْلَفَ اللّٰہُ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ (رواہ مسلم : باب ما یقال عند المصیبۃ) حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو وہ وہی کلمے کہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ” بلاشبہ ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں آخراسی کی طرف جانے والے ہیں، بارِالہا ! میری اس مصیبت میں مجھے اجر سے نواز اور مجھے نعم البدل عطا فرما اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر بدلہ عطا کرے گا۔ آپ ؓ فرماتی ہیں جب میرے خاوند ابوسلمہ ؓ فوت ہوگئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے اچھا خاوند مسلمانوں میں کون ہوگا ؟ یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اس سوچ کے باوجود میں یہ دعا پڑھتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بدلے رسول کریم ﷺ عطا فرما دئیے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے اِ ذن کے بغیر کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بات لوح محفوظ پر لکھ رکھی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ہر کام آسان ہے۔ 4۔ مصیبت آنے پر واویلا اور بےصبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ 5۔ نعمت ملنے پر فخروغرور نہیں کرنا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ فخروغرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ فخر و غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا : 1۔ اللہ تکبر کرنے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان : 18) 2۔ جو ” اللہ “ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس پر اتراؤ نہیں کیونکہ اللہ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23) 3۔ یقیناً اللہ تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 36) 4۔ زمین میں اکڑ کر نہ چل ! نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندیوں کو پہنچ سکتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 37) 5۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو دنیا میں تکبر و فساد نہیں کرتے۔ (القصص : 83)
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے کے لیے کہتے ہیں اور جو روگردانی کرتا ہے۔ اللہ بےنیاز اور لائق تعریف ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ کوئی چیز کھو بیٹھنے پر حد سے زیادہ افسوس کرتے ہیں اور جب انہیں کچھ میسر آتا ہے تو اس پر اتراتے ہیں ایسے لوگوں کی اکثریت بخل میں مبتلا ہوا کرتی ہے۔ اس لیے یہاں بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ مال کے چھن جانے پر حد سے زیادہ دل گرفتہ ہونا اور اس کے حاصل ہونے پر اپنے آپ سے باہر ہوجانا اخلاقی کمزوریاں ہیں، ان کمزوریوں میں ایک کمزوری بخل ہے جس کا پہلا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے دل میں استغنٰی اور اللہ پر توکل ختم ہوجائے تو آدمی نہ صرف خود بخل کا شکار ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اچھے کاموں پر خرچ کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا۔ یہاں تک اس کا بس چلتا ہے وہ عزیز و اقارب اور اپنے احباب کو صدقہ کرنے سے روکتا ہے کیونکہ وہ اسے مال ضائع کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ نبی ﷺ کے دور میں منافقوں کی یہی حالت تھی۔ منافق نہ صرف خود صدقہ نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے گردوپیش کے لوگوں کو صدقہ کرنے سے روکتے تھے۔ اس کے کچھ منفی اثرات نئے مسلمانوں پر پڑ رہے تھے جس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو صدقہ کرنے سے روکتے ہیں یا ان کے لیے بخل کا ماحول پیدا کرتے ہیں انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو استطاعت رکھنے کے باوجود خرچ نہیں کرتے ان کا انجام برا ہوگا۔ (وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْرًا لَّہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ لِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (آل عمران : 180) ” جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اپنے لیے بخل کو بہتر نہ سمجھیں بلکہ بخل کرنا ان کے لیے برا ہے عنقریب قیامت کے دن بخل والی چیز ان کے گلے میں ڈال دی جائے گی۔ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی ملکیت ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلَ الْبَخِیْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَیْدِیْھِمَا إِلٰی ثَدِیِّھِمَا وَتَرَاقِیْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ حَتّٰی تَغْشٰی أَنَامِلَہٗ وََتَعْفُوَ أَثَرَہٗ وَجَعَلَ الْبَخِِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ؓ فَأَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ بِإِصْبَعِہٖ ھٰکَذَا فِيْ جَیْبِہٖ فَلَوْ رَأَیْتَہٗ یُوَسِّعُھَا وَلَا تَتَوَسَّعُ ) (رواہ البخاری : کتاب اللباس، باب جیب القمیص من عند الصدر وغیرہ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے جو ہاتھ، سینے اور گلے تک لوہے کی قمیض پہنے ہوئے ہوں۔ صدقہ دینے والا صدقہ کرتا ہے تو اس کی قمیض کشادہ ہوجاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتی ہے اور اس کے قدموں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی قمیض اس سے چمٹ جاتی ہے یہاں تک ہر حلقہ اپنی جگہ پر کس جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ اپنی انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس کو کھولنا چاہے گا لیکن وہ نہیں کھلے گی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ غنی اور صاحب تعریف ہے۔ 2۔ کچھ لوگ خود بخیل ہونے کے ساتھ دوسروں کو بھی بخل پر آمادہ کرتے ہیں۔ 3۔ جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود اللہ کی راہ ہیں مال خرچ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ تفسیر بالقرآن بخل کی سزا : 1۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری دیجئے۔ (التوبہ : 34) 2۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (لہمزہ : 3) 3۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبہ : 35) 4۔ مالدار اپنے لیے بخل کو اچھا خیال کرتے ہیں حالانکہ بخل کرنا ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : 180)
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور لوہا اتارا جس میں قوت ہے سختی ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہے، یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ” اللہ “ کو معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ غنی ہے، وہی لوگوں کو سب کچھ عطا کرنے والا ہے یہ اس کی سب سے بڑی عطا ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ غزوہ تبوک تمام غزوات سے مشکل ترین غزوہ تھا۔ سفر کے مسائل اور دشمن کے ساتھ مقابلے کرنے مزید یہ کہ عرب کی گرمی اپنی انتہا پر تھی اور لوگوں کی فصلیں پکی ہوئی تھیں ان حالات میں نبی معظم ﷺ نے صحابہ کو تبوک کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ اس موقعہ پر منافقین نے اپنے رشتہ دار مخلص مسلمانوں کو ناصرف تبوک کی طرف جانے سے روکا بلکہ انہیں مال خرچ کرنے سے بھی منع کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا کہ یقیناً ہم نے رسولوں کو ٹھوس اور واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ایک میزان اتاری تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کریں اور ہم نے لوہا بھی اتارا جو سخت ترین چیز ہے اس میں لوگوں کے لیے فائدے رکھ دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے البینات، الکتاب، المیزان اور لوہا اس لیے نازل کیا تاکہ وہ لوگوں کو آزمائے اور دیکھے کہ کون بن دیکھے اپنے رب پر ایمان لاتا ہے اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، لوگوں کو اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پوری قوت رکھنے والا اور ہر اعتبار سے اپنا حکم نافذ کرنے پر غالب ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اَلْبَیِّنَاتِ : اَلْبَیِّنَاتِ سے مراد معجزات ہیں جو اہم اور نازک ترین موقعہ پر انبیائے کرام (علیہ السلام) کو عطا کیے گئے تھے۔ معجزات سے ایک طرف نبی کو سکون اور ڈھارس حاصل ہوتی تھی اور دوسری طرف آپ کے مخالفین لاجواب ہوجایا کرتے تھے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وقت کے حکمران کو فرمایا کہ اگر تو واقعی ہی رب ہے تو سورج کو مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کر دے اس پر وہ حکمران حیران اور ششدر رہ گیا۔ (البقرۃ : 258) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں فرعون اور جادوگر ناکام ہوئے۔ حضرت مریم ( علیہ السلام) پر الزام لگا تو عیسیٰ ( علیہ السلام) کی گفتگو سے مخالفوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں۔ نبی آخر الزمان ﷺ نے ہر موقعہ پر دلائل اور معجزات کی بنیاد پر کفار اور یہود ونصارٰی کو لاجواب کردیا۔ اَلْکِتَابَ : اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر اس لیے کتابیں نازل فرمائیں تاکہ ان کی تعلیمات کی روشنی میں حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردیں اور لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم کی روشنی میں لاکھڑا کریں۔ اسی لیے قرآن مجید کو الفرقان کہا گیا ہے اس کے ذریعے دنیا میں شرک اور توحید، عدل اور ظلم کے درمیان امتیاز قائم ہوا۔ اَلْمِیْزَانَ : سورة الشوریٰ کی آیت 17 کی تفسیر کرتے ہوئے اَلْمِیْزَانَ کے بارے میں سورة الرحمن میں عرض ہوچکا ہے۔ اَلْمِیْزَانَکا لفظ قرآن مجید میں 9 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔ ” اَلْمِیْزَانُ “ کے بارے میں اہل علم کے چار قسم کے خیالات ہیں جو اپنی اپنی تشریح کے مطابق حق پر مبنی ہیں۔ 1” اَلْمِیْزَانُ “ درحقیقت الکتاب کے لفظ کی تشریح ہے۔ 2 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان فرق کرتا ہے۔ 3” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد عقل سلیم ہے جس کی روشنی میں آدمی حق اور ناحق کی پہچان کرتا ہے۔ 4 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد دنیا کی کسی چیز کی پیمائش یا وزن کرنے کا وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے لوگ اپنا لین دین کرتے ہیں۔ جن آیات میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ہے وہ درج ذیل ہیں۔ (الانعام : 152، الاعراف : 85، ھود : 84، 85، الشوریٰ : 17، الرحمن : 7، 8، 9، الحدید : 25) 1۔” اَلْمِیْزَانُ “ اللہ تعالیٰ نے اس لیے نازل فرمایا تاکہ لوگوں کے درمیان ہر قسم کا عدل قائم کیا جائے اور لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے بچ جائیں اور ان کے درمیان عدل و انصاف کا اجتماعی نظام قائم ہوپائے۔ اَلْحَدِیْدَ : الحدید کا ذکر کرتے ہوئے انزلنا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان ہوچکا ہے کہ انزل کے دو معانی ہیں۔ 1۔ انزل کا معنٰی پیدا کرنا۔ 2۔ انزل بمعنٰی اتارنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے الحدید کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ جنگ کے دوران قوت کا باعث ہے۔ لوگوں کے لیے اس میں اور بھی فائدے رکھ دیئے گئے ہیں۔ اَلْبَیَّنَاتِ ، اَلْکِتَابَ ، اَلْمِیْزَان اور اَلْحَدِیْدَ لوگوں کو اس لیے عطا کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ آزمائے اور دیکھے کہ کون اپنے رب کو دیکھے بغیر اس پر ایمان لاتا ہے اس کی اور رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ کی مدد کرنے سے مراد اس کے دین کی مدد کرنا ہے۔ اس کا فرمان ہے اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور کفار کے مقابلے میں تمہیں ثابت قدم فرمائے گا۔ کفار کے لیے ہلاکت اور ان کے اعمال کی بربادی ہے۔ (محمد : 7، 8) یہاں تک لوہے کی حیثیت اور اس کے فوائد کا تعلق ہے اس کے اَن گنت اور لاتعداد فوائد ہیں۔ تیر سے لے کر ایٹم بم اور سائیکل سے لے کر ہوائی جہاز لوہے کے بغیر تیار نہیں ہوسکتے۔ ارشاد ہوا کہ ” اللہ “ جاننا چاہتا ہے یعنی واضح کرنا چاہتا ہے کہ کون اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتا اور غیب پر ایمان لاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانے کا ذکر فرما کر اشارہ دیا ہے کہ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اسلحہ کے لحاظ سے جس فرد یا قوم کو دوسرے پر برتری حاصل ہو۔ وہ دوسرے کے ساتھ عدل کرتی ہے یا ظلم کر کرتی ہے لوہے کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو اشارۃً سمجھایا کہ اگر اللہ اور اس کے رسول اور اپنے دشمن پر برتری چاہتے ہو تو حالات کے مطابق لوہے کے استعمال کا طریقہ سیکھو۔ (عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ وَأَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ ) (رواہ مسلم : باب فضل الرمی) ” حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ منبر پر فرما رہے تھے کہ اپنے استطاعت کے مطابق جہاد کے لیے تیار رہو۔ جان لو ! کہ قوت تیراندازی میں ہے، خبردار ! تیر میں ہے۔ جان رکھو ! قوت تیراندازی میں ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ٹھوس دلائل، الکتاب، المیزان اور لوہا عطا فرمایا۔ 2۔ جنگ میں لوہے کی بڑی اہمیت ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے لوہے میں بیشمار فوائد رکھے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جاننا چاہتا ہے کہ کون غیب پر ایمان لاتے ہوئے اس کے دین اور رسول کی مدد کرتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بڑا طاقت ور اور ہر اعتبار سے غالب ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی کس طرح مدد فرمائی : 1۔ اللہ تعالیٰ نے غار ثور میں نبی ﷺ کی مدد فرمائی۔ (التوبہ : 40) 2۔ ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل) 3۔ غزوہ خندق میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کی مدد فرمائی۔ ( الاحزاب : 9) (آل عمران : 123) (القصص : 5) (التوبہ : 25) (آل عمران : 126) ( النصر : 1) (الروم : 5)
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، پھر ان کی اولاد میں کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے نافرمان ہوئے

