51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsفہم القرآن

Ayahs 51:41–42

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور عاد کے انجام میں عبرت ہے، جب ہم نے ان پر ایک ایسی منحوس آندھی بھیجی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

جس چیز پر گزری تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح بنا کر رکھ دیتی تھی

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے انجام کے بعد قوم عاد کا حشر۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جس کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا۔ یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلند وبالا پہاڑ تھے۔ اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل لوگ تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام، کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : 1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : 69) 2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 ) 3۔ انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : 133) 4۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133) 5۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے والے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : 33) 6۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : 37) 7۔ یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰآالسجدۃ : 15) 8۔ انھوں نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے جھکتے، نذرو نیاز اور اپنی حاجات پیش کرتے تھے۔ (الاعراف : 70) حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ صرف ایک ” اللہ “ کی عبادت کرو اور کمزوروں پر ظلم کرنے سے باز آجاؤ۔ اے میری قوم ! میں اس کام کے بدلے تم سے کسی قسم کی ستائش اور صلہ نہیں چاہتا۔ میرا صلہ اس ذات کبریا کے پاس ہے۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ میری مخالفت کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچو ! کہ اس دعوت میں میرا کیا مفاد اور تمہارا نقصان کیا ہے ؟ میں تم کو لوگوں پر ظلم کرنے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے سے روکتا ہوں۔ جن کو تم بلاتے اور پکارتے ہو۔ کیونکہ یہ اللہ کے سوا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ جو تم ان کے بارے میں دعوے کرتے ہو اس کی کوئی بنیاد نہیں یہ سراسر جھوٹ اور بناوٹی باتیں ہیں۔ کیا تم سوچنے کے لیے تیار ہو ؟ ” قوم عاد ایک شدید آندھی سے تباہ کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیے رکھا آپ وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بکھرے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ “ (الحاقہ : 6، 7) قوم کا جواب : 1۔ قوم نے حضرت ھود کو بیوقوف قرار دیا۔ (الاعراف : 66) 2۔ قوم نے کہا کہ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : 33) 3۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ بناتا ہے۔ (المؤمنون : 38) 4۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : 137) 5۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : 136) 6۔ ہمارے معبودوں کی تجھے بد دعا لگ گئی ہے۔ (ھود : 54) 7۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : 138 تا 139) 8۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آو۔ (الاحقاف : 22) تفسیر بالقرآن قوم عاد کا انجام : 1۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب سے حضرت ھود اور ایمانداروں کو محفوظ رکھا۔ (ھود : 58) 2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقہ : 7) 3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24) 4۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41۔ 42) 5۔ آندھی نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقہ : 7) 6۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72) 7۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ (حٰم السجدۃ : 16)
Ayahs 51:43–45

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور ثمود کے انجام میں عبرت ہے۔ جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک فائدہ اٹھا لو

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

اس انتباہ کے باوجود انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کو ایک کڑک والے عذاب نے آلیا

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ بدلہ لے سکے

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا دور اور ان کا انجام۔ قرآن مجید نے قوم ثمود کو اصحاب الحجر بھی کہا ہے۔ (الحجر : 80) اس کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور کالونیاں تعمیر کرلی تھیں تاکہ زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ بڑے بڑے جرائم میں ملوث تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ آئے۔ بلکہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرتے کہ تم ہمارے لیے نحوست کا سبب ہومزید کہتے کہ صالح (علیہ السلام) پر جادو کا اثر ہوچکا ہے۔ (الشعراء : 142 تا 153) انھوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے گابھن اونٹنی نمودار نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ اس طرح معجزہ طلب نہ کرو۔ اگر تمہارا منہ مانگا معجزہ دے دیا گیا اور پھر تم نے اس کا انکار کیا تو تمہارا بچنا مشکل ہوگا۔ لیکن قوم اپنے مطالبہ پر مصر رہی۔ چناچہ انہیں اونٹنی کا معجزہ دیا گیا مگر انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ جس کے سبب عذاب نا زل ہوا۔ جس کا یہاں اشارہ کیا گیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں فہم القرآن، جلد 2: سورة الاعراف، آیت 73 تا 84 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز وہاں سے کیا جہاں سے حضرت نوح اور حضرت ھود ( علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عبادت کا جامع مفہوم یہ ہے کہ دین کی مقرر کردہ عبادات کی ادائیگی کے ساتھ آدمی اپنے فکر و عمل کو پوری طرح اللہ کے حکم کے تابع کردے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی عبادت کا حکم دیا جا رہا ہے، جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس میں آباد فرمایا۔ لیکن تم ” اللہ “ کا شکر اور اس کی عبادت کرنے کی بجائے بغاوت پر اتر آئے ہو۔ تمہیں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لیے سچی توبہ کرنی چاہیے۔ یقین کرو کہ میرا رب ہر انسان کے قریب ہے اور توبہ کرنے والے کی جلد توبہ قبول کرلیتا ہے۔ (البقرۃ : 186) قوم کا جواب : 1۔ اے صالح ہم تو تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : 62) 2۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں۔ (ھود : 62) 3۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : 74) 4۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمہاری پیروی کریں۔ (القمر : 24) 5۔ اگر تم ہمارے دین پر نہ آئے تو ہم تمہیں اپنے علاقے سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : 13) 6۔ صالح تو بہت بڑا جھوٹا اور بڑائی بکھیرنے والا ہے۔ (القمر : 25) 7۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 153) تفسیر بالقرآن قوم ثمود کا انجام : 1۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 68) 2۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5) 3۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 95) 4۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157) 5۔ شیطان نے قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : 38) 6۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78) 7۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
Ayah 51:46

