51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الذاریات کا تعارف یہ سورت اپنے نام سے ہی شروع ہوتی ہے اس کے تین رکوع اور ساٹھ (٦٠) آیات ہیں۔ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں ہواؤں کے متعلق چار قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو تمہارے ساتھ جس قیامت کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہر حال میں سچ ثابت ہوگا پھر آسمان کی قسم اٹھاکر ارشاد فرمایا کہ قیامت کا دن ہر صورت واقع ہو کر رہے گا اس کے باوجود تم اس کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے ہو اس کا وہی انکار کرتا ہے جو حق بات سے پھرجاتا ہے۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں وہ مارے جائیں گے۔ غفلت میں مبتلا ہونے کے باوجود پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ انہیں بتلائیں قیامت اس دن آئے گی جس دن یہ لوگ آگ میں تپائے جائیں گے۔ اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے لیے اپنی گمراہی کا مزا چکھتے رہو۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہوئے رات کے وقت اپنے رب کے حضور استغفار کرتے رہے اور اپنے مال سے سائل اور محروم کو ان کا حق دیتے رہے انہیں چشموں والی جنت میں داخل کیا جائے گا وہ اپنے رب سے ہر قسم کی نعمتیں حاصل کرنے والے ہوں گے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ لوگو قیامت پر یقین اور رب پر ایمان لانا چاہتے ہو تو اس کے لیے تمہارے نفسوں اور جس زمین پر تم رہتے ہو اس میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ اے نبی کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہانوں کی بات پہنچی ہے ؟ جب وہ اس کے پاس آئے تو اسے سلام کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں کہا کہ آپ لوگوں کو بھی سلام ہو اور سوچا کہ ناآشنا لوگ ہیں۔ پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا بھون کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا۔ فرمایا کہ تم کھاتے نہیں ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے خوف محسوس کیا انہوں (فرشتوں) نے کہا۔ ڈریے نہیں اور انہوں نے اسے ایک صاحب علم بیٹے کی خوشخبری سنائی۔ یہ سن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنے منہ پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی، بوڑھی، بانجھ کو بیٹا ہوگا۔ فرشتوں نے کہا تیرے رب کا یہی فرمان ہے یقیناً وہ بڑا حکمت والا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون کا انجام ذکر کیا گیا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم اور فرعون نے بھی اپنے انبیاء کو ٹھکرایا اور فرعون نے کہا کہ موسیٰ جادوگر ہے یا مجنوں۔ یہی حال قوم عاد، ثمود اور قوم نوح کا ہوا۔ الذاریات کے آخر میں جنوں اور انسانوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا اور ہم تم سے رزق نہیں مانگتے بلکہ روزی دینے والا تو اللہ ہے جو بڑی قوت والا اور زبردست ہے جو لوگ اللہ کی عبادت اور قیامت کے دن کا انکار کریں گے وہ ظالم ہوں گے اور ظالموں کے لیے بالاخر ہلاکت ہوگی۔

Ayahs 51:1–4

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان ہواؤں کی جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ سے چلنے والی ہواؤں کی

