50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة قٓ کا تعارف اس سورت کا نام اس کے پہلے حرف پر رکھا گیا ہے اس کے تین رکوع اور پینتالیس (٤٥) آیات ہیں اور مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم اٹھا کر کفار کے اس نظریہ کی تردید کی ہے کہ یہ لوگ اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کو رسول منتخب فرمایا جو انہیں ان کے عقائد اور کردار کے برے انجام سے ڈراتا ہے، اور اس بات پر بھی قسم اٹھائی گئی ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی بن جائیں گئے تو پھر ہمیں کسی طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ زمین میں موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لوح محفوظ پر لکھا ہوا ہے جو لوگ دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کیا وہ ان باتوں پر غور نہیں کرتے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو کس طرح بےنقص پیدا فرمایا اور اسے ستاروں سے مزین کردیا ہے۔ ٢۔ اس نے کس طرح زمین کو بچھایا اور پھر اس پر پہاڑ گارڈ دئیے اور زمین کس طرح اپنے پیٹ سے ہر چیز کا جوڑا جوڑا پیدا کرتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بابرکت پانی نازل کرنے والا ہے اور وہی باغات کو اگانے والا ہے۔ جس طرح زمین سے اپنے بندوں کے لیے رزق پیدا کرتا ہے اسی طرح ہی وہ قیامت کے دن لوگوں کو زمین سے نکال لے گا اور انسان اپنے دل میں جو کچھ بھی سوچتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ وہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر وقت انسان کی شاہ رگ کے قریب رہتا ہے جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسرافیل کے صور پھونکنے سے ہی لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اس دن مجرموں کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ کھلی آنکھوں کے ساتھ جہنم کو دیکھ رہے ہوں گے، مجرموں کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس کی اشتہا اور تپش کبھی کم نہیں ہوگی۔ ہاں ان کے مقابلے میں جو شخص قیامت کے دن پر ایمان لاکر اپنے رب سے ڈرتا رہا۔ اسے جنت میں داخل کیا جائے گا جنتی جو کچھ چاہیں گے وہی کچھ جنت میں پائیں گے یہ نصیحت بس اس شخص کے لیے ہے جو دل کی توجہ اور حقیقت کو کان کھول کر سننے والا ہے۔ لوگوں کو زندہ کرنا اور مارنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں اور قیامت کے دن لوگوں کو اکٹھا کرنا اس نے اپنے ذمے کے رکھا ہے۔ جو شخص حقائق جاننے کے باوجود حق قبول نہیں کرتا اس سے جھگڑنے کی بجائے صبر اور حوصلے سے کام لینا چاہیے اور لوگوں کو قرآن مجید کے ساتھ نصیحت کرتے رہنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید کی نصیحت لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

Ayahs 50:1–5

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا ہے، کافر کہتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے یہ واپسی عقل سے بعید بات ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

جو زمین ان کے جسم سے کھاتی ہے سب ہمارے علم میں ہے۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ جب ان کے پاس حق آیا تو ان لوگوں نے اسی وقت اسے جھٹلا دیا۔ اسی وجہ سے وہ یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں

فہم القرآن ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی ﷺ اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد) المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی نبوت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اس کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کیا انہی سے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو ان کو ڈراتا ہے۔ کفّار اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کرتے اور کہتے ہیں کہ کیا ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں زندہ کیا جائے گا ؟ یہ بات عقل سے بعید نظر آتی ہے۔ کیونکہ زمین مرنے والوں کو کھا جاتی ہے اور مرنے والا مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے۔ کفار کی تکذیب اور تعجب کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمیں نہ صرف اس بات کا پوری طرح علم ہے کہ انسان کے وجود سے زمین کیا کھاتی ہے اور کیا بچائے رکھتی ہے۔ ہم نے اپنے پاس ہر چیز کا انداج بھی کر رکھا ہے۔ مر کر جی اٹھنے پر تعجب کرنے کی بجائے تعجب انہیں اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کے پاس حق آچکا ہے لیکن اس کے باوجود یہ انکار کررہے ہیں۔ یہ بات فہم القرآن میں پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کی دعوت کے بنیادی ارکان تین ہیں۔ اللہ کی توحید، نبی ﷺ کی رسالت اور آخرت پر ایمان لانا۔ کفار مختلف انداز اور الفاظ میں قرآن مجید کی دعوت کے تینوں اجزاء کا انکار کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے قرآن کی دعوت کفار کے سامنے پیش کی اور دعوت کا انکار کرنے والوں کو آخرت کے انجام سے ڈرایا۔ جس پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا اور آپ کی رسالت کا انکار کیا۔ اس سے پہلے ان کے آخرت کے بارے میں کفار کے تعجب اور انکار کا یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ جہاں تک کفار کی اس بات کا تعلق ہے کہ ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کون اٹھائے گا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مٹی کے ایک ذرے ذرے سمیت ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ میں ہر چیز کا اندراج موجود ہے۔ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے پر تعجب کرنے کی بجائے یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں اس مٹی سے پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا کیونکہ وہ زمین کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اور ہر ذرّے پر اسے اختیار اور اقتدار حاصل ہے پھر اس کے پاس ہر چیز کا اندراج بھی موجود ہے۔ کفار کو تعجب اس بات پر کرنا چاہیے کہ ان کے پاس حق پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کی الجھن کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔ ” مَرِیْجٍ “ سے مراد ایسا شک جو انسان کو ہمیشہ ذہنی کشمکش میں مبتلا کیے رکھے۔ یاد رہے کہ انسان کا وجود دو چیزوں پر مشتمل ہے ایک روح جس کی بنیاد پر انسان چلتا پھرتا، اٹھتا، بیٹھتا کھاتاپیتا آرام اور کام کرتا ہے۔ روح نکل جانے کے بعد انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی روح باقی رہتی ہے جس کا ٹھکانہ ” عِلِّیِّیْنَ “ یا ” سِجِّیْنٌ“ میں ہوتا ہے۔ ” عِلِّیِّیْنَ “ وہ رجسٹر ہے جس میں جنتی رحوں کا اندراج ہوتا ہے۔ ” سِجِّیْنٌ“ سے مراد وہ رجسٹر یا مقام ہے جہاں جہنمیوں کی ارواح کو رکھا جاتا ہے۔ جہاں تک انسان کے جسم کا تعلق ہے یہ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اس میں ایک ذرہ (SELL) باقی رہتا ہے جس سے قیامت کے دن اس کے وجود کی ابتدا ہوگی۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ۔۔ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ ) (رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجاتی ہے۔ قیامت کے دن دمچی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ ” حضرت برا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے۔ ہم قبرستان پہنچے تو قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ “ (رواہ احمد : مسند براء بن عازب ؓ ، قال الشیخ البانی ہذا حدیث صحیح) مسائل 1۔ قرآن ہر حوالے سے عظیم کتاب ہے۔ 2۔ کفار نبی ﷺ کی رسالت اور آپ کی دعوت پر تعجب کا اظہار کرتے تھے۔ 3۔ کفار مر کر زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ 4۔ اہل مکہ کی طرف حق پہنچ چکا تھا لیکن پھر بھی وہ الجھن میں پڑے رہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا اندراج موجود ہے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت : 1۔ تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : 5) 2۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : 36 ) 3۔ لوگوں لوہا بن جاؤ یا پتھر اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور زندہ کرے گا۔ ( بنی اسرائیل : 50، 51) 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ : 6) 5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73) 6۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259) 7۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 260) 8۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : 25) 9۔ مزید حوالوں کے لیے دیکھیں : (البقرۃ : 243) (الاعراف : 155) (المائدۃ : 110)
Ayahs 50:6–8