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ نافرمان لوگ تھے

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود کے بعد قوم نوح کا ذکر۔ تاریخی اعتبار سے قوم نوح قوم عاد، ثمود اور آل فرعون سے پہلے گزری ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ ان اقوام سے پہلے قوم نوح کا واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم نافرمان ہوچکی تھی قوم نوح کا سب سے بڑا گناہ شرک تھا یہ لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے ان کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ اس طرح ” اللہ “ کی عبادت یکسوئی کے ساتھ ہو پائے گی، چناچہ انھوں نے ایسا کیا جب یہ کام کرنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کے حضور سجدے، رکوع اور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورة نوح میں ودّ ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام پر جن بتوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر، طبری تفسیر سورة نوح، آیت : 23، 24) سورۃ العنکبوت آیت 14 میں بیان ہوا ہے کہ جناب نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ قرآن مجید نے یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری شب و روز کی کوشش کے باوجود قوم شرک اور برائی میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ (نوح : 24) قوم نہ صرف جرائم میں آگے برھتی گئی بلکہ الٹا انھوں نے نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کہا کہ یہ تو گمراہ ہوگیا ہے اور پھر بار بار مطالبہ کیا کہ اے نوح ! اگر تو واقعی اللہ کا سچا نبی ہے تو ہمارے لیے عبرت ناک عذاب کی بددعا کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت ہی مجبور ہو کر ان کے لیے بد دعا کی۔ ” اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں بالکل بےبس اور مغلوب ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔ “ (القمر : 10) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بد دعا قبول کرتے ہوئے انھیں حکم دیا کہ آپ میرے سامنے ایک کشتی بنائیں جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو بار بار تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) انھیں فرماتے کہ آج تم مجھے استہزاء کا نشانہ بنا رہے ہو کل تم ہمیشہ کے لیے مذاق اور عبرت کا نشان بن جاؤ گے۔ (ھود آیت 37 تا 39) حضرت نوح (علیہ السلام) کا خطاب : اے میری قوم مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نوازا ہے اور میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں۔ تم ہدایت کو پسند نہیں کرتے تو میں تم پر ہدایت کس طرح مسلط کرسکتا ہوں۔ میں تم سے تبلیغ کا اجر نہیں مانگتا نہ میں ایمان والوں کو اپنے آپ سے دھتکارنے والا ہوں۔ ہوش کرو اگر میں انھیں دھتکاردوں تو اللہ کے ہاں میری کون مدد کرے گا ؟ میں غیب دان ہونے کا دعوی نہیں کرتا۔ نہ میں اپنے آپ کو فرشتہ کہتا ہوں نہ میں کہتا ہوں جنھیں تم حقیر سمجھتے ہو اللہ انھیں بھلائی سے نہیں نوازے گا۔ اگر ایسی باتیں کہوں تو میں ظالموں میں شمار ہوں گا۔ (ھود : 123) قوم کا جواب : تم ہماری طرح کے انسان ہو لیکن ہم پر برتری چاہتے ہو۔ ہم نے یہ باتیں باپ دادا سے کبھی نہیں سنیں۔ نوح دیوانہ ہوگیا ہے۔ بس انتظار کرو ختم ہوجائے گا۔ (المؤمنوں : 24، 25) ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ تجھے ماننے والے گھٹیا لوگ ہیں۔ (الشعراء : 112) ہم اپنے معبودوں اور ودّ ، سواع، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ “ (نوح : 24) ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ (الشعراء : 116) قوم کا عذاب الٰہی کو چیلنج کرنا : ” اے نوح تم نے ہم سے بہت زیادہ بحث و تکرار اور جھگڑا کرلیا ہے۔ اب اس کی انتہا ہوگئی ہے بس ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آ اگر واقعی تو سچے لوگوں میں ہے۔ “ ( ھود : 32) حضرت نوح (علیہ السلام) کا جواب : ” اگر ” اللہ “ نے چاہا تو تم پر عذاب ضرور آئے گا اور تم اسے ہرگز نہیں ٹال سکو گے۔ “ (ھود : 33) نوح (علیہ السلام) کی فریاد اور بد دعا : ” میرے رب میں نے اپنی قوم کو دن اور رات خفیہ اور اعلانیہ، انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھایا میں نے جب بھی انھیں دعوت دی تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی۔ اپنے چہرے چھپا لیے اور تکبر کرنے کی انتہا کردی۔ میرے رب انھوں نے میری ہر بات کو ٹھکرایا اور نافرمانی کی۔ ان کی اولاد اور مال نے انہیں تیری نافرمانی میں بہت زیادہ بڑھایا دیا ہے انھوں نے زبردست قسم کی سازشیں کیں۔ “ (نوح : 5 تا 9) ” حضرت نوح نے اپنے رب سے فریاد کی اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں انتہائی کمزور اور بےبس ہوچکا ہوں بس تو میری مدد فرما۔ “ (القمر : 10) ” اے میرے رب اب زمین پر کفار کا ایک گھر بھی باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اگر تو نے انھیں چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے۔ اب ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ نافرمان اور ناشکرگزار ہوگا۔ “ (نوح : 25، 10، 27) عذاب کی کیفیت : قوم نوح پر چالیس دن مسلسل دن رات بےانتہا بارش برستی رہی یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ حتی کہ تنور پھٹ پڑا اللہ تعالیٰ نے طوفان کے آغاز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے ساتھ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا یعنی نر اور مادہ دو دو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ البتہ کسی کافر اور مشرک کو کشتی میں سوار نہ کیا جائے۔ (ہود : 40 تا 42) عذاب کی ہو لناکیاں : (فَفَتَحْنَا اَبْوَاب السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْہَمِر وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَاءُ عَلٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ) (القمر : 11، 12) ” ہم نے موسلا دھار بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے۔ اور ہم نے زمین سے ابلتے چشمے جا ری کیے۔ “ (فَاِِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَالتَّنُّوْرُ ) (المومنون : 27) ” جب ہمارا حکم صادر ہوا تو تنور جوش مارنے لگا۔ “ قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایسا عذاب نازل فرمایا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت 11، 12 اور سورة المؤمنون، آیت 27 میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ مفسرین نے لکھا ہے جس کی تائید موجودہ دور کے آثار قدیمہ کے ماہرین بھی کرتے ہیں کہ طوفان نوح نے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی ڈھانپ لیا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ سیلاب بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے 15 فٹ اوپر بہہ رہا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام : 1۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الفرقان : 37) 2۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے سے فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43) 3۔ نوح نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک بھی کافر نہ چھوڑیے۔ (نوح : 26) 4۔ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوا۔ (ہود : 43)
Ayahs 51:47–48

