52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الطورکا تعارف یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اس کے دو رکوع اور انچاس (٤٩) آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں چھ قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ جس دن کا تم انکار کرتے ہو اس دن کا عذاب مجرموں پر ضرور واقع ہوگا جسے کوئی بھی ٹال نہیں سکے گا۔ اس دن کی ابتداء یوں ہوگی کہ آسمان پوری طرح ڈگمگا جائے گا اور پہاڑ ریت بن کر اڑنا شروع کردیں گے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں اس دن انہیں دھکے مار مار کر جہنم میں پھینکا جائے گا اور پھر انہیں کہا جائے گا کہ اب بتلاؤ یہ عذاب حقیقت ہے یا جادو ؟ حکم ہوگا کہ اب صبر کرو یا واویلا کرو تمہیں اسی کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں متّقی لوگوں کو نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا وہ تکیوں پر تشریف فرما ہوں گے اور انہیں کھانے کے لیے وہ کچھ ملے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ بےانتہا خوبصورت حوریں ان کے نکاح میں دی جائیں گی یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوگا۔ جن جنتیوں کی اولادیں درجات میں کم درجہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرما کر انہیں انکے والدین کے ساتھ اعلی مقام عنایت فرمائے گا۔ جنت میں کسی قسم کی لغویات اور گناہ نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نصیحت فرمائی گئی کہ آپ لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں اور یہ یقین رکھیں کہ آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور مجنوں نہیں ہیں۔ ١۔ کیا کافر آپ کو شاعر کہتے ہیں اور آپ کے بارے میں برے حالات کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں فرمائیں تم میرے بارے میں انتظار کرو میں بھی تمہارے انجام کا انتظار کرتا ہوں۔ ٢۔ کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھاتی ہیں۔ ٣۔ یا یہ لوگ سرکشی میں حد سے بڑھ چکے ہیں۔ ٤۔ کیا کافر کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن خود بنالیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اگر وہ اپنے الزام میں سچے ہیں تو انہیں قرآن کے چیلنج کا جواب قبول کرنا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ معبود برحق ماننے کے لیے تیار نہیں کیا انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ؟ یا اپنے آپ پیدا ہوگئے ہیں ؟ ٦۔ کیا انہوں نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ٧۔ کیا یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کے خزانوں کے مالک ہیں ؟ ٨۔ کیا وہ آپ کے رب کے خزانوں پر چوکیدار ہیں ؟ ٩۔ کیا ان کے پاس سیڑھی ہے کہ یہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں اگر سن لیتے ہیں تو انہیں اپنے حق میں کوئی واضح دلیل پیش کرنی چاہیے۔ ١٠۔ کافر کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں کیا ” اللہ “ کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں ؟ ١١۔ کیا آپ ان سے اجر مانگتے ہیں جس کے بوجھ تلے یہ دبے جارہے ہیں۔ ١٢۔ کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں۔ ١٣۔ کیا یہ کوئی اور سازش کرنا چاہتے ہیں ؟ یاد رکھیں کہ یہ اپنی سازش میں خود ہی پھنس جائیں گے۔ ١٤۔ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی اور معبودِبرحق ہے ؟ انہیں بتلا دیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے مبرّاہے۔

Ayahs 52:1–6

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کھلے کاغذ میں

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور بلند کی ہوئی چھت کی

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور بھڑکائے جانے والے سمندر کی

فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ 1۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور سینین دونوں ایک ہی پہاڑ کے نام ہیں۔ اس کی سطح سمندر سے بلندی 7260 فٹ ہے اور مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اسی پہاڑ کی ایک چوٹی کا نام طور ہے اور اس پہاڑ کے دامن میں واقع وادی کا نام طویٰ ہے جسے قرآن میں وادی مقدس اور ” بکعۃ المبارکہ “ بھی کہا گیا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس آئے اور جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تو اسی راستے سے گزرے تھے۔ 2۔ کشادہ اوراق میں لکھی ہوئی کتاب سے مراد کچھ اہل علم نے تورات لی ہے کیونکہ تورات آسمان سے کھلی تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام موٹے، موٹے حروف میں لکھے ہوئے تھے۔ کیونکہ طور پہاڑ کی قسم کے بعد ” کِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ “ کی قسم اٹھائی گئی ہے اس لیے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد تورات ہے۔ باقی اہل علم نے کشادہ اوراق میں لکھی ہوئی کتاب سے مراد لوح محفوظ لیا ہے۔ رق چمڑے کی ایسی جھلی کو بھی کہا جاتا ہے جسے ایک خاص تکنیک کے ساتھ رگڑ رگڑ کر ملائم اور باریک کرلیا گیا ہو۔ پہلے زمانے میں شاہی فرمان اور اہم ترین دستاویزات کو رق پر لکھا جاتا تھا تاکہ اس میں لکھے ہوئے فرمان کا کوئی لفظ مٹنے نہ پائے۔ نبی ﷺ نے جو مراسلات روم اور ایران کے فرمانرواؤں کو لکھے تھے وہ ورق پر ہی تحریر کیے گئے تھے۔ 3۔ بیت المعمور : وہ گھر ہے جو ہمیشہ سے آباد چلاآرہا ہے۔ اس گھر کے بارے میں بھی اہل علم کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک جماعت نے اس سے بیت اللہ مراد لیا ہے جس میں ہر وقت رکوع و سجود، قیام اور ذکر و اذکار کرنے والے موجود رہتے ہیں۔ جب سے یہ گھر تعمیر ہوا اس وقت سے لے کر اس کی رونق میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔ دوسری جماعت کا خیال ہے کہ اس گھر سے مراد اسی بیت اللہ کے اوپر ساتویں آسمان پر بیت المعمور ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز اد کرتے ہیں اور جس نے ایک مرتبہ وہاں نماز پڑھی اسے وہاں قیامت تک نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ (رواہ مسلم : باب الإِسْرَاءِ بِرَسُول اللَّہِ ﷺ إِلَی السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ ) نبی ﷺ نے معراج کی رات اسی گھر کی دیوار کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تشریف فرما دیکھا اور ان سے ملاقات کا شرف پایا۔ جس کی تفصیل حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ 4۔ اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے کھڑا کر رکھا ہے۔ اسے اس طرح بنایا اور ٹھہرایا ہے کہ اس میں نہ کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے اور نہ ہی اپنی جگہ سے ہلا اور جھکا ہے۔ نامعلوم کتنی مدت سے ایک قبے کی شکل میں جوں کا توں فضا میں ٹھہرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے لیے چھت بنایا ہے۔ 5۔ سمندر : سمندر کے بارے میں ارضیات کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ زمین کے مقابلے میں تین گنا بڑا ہے اور پوری زمین کے دریا سمندر میں گرتے ہیں لیکن آج تک سمندر کا پانی اپنے مقام پر ٹھہرا ہوا ہے۔ اگر سمندر کا پانی اپنی حدود سے نکل کھڑا ہو تو دنیا میں کوئی چیز غرق ہونے سے نہ بچ سکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے مسجور کردیا ہے۔ مسجور کا معنٰی ہے لبا لب بھرا ہونے کے باوجود اپنے مقام پر ٹھہرا ہوا۔ مسجور کا دوسرا معنٰی بھٹکایا ہوا ہے کیونکہ قیامت کے قریب سمندر بھڑک اٹھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جن چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں ان کی حقیقت کما حقُّہ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ تاہم اہل تفسیر نے اپنے اپنے فہم کے مطابق ان قسموں کی کچھ نہ کچھ حکمت بیان کی ہے جس کے بارے میں قطعی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ تفسیر بالقرآن قرآن کی چند قسموں کا تذکرہ : 1۔ آپ کی جان کی قسم ! وہ اپنی مدہوشی میں مست ہیں۔ (الحجر : 72) 2۔ قسم ہے ان ہواؤں کی ! جو بھیجی جاتی ہیں۔ (المرسلات : 1) 3۔ قسم ہے جان سختی سے نکالنے والے فرشتوں کی۔ (النازعات : 1) 4۔ قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ (البروج : 1) 5۔ قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والی چیز کی۔ (الطارق : 1) 6۔ قسم ہے فجر کی۔ (الفجر : 1) 7۔ میں قسم کھاتا ہوں مکہ شہر کی۔ (البلد : 1) 8۔ قسم ہے آفتاب اور اس کی روشنی کی۔ (الشمس : 1)
Ayahs 52:7–11

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور آنے والا ہے

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

جسے کوئی دور کرنے والا نہیں

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

وہ اس دن واقع ہوگا جب آسمان بری طرح حرکت کرنے لگے گا

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑتے پھریں گے

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

اس دن کو جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے منکرین کو قیامت کے دن ضرور عذاب دیا جائے گا اور اسے کوئی نہیں ٹال سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قسم کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ قیامت کے دن کفار، مشرکین اور بھاری مجرموں کو ہر صورت عذاب دیا جائے گا اور اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ جس دن مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ آسمان کپکپانے لگے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ جو اس دن کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہوگی۔ قیامت کے دن جونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو زمین میں زلزلے رونما ہوں گے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے اور آسمان اس طرح تیزی کے ساتھ ہلنا اور جھولنا شروع ہوگا کہ بالآخر نیچے گرپڑے گا۔ سورة التکویر، الانفطار اور سورة الانشقاق کی ابتدائی آیات میں اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کی جو حالت ہوگی اس کا ایک منظر اسی آیت کی تفسیر بالقرآن کے حوالوں میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ قیامت کا عذاب ضرور واقع ہوگا اور اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ 2۔ قیامت کے دن آسمان کپکپانا شروع ہوجائے گا۔ 3۔ قیامت کے دن پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ 4۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے اس دن ہلاکت ہوگی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن پہاڑوں کی کیا حالت ہوگی : (الکہف : 47) (المزمل : 14) (القارعہ : 5) (التکویر : 1 تا 3) (القیامہ : 6 تا 8)
Ayahs 52:12–16

