Ayahs 55:37–45فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔
قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے ہر قسم کی حجت قائم ہوچکی ہوگی جس کے بعد مجرموں کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوئی ہوگی جس سے وہ پہنچانے جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ فرشتے انہیں کہیں گے کہ یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ جہنمی جہنم میں کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور مدہوشی کے عالم میں چکر کاٹیں گے اور ان پر سیاہ دھواں چھوڑ کر اوپر سے آگ کے انگارے برسائے جائیں گے۔ جہنمی کبھی ملائکہ سے فریادکریں گے اور کبھی اللہ تعالیٰ سے معافیاں مانگیں گے لیکن ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس قدرت کو جھٹلاؤگے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں دوبارہ سوال نہیں کیا جائے گا۔
2۔ مجرم اپنے چہروں سے پہنچانے جائیں گے اور انہیں پیشانی اور پاؤں کے بالوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
3۔ ملائکہ مجرموں سے کہیں گے کہ یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
4۔ جہنمی جہنم کا کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس میں انہیں ڈبکیاں دی جائیں گی۔
تفسیر بالقرآن
مجرموں کو جہنم میں مختلف قسم کی سزائیں دی جائیں گی :
1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔ (التوبہ : 35)
2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
3۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55)
4۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : 29)
5۔ ان کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوگی مگر ضریع ہے۔ جو انہیں موٹا نہیں کرے گا اور نہ بھوک میں کچھ فائدہ دے گا۔ (الغاشیہ : 6، 7) 6۔ جہنمیوں کو پینے کے لیے پیپ دی جائے گی۔ (النبا : 25)
7۔ کفار کے لئے اُبلتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔ (یونس : 4) 8۔ مجرموں کی چمڑیاں بار بار بدلی جائیں گی۔ (الحج : 20)
Ayahs 55:46–47فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کا مقام اور انعام۔
جو شخص قیامت کے دن سے پہلے اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے جنت میں دو باغ ہوں گے۔ اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر ایسا عمل ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے، انسان حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے، ظلم سے بچتا ہے اور ہر حال میں عدل پر قائم رہتا ہے۔ وہ نیکی کرنے کے باوجود اس پر اتراتا نہیں بلکہ ہر وقت اپنے رب سے لرزاں رہتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس بنا پر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ایک تنکا پکڑ کر کہا تھا کہ کاش ! میں انسان کی بجائے ایک تنکا ہوتا تاکہ قیامت کے دن کے حساب و کتاب سے بچ جاتا۔ (سیرت ابوبکر ؓ جس نے اپنے لیے آخرت کی فکر پیدا کرلی اس پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا کیونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کے فضل کے بغیر کوئی شخص جنت میں نہیں جاسکتا۔ آخرت کی فکر کی بنا پر نبی ﷺ نے فرمایا :
(عَنِ ابْنِ عَبَّاس ؓ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ ؓ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ قَدْ شِبْتَ قَالَ شَیَّبَتْنِی ہُودٌ وَالْوَاقِعَۃُ وَالْمُرْسَلاَتُ وَ (عَمَّ یَتَسَاءَ لُونَ ) وَ (إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ) قَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ لاَ نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَرَوَی عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ نَحْوَ ہَذَا وَرُوِیَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ شَیْءٌ مِنْ ہَذَا مُرْسَلاً ) (رواہ الترمذی : باب ومن سورة الواقعۃ)
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ابوبکر ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں آپ نے فرمایا سورة ہود، واقعہ، مرسلات، عم یتسالون اور سورة تکویر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ ) (معجم الاوسط : باب من اسمہ محمد قال البزار لیس بہ باس)
” حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردیں گے، محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے اپنے لیے آخرت کو بڑی فکر بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا۔ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پیدا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی فرماتا ہے۔ “
(اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بالْغَیْبِ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّ اَجْرٍ کَرِیْمٍ ) (یٰس : 11)
” آپ اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا اور بغیر دیکھے رحمٰن سے ڈرتا ہے، اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دیں۔ “
مسائل
1۔ آخرت کی فکر کرنے والے کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے۔
2۔ جن اور انسان اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ سے ڈرنے کے فوائد :
1۔ صبر کرو متقین کا انجام بہتر ہے۔ (ہود : 49) 2۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (النبا : 31 تا 33 )
3۔ متقی کے کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5)
4۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26)
5۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 62)
6۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34)
7۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
8۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15)
9۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17)
Ayahs 55:48–55فہم القرآن
ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔
” اللہ “ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دو چشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے رب سے ڈر کر زندگی بسر کریں تو انہیں ہر صورت جنت کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا۔ اللہ کے خوف کا پہلا تقاضا ہے کہ انسان اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کرے اور ہر قسم کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ جس نے اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش نہ کی حقیقت میں اس نے جنت اور اس کی نعمتوں کی تکذیب کی۔ اس لیے فرمایا کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کروگے۔
(وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ اُمَّتِیْ ےَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ اَبٰی قِےْلَ وَمَنْ اَبٰی قَالَ مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَد اَبٰی)
(رواہ البخاری : باب الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : میری تمام کی تمام امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے جنت میں جانے سے انکار کیا صحابہ ؓ نے پوچھا انکار کرنے والا کون ہوگا ؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔ “
مسائل
1۔ جنت کے باغ پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ 2۔ جنت کے باغات میں چشمے بہہ رہے ہوں گے۔
3۔ جنت کے باغوں میں تمام پھل دو دو قسم پر مشتمل ہوں گے۔ 4۔ انسانوں اور جنت کو اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔
5۔ جنتی جنت کے قالینوں پر تشریف فرما اور تکیوں پر ٹیک لگائے ہوں گے۔
6۔ جنت کے باغات کے پھل جنتی کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
جنت میں جنتی کا مقام اور جنت کی ایک جھلک :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : 28 تا 30)
4۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31)
5۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34)
6۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15)
7۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 8۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23)
9۔ جنت میں جنتی کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33)
10۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : 52) 11۔ جنتی کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21)
12۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : 76)
Ayahs 55:56–63فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ جنت کی عورتوں کا حسن و جمال اور حیاء۔
جنت میں شرمیلی اور نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں جنتی سے پہلے کسی انسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جنت کی حوریں اتنی خوبصورت ہوں گی جسے یاقوت اور مرجان خوبصورت اور پرکشش ہوتے ہیں یاد رہے کہ یاقوت اپنی سرخی میں بےمثال ہوتا ہے اور مرجان اپنی سفیدی میں بےمثل سمجھا جاتا ہے۔ جنتی کو اس لیے خوبصورت عورتیں دی جائیں گی کیونکہ یہ دنیا میں اللہ کے حکم کے مطابق نیکیاں کرتے رہے اور ہر نیکی کا بدلہ احسان ہی ہونا چاہیے۔
جنت کی عورتوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ انہیں انسانوں اور جنوں میں سے کسی نے چھوا نہیں ہوگا۔ اس سے مراد اگر دنیا کی نیک عورتیں ہیں تو اس کا معنٰی ہوگا کہ جب انہیں دوبارہ پیدا فرما کر جنت جانے کا حکم ہوگا تو اس وقت سے لے کر جنت میں داخلے تک انہیں کسی نے ہاتھ نہیں لگا یا ہوگا۔ اگر اس سے مراد صرف حوریں ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ جنت کی مخلوق ہیں اور جنتی سے پہلے انہیں نہ کسی نے دیکھا ہوگا اور نہ ہی کسی نے چھوا ہوگا۔ جہاں تک دنیا کی عورتوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرنے سے پہلے انہیں اتنا حسن و جمال دے گا کہ جنت کی حوریں بھی ان کے حسن و جمال پر رشک کریں گی اور وہ جنت میں حوروں کی سردار ہوں گی۔ جنت میں مردوں کو نیک بیویاں دی جائیں گی اور جنوں کو ان کی ہم جنس بیویاں ملیں گی۔ اس سے ثابت ہوا کہ نیک جنوں اور جننیوں کو بھی جنت میں داخلہ ملے گا اور برے جنوں اور جننیوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ یہاں جنت کی ہر نعمت کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟
جنت کے صلہ کا ذکر کرتے ہوئے دونوں مرتبہ احسان کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پہلے احسان کا معنٰی پُرخلوص نیکی ہے اور دوسری مرتبہ احسان کا لفظ استعمال کرنے کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے گویا کہ جنت میں داخل کرنا اللہ کا اپنے بندوں پر سراسر احسان ہوگا۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا احسان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ اسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ نہیں ہوسکتا تو یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الایمان)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم ایسے نہ ہوجاؤ کہ جس طرح کسی کو دیکھو ویسے ہوجاؤ۔ تم کہتے ہو اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان پر ظلم کریں گے۔ لیکن اپنے آپ کو اس بات کا عادی بنا لو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں تو تم ان پر ظلم نہ کرو۔ “ (رواہ الترمذی : باب ما جاء فی الاحسان والعفو، قال الترمذی ہذا حدیث حسن غریب )
مسائل
1۔ جنت کی عورتوں اور حوروں کو جنت میں جانے سے پہلے کسی مرد اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔
2۔ جنت کی عورتیں یاقوت اور مرجان سے زیادہ خوبصورت ہوں گی۔
3۔ احسان کا بدلہ احسان ہی ہونا چاہیے۔ 4۔ جنتی کو جنت میں داخل کرنا ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
جنت کی بیویوں کا حسن و جمال :
ا۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : 25 تا 38)
2۔ یا قوت و مرجان کی مانند ہوں گی۔ (الرحمن : 58) 3۔ خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔ (الرحمن : 70)
4۔ خیموں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ (الرحمن : 72) 5۔ شرم و حیا کی پیکر ہونگی اور انہیں کسی نے چھوا نہیں ہوگا۔ (الرحمن : 56)