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور ہم اس کو وسعت دینے والے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو بچھایا ہے اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے قوم نوح کو تباہ کیا اس کے جلال اور قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے آسمان کو بنایا اور زمین کو فرش کے طور پر بچھایا جس کی قدرت اور جلال کا تقاضا ہے کہ اس کی نافرمانی اور سرکشی کرنے کی بجائے اس کے سامنے جھکا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں اور ہم نے زمین کو فرش بنایا اور ہم بہت اچھا بچھانے والے ہیں۔” اَیْدِیَ “ ” ید “ کی جمع ہے جس کے بارے میں اہل علم کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بارے میں ید کا لفظ بولتا ہے تو اس کا مطلب اس کا ہاتھ ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں قیاس آرائی اور کوئی تاویل کرنے کی اجازت نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے لیے ” ایدی “ کا لفظ استعمال فرماتا ہے تو اس کا معنٰی قوت اور طاقت ہوتا ہے۔ یہاں ” ایدی “ کا معنٰی یہ ہوگا کہ ہم نے آسمانوں کو بنایا اور ہمیں اس پر پوری قوت حاصل تھی اور ہے اور ہم اسے وسعت دینے والے ہیں۔ لغت کے لحاظ سے ” لَمُوْسِعُوْنَ “ کا معنٰی وسعت دینا ہے اس لیے اکثر مفسرین کا خیال اور سائنسدانوں کا مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کو وسعت دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضا میں ستارے اور سیارے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ سائنسدانوں کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ مختلف سیاروں اور ستاروں کے درمیان دن بدن فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ آسمان اور فضا کی کیفیت صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ لیکن جہاں تک عام آدمی کی سمجھ میں آنے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دن بدن نہ صرف انسانوں کی تعداد میں اضافہ کررہا ہے بلکہ ان کے وسائل میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ غور فرمائیں ! کہ آج سے سو سال پہلے کا انسان موجودہ وسائل بالخصوص ذرائع مواصلات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ نہ معلوم آنے والے وقت میں انسان کو کیا کیا نعمتیں میسر ہوں گی۔ خوردونوش کی اشیاء کا تجزیہ فرمائیں کہ آج سے پچاس سال پہلے گندم کی فی ایکڑ پیداوار پندرہ بیس من سے زیادہ نہیں تھی اور آج درمیانے درجے کے کھیت سے پچاس ساٹھ مَن گندم حاصل کی جارہی ہے۔ اسی طرح دوسری اشیائے خوردنی کا حال ہے کہ ان کی پیدوار میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، گویا کہ جس طرح کھانے والے بڑھ رہے ہیں اسی قدر ان کے دسترخوان کو وسعت دی جا رہی ہے۔ قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی پیدائش کے بارے میں کئی مراحل کا تذ کرہ ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت دھواں تھا، اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا چاہو یا نہ چاہو ہر حال میں وجود میں آجاؤ، دونوں نے کہا ہم فرمانبردار ہو کر حاضر ہوگئے۔ “ (حٰمٗ السجدۃ : 11) ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہیں پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو کیا تمہیں کہیں خلل نظر آتا ہے ؟ (الملک : 3) ” یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا ہے۔ “ (الحجر : 16) ” جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے تمہارے لیے پھل پیدا کیے جو تمہارا رزق ہے۔ لہٰذا حقیقت جاننے کے باوجود اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ “ (البقرۃ : 22) ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا تو وہ ہلنا شروع ہوگئی تو اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر گاڑ دیا تو وہ ٹھہر گئی فرشتوں نے پہاڑ کی تخلیق پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا اے پروردگار کیا تو نے پہاڑوں سے بڑھ کے کوئی سخت چیز پیدا کی ہے ؟ اللہ نے فرمایا ہاں ! لوہا، فرشتوں نے عرض کی کیا لوہے سے بڑھ کر کوئی سخت چیز تخلیق کی گئی ہے ؟ اللہ نے فرمایا آگ۔ فرشتوں نے دریافت کیا، کیا آگ سے بھی سخت چیز آپ نے تخلیق فرمائی ہے ؟ اللہ نے فرمایا پانی اس سے بھی سخت تر ہے۔ انہوں نے عرض کی کیا پانی سے بڑھ کر بھی اے اللہ تو نے کسی چیز کو تخلیق کیا ہے ؟ اللہ نے فرمایا ہوا، فرشتوں نے سوال کیا اے پروردگار کیا تو نے ہوا سے بھی بڑھ کر کوئی سخت چیز پیدا کی ہے ؟ اللہ نے فرمایا ابن آدم کا اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرنا ہے جس کا بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ “ (رواہ احمد : مسند انس بن مالک، وقال الترمذی ھذا حدیث غریب) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اپنی قوت کے ساتھ بنایا اور فضا میں ٹھہرایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنایا اور اسے نہایت ہی اچھے انداز میں بچھایا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ آفاق اور اپنی مخلوق میں اضافہ کررہا ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کا تذکرہ : 1۔ اللہ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے اللہ شرک سے بالا تر ہے۔ (النحل : 3) (البقرۃ : 22) (البقرۃ : 116) 2۔ زمین و آسمان پہلے باہم جڑے ہوئے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ (الانبیاء : 30) 3۔ اللہ نے دو دن میں آسمانوں کو پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : 12) 4۔ اللہ نے آسمان و زمین چھ دن میں بنائے۔ (الاعراف : 54)
Ayah 51:49

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں شاید تم اس سے نصیحت حاصل کرو