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو لوگ شغل کے طور پر لگے ہوئے ہیں

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن انہیں دھکے مار مار کر 3 آگ کی طرف دھکیلا جائے گا

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

کیا یہ جادو ہے یا تم نہیں دیکھتے ؟

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

جاؤ اس میں جلتے رہو تم صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دی جا رہی ہے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ ویل کا معنٰی جہنم بھی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ اس لیے جہنم کو ویل کہا گیا ہے۔ ویل ان لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی تکذیب اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو کرتے ہیں۔ جب انہیں قیامت کے دن جہنم کی آگ میں دھکیلا اور پھینکا جائے گا تو فرشتے انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے کہیں گے کہ یہی وہ آگ اور جہنم ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ آنکھیں کھول کر دیکھ لو جسے تم جادو کہا کرتے تھے کیا یہ جادو ہے یا حقیقت ؟ جسے تم جھٹلاتے اور شغل کا نشانہ بنایا کرتے تھے اب اس میں داخل ہوجاؤ۔ یہاں صبر کرو یا واویلا کرو تمہارے لیے برابر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے اس میں تم نے ہمیشہ ہمیش رہنا ہے۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (وَسِیقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّٰی اِِذَا جَاءُوہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ قِیْلَ ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (الزمر : 71، 72) ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے جب وہ جہنم کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس کے چوکیدار ملائکہ جہنمی سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہی میں سے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تمہارے رب کی تمہیں آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ تمہیں یہ دن دیکھنا ہوگا۔ جہنمی جواب دیں گے ہاں آئے تھے مگر عذاب کا فیصلہ ہم پر سچ ثابت ہوا۔ کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ یہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہ متکبروں کے لیے بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے ہیں ان کے لیے ہلاکت اور جہنم ہوگی۔ 2۔ قیامت کے دن انہیں جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا۔ 3۔ جب انہیں جہنم میں دھکیلا جائے گا تو ملائکہ انہیں کہیں گے کہ یہ وہی آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن جہنم کی آگ کی حالت : 1۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 2۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبۃ : 81) 3۔ مجرم لوگ جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 4۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30) 5۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور اس پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : 6) 6۔ مجرموں کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کی چٹخارسنیں گے۔ (الملک : 7) 7۔ جہنم کی آگ کے شعلے بڑے بڑے مکانوں کے برابر ہوں گے۔ ( المرسلات : 32) 8۔ مجرموں کو جہنم میں آگ کے بڑے بڑے ستونوں سے باندھا جائے گا۔ ( ہمزہ : 90) 9۔ جہنمی کو آگ کا لباس پہناکر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (الحج : 19) 10۔ اس دن مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ جکڑا ہوا دیکھیں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوگی۔ (ابراہیم : 49۔ 50) 11۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
Ayahs 52:17–20

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے اور مزے لے رہے ہوں گے

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

ان نعمتوں سے جو انہیں ان کا رب دے گا اور ان کا رب انہیں 3 کے عذاب سے بچا لے گا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا کہ مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت موٹی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنا دیں گے