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

تقسیم کرنے والی ہواؤں کی

فہم القرآن ربط سورت : سورة ق کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا۔ الذّاریات کی ابتدا بھی قیامت کے ذکر اور اس کے دلائل سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے کسی کی قسم اٹھانا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ اس سے دیگر مقاصد کے ساتھ اس چیز کی اہمیت بتلانا بھی مقصود ہوتا ہے۔ جنس (gender) کے اعتبار سے ہوا ایک ہے لیکن کام اور اثرات کے لحاظ سے اس کی کئی اقسام ہیں یہاں چار قسم کی ہواؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قسم ہے گردوغبار اڑانے والی، بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی پھر سبک رفتار چلنے والی اور پانی کو بارش کی صورت میں برسانے والی ہواؤں کی۔ یاد رہے کہ قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں ہوابھی اللہ کی قدرت کی زبردست نشانی ہے۔ ہوا قدرت کی نشانی ہونے کے ساتھ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے سوا ہر جاندارچند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ اللہ کی بےپایاں رحمت پر غور فرمائیں کہ جن چیزوں کے بغیر کوئی جاندار زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو عام کردیا ہے۔ ان میں پانی، روشنی، اندھیرا اور ہوا بھی شامل ہے جو محلات کی نسبت جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو صاف اور شفاف صورت میں حاصل ہوتی ہیں۔ ہوا پر غور فرمائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے گرد آلود یارنگ دار کردے تو بینائی رکھنے کے باوجود انسان ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائے۔ اگر پوری دنیا یا کسی علاقے کی ہوا کو گرد آلود کردیا جائے تو پیدل چلنے والے سے لے کر ہوائی جہاز کا پائلٹ بھی بےکار اور لاچار ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا میں ایسی قوت رکھ دی ہے کہ اگر وہ آندھی کی شکل اختیار کرلے تو ہر چیز کو اڑا کر رکھ دیتی ہے۔ ہوا ٹنوں کے حساب سے گردو غبار اٹھا کر اسے میلوں دور پھینک دیتی ہے بالخصوص صحراء میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو ہوا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیتی ہے۔ بسا اوقات آندھی کی وجہ سے صحراء میں راستے اس طرح اٹ جاتے ہیں کہ مسافر کے لیے راستہ تلاش کرنا محال ہوجاتا ہے۔ ہوا میں اللہ تعالیٰ نے یہ قوت اور کشش بھی رکھی ہے کہ جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بخارات کی شکل اختیار کرتا ہے تو ہوا اس کو اٹھا کر فضا میں ایک خاص بلندی تک لے جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو اٹھائے ہوئے خراما خراما چلتی ہوئی انہیں وہاں لے جاتی ہے جہاں انہیں برسنے کا حکم ہوتا ہے۔ بادلوں کو اٹھانے والی ہوا یک دم بادل کو نیچے نہیں پھینکتی بلکہ آبشار کی صورت میں پانی برساتی ہے۔ اگر ہوا بادل کو یک دم پھاڑ دے تو زمین پر پانی اس طرح گرے کہ کوئی چیز باقی نہ بچ سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ سورج کی تپش سے پانی کو بخارات میں تبدیل نہ کرے اور بخارات کو ہوا اوپر نہ اٹھائے تو بارش کا برسنا ناممکن ہوجائے۔ ہوا بادلوں کو تقسیم کرتی ہے بسا اوقات اس قدر گہرے بادل ہوتے ہیں کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ بادل ہر صورت برس کر رہیں گے لیکن یکدم ہوا بادلوں کو اس طرح بکھیر دیتی ہے کہ ان کا نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔ بنیادی طور پر بارش ہی آبپاشی کا ذریعہ ہے جس سے ہر ذی روح سیراب ہوتا ہے اور بارش کا مرکزی سبب ہوا ہے جس کے ذریعہ بادل ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتے اور برستے ہیں۔ بارش کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو حیات نو بخشا ہے جس وجہ سے زمین میں دبے ہوئے بیج اپنی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اگتے ہیں اور صحراء شاداب دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں اشارے کی زبان میں اور دوسرے مقام پر کھلے الفاظ میں بتایا ہے کہ جس طرح بارش سے بیج اُ گتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا۔ ( الزخرف : 11) بعض مفسرین نے ” مُقَسِّمَاتِ “ سے مراد فرشتے لیے ہیں لیکن کلام کے سیاق وسباق سے یہ مفہوم لینا دور کی بات نظر آتی ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کئی چیزوں کی قسم اٹھائی ہے۔ 2۔ کسی چیز کی قسم اٹھانے کا مقصد اس کی اہمیت کو نمایاں کرنا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا بھی کئی قسم کی بنائی ہیں جو اپنا اپنا کام سرانجام دیتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں ہوا کا ذکر : 1۔ کفار کے اعمال کی مثال تیز آندھی کی سی ہے جس طرح تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے ایسے ہی کفار کے اعمال اڑ جائیں گے۔ (ابراہیم : 18) 2۔ قوم عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک کی گئی۔ (الحاق : 6) 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے چلتی تھی۔ (الانبیاء : 81) 4۔ ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) (بنی اسرائیل : 68)
Ayahs 51:5–6

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بلاشبہ جس چیز کا تمہیں وعد دیاجا رہا ہے یقیناً وہ سچ ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور قیامت ضرور آئے گی

فہم القرآن ربط کلام : پانی کا انحصار بارش پر ہے اور اس کے ذریعے زمین سے بیج اگتے ہیں۔ جس طرح زمین سے بیج اگتے ہیں اسی طرح لوگوں کو قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھایاجائے گا۔ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ پہلی آیات میں بارش کے حوالے سے اشارتاً قیامت کا ذکر ہوا اور اب بار بار تاکید کے الفاظ لا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے گی۔ یہ بات سورة ق کی آیات 9 تا 19 کی تفسیر میں ذکر ہوئی ہے کہ جس ذات نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو پیدا کیا ہے اس کے لیے مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل نہیں بلکہ ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے اس حقیقت کے باوجود جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں مختلف انداز اور دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اس کے باوجود جو ماننے کے لیے تیار نہیں انہیں ان الفاظ میں چیلنج دیا ہے۔ ” فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیالات میں بڑی ہے عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے۔ “ ( بنی اسرائیل : 50 ) (یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) (الانبیاء : 104) ” وہ دن جب آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے لکھے ہوئے اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ وعدہ ہمارے ذمیّ ہے اور یہ کام ہمیں ہر حال میں کرنا ہے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کا وعدہ سچا ہے جو ہر صورت پورا ہو کررہے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے قائم ہونے کے دلائل : 1۔ قیامت قریب ہے۔ (الحج : 1) 2۔ تمہارے لیے قیامت کا دن مقرر ہے۔ اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ ( سبا : 30) 3۔ قیامت اچانک آجائے گی۔ ( یوسف : 107) 4۔ قیامت پل بھر میں واقع ہوجائے گی۔ ( النحل : 77) 5۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ( الکہف : 21)
Ayahs 51:7–15

