52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsفہم القرآن

Ayahs 52:40–43

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کوئی اجر مانگتے ہیں جس کے بوجھ تلے وہ دبے جارہے ہیں ؟

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ اسے لکھ لیتے ہیں ؟

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود رکھتے ہیں ؟ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین سے مزید سوالات۔ کیا آپ ﷺ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ جس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبر آتی ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں ؟ کیا یہ مزید مکر و فریب کرنا چاہتے ہیں ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خود ہی اپنے مکر میں پھنس جائیں گے۔ کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود اور مشکل کشا ہے جس کے کھونٹے پر ناچتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم شریک بناتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے مبرّا اور بےنیاز ہے۔ یہاں اہل مکہ اور ہر مشرک اور کافر کو مختلف قسم کے سوال کیے گئے ہیں تاکہ قیامت تک کے لیے انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے پاس کفر و شرک کی کوئی علمی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ اس موقع پر مشرکین سے جو مزید سوالات کیے گئے وہ یہ تھے۔ کیا آپ ﷺ اپنے کام کا ان سے صلہ مانگتے ہیں جس کا یہ بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ آدمی کی یہ طبعی کمزوری ہے کہ جب اس سے کوئی چیز مانگتا ہے تو بیشک وہ فیاض کیوں نہ ہو پھر بھی مانگنے والے کے سوال کو محسوس کرتا ہے۔ اگر سوال کرنے و الا باربار مانگتا ہے تو فیاض شخص بھی سوال کرنے والے کو دلی طور پر اچھا نہیں سمجھتا۔ آپ ﷺ کو مخاطب فرما کر اہل مکہ کو شرم دلائی گئی ہے کہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ نبی ﷺ کسی اعتبار سے بھی تم پر بوجھ نہیں لیکن پھر بھی تم آپ کی شخصیت اور دعوت کو بوجھ محسوس کرتے ہو۔ اہل مکہ سے نواں سوال یہ کیا گیا کہ کیا ان کے پاس غیب کی خبریں آتی ہیں ؟ جنہیں یہ اپنے پاس لکھ لیتے ہیں اور اس بنیاد پر نبی ﷺ سے جھگڑا کرتے ہیں۔ آخری سوال یہ ہے کہ یہ کوئی مکرو فریب کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اس میں خود ہی پھنس کر رہ جائیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہر سازش اور شرارت کو ناکام کیا اور نبی اکرم ﷺ کو کامیاب فرمایا۔ اس بنا پر حکم ہوا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ مسائل سورة الطور کے دوسرے رکوع میں پندرہ مرتبہ ” اَمْ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظ سوال کرنے اور ” یا “ کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو کفار کے لیے بار بار استعمال کیا ہے تاکہ کافر سوچنے پر مجبور ہوں کہ سرور دوعالم ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ 1۔ کیا کافر آپ کو شاعر کہتے ہیں اور آپ کے بارے میں برے حالات کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں فرمائیں تم میرے بارے میں انتظار کرو میں بھی تمہارے انجام کا انتظار کرتا ہوں۔ 2۔ کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھاتی ہیں۔ 3۔ یا یہ لوگ سرکشی میں حد سے بڑھ چکے ہیں۔ 4۔ کیا کافر کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن خود بنالیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اگر وہ اس الزام میں سچے ہیں تو انہیں قرآن کے چیلنج کا جواب قبول کرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ معبود برحق ماننے کے لیے تیار نہیں کیا انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ؟ یا اپنے آپ پیدا ہوگئے ہیں۔ 6۔ کیا انہوں نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 7۔ کیا یہ آپ ﷺ کے رب کے خزانوں کے مالک ہیں ؟ 8۔ کیا وہ آپ کے رب کے خزانوں پر چوکیدار ہیں ؟ 9۔ کیا ان کے پاس سیڑھی ہے کہ یہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں۔ اگر سن لیتے ہیں تو انہیں اپنے حق میں کوئی واضح دلیل پیش کرنی چاہیے۔ 10۔ کافر کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ کیا ” اللہ “ کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں ؟ 11۔ کیا آپ ان سے اجر مانگتے ہیں جس کے بوجھ تلے یہ دبے جارہے ہیں۔ 12۔ کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں۔ 13۔ کیا یہ کوئی اور سازش کرنا چاہتے ہیں ؟ یہ اپنی سازش میں خود ہی پھنس جائیں گے۔ 14۔ کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبودِبرحق ہے ؟ انہیں بتلا دیں کہ اللہ ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے مبرّاہے۔ تفسیر بالقرآن نبی (علیہ السلام) کفار کے الزامات سے مبرّا ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں : (یٰس : 69، الحاقہ : 41، القلم : 2، القصص : 88، النمل : 60، النمل : 62، النمل : 63، النمل : 64، القصص : 71، الفرقان : 3، الانبیاء : 99)
Ayahs 52:44–47

