50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsفہم القرآن

Ayahs 50:36–37

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے زیادہ طاقتور اور ان سے گرفت میں سخت تھیں انہوں نے شہروں کو چھان مارا تھا، پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے ؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس میں عبرت ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سننے والا ہو

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ جہنم کی وعید اور جنت کی نوید سننے کے باوجود اپنے رب کی طرف قلباً اور عملاً رجوع نہیں کرتے ان کا دنیا میں انجام۔ قرآن مجید کے پہلے مخاطب اہل مکہ تھے اس لیے انہیں بتلایا کہ تم سے پہلے کتنی جماعتیں گزرچکی ہیں جو جسمانی قوت اور وسائل کے لحاظ سے تم سے زیادہ طاقت ور تھیں اور وہ بہت سے شہروں اور علاقوں میں پھرنے والے تھے۔ لیکن ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو انہیں پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ میسر نہ آئی۔ ” فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ “ کے اہل تفسیر نے دو معانی کیے ہیں۔ 1 ۔ وہ اس قدر طاقت ور تھے کہ انہوں نے کئی شہر اور علاقے فتح کیے اور ان میں پوری عیش و عشرت کے ساتھ رہتے اور گھوما کرتے تھے لیکن جب ان کی گرفت ہوئی تو وہ کہیں بھی پناہ حاصل نہ کرسکے۔ پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کردیا۔ 2 ۔” فَنَقَّبُوْا “ کا دوسرا معنٰی یہ ہے کہ وہ بہت سے شہروں کو فتح کرنے والے اور ان میں فاتح انداز میں داخل ہونے والے تھے۔ پہلی اقوام کی تباہی اس شخص کے لیے عبرت کا باعث ہے جو اپنے سینے میں دل رکھتا ہے۔ سینے میں دل رکھنے سے مراد وہ دل ہے جس میں سچ بات سننے اور اسے قبول کرنے کا جذبہ ہو۔ جب دل سچے جذبے کے ساتھ کسی طرف متوجہ ہوتا ہے تو کان بھی سننے کے لیے طرح تیار ہوجاتے ہیں۔ دل اور کان کسی بات کی طرف متوجہ ہوں تو سننے والا اس بات کو جلد قبول کرلیتا ہے۔ یہی شخص ہی نصیحت سے مستفید ہوتا ہے۔ گویا کہ نصیحت حاصل کرنے کے لیے بیک وقت تین کام ضروری ہیں۔ 1۔ دل کی توجہ۔ 2۔ ہمہ تن گوش ہونا۔ 3۔ اور حق کی طرف پوری طرح متوجہ ہونا۔ ان میں سے کوئی ایک بات منقود ہو تو انسان بڑے سے بڑے واقعہ اور سانحہ سے عبرت حاصل نہیں کرتا۔ جن قوموں کو نیست و نابود کیا گیا ان میں یہی نقص پایا جاتا تھا کہ وہ حق بات کو اس طرح سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس طرح انہیں سننے کا حکم دیا گیا تھا ان کے دل تھے مگر بصیرت سے اندھے تھے، ان کے کان تھے لیکن سچ بات سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کی آنکھیں تھیں مگر عبرت کی نظر سے دیکھنے سے محروم ہوچکی تھیں۔ ” بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے ہی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو غافل ہیں۔ “ (الاعراف : 179) (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِہَا فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ) (الحج : 46) ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ “ (الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَّہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ ) (الملک : 2) ” جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست، اور درگزر فرمانے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی طاقتور اقوام کو ان کے جرائم کی وجہ سے تہس نہس کردیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو انہیں دنیا میں کوئی پناہ دینے والا نہ تھا۔ تفسیر بالقرآن نصیحت حاصل کرنے کے لیے کن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟ : 1۔ ہم نے قرآن مجید کو واضح کردیا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرئیل : 41) 2۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : 130) 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے (نرومادہ) بنادیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الذاریات : 49) 4۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : 27) 5۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : 221)
Ayahs 50:38–40

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں تھکان نہیں ہوئی

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

پس اے نبی یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کرو اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اس کی تسبیح کرتے رہو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ کرنے کے بعد