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے راستوں والے آسمان کی

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

قیامت سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرجاتا ہے

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

مارے گئے اندازہ لگانے والے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

یہ وہ دن ہوگا جب یہ آگ پر جلائے جائیں گے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اپنے عذاب کا مزہ چکھو۔ یہ وہی ہے جس کو تم جلد طلب کر رہے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

البتہ متقی لوگ اس دن باغوں اور چشموں میں ہوں گے

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں کہ یہ کب آئے گی۔ حالانکہ اس دن وہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ اس میں چیخ و پکار کریں گے تو ملائکہ جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ اب اپنی یا وہ گوئی کی سزا پاؤ کیونکہ تم اس کے بارے میں بےیقینی اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ آسمان کے بارے میں ” ذَاتِ الْحُبُکِ “ کے لفظ استعمال فرمائے ہیں۔” حِباک “ کی جمع ” حُبُک “ ہے جس کا معنٰی راستے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں راستے اور دروازے بنائے ہیں۔ جن راستوں سے چل کر ملائکہ آسمان پر چڑھتے اور اترتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کی تضاد فکری اور بےیقینی کا عالم یہ ہے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم رہنے کی بجائے مختلف قسم کی باتیں اور حجت بازیاں کرتے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ قیامت ہرگز برپا نہیں ہوگی۔ کچھ کہتے ہیں کہ دنیاکا نظام اس طرح ہی چلتارہنا ہے۔ جو مرگیا وہ مٹی کے ساتھ جا ملا۔ اس نے نہ اٹھنا اور نہ اس نے حساب دینا ہے۔ انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے کیونکہ دنیا میں مکافات عمل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بعض مذاہب میں آواگون کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کسی اور شکل میں دنیا میں پلٹ آتا ہے اگر اس کے اعمال اچھے ہوں تو وہ اچھے جانور یا پرندے کی شکل میں دنیا میں رہتا ہے۔ اگر اس کے اعمال برے ہوں تو وہ گدھے یا کسی درندے کی شکل میں زندگی گزارتا ہے۔ گویا کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں رہتا ہے اس سے آگے کچھ نہیں ہے۔ مکہ میں ایسے لوگ بھی تھے جن کا دعوی تھا کہ بالفرض قیامت قائم ہوگئی تو ہم آخرت میں بھی مسلمانوں سے بہتر ہوں گے۔ قیامت کا انکار کرنے والے جنت اور جہنم کے بارے میں بھی مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ قیامت کا انکار کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کی تضاد فکری پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جو آدمی کسی چیز کے وجود کا انکار کرتا ہے اس کے متعلق اسے نہ جلد بازی کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے اس کے بارے میں قیل قال کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی بےیقینی اور تضاد فکری میں مارے جائیں گے۔ قیامت تو ہر صورت برپا ہو کر رہے گی اس کا انکار کرنے والے ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَاب السَّمَاءِ فِی کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیسٍ فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لاَ یُشْرِکُ باللَّہِ شَیْءًا إِلاَّ امْرَأً بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَاءُ قَالَ فَیُقَالُ انْتَظِرْ ہَذَیْنِ حَتَّی یَصْطَلِحَا) (رواہ مسلم : باب النَّہْیِ عَنِ الشَّحْنَاءِ وَالتَّہَاجُرِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آسمان کے دروازے ہر سوموار اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں اور ہر شخص کو معاف کردیا جاتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو مگر اس شخص کو معاف نہیں کیا جاتا جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کو چھوڑدو یہاں تک کہ یہ صلح نہ کرلیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی قسم اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ تضادفکری اور گمراہی کا شکار ہیں۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کو جہنم کی آگ میں پھینکا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے منکرین کی سزا : 1۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : 9) 2۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : 16) 3۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (الفرقان : 11)
Ayahs 51:16–19

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے، کیونکہ وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکی کرنے والے تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ راتوں کو کم ہی سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

