Ayahs 53:39–44فہم القرآن
ربط کلام : لوگ جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر انسان اپنے کیے کا صلہ پائے گا۔
صُحُفِ ابراہیم، صُحُفِ موسیٰ اور قرآن مجید کی یہی تعلیم ہے کہ ہر انسان نے اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس لیے ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے دنیا میں کمایا ہوگا اور ہر کوئی عنقریب اپنا کیا ہوا دیکھ لے گا اور ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ سب کا انجام اس کے رب کے پاس ہے جس رب کے پاس انسان کا انجام ہے وہی انسان کو ہنساتا اور رولاتا ہے اور وہی انسان کو مارتا اور زندہ کرتا ہے۔
ان آیات میں تین مضامین کا اختصار پیش کیا گیا ہے۔
1۔ ہر انسان وہی کچھ پائے گا جو دنیا میں کمائے گا اور اس کی کوشش کا پورا پورا جائزہ لیا جائے گا اور پھر اس کو برائی کی سزا اور نیکی کی جزا دی جائے گی۔ جسے قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے۔
” جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ “ (الزلزال : 7، 8)
2۔ قرآن مجید نے انسان کو یہ حقیقت بار باربتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان ! بالآخر تو نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے کیونکہ وہی موت وحیات کا مالک ہے اور اسی کے اختیار میں انسان کو ہنسانا اور رلانا ہے۔ قیامت کا اشارہ فرما کر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اپنے اعمال پر خوش ہو کر مسکرائیں گے اور کچھ لوگ اپنا اعمال نامہ دیکھ کر زارو قطار روئیں گے۔ (الانشقاق : 9، 11) (دنیا میں بھی ” اللہ “ ہی انسان کو ہنستا اور رولاتا ہے۔ )
” پھر جس کے پلڑے باری ہوں گے وہ عیش کی زندگی میں ہوگا۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگی۔ “ (القارعہ : 6 تا 9)
” اس دن کچھ چہرے دھمک رہے ہوں گے، ہشاش بشاش اور خوش ہوں گے اور کچھ چہروں پر اس دن خاک پڑی اور سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ یہ کافر اور فاجر لوگ ہوں گے۔ “ (عبس : 38 تا 42)
3۔ موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ انسان کی موت اور زندگی کا فیصلہ رِ حم مادر میں ہی کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی موت کا وقت اور مقام مقرر کردیا ہے۔ اس کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو انسان کی زندگی میں ایک لمحہ بھی تقدیم و تاخیر کرسکے۔
” ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، جب اس کا وقت آجاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ “ (یونس : 49)
” قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے۔ کوئی نفس نہیں جانتا کہ کل کیا کرنے والا ہے۔ اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ اس کو موت کس سر زمین میں آئے گی۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ “ (لقمان : 34)
مسائل
1۔ انسان وہی کچھ پائے گا جو دنیا میں کمائے گا۔ 2۔ ہر انسان کے اعمال کا پوری طرح جائزہ لیا جائے گا۔
3۔ ہر انسان کو اس کے اعمال کا پورا پور ابدلہ دیا جائے گا۔ 4۔” اللہ “ ہی انسان کو ہنسانے اور رلانے والا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ ہی موت وحیات کا اختیار رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
تمام اختیارات کا مالک ” اللہ “ ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک میں بااختیار بنایا۔ (یوسف : 56)
2۔ ” اللہ “ بادشاہوں کا بادشاہ ہے جسے چاہے حکومت عنایت کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : 26)
3۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (الملک : 1)
4۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (الجاثیہ : 27) 5۔ ہر چیز اللہ سبحانہ کے ہاتھ میں ہے۔ ( یٰسٓ: 83)
6۔ ہر قسم کی خیر ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔ ( آل عمران : 73)
Ayahs 53:45–47فہم القرآن
ربط کلام : جو ” رب “ موت وحیات پر قادر ہے اسی نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم، حضرت حوا ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا ہر انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے جسے عورت کے رحم میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نَر یا مادہ کی شکل میں پیدا کرتا ہے۔
” تُمْنٰی “ کا معنٰی ہے مقدر میں کیا جانا، آزمایا جانا، توفیق دیاجانا اور امتحان لیا جانا وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کو بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یوں ہے۔
” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرما کر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ (النساء : 1)
( فَلْیَنظُرْ الْاِِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآءِبِ اِِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ) (الطارق : 5 تا 8)
” پس انسان دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یقیناً وہی خالق اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ “
” یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔ پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں لاکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ “ (المومنون : 12 تا 14)
” لوگو اگر تمہیں زندگی کے بعد موت کے بارے میں شک ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر گوشت سے جو بوٹی کامل اور ناقص بھی تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں کہ ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ ایک خاص وقت تک رحموں میں پھر تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں تاکہ تم جوان ہوجاؤ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی ناکارہ عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر نہ جان سکے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک ہوتی ہے پھر ہم نے اس پر بارش برسائی کہ یکایک وہ ابھرتی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش نما نباتات اگلنی شروع کردی۔ “ (الحج : 5)
” اللہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں ملا جلا کردیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ رکھتا ہے، وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ “ (الشوریٰ : 49، 50)
اللہ ہی انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی نہیں ہوپائے گی۔ اس لیے اس کا فرمان ہے کہ اے انسان ! تجھے دنیا کی زندگی اپنے رب کے بارے میں کسی فریب میں مبتلا نہ کردے۔ (فاطر : 5)
مسائل
1۔ اللہ ہی نر اور مادہ پیدا کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا :
1۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12)
2۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : 47 تا 50)
3۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 56)
4۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11)
5۔ قیامت کے دن ” اللہ “ ہی سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلہ : 6 تا 18)
6۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : 60)
7۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : 7)
8۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : 36)
9۔ آپ فرما دیں اللہ ہی نے تخلیق کی ابتداء کی پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (یونس : 34)
Ayahs 53:48–49فہم القرآن
ربط کلام : جو ” رب “ انسان کو نر اور مادہ کی صورت میں پیدا کرتا ہے وہی انسان کو تونگربناتا اور تنگ دست کرتا ہے۔
قرآن مجید کی تعلیمات میں یہ بات بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا رزق فراخ کرتا ہے اور وہی رزق تنگ کرنے والا ہے۔ بیشک انسان کو رزق کمانے کا حکم دیا گیا ہے مگر رزق کی کشادگی کا دارومدار انسان کی محنت پر نہیں رکھا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت اور مشیّت ہے کہ جس کا چاہے رزق فراخ کرے اور جس کا چاہے کم کردے۔
رزق کی فرادانی اور اسباب کی وسعت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے رزق کی کشادگی سے نوازتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ انسان کو تلاش رزق کا حکم ہے مگر رزق کا انحصارصرف انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق کا دار و مدار انسان کی محنت پر ہوتا تو دنیا میں کوئی ہنرمند غریب نہ ہوتا، کوئی لینڈلارڈ مقروض نہ ہوتا، اور نہ ہی کار خانے دار دیوالیہ ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ رزق دینے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ اس نے لوگوں کے تعلقات کو مربوط رکھنے کے لیے رزق کی تقسیم اس طرح کی ہے کہ ایک شخص اپنی روزی کے لیے کئی انسانوں کے تعاون کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ جس بنا پر لوگ ایک دوسرے کی روزی میں معاون بنتے ہیں۔ کار خانے دار کو دیکھیں کہ وہ کتنے لوگوں کے رزق کا وسیلہ بنتا ہے۔ یہی صورت حال زمیندار کی ہے کہ بظاہر وہ اپنی روزی کے لیے محنت کرتا ہے۔ لیکن اپنے ساتھ درجنوں گھرانوں، سینکڑوں جانوروں اور ہزاروں کیڑے مکوڑوں کی روزی کا وسیلہ بنتا ہے۔
ہر دور میں ایسے مشرک ضرور ہوتے ہیں جن کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ انسان کی قسمت اور رزق کا تعلق ستاروں کی گردش کے ساتھ منسلک ہے۔ اس وجہ سے کچھ لوگ علم نجوم پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں ستارہ اگر فلاں مدار میں پہنچ جائے تو بارش کا برسنا لازم ہوجاتا ہے۔ ستاروں میں سب سے بڑا ستارہ الشِّعْریٰ ہے۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ تمام ستاروں کا رب ہے لیکن الشِّعریٰ کے ” رب “ ہونے کا اس لیے بطور خاص ذکر کیا ہے کہ عرب کے کچھ قبائل اس کی عبادت کرتے تھے جو اس کی عبادت نہیں کرتے تھے وہ بھی اس کی تکریم کے قائل تھے۔