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا پھر انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا اور مزین کیا اور اس میں کہیں کوئی شگاف نہیں ہے

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس سے ہر قسم کی خوش نما نباتات اگادیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق سکھانے والی ہیں ہر اس بندے کو جو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں کو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنے کا حکم۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر زمین و آسمان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ ہر مقام پر چند الفاظ کے تکرار کے سوا نئے الفاظ کے ساتھ نیا استدلال پیش کیا ہے۔ اسی اصول کے تحت قیامت کے دن جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے کہ چند الفاظ کے ذریعے لوگوں کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کروائی گئی ہے۔ کیا لوگ اپنے اوپر تنے ہوئے آسمان کی طرف غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح بنایا اور سجایا ہے اور اس میں کسی قسم کا شگاف نہیں پایا جاتا۔ اسی نے زمین کو بچھایا اور اس پر پہاڑ گاڑ دیے پھر زمین سے نباتات کا سلسلہ شروع فرمایا اس میں اس بندے کے لیے اپنے رب کی طرف پلٹنے سے بہت دلائل ہیں جو اس کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے۔ ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہیں پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو کیا تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے۔ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر پلٹ آئے گی۔ لیکن آسمان میں کوئی شگاف نہیں پاؤ گے۔ “ (الملک : 3، 4) (وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا) (النساء : 30) اور جو شخص یہ سرکشی اور ظلم کرے گا عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کے لیے یہ آسان ہے۔ “ زمین و آسمانوں کی ابتدا کس طرح ہوئی : سائنس کی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ کائنات اپنا ایک آغاز (Beginning) رکھتی ہے۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس نے خدا کی صداقت کو ثابت کردیا ہے۔ کیونکہ جو چیز اپنا آغاز رکھتی ہو وہ اپنے آپ شروع نہیں ہوسکتی۔ یقیناً وہ ایک محرک اول، ایک خالق، ایک خدا کی محتاج ہے۔ “ (The evidence of God , p51) چناچہ کائنات کے وجود میں آنے کا مسلمہ جدید ترین نظریہ یہ ہے کہ ابتداً مادہ مرکوز اور مجتمع (Concertrated and condensed) حالت میں تھا۔ ” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ارض و سماوات آپس میں گڈ مڈ تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خلّاقی پر ایمان نہیں لاتے ؟ “ (سورۃ الأنبیاء : 30) یہ مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا اس میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہ تھی پھر اچانک یہ ایک عظیم دھماکہ (Big Bang) (یہ عظیم دھماکہ ایک اندازہ کے مطابق 15 کھرب سال پہلے ہوا) سے پھٹ پڑا اور اس نے ایک عظیم گیسی بادل یا قرآن کے لفظ میں دخان (ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَانٌ) کی صورت اختیار کرلی۔ سائنس کی یہ دریافت قرآنی بیان کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ یہ گیسی بادل بہت عظیم الجثہ تھا اور آہستہ آہستہ گردش کر رہا تھا۔ یہ عظیم سدیم (Primery Nebula) انجام کار متعدد ٹکڑوں میں بٹ گیا جن کی لمبائی چوڑائی اور مقدار مادہ بہت ہی زیادہ تھا۔ نجمی طبیعات (Astrophysicist) کے ماہرین اس کی مقدار کا اندازہ سورج کے موجودہ مادہ کے ایک ارب سے لگا کر ایک کھرب گنا تک لگاتے ہیں۔ ان اعداد سے ابتدائی گیسی مقدار مادہ (Hydrogen and Helium) کے ان ٹکڑوں کے عظیم جثوں کا کچھ تصور ملتا ہے جن سے بعد میں عمل انجماد (Condensation) کے ذریعے کہکشائیں وجود میں آئیں۔ علمائے فلکیات کے ایک جدید اندازے کے مطابق ہر کہکشاں (Galaxy) میں دو کھرب ستارے ہیں اور اب تک معلوم کائنات میں تقریباً دو کھرب یہ کہکشائیں ہیں۔ جو کہکشاں ہم سے قریب ترین ہے وہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً نو لاکھ سال لگ جاتے ہیں۔ یہ کہکشاں مراۃ السلسلہ (Andromida) نامی مجمع النجوم میں واقع ہے۔ لہٰذا روشنی کو ان ستاروں سے جو معلوم سماوی جہاں کے اس سرے پر واقع ہیں ہم تک پہنچنے میں اربوں سال لگ جاتے ہیں۔ کائنات کی پہنائیاں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کی پیمائش کے لیے خاص اکائیاں مثلاً نوری سال اور پارسک وغیرہ وضع کی گئیں ہیں۔ نوری سال یا سال نوای اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اور یہ تقریباً 58 کھرب ستر ارب میل کے برابر ہوتا ہے اور پارسک 3.26 نوری سال یا ایک نیل 92 کھرب میل کے لگ بھگ ہے۔ ( فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) تفصیل کے لیے فہم القرآن جلد دوم سورة الاعراف آیت 54 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ آسمان کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! اب اپنے پاؤں تلے زمین پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو کس طرح بچھایا اور بنایا ہے۔ ” اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ “ (ہود : 7) پہاڑوں پر غور کرنے کی دعوت : اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی چیزوں میں سب سے بڑی چار چیزیں ہیں۔ آسمان، زمین، پہاڑ اور سمندر ہیں۔ انسان کا اللہ تعالیٰ کی جس مخلوق کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے ان میں یہ چار بڑی مخلوقات ہیں۔ پہاڑوں کے بارے بھی قرآن مجید میں کافی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر نباتات کی صورت میں ایسی چیزیں پیدا فرمائی ہیں۔ جو انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور ہیں۔ میخوں کی مانند پہاڑ : ارضیات میں ” بل پڑنے “ (Folding) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشر ارض (Crust) میں بل پڑنے کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے ہیں۔ قشر ارض جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس چھلکے کی طرح ہے، جب کہ کرۂ ارض کی اندرونی پرتیں، (Layers) نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعًا غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پہاڑوں کی قیام پذیری (Stability) کا تعلق، قشر ارض میں بل پڑنے کے عمل سے بہت گہرا ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر تقریباً 035، 6 کلومیٹر ہے اور قشر ارض، جس پر ہم رہتے ہیں، اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی 2 کلومیٹر سے لے کر 35 کلومیٹر تک ہے۔ چونکہ قشر ارض بہت پتلی ہے، لہٰذا اس کے تھرتھرانے یا ہلنے کا امکان بھی بہت قوی ہے، اس میں پہاڑ خیمے کی میخوں کا کام کرتے ہیں جو قشرارض کو تھام لیتی ہیں اور اسے قیام پذیری عطا کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں بھی عین یہی کہا گیا ہے : (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ ) (النباء : 6، 7) ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ “ یہاں عربی لفظ ” اوتاد “ کا مطلب بھی میخیں ہی نکلتا ہے، ویسی ہی میخیں جیسی کہ خیمے کو باندھے رکھنے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ ارضیاتی تہوں (Folds) یا سلوٹوں کی گہری پوشیدہ بنیادیں بھی یہی ہیں۔ Earth نام کی ایک کتاب ہے جو دنیا بھر کی کئی جامعات میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس کا بھی ہے، جو 12 سال تک امریکہ کی اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل جیسی شکل (Wedge Shape) سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو :e arth از : پریس اور سلورڈاکٹر فرینک پریس کے مطابق، قشر ارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پہاڑوں کے فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے، قرآن پاک واضح طور پر یہ فرماتا ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرز تے رہنے سے بچائیں : ” اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔ “ (الانبیاء : 31) اسی طرح کے ارشادات سورة لقمان، آیت : 10 اور سورة النحل اور آیت 15 میں بھی وارد ہوئے ہیں۔ لہٰذا قرآن پاک کے فراہم کردہ بیانات جدید ارضیاتی معلومات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ پہاڑوں کو مضبوطی سے جماد یا گیا ہے : سطح زمین متعدد ٹھوس ٹکڑوں، یعنی ” پلیٹوں “ میں بٹی ہوئی ہے جن کی اوسط موٹائی تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔ یہ پلیٹیں، جزوی طور پر پگھلے ہوئے حصے کے اوپر گویا تیر رہی ہیں، اس حصے کو (Aesthenosphere) کہا جاتا ہے۔ پہاڑ عموماً پلیٹوں کی بیرونی حدود پر پائے جاتے ہیں۔ قشر ارض، سمندروں کے نیچے 5 کلومیٹر موٹی ہوتی ہے، جب کہ خشکی پر اس کی اوسط موٹائی 35 کلومیٹر تک ہوتی ہے البتہ پہاڑی سلسلوں میں قشر ارض کی موٹائی 80 کلومیٹر تک جا پہنچتی ہے، یہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر پہاڑ کھڑے ہیں۔ پہاڑوں میں برکات : اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو صرف میخوں کے طور پر ہی نہیں بنایا بلکہ ان میں بیشمار فوائد رکھ دیے ہیں۔ پہاڑوں پر برف جمتی ہے جو اللہ کی طرف سے پانی ذخیرہ کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ پہاڑوں میں چشمے جاری ہوتے ہیں۔ جو صاف، شفاف پانی کا وسیلہ ہیں۔ اکثر دریاؤں کا آغاز پہاڑوں سے ہوتا ہے۔ پہاڑوں میں بیشمار قسم کی معدنیات پائی جاتی ہیں جو زمین کی پیداوار سے ہزاروں گناقیمتی ہیں۔ پہاڑوں میں سونے کے ذخائر اور بیشمار قسم کے قیمتی پتھر بھی پائے جاتے ہیں۔ مسائل 1۔ انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کس طرح بنایا، سجایا اور اٹھایا ہے۔ 2۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو کس طرح پھیلایا اور اس پر پہاڑ گاڑ رکھے ہیں۔ 3۔ انسان کو زمین اور پہاڑوں کی نباتات پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح خوشنما بنا دیا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں ہر انسان کے لیے نصیحت اور عبرت ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف رجوع کرنے والا اور نصیحت حاصل کرنے والا ہو۔ تفسیر بالقرآن کون لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : 130) 2۔ صاحب عقل و دانش ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الزمر : 9) (الزمر : 27) (البقرۃ : 221) (آ : 29) (الذاریات : 49)
Ayahs 50:9–11

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے ہم نے بابرکت پانی نازل کیا پھر اس کے ساتھ باغات اور غلے جو کاٹے جاتے ہیں اور بلند وبالا کھجور کے درخت پیدا کیے

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہہ بہ تہہ لگتے ہیں

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا۔ اس پانی سے ہم مردہ زمین کو زندگی بخشتے ہیں اسی طرح ہی (مُردوں کا) نکلنا ہے

