Ayahs 53:1–2فہم القرآن
ربط سورت : سورة الطور کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جب ستارے غروب ہونے کے وقت ہو تو اپنے رب کو یاد کیا کرو۔ اس مناسبت سے سورة النجم کا آغاز ستارے کی قسم سے ہورہا ہے۔
عربی زبان میں حرف واؤ کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اسے قسم کے معنٰی میں استعمال کیا گیا ہے۔ رب ذوالجلال کا ارشاد ہے کہ مجھے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم۔ تمہارا ساتھی نہ بہکا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے۔ نبی معظم ﷺ کے بارے میں اہل مکہ یہ پراپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ آپ صحیح راستے سے بہک گئے ہیں، کچھ لوگ کہتے کہ محمد ﷺ گمراہ ہوچکے ہیں۔ خیال رہے کہ اہل لغت راستہ بھول جانے والے مسافر کے لیے ضلّ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جو شخص اپنے نفس کی پیروی میں یعنی جان بوجھ کر صحیح راستے سے ہٹ جائے اس کے لیے ” غَوٰی “ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ رب ذوالجلال نے ان الزمات کی تردید کرنے سے پہلے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا ساتھی نہ بہکا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا ہے۔ صاحب سے مراد نبی معظم ﷺ ہیں اور ” کُمْ “ کی ضمیر کے مخاطب اہل مکہ ہیں۔ عربی زبان میں عام طور پر صاحب کا لفظ پرانے ساتھی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صاحب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ رشتے، ناطے اور رہن سہن کے حوالے سے تمہارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے تم میں چالیس سال کا عرصہ گزارا ہے تم اس کے حسب ونسب، بچپن، جوانی اور اس کی جلوت اور خلوت سے پوری طرح واقف ہو۔ اعلان نبوت سے پہلے اور اب تک اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوئی اور نہ ہوگی کہ جس بنا پر انہیں بہکا ہوا یا بھٹکا ہوا کہا جائے۔ ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ان لوگوں کی بھی نفی کی گئی ہے جو سمجھتے تھے کہ انسان کی قسمت میں ستاروں کا عمل دخل بھی ہوا کرتا ہے۔ ستارے کے ڈوبنے کا ذکر فرما کر واضح کیا ہے کہ جو ڈوب جائے وہ کسی کی بگڑی نہیں بنا سکتا ہے۔ یہی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمائی تھی کہ ڈوبنے والے معبود یعنی مشکل کشا نہیں ہوتے۔ (الانعام : 76 تا 80)
مسائل
1۔ اللہ کے رسول کو مشرکین بہکا ہوا کہتے تھے جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم اٹھا کر فرمائی ہے۔
Ayahs 53:3–6فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے الزامات کی تردید کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ وحی کے بغیر نبی ﷺ نہیں بولتے۔ لہٰذا نبی ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی قسم اٹھائی ہے کہ نبی ﷺ کا اپنی خواہش کے پیچھے چلنا تو درکنار آپ اپنی مرضی سے دین کے معاملہ میں لب کشائی نہیں کرتے۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے اور کرتے ہیں وہ آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ جو فرشتہ آپ کو وحی پہنچاتا ہے وہ جبرائیل امین ہے جو بڑا طاقت والا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ آپ تک پہنچایا ہے وہ اللہ کے حکم سے پہنچایا : (اور آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ البقرۃ : 97) اہل علم نے ” ذُوْمِرَّۃٍ “ کے تین معانی کیے ہیں۔ بڑا طاقتور، خوبصورت اور صاحب حکمت۔ حضرت جبرائیل میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔
(عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یکَرِبَ الْکِنْدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ ) (مسند احمد : باب حدیث المقدام بن معدیکرب، حکمہ صحیح)
” مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار بیشک مجھے کتاب اور اس جیسی اور چیز عطا کی گئی ہے۔ خبردار مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز عطا کی گئی ہے۔ “
” عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! جو کچھ میں آپ سے سنتا ہوں لکھ لیا کروں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کبھی خوش ہوتے ہیں اور کبھی ناراضگی کی حالت میں۔ آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو ! کیونکہ میں حق کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا۔ “ (رواہ ابوبکر فی مسند البزار : باب ہَذَا مَا حَدَّثَ بِہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قال البانی اسنادہ حسنٌ)
Ayahs 53:7–11فہم القرآن
ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔
جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ ﷺ کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ ﷺ کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی ﷺ نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت واقعہ دیکھتا ہے تو اس کی نظر اور دل میں مطابقت نہیں رہتی۔ آنکھ منظر دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن دل اس منظر پر پوری طرح یقین نہیں کرتا کیونکہ ایسا واقعہ یا منظر اس سے پہلے اس نے دیکھا نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کے احاطہ خیال میں وہ چیز پوری طرح سما نہیں پاتی۔ جس بنا پر آنکھ اور دل میں یگانگت باقی نہیں رہتی۔ بعض دفعہ بےانتہا جمال یا ہیبت ناک جلال دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ یہاں اسی حالت کی نفی کی گئی ہے کہ نبی معظم ﷺ نے جبریل امین کو اپنے پاس دو کمانوں سے بھی قریب دیکھا اور آپ کے دل نے اس کی پوری طرح تصدیق کی کہ واقعی ملائکہ کے سردار جبریل امین ہیں۔ اس حالت میں نبی ﷺ پر وحی کی گئی جو اللہ نے وحی کرنا تھی۔ جس وحی کا امت کے ساتھ تعلق تھا نبی ﷺ نے اسے امت تک پہنچایا۔ اس موقع پر آپ پر جو وحی کی گئی اس میں سب سے نمایاں تین ارشادات تھے۔