شعریٰ ستارے کے انگریزی میں کئی نام ہیں۔ اسے SIRIUS ، STAR، DOG اور CANIS MAJORIS بھی کہا جاتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا یا بریٹانیکا میں (SIRIUS) کے عنوان کے ضمن میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ ” یہ ستارہ مجموعۂ نجوم میں روشن ترین ستارہ ہے۔ سورج سے بھی اس کی روشنی اکیس گنا زیادہ ہے اور حجم میں بھی یہ سورج سے بڑا ہے۔ اس کی سطح کا درجہ حرارت بھی کافی زیادہ ہے۔ زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ عشاریہ چھ (8.6) نوری سال ہے۔ قدیم مصری اس کو بہت مقدس مانتے تھے کیونکہ جس موسم میں یہ طلوع ہوتا اس وقت دریائے نیل میں سیلاب کی آمد آمد ہوتی۔ تمام علاقہ سیراب ہو کر سبزوشاداب ہوجاتا۔ مصریوں کا عرصۂ دراز تک یہی عقیدہ رہا کہ شعریٰ ستارہ کے طلوع کے نمودار ہونے پر مصر کی خوشحالی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اسے ہر قسم کی شادابیوں کا خالق یقین کرتے اور اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ (انسائیکلو پیڈیا، جلد : 20)
” حضرت خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ؓ نے ہمیں صبح کی نماز حدیبیہ کے مقام پر پڑھائی۔ رات کو ہونے والی بارش کے اثرات فضا میں نمایاں تھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور صحابہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کچھ بندوں نے ایمان کی حالت میں صبح کی اور کچھ نے کفر کی حالت میں صبح کی۔ جس نے کہا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان لایا اور اس نے ستاروں کا انکار کیا اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی اس نے میرا انکار کیا اور وہ ستاروں پر ایمان لایا۔ “
(رواہ البخاری : باب یَسْتَقْبِلُ الإِمَام النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ )
مسائل
1۔ اللہ ہی رزق فراخ کرنے والا اور وہی رزق تنگ کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
رزق کی فراخی اور تنگی کا اختیار صرف ” اللہ “ ہی کے پاس ہے :
1۔ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ (المائدۃ : 64)
2۔ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک صرف ” اللہ “ ہے۔ (المنافقون : 7)
3۔ زمین و آسمان کی کنجیوں کا مالک ” اللہ “ ہے۔ (الزمر : 63) 4۔ ” اللہ “ نے ہر جاندار کے رزق کا ذمہ لیا ہوا ہے۔ (ہود : 67)
5۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : 52)
6۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے دوہرا اجر اور رزق کریم تیار کر رکھا ہے۔ (الاحزاب : 31)
7۔ ” اللہ “ ہی رازق ہے اور بڑی قوت والا ہے۔ (الذاریات : 58) 8۔ اللہ تعالیٰ رزق بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔ (العنکبوت : 62)
Ayahs 53:50–55فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلشِّعْریٰ “ اور علم نجوم پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ستاروں کی گردش کی وجہ سے کائنات میں تبدیلیاں ناگزیر ہوجاتی ہے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو ایک محدود حد تک موسم اور فضا میں تبدیلی لانے کا ذریعہ بنایا ہے لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ سورج، چاند اور ستارے ازخود اپنے وجود میں یہ طاقت رکھتے ہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ ہر چیز میں جو قوت اور تاثیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اگر ” اللہ “ اس قوت کو ضبط کرلے تو اس چیز میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اثر انداز ہو سکے۔ جس کی واضح مثال ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈی ہوجائے۔ آگ بظاہر اسی طرح بھڑکتی رہی لیکن اس کی تاثیر ختم کردی گئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) باسلامت باہر تشریف لے آئے۔ لہٰذا یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اصل قوت ” اللہ “ کے اختیار میں ہے۔ ” اَلشِّعْریٰ “ کے ذکر کے بعد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کی ہلاکت کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے بطور نعمت بیان فرمایا ہے۔ مذکورہ بالا اقوام کی ہلاکت کو اس لیے نعمت کے طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ لوگوں نے ظالموں سے نجات پائی اور مظلوموں کو پھلنے پھولنے کا موقع نصیب ہوا۔ ” تَتَمَاریٰ “ کا معنٰی ہے آپس میں جھگڑنا، آپس میں اختلاف کرنا شک کرنا وغیرہ۔
اس لیے فرمایا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت کے بارے میں تکرار یا شک کرو گے۔ قوم عاد کو آندھی نے گھیر لیا، قوم ثمود کو دھماکے نے آلیا، قوم نوح پر سیلاب عذاب آیا اور قوم لوط کو پتھروں کی بارش کے ساتھ ملیا میٹ کردیا گیا۔ قوم لوط کے بارے میں یہاں صرف اتناہی فرمایا ہے کہ الٹ جانے والی بستی پر چھایا جو چھایا۔