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام بتلانے کے بعد جنتی کے انعامات کا تذکرہ۔ ایک طرف جہنمی اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور دوسری طرف جنتی جنت میں انعامات سے سرفراز ہوتے رہیں گے۔ وہ اپنے رب کی عطاؤں پر خوش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جہنمی کو حکم ہوگا کہ اپنے کیے کی سزا پاؤ اور جنتی کو حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے میں کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوں گے۔ یہاں پہلے ذکر فرمایا ہے کہ جنتی کو ان کا رب جو کچھ عطا فرمائے گا وہ اس پر خو ش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جنتی کو جہنم سے بچانے کا الگ ذکر فرما کر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔ ” ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم پورے پورے اجر دیے جاؤ گے۔ پھر جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوگیا۔ دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ “ (آل عمران : 185) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَنْ یُّنْجِیَ اَحَدًا مِّنْکُمْ عَمَلُہُ قَالُوْا وَلَا اَنْتَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَن یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَتِہٖ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَیْءٌ مِّنَ الدُّلْجَۃِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوْا) (رواہ البخاری : باب تمنی المریض الموت) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو بھی اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا۔ صحابہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ کو بھی ؟ فرمایا ! مجھے بھی میرا عمل نہیں بچا سکے گا یہاں تک اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے دامن میں ڈھانپ لے۔ تم صحیح راستے پر چلو، اللہ تعالیٰ کی قربت اختیار کرو، صبح وشام اور رات کے کچھ حصہ میں نیک عمل کرو لیکن میانہ روی اختیار کرو اپنے مقصد کو پا جاؤ گے۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : پہلا گروہ جنت میں چودھویں رات کے چاند کی صورت میں داخل ہوگا ان کے بعد کے لوگ آسمان میں چمکدار اور حسین ستارے کی مانند ہوں گے ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان نہ کوئی بغض ہوگا اور نہ ہی حسد۔ جنتی کے لیے حور العین میں سے دو بیویاں ہوں گی جن کی ہڈیوں کا گودا، گوشت اور ہڈیوں کے درمیان سے نظر آئے گا۔ “ (رواہ البخاری : باب ماجاء في صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) مسائل 1۔ کفر و شرک اور گناہوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ نعمتوں والی جنت میں داخل فرمائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو جو کچھ عطا کرے گا وہ اس پر خوش ہوں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو جہنم کے عذاب سے مامون فرمائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو حکم دے گا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ 5۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تشریف فرما ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتی کے انعامات کی ایک جھلک : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی انہیں تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : 28 تا 35) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23) 5۔ جنتی کو ملائکہ سلام کریں گے۔ ( الزمر : 73) 6۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31)
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد بھی ایمان لانے میں ان کے پیچھے چلی ہے ان کی اولاد کو ہم ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں کوئی چیز کم نہیں کی جائے گی، ہر شخص اپنی کمائی کے عوض گروی ہے

فہم القرآن ربط کلام : جنتی والدین کے ساتھ ان کی نیک اولاد کا ملاپ اور مقام۔ جو لوگ ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے رہے، ان کی اولادنے بھی ایمان لانے اور نیک عمل کرنے میں اپنے والدین کی پیروی کی۔ جب دونوں جنت میں داخل کیے جائیں گے اور اپنے اپنے مقام پر قیام پذیر ہوں گے تو جنت کے نچلے درجے میں رہنے والی اولاد کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کے ماں باپ کے ساتھ ملادے گا اور ان کے ماں باپ کے درجات میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ گویا کہ ان کی اولاد کے درجات میں اضافہ کردیا جائے گا۔ فطری طور پر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ رہیں کسی کے درجات میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے عدل اور رحمت کے خلاف ہے اس لیے وہ ان کی اولاد کے درجات میں اضافہ فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ اکٹھا کردے گا۔ قرآن مجید نے یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ اگر والدین کے درجات کم ہوئے اور ان کی اولاد کا مقام بلند ہوا تو پھر ان کے والدین کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ رب کریم کی رحمت سے یہی امید ہے کہ وہ والدین کے ساتھ بھی وہی سلوک فرمائے گا جو کم درجہ رکھنے والی اولاد کے ساتھ کرے گا۔ چند سطور کے بعد درج ہونے والی حدیث سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔ دوسرا فرمان یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔ اس کا مفہوم یہی سمجھ آتا ہے کہ خالق کا اپنی کائنات پر حق ہے جسے ادا کرنا مخلوق کی ذمہ داری ہے۔ اس قرض کا یوں ذکر کیا گیا ہے۔ ” ہر شخص اپنی کمائی کے بدلے رہن ہے۔ “ (المدثر : 38) جو شخص اس قرض کو ادا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس قرض کو ادا نہیں کرے گا وہ گروی ہونے کی وجہ سے جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ ” معاذ جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور اس کے مطابق عمل کیا اس کے والدین کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی اگر وہ تم میں ہو تو اس پر عمل کرنے والے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ “ ( رواہ ابو داؤد : باب فِی ثَوَابِ قِرَاءَ ۃِ الْقُرْآنِ ، حکمہ ضعیفٌ) (عَنْ أَبِیْ بُرِیْدَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِی الْإِنْسَانِ ثَلٰثُمِاءَۃٍ وَسِتُّوْنَ مَفْصِلًا فَعَلَیْہِ أَنْ یَّتَصَدْقَ عَنْ کُلِّ مَفْصِلٍ مِنْہُ بِصَدَقَۃٍ قَالُوْا وَمَنْ یُّطِیْقُ ذٰلِکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ قَالَ اَلنُّخَاعَۃُ فِی الْمَسْجِدِ تَدْفِنُہَا وَالشَّیْءُ تُنَحِّیْہِ عَنِ الطَّرِیْقِ فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَرَکَعَتَا الضُّحٰی تُجْزِءُکَ.) ( رواہ ابو داؤد : باب فی إماطۃ الأذی عن الطریق قال البانی صحیحٌ) ” حضرت ابو بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہوتے ہیں اس پر لازم ہے کہ وہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! اتنی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : مسجد میں پڑھی ہوئی تھوک کو دفن کر دے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے، اگر اتنی طاقت نہیں رکھتا تو چاشت کی دو رکعتیں تجھے کافی ہوجائیں گی۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلاَّ یُؤْتَی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَدُہُ مَغْلُولَۃٌ إِلَی عُنُقِہِ.) ( رواہ البیہقی : باب کَرَاہِیَۃِ الإِمَارَۃِ ، قال الشیخ البانی صحیح) ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی دس آدمیوں کا امیر ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہوگا۔ “ ” حضرت معاذ ؓ فرماتے ہیں میں رسول محترم ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان صرف پلان کی آخری لکڑی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر کیا حق ہے اور بندوں کے اللہ تعالیٰ پر کیا حقوق ہیں ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد ہوا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے جب تک وہ شرک نہیں کرتے وہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ خوشی کی بات میں لوگوں تک نہ پہنچاؤں ؟ فرمایا کہ نہیں اس طرح وہ محنت کرنا چھوڑ دیں گے۔ “ (رواہ البخاری : باب اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ ) مسائل 1۔ جنت میں کم درجہ مقام رکھنے والی اولاد کو ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے ان کے درجات میں اضافہ کیا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ماں باپ کے درجات میں کمی کرنے کی بجائے ان کی اولاد کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ 3۔ ہر شخص اپنے اعمال کے لحاظ سے گروی رکھا گیا ہے۔
Ayahs 52:22–24