1۔ پچاس نمازیں فرض ہونا جنہیں بعد میں پانچ کردیا گیا۔ (رواہ البخاری : باب المعراج)
2۔ جو شرک سے بچا رہا اللہ تعالیٰ اس کے باقی گناہ معاف کر دے گا۔ (النساء : 48) 3۔ سورة البقرہ کی آخری دو آیات۔
Ayahs 53:12–16فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے بیان کیا لیکن کفار اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔
نبی (علیہ السلام) نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہی جنت الماویٰ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ کی انوار و تجلیات کا مسلسل نزول ہوتا ہے۔ ” اَلْمُنْتَہٰی “ کا معنٰی انتہا ہے جس کا اہل علم نے یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی پہنچ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے نیچے کی مخلوق کے لیے عالم سفلٰی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس سے اوپر کے لیے سدرۃ المنتہیٰ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس سے اوپر ” اللہ “ کی مخلوق میں سے کوئی نہیں جاسکتا گویا کہ یہاں سے حریم کبریا کا مقام شروح ہوجاتا ہے اور سدرۃ المنتہیٰ جنت الماویٰ کے قریب ہے۔ الماویٰ کے بارے میں اہل تفسیر نے تین باتیں لکھی ہیں۔
1۔ جنت کا اعلیٰ ترین مقام۔ 2۔ الماویٰ میں قیامت سے پہلے شہیدوں کی روحوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
3۔ سدرۃ المنتہیٰ کا ایک منظر :
” حضرت ثابت بنانی (رح) حضرت انس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس ایک براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا جانور تھا ‘ جس کا قد لمبا اور وہ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اس کا قدم اس کی حد نگاہ پر پڑتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس پہنچا۔ میں نے براق کو اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے انبیاء (علیہ السلام) باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور دو رکعتیں ادا کیں۔ میں باہر نکلا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایک شراب اور ایک دودھ کا برتن پیش کیا تو میں نے دودھ کو پسند کیا۔ اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : آپ نے فطرت کو پسند فرمایا ہے پھر آسمان کی طرف ہمارا عروج شروع ہوا۔ اس کے بعد حضرت انس ؓ نے سابق حدیث والا مضمون بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ تب حضرت آدم (علیہ السلام) میرے سامنے تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا انہوں نے میرے لیے خیروبرکت کی دعا کی۔ اسی طرح آپ نے فرمایا : تیسرے آسمان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) جنہیں حسن کا آدھا حصہ عطا کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر و برکت کی دعا کی۔ پھر ساتویں آسمان کے متعلق بتایا کہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے تھا۔ وہ بیت المعمور سے پیٹھ ٹکائے بیٹھے تھے۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور جن کی باری پھر کبھی نہیں آتی۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے جایا گیا۔ اس بیری کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر مٹکوں کے برابر تھے۔ جب اللہ کے حکم سے اس درخت کو کسی ڈھانپنے والی چیز نے ڈھانپ لیا، تو اس کی حالت بدل گئی۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کوئی بھی اس درخت کی خوب صورتی کو بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو وحی بھیجنی تھی اس کا نزول فرمایا اور مجھ پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پھر میری منزل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تھی۔ انہوں نے پوچھا : آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟ میں نے بتایا دن رات میں پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں۔ بلا شبہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ کیونکہ میں نے بنی اسرائیل کو آزما کر دیکھا ہے۔ آپ نے فرماتے کہ میں اپنے رب کی طرف واپس گیا اور درخواست پیش کی۔ یا رب ! میری امت کے لیے کمی کر دے۔ مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئیں۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف پلٹا اور ان کو بتایا کہ پانچ گھٹا دی گئیں۔ انہوں نے فرمایا : آپ کی امت اس کی بھی متحمل نہیں ہوسکتی، اپنے رب کی طرف جائیں اور ان سے مزید تخفیف کی فریاد کریں۔ آپ نے فرمایا کہ اسی طرح میرا، اپنے پروردگار اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آنا جانا مسلسل جاری رہا، حتیٰ کہ مجھے حکم ہوا، یا محمد ﷺ ! اب ہر دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔ ہر نماز کا اجر دس کے برابر ہے۔ اس طرح یہ ثواب میں پچاس نمازیں ہیں۔ جس کسی نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر اس پر عمل کرلیا تو اس کے لیے دس گنا ثواب ہوگا۔ جس نے برائی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو اس کا گناہ نہیں لکھا جائے گا اور اگر عمل کرلیا تو صرف ایک گناہ لکھا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : پھر واپسی کا سفر شروع ہوا۔ یہاں تک کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا۔ انہیں تمام احوال بتائے تو انہوں نے فرمایا : اپنے رب کے پاس جائیں اور ایک دفعہ پھر مزید کمی کی درخواست کریں۔ اس پر آپ نے فرمایا میں اتنی بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوا ہوں کہ اب مجھے حیا آتی ہے۔ “ (رواہ مسلم : باب فی المعراج)
