56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الواقعہ کا تعارف یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے تین رکوع اور چھیانوے (٩٦) آیات ہیں۔ قرآن مجید نے قیامت کے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہے اور ان مراحل کی جلالت وہیبت کا منظر پیش کرتے ہوئے انہیں مختلف نام دئیے ہیں۔ قیامت کا دن زمین و آسمان پر بھاری ہوگا اور یہ اسرافیل کے صور سے یک دم واقع ہوجائے گا۔ قیامت اپنی ہیبت اور شدت کے اعتبار سے انتہائی خوفناک ہوگی اس لیے اسے الواقعہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے انکار کرنے سے قیامت ٹل نہیں سکتی۔ اس نے ہر صورت برپا ہو کر رہنا ہے اس لیے اسے الواقعہ کہا گیا ہے یعنی جس کے واقعہ ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت کی منکر تھی اس لیے وہ مختلف قسم کی باتیں اور بہانے پیش کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت ہر چیز تہس نہس کر دے گی۔ کیا پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے ؟ قرآن مجید نے اس کا جواب دیا کہ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں استفسار کرتے ہیں انہیں بتلائیں کہ ہاں پہاڑوں کو اس طرح ریزہ ریزہ کردیا جائے گا کہ یہ مٹی کے ساتھ مٹی بن جائیں گے اور پوری زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ دیکھنے والا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا۔ (وَّکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ مَا اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ مَا اَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃ) (الواقعہ ٧ تا ٩) اور تم اس دن تین گروہوں میں تقسیم ہو گے۔ دائیں جانب والے ان کا کیا کہنا یہ نعمتوں والی جنت میں رہیں گے۔ اس میں ہر نبی کی امت کے آخری حصہ کے لوگ کم ہوں گے۔ دائیں جانب والے مرصّعتکیوں پر ٹیک لگا کر ایک دوسرے کے سامنے جلوہ فروز ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے نو عمر بچے ہوں گے جو ان کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے اس شراب میں کسی قسم کا نشہ نہیں ہوگا۔ انہیں ہر قسم کا پھل اور پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا اور چھپائے ہوئے موتیوں کی مانند حوریں پیش کی جائیں گی اور جنتیوں کو ہر طرف سے سلامتی کی صدائیں آئیں گی۔ مقربوں اور السّابقون کے بعد دوسرے درجے کے جنتیوں کو بھی السّابقون جیسی نعمتیں دی جائیں گی ان کے مقابلے میں بائیں جانب والے ہوں گے وہ جلتی ہوئی آگ، کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھویں سے دوچار ہوں گے، نہ ان کے لیے ٹھنڈا پانی ہوگا اور نہ ہی انہیں آرام میسر ہوگا۔ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہوگا کہ وہ قیامت کو جھٹلایا کرتے تھے انہیں کھانے کے لیے زقوم کا درخت دیا جائے گا۔ جس سے ان کی بھوک ختم نہیں ہوگی اور یہ کھولتا ہوا پانی پیاسے ہونٹ کی طرح پینے کی کوشش کریں گے۔ الواقعہ کے آخر میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں اپنی موت یاد کرنی چاہیے۔

Ayahs 56:1–6

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب قیامت آئے گی

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

اس کا آنا کوئی جھوٹ نہیں ہے

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ تہہ وبالا کردینے والی ہوگی

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب زمین پوری طرح ہلا دی جائے گی

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پہاڑ بکھرے ہوئے ذرات ہوجائیں گے