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ تو بادل ہیں جو ایک دوسرے کے بعد آرہے ہیں

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

پس اے نبی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ بےہوش کیے جائیں گے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس دن نہ ان کی کوئی چال ان کے کام آئے گی نہ وہ مدد کیے جائیں گے

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور اس وقت سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور سخت ترین تنبیہات کے ذریعے اہل مکہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ رسول ﷺ پر ایمان لائیں، آخرت پر یقین رکھیں اور صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ لیکن مشرک اس قدر ہٹ دھرم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی ان حالات میں یہ ارشاد ہوا کہ ان لوگوں پر اگر آسمان کا کوئی حصہ گرا دیا جائے تو اسے نیچے آتے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو گھنے بادلوں کا ٹکڑا ہے۔ لہٰذا ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ کہ وہ دن آپہنچے جس دن یہ بےہوش کردیئے جائیں گے۔ اس دن نہ ان کا مکرو فریب چلے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کرنے والا ہوگا۔ ظالموں کے لیے دنیا میں بھی عذاب ہے لیکن ان کی اکثریت اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس خطاب میں کفار کو تنبیہ کرنے کے ساتھ آپ ﷺ کے ان ساتھیوں کو بھی تسلی دی گئی ہے جن کا خیال تھا کہ اگر کفار کو ان کے منہ مانگے معجزات دکھادیئے جائیں تو شاید وہ ایمان لے آئیں۔ ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بتلایا گیا ہے کہ معجزات تو درکنار ان پر آسمان کا ٹکڑا بھی گرا دیا جائے تو پھر بھی یہ لوگ اس کی تاویلات کریں گے مگر ایمان نہیں لائیں گے۔ ہاں یہ قیامت کے دن ہر بات تسلیم کریں گے لیکن اس وقت تسلیم کرنے کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ ایک دوسرے کی مدد کرسکیں گے۔ ان آیات کی تاثیر : جبیر بن مطعم ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں بدر کے قیدیوں کی سفارش کرنے کے لیے مدینہ گئے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے مسجد میں آپ کو مغرب کی نماز کے وقت سورة طور کی ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو میرے دل کی حالت یہ ہوگئی۔ ” حضرت جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورة طور پڑھتے ہوئے سنا جب آپ ان آیات پر پہنچے ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں ؟ یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔ کیا تیرے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں ؟ یا ان پر ان کا حکم چلتا ہے ؟ “” کَادَ قَلْبِی أَنْ یَطِیرَ “ قریب تھا کہ میرا دل پھٹ جاتا۔ “ ( رواہ البخاری : باب وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) مسائل 1۔ ہٹ دھرم لوگ بڑی سے بڑی سزا پاکر بھی ایمان نہیں لایا کرتے۔ 2۔ قیامت کے دن ظالموں کا کوئی مکرو فریب نہیں چلے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کرنے والا ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ظالموں کو کئی قسم کی سزائیں دیتا ہے اس کے باوجود وہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تفسیر بالقرآن ہٹ دھرم لوگوں کاروّیہ اور کردار : 1۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : 10) 2۔ کفار نے انبیاء سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : 13) 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم کے سرداروں نے کہا تو ہمارے جیسا ہی ایک آدمی ہے اور تیری پیروی کرنے والے بھی ادنیٰ لوگ ہیں۔ (ھود : 27) 4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون نے کہا کیا تم اپنے جادو سے ہمیں ہماری زمین سے نکالنا چاہتے ہو۔ (طٰہٰ : 57 ) 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر آل فرعون نے منحوس ہونے کا الزام لگایا۔ (الاعراف : 131) مزید ملاحظہ فرمائیں۔ (الحجر : 14۔ 15) (سباء : 43) (الفرقان : 8) (النساء : 156) (الاعراف : 109) (یونس : 76) (یونس : 2) (ص : 4)
Ayahs 52:48–49

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اے نبی اپنے رب کے حکم کے ساتھ صبر کیجئے آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