وہ رات کے پچھلے حصے میں معافی مانگتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا حق سمجھتے تھے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سزا کے ذکر کے بعد جنتیوں کا تذکرہ، قیامت پر ایمان لانے اور اس کی جوابدہی کا خوف رکھنے والوں میں یہ صفات پید اہوتی ہیں۔ قیامت پر یقین رکھنا انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے اور نیکی کے کاموں پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے قیامت پر یقین رکھنے والوں کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یقیناً یہ لوگ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور اپنے رب سے جنت کی نعمتیں حاصل کریں گے۔ کیونکہ وہ دنیا میں نیکی کرنے والے تھے۔ وہ پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ سویا کرتے تھے اور سحری کے وقت اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے اور اپنے مال سے سائل اور اس شخص کو دیتے تھے جو مستحق ہونے کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے متقی لوگوں کی تین صفات ذکر فرمائی ہیں۔ 1 ۔ جنتی لوگ ہر حال میں اخلاص کے ساتھ نیکی کرنے والے ہوتے ہیں۔ 2 ۔ جنتی اس خیال اور نیت سے صدقہ کرتے ہیں کہ یہ ہمارا غریبوں پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہی ان تک پہنچا رہے ہیں اسی لیے وہ ان غریبوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو اپنی حیا اور خوداری کی وجہ سے دوسروں سے نہیں مانگتے۔ 3 ۔ متقی لوگ رات بھر خراٹے لینے کی بجائے آدھی یا رات کا کچھ حصہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّےْلِ ےَتَھَجَّدُ قَالَ (اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَےِّمُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مٰلِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَ لِقَآءُکَ حَقٌّ وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَّالنَّارُ حَقٌّ وَّالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ وَّمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ حَقٌّ اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَےْکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَےْکَ اَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَےْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَآ اَخَّرْتُ وَمَآ اَسْرَرْتُ وَمَآ اَعْلَنْتُ وَمَآ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَلَآاِلٰہَ غَےْرُکَ ) (رواہ البخاری : باب التَّہَجُّدِ باللَّیْلِ ) ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت جب تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے۔ ” اے اللہ تیری ہی حمدوستائش ‘ تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کو قائم رکھنے والا ہے، تیرے لیے ہی حمد ہے اور تیری وجہ سے ہی زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز روشن ہے، تیرے لیے ہی تعریف ہے۔ تو ہی زمین و آسمان اور ان میں ہر چیز کا مالک ہے، تیرے ہی لیے حمدوثنا ہے تو ہی حق ہے تیرے وعدے سچ ہیں۔ تجھ سے ملاقات یقینی ہے۔ تیرا فرمان سچا ہے۔ جنت، دوزخ، انبیاء، محمد، قیامت یہ سب سچ اور حق ہیں۔ الٰہی میں تیرا فرمانبردار اور تجھ پر ہی ایمان رکھتا ہوں ‘ تیری ذات پر میرا بھروسہ ہے۔ تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں، تیری مدد سے ہی کفار اور مشرکین سے لڑتا ہوں۔ میں سب کچھ تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پس میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف فرما۔ جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیری ذات ہی اول وآخر ہے۔ تو ہی الٰہ برحق ہے اور تیرے سوا کوئی معبود ومسجود نہیں۔ “ مسائل 1۔ منقی لوگ سحری کے وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ بالفاظ دیگر صبح کے وقت اپنا احتساب کرتے ہیں۔ 2۔ متقی لوگوں کی یہ بھی صفت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مال سے ان لوگوں کو دیتے ہیں جو اپنی حاجت کے لیے ان سے سوال کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی دیتے ہیں جو مستحق ہونے کے باوجود نہیں مانگتے۔ اپنی حیاء کی وجہ سے کسی کے سامنے دست دراز نہیں کرتے۔ 3۔ جنت میں چشمے جاری ہوں گے۔ 4۔ جنتی نیک اعمال کے بدلے اپنے رب سے انعامات پائیں گے۔ 5۔ جت میں جانے والے لوگ پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ تہجد پڑھنے میں گزارتے ہیں۔ 6۔ جنت میں جانے والے حضرات اپنے رب کے حضور صبح کے وقت استغفار کرتے ہیں۔
Ayahs 51:20–21

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور تمہارے وجود میں بھی نشانیاں ہیں کیا تم نہیں دیکھتے ؟

فہم القرآن ربط کلام : جنت ایمان کے بدلے نصیب ہوگی اور ایمان یقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ یقین کے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور وخوض کرے، اور ان پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کی معرفت کے لیے نہ صرف زمین میں بیشمار نشانیاں پیدا کی ہیں بلکہ اس نے لوگوں کے وجود میں بھی اپنی قدرت کی نشانیاں پیدا کی ہیں کہ لوگ ان پر غور کریں تو انہیں اپنے رب کی ذات اور صفات پر اس طرح یقین ہوجائے کہ وہ کسی اور کو الٰہ ماننے اور اس کا شریک بنانے اور اس کی نافرمانی کی جرأت نہ کرسکیں۔ لیکن بیشمار لوگ اپنے رب کی قدرتوں اور نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں مگر اس کی ذات اور صفات پر صحیح معنوں میں یقین نہیں رکھتے۔ ایسے لوگوں کو بالخصوص باربار دعوت دی جاتی ہے کہ وہ زمین و آسمان اور اپنے آپ پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح پیدا فرمایا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں اپنی قدرت کی بیشمار نشانیاں رکھی ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے وجود میں اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں مگر لوگ غور و فکر نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی تخلیق میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 22) 2۔ ” اللہ “ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20) 3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 4۔ ” اللہ “ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4)
Ayahs 51:22–23