فہم القرآن ربط سورت : سورة الرّحمن کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ آپ کا رب بڑی برکت والا اور ذوالجلال والاکرام ہے۔ الواقعہ کی ابتدارب ذوالجلال کی جلالت کے اظہار سے ہورہی ہے کہ قیامت کے دن اس کی جلالت کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ بھی اس کے حکم کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے جوں ہی اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو اہل مکہ کی کوئی مجلس ایسی نہ تھی جس میں تین موضوعات میں سے کسی ایک موضوع پر بحث نہ ہوتی ہو۔ لوگ یہاں بیٹھتے اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے عنوانات میں سے کسی ایک عنوان پر ضرور گفتگو کرتے۔ اس میں بالخصوص نبی ﷺ کی نبوت اور قیامت کے قائم ہونے کو استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا۔ وہ کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ قیامت قائم ہوگی اور ہمیں رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے۔ قرآن مجید نے انہیں ہر قسم کے دلائل سے سمجھایا ہے کہ قیامت ضرورقائم ہوگی۔ لیکن وہ کہتے تھے کہ اس زمین کا وسیع و عریض نظام کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے اور بلندوبالا پہاڑوں کو کون ہلاسکتا ہے۔ قرآن مجید نے اس سوال کا یوں جواب دیا۔ (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لَّا تَرٰی فِیْہَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (طٰہٰ : 105، 107) ” یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ پہاڑکہاں چلے جائیں گے ؟ فرمادیں کہ میرا رب ان کو دھول بناکر اڑا دے گا اور زمین کو چٹیل میدان کر دے گا۔ اس میں تم کوئی اونچ نیچ نہ دیکھ پاؤ گے۔ “ سورۃ الواقعہ کی ابتدا پرجلال الفاظ سے فرمائی کہ جب قیامت کا واقعہ پیش آئے گا تو وہ اس قدرخوفناک اور ہر چیز ہلادینے والا ہوگا کہ کوئی جھٹلانے والا جھٹلا نہیں سکے گا۔ قیامت کو جھٹلانے والے اس دن زمین کو پکار پکار کہیں گے۔ ہائے ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ ٹھہرتی کیوں نہیں ؟ سورة الزلزال کی پہلی اور دوسری آیت میں فرمایا ہے کہ زمین کو پوری طرح ہلایا جائے گا۔ یہاں تک کہ پہاڑ ریت کے ذرّات بن کر اڑنا شروع ہوجائیں گے۔ یہاں زمین کے بارے میں فرمایا کہ ” خَافِضَۃُ رَافِعَۃٌ“ قیامت اسے اوپر نیچے کر دے گی جس سے ہر چیز تہہ بالا ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان بنادی جائے گی اور زمین و آسمانوں کو یکسر طور پر بدل دیا جائے گا۔ (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ) (ابراہیم : 48) ” جس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ ) (القارعۃ : 4، 5) ” اس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوں گے۔ “ مسائل 1۔ قیامت ہر صورت واقع ہوجائے گی۔ 2۔ قیامت واقع ہوگی تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا نہیں سکیں گے۔ 3۔ زمین کی ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی جائے گی۔ 4۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن زمین اور پہاڑوں کی حالت۔ 1۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : 47) 2۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : 14) 3۔ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند گہنا دیا جائے گا اور سورج چاند کو جمع کردیا جائے گا۔ (القیامہ : 6 تا 8) 4۔ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ تارے بےنور ہوجائیں گے۔ پہاڑچلائے جائیں گے۔ (التکویر : 1 تا 3)
Ayahs 56:7–14

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

تم لوگ اس دن تین گروہوں میں تقسیم ہو گے

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں بازو والے سو بائیں بازو والوں کی بدنصیبی کا کیا ٹھکانا

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہی آگے ہی ہوں گے

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہ مقرب ہوں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

پہلوں میں سے بہت ہوں گے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور پچھلوں میں سے کم ہوں

فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بعد محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔ اس سورت کی پہلی آیت سے لے کر چھٹی آیت تک اسرافیل کے پہلی مرتبہ صورپھونکنے کا منظر بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد جوں ہی دوسرا صورپھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں یوں اکٹھے ہوں جیسے تیر اپنے نشانے پر پہنچ جاتا ہے۔ (المعارج : 43) لوگوں کو حساب و کتاب کے فوراً بعد تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ جس کی ابتدا حساب و کتاب کے وقت ہی کردی جائے گی۔ آغاز میں مجموعی طور پر لوگ دواقسام پر مشتمل ہوں گے نیک اور بد۔ نیک لوگوں کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں تھمائے جائیں گے۔ دونوں کے اپنے اپنے اعمال ناموں کے بارے میں ابتدائی تاثرات یوں ہوں گے۔ (فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہِ فَیَقُوْلُ ہَاؤُمْ اقْرَءُ وا کِتَابِی اِِنِّی ظَنَنتُ اَنِّی مُلَاقٍ حِسَابِی۔ فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ) (الحاقۃ : 19 تا 21) ” سو جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا ” دیکھو، پڑھو میرا نامۂ اعمال۔ میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔ وہ خوش وخرم ہوگا۔ “ (وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یَالَیْتَنِی لَمْ اُوْتَ کِتَابِی۔ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِی یَالَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ مَا اَغْنٰی عَنِّی مَالِی ہَلَکَ عَنِّی سُلْطَانِی) (الحاقۃ : 25 تا 29) ” اور جس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا۔” کاش ! میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتا، اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش ! جو موت دنیا میں مجھے آئی تھی وہ آخری ہوتی آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا اثر ورسوخ ختم ہوگیا۔ “ حساب و کتاب کے بعد لوگوں کو مجموعی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ 1 ۔ دائیں جانب والے۔ دائیں جانب والوں کا کیا کہنا ہے ؟ 2 ۔ سبقت لے جانے والے تو سب سے آگے ہوں گے اور اپنے رب کے مقرب ترین ہوں گے۔ 3 ۔ بائیں ہاتھ والے سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں دائیں اور بائیں کی اصطلاح پائی جاتی ہے۔ دائیں ہاتھ کو بائیں پر نیکی اور فیزیکلی (PHSYCALLY) طور پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ دائیں بائیں کی اصطلاح درجہ بندی کے اعتبار سے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ عربوں میں بھی یہ اصطلاح معروف تھی جس وجہ سے جنتی کو دائیں ہاتھ والے اور جہنمی کو بائیں ہاتھ والے کہا گیا ہے۔ عرب آنے والے مہمانوں میں معزز ترین آدمی کو مجلس میں دائیں ہاتھ بٹھایا کرتے تھے۔ دین اسلام میں بھی دائیں اور بائیں میں فرق رکھا گیا ہے۔ کھانے پینے کے لیے دایاں ہاتھ استعمال کرنے کا حکم ہے اور استنجا کرنے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں دائیں ہاتھ والوں سے مراد جنتی لوگ ہیں جن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جو لوگ دنیا میں نیکی کے کاموں میں پیش پیش رہے وہ جنت میں جانے اور اس کا اعلیٰ مقام پانے کے لیے بھی دوسرے جنتیوں سے آگے ہوں گے اور وہی جنت الفردوس میں داخل کیے جائیں گے جو رب رحمن کے عرش کے قریب تر جنت ہوگی، انہیں جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا۔ سبقت لینے جانے والوں میں پہلے لوگ زیادہ ہوں گے اور پیچھے آنے والوں میں کم ہوں گے۔ مفسرین نے پہلے لوگوں کے بارے میں تین قسم کے خیالات کا اظہار فرمایا ہے جن میں بہترین خیال یہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں نیکی کے معاملات میں دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے وہ جنت میں سابقین اور مقربین میں ہوں۔ ان میں وہ لوگ زیادہ ہوں گے جنہیں اپنے دور کے نبی کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہوا اور وہ اپنے ساتھیوں سے نیک کاموں میں آگے بڑھنے والے تھے۔ اسی بنا پر نبی محترم ﷺ نے صحابہ اور امت میں درجہ بندی فرمائی ہے۔ یہاں مقربین کے بعد جنت نعیم کا ذکر کیا ہے تاکہ لوگ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ صحابہ کرام ؓ میں پہلا درجہ خلفائے راشدین کا ہے پھر عشرہ مبشرہ اور پھر بدری صحابہ کا اور اس کے بعد فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے صحابہ ہیں۔ امت کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے : (عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ؓ قَال قال النَّبِیُّ ﷺ عَشْرَۃٌ فِی الْجَنَّۃ أَبُو بَکْرٍ فِی الْجَنَّۃِوَعُمَرُ فِی الْجَنَّۃِ وَعُثْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ وَعَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ وَالزُّبَیْرُ فِی الْجَنَّۃِ وَطَلْحَۃُ فِی الْجَنَّۃِ وَابْنُ عَوْفٍ فِی الْجَنَّۃِ وَسَعْدٌ فِی الْجَنَّۃِ وَسَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ فِی الْجَنَّۃِوَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِی الْجَنَّۃِ ) (صحیح ابن حبان، باب ذِکْرُ إِثْبَاتِ الْجَنَّۃِ لِأَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ) ” حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دس لوگ جنت میں جائیں گے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمان بن عوف، حضرت سعد، حضرت سعید بن زید اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ ان کے لیے دنیا میں جنت کی بشارت ہے۔ “ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَجِئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ اَحَدِھِمْ یَمِیْنَہٗ وَیَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ ) (رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ) ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ سول محترم ﷺ نے فرمایا میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جن کی گواہی ان کی قسم سے اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ فَجَعَلَ یَمُرُّ النَّبِیُّ وَمَعَہٗ الرَّجُلُ وَالنَّبِیُّ وَمَعَہٗ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِیُّ وَمَعَہٗ الرَّھْطُ وَالنَّبِیُّ وَلَیْسَ مَعَہٗ اَحَدٌ فَرَأَیْتُ سَوَادًا کَثِیْرًا سَدَّ الْاُفُقِ فَرَجَوْتُ اَن یَّکُوْنَ اُمَّتِیْ فَقِیْلَ ھٰذٰا مُوْسٰی فِیْ قَوْمِہٖ ثُمَّ قِیْلَ لِیَ أنْظُرْ فَرَأَیْتُ سَوَادًا کَثِیْرًا سَدَّ الْاُفُقِ فَقِیْلَ لِیَ انْظُرْ ھٰکَذَاوَھٰکَذَا فَرَأَیْتُ سَوَادًا کَثِیْرًا سَدَّ الْاُفُقُ فَقَالَ ھٰؤُلٰآءِ اُمَّتُکَ وَمَعَ ھٰؤُلَاءِ سَبْعُوْنَ اَلْفًا قُدَّامَھُمْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَکْتَوُوْنَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) (رواہ البخاری : باب من لم یرق) ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی محترم ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : مجھ پر امتیں پیش کی گئیں۔ ایک پیغمبر گزرا، اس کے ساتھ اس کا ایک پیروکار تھا۔ کسی کے ساتھ دو آدمی تھے۔ کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی۔ اور بعض ایسے پیغمبر بھی ہوئے، جن کا کوئی پیروکار نہیں تھا۔ میں نے اپنے سامنے ایک بہت بڑا اجتماع دیکھا، جو آسمان کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا، شاید میری امت ہے لیکن بتایا گیا کہ یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی امت ہے۔ پھر مجھے کہا گیا، آپ پھر دیکھیں میں نے بہت بڑا اجتماع دیکھا۔ جس نے آسمان کے کناروں کو بھرا ہوا ہے۔ مجھ سے دائیں اور بائیں جانب بھی دیکھنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے ہر طرف دیکھا بہت سے لوگ آسمان کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں مجھے کہا گیا یہ سب آپ کے امتی ہیں۔ ان کے ساتھ ستر ہزار وہ بھی ہیں۔ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ وہ ایسے لوگ ہیں، جو نہ بدفالی اور نہ دم کراتے ہیں اور نہ گرم لوہے سے داغتے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ “ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس معاشرے میں نیکی اور اہم مقصد کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے وہ معاشرہ بالآخر مردگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی جنت کا حصول ہے اس لیے قرآن مجید نے مختلف مقامات پر ترغیب دی ہے کہ اس کے لیے آگے بڑھو اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔ (سَابِقُوْا اِِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) (الحدید : 21) ” اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “ (وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ جَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ) (آل عمران : 133) ” اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن لوگوں کی تین اقسام ہوں گی۔ 2۔ دائیں ہاتھ والے ان کا کیا کہنا ؟ 3۔ بائیں ہاتھ والے سخت مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔ 4۔ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے مقربین میں شامل ہوں گے۔ 5۔ ہر امت کے پہلے طبقہ کے لوگ تعداد کے لحاظ سے مقربین میں زیادہ ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن نیکی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا حکم : 1۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرو۔ (الحدید : 21) 2۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ : 148) 3۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے ارفع ہوں گے۔ (فا طر : 32) 4۔ سبقت کرنے والے اللہ کے مقرب ہوں گے۔ (الواقعہ : 10، 11) 5۔ اللہ کی جنت اور بخشش کے لیے سبقت کرو۔ ( آل عمران : 133)
Ayahs 56:15–26