فہم القرآن ربط کلام : گل و گلزار زمین پر ہوں یا پہاڑوں پر اس کی پیدائش اور افزائش کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا دارومدار بارش پر ہے اس لیے بارش اور نباتات کا بیک وقت ذکر کیا گیا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا وہ غور نہیں کرتے کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ “ (الانبیاء : 30) پانی کا دارومدار بارش پر ہے۔ اللہ نہ کرے اگر دس سال بارش نہ ہو تو زمین اور پہاڑوں کی شادابیاں ختم ہوجائیں۔ یہاں تک کہ انسان کو پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں آئے گا۔ کیونکہ بارش کے سوا پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہے جاتا ہے وہ پہاڑوں پر برف پڑنا ہے جو گرمیوں میں پگھل پگھل کر پانی کی صورت میں دریاؤں کا رخ کرتی ہے۔ اگر طویل مدت تک بارش نہ ہو تو پہاڑوں کے چشمے اور زمین میں کنویں خشک ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے آبپاشی کا قدرتی طور پر مرکزی نظام بارش ہے۔ اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے ہی مردہ زمین سے نباتات اگاتا ہے، جس سے لوگ اناج حاصل کرتے ہیں جو انسان، حیوانات، درندوں پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی خوراک ہے۔ نباتات میں صرف کھجور کا ایک درخت ہے جو صحراء اور خشک زمین میں پانی کی قلت کے باوجود اپنی ہریالی قائم رکھتا ہے۔ کھجور کا درخت جب پھل دینے پر آتا ہے تو اس کے گابھے تہہ بہ تہہ اتنے خوبصورت لگتے ہیں کہ دل خوامخواہ ان کی طرف لپکتا ہے۔ کھجور ایک ایسا پھل ہے جس میں سب سے زیادہ غذائیت پائی جاتی ہے۔ (کھجور کے بارے میں تفصیل جاننے کے لیے فہم القرآن جلد 2 سورة الانعام کی آیت 99 کا مطالعہ کیجیے ! ) بارش اور نباتات کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح ایک مدّت کے بعد زمین سے نباتات نکلتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو زمین سے نکال لے گا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ۔۔ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْ نَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ ) (متفق علیہ، رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بوسیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بابرکت پانی نازل کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ پانی کے ذریعے باغات، کھیتیاں اور کھجوریں پیدا کرتا ہے۔ 3۔ اللہ ہی اپنے بندوں کے رزق کا بندوبست کرتا ہے۔ 4۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بارش سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اسی طرح قیامت کے دن مردوں کو زمین سے زندہ کرے گا۔ تفسیر بالقرآن زمین سے مردے کس طرح نکلیں گے : 1۔ پہلے نفخہ سے لوگ بےہوش ہوجائیں گے اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : 68) 2۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : 51) 3۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : 53) 4۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : 18) 5۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکھف : 99) 6۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم نیلی پیلی آنکھوں والے مجرموں کو گھیر لائیں گے۔ (طہٰ : 102) 7۔ جس دن صورپھونکا جائے گا تو آسمان اور زمین والے سب کے سب گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (النمل : 87)
Ayahs 50:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح اور کنویں والوں اور ثمود

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے برادران

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور ایکہ والوں اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، سب نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر نازل ہوگئی

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے ہیں ؟ بلکہ یہ لوگ نئے سرے سے پیدا کرنے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں بارش کا ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ جس طرح بارش کے بعد زمین سے بیج نکلتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن زمین سے نکال لے گا اور تمہیں اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ یہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود افراد ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی اقوام نے قیامت کے دن کا انکار کیا جس وجہ سے ان کا دنیا میں بھی برا انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو باربار سمجھایا ہے کہ اے انسان ! تو نے مرنے کے بعد ہر صورت زندہ ہو کر میری بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینے کا عقیدہ ہی انسان کو درست رکھتا ہے۔ جب آخرت کا عقیدہ کمزور ہوجائے تو افراد ہی نہیں بڑی بڑی اقوام بھی مجرم اور ظالم بن جاتی ہیں۔ جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ایک دوسرے کے لیے ظالمانہ رویہ اختیار کیا ان میں سرفہرست قوم نوح، کنویں والے، قوم ثمود، قوم عاد، فرعون اور اس کے ساتھی، اخوان لوط اور قوم تبع ہے۔ جس وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے کیا ہوا عذاب کا وعدہ پورا فرمایا۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرکے تھک گیا ہے کہ وہ لوگوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ ظاہر بات ہے کہ جب انسان کوئی چیز پہلی مرتبہ بناتا ہے تو اس کے لیے اسے بنانا آسان ہوتا ہے غور کریں کہ خالق کائنات کے لیے لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوگا ؟ جس بنا پر لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ شک میں مبتلا ہیں ان کے پاس شک کے سوا کوئی دلیل نہیں۔ (قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا) (بنی اسرائیل : 50) ” فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ “ علامہ طبری ؓ فرماتے ہیں کہ کنویں والوں سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا ذکر سورة بروج میں ہوا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) تبع سے مراد یمن کی قوم سبا ہے جن کی تباہی کا منظر سورة سبا میں گزر چکا ہے۔ اور اصحاب الایکہ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جن کو مدین والے بھی کہا گیا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوسری مرتبہ پیدا کرے گا۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ 3۔ قیامت کا انکار کرنے والے صرف شک کی بنیاد پر انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اقوام کی تباہی کا ایک منظر : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 2۔ تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13) 3۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 4۔ ثمود زوردار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5) 5۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : 6) 6۔ آل فرعون کو سمند میں ڈبو دیا گیا۔ ( ٍیونس : 90) 7۔ قوم لوط کی بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ (الحجر : 74) 8۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82) 9۔ قوم لوط کو ایک سخت آواز نے پکڑ لیا۔ (الحجر : 73) 10۔ ہم نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش نازل کی دیکھیے مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (الاعراف : 84)
Ayahs 50:16–18

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو جانتے ہیں، ہم اس کے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