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

ہم ان کو ہر طرح کے پھل، گوشت اور جس چیز کو ان کا جی چاہے گا دیں گے

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کرلے رہے ہوں گے جس میں نہ لغو ہوگی نہ گناہ کا کام ہوگا

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کی خدمت میں لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے وہ ایسے خوبصورت ہوں گے جیسے موتی چھپاکر رکھے ہوئے ہوں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح کم درجے رکھنے والی اولاد پر کرم فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ جنتی کے اعمال سے زیادہ انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ جنت میں نعمتیں بیشمار ہوں گی لیکن پھل اور گوشت کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پھل اور گوشت ہر انسان کی مرغوب اور پسندیدہ خوراک ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر پھلوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ جب وہ پھلوں سے رزق دیے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ وہی ہیں جو ہم اس سے پہلے دیے گئے تھے، انہیں اس سے ملتے جلتے پھل دیے جائیں گے اور ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (البقرۃ : 25) (وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ ) (الواقعۃ : 21) ” اور پرندوں کا گوشت ہوگا جس کا وہ چاہیں گے۔ “ پھل اور گوشت کھانے کے بعد جنتی کو شراب سے بھرے ساغر پیش کیے جائیں گے جس میں کسی قسم کا نشہ اور فتور نہیں ہوگا اور نہ ہی جنتی کسی قسم کی بےہودہ گوئی اور بری حرکت کریں گے۔ البتہ پکنک (Picnic) کے موڈ اور بےتکلفی کے عالم میں ایک دوسرے سے شراب کے جام جھپٹ رہیں ہوں گے۔ گویا کہ ماں باپ، اولاد اور جنتی کا آپس میں بےحد پیار ہوگا۔ ان کی خدمت میں جام اور کھانے پیش کرنے کے لیے غلمان ہوں گے۔ دنیا میں دفتروں اور گھروں میں خدمت کرنے والے ملازم اپنی غربت اور کام کی وجہ سے صاف ستھرے نہیں ہوتے، نہ ہی ان کی اکثریت شکل و صورت میں بہتر ہوتی ہے اور نہ ہی گفتگو کرنے میں خوش گفتار ہوتے ہیں۔ جنت کے غلمان جو بارہ تیرہ سال کے بچے ہوں گے اتنے خوش لباس، خوش اخلاق اور خوبصورت ہوں گے گویا کہ ایسے موتی ہیں جو صدف سے ابھی ابھی نکالے گئے ہیں۔ بالفاظ دیگر شہزادے بادشاہوں کے خدمت گار ہوں گے۔ غلمان جنت کی انتہائی خوبصورت مخلوق ہوگی جن میں کفار کے مرنے والے معصوم بچے بھی شامل ہوں گے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ غلمان کی شکل و صورت میں پیدا کرے گا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِکِینَ فَقَال اللَّہُ إِذْ خَلَقَہُمْ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عامِلِینَ.) (رواہ البخاری : باب مَا قیلَ فِی أَوْلاَدِ الْمُشْرِکِینَ ) ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی معظم ﷺ سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے اس لیے وہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے کیا اعمال کرنے تھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو ان کے مَن پسند کے پھل اور گوشت عطا فرمائے گا۔ 2۔ جنتی کو نشے سے پاک شراب پیش کی جائے گی۔ 3۔ جنتی تفریح کے ماحول میں ایک دوسرے سے جھپٹا جھپٹی کریں گے۔ 4۔ جنتی کی خدمت میں انتہائی خوبصورت اور معصوم غلمان پیش کیے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا اور گھناسایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : 28 تا 30) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23) 5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31) 6۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں صاف پانی، شہد، شراب اور دودھ کی نہریں ہونگی۔ (محمد : 15)
Ayahs 52:25–28