فہم القرآن ربط کلام : مخلوق کے بارے میں ایک اور ارشاد۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم غور کرو اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔ جوڑے کے لیے زوجین کا لفظ استعمال کیا ہے جو زوج کا تثنیہ ہے۔ لغت کے اعتبار سے جوڑے کا معنٰی صرف نر اور مادہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں باہم متضاد چیزیں بھی شامل ہیں۔ انسان، حیوانات، درند، پرند آپس میں زوجین ہیں۔ جہاں تک متضاد جنس کے اعتبار سے زوجین کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا فرمایا ہے۔ آسمان کے مقابلے میں زمین، رات کے مقابلے میں دن، روشنی کے مقابل اندھیرا، دھوپ کے مدمقابل چھاؤں، گرمی کے مقابل میں سردی، پانی کے مقابلے میں آگ اور فرشتوں کے بالمقابل شیاطین، فرشتے کبھی غلطی نہیں کرتے شیطان کبھی نیکی نہیں کرتے اور مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو پیدا کیا ہے یہاں تک درختوں میں بھی نر اور مادہ پائے جاتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں زوجین یعنی جوڑے موجود ہیں۔ گویا کہ پوری مخلوق جوڑوں کی شکل میں ہے اور ان کے خالق کا کوئی جوڑا نہیں ہے وہ اپنی ذات اور صفات میں اکیلا ہے اس کا کوئی زوج نہیں ہے۔ شائد تم اس سے سبق حاصل کرو اور اس کی ذات اور صفات میں شرک کرنے سے باز آجاؤ۔ انسان کے لیے سب سے بڑی اور پہلی نصیحت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اور ہر حال میں اس کی تابعداری کرے۔ (قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ 5 وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ) (سورۃ الاخلاص) ” کہو وہ اللہ اکیلا ہے۔ اللہ بےنیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ “ ” وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کی اولاد کیسے ہوگی جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں ؟ اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (الانعام : 101) ” آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے اس نے تمہیں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے اور اسی طرح جانوروں میں بھی جوڑے بنائے اور وہی تمہیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ “ (الشوریٰ 11)
Ayahs 51:50–53

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس دوڑو ” اللہ “ کی طرف۔ میں اس کی طرف سے تمہیں کھلے انداز میں ڈرانے والا ہوں

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود میں تمہیں اس کی طرف سے واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح ہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی ان سے پہلے لوگوں کے ہاں کوئی رسول آیا انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے یا پاگل ہے