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

جنتی جو ہر ات سے بنے ہوئے تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

ان کی مہمان نوازی ہمیشہ رہنے والے نو عمر لڑکے کریں گئے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

جو شراب کے جاری چشمے سے بھرے ہوئے پیالے اور صراحیاں لیے دوڑتے پھرتے ہوں گے

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

جسے پی کر جنتیوں کا نہ سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور ان کے سامنے ان کے پسندیدہ پھل پیش ہوں گے کہ جسے چاہیں چن لیں

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں گوشت کھائیں گے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور ان کے لیے خوبصورت موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

ایسی جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہوتے ہیں

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ سب کچھ انہیں ان کے اعمال کی جزا کے طور پر ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہ وہاں کوئی بیہودہ بات یا گناہ کی بات نہیں سنیں گے

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

وہ سلام دعا ہی سنیں گے

فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن کے چہرے اور وجود اس طرح روشن ہوں گے جس طرح چمکدار موتی ہوتے ہیں۔ یہ جنتی کے اعمال کی جزا ہوگی۔ سورۃ الرحمن کی آیت باسٹھ میں ہر جنتی کے لیے دو جنتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ ایک جنت میں جنتی کے اہل و عیال رہیں گے اور دوسری جنت میں جنتی اپنے دوست و احباب کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر خوش گپیاں کیا کریں گے۔ سورۃ الرحمن میں دونوں جنتوں کی نعمتوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے اور حوروں کو یاقوت اور مرجان کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوسکتا ہے۔ (الرحمن : 60) جنتی میں جنت کسی قسم کی بےہودہ بات اور گالی گلوچ نہیں سنیں گے۔ ان کا آپس میں کلام سلام دعا ہوگا۔ دنیا میں کئی مرتبہ نیک آدمی کو ایسے ماحول سے واسطہ پڑتا ہے کہ جہاں لغویات کا ماحول ہوتا ہے، صالح اور پاکیزہ طبیعت کے مومن کے لیے یہ ماحول بڑا ہی اذّیت ناک ہوتا ہے مگر کسی مجبوری کی وجہ سے اسے یہ ماحول برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جنت کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہوگی کہ وہاں اس قسم کی بےہودگی کا تصور نہیں پایا جائے گا۔ جنتی جہاں رہیں اور جہاں جائیں گے ہر جگہ ان کے لیے سلامتی ہی سلامتی ہوگی ان کے گھروں اور دوست و احباب کا ماحول اتنا پاک اور بابرکت ہوگا جس میں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی، محبت اور پیار کے سوا کوئی اور بات نہیں ہوگی۔ جنتی ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں اور مبارک دیں گے۔ (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَتَحَدَّثُ ‘ وَعِنْدَہٗ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ ‘ اِنَّ رَجُلًا مِّنْ اَھْلِالْجَنَّۃِ اسْتَأذَنَ رَبَّہٗ فِیْ الزَّرْعِ فَقَالَ لَہٗ اَلَسْتَ فِیْمَا شِءْتَ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَزْرَعَ فَبَذَرَ فَبَادَ رَالطَّرْفَ نَبَاتُہٗ وَاسْتِوَاءُ ہٗ وَاسْتِحْصَادُہٗ فَکَانَ اَمْثَالَ الْجِبَالِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی دُوْنَکَ یَابْنَ اٰدَمَ فَاِنَّہٗ لَایُشْبِعُکَ شَیْءٌ فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ وَاللّٰہِ لَاتَجِدُہُ اِلَّا قُرَشِیًا اَوْ اَنْصَارِیًّافَاِنَّھُمْ اَصْحاَبُ زَرْعٍ وَاَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِاَصْحَابِ زَرْعٍٍٍ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ (رواہ البخاری : باب کلاَمِ الرَّبِّ مَعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور آپ فرما رہے تھے کہ جنتیوں میں سے ایک بندے نے اپنے رب سے کھیتی باڑی کی اجازت مانگی اللہ رب العزت نے فرمایا۔ کیا تیرے پاس تیری پسند کی ہر چیز نہیں ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا کیوں نہیں ؟ لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میں کھیتی باڑی کروں چناچہ وہ بیج ڈالے گا۔ پلک جھپکتے ہی فصل اگ آئے گی کھیتی بڑی ہوجائے گی، اور کٹ جائے گی، پہاڑ کے برابر انبار لگ جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے ابن آدم ! لے تیری خواہش پو ری ہوگئی۔ حقیقتاً تیرا پیٹ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ دیہاتی کہنے لگا، اللہ کی قسم ! وہ شخص قریشی یا انصاری ہوگا کیونکہ وہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو کھیتی باڑی کرنے والے نہیں۔ اس پر نبی مکرم ﷺ مسکرادیے۔ مسائل 1۔ جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ 2۔ جنتی کی خدمت کرنے کے لیے معصوم اور پیارے پیارے چھوٹی عمر کے نوجوان ہوں گے جو ہمیشہ ان کی خدمت میں رہیں گے۔ 3۔ جنتی کو پینے کے لیے ایسی شراب دی جائے گی جس میں کسی قسم کا نشہ اور کڑواہٹ نہیں ہوگی۔ 4۔ جنتی کو ان کے مَن پسند پھل اور پرندوں کا گوشت دیا جائے گا۔ 5۔ جنتی کو شرم و حیا والی اور موتیوں جیسی حوریں پیش کی جائیں گی۔ 6۔ جنتی کو ان کے نیک اعمال کی پوری پوری جزادی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس ہے۔ (الکہف : 107) 2۔ جنتی کے لیے جنت میں وہ کچھ ہوگا جو تم چاہو گے۔ (حٰم السجدۃ : 31) 3۔ یقیناً متقین سایوں اور چشموں اور پسندیدہ میوہ جات میں رہیں گے۔ (المرسلات : 41۔ 42) 4۔ اللہ کے مخلص بندے نعمتوں والی 3 میں ہوں گے ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے۔ (الصّٰفّٰت : 43، 44) 5۔ پرہیزگاروں کے لیے عمدہ مقام ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے اور وہ ان میں تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (ص : 49 تا 50) 6۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33) 7۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : 28 تا 30)
Ayahs 56:27–40

