55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الرّحمان کا تعارف سورۃ الرّحمان کا نام اس کے پہلے لفظ کی بنا پر رکھا گیا ہے۔ اس کے تین رکوع اور اٹھہتر (٧٨) آیات ہیں۔ یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ قرآن مجید کی یہ واحد سورت ہے جس میں بار بار جنوں اور انسانوں کو بیک وقت مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے محبوب نام الرحمان سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قدر الرّحمان ہے کہ اس نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے قرآن مجید جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا فرمایا اور وہی انسان کو بولنے کا طریقہ اور سلیقہ سکھلاتا ہے۔ وہ اس قدر بلندوبالا ہے کہ اس کے سامنے چاند اور سورج، ستارے اور درخت سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس نے آسمان کو بغیر کسی سہارے کے فضاء میں کھڑا کر رکھا ہے۔ اس نے ایک میزان نازل کیا ہے اور جن وانس کو حکم فرمایا ہے کہ وہ اس میزان کے تقاضوں کا خیال رکھیں۔ اس سورت میں اکیس مرتبہ یہ آیت مبارکہ آئی ہے۔” کہ اے جن و انسانوں تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ “ اکثر مفسرین نے ” اٰلآءِ “ کا معنی نعمت کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سورت میں یہ لفظ کئی بار نعمت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن امام رازی اور امام ابن جریر نے ” اٰلآءِ “ کا معنی قدرت بھی کیا ہے اور عرب شعرا نے ” اٰلآءِ “ کے لفظ کو صفت اور خوبی کے طور پر بھی استعمال کیا کرتے تھے۔ ہم الملوک وابناء الملوک لہم فضلٌ علی الناس فی الاٰکَاء والنِعَم وہ بادشاہ اور شاہزادے ہیں انہیں لوگوں پر اپنی خوبیوں اور نعمتوں کی وجہ سے برتریہے الحزم والعزم کانا من طبائعہٖ ما کل اٰلَاۂٖ یا قوم احصیہا حَزم اور عزم اس کے اوصاف میں سے تھے لوگو ! میں اس کی تمام خوبیاں شمار نہیں کر تا اللہ تعالیٰ کی کس کس قدرت، نعمت اور خوبی کو جھٹلاؤ گے۔ آج تم اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہو اور اس کے اوصاف حمیدہ کا انکار کرتے ہو اور اس کی بےپناہ قدرتوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک وقت ضرور آئے گا کہ جب تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں گناہ کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے حساب و کتاب کے بارے میں ہر قسم کی حجت پوری کردی جائے گی۔ مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جہنم میں پھینک کر کہا جائے گا کہ یہ وہی جہنم ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا اعتراف کیا ہے اور اس سے ڈر کر زندگی بسر کی انہیں ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا کہ جس میں انہیں بڑی بڑی نعمتوں کے ساتھ نہایت پاکباز اور خوبصورت حوریں دی جائیں گی اور وہ سبز قالینوں اور نادر قسم کے فرشوں پر جلوہ افروز ہوں گے۔ یہ انعامات انہیں اس لیے عطاء کیے جائیں گے کہ آپ کا رب بڑی برکت ولا اور بڑے جمال و کمال کا مالک ہے۔

Ayahs 55:1–2

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

بڑے مہربان نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن کی تعلیم دی ہے

فہم القرآن ربط سورت : جنتیوں کا جنت میں اعلیٰ مقام پانا رب رحمن کے رحم کا نتیجہ ہوگا کیونکہ اس کی مہربانی کے بغیر کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ سورة القمر کے بعد سورة الرّحمان کو اس لیے یہاں رکھا گیا کیونکہ اس کی ابتدا ہی الرّحمن کے عظیم اور شفیق نام سے ہوتی ہے۔ الرحمن کی مہربانی کے بغیر انسان کوئی اچھا کام سرانجام نہیں دے سکتا اور نہ ہی جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔ ذات کبریا کے ذاتی نام ” اللہ “ کے بعد صفاتی اسمائے گرامی میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے نام الرحمن اور الرحیم ہیں۔ قرآن مجید میں یہی نام سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کے ارشاد کے مطابق ” اللہ “ کی رحمت اس قدر وسیع و عریض ہے جیسے بحر بیکراں۔ کائنات کے تمام جن وانس کی حاجات کو پورا کردیا جائے تو بھی ” اللہ “ کی رحمت کے سمندر میں سوئی ڈبو کر باہر نکالنے کے برابر بھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم) اہل مکہ کی غالب اکثریت الرّحمن کے لفظ سے ناواقف تھی۔ نبی ﷺ نے جب اللہ تعالیٰ کو الرّحمن اور الرّحیم کے نام سے پکارنا شروع کیا اور لوگوں کو اس مشفق نام سے متعارف کروایا تو اہل مکہ نے کہا۔ ہمیں کہا جاتا ہے صرف ایک ” اللہ “ کو پکارو اور خود دو ” الٰہ “ بنا رکھے ہیں لہٰذا ہم کسی رحمن کو نہیں جانتے کہ وہ کون ہوتا ہے۔ کفار کی یا وہ گوئی کا پہلا جواب یہ دیا گیا۔ ” وہی ہے جس نے چھ دنوں میں زمین و آسمانوں اور تمام چیزوں کو پیدا کیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پھر خود عرش پر جلوہ افروز ہوا۔ الرحمن کی شان جاننے والے سے پوچھو۔ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ الرّحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں الرّحمان کون ہوتا ہے ؟ کہتے ہیں کہ کیا جسے تو کہہ اسی کو ہم سجدہ کریں ؟ الرّحمان کی طرف بلایاجائے تو ان کی نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ “ (الفرقان : 59، 60) اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور باربار انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اے انسان ! تو میری کس کس نعمت کی تکذیب اور ناشکری کرے گا۔” اللہ “ کے الرحمن ہونے کا تقاضا ہے کہ اس نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں کی بروقت اور صحیح راہنمائی ہوسکے۔ لوگوں کی ہدایت کا آخری انتظام قرآن مجید کی صورت میں کیا گیا ہے، قرآن مجید ایسی جامع اور عظیم کتاب ہے جو افراد اوراقوام کی کامل اور اکمل راہنمائی کرتی ہے۔ قرآن مجید کے ذریعے ہی انسان اپنے رب کو پہنچاتا ہے اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سیکھ سکتا ہے۔ ” عَلَّمَہٗ القرآنَ “ کے الفاظ استعمال فرما کر بالواسطہ طور پر کفار کے اس الزام کی نفی کی گئی ہے کہ محمد ﷺ کسی اور سے سیکھ کر یا اپنی طرف سے قرآن نہیں بنالیتے یہ تو رب رحمن کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ ” اللہ “ کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “ قرآن کا لغوی معنٰی ہے بار بار پڑھی جانے والی کتاب کیونکہ قرآن مجید کو بار بار تلاوت کیا جاتا ہے اس لیے اس کو قرآن کہتے ہیں۔ ” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو جو اس پر عمل کریں گی بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو جو اس کو چھوڑ دیں گی انہیں ذلیل کر دے گا۔ “ (رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر نہایت ہی مہربان ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو قرآن کی تعلیم سے سرفراز فرمایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی فرمائی۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی عظمت و فضیلت کی ایک جھلک : 1۔ قرآن ایسی کتاب ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔ ( البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید کو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ (الحجر : 9) 3۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88) 4۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف : 1) (بنی اسرائیل : 82) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور مومنوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : 57)
Ayahs 55:3–4