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا یہ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے آرہے ہیں۔ بلکہ یہ سب باغی ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے زمین و آسمان بنائے اور ہر چیز کو جوڑا، جوڑا پیدا کیا ہے اس کا کوئی جوڑا نہیں یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ادھر ادھر ٹکریں مارنے کی بجائے ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جبر کی بجائے دلائل کے ذریعے واضح فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اور ہر چیز کو صرف میں نے پیدا کیا ہے۔ تیری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تو اس کی بندگی اختیار کرے۔ اس نے اس سبق کی یاددہانی کے لیے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جن میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ کی دعوت تھی اور ہے کہ لوگو ! معبودان باطل کو چھوڑ کر صرف ایک ” اللہ “ کی طرف آجاؤ اور اس کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ۔ بیشک میں تمہارے لیے کھلے الفاظ میں انتباہ کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لیکن اہل مکہ نے آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو ساحر اور مجنون کہا۔ اس پر آپ کو تسلّی دی جارہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو حد سے زیادہ غم زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ سے پہلے بھی انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ساحر اور مجنون کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اس طرح ہی الزام لگائے جارہے ہیں جیسے انہیں ان کے پہلوں نے وصیّت کی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ باغی ہیں۔ نبی آخرالزماں ﷺ بھی ” اللہ “ کی طرف سے ہی مبعوث کیے گئے تھے۔ اس لیے آپ نے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں جس اللہ کی طرف تمہیں بلارہا ہوں اسی کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہوں۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو ! ایرے غیرے کو چھوڑ کر صرف اور صرف اپنے اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس کی طرف رجوع کرنے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اس کی ذات اور صفات میں کسی اور کو شریک نہ بناؤ۔ میں اسی کی طرف سے تمہیں یہ دعوت دیتا ہوں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول نہیں کریں گے انہیں کھلے الفاظ میں ڈرانے والا ہوں۔ آپ ﷺ کے مخاطبین نے آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو جادوگر اور مجنون قرار دیا۔ یہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ وہ آپ کو جادوگر اس لیے کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان اور دعوت میں غضب کی تاثیر رکھی تھی۔ جو شخص آپ سے ہم کلام ہوتا اور آپ کی دعوت کو توجہ سے سنتا وہ متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اہل مکہ کو یہ بات کسی صورت گورانہ نہ تھی جس وجہ سے وہ آپ کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کرتے اور آپ کو جادوگر کہتے تھے۔ آپ ﷺ کو مجنون کہنے کی چند وجوہات۔ 1۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ ﷺ کی معاشرے میں بڑی عزت کی جاتی تھی۔ لیکن اس نے اپنی دعوت کی خاطر اپنی عزت کو پامال کرلیا ہے۔ 2۔ انہوں نے آپ ﷺ کو ہر قسم کی پیشکش کی لیکن آپ نے انہیں ٹھکرادیا۔ اس بنا پر وہ آپ کو مجنون کہتے تھے۔ 3۔ آپ ﷺ باربار توحید کی دعوت دیتے تھے اس بنا پر کفار سمجھتے تھے کہ یہ مجنون آدمی کی طرح ایک ہی بات باربار دوہرائے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے ردعمل میں پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف اشارہ فرما کر آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی باتوں کو اس طرح دوہرائے جا رہے ہیں۔ جیسے یہ ایک دوسرے کو اس کی وصیت کرتے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے باغی اور نافرمان ہیں۔ بیشک پہلوں اور ان کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے لیکن افکار اور کردار کے لحا ظ سے ایک ہیں۔ جس طرح ان سے پہلے مجرموں کا انجام ہوا اسی طرح ان کا انجام ہوگا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) (رواہ مسلم : باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا) ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب پانے والے سے فرمائے گا کہ اگر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے تیرے پاس ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پر دینے کے لیے تیار ہے ؟ وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے بہت چھوٹی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا وہ یہ کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا مگر تو شرک سے باز نہ آیا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الٰہ نہیں اس لیے ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے نبی آخرالزماں ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ 3۔ آپ ﷺ کے مخالفین نے آپ پر وہی الزام لگائے جو پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر لگائے گئے تھے۔ 4۔ ہر دور کے مشرک کا ایک ہی عقیدہ اور کردار رہا ہے۔ 5۔ مشرک اور کافر حقیقت میں اپنے رب کے باغی اور نافرمان ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر لگائے گئے الزامات کا خلاصہ : 1۔ حضرت نوح کو ان کی قوم نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (ہود : 27) 2۔ کفار نے تمام انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : 52) 3۔ قوم فرعون نے موسیٰ کو جادوگر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36) 4۔ یہودیوں کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر الزام۔ (النساء : 156) 5۔ فرعون کے سرداروں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (الاعراف : 109) 6۔ نبی ﷺ کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ (الصف : 6) 7۔ کفار نبی ﷺ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ (الطور : 30) 8۔ اگر ہم ان کے لیے آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس میں سے چڑھ جائیں تو کہیں گے ہماری آنکھیں بند کردی گئی ہیں۔ بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ (الحجر : 14۔ 15) 9۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سباء : 43) 10۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ کو سحر زدہ قرار دیا۔ (الفرقان : 8) 11۔ جب کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے رسول اکرم ﷺ پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (یونس : 76) 12۔ کفار نے کہا یہ نبی تو جادوگر ہے۔ (یونس : 2) 13۔ کفار نے کہا یہ نبی جھوٹا اور جادوگر ہے۔ (ص : 4) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنانا چاہیے : 1۔ ” اللہ “ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (الرعد : 36) 2۔ ” اللہ “ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء : 36)
Ayahs 51:54–56

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس اے نبی آپ ان سے منہ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں ہوگی

