55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsفہم القرآن

Ayahs 55:64–77

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

گھنے سرسبز و شاداب باغ ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح اچھلتے ہوئے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان میں کثرت کے ساتھ پھل اور کھجوریں اور انار ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان جنتوں میں خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ Open ayah 55:72 in the Quran reader

خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:73 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:74 in the Quran reader

جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہیں چھوا ہوگا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:75 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader

وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس قالینوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ جس طرح جنتوں کے درمیان درجہ بندی ہوگی اسی طرح جنت کے باغوں اور نعمتوں کے درمیان بھی فرق ہوگا۔ تاہم یہ جنت بھی اپنی خوبصورتی اور شادابی کے اعتبار سے دیکھنے میں کسی صورت بھی پہلی جنت سے کم نہیں ہوں گی۔ جس طرح اعلیٰ جنتوں میں چشمے جاری ہوں گے اسی طرح ہی ان جنتوں میں بھی چشمے جاری ہوں گے۔ جس طرح اعلیٰ جنت میں قسماں قسم کے پھل ہوں گے اسی طرح اس میں بھی کھجوروں، اناروں اور ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ جس طرح دوسری جنت میں نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں ہوں گی اسی طرح ان میں بھی خوبصورت عورتیں اور حوریں ہوں۔ پہلی جنت کی عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ شرمیلی اور نیچی نگاہ رکھنے والی ہوں گی۔ یہاں بھی باحیا اور ایسی عورتیں ہوں گی جو خیموں میں قیام پذیر ہوں گی۔ انہیں نہ کسی مرد نے دیکھا ہوگا اور نہ وہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کو دیکھنے والی ہوں گی۔ جس طرح پہلی جنت کی عورتوں کو کسی نے نہیں چھوا ہوگا اسی طرح ان جنتوں کی عورتوں اور حوروں کو بھی اس سے پہلے کسی جن اور انسان نے نہیں چھوا ہوگا۔ جس طرح پہلی جنت کی ایک ایک نعمت کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ اے جنوں اور انسانوں ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے ؟ اسی طرح ہی ان جنتوں کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ (وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ) ” اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (لَوْ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ إِلَی أَہْلِ الأَرْضِ لأَضَاءَ تْ مَا بَیْنَہُمَا) (رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الحور العین) ” اگر وہ آسمان سے نیچے جھانکے تو ہر چیز منور ہوجائے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَأَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْجَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ قَالَ وَ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) (رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ و رسول پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی جائے پیدائش میں ٹھہرا رہا۔ صحابہ نے کہا اللہ کے رسول ! تو کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ جگہ ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “ مسائل 1۔ دوسری جنتیں بھی خوبصورت اور سرسبز و شاداب ہوں گی۔ 2۔ ان جنتوں میں بھی چشمے ابل رہے ہوں گے۔ 3۔ ان جنتوں میں بھی کھجوروں اور اناروں اور ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ 4۔ اس جنت کی عورتیں بھی نہایت خوبصورت اور نیک سیرت ہوں گی۔ 5۔ اس جنت میں رہنے والی حوریں بھی خیموں میں مستور ہوں گی۔ 6۔ ان عورتوں کو بھی کسی مرد اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ 7۔ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کر وگے ؟
Ayah 55:78

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader

بابرکت ہے آپ کے رب کا نام جو بڑی شان والا اور عزت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد اس سورت کا اختتام اپنے مبارک نام اور جلال واکرام کے ذکر پر کیا ہے تاکہ لوگ اپنے رب کی قدرتوں، نعمتوں اور اس کے جلال کو یاد رکھیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو صحیح فکر اور راستے کی نشان دہی کرتا ہے۔ (وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا) (الاعراف : 180) ” اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے، ہیں سو اسے انہی ناموں کے ساتھ پکاراکرو۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ ) ( رواہ البخاری : باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی انہیں یاد کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “ (بشرطیکہ اس کا عقیدہ اور عمل بھی اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی کے مطابق ہو۔ ) باری تعالیٰ کا اسم اعظم ” اللہ “ ہے۔ یہ ایسا عظیم المرتبت اور عظیم الرّعب اسم عالی ہے جو صرف اور صرف خالق کائنات کی ذات کو زیبا اور اسی کے لیے مختص ہے۔ یہ ذات باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اس اسم مبارک کے اوصاف اور خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ کائنات میں انتہا درجے کے کافر، مشرک اور بدترین باغی انسان گزرے ہیں اور ہوں گے۔ جن میں اپنے آپ کو داتا، مشکل کشا، موت وحیات کا مالک کہنے والے حتی کہ ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعَلٰی “ کہلوانے والے بھی ہوئے ہیں۔ مگر ” اللہ “ کے نام کی جلالت وہیبت کی وجہ سے اپنے آپ کو ” اللہ “ کہلوانے کی کوئی جرأت نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کو سب کچھ مانتے اور کہتے تھے لیکن بتوں کو ” اللہ “ کہنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے۔ ” اللہ “ ہی انسان کا ازلی اقرار اور اس کی فطری آواز ہے جس بنا پر ہر کام ” بِسْمِ اللّٰہِ “ سے شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اسم مبارک اپنے آپ میں خا لقیت، مالکیت، جلالت و صمدیت، رحمن و رحیمیت کا ابدی اور سرمدی تصور لیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا نام 2697 مرتبہ وارد ہوا ہے۔ (عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ؓ قَالَتْ قَالَ لِی رَسُول اللَّہِ ﷺ أَلاَ أُعَلِّمُکِ کَلِمَاتٍ تَقُولِینَہُنَّ عِنْدَ الْکَرْبِ أَوْ فِی الْکَرْبِ اللَّہُ ” اللَّہُ رَبِّی لاَ أُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا “ ) (رواہ ابوداؤد : باب فِی الاِسْتِغْفَارِ ) ” حضرت اسماء بن عمیس ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تو مصیبت کے وقت پڑھا کر ! میں اللہ جو کہ میرا رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھراؤں گا۔ “