Ayahs 54:1–4فہم القرآن
ربط سورت : سورة النجم کا اختتام اس مضمون پر ہوا کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سورة القمر کی بتدا میں قرب قیامت کی ایک بڑی نشانی کا ذکر کیا گیا ہے۔
دین کا تیسرا بڑا عنوان قیامت ہے جس کی نشانیوں اور ہولناکیوں کا قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے وہ بات کو الجھانے کے لیے قیامت کے بارے میں کئی قسم کے سوالات کرتے تھے۔ نبی محترم ﷺ نے انہیں ہر طرح سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش فرمائی کہ قیامت ہر صورت آکر رہے گی۔ مگر مکہ والے اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ نبوت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے کہ ایک رات آپ ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے اور اہل مکہ کے کچھ سردار بھی موجود تھے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ چاند کی چودھویں رات تھی۔ مکہ والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ چاند کو دو ٹکڑے کرکے دکھا دیں تو ہم آپ اور قیامت پر ایمان لے آئیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارا مطالبہ پورا ہوجائے تو پھر ایمان لے آؤ گے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! اس پر آپ نے اللہ کے حکم سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور چاند کو اپنی انگلی کا اشارہ کیا۔ بس آپ کا اشارہ کرنا تھا کہ چاند دو ٹکڑے ہوا اور ایک لمحہ کے بعد اپنی پہلی حالت میں ضوفشاں ہونے لگا۔ اس قدر عظیم معجزہ دیکھنے کے باوجود کفار نے شور مچایا کہ یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ اس کا جادو آسمان پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے باطل نظریات کو ترجیح دی اور شق قمر کے معجزے کو جھٹلا دیا۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِیِّ ﷺ بِمِنًی فَقَالَ اشْہَدُوا وَذَہَبَتْ فِرْقَۃٌ نَحْوَ الْجَبَلِ.) ( رواہ البخاری : باب انشقاق القم)
” حضرت عبداللہ بن مسعود ﷺ نے بیان کیا جس وقت چاند دو ٹکڑے ہوا تو ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ منٰی کے میدان میں موجود تھے۔ چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا۔ آپ نے فرمایا لوگو ! گواہ رہنا۔ “
شق قمر پر اٹھنے والے اعتراضات اور ان کا جواب :
شق قمر پر اعتراض کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ اگر واقعی ہی چاند دو ٹکڑے ہوا تو اس وقت لوگوں کو اس عظیم واقعہ کا علم کیوں نہیں ہوا ؟ ایسے دانشوروں سے سوال ہے کہ انہیں کس نے بتایا ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوا تھا۔ اگر یہ واقعہ رونما نہ ہوا ہوتا تو قرآن مجید کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ چاند شق ہوگیا لیکن اس کے باوجود کفار کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے۔
1 ۔ کیا شق قمر پر اعتراض کرنے والوں کے پاس عرب کے چودہ سو سال کی تاریخ کا ریکارڈ موجود ہے جس بنا پر یہ لوگ شق قمر کا انکار کرتے ہیں۔
2 ۔ کیا شق قمر کا عمل گھنٹوں پر محیط تھا جو لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنتا اور اس زمانے کے تمام لوگ اس کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ بات تو اتنی ہے کہ ایک لمحہ کے لیے چاند دو ٹکڑے ہوا اور پھر اپنی اصلی حالت میں ضوفشاں ہونے لگا۔
دنیا میں ہر سال اور ہر ملک میں کتنی بارایسا ہوتا ہے کہ آسمانی بجلی ایک لمحہ کے لیے زمین پر اترتی ہے اور دوسرے لمحے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس وقت ہزاروں لوگ بارش کا نظارہ کررہے ہوتے ہیں۔ مگر انہیں بجلی کی آمد ورفت کی خبر نہیں ہوتی۔
3 ۔ سائنسدان ہر دور میں یہ مشاہدہ کرتے آرہے ہیں کہ بیشمار سیارے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں اور پھر اپنے مدار میں واپس پہنچ جاتے ہیں۔
شق قمر کی تاریخی شہادت :
پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے تفصیل کے ساتھ ایک آرٹیکل لکھا ہے کہ ہندوستان کی ریاست مالا بار کے راجہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس نے ایک وفد مکہ روانہ کیا۔ وفد کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی اور وفد کے لوگ مسلمان ہوگئے لیکن وفد واپس ہندوستان پلٹا تو راستے میں ایک آدمی کے سوا باقی سفر کی صعوبتوں کی وجہ سے فوت ہوگئے اس نے واپس آکر راجہ کو نبی ﷺ کے حالات بتلائے تو راجہ مسلمان ہوگیا اور اس نے مالا بار شہر میں ایک مسجد بنوائی۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے اس مسجد کی زیارت کی جس کا بیت اللہ کی بجائے مسجد اقصیٰ کی طرف تھا۔ یاد رہے کہ راجہ کے وفد کی ملاقات نبی ﷺ سے مدینہ میں ہوئی تھی۔ اس وقت نماز میں آپ ﷺ اپنا چہرہ بیت اللہ کی بجائے بیت المقدس کی طرف کرتے تھے۔
چاند اور سورج کا انجام :
اللہ تعالیٰ نے اس شق قمر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جس میں کھلے الفاظ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس قیامت کا تم انکار کرتے ہو اس کا ایک وقت مقرر ہے جو کسی کے انکار یا اقرار کی وجہ سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوگا تو اس کی ذات کے علاوہ ہر چیز فنا ہوجائے گی۔
قیامت کی نشانیاں :
قیامت کی تین قسم کی نشانیاں ہیں جن میں کچھ نبی ﷺ سے پہلے، کچھ آپ کے دور میں ظاہر ہوچکی ہیں اور کچھ قیامت سے پہلے نمودار ہوں گی اور باقی نشانیاں اس وقت ظاہر ہوں گی جب قیامت کی آمد آمد ہوگی جن کا اختصار درج ذیل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قیامت ہر صورت آنی ہے مگر میں نے اس کا وقت چھپا رکھا ہے۔ (الاعراف : 187)