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اس نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اور اسے بولنا سکھایا

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن نے ہی انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اسے بولنا سکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ پیدا کرنے سے پہلے اس کے لیے آسمان کو چھت بنایا اور زمین کو فرش بنا کر اس کی ضروریات کا بندوبست فرمایا اور پھر اسے بولنے کا سلیقہ سمجھایا۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ پہلے الانسان حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مختلف مراحل سے گزار کر نہ صرف کامل اور اکمل انسان بنایا بلکہ مسجود ملائکہ کا اعزاز دے کر زمین پر خلافت کے منصب پر فائز کیا اور چار قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ (التین : 1 تا 5) جہاں تک انسان کی قوت گویائی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اسے بولنا سکھلایا ہے بلکہ اس کے دماغ میں ایسی صلاحیتیں رکھ دی ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہر قسم کی معلومات اخذ کرتا ہے اور پھر اس کی زبان اسے الفاظ کا جامہ پہناتی ہے۔ غور فرمائیں کہ زمین اور آب وہوا یہاں تک کہ خوراک ایک ہوتی ہے لیکن لوگوں کی قدوقامت، رنگت اور زبانوں میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کی زبان نہیں سمجھ سکتا ہے۔ ایک ہی ملک میں رہنے والے لاکھوں، کروڑوں انسان ایک ہی جیسی زبان (Language) اور آب وہوا رکھتے ہیں مگر بولیاں الگ الگ ہیں۔ اب تک بین الاقوامی ریکارڈ کے مطابق دنیا میں تقریباً 6900 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو براہ راست علم سکھلایا۔ ان میں سرفہرست حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اس کے بعد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مقدس جماعت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے علم سے سرفراز فرمایا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو تعلیم سے آراستہ کیا اور اسی نے انسان کو قوت گویائی عطا فرمائی۔ تفسیر بالقرآن حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ حضرت آدم کی تخلیق کا اعلان۔ (البقرۃ : 30) 2۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جس مٹی سے پیدا کیے گئے وہ کھڑ کھڑاتی تھی۔ (الحجر : 26) (النساء : 1) 3۔ آدم کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ (الرحمن : 14) 4۔ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ (نوح : 17)
Ayahs 55:5–6