دنیا میں سدرۃ کا معنی بیری ہے :
سترہویں صدی عیسوی میں لبنا سے لے کر نیویارک تک ایک درخت سدرہ کے نام پر پایا جاتا تھا۔ حوادث زمانہ کی وجہ سے 19037 ء سے اس کی نسل تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی نے اپنی کتاب نباتات قرآن میں اس درخت کی اونچائی ایک سو پچاس فٹ اور گولائی چالیس فٹ لکھی ہے اور کتاب میں اس کے پھل کی تصویر دی ہے جسے حدیث کے الفاظ میں ھجر کے مٹکوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ اس درخت کے جلال اور جمال کو دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اپنے دور میں یہ درخت پوری دنیا میں سب سے بڑا اور حسین ترین درخت سمجھا جاتا تھا۔ بائبل میں اس کا تذکرہ ( REZE) کے نام سے کیا جاتا ہے۔ (تفصیل جاننے کے لیے ڈاکٹر اقتدار فاروقی کی نبات القرآن ملاحظہ فرمائیں۔ )
نبی ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ دیکھا ہے :
جبرائیل امین (علیہ السلام) تمام ملائکہ کے سردار ہیں اور ہر نبی کے پاس ” اللہ “ کا پیغام لاتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سات سو پر عطا فرمائے ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کو اس کی اصل حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے پہلی مرتبہ پہلی وحی کے وقت غار حرا کے پاس اور دوسری مرتبہ ” سدرۃ المنتہیٰ “ کے مقام پر دیکھا جس کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔
( وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی) (النجم : 13 تا 15)
” اور ایک مرتبہ پھر اس نے اس کو اترتے دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ “
(حَدَّثَنَا الشَّیْبَانِیُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَیْشٍ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ : (فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی) (النجم : 9) قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ رَأَی جِبْرِیلَ لَہُ سِتُّمِاءَۃِ جَنَاحٍ ) (رواہ مسلم : باب فی ذکر سدرۃ المنتہیٰ )
حضرت شیبانی ؓ کہتے ہیں میں نے زر بن حبیش (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں سوال کیا (فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی) انہوں نے مجھے بتلایا کہ مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان کے سات سو پر تھے۔
مسائل
1۔ نبی معظم ﷺ نے جبریل امین کو اس کی اصلی حالت میں دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔
2۔ سدرہ بیری کے درخت کی مانند کوئی درخت ہے۔
Ayahs 53:17–18فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں معراج کے واقعہ کا ذکر جاری ہے۔
نبی معظم ﷺ نے جبریل امین، سدرۃ المنتہیٰ اور اپنے رب کی قدرت کی عظیم ترین نشانیوں کو براہ راست دیکھا۔ لیکن آپ ﷺ کی آنکھ نہ جھپکی اور نہ ہی آپ کی نظر ادھر ادھر اٹھی بلکہ آپ پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے رب کی قدرت کی عظیم نشانیوں کو دیکھتے رہے جن کے بارے میں آیت گیارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق کی۔ اب ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ ادھرا دھر اٹھی۔ گویا کہ آپ نے پوری یکسوئی، کامل توجہ، بھرپور اعتماد اور پورے وقار کے ساتھ شہنشاہ عالم کی عظیم قدرت کو ملاحظہ فرمایا۔ اس موقعہ پر آپ ﷺ کی شخصیت اور روحانی قوت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جسمانی اور روحانی طور پر ایسی قوت اور صلاحیت عطا فرمائی تھی جو آپ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی گئی۔
کیا آپ ﷺ اپنے رب کو دیکھا تھا ؟:
جن صحابہ کی توجہ آپ ﷺ کی شخصیت اور معراج کے واقعہ کی طرف مبذول رہی ان کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے، اور جن صحابہ کی توجہ رب کی کبریائی اور قدرتوں کی طرف گئی ہے ان کا اعتقاد ہے کہ آپ ﷺ نے رب کبریا کو براہ راست نہیں دیکھا اور نہ اسے کوئی دیکھ سکتا ہے۔
1۔ صحابہ کرام میں نہایت ہی قلیل تعداد ان لوگوں کی ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے۔ ان میں سر فہرست حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ہیں جن کا فرمان ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب کی دل کے ساتھ زیارت کی ہے، گویا کہ آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کے وہ بھی قائل نہیں تھے۔
(وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی قَالَ رَاٰہُ بِفُؤَادِہٖ مَرَّتَیْنِ.) (رواہ مشکوٰۃ : باب رؤیۃ اللّٰہ)
” حضرت ابن عباس ؓ (مَا کَذَبَ الْفُؤٰدُ مَارَاٰی وَلَقَدْ رَأٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کو اپنے دل کی آنکھوں سے دو مرتبہ دیکھا۔ “
بعض مفسرین نے ابن عباس ؓ کے بیان کو نقل کرنے کے باوجود لکھا ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے حالانکہ ان کا فرمان ہے کہ آپ ﷺ نے دل کے ساتھ اپنے رب کی زیارت کی ہے نہ کہ آنکھ کے ساتھ۔