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال پوچھیں گے

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے رہا کرتے تھے

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں باد سموم کے عذاب سے بچا لیا

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم اس سے پہلے ” اللہ “ ہی سے دعائیں کیا کرتے تھے حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی محسن اور رحم کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کی آپس میں گفتگو اور اظہار تشکر۔ جنتی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور آپس میں خوش گپیاں کرنے کے باوجود ہر دم اس بات کا خیال رکھیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل نہ کرتا تو ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح جہنم کے عذاب میں جل رہے ہوتے۔ رب کریم کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کے جلادینے والے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا۔ ہم دنیا میں اپنے اہل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے رب سے ڈرا کرتے اور اس سے اس کی رحمت مانگا کرتے تھے۔ اس نے ہماری دعاؤں کو قبول کیا، ہم پر مہربانی فرمائی اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا کیونکہ وہ بہت ہی احسان فرمانے اور مہربانی کرنے والا ہے۔ جنتی دل کی گہرائی اور زبان کی سچائی سے اس حقیقت کا اعتراف کریں گے کہ جنت کا داخلہ ہماری نیکیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے۔ جنتی کی گفتگو کا حوالہ دے کر یہ بتلایا گیا ہے کہ جنت میں جانے والے لوگ لوگوں کے سامنے صرف ظاہری طور پر نہیں بلکہ حقیقتاً نیک ہوتے ہیں۔ جس وجہ سے ان کے گھروں کا ماحول دینی اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی خدا خوفی کا سبق دیتے ہیں۔ جنت میں جانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی اولاد کو خدا خوفی کا درس دیتے رہیں۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِيْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِيْ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) (رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے لیکن میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “ (یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنفُسَکُمْ وَاَہْلِیکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْہَا مَلَاءِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا یَعْصُون اللّٰہَ لَا یَعْصُون اللّٰہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ) (التحریم : 6) ” اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ نیک لوگ جلوت اور خلوت میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ 2۔ نیک لوگوں کے گھر کا ماحول بھی دینی اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ 3۔ نیک لوگ اپنے رب سے جنت مانگنے کے ساتھ جہنم کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے : 1۔ اللہ ہی رحم کرنے والا ہے۔ (الانعام : 133) 2۔ مہربانی کرنا اللہ نے اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے۔ (الانعام : 54) 3۔ میرے بندوں کو میری طرف سے خبر کردیں کہ میں بخشنے والا، رحم کرنے والا ہوں۔ (الحجر : 49) 4۔ اللہ مومنوں کو اندھیروں سے نکالتا ہے کیونکہ وہ رحم فرمانے والا ہے۔ (الاحزاب : 43)
Ayahs 52:29–32

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

پس اے نبی آپ نصیحت کرتے رہیں اپنے رب کے فضل سے نہ آپ کاہن ہیں اور نہ دیوانے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے بارے میں ہم حادثات زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں ؟