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَا یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہٗ لَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہٗ إِلٰی فِیْہٖ وَلَا یَطْعَمُہَا وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیْطُ حَوْضَہٗ لَا یَسْقِیْ مِنْہٗ ) (رواہ احمد : مسند ابی ہریرۃ ؓ
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا کپڑا بیچنے اور خریدنے والا ابھی کپڑا سمیٹ نہیں سکیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ رہا ہوگا اور وہ اس کو پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اپنے منہ میں نہیں ڈال سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک آدمی اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا وہ اس سے پانی پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
” حضرت ابوہریرۃ ؓ آپ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ ایام میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا جنت سے اخراج ہوا، اور اسی دن ہی قیامت برپا ہوگی۔ “ (رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ )
مسائل
1۔ شق قمر قرب قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے جو ظاہر ہوچکی ہے۔
2۔ شق قمر کا معجزہ دیکھنے کے باوجود اہل مکہ نے اسے جادو قرار دیا۔
3۔ اہل مکہ اپنی خواہشات کے پیش نظر حقائق کو جھٹلایا کرتے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت اور ہر کام کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
Ayahs 54:5–8فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کے پاس شق قمر کا معجزہ اور دیگر دلائل آچکے ہیں لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے ظہور سے پہلے اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ہی عبرت حاصل کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہ صرف قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے ہیں بلکہ کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے سا تھیوں کے سامنے مردوں کو زندہ کرکے بھی دکھلایا ہے اور جو لوگ دلائل اور تنبیہات کے باوجود قیامت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ اس دن سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جس دن انہیں بلانے والا اس چیز کی طرف بلائے گا۔ جیسے یہ لوگ اچھا نہیں سمجھتے۔ یہ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان کی نگاہیں خوف کے مارے جھکی ہوئی ہوں گی اور یہ بکھری ہوئی ٹڈیوں کی طرح منتشر ہوں گے۔ قیامت کے منکر پکار پکار کر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری اور سخت ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے کہ جب اسرافیل دوسری مرتبہ صورپھونکے گا تو لوگ اپنے اپنے مقام پر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ سورة یٰس میں یہ بھی ذکر ہے کہ جب لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو وہ محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے کی طرف جاتا ہے۔ (المعارج : 43)
(وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ہُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنسِلُوْنَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَاہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ہُمْ جَمِیْعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ فَالْیَوْمَ لاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْءًا وَّلاَ تُجْزَوْنَ اِِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ( یٰسٓ: 51 تا 54)
” پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک لوگ تیزی سے دوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔ گھبرا کر کہیں گے کس نے ہماری خواب گاہ سے ہمیں اٹھا کھڑا کیا یہ وہ بات ہے جس کا رب رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچ تھی۔ یہ صرف زور دار آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے پیش کردیے جائیں گے۔ آج کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ “
(وَعَنْ جَابِرٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَامَاتَ عَلَیْہِ )
(رواہ مسلم : باب الأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ باللَّہِ تَعَالَی عِنْدَ الْمَوْتِ )
” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا : ہر شخص اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت ہوگا۔ “
” حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ“ سے مراد قرآن مجید ہے اور شق قمر کا معجزہ بھی قیامت کے ثبوت ہیں۔ اس کا یہ بھی معنی ہے کہ ایسی حکمت جس کے خلاف کوئی واضح دلائل نہ ہو۔
مسائل
1۔ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ ہر قسم کے دلائل اور تنبیہات کو خاطر میں نہیں لاتے۔
2۔ ” اللہ “ کی طرف سے لوگوں پر حجت پوری کردی گئی ہے مگر لوگ پھر بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے۔
3۔ قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو خوف کے مارے مجرموں کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔
4۔ قیامت کے دن لوگ ٹڈیوں کی طرف منتشر ہوں گے اور انہیں محشر کے میدان میں جمع کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن لوگوں کی حالت :
1۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہیں ہوگی وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26)
2۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : 27)
3۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامہ : 22) 4۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : 72)