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور تارے اور درخت سب سجدہ ریزہوتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : سورة الرحمن میں مرکزی مضمون ” اللہ “ کی قدرتوں اور بڑی بڑی نعمتوں کا بیان ہے، ان میں شمس وقمر بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر کو اپنی قدرت کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا ہے اور انہیں آپس میں اس طرح منضبط اور منسلک کیا ہے کہ سورج اپنی ڈیوٹی دے رہا ہے اور چاند اپنے کام پر لگا ہوا ہے، نہ سورج چاند کے مدار میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ چاند سورج کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ (یٰس : 38 تا 40) یہ ایسا مضبوط نظام ہے جس میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا اور فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ دن کو طویل کردے تو کون ہے جو رات کو لے آئے اور اگر وہ رات کو طول دے دے تو کون ہے جو سورج طلوع کرسکے ؟ (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّہَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (القصص : 71 تا 73) ” ان سے پوچھو کہ کیا تم نے غور کیا کہ اگر اللہ تم پر قیامت تک دن چڑھائے رکھے۔ تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے رات لائے گا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم دیکھتے نہیں یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ “ چاند کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں فرما دیجئے کہ اس سے اوقات (عبادت) اور حج کے ایام لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں۔ “ (البقرہ : 189) النجم کے مفسرین نے دو مفہوم بیان کیے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ النجم سے مراد ستارہ ہے لیکن اکثر کا خیال ہے کہ النجم کا یہاں معنٰی بیل دار پودا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شمس وقمر اور نجم وشجر سب اپنے رب کی تسبیح پڑھتے اور اس کی تابعداری کرتے ہیں۔ شمس و قمر نہ صرف اپنے مقررہ حساب کے مطابق چل رہے ہیں بلکہ شمس و قمر اور نجم و شجر اپنے رب کو سجدہ بھی کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے سجدے کا طریقہ مقرر فرمایا ہے، نہ صرف اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہیں بلکہ اپنے انداز میں اس کی حمد وثناء بھی بیان کرتے ہیں۔ (الحج : 18) (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَ وَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَا اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہُ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْش) (رواہ البخاری : باب وکان عرشہ علی الماء ) ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کے رسول ﷺ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے۔ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت چاہے لیکن اس کو اجازت نہ ملے۔ اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے۔ “ مسائل 1۔ سورج اور چاند ایک مقرر کردہ نظام کے مطابق چل رہے ہیں اور قیامت تک چلتے رہیں گے۔ 2۔ شمس وقمر اور نجم و شجر اپنے رب کو سجدہ کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کو یاد کرتی ہے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے : 1۔ یقیناً جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ ” اللہ “ کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206) 2۔ ہر چیز اپنے رب کی تسبیح پڑھتی ہے۔ (الحدید : 1) 3۔ ہر چیز اپنے رب کی تسبیح پڑھتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ (بنی اسرائیل : 44) 4۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : 48) 5۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : 49) 6۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمن : 6) 7۔ اللہ کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (النجم : 62) 8۔ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : 98) 9۔ اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ (الحج : 77)
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم فرما دی

فہم القرآن ربط کلام : آسمان بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مظہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فضا میں چھت کے طور پر ٹھہرا رکھا ہے۔ ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیوں میں آسمان بھی اس کی عظیم قدرت کا ترجمان ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آسمان کا ذکر کیا ہے اس لیے کہ انسان کی نگاہیں صرف پہلے آسمان کو دیکھتی ہیں۔ قرآن مجید نے اکثر مقامات پر ایک آسمان کی بجائے سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے اور حدیث میں ساتوں آسمانوں کی موٹائی اور ان کے درمیان فاصلے کی تفصیل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بیشمار ملائکہ کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے جو اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ملائکہ اور مخلوق کے بارے میں ارشاد ہے کہ آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (المدثر : 31) آسمانوں کے بارے میں یہ بھی بتلایا ہے۔ ” اس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہیں پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر پلٹ آئے گی۔ “ (الملک : 3، 4) آسمانوں میں سب سے زیادہ ذکر پہلے آسمان کا کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ستاروں سے اسے مزین کردیا ہے۔ (الحجر : 17، 18) ” ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ “ (الملک : 5) اگلی آیات کی تفسیر میں ترازو کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو فضا میں بلند کر رکھا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ترازو قائم فرمایا دیا ہے۔ تفسیر بالقرآن آسمانوں کے بارے میں قرآنی معلومات : 1۔ ” اللہ “ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے قائم کیا ہے۔ (الرعد : 2) 2۔ اللہ نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا ہے۔ (الانبیاء : 32) 3۔ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ” اللہ “ نے انہیں الگ الگ کیا۔ (الانبیاء : 30) 4۔ اللہ نے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا ہے۔ (البقرۃ : 22)
Ayahs 55:8–9