قوم نوح، عاد، ثمود اور لوط کی تفصیل جاننے کے لیے سورة الذاریات کی آیت 41 تا 46 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ! عاد اولیٰ سے مراد قدیم قوم عاد ہے جس طرف ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم جب حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے کی پاداش میں عذاب میں مبتلا ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اخریٰ یا عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں۔
Ayahs 53:56–62فہم القرآن
ربط کلام : اقوام کی تباہی اور قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کا مقصد لوگوں میں قیامت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے لیکن قیامت کے منکر اور اس سے لاپرواہی کرنے والے اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ جس وجہ سے اس سورت کے آخر میں انہیں پھر حکم دیا کہ قیامت سے غفلت اختیار کرنے کی بجائے اللہ کے سامنے سربسجود ہوجاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو یہی تمہاری نجات کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے پہلی اقوام کے واقعات بیان فرما کر لوگوں کو دنیا کے انجام اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ قیامت کے بارے میں فرمایا کہ قیامت قریب ہی آن پہنچی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ کیا تم قیامت کی آمد اور اللہ کے فرمان پر تعجب کرتے ہو ؟ اور اپنے کیے پر رونے کی بجائے ہنستے ہو اور دنیا کی وجہ سے تم قیامت کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ چاہیے تو یہ کہ تم اللہ کے حضور جھک جاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو۔
اس سورت کی ابتدائی آیات میں ستارے کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے معراج کے موقع پر نبی ﷺ کی جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ قربت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ مشرک محض اپنے گمان کی بنیاد پر لات، عزّیٰ اور منات کی عبادت کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کو ہر قسم کے شرک سے منع کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا اور آخرت کے معاملات صرف ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی مضمون کو سورة کے اختتام پر یوں بیان کیا جارہا ہے کہ قیامت قریب آن پہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو ” اللہ “ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے اعمال پر رونے کی بجائے قیامت کا ذکر سن کر ہنستے ہیں۔ حالانکہ انہیں اپنے کردار پر رونا چاہیے۔ قیامت کی ہولناکیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لوگ ادھر ادھر جھکنے کی بجائے صرف اور صرف اپنے رب کے سامنے جھکیں اور اس کی عبادت کریں۔ یاد رہے کہ انسان کی تخلیق اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عبادت کرے۔ عبادت سے مراد وہ تمام عبادات ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ عبادت سجدہ کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں وہ صرف اور صرف ایک ” اللہ “ کے لیے ہونی چاہیے۔
قرآن مجید کی تاثیرکا ایک عجب واقعہ :
امام بخاری ؓ نے اپنی کتاب بخاری شریف کی کتاب التفسیر میں لکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن بیت اللہ میں کھڑے ہو کر سورة نجم کی تلاوت کی۔ اس وقت بیت اللہ میں مکہ کے بڑے بڑے سردار بھی موجود تھے۔ کفار بیت اللہ کے بابرکت ماحول میں بڑے انہماک سے سورة نجم کی تلاوت سن رہے تھے۔ نبی ﷺ نے جب سورة نجم کے آخری الفاظ تلاوت کیے اور اللہ کے حضور سجدہ کیا تو یہ منظر اس قدر مسحور کُن اور پرجلال تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ کفار بھی سجدہ ریز ہوگئے۔ صرف ایک بوڑھا جس کا نام امیہ بن خلف تھا اس نے زمین پر سجدہ کرنے کی بجائے سے کنکریاں اٹھا کر اپنی پیشانی کے ساتھ لگائیں اور کہا کہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
مسائل
1۔ نبی ﷺ بھی پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح اپنی امت کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے مبعوث کیے گئے۔
2۔ قیامت قریب آپہنچی ہے اور اس کی ہولناکیوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔
3۔ بےدین لوگ قیامت پر یقین کرنے کی بجائے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
4۔ برے لوگوں کو قیامت کا مذاق اڑانے کی بجائے اپنے اعمال پر رونا چاہیے۔
5۔ لوگوں کو غفلت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم :
1۔ آپ کو حکم ہے کہ آپ فرما دیں کہ میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ (یونس : 104)
2۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (الرعد : 36)
3۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : 2) 4۔ اے لوگو اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ (البقرۃ : 21)
5۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : 40)
6۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شریک نہ بناؤ (النساء : 36)
7۔ نوح، ہود، صالح اور شعیب نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (ہود : 50۔ 61۔ 84)