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کا کیا کہنا

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ بےخار بیریوں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور ہر دم رواں پانی

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

بکثرت پھلوں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچی نشست گاہوں پر ہوں گے

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

اور انہیں باکرہ بنائیں گے

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن ہوں گی

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

یہ سب کچھ دائیں بازو والوں کے لیے ہے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

وہ پہلوں میں سے بہت ہوں گے

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور پچھلوں میں سے بہت ہوں گی

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ ارشاد ہوا کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کی جنت میں بغیر کانٹوں کے بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، گھنے اور لمبے لمبے سائیوں والے درخت، پانی کی آبشاریں اور کثیر پھلوں والے باغات ہوں گے جن پر نہ کبھی خزاں آئے گی اور نہ ہی جنتی کو کبھی ان سے روکا جائے گا۔ وہ اونچے اونچے تختوں پر جلوہ افروز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں کنواریاں بیویاں عطا فرمائے گا جو اپنے خاوندوں کے ہم عمر ہوں گی اور ان کے ساتھ دل و جان سے محبت کریں گی۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ پہلے لوگوں میں زیادہ ہوں گے اور پچھلے لوگوں میں سے کم ہوں گے یعنی ہر امت کے پہلے لوگوں میں زیادہ ہوں گے اور پچھلے لوگوں سے تھوڑے ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں جوں جوں قیامت قریب آئے گی توں توں نیک لوگ کم ہوتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ قیامت کے نزدیک بدترین لوگ رہ جائیں گے۔ جنت میں بیری کے درخت بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بیشمار خوبصورت سے خوبصورت درخت پیدا فرمائے ہیں لیکن بیری کے درخت کی اپنی ہی ایک شان اور اس کے سایے میں خاص ٹھنڈک ہوتی ہے جس کا دوسرے درخت مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بیری کا شہد تمام قسم کے شہد سے زیادہ مفید اور لذیذ ہوتا ہے اس درخت کی کئی اقسام ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر بیری کے درخت دو قسم کے ہوتے ہیں اس کی ایک قسم عام درختوں کی طرح اونچے اور بکھری ہوئی ٹہنیوں والی ہوتی ہے۔ دوسری قسم چھتری نما ہوتی ہے جس کی ٹہنیوں کا رخ زمین کی طرف ہوتا ہے یہ درخت عام طور پر سندھ کے علاقے میں پایا جاتا ہے۔ میں نے سندھ میں بیری کے ایسے درخت دیکھے ہیں جن کا حسن اور کشش دیکھ کر واقعتا حیرت گم ہوجاتی ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اس درخت کی ٹہنیاں اپنے رب کے حضور سجدہ کررہی ہیں۔ یہ اس قدر پھلوں سے لدھا ہوا درخت ہوتا ہے کہ اس کے بیر اس کے پتوں سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ مسائل 1۔ دائیں ہاتھ والوں کا کیا کہنا ! وہ بغیر کانٹے کے بیریوں، تہہ بہ تہہ کیلوں اور لمبے اور گھنے سایوں میں قیام پذیر ہوں گے۔ 2۔ اصحاب الیمین آبشاروں، گھنے پھلوں اور ناختم ہونے والی نعمتوں سے سرفراز کیے جائیں گے۔ 3۔ اصحاب الیمین کے اونچے فرشوں پر جلوہ افروز ہوں گے۔ 4۔ اصحاب الیمین کے لیے ان کی ہم عمر کنواریاں اور اپنے خاوندوں سے پیار کرنے والی بیویاں ہوں گی۔ 5۔ اصحاب الیمین ہر امت کے پہلے لوگوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47، 48) 2۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23)