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتدائی آیات میں انسان کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے اب فرمایا کہ کیا لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کس طرح بلندیوں پر کھڑا کر رکھا ہے اور زمین کو کس طرح پھیلایا اور بچھایا ہے۔ سورت کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ان کے بنانے اور پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ اور اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی اگر یہ لوگ ٹھوس اور واضح دلائل کو نہیں مانتے اور قیامت کا مذاق اڑاتے اور اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرتے ہیں تو اے رسول ﷺ ! آپ کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ صبر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے رب کی تسبیح پڑھا کریں۔ سورج طلوح اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ حصے میں بھی اپنے رب کو اس کی حمد کے ساتھ یاد کریں اور ہر نماز کے بعد بھی اس کا ذکر کیا کریں۔ اللہ کو اس کی حمد کے ساتھ یاد کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس انداز اور الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اسی طرح اس کا ذکر کیا جائے۔ یہاں منکرین قیامت کے نظریہ کی تردید کرنے کے بعد یہودیوں کے باطل عقیدہ کی بھی تردید کی گئی ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے بنانے اور پیدا کرنے کے بعد تھکاوٹ محسوس کی اور ہفتہ کے دن مکمل طور پر آرام فرمایا جس وجہ سے ہفتہ کا دن مقدس ہے اور ہم اسی وجہ سے اس دن چھٹی کرتے ہیں۔ یہودیوں کے نظریہ کی تردید کرنے کے ساتھ منکرین قیامت کو بتلایا ہے کہ جب زمین و آسمانوں اور ہر چیز بنانے میں اللہ تعالیٰ کو کوئی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔ کیا قیامت کے دن تمہیں پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہوگا ؟ ” وہی تخلیق کی ابتداء کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان ہے۔ اسی کی شان ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں سب سے برتر ہے، غالب اور حکمت والا ہے۔ “ (الروم : 27) ” حضرت حسن بصری (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لَغُوبٍ ) “ ( المجالسۃ وجواھر العلم، ج : 6، ص : 223) (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) (رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک۔۔ الخ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرتا ہے اور جب بھی اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) (رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ 2۔ زمین و آسمان کی پیدائش اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔ 3۔ منکرین قیامت کی حجت بازیوں پر صبر سے کام لینا چاہیے۔ 4۔ ہر نماز کے بعد بھی ذکر و اذکار کرنے چاہئیں۔ تفسیر بالقرآن صبر اور اس کے فوائد : 1۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 152) 2۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ : 152) 3۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : 10) 4۔ بیشک جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا انہیں کوئی خوف اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : 13) 5۔ صبر کیجیے اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : 115)
Ayahs 50:41–44

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور توجہ سے سنیں کہ جس دن آواز دینے والا قریب سے آواز دے گا

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

اس دن سب لوگ چیخ کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے، وہ مردوں کے زمین سے نکلنے کا دن ہوگا

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور اس دن ہماری طرف ہی سب کو پلٹنا ہے

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

جب زمین پھٹ جائے گی تو لوگ اس سے نکل کر دوڑتے ہوں گے، ہمارے لیے یہ اکٹھا کرنا بہت آسان ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر اور ذکر کی تلقین کرنے کے بعد اب پھر قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ کوئی شخض قیامت کو تسلیم کرے یا اس کا انکار کرے قیامت بہرحال برپا ہوکر رہے گی جس کا دوسرا مرحلہ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے پر ہوگا جونہی اسرافیل صورپھونکیں گے۔ تو زمین جگہ جگہ سے شق ہوجائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی یہ محسوس کرے گا کہ اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی اسے محشر کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے رہا ہے۔ یہ آواز سنتے ہی ہر کسی کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت قائم ہوچکی ہے اور بلانے والا قیامت کی طرف بلارہا ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کر میدان محشر کی طرف اس طرح جارہے ہوں گے جس طرح تیر اپنے نشانے کی طرف جاتا ہے۔ ( یٰس : 51) اس صورت حال کو ان الفاظ میں بیان کیا جارہا ہے کہ ہم ہی زندہ کرنے والے ہیں اور ہم ہی مارنے والے ہیں اور ہماری طرف ہی لوگوں کو پلٹ کر آنا ہے۔ اسرافیل کو صور کا حکم دینا، قیامت کا برپا کرنا، لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھا نا اور محشر کے میدان میں جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔ گویا کہ جس طرح زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو پیدا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں اس طرح ہی لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں بلکہ آسان تر ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کے درمیان کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس مہینے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ یعنی ابوہریرہ ؓ بھول گئے کہ نبی ﷺ نے کتنی مدت بتلائی تھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ “ (رواہ البخاری : باب (یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا) زُمَرًا) (دُمچی سے مراد اس کا کوئی خاص ذرّہ ہے جس کو انگلش میں (SMALL TAIL) کہتے ہیں محفوظ رہتا ہے۔ ) (وَعَنْ جَابِرٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَامَاتَ عَلَیْہِ ) (رواہ مسلم : باب الأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ باللَّہِ تَعَالَی عِنْدَ الْمَوْتِ ) ” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ ہر شخص اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت ہوا۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن ہر کوئی صور کی آواز اس طرح سنے گا جیسے اس کے پاس کھڑا ہوا کوئی آواز دے رہا ہے۔ 2۔ قبر سے نکلتے ہی ہر انسان کو یقین ہوجائے گا کہ قیامت برپا ہوچکی ہے۔ 3۔ قیامت کے دن زمین پھٹنے کے ساتھ ہی لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ 4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب کو اکٹھا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا مشکل نہیں۔ 5۔ ” اللہ “ ہی زندہ کرنے اور مارنے والا ہے اور سب نے اسی کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ موت وحیات پر قادر ہے : 1۔ ” اللہ “ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبہ : 116) 2۔” اللہ “ ہی معبود برحق ہے وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ (الحج : 6) 3۔ ” اللہ “ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (آل عمران : 156) 4۔ ” اللہ “ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (الاعراف : 158) 5۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جو زندہ کرتی اور مارتی ہے دن اور رات کا مختلف ہونا اسی کے حکم سے ہے (المومنون : 80) 6۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا رب ہے۔ (الدخان : 8) 7۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (الحدید : 2)
Ayah 50:45