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

تمہارا رزق آسمان میں ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی یہ بات ایسی ہی یقینی ہے جیسے تم بولتے ہوئے کرتے ہو

فہم القرآن ربط کلام : متقین کی آیت 19 میں یہ صفت بیان ہے کہ وہ اپنے مال سے محتاج لوگوں پر خرچ کرتے ہیں۔ اب مال کی حقیقت بتلائی ہے کہ مال پر کسی کا حقیقی اور دائمی اختیار نہیں، اس کا کنٹرول آسمان میں ہے جسے دینے کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ” اللہ “ نے زمین و آسمان کی قسم اٹھا کر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے رزق کا کنٹرول آسمان میں رکھا ہے اور رزق دینے کا اس کا سچا وعدہ ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور بات سچ پر مبنی ہے یہ اس طرح سچ ہے جس طرح تم بولتے ہو۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد انسان کی وہ تمام ضروریات ہیں جس کی اسے اپنی پوری زندگی میں حاجت ہوتی ہے۔ اس کا کنٹرول آسمان میں رکھا گیا ہے اس ارشاد کے دو مفہوم ہیں۔ 1۔ رزق اور ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ جو آسمانوں کے اوپر عرش معلی پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہے وہی لوگوں کا رزق تنگ اور کشادہ کرتا ہے۔ 2۔ انسان کی بیشتر ضروریات کا تعلق پانی سے ہے اور پانی کا دارومدار بارش کے ساتھ ہے۔ بارش کے نزول کا حکم بھی آسمان سے ہوتا ہے۔ بارش بلندیوں سے زمین پر برستی ہے۔ اس لیے ہر دور میں انسان کی زبان پر یہی بات رہی ہے اور رہے گی کہ بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی قسم اٹھا کر لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ تمہارا رزق آسمانوں میں ہے اور اس نے تمہیں رزق دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے میں سچا ہے۔ اسی سورة کی آیت 58 میں ارشاد کہ یقیناً اللہ ہی رزق دینے والا ہے اور وہ بڑا طاقتور اور مضبوط ہے۔ ارشاد فرمایا کہ تمہیں رزق دینے والی بات اتنی ہی سچی اور واضح ہے جس طرح تمہارا ایک دوسرے کس ساتھ بات کرنا۔ 3۔ گو سائنسدان ابھی اس نقطہ پر نہیں پہنچ سکے کہ بارش برسنے کا آسمان سے کیا تعلق ہے ممکن ہے مستقبل قریب یا بعید میں سائنس اس نقطہ پر پہنچ جائے کہ بارش کا تعلق آسمان کے ساتھ ہے جس وجہ سے اسے آسمان کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔ ( اللہ اعلم) ” زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمّہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ “ (ہود : 6) (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ ۔۔ ) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ) ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے جو خون کی صورت میں جم جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم دیتے ہیں پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔۔۔ “ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا) (رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ۔ قال البانی ہذا حدیث صحیح) ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کا کنٹرول آسمان میں رکھا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ رزاق ہے اور اس نے لوگوں کو رزق مہیا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ اس کی ذات اور بات سچ ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی رزق دینے والا ہے : 1۔ ” اللہ “ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : 58) 2۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (ا لسباء : 39) 3۔ ” اللہ “ لوگوں سے رزق طلب نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132) 4۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : 212) 5۔ بیشک اللہ بغیر حساب کے جس کو چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے۔ (آل عمران : 37) 6۔ ہم تم سے رزق نہیں مانگتے بلکہ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں۔ (طٰہٰ : 132)
Ayahs 51:24–30

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

اے نبی کیا آپ کو ابراہیم کے معزز مہانوں کی بات پہنچی ہے ؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس آئے تو اسے سلام کہا اس نے جواب میں کہا کہ آپ لوگوں کو بھی سلام ہو، سوچا ناآشنا لوگ ہیں

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

کہا تم کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

تو ابراہیم نے ان سے خوف محسوس کیا انہوں (فرشتوں) نے کہا۔ ڈریے نہیں اور انہوں نے اسے ایک صاحب علم بیٹے کی خوشخبری سنائی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

یہ سن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنے منہ پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی، بوڑھی، بانجھ کو