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

ان سے فرماؤ اچھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ سرکشی میں حد سے گزر چکے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی ﷺ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ ﷺ کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔ مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم ﷺ کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم رہیے ! یہ شخص عنقریب حوادث زمانہ کا شکار ہو کر ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال میں آپ ﷺ کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو ان کی یا وہ گوئی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور دیوانے نہیں ہیں۔ پاگل تو وہ ہیں جو بیک وقت متضاد باتیں کررہے ہیں۔ ان کے پاگل پن کی دلیل یہ ہے کہ ایک طرف آپ کو کاہن کہتے ہیں اور دوسری طرف آپ کو مجنون کہتے ہیں۔ حالانکہ مجنون اور کاہن کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مجنون شخص (UBNORMAL) حواس باختہ ہوتا ہے۔ اسے خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے منہ سے کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لباس کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا۔ مجنون کے مقابلے میں کاہن شخص اپنے فن میں ماہر اور چالاک ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو پھنسانے کے لیے ایسے الفاظ اور انداز اختیار کرتا ہے کہ عقل مند اور جہاندیدہ لوگ بھی اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ مجنون کو اپنے تن کی ہوش نہیں ہوتی۔ کاہن باتوں باتوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔ جہاں تک شاعر کا معاملہ ہے۔ شاعر کے کلام میں نہ صرف مبالغہ پایا جاتا ہے بلکہ اس کے کلام میں تضاد بیانی بھی ہوا کرتی ہے۔ شاعروں کی غالب ترین اکثریت بےعمل ہوتی ہے۔ نبی ﷺ پوری دنیا کے لیے اسوہ حسنہ بنائے گئے ہیں اور نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائزہونے سے پہلے بھی آپ اعلیٰ کردار اور اخلاق کے پیکر تھے۔ اکثر شاعر عاشق مزاج ہوتے ہیں۔ نبی ﷺ نے زندگی بھر کسی غیرمحرم عورت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ شاعر کا کلام زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہتا۔ نبی معظم ﷺ جو کلام پیش کررہے تھے اس کی رہتی دنیا تک گارنٹی دی گئی ہے۔ شاعراپنا کلام پیش کرکے لوگوں سے مالی یا اخلاقی داد وصول کرتا ہے۔ نبی ﷺ ان باتوں سے مبرّہ اور ارفع تھے۔ آپ نے زندگی بھر اپنے خطاب میں کبھی شعر نہیں پڑھا اور نہ ہی آپ کی شان اور مقام کے لائق تھا۔ (یٰسٓ: 69) یہاں تک اہل مکہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ نبی ﷺ کا نام اور کام بہت جلد حوادث زمانہ کا شکار ہوجائے گا۔ اس بات کا انہیں آپ ﷺ کی زبان اطہر سے یوں چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ زمانہ گواہ ہے کہ آپ ﷺ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے والے مٹ گئے لیکن آپ کا نام اور کام ہر دور میں زندہ رہا اور رہے گا۔ اس لیے فرمایا کہ کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی باتیں سکھاتی ہیں یا حقیقت میں یہ لوگ باغی اور شرارتی ہیں گویا کہ آپ ﷺ کے مخالف بےعقل بھی تھے، باغی اور شرارتی بھی۔ بےعقل اور شرارتی لوگ زیادہ مدت تک اپنے کام میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ (وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ) (الانشراح : 4) ” ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا ہے۔ “ مسائل 1۔ داعی کو مخالفوں کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھنا چاہیے۔ 2۔ نبی ﷺ نہ شاعر تھے اور نہ مجنون تھے۔ 3۔ نبی معظم ﷺ کو کاہن اور مجنون کہنے والے خود پاگل تھے۔ 4۔ بےعقل اور شریر لوگ ہی ناکام ہوا کرتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے نام اور کام کو ہمیشہ زندرکھا ہے اور زندہ رکھے گا۔ تفسیر بالقرآن نبی ﷺ نہ شاعر تھے اور نہ آپ نے کبھی شعر گوئی کی تھی : 1۔ ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھلائے اور نہ ہی یہ کام آپ کے لائق ہے۔ (یٰس : 69) 2۔ شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں وہ ہر وادی میں گھومتے ہیں اور جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ (الشعراء : 224 تا 226) 3۔ قرآن مجید کسی شاعر کا کلام نہیں۔ (الحاقہ : 41) 4۔ آپ ﷺ اپنے رب کے فضل وکرم سے شاعر اور مجنون نہیں ہیں۔ ( القلم : 2)
Ayahs 52:33–35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن کو خود بنا لیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ سچے ہیں تو اس جیسا کلام بنا لائیں

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں ؟

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کا چوتھا الزام اور اس کا جواب۔ فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ جب انسان ضد اور تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ اپنے مخالف کے بارے میں کیا کیا ہرزہ سرائی کررہا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ ایک طرف آپ کو مجنون کہتے اور دوسری طرف یہ الزام دیتے تھے کہ آپ اپنی طرف سے قرآن بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسے اللہ کا کلام قرار دیتے ہیں۔ ان کا قرآن اور نبی کی ذات پر ایمان نہیں تھا اس لیے انہیں اور پوری دنیا کے جنوں اور انسانوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی ایسا کلام بنا لاؤ اگر تم اپنے الزام میں سچے ہو۔ کیونکہ نبی بھی انسان ہے اور تم بھی انسان ہو۔ پھر تم اپنے آپ کو بڑا دانشور سمجھتے ہو اور نبی ﷺ کو دیوانہ خیال کرتے ہو۔ اس صورت میں تمہارے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ تم اس جیسا قرآن بنا لاؤ۔ قرآن مجید نے کفار کو یہ چیلنج کئی مرتبہ دیا۔ ( وَ اِن کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّن مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا شُہَدَآءَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ ) (البقرۃ : 23، 24) ” ہم نے جو اپنے بندے پر اتارا ہے اگر اس میں تمہیں شک ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اگر تم سچے ہو تو ” اللہ “ کے سوا اپنے مدد گاروں کو بھی بلا لاؤ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا اور تم ہرگز نہیں کرسکو گے پس اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ “ مسائل 1۔ کفار کا الزام تھا کہ نبی ﷺ اپنی طرف سے قرآن بنا لیتے ہیں۔ 2۔ کفار کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر تم اپنے الزام میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسا کلام بنا کرلے آؤ۔ 3۔ نبی ﷺ پر کفار اس لیے الزامات لگاتے تھے کیونکہ ان کا قرآن اور آپ ﷺ پر ایمان نہیں تھا۔
Ayahs 52:36–39