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

اے نبی یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ کے ذمہ انہیں جبراً منوانا نہیں ہے، بس آپ اس قرآن کے ساتھ ہر اس شخص کو نصیحت کریں جو میری تنبیہ سے ڈرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس رب کے لیے لوگوں کو زندہ کرنا اور محشر کے دن اکٹھا کرنا مشکل نہیں اس کے لیے لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرنا بھی مشکل نہیں لیکن وہ اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سینکڑوں دلائل اور کئی انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مشاہدے کروا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے دن ہر صورت مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور قیامت برپا ہو کر رہے گی۔ اس کے باوجود اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک طرف نبی ﷺ کو تسلی دی ہے اور دوسری طرف کفار کو تنبیہ کی ہے کہ جو تم ہرزہ سرائی کرتے ہو اس کا ایک ایک لفظ ہمارے علم میں ہے۔ ہم چاہیں تو سب کچھ تم سے منوا سکتے ہیں۔ لیکن ہمارا اصول یہ ہے کہ کسی کو جبر کے ذریعے ایمان لانے پر مجبور نہ کیا جائے نہ ہی اس نے اپنے نبی کو جبر کرنے والا نہیں بنایا۔ اس لیے نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کو نصیحت کریں اور ہمارے عذاب سے ڈرائیں۔ یہاں قرآن مجید کو ذکر قرار دیا گیا ہے ذکر کا ایک معنٰی نصیحت بھی ہے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر اور مؤثر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ہر مبلغ کو اپنے وعظ اور خطاب میں قرآن مجید زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے، اور لوگوں کو قصے، کہانیاں، شعر سنانے کی بجائے قرآن کے ذریعے نصیحت کرنی چاہیے۔ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُمِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْ باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَہَا وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 256) ” دین میں کوئی زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے اس لیے جو شخص باطل معبودوں کا انکار کر کے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے، جاننے والا ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِہٖ فِیْ بَعْضِ أَمْرِہٖ قَالَ بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا وَ یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا) (رواہ البخاری : باب مَا کَان النَّبِیُّ ﷺ یَتَخَوَّلُہُمْ بالْمَوْعِظَۃِ وَالْعِلْمِ کَیْ لاَ یَنْفِرُوا) ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں نبی گرامی ﷺ جب اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے کسی کام کیلئے بھیجتے تو فرماتے، لوگوں کو خوش خبری دینا، ان کو متنفر نہ کرنا۔ ان کے ساتھ نرمی کرنا، مشکل میں نہ ڈالنا۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّھَا قَالَتْ مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّا أَخَذَ أَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖٓ إِلَّا أَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِھَا) (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی ﷺ ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔ اگر کام گناہ کا ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہر بات کو جانتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو جبر کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا۔ 3۔ لوگوں کو قرآن مجید کے ساتھ نصیحت کرنی چاہیے۔ 4۔ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید جامع اور مؤثر ترین نصیحت ہے : 1۔ ہم نے قرآن مجید کو کھول کر بیان کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرئیل : 41) 2۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے لیے نازل فرمایا ہے۔ (صٓ: 29) 3۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : 27) 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : 221) اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو جبر کرنے والا بناکر نہیں بھیجا : 1۔ نبی ﷺ مومنوں کے ساتھ شفیق و مہربان ہیں۔ (التوبہ : 128) 2۔ ہم نے آپ ﷺ کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء : 107) 3۔ ہم نے آپ ﷺ کو جہان والوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا : 28) 4۔ آپ ﷺ کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعہ : 2) (الاحزاب : 46) 5۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور غلامی سے چھڑانے کیلئے تشریف لائے۔ (الاعراف : 157) 6۔ بنی اکرم ﷺ کا مبعوث کرنا اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164) (الاحزاب : 45)