5۔ مومنوں کے چہرے خوش و خرم ہوں گے (عبس : 38) 6۔ کفار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40)
7۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : 73) 8۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : 27 )
Ayahs 54:9–17فہم القرآن
ربط کلام : قیامت اور نبی ﷺ کی رسالت کو جھٹلانے والوں میں سر فہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جن کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے موقع کی مناسبت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے۔ یہاں منکرین کو سمجھانے کے لیے ایک مرتبہ پھر قوم نوح کا ذکر کیا ہے۔ قوم نوح بھی ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے رسول کو یکسر طور پر مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں دنیا میں بھی برے انجام سے دو چار ہوئے جس کا اس موقع پر یوں ذکر کیا جا رہا ہے کہ قوم نوح بھی ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلاچ کی ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے انہیں ساڑھے نوسوسال سجھایا مگر قوم نے انہیں ہر بار پاگل کہا اور اس پر زیادتی کی اور کہا کہ اے نوح ! تو باز نہ آیا تو ہم تجھے پتھر مار مار کر مار دیں گے۔ اس صورتحال میں نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے فریاد کی کہ میرے رب میں اپنی قوم کے سامنے مغلوب ہوگیا ہوں تو میری مدد فرما۔
” نوح نے کہا اے میرے پروردگار ! میں نے اپنی قوم کو تیری طرف رات دن بلایا ہے۔ مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور دور بھاگ گئے۔ میں نے جب بھی تیری بخشش کے لیے انہیں بلایاتو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا۔ “ (نوح : 5 تا 8)
(وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ آلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَلَا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا) (نوح : 23)
” اور کہا انہوں نے کہ اپنے معبودوں اور ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ “
( وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا اِِنَّکَ اِِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْا اِِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا) (نوح : 26، 27)
” اور حضرت نوح نے کہا کہ اے رب ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو نہ چھوڑ۔ اگر انہیں تو نے چھوڑ دے گا تو یقیناً یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے۔ “
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا کو قبول فرما لیا۔ جس کے نتیجے میں ان پر زوردار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے اور زمین کا اوپر نیچے کا پانی مل گیا جس سے اس قوم کو غرق کردیا گیا۔
” نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بیشک تیری قوم میں سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا مگر جو پہلے ایمان لا چکا جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس پر غمگین نہیں ہونا۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ اور مجھ سے ظالموں کے بارے میں گفتگو نہ کرنا یقیناً وہ غرق کیے جائیں گے۔ وہ کشتی بناتا رہا اور جب اس کے پاس سے اس کی قوم کے سردار گزرتے تو اس سے مذاق کرتے۔ وہ کہتا اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو ہم بھی تم سے مذاق کریں گے جس طرح تم مذاق کرتے ہو۔ پس تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا۔ کون ہے ؟ جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہونے والا ہے ؟ یہاں تک کہ ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابل پڑا۔ ہم نے فرمایا بیڑے میں ہر جنس کے دو دو جوڑے سے نرومادہ اور اپنے گھر والوں کو سوار کرلو اور ان کو بھی جو ایمان لے آئے سوائے اس کے جس پر پہلے بات ہوچکی۔ تھوڑے لوگ تھے جو اس پر ایمان لائے۔ نوح نے کہا اس میں سوار ہوجاؤ۔ کشتی کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ کے نام کے ساتھ ہے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلی جارہی تھی، نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک الگ جگہ میں تھا۔ اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو۔ “ (ہود : 36 تا 42)
(قَالَ سَاٰوِیْٓ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَ حَالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ ) (ہود : 43)
” اس نے کہا میں جلد ہی کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں۔ مگر جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی تو وہ غرق ہونے والوں میں سے ہوگیا۔ “
مسائل
1۔ اہل مکہ تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی انہیں جھٹلا چکی ہے۔
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان قوم نے پاگل کہا اور اس پر زیادتی کی۔
3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو اپنے سامنے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم سے انتقام لیا۔
6۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور جگہ جگہ زمین میں چشمے جاری کردیئے۔
7۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے واقعہ کو ان کے بعد آنے والے لوگوں کے لیے عبرت بنا دیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ :
1۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک ” اللہ “ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (المومنون : 23)
2۔ نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے سلامتی نازل فرمائی۔ (الصٰفٰت : 79)
3۔ نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے وحی کا نازل فرمائی۔ (النساء : 163) 4۔ نوح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام فرمایا۔ (مریم : 58)