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا تیرے رب کے خزانے ان کے پاس ہیں ؟ یا ان پر ان کا کنٹرول ہے ؟

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر اوپر کی باتیں سن لیتے ہیں ؟ ان میں سے کسی نے کوئی بات سنی ہے تو وہ اس کا ٹھوس ثبوت پیش کرے

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں ؟

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی ﷺ کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کو کاہن، جادوگر اور شاعر کہنا شروع کردیا۔ قرآن مجید نے ان الزامات کے اور بھی جواب دیئے ہیں لیکن اس موقع پر یہ جواب دئیے۔ 1 ۔ کیا یہ لوگ کسی کے پیدا کیے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا خود اپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی سچائی پر یقین نہیں رکھتے۔ 2 ۔ کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ ان پر چوکید ار بنائے گئے ہیں ؟ 3 ۔ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی (LIFT) ہے جس کے ذریعے آسمان پر پہنچ کر قضا و قدر کے فیصلے سن لیتے ہیں ؟ اگر ان کے پاس اس بات کی کوئی واضح دلیل ہے تو اسے پیش کریں۔ اہل مکہ رسمی طور پر مانتے تھے کہ انہیں اور زمین و آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن حقیقی ایمان نہ ہونے کی وجہ سے وہ نبی ﷺ پر اس قسم کے اعتراض کرتے تھے جس سے ثابت ہوتا تھا کہ اللہ کے خالق ہونے پر ان کا ایمان نہیں ہے۔ اگر ان کا حقیقی طور پر ایمان ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے تو وہ قرآن اور نبی ﷺ پر اس قسم کے اعتراض نہ کرتے۔ خالق کا معنٰی ہے کہ بغیر کسی نمونے کے ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ جب اللہ تعالیٰ کو حقیقی طور پر خالق اور اپنے آپ کو مخلوق یعنی اس کا بندہ مان لیا تو اس قسم کے اعتراضات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر کیوں قرآن نازل کیا ہے اور قرآن غیر اللہ کی عبادت سے کیوں منع کرتا ہے کسی کو نبی منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور اختیار ہے لوگوں کی راہنمائی کے لیے حضرت محمد ﷺ کو نبی بنانا اللہ تعالیٰ کی بےپناہ رحمت کا مظہر ہے۔ اس لیے کفار سے یہ سوال کیا گیا۔ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں یا انہیں ان کا چوکیدار بنایا گیا ہے یا وہ آسمانوں پر چڑھ کر قضا و قدر کے فیصلے جان چکے ہیں ؟ کہ قرآن کس پر نازل ہونا چاہیے اور کس پر نازل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ان سوالات کے جواب میں کوئی دلیل نہیں رکھتے۔ جب ان کے پاس ان کے الزامات کا جواب نہیں ہے تو انہیں ہرزہ سرائی سے باز آکر نبی ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا اور قرآن مجید کی دعوت پر یقین کرنا چاہیے۔ ان کی بےانصافی اور ہرزہ سرائی کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں اور ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بیٹا یا بیٹی نہیں بنایا کیونکہ وہ ان چیزوں سے پاک اور مبرّاہے۔ گویا کہ یہ اس قدر غیر ذمہ دار اور کذاب لوگ ہیں کہ ان کی کسی بات پر یقین کرنا تو درکنار ان کی بات پر کان بھی نہیں دھرنا چاہیے۔ مسائل 1۔ ” اللہ “ ہی نے انسان اور ہر چیزکو پیدا کیا ہے اس کے سوا کوئی کچھ پیدا نہیں کرسکتا۔ 2۔ زمین و آسمانوں کو صرف ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں کا خود مالک ہے کوئی اس کے خزانوں پر اختیار نہیں رکھتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ بیٹی وہ اولاد اور ہر قسم کی محتاجی اور ضرورت سے بےنیاز ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے : 1۔ ” اللہ “ بہت بلند ہے اس چیز سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : 3) (النحل : 1) (النمل : 63) (القصص : 68) ( الزمر : 67) (الطور : 43) ( البقرۃ : 116) (یونس : 18) (مریم : 35)