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

البتہ نصیحت کرتے رہیں کیونکہ ایمان لانے والوں کے لیے نصیحت فائدہ مند ہے

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

میں نے 3 اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کا کام کھلے الفاظ میں لوگوں کو سمجھانا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تھا۔ جس کا آپ ﷺ نے حق ادا کر رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ ” اللہ “ کی توحید سمجھانے اور لوگوں کی خیر خواہی کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ آپ لوگوں کو بار بار سمجھاتے کہ لوگو ! اللہ کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ آپ کے مخاطبین اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے۔ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اذّیتیں دیتے تھے۔ اس صورت حال میں آپ کی طرف سے جن لوگوں پر حق کا ابلاغ ہوچکا تھا۔ ان کے بارے میں آپ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے ان سے اعراض کا رویہ اختیار فرمائیں۔ اس اعراض پر آپ پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ ان کی بجائے آپ ایمانداروں اور ان لوگوں کو نصیحت فرماتے رہیں جو سلیم الفطرت ہیں اور حق بات کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں۔ بلاشبہ آپ کی نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نہایت ہی فائدہ مند ہوتی ہے۔ انہیں پہلی نصیحت یہ فرمائیں کہ تمہارے رب نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لہٰذا اس کا فرمان ہے صرف میری ہی عبادت کرنی چاہیے۔ یہی جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد ہے اور یہی انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا پہلا اور مرکزی مقصد ہے۔ (وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) (الانبیاء : 25) ” ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری ہی بندگی کرو۔ “ اکثر اہل علم نے عبادت کا معنی تذلّل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے کہ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو نا صرف زبان سے اقرار کرے بلکہ اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز اور بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے، دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ میرا مال ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ اس عہد کو نمازی پانچ وقت تشہد کی زبان میں دہراتا ہے۔ ” تمام قسم کی قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ “ (رواہ البخاری : باب التَّشَہُّدِ فِی الآخِرَۃِ ) (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) (الانعام : 162، 163) ” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں۔ “ اس تصور کے ساتھ قرآن مجید نے عبادت کا وسیع تر تخیل پیش کیا ہے کہ آدمی منڈی اور بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا نمونہ بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفاداری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرض یہ کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ مسائل 1۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی معبود نہیں اس لیے حکم ہے کہ صرف ایک ” اللہ “ کی عبادت کی جائے۔ 2۔ تمام لوگوں کو ادھر ادھر جانے کی بجائے اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے۔ 3۔ نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کا مقصد لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ 4۔ نبی ﷺ کو اسی طرح ہی جادوگر اور مجنون کہا گیا جس طرح پہلے انبیائے کرام کو کہا گیا تھا۔ 5۔ ضدی لوگوں پر زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مقابلے میں ایمان لانے والوں کو باربار نصیحت کرنی چاہیے۔ 6۔ ایمان لانے والوں کو نصیحت کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے سب کو اللہ کی خالص عبادت کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی تخلیق کا مقصد اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا مرکزی نقطہ : (الانبیاء : 25) (ھود : 26) (الاعراف : 65) (الاعراف : 73) (الاعراف : 85) (یوسف : 40) (المائدۃ : 72) (آل عمران : 64)
Ayahs 51:57–58

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