5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا۔ (الانعام : 84) (الفرقان : 37)
6۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور تکذیب کرنے والوں کو غرق کردیا۔ (الاعراف : 64)
Ayahs 54:18–22فہم القرآن
ربط کلام : نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام ذکر کرنے کے بعد قوم عاد کے بارے میں ارشاد ہوا کہ سوچو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور ڈرانا کس طرح خوف ناک تھا جسے قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔
قوم عاد کی مختصر تاریخ جاننے کے لیے سورة الذاریات کی آیت 41 تا 42 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں !
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے ہی آسان اور سادہ الفاظ میں لوگوں کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے تو قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی کتاب آسان اور پر تاثیر نہیں ہوسکتی۔ جو آدمی صراط مستقیم پر چلنا چاہے اسے اس کتاب کو سمجھنا اور صراط مستقیم کو پانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ قرآن مجید کے مطالب اور مفاہیم کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ کیونکہ ہر زبان کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کے قواعد کو جاننے کے لیے ایک ماہر استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص اس کتاب کے رموز و اسرار کو کما حقّہ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر قرآن مجید نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے کھول کھول کر بیان کریں اور لوگ اس پر غور و فکر کریں۔
(وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْءَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) (النحل : 43، 44)
” اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ آدمی تھے جن کی طرف ہم نے وحی کی۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔ واضح دلائل اور کتابیں دے کر اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت اتاری تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ قوم عاد کو سخت ترین عذاب دے کر ان کو آنے والے لوگوں کے لیے عبرت بنا دیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے آسان کردیتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قوم عاد کے جرائم اور ان کا انجام :
1۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
2۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
3۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہوسکتا ہے ؟ (حٰم السجدۃ : 15)
4۔ رسولوں کی نافرمانی قوم عاد کی تباہی کا سبب ثابت ہوئی۔ (ھود : 59)
5۔ قوم عاد نے ھود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : 22)
6۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا، قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 60)
7۔ قوم عاد بڑے سفاک اور ظالم لوگ تھے۔ ( النجم : 52)
8۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : 6)
قوم عاد کی دنیاوی ترقی کی ایک جھلک :
1۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 )
2۔ قوم عاد بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغبانی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133)
Ayahs 54:23–32فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا تذکرہ۔
قوم ثمود کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے شعبے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کرلیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے جنہوں نے طویل مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نوح اور قوم عاد کی طرح انہوں نے بھی اپنے رسول یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلا دیا۔
قوم کے جواب اور الزامات :
1۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : 62)
2۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے آ رہے ہیں۔ (ھود : 62)
3۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : 74)
4۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : 25)
5۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تیری پیروی کریں۔ (القمر : 24)
6۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 153) 7۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141)
حضرت صالح (علیہ السلام) کا قوم کو باربار سمجھانا :
1۔ اے میری قوم ! اللہ سے ڈر جاؤ اور میری باتوں پر غور کرو۔ (الشعراء : 144)
2۔ میں تم سے اللہ کے احکام سنانے پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعراء : 145)
3۔ اے میری قوم ! میں واقعی اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ (ھود : 63)
4۔ اے قوم ! یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (ھود : 64)
5۔ میں تمہیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں جب کہ تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے ہو۔ (الاعراف : 79)
6۔ اے میری قوم ! ” اللہ “ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73)
7۔ اے میری قوم ! تمہیں عاد کے بعد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الاعراف : 74)
8۔ اے میری قوم !” اللہ “ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر اس کا شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 74)
Ayahs 54:33–40فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم لوط کا کردار اور انجام۔