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

انہوں نے کہا تیرے رب کا یہی فرمان ہے یقیناً وہ بڑا حکمت والا ہے اور سب کچھ جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : آیت 21 ارشاد میں ہوا کہ تمہارے وجود میں بھی اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے مظہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ مکرمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنیں بڑھاپے میں بیٹے عطا فرمائے جن کا مختصر واقعہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ تمام مؤرخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو سال تھی۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں سلام کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں سلام کا جواب دیا اور سوچا کہ اجنبی لوگ ہیں۔ اس کے باوجود اٹھے اور ایک موٹا تازہ بھنا ہوابچھڑا کھانے کے لیے ان کے سامنے پیش کیا۔ انسانوں کی شکل میں آنے والے ملائکہ نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ اٹھایا۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے لیکن فرشتوں نے کہا کہ آپ کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم بری خبر دینے کی بجائے آپ کو دانش مند بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب سیرت ابراہیم) ” جب دیکھا ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو انہیں اجنبی جانا اور ان سے خوف محسوس کیا انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ “ (ہود : 70) بشارت سن کر حضرت سارہ[ مسکرائیں : ” اور اس کی بیوی جو اس کے پاس کھڑی تھی یہ سن کر ہنس پڑی۔ ہم نے اس کو اسحاق اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری سنائی۔ اس نے کہا اف ! کیا اب میرے ہاں بچہ ہوگا۔ حالانکہ میں نہایت بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوچکا ہے یہ عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا۔ کیا اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو۔ اے ابراہیم کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ یقیناً اللہ نہایت تعریف والا اور بلند شان کا مالک ہے۔ “ (ھود : 71، 72، 73) ” اے نبی ! آپ ان کو ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ سنائیں۔ جب وہ ابراہیم کے پاس آئے اور کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم نے کہا ہمیں تو آپ سے ڈر لگتا ہے فرشتے کہنے لگے۔ آپ ڈریں نہیں ! ہم آپ کو صاحب علم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ابراہیم فرمانے لگے۔ کیا آپ اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دے رہے ہیں۔ یہ کیسی بشارت ہے۔ “ (الحجر : 51 تا 54) ” فرشتے کہنے لگے ہم آپ کو ٹھیک خوشخبری دے رہے ہیں۔ آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ابراہیم نے کہا۔ اپنے رب کی رحمت سے تو گمراہ لوگ ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ “ (الحجر : 55، 56) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اظہار تفصیل کے لیے سوال کیا تھا ورنہ وہ تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ کیونکہ رب کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ نبی تو اسباب کی ناپیدگی کے باوجود اپنے رب کی رحمت پر بھرپور بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اس واقعہ میں بتانا یہ مقصود ہے۔ اے اہل مکہ یہ حقیقت جان لو تم فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہو کہ فرشتے آکر اس نبی کی تائید کریں۔ تب ہم غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ یاد رکھو فرشتے یا تو کسی کے لیے رحمت لے کر آتے ہیں یا زحمت ! تم سوچ لو تم کس چیز کے مستحق ہو ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ بغیر اسباب کے سب کچھ کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں اولاد کے ظاہری اسباب نہیں تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹے عطا فرمائے۔ اسی طرح حالات نامساعد ہی کیوں نہ ہوں اللہ اپنے نبی ﷺ اور دین کو ضرور کامیاب فرمائے گا۔ کیونکہ ” اللہ “ اسباب کا پابند نہیں۔ اسباب اس کے حکم کے پابند ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) : مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ کی عمر سو سال اور آپ کی زوجہ حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسحاق کی خوشخبری دینے کے ساتھ پوتے یعقوب کی خوشخبری بھی عطا فرمائی۔ (ھود : 69، 70) مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس معزز فرشتے انسانوں کی شکل میں حاضر ہوئے۔ 2۔ ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام عرض کیا۔ جواب میں ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی انہیں سلام کہا۔ 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں کو پہچان نہ سکے۔ 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مہمانوں سے خوف زدہ ہوگئے۔ 5۔ مہمانوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اطمینان دلانے کے بعد صاحب علم بیٹے کی بشارت دی۔ 6۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی حضرت سارہ خوشخبری سن کر تعجب کے مارے ہنس پڑی اور کہا ایک بانجھ بڑھیا کے ہاں کس طرح بچہ پیدا ہوگا۔ 7۔ ملائکہ نے کہا آپ کا رب آپ کو ضرور بیٹاعطا فرمائے گا۔ کیونکہ وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) غیب نہیں جانتے تھے : 1۔ حضرت نوح نے فرمایا میرے پاس خزانے نہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (ہود : 31) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ کو نہ پہچان سکے۔ (ہود : 70، 69) 3۔ حضرت لوط ملائکہ کو نہ پہچان سکے۔ (ہود : 77، 78) 4۔ آپ ﷺ فرما دیں میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : 50) 5۔ فرمادیجیے کہ زمین و آسمان کے غیب کو ” اللہ “ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 6۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188) 7۔ ” اللہ “ کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
Ayahs 51:31–37

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

ابراہیم نے فرمایا اے فرشتوں تمہاری آمد کا مقصد کیا ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تاکہ اس پر پکی مٹی کے پتھر برسائیں

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جو حد سے گزر جانے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں نشان زدہ ہیں

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پھر ہم نے ایمان والوں کو اس بستی سے نکال لیا