حضرت ابوذر ؓ کا نبی ﷺ سے سوال، آپ کا جواب :
(عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ ؓ قَالَ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ قَالَ نُوْرٌ أَنّٰی أَرَاہُ )
(رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب فی قولہ نور أنی أراہ وفی قولہ رأیت نورا)
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ “
حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم نے آپ ﷺ سے سوال کیا دنیا میں کون سی جگہ سب سے بہتر ہے ؟ آپ جبریل (علیہ السلام) کے آنے تک خاموش رہے جب جبریل آگئے تو آپ ﷺ نے ان سے سوال کیا انہوں نے کہا جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا یعنی مجھے بھی اتنا ہی علم ہے جتنا آپ کو ہے لیکن میں نے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ہے پھر جبریل (علیہ السلام) نے کہا کہ آج میں اللہ تعالیٰ کے اتنا قریب ہوا ہوں جتنا قریب میں کبھی نہیں ہوا آپ ﷺ نے سوال کیا اے جبریل (علیہ السلام) کتنے قریب ؟ تو انہوں نے کہا کہ میرئے اور اللہ تعالیٰ کے درمیاں صرف ستر ہزار نور کے پردوں کا فاصلہ تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ دنیا میں سب سے بری جگہ بازار اور سب سے اچھی جگہ مساجد ہیں۔ “ (مشکوۃ المصابیح : بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاۃ، قال الشیخ البانی ہذا حدیث حسن)
حضرت عائشہ ؓ کا فرمان اور ان کی دلیل :
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جو تمہیں یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو بلاشبہ وہ جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اس کو آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں “ اور جو کوئی تمہیں یہ کہے کہ آپ غیب جانتے ہیں تو وہ بھی جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اللہ کے علاوہ کوئی غیب نہیں جانتا۔ “
(رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا)
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اس کے چھ سو پر تھے۔ “ (رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ وَالنَّجْمِ )
مسائل
1۔ آپ ﷺ مشکل سے مشکل حالات میں بھی گھبراتے نہیں تھے۔ بلکہ اپنے حواس قائم رکھتے تھے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے معراج کے موقع پر اپنے رسول ﷺ کو بڑی بڑی نشانیاں دیکھائیں۔
Ayahs 53:19–22فہم القرآن
ربط کلام : رب کبریا کو چھوڑ کر لات عزّٰی اور منات وغیرہ کی عبادت کرنے والوں کی مذمت۔
اللہ تعالیٰ نے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ نہ بہکے ہیں اور نہ ہی صحیح عقیدہ اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہیں۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اللہ کی وحی کے مطابق ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ پر وحی لانے والا جبریل امین بڑا طاقتور، نہایت سمجھدار، باصلاحیت اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ آپ نے اسے اس کی اصلی حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دو کمانوں سے بھی قریب تردیکھا۔ نہ آپ ﷺ کی آنکھ چندھائی اور نہ ہی آپ نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب کی نشانیوں کو براہ راست دیکھا اور واپس آکر مِن وعن بیان فرمایا جس کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے لیکن اس کے باوجود اے اہل مکہ تم لات، عزّٰی اور منات کی عبادت کرتے ہو۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ تم اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم نے اپنے معبودوں کے نام لات، منات اور عزیٰ رکھ لیے ہیں۔ جنہیں داتا، دستگیر، لجپال اور مشکل کشا سمجھتے ہو۔ اس کی تمہارے اور تمہارے آباء و اجداد کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ محض اپنے خیالات اور جذبات کی پیروی کرتے ہو۔ حالانکہ تمہارے رب کی طرف سے اس کی توحید کے اثبات اور بتوں کی تردید کے لیے واضح دلائل آچکے ہیں۔
1۔ لات :
” لات “ لفظ اللہ کی تانیث یعنی مؤنث ہے۔ یہ بت طائف میں رکھا گیا تھا۔ اہل طائف اور دوسرے مشرکین کو اس کے ساتھ اتنی عقیدت تھی جب ابرہہ نے بیت اللہ پر حملہ کیا تو طائف والوں نے لات کے دربار کو بچانے کے لیے ابرہہ کی مدد کی۔ لوگ اس بت کے سامنے رکوع و سجود اور نذرونیاز پیش کرتے تھے۔ اللہ کے رسول نے مکہ اور حنین فتح کرنے کے بعد طائف کا محاصرہ کیا تو طائف والوں نے ایک مہینہ تک اپنا دفاع کیا۔ نبی ﷺ نے محسوس کیا کہ طائف کے لوگ تھک چکے ہیں مگر اپنی ضد کی بنا پر ہتھیار پھنکنے اور مسلمان ہونے کے لیے تیار نہیں۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی ” اَللّٰھُمَّ اھْدِوَأْتِ بِھِمْ “ الٰہی ! انہیں ہدایت دے تاکہ یہ خود ہی میرے پاس آجائیں۔ آپ ﷺ کی دعا کا اثر تھا کہ تھوڑی ہی مدت بعد طائف کا وہ سردار جس نے آپ پر پتھراؤ کرایا تھا بھاری بھرکم وفد لے کر مدینہ میں حاضرہوا اس کا نام عبدیالیل تھا۔ اس نے آپ ﷺ کے ساتھ مذاکرات کیے اور اسلام لانے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ شرط رکھی۔
1۔ ہمیں نماز سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔
2۔ لات کو یوں کا توں رہنے دیا جائے۔ آپ ﷺ نے یہ شرط قبول نہ کی۔ سردار عبد یا لیل نے کہا کہ کم از کم اسے چھ مہینے تک رہنے دیا جائے۔ آپ ﷺ نے اس بات کو بھی قبول نہ کیا۔ بالآخر اس نے یہ درخواست کی کہ ہمارے واپس جانے کے بعد اس کو مسمار کرنے کے لیے آدمی بھیجیں، آپ ﷺ نے یہ شرط قبول فرمالی۔ جب آپ نے کچھ صحابہ کو طائف بھیجا تو وہ لات کی عمارت کو گرانے لگے تو مجاوروں نے کہا خبردار ! آگے نہ بڑھنا ہماری دیوتی تمہیں تباہ کردے گی۔ صحابہ ؓ نے اسے بنیادوں سے اکھاڑ پھینکا تب جاکر لوگوں کو یقین ہوا کہ بت نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔
2۔ العزّٰی :
العزّٰی کا معنٰی ہے عزت والی۔ مشرک بالخصوص اس سے عزت طلب کیا کرتے تھے۔ عزّٰی کا بت مکہ اور طائف کے درمیان نصب تھا۔ لوگ اس کے سامنے بھی رکوع و سجود کرتے اور اس کے سامنے نذرونیاز پیش کرتے تھے۔
3۔ منات :
اس کا مجسّمہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر رکھا ہوا تھا۔ عرب کے بعض قبائل حج سے فارغ ہو کر سیدھے منات کے مندر پر جاتے اور عرفات سے ہی لبیک یامنات کہنا شروع کردیتے اور وہاں پہنچ کر منات کا طواف کرتے۔ قرآن مجیدنے منات کو تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے اور اس کے لیے ” اَ لْاُخْریٰ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ مشرکین کا تیسرا بڑا بت تھا۔ اس کا احترام لات اور عزّٰی سے نسبتاً کم تھا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے نزدیک اس کا دیدار حج کے بعد دوسرے حج کا درجہ رکھتا تھا۔
4۔ ہُبل :
ہُبل کو بیت اللہ کی کی چھت پر رکھا گیا تھا۔ مشرک اسے رب الارباب کا درجہ دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُ حد کے میدان میں جب مکہ والوں کو جزوی طور پر فتح حاصل ہوئی تو ابو سفیان نے اُعْلو ہبل کا نعرہ لگایا جس کا صحابہ ؓ نے ” اَللّٰہُ اَعْلیٰ وَ اَجَلْ “ کے نعرے سے جواب دیا۔ قرآن مجید نے تین بڑے بتوں کا نام لیا ہے۔ تینوں کے نام ہی مؤنث ہیں اور آج بھی چین، جاپان، برما اور ہندوستان کے اکثر بتوں کے نام عورتوں کے نام پر اور ان کی شکلیں بھی عورتوں جیسی بنائی گئی ہیں۔ جو نہایت خوبصورت اور پرکشش ہوتی ہیں۔ جس طرح مکہ والوں کا عقیدہ تھا کہ ملائکہ ” اللہ “ کی بیٹیاں ہیں اسی طرح جاپان، چین اور دیگر ممالک کے کروڑوں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کی سوئی ہوئی فطرت کو بیدار کرنے کے لیے سوالیہ انداز میں سمجھایا ہے کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہو اور ” اللہ “ کے لیے بیٹیاں ؟ حالانکہ نہ اس کے بیٹے ہیں اور نہ بیٹیاں۔” یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے وہ تو اس سے پاک ہے۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت ہے، اور ہر کوئی اس کا تابعدار ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کو ابتداً پیدا کرنے والا ہے۔ جو کام کرنا چاہتا ہے تو صرف حکم دیتا ہے کہ ہوجا وہ ہوجاتا ہے۔ “ (البقرۃ : 116، 117) کتنی بری تقسیم ہے۔ سوچو اور غور کرو کہ کس طرح گناہ در گناہ کا ارتکاب کیے جاتے ہو۔ پہلاتمہارا گناہ یہ ہے کہ اللہ کی بیوی نہیں اور دوسرا گناہ یہ ہے کہ اس کی اولاد نہیں تم کہتے ہو کہ اس کی اولاد ہے۔ (مریم : 91، 92)
کسی کو اللہ کی اولاد کہنا بہت بڑا گناہ ہے :
(وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا)
(مریم : 88 تا 92)
” کہتے ہیں کہ رحمٰن کی اولاد ہے۔ بہت ہی بیہودہ بات ہے جو تم کہہ رہے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ اس بات پر کہ انہوں نے الرحمان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ الرحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ أُرَاہُ یَقُول اللَّہُ شَتَمَنِی ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِی، وَتَکَذَّبَنِی وَمَا یَنْبَغِی لَہُ ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِی کَمَا بَدَأَنِی) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں اور وہ میری تکذیب کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے لائق نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد پکڑی ہے اور مجھے جھٹلانا اس کا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ نہیں لوٹایا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا۔ “
مسائل
1۔ مشرکین کے اکثر بتوں کے نام مونث ہوتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے نہ بیٹے ہیں اور نہ بیٹیاں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں مشرکین ہمیشہ غلط باتیں کرتے ہیں۔
Ayahs 53:23–25فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین جس طرح یہ ظلم کرتے ہیں کہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قراردیتے ہیں اسی طرح ہی ان کا یہ بھی ظلم ہے کہ وہ بلادلیل اپنے بتوں اور بزرگوں کے نام داتا، گنج بخش، دستگیر اور لجپال وغیرہ رکھتے ہیں۔