اور ہمارے لکھنے والے اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر بات لکھ رہے ہیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

جب بھی کوئی لفظ اس کی زبان سے نکلتا ہے اسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود ہوتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے انکار کے پیچھے منکرین قیامت کا ایک تصور یہ بھی ہے کہ اس طرح ہمارے گناہ چھپ جائیں گے انہیں یہ بات باور کروائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ انسان کے دل میں خیالات ابھرتے اور جذبات پائے جاتے ہیں اور وہ انسان کی شہ رگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ انسان جو کام کرتا ہے اس کے دائیں بائیں ساتھ رہنے والے فرشتے اس کی ہر بات اور کام کو ضبط تحریر میں لائے جاتے ہیں۔ انسان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلتا مگر اسے لکھنے والا ہر وقت موجود ہوتا ہے جو اسے رات دن تحریر کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خالق، نگران اور انسان کی شہ رگ سے قریب تر ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے لیے تین مرتبہ جمع کی ضمیر استعمال فرمائی ہے۔ جمع کی ضمیر میں ایک رعب اور دبدبہ پایا جاتا ہے جس میں انسان کو بار بار احساس دلایا گیا ہے کہ ہم نے تجھے پیدا کیا ہے، ہم تیرے دل کے احساسات اور جذبات کو جانتے ہیں اور ہم تیری شہ رگ سے بھی زیادہ تیرے قریب ہیں اور جو کچھ بھی تو کرتا ہے ہمارے ملائکہ اسے لکھتے جارہے ہیں۔ جسے قیامت کے دن مَن وعن تیرے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ انسان کو اس بات کا جتنا احساس اور خیال رہے گا اتنا ہی انسان اپنے رب کے تابع فرمان رہے گا۔ یہ خیال اور عقیدہ جتنا کمزور ہوگا اتنا ہی انسان اپنے رب کا نافرمان اور باغی ہوتا جائے گا۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے انسان کے قریب ہونے کا تعلق ہے وہ اپنے علم، اختیار اور اقتدار کے اعتبار سے انسان کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے وہ عرش معلی پر جلوہ افروز ہے جس طرح اس کی ذات کو لائق ہے۔ (البقرۃ : 29، طہٰ : 5) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَآءِکَۃٌ باللَّےْلِ وَمَلَآءِکَۃٌ بالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَاٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ ) (رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ صَلاَۃِ الْعَصْر) ” حضرت ابو ہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس رات اور دن کو آگے پیچھے فرشتے آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ رات والے فرشتے چلے جاتے ہیں تو ان سے پروردگار سوال کرتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان سے واپس آئے تو وہ نماز ہی کی حالت میں تھے۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تو وہی آدم (علیہ السلام) ہے۔ جس نے اپنی اولاد کو جنت سے نکلوا دیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : تو وہی موسیٰ (علیہ السلام) ہے جسے اللہ نے اپنی رسالت اور کلام کے لیے چن لیا۔ پھر مجھے اس معاملے میں ملامت کر رہا ہے جو میری پیدائش سے پہلے لکھا جا چکا تھا۔۔ “ (صحیح بخاری : کتاب بدء الوحی) ” حَبْلِ الْوَرِیْدِ “ کا معنٰی ہے گردن کی رگ۔ مسائل 1۔ ” اللہ “ ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور وہی اس کے دل کے خیالات کو جانتا ہے اور وہ اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر رکھے ہیں جن کا نام کراماً کاتبین ہے۔ 3۔ کراماً کاتبین انسان کی ہر بات اور کام کو لکھتے جاتے ہیں۔ 4۔ ملائکہ انسان کی ہر وقت نگرانی اور حفاظت کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے : 1۔ انسان جہاں کہیں بھی ہو اس کی ہر حرکت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہے۔ (الحدید : 4۔ التوبہ : 40) 2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16، الواقعہ : 85) 3۔ انسان جدھر بھی رخ کرے اللہ تعالیٰ کی توجہ اس کی طرف ہوتی ہے۔ (البقرۃ : 115) 5۔ آدمی تین ہوں تو چوتھا ” اللہ “ ہوتا ہے پانچ ہوں تو چھٹا ” اللہ “ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوں یا کم وہ ہر وقت آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ (المجادلہ : 7)
Ayahs 50:19–23

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی سختی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھر صور پھونکا جائے گا، یہ وہ دن ہے جس سے تجھے ڈرایا جاتا تھا

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہوگا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ جس چیز کے بارے میں تو غفلت میں تھا ہم نے وہ پردہ ہٹادیا جو تیرے سامنے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اس کا ساتھی کہے گا یہ حاضر ہے جو میرے سپرد کیا گیا تھا