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

یہ کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

عدل کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کی رفعت کا ذکر کرنے کے بعد ترازو کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ترازو بھی زمین سے بلند رکھا جاتا ہے۔ جس طرح آسمان زمین سے بلند ہے۔ (الحدید : 25) میں فرمایا کہ میزان آسمان سے اتارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام اور لوگوں کے درمیان اخلاقی، سیاسی، معاشی اور ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنے کے لیے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔ جس کے بارے میں اس کا حکم ہے کہ میزان میں تجاوز نہیں ہونا چاہیے حکم دیا کہ جب کسی چیز کا ماپ تول کرو تو اس میں عدل قائم رکھو اور ماپ، تول میں کسی صورت بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کے اندر ایک نظام اور توازن قائم فرمایا ہے جس بنا پر ہر چیز اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنا، اپنا کام سرانجام دے رہی ہے۔ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ توازن اور نظام سے آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ سورج اور چاند ایک دوسرے کے مدار میں داخل نہیں ہوتے، رات اور دن اپنے نظام الاوقات سے تجاوز نہیں کرتے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے انسان کے و جود میں بھی ایک توازن قائم کردیا ہے۔ حکماء نے انسان کی جبلّت کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ برودت، حرارت اور سوداء۔ ان میں سے کسی چیز میں کمی بیشی واقع ہوجائے تو انسان کا نظام صحت خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان میں منفی اور مثبت قوتیں رکھی ہیں۔ انتقام اور بدلے کے درمیان، حوصلے اور بزدلی، غیرت اور حسد، مصلحت اور منافقت، حوصلہ اور بزدلی کے درمیان تھوڑا ہی فاصلہ پایا جاتا ہے اگر یہ فاصلہ ختم ہوجائے، تو میزان میں جھول واقع ہوجاتی ہے ان قوتوں میں توازن نہ رہے تو انسان اور کائنات کا پورا نظام عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے عدم توازن سے بچنے کے لیے حکم ہے کہ توازن قائم رکھو اسی طرح ہی بلکہ اس سے بڑھ کر ناپ تول میں بھی قسط یعنی عدل قائم رکھنا لازم ہے۔ کسی سے کوئی چیز خریدی جائے یا اس کے ہاتھ بیچی جائے تو اس میں بھی کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن مجید میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ 9 دفعہ استعمال ہے۔ دو آیات میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔” اَلْمِیْزَانُ “ کے بارے میں اہل علم کے چار قسم کے خیالات ہیں۔ جو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حق پر مبنی ہیں۔ 1” اَلْمِیْزَانُ “ درحقیقت الکتاب کی تشریح ہے۔ 2 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان وزن اور فرق کرسکتا ہے۔ 3 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد عقل سلیم ہے جس کی روشنی میں آدمی حق اور ناحق کی پہچان کرتا ہے۔ 4 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد دنیا کی کسی چیز کی پیمائش یا وزن کرنے کا پیمانہ ہے جس کے ذریعے لوگ آپس میں لین دین کرتے ہیں۔ جن آیات میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ہے وہ یہ ہیں۔ (الانعام : 152، الاعراف : 85، ھود : 84، 85، الشوریٰ : 17، الرحمن : 7، 8، 9، الحدید : 25) قرآن مجید نے ہر معاملے میں عدل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس معاشرے میں عدل قائم نہیں ہوگا وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور عدل و انصاف سے محروم اقوام بالآخر تباہ ہوجاتی ہیں۔ ( عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ قُرَیْشًا أَھَمَّھُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِيْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ یُکَلِّمُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالُوْا وَمَنْ یَجْتَرِ ئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَکَلَّمَہٗ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ أَقَامُوْاعَلَیْہِ الْحَدَّ وََأَیْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا) (رواہ البخا ری : باب حدیث الغار) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ قریش اس مخزومی عورت کے بارے میں بڑے فکر مند ہوئے جس نے چوری کی تھی انہوں نے سوچا کہ اس معاملے میں اللہ کے رسول سے کون بات کرے گا ؟ کہنے لگے کہ یہ کام اسامہ بن زید ؓ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اللہ کے رسول کا محبوب ہے۔ اسامہ نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی۔ آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : یقیناً تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی بڑاچوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ایک میزان قائم فرمایا ہے۔ 2۔ میزان میں کمی بیشی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن القِسط کی اہمیت وفرضیت : 1۔ نبی ﷺ کو عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف : 29) 2۔ صلح بھی عدل و انصاف سے کروانا چاہیے۔ (الحجرات : 9) 3۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد انصاف قائم کرنا تھا۔ (الحدید : 25) 4۔ انصاف کی بات کہنے کا حکم۔ (الانعام : 152) 5۔ کسی کی دشمنی عدل و انصاف میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ (المائدۃ : 8) 6۔ داؤد (علیہ السلام) کو عدل کرنے کا حکم۔ (آ : 26)
Ayahs 55:10–13

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اس نے مخلوق کے لیے زمین بنائی

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں ہر طرح کے پھل ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا ہوتا ہے اور دانہ بھی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے بعد زمین اور اس کے فوائد کا مختصر ذکر۔ جس الرحمن نے شمس و قمر اور نجم وشجر پیدا کیے ہیں اور القسط قائم کرنے کا حکم دیا اسی نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔ قرآن مجید نے جس طرح انسان کو آسمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اسی طرح زمین کے بارے میں بھی بہت کچھ بتلایا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ زمین انہیں لے کر ڈھلک نہ پڑے اور زمین میں کشادہ راہیں بنایں تاکہ لوگ اپنے راستے معلوم کریں۔ “ (الانبیاء : 30، 31) (وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) (ہود : 7) ” اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔ “ (الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَاءً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (البقرہ : 22) ” جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے تمہارے لیے پھل پیدا کیے جو تمہارا رزق ہے جاننے کے باوجود اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ “ یہاں زمین پر بسنے والوں کے لیے ” الانام “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں ہر وہ جاندار چیز شامل ہے جس کا رہنا سہنا، کھانا پینا اور مرنا جینا زمین کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس میں سر فہرست جن اور انسان ہیں۔ جن کے لیے خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔ زمین صرف رہائش کا کام نہیں دیتی بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے لیے دستر خوان بھی بنایا ہے۔ کچھ نعمتیں زمین کے اندر دفن کی ہیں جسے ہر دور کے لوگ اپنی لیاقت اور طاقت کے مطابق نکالتے رہیں گے۔ زیادہ نعمتوں کا تعلق زمین کی پیداوار سے ہے تاکہ انسان ان نعمتوں سے بھر پور استفادہ کرسکے۔ ان نعمتوں میں ہر قسم کے پھل خوشوں سے لدی ہوئی کھجوریں ہیں جن کے خوشوں پر غلاف چڑھے ہوتے ہیں۔ ان میں انسانوں اور ہر قسم کے الانعام کے لیے اناج ہے کچھ پر بھس چڑھا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اناج اور بیشمار پھل پیدا کیے ہیں۔ اس کی قدرتوں اور نعمتوں پر قربان جائیں کہ اس نے ہر اناج اور پھل کے اوپر چھلکے کی صورت میں غلاف چڑھا دیئے ہیں تاکہ اناج اور پھل ہر قسم کی کثافت اور غلاظت سے محفوظ رہیں یہاں تک کہ جو چیزیں زمین کے اندر تیار ہوتی ہیں، ان پر بھی ایک باریک سا چھلکا چڑھا دیا ہے تاکہ مٹی اس چیز کے اندر داخل نہ سکے ان کا تذکرہ فرماکر ارشاد فرمایا کہ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس قدرت اور نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس سورت کے تعارف میں وضاحت موجود ہے کہ ” اٰآا “ کا معنٰی قدرت، نعمت اور خوبی ہے یہاں یہ لفظ تینوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش بنادیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر قسم کے پھل اور غلافوں میں لپٹی ہوئی کھجوریں پیدا کیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے خوشبودار پھول پیدا کیے اور ہر قسم کے اناج کو اس کے چھلکے اور خوشے میں محفوظ فرمایا ہے تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں زمین سے پیدا ہونے والے چند پودوں کا ذکر : 1۔ ” اللہ “ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11) 2۔ ” اللہ “ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19) 3۔ ” اللہ “ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : 34) 4۔ ” اللہ “ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99) (الانعام : 141) مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر اقتدار فاروقی کی کتاب ” نباتات قرآن کا مطالعہ فرمائیں۔
Ayahs 55:14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اس نے انسان کو ٹھیکری جیسی کھٹکھٹاتی مٹی سے پیدا کیا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے افضل مخلوق انسان ہے اس لیے جن کی بجائے انسان کی تخلیق کا ذکر پہلے کیا ہے۔ جبکہ جنات کی پیدائش انسان سے پہلے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں جس مخلوق کو حساب و کتاب کا مکلف ٹھہرایا ہے وہ انسان اور جن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر نازل ہونے سے پہلے زمین پر جن رہتے تھے اور ان کا زمین پر راج تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اسے زمین میں خلافت عطا فرمائی اور اس کو اپنے احکام کا مکلف بنایا اور جن کو اسی دین کا پابند کیا۔ اس لیے انسان اور جن کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ” میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ “ (الذار یات : 56) اللہ کی عبادت کرنے میں جن وانس کی عزت اور ان کی خودی کا تحفظ ہے اور دوسروں کی عبادت کرنے میں ذلت ہے اور اپنی خودی کی نفی پائی جاتی ہے لیکن بیشمار جن اور انسان اپنے خالق کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ اسے اپنا خالق نہیں مانتے۔ یہ اس کی ذات اور اس کے فرمان کو جھٹلانے کے مترادف ہے اسی لیے فرمایا ہے کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جن کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ 3۔ بیشمار جن اور انسان اپنے رب کی خالص عبادت نہیں کرتے وہ دوسروں کی عبادت کر کے اپنے رب کی ذات اور احکام کی تکذیب کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انسان کی تخلیق کے مراحل : (النحل : 4) (آل عمران : 59) (المومنون : 12) (الدھر : 2) (النساء : 1)
Ayahs 55:17–21