فہم القرآن ر بط کلام : اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان کی بعثت کا مقصد لوگوں کے القسط قائم کرنا تھا۔ القسط سے پہلی مراد ” اللہ “ کی توحید کا اقرار اور اس کے تقاضے پورے کرنا، رسولوں میں نمایاں ترین رسول حضرت نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) آدم ثانی ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ابوالانبیاء کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد نبی آخر الزمان ﷺ سے پہلے جو رسول مبعوث کیے گئے ان میں ہمہ جہت صفات کے اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور تبلیغ کے دورانیہ کے حوالے سے حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے ممتاز ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے لیے مبعوث کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں ساڑھے نو سو سال سمجھاتے رہے، قوم نے سمجھنے کی بجائے نوح (علیہ السلام) کو بار بار یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پر ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (نوح : 24) یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے۔ یہ قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالیں گے۔ (الشعراء : 116) اس کے ساتھ ہی یہ کہنے لگے کہ اے نوح ! تیرے اور ہمارے درمیان جھگڑا طول پکڑ گیا ہے اس لیے جس عذاب کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اسے لے آؤ اگر تو وا قعی ہی سچا ہے۔ (ہود : 32) تب جا کر اللہ تعالیٰ نے ظالموں پر گرفت فرمائی اور انھیں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا۔ البتہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے بچا لیا اور ڈوبنے والوں کو آنے ولوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سب سے نمایاں ہیں خاندان نبوت میں انہیں ابوالانبیاء کا اعزاز اور مقام حاصل ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث کیے گئے ان کی غالب اکثریت ابراہیم کی نسل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے تھے جن میں اسماعیل بڑے اور اسحاق ( علیہ السلام) چھوٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے صرف اور صرف نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ بنی اسرائیل کے باقی انبیائے کرام ﷺ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے ابراہیم ابوالانبیاء کے شرف سے مشرف ہوئے۔ ان کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کا سلسلہ جاری فرمایا جن میں کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو آسمانی کتب سے سرفراز کیا گیا، باقی اپنے سے پہلے نبی کی تائید کرتے رہے ان انبیاء کی اولاد یعنی نسل میں کچھ لوگ ہدایت یافتہ تھے لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل تھی۔ نبی سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جو بنی اسرائیل کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ ان کے عظیم معجزات دیکھنے کے باوجود بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نافرمان رہی اور آج بھی ان کی غالب اکثریت اپنے رب کی نافرمان اور نبی آخر الزمان ﷺ کی ذات اور رسالت کے منکر ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کچھ شخصیات کو نبوت اور کتاب سے سرفراز فرمایا۔ 3۔ حضرت نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور نافرمان بھی۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں چند شخصیات کے اسماء گرام جن کو نبوت اور کتاب عطا کی گئی : 1۔ ہم نے ابراہیم کو اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ان کو نبوت عطا کی۔ (العنکبوت : 27) 2۔ حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے منتخب کردہ نبی ہیں۔ (ص : 45 تا 47) 3۔ ہم نے اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کو ہدایت سے نوازا۔ ( الانعام : 84) 4۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 5) 5۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط ( علیہ السلام) کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ (الانعام : 86) 6۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت یوسف کو نبی بنایا گیا۔ ( یوسف : 22) 7۔ حضرت داؤد کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ ( النمل : 16) 8۔ فرشتوں نے زکریا (علیہ السلام) سے کہا اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو نیکو کار اور پیغمبروں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : 39) 9۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ( الفتح : 29)