یقیناً اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتا نہ اسے کھانے پینے کی حاجت ہے۔ وہ صرف اپنی بندگی کا مطالبہ کرتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نہیں اس میں لوگوں کا ہی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں لوگوں سے رزق نہیں مانگتا اور نہ ہی اس بات کا مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ رزق تو سب کو اللہ ہی دینے والا ہے، وہ بڑا طاقتور اور مضبوط ہے۔ عربوں نے زرخرید غلام رکھے ہوتے تھے جو ان کے لیے مزدوری اور مختلف قسم کے کام کرتے اور اس کی مزدوری اپنے آقا کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ یہاں پہلی بات یہ سمجھائی کہ یہ تمہارا طریقہ ہے کہ تم اپنے غلاموں کی کمائی کھاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کھاتا نہیں بلکہ وہ انہیں کھلاتا ہے۔ اسی بات سے یہ بھی سمجھ لو کہ جنہیں تم مشکل کشا سمجھتے اور ان کی عبادت کرتے ہو وہ تمہیں کچھ نہیں دیتے۔ البتہ تم ضرور انہیں کچھ نہ کچھ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمام حاجات سے پاک اور بےنیاز ہے۔ وہ اپنی مخلوق کو دیتا اور کھلاتا ہے۔ اس کے عطا کرنے اور دینے کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ کوئی اس کے نظام میں دخل نہیں دے سکتا۔ (فاطر : 13) وہ جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے۔ (العنکبوت : 62) اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات بھی شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع اور (Mobile) بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے گوشت کھانے والے درندے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دنکا لینے والے کو دانہ دنکا صبح وشام میسر ہے۔ مخلوق میں چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی سب کے سب صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کا انحصار انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مرجاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے عین مطابق ہے جس کے پیش نظر وہ لوگوں کا رزق بڑھاتا اور گھٹاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بیشک وہ قحط سالی پانی کی قلت اور بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ وہ لوگوں کی مستقل قیام گاہوں اور عارضی رہائش کو جانتا ہے۔ (ھود : 6) کیونکہ لوگوں کو رزق پہنچانا اور ان کے اعمال اور ضروریات سے باخبر رہنا اس کی صفت کاملہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر لحاظ سے باخبر رہتا ہے بلکہ اس نے انسان اور دنیا کی ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے۔ ” مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ ؓ نے مغیرہ کو خط لکھا کہ مجھے وہ دعا لکھ کر بھیجو۔ جو نبی اکرم ﷺ سے آپ نماز کے بعد سنا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ ؓ نے مجھ سے لکھوایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز کے بعد یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا۔” لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللَّہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ “ (رواہ البخاری : کتاب القدر، باب لامانع لما اعطی اللّٰہ) ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ جسے تو دینا چاہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ تیرے ہاں کسی بڑے کی بڑائی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لیے نہ کسی سے رزق مانگتا ہے اور نہ اپنے کھانے کے لیے کسی سے مطالبہ کرتا ہے، اور نہ اسے ضرورت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور نظام کے حوالے سے سب سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے۔ 3۔ ” اللہ “ ہی سب کو رزق دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور مضبوط ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے، وہ نہ چاہے تو کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا : 1۔ ہم نے اس زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم خوراک نہیں دیتے۔ (الحجر : 20) 2۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : 52) 3۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ (ھود : 2) 4۔ بیشک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذاریات : 58) 5۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (السباء : 39) 6۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132) 7۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ ہی تمہیں اور انھیں رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : 152)
Ayahs 51:59–60