دنیا میں کیے جانے والے شرک کا جائزہ لیا جائے تو قرآن مجید کی بتلائی ہوئی حقیقت روز روشن کی طرح آشکارہ دکھائی دیتی ہے کہ مشرکین جنہیں خدائی القابات سے پکارتے ہیں وہ صرف نام برائے نام ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ فوت شدگان میں جن کے نام پر پاکستان کی اکثریت شرک کرتی ہے وہ سیدنا حضرت علی ؓ ، پیر عبدالقادر جیلانی اور لاہور میں علی ہجویری، سہوں میں شہباز قلندر، پاکپتن میں بابا فرید اور دیگر بزرگ ہیں نہ معلوم مشرک حضرت علی ؓ کو کون کون سے خدائی القابات دیتے ہیں لیکن ان کی قبر نجف میں ہونے کے باوجود پڑوس میں حضرت حسین ؓ اپنے خاندان سمیت شہید کردیئے گئے۔ نہ حضرت حسین ؓ اپنے آپ کو اور اپنے عزیز و اقارب کو بچا سکے اور نہ ہی حضرت علی ؓ ان کی مدد کو پہنچ پائے یہاں تک 2003 ء امریکوں نے عراق کی جنگ میں حضرت علی ؓ کے مزار پر بم باری کی وہاں چھپے ہوئے سینکڑوں لوگ جابحق ہوئے اور حضرت علی ؓ کے مزار کا ایک حصہ بھی منہدم ہوگیا۔ جنہیں لوگ مولیٰ علی مشکل کشا کہہ کر مدد کے لیے پکارتے ہیں وہ اپنے مزار کی بھی حفاظت نہ کرسکے۔ یہی حال پیر عبد القادر جیلانی کا ہے۔ عراق کی جنگ میں امریکیوں نے پیر عبدالقادر جیلانی کے مزار پر کثیر تعداد میں بم برسائے۔ ان کے مزار کو شدید نقصان پہنچا اور بغداد کا کافی حصہ تباہ ہوگیا۔ پیرصاحب نہ بغداد بچا سکے اور نہ ہی اپنے مزار کی حفاظت کرسکے۔ یہی حال پاکستان کے تمام مزارات کا ہے۔ علی ہجویری، پاکپتن اور دیگر مزارات پر بمبار لوگوں نے (2010 ء) میں خودکش حملے کیے۔ مزارات کو شدید نقصان پہنچا اور درجنوں لوگ موت کا لقمہ بن گئے۔ کسی فوت شدہ بزرگ نے نہ اپنی حفاظت کی اور نہ اپنے مزار پر آنے والوں کی حفاظت کرسکے۔ حکومت نے ہر مزار کی حفاظت کے لیے جگہ جگہ سیکورٹی اہلکار کھڑے کیے، واک تھرو گیٹ لگوائے اور لوگوں کی تلاشی لینے کا انتظام کیا لیکن اس کے باوجود مزارات پر کئی دھماکے ہوئے۔ جن کے پاس ہر دور کے حکمران اپنی حاجات پوری کروانے کے لیے جاتے ہیں وہ مزارحکومت کی حفاظت کے محتاج ہوئے۔ جس سے حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ واقعتا قبروں والے کسی کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود باطل عقیدہ رکھنے والے کئی حکمران، علماء، ججز، وکلاء اور پڑھے لکھے لوگ کسی کو گنج بخش، کسی کو دستگیر، کسی کو لجپال کہتے ہیں گویا کہ جو ان کے منہ میں آتا ہے وہی نام دئیے جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حمایت میں کوئی دلیل نازل نہیں کی کہ جس بنیاد پر شرک کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض اپنے تصورات اور خواہشات کے مطابق ان کے نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے راہنمائی آچکی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مشرک کو کبھی معاف نہیں کرنا۔ (النساء : 48) اس کے باوجود بیشمار لوگ اپنے اعتقادات اور خیالات کے پیش نظر شرک کیے جارہے ہیں۔ کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی آرزو اور خواہشات کا پابند ہے ؟ لہٰذا انسان کو وہ نہیں ملے گا جس کی انسان تمنا اور آرزو رکھتا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی کام کا اجر ملے گا جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ کیونکہ آخرت اور دنیا کے معاملات کا کلی اختیار ” اللہ “ کے پاس ہے۔
تفسیر بالقرآن
شرک کی کوئی دلیل نہیں لیکن مشرک پھر بھی شرک کیے جاتے ہیں :
1۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : 117)
2۔ انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24)
3۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل لاؤ۔ (النمل : 64)
4۔ وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : 71)
5۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 174)
Ayahs 53:26–30فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیامت کے دن بلا اجازت اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش کرسکے۔
جس طرح مشرکین کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے اسی طرح ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ جس طرح فوت شدگان کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اسی طرح ہی ملائکہ کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں جو سب مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں وہ فرشتے اور نیک لوگ اپنے رب کے حضور سفارش کر پائیں گے جنہیں ان کا رب اجازت عطا فرمائے گا۔ فرشتے اور نیک لوگ اتنی ہی سفارش کریں گے جتنی انہیں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان کا قیامت پر کوئی ایمان نہیں۔ ان کا قیامت پر صحیح ایمان ہوتا تو وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہنے کی جرأت نہ کرتے۔ کیونکہ ان کا قیامت پر ایمان نہیں اس لیے انہیں کسی قسم کی سفارش کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کے عقائد کی بنیاد اپنے گمان اور سنی سنائی باتوں کے سوا کسی آسمانی علم پر نہیں۔ یہ صرف من ساختہ تصورات اور گمان پر یقین رکھتے ہیں۔ من ساختہ تصورات اور گمان حق بات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ لہٰذا اس شخص سے اعراض کریں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نصیحت سے منہ پھیر لیتا ہے۔ وہ صرف دنیا کا طلب گار ہے اور ایسے لوگوں کا مبلغ علم اور کوشش صرف دنیا کے لیے ہی ہوا کرتی ہے۔ جس کا علم و عمل صرف دنیا کی ترقی اور حصول کے لیے ہو اسے ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے۔ کیونکہ وہ ہدایت کا طالب ہی نہیں۔ لہٰذا ان سے بحث و تکرار کرنے کی بجائے اپنا کام کرتے جائیں۔ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور جو اپنے رب کی ہدایت پر گامزن ہے۔
مسائل
1۔ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش نہیں کرسکتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا سفارش کرنے کی اجازت عنایت فرمائے گا۔
3۔ جو لوگ قیامت پر حقیقی ایمان نہیں رکھتے وہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینے والے آسمانی علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے گمان کی بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔
5۔ وہم و خیال کسی حیثیت میں بھی حق کی جگہ نہیں لے سکتا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
7۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نصیحت چھوڑ کر دنیا کا طالب بن جائے اس پر زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہیے۔
Ayahs 53:31–32فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر شخص کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ ہدایت کے راستے میں گامزن ہے یا گمراہی کے راستے کو اختیار کیے ہوئے ہے اس لیے کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کی ملک ہے۔
اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا دے گا اور جو نیکی کو اچھے طریقے سے کرتے ہیں انہیں جزا دے گا۔ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی سے بچتے ہیں اگر وہ کسی چھوٹے گناہ میں مبتلا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔ کیونکہ آپ کا رب بڑی بخشش والا ہے اور وہ تمہیں اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے جانتا ہے جب اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تمہاری اپنی ماؤں کے پیٹ میں ابتدا ہوتی ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اپنی پاکدامنی کا دعویٰ نہ کرے کیونکہ گناہوں سے بچنے والوں کو ” اللہ “ اچھی طرح جانتا ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور بخشش کی وسعت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ گناہوں اور بےحیائی سے بچیں گے اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔ چھوٹے گناہوں کے لیے ” اَللَّمَمَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مفسرین نے اس کے کئی معانی ذکر کیے ہیں جن کا خلاصہ چھوٹے گناہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان گناہوں کو یوں ہی معاف کردیتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ جب آدمی وضو کرتا ہے تو وضو کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے گناہ ختم کردیئے جاتے ہیں۔ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے کبیرہ گناہوں کے سوا باقی گناہ بھی معاف کردیئے جاتے ہیں۔ گناہوں کی معافی کی خوشخبری دینے کے بعد حکم دیا ہے کہ اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہ کیا کرو۔ کیونکہ تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے۔ کبیرہ گناہوں کی تفصیل درج ذیل احادیث میں موجود ہے تاہم علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان گناہوں کو بھی کبیرہ گناہ شمار کیا ہے۔ 1 جن کی حد مقرر کی گئی ہے۔ 2 جس گناہ پر اللہ اور اس کے رسول نے لعنت کی ہے۔ 3 وہ گناہ بھی کبیرہ گناہوں میں شامل ہوگا جس کے کرنے پر آدمی اصرار اور اس پر خوشی کا اظہار کرے۔
” اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ “ (النساء : 31)
خود اپنی یا کسی کے سامنے کسی کی تعریف کرنا جائز نہیں :
اپنی تعریف خود کرنا یا کسی کی تعریف اس کے سامنے کرنا کسی معاشرے میں بھی اسے مہذب نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ ایسی حرکت کرنے والا شخص سنجیدہ لوگوں کی نظروں میں گھٹیاتصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ کے سامنے اپنے تقویٰ کا اظہار کیا تو آپ ﷺ یوں فرمایا :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ۔۔ التَّقْوٰی ہَاہُنَا وَیُشِیرُ إِلَی صَدْرِہٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۔۔ ) (رواہ مسلم : باب تحریم ظلم المسلم)
” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا :۔۔ تقویٰ اس جگہ ہے آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا۔۔ “
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ اأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ نَّحْثُوَ فِیْ أَفْوَاہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ )
(رواہ الترمذی : باب ماجاء فی کراھیۃ المدحۃ والمداحین قال ابو عیسیٰ ہذا حدیث غریب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا کہ ہم کسی کے منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالیں۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکَبَآءِرَ فَقَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ فَقَالَ أَلَآ أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ قَالَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ )
(رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب عقوق الوالدین من الکبائر)
” حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ “ پھر فرمایا : کیا میں تمہیں بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ؟ جھوٹی گواہی دینا۔ “
(عَنْ عَآءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَاب اللّٰہُ عَلَےْہِ ) (رواہ البخاری : باب تعدیل النساء بعضھن بعضا)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ “
مسائل
1۔ زمین و آسمان اور ہر چیز اللہ کی ملک ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بروں کو سزا دے گا اور نیک لوگوں کو جزا دے گا۔
3۔ کبیرہ گناہوں سے بچنے والے کے چھوٹے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بڑی بخشش والا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدا اور انتہا کو جانتا ہے۔
6۔ اپنی پاکدامنی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون پرہیزگاری اختیار کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور دیکھتا ہے :