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

اے جن وانس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اس نے دو سمندروں کو جاری کیا جو آپس میں ملے ہوئے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پس اے جن اور انسانوں تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے انسان اور جن کو پیدا کیا ہے وہی مشرقین اور مغربین کا مالک ہے۔ سورة الصّافات کی آیت 5 میں مشرق کے لیے مشارق کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بیشک سورج مشرق سے نکل کر مغرب کی جانب غروب ہوتا ہے لیکن سورج ہمیشہ ایک ہی مقام سے نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہے جسے موجودہ سائنسدان اور فلکیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں اس لیے یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ عربی میں یہ الفاظ فاصلے کی طوالت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرما کر شمال اور جنوب کی جوانب کو بھی مشرقین اور مغربین میں شامل کیا گیا ہے۔ مشرقین اور مغربین کا ذکر فرماکریہ ثابت کیا ہے کہ ان کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا کرنے والا صرف ایک رب ہے۔ جس سورج کی وجہ سے یہ سمتیں مشرق اور مغرب کہلاتی ہیں اس سورج کو بھی اسی رب نے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک رب کے سوا کوئی اور پیدا کرنے والا نہیں اس لیے اس کا فرمان ہے کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ جس طرح اس نے دو مغرب اور دو مشرق بنائے ہیں اسی طرح اس نے سمندر کے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک پانی میٹھا ہے اور دوسرا کڑوا ہے لیکن اس کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا کیونکہ ان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا گیا ہے۔ کڑوے پانی کے اپنے فوائد ہیں اور میٹھا پانی اپنے فوائد اور تاثیر رکھتا ہے۔ اللہ کی ذات کا انکار کرنے والے سائنسدان اس کی یہ توجیح کرتے ہیں کہ کڑوا پانی ہلکا ہوتا ہے اور میٹھا پانی بھاری ہوتا ہے۔ دونوں کے اجزاء الگ الگ ہیں جس وجہ سے وہ آپس میں تحلیل نہیں ہوتے۔ حالانکہ سمندر میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں میٹھا اور کڑوا پانی آپس میں خلط ملط ہوجاتا ہے۔ سمندر ایک ہونے کے باوجود ان کے پانی کا الگ الگ رہنا اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں سے ایک عظیم قدرت ہے۔ بےدین سائنسدان غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون میٹھا اور کڑوا پانی پیدا کرنے والا ہے ؟ یہ اس کی قدرت نہیں تو کیا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود جنوں اور انسانوں میں بیشمار افراد ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس قد رت کو جاننے کے باوجود اس کی ذات اور فرمان کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے فرمایا ہے کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کروے گے۔ حدیث میں مشرق اور مغرب کا ذکر : ” حضرت ابوہریرہ ؓ تذکرہ کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پہلی تکبیر اور قراءت کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ کی ذات پر فدا ہوں آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموشی کے ساتھ کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ پڑھا کرتا ہوں۔ ” الٰہی میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری فرما دے جیسا کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری قائم کی ہے۔ الٰہی ! میرے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ الٰہی میری خطاؤں کو پانی، برف اور اولوں کے ساتھ دھوڈالیے۔ (رواہ البخاری : باب مَا یَقُولُ بَعْدَ التَّکْبِیرِ ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے دو مشرق اور دو مغرب بنائے ہیں۔ 2۔ دو مشرقوں اور دو مغربوں کے درمیان ایک رب کے سوا کسی کی دائمی اور عالمگیر بادشاہی نہیں ہے۔ 3۔ بےشمارجن اور انسان اپنے رب کی ذات اور اس کی قدرتوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے ہی دو سمندر بنائے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے کڑوے اور میٹھے سمندروں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا ہے۔ 6۔ کڑوے اور میٹھے پانی کے اپنے اپنے فوائد ہیں جن سے لوگ مستفید ہوتے ہیں اس کے باوجود بیشمار جن اور انسان اپنے رب کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک ہے : 1۔ اللہ ہی دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا رب ہے۔ (الرحمن : 17) 2۔ مشرق ومغرب اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 142) 3۔ اللہ تعالیٰ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہٰذا اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : 9) 4۔ بیشک تمہارا ایک الٰہ ہے جو آسمان و زمین، جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مشارق کا رب ہے۔ (الصّافات : 4، 5) 5۔ میں قسم اٹھاتا ہوں مشارق اور مغارب کے رب کی کہ وہ ہر چیز پر قاد رہے۔ (المعارج : 40)
Ayahs 55:22–25