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

اور ہم نے وہاں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہیں پایا

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

ہم نے دردناک عذاب سے ڈرنے والوں کے لیے وہاں ایک نشانی چھوڑ دی

فہم القرآن ربط کلام : ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کی خوشخبری سن کر ملائکہ سے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد کیا ہے ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری تشریف آوری کا اور کیا مقصد ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وحی لانے کے لیے اکثر اوقات ایک ہی فرشتہ آیا کرتا ہے لیکن آج بیک وقت تین ملائکہ تشریف لائے ہیں۔ اس کی کوئی خا ص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پوچھا کہ مجھے خوشخبری دینے کے علاوہ اور کیا پروگرام ہے ؟ ملائکہ نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر آپ کے رب کی طرف سے پکی مٹی کے پتھر برسائیں جو نشان زدہ ہیں۔ پتھر ان لوگوں پر برسائیں جائیں گے جو اللہ کی حدود کو پھلانگ چکے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھی بھی موجود ہیں۔ ملائکہ نے جواب دیا کہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے سوا انہیں اور ان کے ساتھیوں کو عذاب سے پہلے نکل جانے کا حکم ہوگا۔ یاد رہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ نامعلوم انہوں نے اپنی قوم کو کتنی مدت سمجھایا لیکن بدبخت اور بدکردار قوم سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوئی، لوط (علیہ السلام) پر ان کے گھروالوں کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا۔ اس لیے قرآن مجید نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ایک گھر کے سوا اس شہر میں مسلمانوں کا کوئی اور گھر موجود نہیں تھا۔ رب ذوالجلال نے اس علاقے کو تباہ کرکے آنے والے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا جو اللہ کے اذیت ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ ” شہر کے لوگ خوشی کے مارے دوڑتے ہوئے، لوط (علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ آئے لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ قوم اس قدر بےشرم بےحیا تھی کہ انہیں اس بات کا کوئی اثرنہ ہوا۔ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا کہ دنیا کے ذمہ دار نہ بنا کرو۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم باز نہیں آتے تو میری بیٹیاں موجود ہیں۔ تیری جان کی قسم اے نبی ﷺ اس وقت ان پر سرکشی کا نشہ چڑھا ہوا تھا جس میں وہ اندھے ہوچکے تھے۔ “ (الحجر : 67 تا 72) حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کی آمد پر پریشان ہوگئے : (وَ لَمَّا جَآءَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِہِمْ وَ ضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ ہٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ) (ھود : 77) ” جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے وہ فرشتوں کی آمد سے بہت گھبرا گئے اور دل میں تنگی محسوس کی۔ کہنے لگے کہ آج کا دن مصیبت کا دن ہے۔ “ (قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ) ( ہود : 80) ” لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی تو میں تمہارا مقابلہ کر تایا کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے۔ “ حافظ ابن کثیر نے 12 آیت 81 کے حوالے سے تحریر فرمایا کہ جب فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا آج رات ہم آپ کے پاس مہمان ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے وضع داری کی بنا پر انکار نہ کیا تاہم گھر جاتے ہوئے انہوں نے راستے میں اپنی مجبوری اور قوم کی بدکرداری کا اس انداز سے ذکر کیا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فرمانے لگے ہائے افسوس میری قوم تمام مخلوق سے بد تر ہوچکی ہے۔ گھر پہنچے تو آپ کی بیوی نے آنکھیں بچاکر چھت پر کھڑے ہو کر کپڑا ہلایا جس سے اوباش لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور لوط (علیہ السلام) کے گھر کا گھیراؤ کرلیا اور مہمانوں کی برآمدگی کا مطالبہ کرنے لگے بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ بدمعاش دروازہ توڑنے لگے۔ اس صورتحال میں لوط (علیہ السلام) پریشان ہو کر کہنے لگے۔ کاش آج میرے پاس قوت ہوتی یا کوئی سہارا ہوتا، جس کی پناہ حاصل کرتا۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ جب جناب لوط (علیہ السلام) کے پاس فرشتے آئے تو انہیں کچھ خبر نہیں تھی، کہ یہ فرشتے ہیں یا کہ عام مہمان ہیں جو لڑکوں کی شکل و صورت میں آئے ہیں ورنہ وہ کسی صورت میں یہ نہ کہتے کہ میرے مہمانوں میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ میری بیٹیاں حاضر ہیں، گو اس جملے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ نبی بحیثیت باپ کے ہوتا ہے۔ اس منصب کے حوالے سے جناب لوط (علیہ السلام) نے قوم کی بیٹیوں کا ذکر کیا کہ جو تمہارے گھروں میں پہلے سے موجود ہیں وہ بھی تو میری بیٹیاں ہیں آخر تم جائز انداز میں اپنے جذبات کی تسکین کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ مطلب لیا جائے کہ انہوں نے اپنی حقیقی بچیوں کے بارے میں یہ الفاظ کہے تھے تو اس کا معنی صرف اتنا ہی لینا چاہئے کہ انہوں نے انہیں انتہائی شرم دلانے کے لیے ایسے الفاظ استعمال فرمائے۔ جیسا کہ آج بھی معزز آدمی دو فریقوں میں صلح کرواتے وقت کہہ دیتا ہے کہ چھوڑو بھائی اگر اس نے تجھے مارا یا گالی دی تو تم مجھے مار لو یا گالی دے لو۔ لیکن معاملہ رفع دفع ہونا چاہیے بہرحال یہ بات محاورۃً کہی یا حقیقتاً فرمائی مقصد انہیں شرم دلانا تھا ورنہ معمولی غیرت رکھنے والا شخص اپنی بٹیوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہتا جناب لوط (علیہ السلام) تو اللہ کے نبی تھے نبی تو سب سے زیادہ غیرت والا ہوتا ہے۔ لیکن بےشرم لوگ کہنے لگے کہ ہمیں عورتوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم جو کرنا چاہتے ہیں۔ تجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ اندازہ لگائیں جناب لوط (علیہ السلام) کو کس قدر بےشرم اور بےحیا قوم کے ساتھ واسطہ پڑا تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے لیے نبی ﷺ کی دعا : (یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلُوطٍ إِنْ کَانَ لَیَأْوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِیدٍ ) (رواہ البخاری : باب ولوطا اذ قال لقومہ) ” اللہ “ لوط (علیہ السلام) پر معاف فرمائے کہ وہ رکن شدید کی پناہ کے طالب ہوئے۔ “ انہوں نے بےسہارا ہونے کی بات کہی حالانکہ ان کے پاس رب ذوالجلال کا زبردست سہارا تھا۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی : ” تب فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا آپ گھبرائیں نہیں ہم تو آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔ بس آپ رات کے آخری حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں اور آپ میں سے کوئی فرد پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ ہاں اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ آپ کی بیوی کے ساتھ وہی کچھ ہونے والا ہے، جو آپ کی قوم کے ساتھ ہوگا بس ان کی تباہی کے لئے صبح کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ہے ؟ “ (ہود : 81) (فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَ مَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ) (ھود : 82، 83) ” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کردیا اور اس پر تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان لگا ہوا تھا۔ ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “ مزید تفصیل کے لیے سورة ہود کی آیت 82، 83 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 51:38–40