حضرت لوط، حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے اختیار نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کی بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ وہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مبتلا تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ قوم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔ (الشعراء : 167) اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ بھی کیا۔ (العنکبوت : 29)
حضرت لوط (علیہ السلام) کا وعظ و نصیحت کرنا :
قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں، اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا اجر نہیں مانگتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمے ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو۔ تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ (الشعراء : 160 تا 166)
قوم کا جواب :
کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے کام کا سخت مخالف ہوں۔ (الشعراء : 167 تا 168) لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم یہ بےحیائی کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی۔ (الاعراف : 80)
” ان کی قوم سے اس کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا کہ وہ کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ “ (الاعراف : 80 تا 82)
” حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو مسافروں پر ڈاکہ ڈالتے ہو اور ہر قسم کی برائی میں ملوث ہو۔ “ (العنکبوت : 29)
قوم کا جواب :
” اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ۔ “ (العنکبوت : 29)
حضرت لوط (علیہ السلام) کی ” اللہ “ کے حضور فریاد :
” اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ “ (العنکبوت : 30)
قوم لوط کے ہاں عذاب کے فرشتوں کی آمد :
قرآن مجید تفصیل سے ذکر کرتا ہے کہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی۔ جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ خوشخبری کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے پوچھا کہ تمہارا کیا پروگرام ہے ملائکہ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے عرض کی کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حوصلہ مند اور نرم خو تھے۔ ملائکہ نے ان سے کہا کہ اب اس بات کو جانے دیں کیونکہ ” اللہ “ کا حکم آچکا ہے لہٰذا اس عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (ہود : 69 تا 76)
عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں :
جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ لیکن وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ (ہود : 78)
” بےحیا کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کیا سروکار، تو جانتا ہے کہ ہم کس ارادہ سے آئے ہیں لوط (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آج کا دن میرے لیے بڑا بھاری دن ہے۔ کاش تمہارے مقابلے میں میرا کوئی حمایتی ہوتا یا کوئی پناہ گاہ جہاں میں تم سے بچ نکلتا۔ “ (ہود : 79، 80)
ملائکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں :
عذاب کے فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ اے اللہ کے نبی دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ بےحیا آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس آپ اہل ایمان کو لے کر رات کے پچھلے پہر ہجرت کر جائیں۔ ہاں یاد رہے کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جاسکیں گے کیونکہ اسے بھی وہی عذاب ہوگا۔ جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہوں گے۔ یہ عذاب ٹھیک صبح کے وقت نازل ہوگا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) گھبراہٹ کے عالم میں پوچھتے ہیں کہ صبح کب ہوگی ؟ ملائکہ نے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صبح تو ہونے ہی والی ہے چناچہ صبح کے وقت رب ذوالجلال کا حکم صادر ہوا تو اس دھرتی کو اٹھا کر نیچے پٹخ دیا گیا۔ پھر ان پر مسلسل نامزد پتھروں کی بارش کی گئی۔ (ھود : 69 تا 83)
(فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُود مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ ) (ھود : 82، 83)
” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر نشان زدہ تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “
بحرمردار (میت):
دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اس کا کل رقبہ 351 مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ ہے یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب لوط (علیہ السلام) سے پہلے اس جگہ کوئی سمندر نہیں تھا۔ جب اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ “
1۔ اس کے پانی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد لگا یا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
2۔ اسکے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنیوالی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں۔ اہل عرب اسکو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بد ترین کردار اور انجام :
1۔ دنیا میں ہم جنسی کی ابتدا قوم لوط نے کی۔ (الاعراف : 80) 2۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھا۔ (الاعراف : 81)
3۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے ہی بدکاریاں کیا کرتے تھے۔ (ھود : 78)
4۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : 80)
5۔ ہم نے اس بستی کو الٹ کر اس پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : 74)
6۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82)