رات کو اور جب ستارے چھپتے ہیں اس وقت بھی اس کی تسبیح کیا کریں

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کو عذاب کی دھمکی دینے کے بعد نبی محترم ﷺ کو صبر کرنے کی تلقین۔ توحید کے دلائل دینے اور کفار کو عذاب کا انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تلقین کی گئی کہ آپ حوصلہ اور مستقل مزاجی سے کام لیں اور ہر حال میں یقین رکھیں کہ آپ کا رب آپ کو دیکھ رہا ہے۔ جہاں نبی ﷺ کو تسلی دینے کے لیے وہی انداز اور الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے استعمال کیے گئے۔ قوم کے بارے میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا قبول ہوئی تو انہیں حکم ہوا کہ آپ ہماری ہدایت کے مطابق ہمارے سامنے کشتی تیار کریں کیونکہ عنقریب آپ کی قوم کو تباہ کردیا جائے گا۔ (ھود : 37) حضرت موسیٰ اور ہ اورن کو فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں البتہ میری یاد کو نہ بھولنا۔ (طٰہٰ : 42 تا 46) نبی اکرم ﷺ کو بھی انہی الفاظ میں تسلی دی گئی ہے کہ آپ اپنے رب کے حکم کے مطابق حوصلہ رکھیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں۔ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ قیام اور ذکر : اس سورت کے آخر میں حکم ہوا ہے کہ آپ ﷺ جب اٹھیں تو اپنے رب کو یاد کریں۔ اہل علم نے اٹھنے سے مراد پانچ قسم کا اٹھنا لیا ہے۔ 1۔ آپ ﷺ جب کسی مجلس میں تشریف فرما ہوں اور وہاں سے اٹھیں تو اپنے رب کی تسبیح کریں۔ اس فرمان کی روشنی میں آپ نے اس بات کو مجلس کے آداب میں شامل فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص مجلس سے اٹھے تو اسے یہ کلمات پڑھنے چاہئیں جس سے مجلس میں کی گئی سطحی باتوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ ( سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ أَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ ) (رواہ الترمذی : باب مایقول اذا قام من المجلس، قال الشیخ البانی صحیح) 2۔ آپ ﷺ نے ” حِیْنَ تَقُوْم “ پر اس طرح بھی عمل کیا اور اپنی امت کو تعلیم دی کہ جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ ( عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِہِ قَال باسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْیَا وَإِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ.) (رواہ البخاری : باب مَا یَقُولُ إِذَا نَامَ ) ” حضرت حذیفہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے ہیں تو یہ دعا پڑھتے۔ ” میں تیرے نام سے ہی مرتا ہوں اور تیرے نام ہی سے جیتا ہوں۔ “ اور جب سو کر اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے۔” میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس نے مجھے مرنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ “ 3۔ جب اللہ کی دعوت دینے کے لیے اٹھو تو سب سے پہلے حمدو ثناء بیان کیا کرو۔ ” نبی ﷺ خطاب شروع کرنے سے پہلے اللہ کی حمدوثناء پڑھتے۔ “ (رواہ البخاری : باب المکاتب) 4۔ اٹھنے سے مراد نماز کے لیے اٹھنا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نماز کے آغاز میں یہ کلمات پڑھتے تھے۔ (سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اْسمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ.) ( رواہ مسلم : باب حُجَّۃِ مَنْ قَالَ لاَ یَجْہَرُ بالْبَسْمَلَۃِ ) 5۔ جب کسی کام کا آغاز کیا جائے تو اس کی ابتداء ” اللہ “ کے نام سے کی جائے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَذْکُرْ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَإِنْ نَسِیَ أَنْ یَذْکُرَ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِی أَوَّلِہٖ فَلْیَقُلْ بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ ) (رواہ ابوداؤد والترمذی : کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ بلاشبہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے لگے تو بسم اللہ پڑھے اگر اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ کہے اللہ کے نام سے ہی ابتدا اور انتہا کرتا ہوں۔ “ 6۔ امام ابن جریر نے ” حِیْنَ تَقُوْم “ کا یہ مفہوم بھی لیا ہے کہ جب دوپہر کا قیلولہ کرکے اٹھو تو ظہر کی نماز ادا کرو۔ بعض اہل علم نے رات کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور رتہجد کی نماز لی ہے۔ (وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسآی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) (بنی اسرائیل : 79) ” اور رات کے کچھ حصے میں آپ تہجد پڑھیں اس حال میں کہ آپ کے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے۔ “