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔ موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ (المنافقون : 10، 11) انسان موت سے کلیتاً ختم نہیں ہوجاتا بلکہ یہ عالم برزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ برزخ کو برزخ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے۔ قیامت کے دن جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو انسان کی آنکھوں سے برزخ کا پردہ اٹھ جائے گا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ آج کا دن وہ دن ہے جس کے بارے میں مجھے بار بار تنبیہ کی جاتی تھی۔ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اور ملائکہ ہر کسی کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ انسان کو پیچھے سے ہانک رہا ہوگا اور دوسرا اس کا اعمال نامہ لیے ہوئے اسے اللہ کے حضور پیش کرے گا۔ گویا کہ مجرم بھی حاضر ہوگا اور اس کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے گا۔ ملائکہ مجرم اور اس کے اعمال پیش کرنے کے ساتھ ہی انسان کے اعمال نامے کی گواہی دیں گے کہ یہ اعمال نامہ اسی مجرم کا ہے اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس دن انسان کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھادیا جائے گا تو رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ آج ہم نے تیرے سامنے سے پردہ اٹھا دیا ہے اور تیری نگاہ بھی پہلے سے زیادہ تیز ہوچکی ہے۔ جس صور کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اس سے مراد وہ صور ہے جو دوسری دفعہ پھونکا جائے گا۔ پہلے صور سے ہر چیز فنا ہوجائے گی اور دوسری دفعہ صور پھونکنے سے قیامت برپا ہوجائے گی اور ہر کوئی اپنی قبر سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہوگا جس کی تفصیل حدیث میں موجود ہے۔ اس وقت ہر انسان کو ایک فرشتہ ہانک رہا ہوگا اور دوسرا اس کے اعمال نامے کو لیے ہوئے اسے رب ذوالجلال کے حضور پیش کرے گا۔ نگاہ تیز ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک پردہ حائل ہے جس سے نہ وہ قبر کا منظر دیکھ سکتا اور نہ اس کے سامنے حشر کا انجام ہوتا ہے۔ لیکن جونہی انسان کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے عالم برزخ کا منظر آجاتا ہے۔ قیامت کے دن اس کے سامنے ہر چیز آشکارا ہوجائے گی اور وہ کھلی اور تیز آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھے گا۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم) ” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، انسان دیکھے گا تو اس کے سامنے آگ ہوگی جو تم سے آگ سے بچنے کی استطاعت رکھتا ہے کوشش کرے۔ چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ۔۔ اگر وہ یہ نہ پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے۔ “ بعض لوگ اپنی بینائی کو تیز کرنے کے لیے آیت 22 کو پڑھ کر اپنی آنکھوں پر دم کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید میں شفاء ہے لیکن غور فرمائیں کہ یہ الفاظ کن لوگوں کو کہے جائیں گے اور ان میں کس قدر انتباہ پایا جاتا ہے۔ افسوس ! ہم نے عبرت حاصل کرنے کی بجائے اسے دم بنا لیا ہے۔ کیا بہتر نہیں کہ اپنے وجود کی سلامتی کے لیے وہ دم کریں جو نبی ﷺ نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُول اللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی جَسَدِی وَعَافِنِی فِی بَصَرِی وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ سُبْحَان اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب ماجاء فی جامع الدعوات عن النبی، قال البانی ہذا حدیث صحیح) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میرے جسم کو عافیت دے اور میری بصارت کو بھی عافیت دے اور میری طرف سے اس کو وارث بنا دے۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں جو حلیم اور عزت والا ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بڑے عرش کا رب ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ “ ” وَعِیْدٌ“ کا معنٰی ہے دھمکی دینا کسی کو برے انجام سے ڈرانا۔ (المنجد) مسائل 1۔ اسرافیل کے دوسرا صور پھونکنے پر ہر انسان اٹھ کھڑا ہوگا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے۔ 2۔ قیامت کے دن انسان کو ایک فرشتہ پیچھے سے ہانک رہا ہوگا، دوسرا اس کا اعمال نامہ پیش کرے گا۔ 3۔ قیامت کے دن انسان کی غفلت کا پردہ چاک ہوجائے گا اور ہر کوئی اپنا انجام کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھے گا۔ تفسیر بالقرآن پہلا اور دوسرا صورپھونکنے کے بعد کا منظر : 1۔ پہلے نفخہ سے لوگ بےہوش ہوجائیں گے اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : 62) 2۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : 51) 3۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : 53) 4۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : 18) 5۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکھف : 99) 6۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو ہم نیلی پیلی آنکھوں والے مجرموں کو گھیر لائیں گے۔ (طہٰ : 102) 7۔ جس دن صورپھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین والے سب کے سب گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (النمل : 78)
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

حکم ہوگا ہر کافر سرکش کو جو حق سے عناد رکھتا تھا اسے جہنم میں پھینک دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

خیر سے روکنے والے اور حد سے تجاوز کرنے والے اور شک کرنے والے کو تھا

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

اس نے اللہ کے ساتھ دوسرے کو الٰہ بنا لیا تھا، اسے شدید عذاب میں پھینک دو

فہم القرآن ربط کلام : جو شخص تابعدار نہ بنا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے فرامین اور اس کی قدرت کی نشانیوں کو بصیرت کی آنکھ سے نہ دیکھا اور اپنے اعمال کی درستگی نہ کی اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ قیامت کے دن رب ذوالجلال کے حضور ہر شخص کو اس کے اعمال نامے کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ مجرم اپنے اعمال نامے کا انکار کریں گے اس پر گواہ پیش کیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے لیکن مجرم نہ صرف اپنے اعمال نامے کا انکار کریں گے بلکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی گواہی کو بھی مسترد کردیں گے۔ جس پر حکم ہوگا کہ ان کے مونہوں پر مہریں ثبت کردی جائیں۔ اس کے بعد ان کے اعضاء کو بولنے کا حکم ہوگا۔ (یٰس : 65) مجرموں کے اعضاء اللہ کے حضور ان کے خلاف گو اہی دیں گے۔ (حمٓ السجدۃ : 20 تا 22) تب حکم ہوگا کہ ہر ناشکرے اور نافرمان کو جہنم میں پھینک دیاجائے۔ جو مال میں بخل کرنے والا، حد سے بڑھنے والا اور قیامت کے بارے میں شک میں پڑنے والا تھا۔ اس نے اللہ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لیے تھے۔ ان جرائم کی وجہ سے انہیں شدید عذاب میں ڈال دیا جائے گا۔ اس مقام پر جہنمیوں کے چھ جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1۔ کَفَّار : اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت دین کی سمجھ ہے۔ دین کی بنیاد توحید پر قائم ہے۔ جو شخص صحیح معنوں میں توحید کو تسلیم نہیں کرتا وہ پرلے درجے کا ناشکرا ہے، اس کی سزا جہنم ہوگی۔ 2۔ عَنِیْد ” نافرمان “: اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کرنے والا شخص نافرمان ہوتا ہے۔ ہر نافرمان کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ 3۔ مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ : خیر سے مراد مال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مال داروں پر غریبوں کے کچھ حقوق رکھے ہیں، جو مال دار غریبوں کا حق بالخصوص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا وہ بھی جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ 4۔ مُعْتَدٍ : ” مُعْتَدٍ “ کا معنٰی ہے ظلم کرنے والا، حق چھپانے والا اور حد سے بڑھ جانے والا۔ (المنجد) اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے کچھ حدود وقیود کا پابند کیا ہے۔ جو شخص ان حدود وقیود کی پرواہ نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی حدود توڑنے اور پھلانگنے والا ہے۔ جو بھی اللہ تعالیٰ کی حدود توڑے گا وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ ظلم سے مراد شرک بھی ہے اور عام زیادتی بھی۔ 5۔ مُرِیْبٍ : ” مُرِیْبٍ “ کا معنٰی ہے شک کرنے والا، بدگمانی کرنے والا، تہمت لگانے والا، شک میں ڈالنے والا۔ ( المنجد) جو دین کے بارے میں شک کرنے والا ہوگا اسے بھی جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ 6۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا : جو شخص اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حکم میں دوسروں کو شریک کرتا ہے وہ مشرک ہوتا ہے۔ اگر شرک کرنے والا توبہ کیے بغیر مرجائے تو وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے شدید ترین عذاب میں ڈالا جائے گا۔ مسائل 1۔ جس شخص میں مندرجہ بالا جرائم ہوں گے وہ جہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں داخل ہونے والوں کے بڑے بڑے جرائم : 1۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ : 39) 2۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المؤمن : 76) 3۔ منافق ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار پڑتی رہے گی۔ (التوبہ : 68) 4۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔ (النساء : 116) 5۔ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا لٰہ نہ بنانا وگرنہ دھتکار کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 39)
Ayahs 50:27–30