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور سمندر میں جو بادبانی بیڑے پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے ہیں وہ اسی کے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : دونوں سمندروں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ ہی سمندروں سے موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موتی اور مونگے صرف کڑوے اور کھارے پانی میں پیدا ہوتے ہیں جس کی بالواسطہ طور پر نفی کی گئی ہے۔ اس لیے واحد کی بجائے مِنْہُماَ کی ضمیر لاکر بتلایا ہے کہ ایک نہیں دونوں قسم کے سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ موتی اور مونگے انتہائی قیمتی اور خوبصورت ہیرے ہیں جو زیبائش کے علاوہ کئی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں جو مخصوص قسم کی بیماریوں کا علاج اور تریاق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی انتہا دیکھئے کہ وہ پانی میں کس طرح موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ پانی مائع ہے اور اس میں پیدا ہونے والے سیپ اور اس میں بننے والے موتی پتھر کی طرح سخت ہوتے ہیں جو لوہے کی ضرب کے بغیر نہیں ٹوٹتے، جن اور انسان اس پر غور کریں تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پانی سے موتی اور مونگے پیدا نہیں کرسکتا لیکن اس کی قدرتوں پر غور نہ کرنے کی وجہ سے بیشمار جن اور انسان اپنے رب کی ذات اور اس کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا ہے کہ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے کہ اس نے سمندر میں پہاڑوں کی مانند بیڑے اور جہاز چلا دیئے ہیں۔ بحری بیڑے اور جہاز کے لیے ” لَہٗ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے اسی کے لیے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو بحری بیڑے اور جہاز بنانے اور انہیں چلانے کی صلاحیت نہ دیتا اور سمندر کی فضا اور ہوا موافق نہ کرتا تو انسان کسی صورت بھی سمندری سفر اختیار نہ کرتا اور نہ ہی سمندر سے موتی اور جواہرات نکال سکتا تھا۔ قرآن مجید میں یہ بھی موجود ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں کے ذریعے سمندر سے موتی اور جواہرات نکالنے کا کام لیا کرتے تھے۔” اور ان کے لیے شیاطین کو مسخر کردیا جو معمار اور غوطہ خور تھے۔ “ (صٓ: 37) 1۔ نہروں کے ذریعے وہاں تک پانی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پہنچنے کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ دریاؤں کے پانی کو بڑے بڑے ڈیموں میں بند کرلیا جاتا ہے۔ 2۔ سمندر کی سطح پر پلوں کی شکل میں بڑی بڑی سڑکیں بنا دی گئی ہیں یہاں تک کہ سمندر کے پانی کی گہرائیوں میں بحری اڈے قائم کردیے گئے ہیں۔ مختلف سمندروں سے ہر روز کروڑوں ٹن تروتازہ مچھلی نکالی جاتی ہے۔ جسے انسان اپنی خوراک بنانے کے ساتھ ادویات اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح سمندر کی تہہ سے بڑے بڑے قیمتی ہیرے، جو ہرات ہمیشہ سے نکالے جا رہے ہیں جو بالخصوص عورتوں اور امیر لوگوں کی حسن و زیبائش کے لیے گراں قدر قیمت کے حامل ہیں یہ خوبصورت چیزیں زمین کی سطح پر نہیں پائی جاتیں۔ اب تو سمندر کے پانی سے تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرلیے گئے ہیں نہ معلوم قیامت تک کون کون سی قیمتی اشیا سمندر سے حاصل کی جائیں گی ان کے ذخائر کا کوئی حقیقی اندازہ نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد سطح سمندر کی طرف آئیں تو دنیا کی تجارت کا ستر فیصد سے زائد حصہ سمندری راستوں کے ساتھ وابستہ ہے جو پرانے زمانے میں کشتیوں کے ذریعے اور آج کل آبدوزوں اور بحری جہازوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ آج کے بحری جہاز اور پہلے وقت کے بادبان بیڑے سمندر میں کھڑے ہوئے دور سے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ جس وجہ سے ان کے لیے ” اَلْجَوَارِ الْمُنْشَءٰتُ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے جس پر انسان کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر آدمی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ آخر وہ کونسی وجہ ہے کہ جو پانی سوئی کے معمولی وزن کو اپنی چھاتی پر برداشت نہیں کرتا وہ ہزاروں ٹن وزنی جہازوں کو نہ صرف اپنے آپ پر برداشت کرتا ہے بلکہ اسے اٹھائے ہوئے ہزاروں لوگوں اور ان کے سامان کو میلوں دور منتقل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کہ جن بھی بحری سفر کے لیے بحری جہاز یا بحری بیڑے استعمال کرتے ہیں یا نہیں البتہ قرآن مجید نے یہاں بھی جنوں اور انسانوں کو مخاطب کیا ہے تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت اور قدرت کو جھٹلاؤ گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے سمندر میں موتی اور جواہرات پیدا کیے ہیں۔ 2۔ بحری بیڑوں اور جہازوں کا سمندر میں چلنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہے۔ 3۔ انسان اور جن دلیل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی کسی قدرت اور نعمت کی تکذیب نہیں کرسکتے۔ تفسیر بالقرآن بحری بیڑوں کا سمندر میں چلنا اللہ کی قدرت کی نشانی ہے : (ابراہیم : 32) (یٰس : 44) (العنکبوت : 65) (الحج : 65) (لقمان : 31) (الجاثیہ : 12)
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور صرف تیرے رب کی جلیل اور کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں اور پوری کائنات کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو وسیع ترین فرش کے طور پر بنایا اور بچھایا ہے۔ اس کے اوپر اور اندر بیشمار مخلوقات پیدا فرمائیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان میں کچھ مخلوقات ایسی ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ بھی کبھی فنا ہوجائیں گی۔ ان میں ایک سمندر ہے جس کے بارے میں ارضیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ آسمان تلے ایک حصہ خشکی ہے اور تین حصے سمندر ہے۔ انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنا بڑا سمندر کبھی خشک اور ختم ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ سمندر سمیت ہر چیز فنا اور ختم ہوجائے گی۔ صرف ایک ” اللہ “ کی ذات باقی رہے گی جو بڑا ذوالجلال اور عزت و عظمت والا ہے، اسی طرح پہاڑوں کے بارے میں کوئی سوچ نہیں سکتا کہ یہ مٹ جائیں گے۔ (وَاِِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ) (التکویر : 6) اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔ “ (وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ ) (القارعہ : 5) ” اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجائیں۔ “ یہاں زمین کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو کچھ اس کے اوپر ہے وہ سب کا سب فنا ہوجائے گا۔ دوسرے مقام پر یہ فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک ہوجائے گی اسی کا حکم چلتا ہے اور اس کی طرف تم پلٹ کر جاؤ گے گویا کہ زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے تباہ ہوجائے گا۔ ” اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے حکمرانی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جانے والے ہو۔ “ (القصص : 88) قرآن مجید نے یہ بات بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی اور سمجھائی ہے کہ ہر ذی روح کو موت آنی ہے اور ہر چیز نے ختم ہونا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا پھر جنوں اور انسانوں حتیٰ کہ حیوانات کو بھی رب ذوالجلال کے حضور پیش کیا جائے گا اور سب کا حساب ہوگا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حیوانات کو پیدا فرما کر ان سے ایک دوسرے کا بدلہ چکایاجائے گا اور اس کے ساتھ ان کا وجود ختم کردیا جائے گا۔ جنوں اور انسانوں کو اپنے کیے کی پوری پوری جزا اور سزادینے کے لیے نیک جنوں اور انسانوں کو جنت میں اور بروں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا اور موجودہ زمین و آسمانوں کو ختم کرکے نئے زمین و آسمان پیدا کیے جائیں گے۔ (یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ ) (ابراہیم : 48) ” جس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی تبدیل کر دئیے جائیں گے اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمینوں اور آسمانوں کو یکجا کرکے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے فرمائیں گے کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ ظالم وسفاک اور نخوت و غرور رکھنے والے آج کہاں ہیں ؟ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ۔ (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ) (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) (رواہ مسلم : باب تحریم الظلم) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ ہر چیزفنا ہوجائے گی۔ 2۔ رب ذوالجلال کے سوا کوئی چیز نہیں بچ پائے گی۔ تفسیر بالقرآن ہر ذی روح کو موت آئے گی اور ہر چیز فنا ہوجائے گی : 1۔ ہر شے فنا ہوجائے گی۔ (الرحمن : 26) 2۔ قلعہ بند ہونے کے باوجود موت نہیں چھوڑتی۔ (النساء : 78) 3۔ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے۔ (الاعراف : 34) 4۔ پہلے انبیاء فوت ہوئے۔ (آل عمران : 144) 5۔ رسول اللہ ﷺ بھی موت سے ہمکنار ہوں گے اور ہوئے۔ (الزمر : 30) 6۔ جب اللہ کا حکم کسی چیز پر آجاتا ہے تو اس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ (یونس : 24) 7۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ (الانبیاء : 35) 8۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ (القصص : 88)
Ayahs 55:29–32