1۔ ” اللہ “ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : 5) 2۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : 216)
3۔ ” اللہ “ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : 30) 4۔ ہر گرنے والا پتہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (الانعام : 59)
5۔ ” اللہ “ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : 19) 6۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام : 59)
7۔ کیا آپ نہیں جانتے اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الحج : 70)
8۔ ” اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : 74)
9۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تمہارے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے بھی واقف ہے۔ ( البقرۃ : 235)
10۔ ” اللہ “ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (البقرۃ : 233)
Ayahs 53:33–38فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی بخشش سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو توبہ کے بغیرجائے اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔
نبی ﷺ یہی بات اہل مکہ کو سمجھاتے تھے لیکن وہ لوگ اسے سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس کے لیے وہ مختلف قسم کے بہانے پیش کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں قیامت کے دن چھڑا لیں گے۔ کبھی کہتے کہ جو دنیا میں خوشحال ہے وہ آخرت میں بھی بہتر اور خوشحال ہوگا۔ اسی زعم کے پیش نظر ولید بن مغیرہ کے ساتھ ایک شخص کا اس بات پر سودا ہوگیا کہ اگر تو مجھے اتنا مال دے۔ تو میں تیری قیامت کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں۔ بڑے بڑے مفسرین نے ان آیات کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ابوجہل سے پہلے ولید بن مغیرہ ہی اہل مکہ کا سردار سمجھا جاتا ہے یہ زیرک اور سمجھدار انسان تھا، قریب تھا کہ مسلمان ہوجاتا۔ اس کے مشرک دوست کو اس بات کا علم ہوا تو وہ ولید کے پاس آکر کہنے لگے کہ جس آخرت سے ڈر کر تو مسلمان ہونا چاہتا ہے اس کا فکر نہ کر۔ میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں بشرطیکہ تو اتنا مال مجھے دے۔ ولید نے اس سے معاملہ طے کرلیا کہ میں تجھے اتنا مال دوں گا اور تو میری آخرت کا ذمہ دار ہوگا۔ معاملہ طے ہونے کے بعد ولیدنے اسے کچھ مال دیا۔ اس اثناء میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ جب ولید کے دوست نے باقی مال کا مطالبہ کیا تو ولید نے انکار کردیا۔ اس پر یہ فرمان جاری ہوا کہ کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے قیامت کا انکار کیا اور تھوڑا سامال دیا پھر باقی دینے سے منحرف ہوگیا۔ کیا آخرت کی ذمہ داری لینے والے کے پاس غیب کا علم ہے ؟ جس بنا پر اس نے یہ ذمہ داری لی۔ انہیں اور سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات صرف قرآن میں نہیں بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف میں کھول کر بیان کی ہے کہ قیامت کے دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ تورات اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کا اس لیے نام لیا ہے کہ اہل مکہ کا ایمان تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) نبی تھے اور ان کی کتب کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کا دو مقام پر ذکر ہوا ہے۔ ایک اس مقام پر اور دوسرا سورة الاعلیٰ کی آیت 19 میں بیان ہوا۔ دونوں مقامات پر آخرت کے ذکر کے بعد موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کا نام آیا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی شخصیات اور ان کی جدوجہد کا تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) سے زیادہ ذکر ہوا ہے۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات کا ذکر ہے وہ قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات سے کہیں زیادہ بیان ہوئی ہیں۔
” جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کرلے گا۔ جو اس سے گریز کرے گا وہ انتہائی بدبخت ہوگا۔ وہ دھکتی آگ میں میں داخل کیا جائے گا۔ پھر نہ اس میں نہ موت آئے گی اور نہ زندگی ہوگی۔ فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ یہی بات پہلے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی۔ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔ “ (الاعلیٰ : 10 تا 19)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کا علم نہیں جانتا۔ 2۔ کسی کو معلوم نہیں کہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔
3۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 4۔ تورات اور صُحُف ابراہیم میں بھی قیامت پر ایمان لانا فرض قرار دیا گیا ہے، اور ان میں بتایا گیا ہے کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا :
1۔ ہر ایک کو اس کے اپنے اعمال کام آئیں گے۔ (البقرۃ : 134) 2۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164)
3۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ (فاطر : 18) 4۔ روز محشر دوست کام نہیں آئیں گے۔ (البقرہ : 254)
5۔ کسی کے گناہ کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ( الرحمن : 39)
6۔ کوئی نفس کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164) 7۔ ہر ایک اپنے معاملے کا خود ذمہ دار ہے۔ (البقرہ : 141)