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی کہے گا اے ہمارے رب میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

جواب میں ارشاد ہوگا کہ میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی برے انجام سے خبر دار کرچکا ہوں

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ہے ؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہونے کے ساتھ ہی اس کا ساتھی اس سے برأت کا اعلان کردے گا۔ جونہی جہنمی کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہوگا تو خوف کے مارے اس کا ساتھی پکار اٹھے گا کہ اے ہمارے رب ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی صراط مستقیم سے بھٹک گیا تھا۔ اس کے جواب میں رب ذوالجلال فرمائے گا کہ میرے حضور بحث نہ کرو کیونکہ میں نے پہلے ہی تمہیں جہنم کے بارے میں انتباہ کردیا تھا۔ اب جہنم میں داخل ہوجاؤ اور یاد رکھو ! کہ میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا اور نہ ہی میں اپنے بندوں پر زیاتی کرنے والا ہوں۔ جہنمی کے ساتھی سے مراد اس کے برے ساتھی اور رشتہ دار ہیں جن میں سب سے برا ساتھی شیطان ہے جو انسان کو صراط مستقیم سے بھٹکا دینا ہے اور اسی کی وجہ سے انسان برے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ خوش رہتا ہے۔ قیامت کے دن شیطان ہر مجرم سے یہ بات کہہ کر منہ پھیرلے گا کہ بیشک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ ثابت ہوا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا اس کی میں نے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی زور نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تم کو کسی چیز کی طرف بلایا اور تم نے میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو، یقیناً میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا۔ یقیناً جو لوگ ظالم ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ (ابراہیم : 22) دوسری طرف جہنمی اپنے ہاتھوں کو کاٹتے اور روتے ہوئے کہے گا کہ ہائے کاش ! کہ میں رسول کا راستہ چھوڑ کر فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا۔ اس نے مجھے اللہ کی نصیحت بھلادی۔ (الفرقان : 28، 29) شیطان کی برأت اور مجرم کے اعتراف کے باوجود اسے جہنم میں جانے کا حکم ہوگا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ میں اپنے بندوں پر زیادتی نہیں کرتا۔ بندے اپنے آپ پر زیادتی کرتے ہیں۔ لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گروہ در گروہ مجرموں کو جہنم میں داخل کرے گا۔ اسی طرح کئی ارب کھرب انسان جہنم میں داخل ہوں گے۔ با لآخر جہنم سے اللہ تعالیٰ استفسار فرمائے گا کیا تو بھر گئی ہے اور تیری اشتہاپوری ہوچکی ہے ؟ جواب میں جہنم بلبلا کر کہے گی کہ میرے رب ! ابھی میرا پیٹ نہیں بھرا اس لیے اور مجرموں کو مجھ میں داخل کیا جائے۔ اس پر جہنم میں اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک رکھیں گے جس سے جہنم کی کی مزید چاہت ختم ہوجائے گی۔ (عَنْ اَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا تَزَالُ جَھَنَّمُ یُلْقٰی فِیْھاَ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ حَتّٰی یَضَعَ رَبُّ الْعِزَّۃِ فِیْھَا قَدَمَہٗ فَیَنْزَوِیْ بَعْضُھَا اِلٰی بَعْضٍ فَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِکَ وَکَرَمِکَ وَلَا یَزَالُ فِیْ الْجَنَّۃِ فَضْلٌ حَتّٰی یُنْشِئَ اللّٰہُ لَھَا خَلْقًا فَیُسْکِنُھُمْ فَضْلَ الْجَنَّۃِ ) (رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب النار لایدخلھا الا الجبارون) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم میں مسلسل لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا اور جہنم یہکہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور بھی ہے ؟ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم جہنم میں رکھیں گے تو جہنم کا ایک حصہ دوسرے سے مل جائے گا۔ جہنم کہے گی تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم ! بس !۔ بس ! اس کے مقابلے میں جنت میں ہمیشہ وسعت اور فراخی ہوتی رہے گی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ جنت کے لیے نئی مخلوق پیدا فرمائیں گے جنہیں جنت کے وسیع علاقے میں آباد کیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ جہنم کا حکم سنتے ہی شیطان اپنی برأت کا اظہار کرے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جہنم کے عذاب سے بار بار متنبہ کردیا ہے۔ 3۔ رب ذوالجلال کے حضور کسی کو بحث و تکرار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا : 1۔ ” اللہ “ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (التوبہ : 70) (العنکبوت : 40) (الروم : 9) 2۔ قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال کو اپنے روبرو پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (الکھف : 49) 3۔ قیامت کے دن انصاف کا ترازو قائم کیا جائیگا اور کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا۔ (الانبیاء : 47) 4۔ آج کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائیگا۔ (یٰس : 54) (حٰم السجدۃ : 46)
Ayahs 50:31–35

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت متقین کے قریب لائی جائے گی، جو ان سے دور نہیں ہوگی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