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہے ہر کوئی اپنی ضرورتیں اسی سے مانگتا ہے وہ ہر دن نئی شان میں ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پس اے جن اور انسانوں تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے جن اور انسانوں عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : 15 تا 17) اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بیشمار جن اور انسان ایسے ہیں جو اس کے حکم کے مطابق اس سے مانگنے کے لیے تیار نہیں وہ ادھر ادھر کے واسطوں اور مختلف قسم کے وسیلوں کو درمیان میں لاتے ہیں حالانکہ اس کا حکم ہے کہ مجھ سے بلاواسطہ مانگا جائے۔ ” تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھے ہی پکارو میں ہی تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ تکبر کرتے ہوئے اور میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ضرور ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ “ (المومن : 60) اس کا فرمان ہے کہ صرف مجھے ہی پکارا جائے اور اطاعت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے یہ بہت بڑا انعام ہے کہ وہ انسان کو ہر کسی کے سامنے جھکنے اور ان سے مانگنے کا حکم دینے کی بجائے صرف اپنے سامنے جھکنے اور مانگنے کا حکم دیتا ہے جو جن اور انسان اس کے حکم کے مطابق اس سے نہیں مانگتے ان کے لیے اس کا ارشاد ہے کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی شان اور فرمان کو کس طرح جھٹلاؤ گے۔ اس کا فرمان ہے کہ ہر دن اس کی نئی شان ہے یعنی وہ ہر آن اپنی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں پر اپنی رحمت اور کرم نوازیوں میں اضافہ کیے جاتا ہے۔ اس کی رحمت کی شان کا تذکرہ کرتے ہوئے سرور دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) (رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم) ” میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے اگر جن وانس سب مل کر کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “ مسائل 1۔ زمین و آسمانوں میں بسنے والا ہر جاندار اپنے رب سے مانگتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مجھ سے ہی مانگا جائے۔ 3۔ مشرک اور کافر کے سوا ہر کوئی ایک رب سے مانگتا ہے۔ 4۔ بیشمار جن اور انسان اللہ کے حکم اور اس کی نعمتوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء بغیر کسی واسطے اور کسی کے وسیلے کے بغیر ایک ” رب “ سے ہی مانگا کرتے تھے : 1۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں فرمائے گا تو یقیناً ہم نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : 23) 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک کافر نہیں بچنا چاہیے۔ (نوح : 26) 3۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اپنی بےقراری اور غم کی شکایت صرف ” اللہ “ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ (یوسف : 86) 4۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : 83) 5۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے اور میں ہی قصور وار ہوں۔ (الانبیاء : 87) 6۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : 89) 7۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میں بیمار ہوگیا ہوں تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : 83) 8۔ نبی ﷺ کی دعا اے میرے رب ! میرا علم زیادہ کر دے۔ (طٰہٰ : 114) 9۔ اے اللہ ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا) (العنکبوت : 30) 10۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب کی دعا) (الاعراف : 89) 11۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اموال کو ختم کردے۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا) ۔ (یونس : 88)
Ayahs 55:33–36