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

موسیٰ کے واقعہ میں عبرت ہے جب ہم نے اسے واضح دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

تو فرعون نے اپنی طاقت کی بنا پر روگرانی کی اور کہا یہ جادوگر ہے یا پاگل

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اس حال میں کہ وہ ملامت زدہ تھے

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام۔ ” ہم نے اپنی نشانیاں دے کر موسیٰ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ موسیٰ نے کہا اے فرعون ! بیشک میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ کے ذمے حق کے سوا کچھ نہ کہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ اس لیے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر۔ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک اژدہا تھا اور اپنا ہاتھ باہرنکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمک رہا تھا۔ “ (الاعراف : 103 تا 108) ” جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو کہنے لگے یقیناً یہ تو واضح طور پر جادو ہے۔ موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو، جب وہ تمہارے پاس آیا۔ کیا یہ جادو ہے ؟ جادوگر تو کامیاب نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا۔ کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ملک میں تمہیں بڑائی حاصل ہوجائے۔ ہم تمہیں کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، فرعون نے اپنے ساتھیوں سے کہا میرے پاس ہر ماہر جادوگر لے کر آؤ۔ جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنا چاہتے ہو۔ جب انھوں نے ڈالا، موسیٰ نے فرمایا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقیناً اللہ اسے جلدہی جھوٹا ثابت کردے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کے کام کو کامیاب نہیں کرتا۔ اللہ حق کو اپنے فرمان کے ساتھ حق ثابت کردیتا ہے، خواہ مجرم اسے ناپسند کریں۔ “ (یونس : 76 تا 82) ” فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کرنا چاہتا ہوں بیشک یہ میرے مقابلے میں اپنے رب کو لے آئے۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کردے گا۔ موسیٰ نے کہا میں نے ہر متکبر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے۔” اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو اس بناء پر قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب ” اللہ “ ہے، اور وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آیا ہے، اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ جائے گا۔ اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج سے تمہیں ڈراتا ہے۔ وہ تمہیں بھگتنے پڑیں گے، اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور جھوٹا ہو۔ “ (المومن : 26 تا 28) ” ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہا کہ میں ایمان لایا یقیناً حقیقت یہ ہے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں فرمانبرداروں سے ہوں۔ کیا اب ؟ حالانکہ تو نافرمان تھا اور تو فساد کرنیوالوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے وجود کو بچا لیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عبرت بنے جو تیرے بعد آنے والے ہیں اور یقیناً بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔ “ (یونس : 90 تا 92) تفسیر بالقرآن فرعون اور اس کے حواریوں کا انجام : 1۔ آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الاعراف : 64) 2۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : 55) 3۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103) 4۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 66) 5۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : 40) 6۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : 92) 7۔ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : 98)