ارشاد ہوگا یہ ہے وہ جنت جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا اور اپنی نگرانی کرنے والا تھا

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو بن دیکھے رحمن سے ڈرتا تھا اور جو رجوع کرنے والا دل لیے ہوئے آیا ہے

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ کی زندگی کا دن ہوگا

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے لیے وہاں سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس ان کے لیے بہت کچھ ہے

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے ذکر اور جہنمیوں کے انجام کے بعد جنت اور اس کے مہمانوں کا ذکر۔ قرآن مجید اپنے بہترین اسلوب کے مطابق یہاں بھی جہنم کے بعد جنت کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک طرف جہنمی جہنم میں جھونکے جارہے ہوں گے اور دوسری طرف رب کریم جنت کو جنتیوں کے قریب تر کردے گا۔ جنتی جنت کو دیکھتے اور اس کی خوشبو پاتے ہی خوش ہوجائیں گے۔ جونہی ان کے چہروں پر مسکراہٹیں نمایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا یہی وہ جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جسے ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت ایسے شخص کے لیے ہے جو بِن دیکھے رب رحمٰن سے ڈرتا ہے اور خلوص دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اسے ارشاد ہوگا کہ سلامتی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے وہی پائیں گے اور ہماری طرف سے مزید بھی بہت کچھ دیا جائے گا۔ اس فرمان میں جنت میں جانے والے کے چار اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1۔ اَوَّابٌ: عُسریُسر، غم اور خوشی، صحت اور تندرستی میں اپنے رب کی طرف عملاً رجوع کرنے والا ہوتا ہے۔ 2۔ حَفِیْظٌ: ہرحال میں اپنے رب کی حدود وقیود کی حفاظت کرتا ہے۔ 3۔ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرنے والا ہوتا ہے : ایمان کی بنیاد غائب پر قائم ہے جس میں اللہ، ملائکہ اور آخرت پر ایمان لانا لازم ہے۔ ایمانیات کی بنیاد ” اللہ “ کی ذات اور اس کا حکم ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ شخص جنت میں جائے گا جو بِن دیکھے الرحمن سے ڈرتا ہے۔ یہاں رب تعالیٰ نے اپنا ذاتی نام ” اللہ “ لینے کی بجائے صفاتی نام الرحمن لیا ہے۔ جس میں بالخصوص دو باتیں واضح کی گئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور اس کی مہربانی سے ہی نیک لوگ جنت میں جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنے رب کو الرحمن سمجھتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس سے ڈرتارہتا ہے۔ الرحمن کی مہربانی کا عقیدہ اسے بےعملی کی طرف نہیں لے جاتا۔ (عَنْ جَابِرٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ لاَ یُدْخِلُ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُجِیرُہُ مِنَ النَّارِ وَلاَ أَنَا إِلاَّ بِرَحْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ ) ( رواہ مسلم : باب لَنْ یَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّۃَ بِعَمَلِہِ بَلْ بِرَحْمَۃِ اللَّہِ تَعَالَی) ” حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے کہ میرے اور کسی آدمی کے عمل اس کو جنت میں نہیں لے جاسکتے اور نہ ہی جہنم سے بچا سکتے مگر اللہ کی رحمت کے ساتھ۔ “ 4۔ قَلْبِ سَلِیْم : ایسا دل جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ جنتی کی پہلی صفت اَوَّاب بیان کی گئی ہے جس کا معنٰی عملاً اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا۔ ” قَلْبٍ مُّنِیْب “ کا معنٰی ہے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے والا۔ جو شخص اوّاب بھی ہو اور ” قَلْبٍ مُّنِیْب “ بھی رکھتاہو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ ایک مفسر کے بقول وہ شخص جنت میں داخل ہوگا جو آنکھوں سے جمال غیر اور دل کو خیال غیر سے پاک رکھے گا۔ 1 ۔ اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ : جنتی کو اس کی موت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل ہوجاتی ہے اور موت کے وقت ہی ملائکہ اسے سلام کہتے ہیں۔ 2 ۔ جنتی جنت سے نکالے جانے کے خوف سے سلامت رہے گا۔ اس لیے قرآن مجید نے بار بار ” یَوْمُ الْخُلُوٖد “ اور خالِدِیْنَ فِیْھَا اَبَداً کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ 3 ۔ جنت کی نعمتیں نہ ختم ہوں گی اور نہ ہی کم کی جائیں گی۔ 4 ۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں پر ناراض ہونے کی بجائے ہمیشہ ہمیش خوش ہوگا۔ جنتی جو چاہیں گے سو پائیں گے : ( عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ خَیْلٍ قَالَ إِنِ اللَّہُ أَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ فَلاَ تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فیہَا عَلَی فَرَسٍ مِنْ یَاقُوتَۃٍ حَمْرَاءَ یَطِیرُ بِکَ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شِءْتَ إِلاَّ فَعَلْتَ قَالَ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ إِبِلٍ قَالَ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِہِ قَالَ إِنْ یُدْخِلْکَ اللَّہُ الْجَنَّۃَ یَکُنْ لَکَ فیہَا مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَیْنُکَ ) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ خَیْلِ الْجَنَّۃِ ) ” حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے آپ نے فرمایا اللہ تجھے جنت میں داخل کرے۔ اگر تیری یہ چاہت ہوئی کہ تو سرخ یاقوت سے مزین گھوڑے پر سوارہو۔ تو تجھے جنت میں گھوڑے لیے پھریں گے تیری یہ خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ دوسرے آدمی نے پوچھا کیا جنت میں اونٹ ہوں گے تو آپ ﷺ نے اسے بھی پہلے شخص جیسا جواب دیا اس کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں داخل کردیاتو تجھے جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تیرا جی چاہے گا اور جو تیری آنکھ کو بھائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ 2۔ جنتی جو چاہیں گے سو پائیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں کو اپنی طرف سے بہت کچھ عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کا احترام اور جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ فرشتے جب جنتیوں کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : 89) 2۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34) 3۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23) 5۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15) 6۔ جنتیوں کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33) 7۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : 52) 8۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) 9۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 76) 10۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے پھل ہوں گے۔ (الواقعہ : 28 تا 30) 11۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31)