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ تم نہیں نکل سکتے، اس کے لیے بڑا زور چاہئے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : جو جن اور انسان اللہ تعالیٰ سے اس کے حکم کے مطابق نہیں مانگتے انہیں چیلنج کیا گیا ہے۔ رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے جن اور انسانو ! عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہونے والے ہیں اور تم اپنے رب کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرپاؤ گے اگر تمہیں اس کے مقابلے میں طاقت حاصل ہے تو کھلے الفاظ میں تمہیں چیلنج کیا جاتا ہے کہ تم زمین و آسمان کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ لیکن تم اس کی بادشاہت سے نکل نہیں سکتے سوائے قوت کے وہ قوت صرف تمہارے رب کے پاس ہے لہٰذا تم اپنے رب کی قوت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ ہر دور کے سائنسدان اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ زمین و آسمان اپنی اپنی حیثیت اور مقام پر ایک کرّہ ہیں اور ہر کُرّہ اپنی فضا میں گردش کر رہا ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ایک کرہّ دوسرے کرّے کے ساتھ نہیں مل سکتا، ہر کرّہ اپنے مدار میں گھوم رہا ہے۔ اس لیے انسان اور جن زمین و آسمان کے ایک کرّے کے اندر مقید ہیں۔ بیشک انسان اور جن جس قدر ترقی کرجائیں لیکن وہ زمین و آسمان کے کرّے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ ” اِلاَّ بِسُلْطَانٍ “ کا یہ معنٰی نہیں کہ انسان یہ طاقت حاصل کرسکتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کے کناروں سے باہر نکل سکتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا لہٰذا اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی قدرت کو جھٹلاؤگے۔ اس خطاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہوتے ہیں۔ اس کا یہ معنٰی نہیں کہ اللہ تعالیٰ بہت مصروف ہے اور اب اس کے پاس وقت نہیں کہ وہ باغی جن اور انسانوں سے نبٹ لے یہ تو چیلنج اور انتباہ کا ایک انداز ہے جس سے کسی باغی کو وارننگ دی جاتی ہے کہ موقعہ ہے سمجھ جاؤ ورنہ عنقریب پکڑے جاؤ گے اور مارے جاؤگے، گویا کہ باغی جن اور انسانوں کو ایک مہلت دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے باغی جن اور انسانوں کو ایک چیلنج دیا ہے کہ اگر تم میں طاقت ہے تو زمین و آسمانوں کے کناروں سے باہر نکل جاؤ۔ 2۔ جن اور انسان زمین و آسمانوں سے کبھی باہر نہیں نکل سکتے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں جن کا تذکرہ : 1۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ (الذاریات : 56) 2۔ جن غیب نہیں جانتے۔ (سبا : 14) 3۔ جن اور انسان مل کر اس جیسا قرآن بنا لاؤ۔ (بنی اسرائیل : 88) 4۔ جن و انس مل کر قیامت تک ایک سورة بھی اس جیسی نہیں بناسکتے۔ (البقرۃ : 23۔ 24) 5۔ اے انسانوں اور جن اگر تم خدا کی خدائی سے نکل سکتے ہو نکل جاؤ۔ ( الرحمن : 33) 6۔ اللہ تعالیٰ نے جنات کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا۔ ( سبا : 12)