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی گناہ ہے جیسا ان کے ساتھیوں کا ہے اس لیے یہ لوگ مجھ سے جلدی طلب نہ کریں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

بالآخر کفر کرنے والوں کے لیے تباہی ہے اس دن میں۔ جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو جو لوگ رزاق نہیں مانتے اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ دنیا اور آخرت میں اس طرح ہی نقصان پائیں گے جس طرح ان سے پہلے مجرم نقصان پاچکے ہیں۔ اہل مکہ کے جرائم : یہاں ظلم سے مراد ہر قسم کے گناہ ہیں۔ جن میں سرفہرست شرک ہے۔ ان آیات میں ایک طرف نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف کفار کی عادت اور ان کا انجام بتلایا گیا ہے اہل مکہ نبی ﷺ پر وہی الزام لگا رہے تھے جو ان سے پہلے ظالم لوگ انبیاء پر لگایا کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزام لگانے والوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ باز آجاؤ ورنہ تمہارا انجام بھی پہلے ظالموں جیسا ہوگا۔ دنیا کے برے انجام کے ساتھ جس دن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے اس دن تمہارا انجام نہایت بدترین ہوگا۔ ( عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أُمَّتِی مَا أَتَی عَلٰی بَنِی إِسْرَاءِیلَ حَذْوَ النَّعْلِ بالنَّعْلِ حَتّٰی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَنْ أَتٰی أُمَّہُ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِی أُمَّتِی مَنْ یَصْنَعُ ذَلِکَ وَإِنَّ بَنِی إِسْرَاءِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً قَالُوْا وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی) (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذ ہ لامۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت میں ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ بالکل اس طرح مل جائے گی جس طرح ایک جو تا دوسرے جوتے کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ضرور ہوگا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی۔ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کون سا گروہ ہے ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر عمل کرنے والا ہوگا۔ (عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ افْتَرَقَتِ الْیَہُودُ عَلَی إِحْدَی وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَی عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَإِحْدَی وَسَبْعُونَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً فَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِی النَّار قیلَ یَا رَسُول اللَّہِ مَنْ ہُمْ قَالَ الْجَمَاعَۃُ ) (رواہ ابن ماجۃ : باب افْتِرَاقِ الأُمَم) ” حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہودی اکہتر فرقوں میں بٹے تھے ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور عیسائی بہتر فرقوں میں بٹے تھے ان میں سے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹے گی ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی، صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں آپ نے فرمایا وہ جماعت (جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے) ہے۔ “ تفسیر بالقرآن ظالم لوگ : 1۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 144) 2۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اور اس کی آیات کو جھٹلانے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 21) 3۔ جو اللہ کی آیات سن کر اعراض کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ (الکہف : 57) 4۔ اللہ پر جھوٹ بولنے والا اور سچائی کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (العنکبوت : 68) 5۔ اسلام کی دعوت پہنچ جانے کے باوجودجو اللہ پر جھوٹ باندھے وہ ظالم ہے۔ (الصف : 7) 6۔ گواہی کو چھپانے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 140) 7۔ مسجدوں سے روکنے والا بڑا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114)