49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الحجرات کا تعارف الحجرات مدینہ میں نازل ہوئی ہے اس کا نام اس کی آیت ٤ میں مذکور ہے یہ سورت ٢ رکوع اور ١٨ آیات پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے کہ اس وقت بنی تمیم کا ایک وفد آپ کی ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ وفد نے انتظار کیے بغیر آپ کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر آواز پر آواز دینا شروع کی ” اخرج علینا یا محمد “ اے محمد باہر آؤ، باہر آؤ۔ اس پر یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز دینے سے منع کیا گیا اور حکم ہوا کہ جو لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز دیں گے ان کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے اور انہیں خبر بھی نہیں ہوگی ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آہستہ اور ادب کے ساتھ بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیاں معاف کرنے کے ساتھ انہیں اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی اخلاق اور اعمال کو جانچ لیا ہے بلکہ ان کے دلوں کو بھی تقوی کے ساتھ پرکھ لیا ہے اس کے بعد اس صورت میں مسلمانوں کو آداب سکھلائیں ہیں۔ ١۔ اے مسلمانوں اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا۔ ٢۔ اے مسلمانوں اگر تمہارے پاس کوئی فاسق آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو اس پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم سے غلطی ہوجائے جس پر تمہیں پریشان ہونا پڑئے۔ ٣۔ مسلمانوں کے درمیان اختلاف رونما ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ اصلاح کروانے کی کوشش کریں کیونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان ہر صورت صلح رہنی چاہیے۔ ٤۔ اے مسلمانوں کوئی قوم دوسری قوم کو اور عورتیں دوسری عورتوں کو مذاق نہ کریں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مذاق کرنے والوں سے بہتر ہوں۔ ٥۔ اے مسلمانوں ایک دوسرے کے برے القاب نہ رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برے القاب رکھنا نافرمانی کا کام ہے جو اس سے تائب نہیں ہوں گے وہ ظالموں میں شمار ہوں گے۔ ٦۔ اے مسلمانوں ایک دوسرے کے بارے میں بدظنی سے بچو۔ بدظنی رکھنا گناہ ہے۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کا تجسس اور غیبت کیا کروغیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔ ٧۔ اے مسلمانوں تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے قبائل اور خاندان بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرو۔ لیکن یاد رکھو اللہ کے ہاں وہ بہتر ہے جو اس سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ ٨۔ حقیقی مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر شک نہیں کرتے اور وہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ٩۔ کچھ لوگ اسلام لا کر آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم پر ایمان لانے میں تمہاری مدد فرمائی ہے۔

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور خوب جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط سورت : سورت فتح کا اختتام نبی ﷺ اور آپ کی جماعت کے اوصاف کے بیان پر ہوا۔ سورت الحجرات میں صحابہ پاک اور عظیم جماعت کو نبی ﷺ کا ادب واحترام کرنے اور آپس میں رہنے کے آداب سکھلائے گئے ہیں۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ مفسرین نے ” لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ “ کے کئی معانی ذکر کیے ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ 1۔ نبی ﷺ کے مقام و احترام کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا پہلا معنٰی یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے اسے اپنے لیے کافی اور شافی سمجھاجائے۔ 2۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے طریقے کو کافی نہیں سمجھتے اور ثواب کی غرض سے اپنی طرف سے اضافے کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ 3۔ اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات اور طریقے میں نقص نکالنا اور اس کے مقابلے میں اپنی سوچ کو مقدم جاننا، یہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنا ہے۔ 4۔ جان بوجھ کر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنا۔ 5۔ قرآن و سنت سے مسئلہ ثابت ہوجانے کے باوجود اپنی فقہ کے مطابق عمل کرنا اور اسے مقدم سمجھنا۔ 6۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے قانوں اور ضابطوں کو نافذ کرنے کی بجائے اپنی مرضی یا پارلیمنٹ کے فیصلے کو ترجیح دینا۔ حقیقت میں یہی اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنا ہے جس کی کسی اعتبار سے بھی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں اس حقیقت کو انتباہ کے طور پر فرمایا ہے کہ ” اللہ “ ہر بات سننے والا اور ہر کسی کی نیت و عمل کو جاننے والا ہے۔ ” حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں تین آدمیوں کا وفد نبی کریم ﷺ کی ازواج ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی عبادت کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتلایا گیا تو انہوں نے اس کو اپنے لئے معمولی سمجھا۔ وہ کہنے لگے ہم نبی اکرم ﷺ کے مرتبہ تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔ دوسرا کہنے لگا کہ میں زندگی بھر روزہ رکھوں گا۔ تیسرا کہتا ہے کہ میں کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ جب نبی کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں میں روزہ رکھتا ہوں اور چھوڑتابھی ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے نکاح بھی کر رکھا ہے۔ پس جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا اس کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ (رواہ البخاری : باب التَّرْغِیبُ فِی النِّکَاحِ ) (وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا) (الحشر : 7) رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) (مشکوٰۃ : باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی جب تک اپنی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے اس وقت تک وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا۔ “ مسائل 1۔ مسلمانوں کو کسی صورت اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ 2۔ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 3۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ ہر بات کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (الانفال : 46) 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (آل عمران : 132 ) 3۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد نہ کرو۔ (محمد : 33) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو۔ (المائدۃ : 92) 5۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول اور صاحب امر کی اطاعت کرو۔ (النساء : 59 )
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنی آواز نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے تمام اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول سے آگے بڑھنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اپنی بات کو نبی ﷺ کی بات سے بلند رکھا جائے۔ اس سے منع کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں یہ حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ آگے بڑھنے کا مفہوم پیچھے ذکر ہوچکا ہے اب صرف نبی ﷺ کا نام لے کر مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچی نہ کرو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام نہیں لیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دور یا نزدیک، بلند اور آہستہ آواز میں پکارا جاسکتا ہے اور ہر حال میں اسی کو پکارنا چاہیے۔ نبی ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ کو نہ دور سے پکارا جاسکتا ہے اور نہ ہی آپ ﷺ سے بات کرنے والے کی آواز اونچی ہونی چاہیے۔ آپ ﷺ کا نام لے کر دور سے آواز دینا اب بھی جائز نہیں کیونکہ اسی صورت کی چوتھی آیت میں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ جب تک آپ ﷺ حیات تھے اس وقت تک آپ کے سامنے آواز اونچی کرنا جائز نہیں تھا۔ اب اس کا یہ مفہوم ہوگا کہ کوئی شخص اپنی یا کسی کی ذات اور بات کو نبی معظم ﷺ کی ذات اور بات سے اونچا نہ سمجھے۔ اونچا سمجھنے سے مراد آپ کے فرمان سے اپنی یا کسی بزرگ کی بات کو مقدم سمجھنا ہے۔ جس نے یہ کیا اس کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات اور بات کو وہ مقام بخشا ہے جس تک کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے حکم ہے کہ اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے اونچا نہ کرو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو دور یا نزدیک سے اونچی آواز سے بلاتے ہو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارے سارے کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور تمہیں اس کی خبر بھی نہیں ہوگی۔ گویا کہ اسے توبہ کرنے کا موقعہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ غور فرمائیں کہ وہ مسلمان کتنا بدقسمت ہے جس کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں اور اسے خبر تک نہ ہو سکے اور نہ وہ توبہ کرسکے۔ (وَعَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ ثَابِتُ ابْنُ قَیْسِ ابْنِ شَمَّاسٍ خَطِیْبَ الْاَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ (یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْالَاتَرْفَعُوْااَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ۔۔ اِلٰی اٰخِرِالْاٰیَۃِ ) جَلَسَ ثَابِتٌ فِیْ بَیْتِہٖ وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فَسَأَلَ النَّبِیُّ ﷺ سَعْدَ ابْنَ مُعَاذٍ مَا شَاْنُ ثَابِتٍ اَیَشْتَکِیْ فَاَتَاہُ سَعْدٌ فَذَکَرَلَہٗ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَقَالَ ثَابِتٌ اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنِّیْ مِنْ اَرْفَعِکُمْ صَوْتًا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ فَاَنَا مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَذَکَرَ ذَالِکَ سَعْدٌ للنَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَلْ ھُوَمِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ) (رواہ مسلم : باب مَخَافَۃِ الْمُؤْمِنِ أَنْ یَحْبَطَ عَمَلُہُ ) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثابت بن شماس ؓ انصار میں اونچی آواز والے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اے ایمان والو ! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔۔ “ (الحجرات : 2) تو ثابت ؓ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چھوڑ دیا۔ نبی ﷺ نے ثابت کے متعلق سعد بن معاذ سے فرمایا کہ کیا وہ بیمار ہیں ؟ حضرت سعد ﷺ ، حضرت ثابت ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے کے بارے میں آگاہ کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے وضاحت کی کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں میری آواز سب لوگوں کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اس بنا پر میں جہنمی ہوں۔ سعد ؓ نے ان کی بات کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : نہیں وہ جنتی ہے۔ “ مسائل 1۔ نبی ﷺ کی حیات میں آپ کے سامنے اونچی آواز سے بات کرنا منع تھا۔ 2۔ جس طرح ایک دوسرے کو دور سے پکارا جاتا ہے۔ نبی ﷺ کی حیات مبارکہ میں اور اب بھی آپ کو دور سے پکارنا منع ہے۔ 3۔ جو لوگ اپنی یا کسی کی ذات اور بات کو نبی ﷺ کی ذات اور بات سے اونچا سمجھتے ہیں ان کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ 4۔ نبی ﷺ کی ذات اور بات سے اپنی یا کسی کی ذات اور بات کو اونچا سمجھنا اپنے اعمال کو ضائع کرنا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی معظم ﷺ کی ذات اور بات کا مقام اور احترام : 1۔ نبی ﷺ کو دور سے آواز نہ دی جائے۔ (الحجرات : 4) 2۔ نبی ﷺ کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ (الحجرات : 2) 3۔ نبی ﷺ سے آگے قدم نہ اٹھایا جائے۔ (الحجرات : 1) 4۔ نبی ﷺ کی مکمل اتباع کی جائے۔ (محمد : 33) 5۔ نبی ﷺ نے جو دیا اسے پکڑلیا جائے جس سے آپ نے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیاجائے۔ ( الحشر : 7)
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کے رسول کے سامنے بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں حقیقت میں وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کا اللہ نے تقویٰ کے لیے امتحان لیا ہے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو اونچی اور دور سے بلانے والوں کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ کے رسول کے سامنے آہستہ اور قریب ہو کر بات کرتے ہیں ان کا مقام اور انعام۔ نبی ﷺ کی آواز سے جو لوگ اپنی یا کسی کی آواز کو اونچا سمجھتے اور کرتے ہیں ان کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اپنی آواز آہستہ رکھتے ہیں حقیقت میں وہی آپ کا ادب اور احترام کرنے والے ہیں۔ نبی ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو نیچا رکھنے اور آپ کا ادب کرنے والوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے ساتھ آزمایا لیا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں انہی کے دلوں میں اللہ کا خوف اور اس کے حکم کا احترام پایا جاتا ہے جس وجہ سے وہ اللہ کے رسول کی ذات اور بات کا احترام کرتے ہیں۔ جن کے دلوں میں نبی کریم کا احترام، اللہ کی ذات کا خوف اور اس کے حکم کا احترام ہوگا ان کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور انہیں اجر عظیم سے ہمکنار کیا جائے گا۔ اس خطاب میں سب سے پہلے صحابہ کرام ؓ کی جماعت مراد ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا خوف اور احترام اختیار کیا اور رسول محترم کے احترام کا حق ادا کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں تقویٰ پیدا کردیا تھا۔ (الفتح : 26) اور ان کا امتحان بھی لے لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف لوگوں کی آواز سنتا اور ان کے اعمال دیکھتا ہے بلکہ وہ دلوں کے حال بھی جاننے والا ہے۔ جو شخص اپنے دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہے اس کی زبان اور اس کے اعمال پر تقویٰ کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ تقویٰ ہی انسان کو صراط مستقیم اور نبی ﷺ کی ذات اور بات کا احترام سکھلاتا ہے۔ تقویٰ ہی تمام اعمال کا مقصود اور مطلوب ہے۔ جب تک نبی محترم ﷺ دنیا میں حیات اور موجود تھے اس وقت آپ کا احترام یہ تھا کہ آپ کی مجلس میں اونچی آواز سے نہ بولاجائے اب اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ذات اور ارشاد کو اپنی اور ہر بزرگ کی بات اور ذات سے اونچا سمجھا جائے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کے دلوں کو تقویٰ کے ساتھ آزمایا جس پر صحابہ پورے اترے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے تمام گناہ معاف فرمادیئے اور انہیں اجر عظیم سے سرفراز فرمایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو معاف کرے گا اور انہیں اجر عظیم عنایت فرمائے گا۔
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

اے نبی ! جو لوگ آپ کو آپ کے حجروں کے باہر پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اگر وہ آپ کے نکلنے تک صبر کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں نبی ﷺ کا ادب و احترام سکھلایا گیا ہے اور اب ان لوگوں کی سرزنش کی گئی ہے جنہوں نے آپ ﷺ کے احترام کے منافی حرکت کی تھی۔ رسول معظم ﷺ کے مقام اور احترام سے جو لوگ واقف نہیں تھے یا جن کے دلوں میں منافقت اور اپنے بڑے پن کا خنّاس تھا۔ وہ جب آپ کی خدمت میں آتے تو آپ سے اس طرح مخاطب ہوتے جس طرح اپنے جیسے یا اپنے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ مخاطب ہوا جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی رائے پر اصرار بھی کیا کرتے تھے۔ اسی قبیل کے لوگوں سے قبیلہ بنوتمیم کے کچھ لوگ تھے۔ جب وہ آپ کی ملاقات کے لیے مدینہ آئے تو آپ دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے۔ اخلاق اور احترام کا تقاضا تھا کہ یہ لوگ انتظار کرتے کہ آپ کب اپنے گھر سے مسجد تشریف لاتے ہیں، اور یہ لوگ آپ سے ملاقات کرتے لیکن ان کے دلوں میں جہالت یا بڑے پن کا خناس تھا اس لیے انہوں نے انتظار کیے بغیر آپ کو ان الفاظ میں آوازیں دینا شروع کیں۔ ” یَا مُحَمَّدُ اُخْرُجْ اِلَیْنَا “ اے محمد ! ہمارے لیے باہر آؤ۔ رب ذوالجلال نے ان کے گستاخانہ انداز کی گرفت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ آپ کے حجروں سے باہر آپ کو آوازیں دے رہے تھے ان میں اکثر بےسمجھ لوگ ہیں۔ اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود باہر تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ” خَیْرًا لَّہُمْ “ کے الفاظ استعمال فرما کر تمام لوگوں کو یہ بات سمجھائی ہے کہ دانائی اور احترام کا تقاضا یہی تھا اور ہے کہ سرور دو عالم ﷺ خود تشریف لاتے اور یہ لوگ آپ سے ملاقات کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اکثریت کو بےسمجھ قرار دیا ہے۔ اشارہ فرمایا ہے کہ اگر تم آئندہ کے لیے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس حرکت کو معاف فرمانے والا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ اَتَانَا اَبُوْمُوْسٰی ؓ قَالَ اِنَّ عُمَرَ اَرْسَلَ اِلَیَّ اَنْ اٰتِیَہٗ فَاَتَیْتُ بَابَہٗ فَسَلَّمْتُ ثَلاَ ثا فَلَمْ یَرُدّ َ عَلَیَّ فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَامَنَعَکَ اَنْ تَاْتِیَنَا فَقُلْتُ اِنِّیْ اٰتَیْتُ فَسَلَّمْتُ عَلٰی بَابِکَ ثَلَاثًا فَلَمْ تَرُدَّ عَلَیَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اسْتَأْذَنَ اَحَدُکُمْ ثَلاَ ثا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ فَلْیَرْجِعْ فَقَالَ عُمَرُ ؓ اَقِمْ عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃَ قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ ؓ فَقُمْتُ مَعَہٗ فَذَھَبْتُ اِلٰی عُمَرَ ؓ فَشَھِدْتُّ ) (صحیح البخاری : باب الاستئذان) ” ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر ؓ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ میں ان کے ہاں پہنچوں۔ جب میں امیرالمؤمنین کے دروازے پر گیا، تو میں نے تین مرتبہ السلام علیکم کہا۔ انہوں نے جواب نہ دیا، تو میں واپس آگیا۔ بعدازاں عمر ؓ نے مجھ سے نہ آنے کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں حاضر ہوا اور آپ کے دروازے پر تین دفعہ سلام کہا لیکن آپ کا جواب نہ پاکر میں واپس آگیا۔ کیونکہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب کسی کو تین بار اجازت طلب کرنے کے باوجود اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا آئے۔ عمر ؓ نے فرمایا : اس حدیث پر گواہ پیش کرو۔ حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے ساتھ کھڑا ہوا اور ہم حضرت عمر ؓ کے پاس گئے اور میں نے گواہی دی کہ ابو موسیٰ ٹھیک کہتے ہیں۔ “ ” حضرت عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے دروازے پر جاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے ہونے کی بجائے دروازے کی دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے اور سلام کہتے اس دور میں گھروں کے دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ “ (رواہ ابوداؤد : باب الاستیذان، البانی ہذا حدیث صحیح) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ﷺ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَہُ بِعَصَاۃٍ ، فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ ، لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ جُنَاحٌ) (رواہ البخاری : باب مَنْ أَخَذَ حَقَّہُ أَوِ اقْتَصَّ دُون السُّلْطَانِ ) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی بندہ اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کسی نوک دار چیز کے ساتھ اس کی آنکھ پھوڑ دے تو آنکھ پھوڑنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ “ مسائل 1۔ جن لوگوں نے نبی ﷺ کے گھر کے باہر آپ کو آوازیں دیں ان کی اکثریت بےعقل تھی۔ 2۔ نبی محترم ﷺ کو دور سے آواز دینے والے لوگ بیوقوف ہوتے ہیں۔
Ayahs 49:6–8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ طور پر نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم مشکلات میں مبتلا ہوجاؤ، مگر اللہ نے تم میں ایمان کی محبت پیدا کی اور اس کو تمہارے لیے محبوب بنا دیا، اور کفر وفسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا ایسے ہی لوگ

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کے فضل سے ہدایت والے ہیں اور اللہ جاننے والا اور خوب حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی محترم ﷺ کے احترام کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جب مسلمانوں میں کوئی بدگمانی یا افواہ پھیل جائے تو اسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کریں تاکہ اس کا بروقت تدارک ہوسکے۔ نبی ﷺ کے بعد مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز کی تصدیق کرلیا کریں۔ اس آیت کے شان نزول میں بعض مفسرین نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ٹھیک نہیں، بہرحال بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کوئی فاسق یا غیر ذمہ دار شخص کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرے یا کوئی ملک و ملت کے خلاف افواہ اڑائے تو ہر حال میں اس کی تحقیق کرلینی چاہیے تاکہ مسلمان اس کے نقصان اور پریشانی سے محفوظ رہیں۔ اس اصول کے پیش نظر ایک دفعہ پھر صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو تاکہ تمہیں کسی قسم کا نقصان اور پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کا رسول تم میں موجود ہے اگر بہت سی باتوں میں تمہاری باتیں قبول کرلے تو تم ضرور مشکل میں پڑجاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کی زینت قراردیا ہے اور تمہیں کفر، نافرمانی اور گناہ سے بیزار کردیا ہے جو لوگ کفر اور فسق وفجور کے مقابلے میں ایمان کو محبوب سمجھتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی ہدایت پر ہیں۔ جو شخص اپنے رب کی ہدایت پر ہے اس پر اللہ کا فضل اور احسان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ہے۔ یہاں ایک دفعہ پھر صحابہ کرام ؓ کے ایمان کی تعریف کی ہے اور ان کے ایمان سے منور دلوں کی تصدیق فرمائی ہے۔ صحابہ کرام ؓ نہ صرف ایمان کو پسند کرنے والے تھے بلکہ ایمان کے مقابلے میں کفر، تابعداری کے مقابلے میں نافرمانی اور نیکی کے مقابلے میں گناہ کو برا سمجھتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا جو ان کے بعد اس درجہ میں کسی کو نصیب نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْاَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ ) (رواہ مسلم : باب، تحریم سب الصحابۃ) ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے اصحاب ؓ کو برا مت کہو۔ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو صحابہ کے مد (نصف کلو گرام تقریبا) کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ “ (وَعَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ؓ قَالَ رَفَعَ یَعْنِی النَّبِیُّ ﷺ رَاْسَہٗ اِلَی السَّمَاءِ وَکَانَ کَثِیْرًامِمَّا یَرْفَعُ رَاْسَہٗ اِلَی السَّمَاءِ فَقَال النُّجُوْمُ اَمَنَۃٌللِّسَّمَاءِ فَاِذَاذَھَبَتِ النُّجُوْمُ اَتَی السَّمَاءَ مَا تُوْعَدُ وَاََنَا اَمَنَۃٌ لِّاَصْحَابِیْ فَاِذَاذَھَبْتُ اَنَا اَتٰی اَصْحَابِیْ مَا یُوْعَدُوْنَ وَاَصْحَابِیْ اَمَنَۃٌ لاُِمَّتِیْ فَاِذَا ذَھَبَ اَ صْحَابِیْ اَتٰی اُمَّتِیْ مَا یُوْعَدُوْنَ ) (رواہ مسلم : باب بَیَانِ أَنَّ بَقَاء النَّبِیِّ ﷺ أَمَانٌ لأَصْحَابِہِ وَبَقَاءَ أَصْحَابِہِ أَمَانٌ لِلأُمَّۃِ ) ” حضرت ابوبردہ (رح) پنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے آسمان کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ ﷺ اکثر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے۔ فرمایا : ستارے آسمان کے لیے امن کی ضمانت ہیں۔ جب آسمان کے ستارے ٹوٹ جائیں گے تو آسمان کے پھٹ جانے کا وقت آجائے گا اور میں اپنے اصحاب کے لیے باعث امن ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب ان آزمائشوں سے دوچار ہوں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امن کا سبب ہیں۔ جب میرے صحابہ اٹھا لیے جائیں گئے تو میری امت بتائے ہوئے فتنوں سے دو چار ہوگی۔ “ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ یَجِئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَۃُ اَحَدِھِمْ یَمِیْنَہٗ وَیَمِیْنُہٗ شَہَادَتَہٗ ) (رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ) ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ سول محترم ﷺ نے فرمایا میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جن کی گواہی ان کی قسم سے اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ “ صحافت اور میڈیا کے لیے بنیادی اصول : آج غیر مسلموں سے متاثر ہو کر صحافت اور میڈیا سے منسلک حضرات برملا کہتے ہیں کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہونا چاہیے۔ اسے آزادئ اظہار کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ کسی بات کی تحقیق کیے بغیر اسے پھیلانا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ) (رواہ مسلم : کتاب المقدمۃ) ” آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔ “ مسائل 1۔ ایمانداروں کے لیے حکم ہے کہ اگر کوئی ان کے درمیان بدگمانی یا افواہ پیدا پھیلائے تو اس کی تحقیق کرلیا کریں۔ 2۔ تحقیق کے بغیر افواہ پر یقین کرنے سے پریشانی لاحق ہوسکتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ کے دلوں کو ایمان سے منور فرمایا اور ایمان کو ان کے لیے عزیز ترین نعمت بنا دیا تھا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دلوں کو کفر اور فسق وفجور سے متنفر کردیا تھا۔ 5۔ سب کے سب صحابہ ؓ ہدایت یافتہ تھے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ پر اپنا فضل اور عظیم احسان فرمایا۔ تفسیر بالقرآن صحابہ کرام ؓ کا ایمان اور مرتبہ ومقام : 1۔ اللہ نے صحابہ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات : 3) 2۔ صحابہ ایمان کا معیار ہیں۔ (البقرۃ : 137) 3۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلہ : 22) 4۔ صحابہ کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ : 13) 5۔ صحابہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلہ : 22) 6۔ صحابہ بھی اللہ پر راضی ہوگئے۔ (البینہ : 8) 7۔ صحابہ کو اللہ نے اپنی رضا کی ضمانت دی ہے۔ (البینہ : 8)
Ayahs 49:9–10

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ، اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو ، اور انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو۔ تاکہ کہ تم پر رحم کیا جائے

فہم القرآن ربط کلام : بد گمانی پیدا کرنے اور افواہ اٹھانے کا نتیجہ عام طور پر اختلافات کی صورت میں رونما ہوتا ہے اور اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے اس لیے اس کا حل پیش کیا گیا ہے۔ اگر مومنوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے درمیان صلح کروانے کی پرخلوص کوشش کریں۔ اگر متحارب گروپوں میں سے کوئی گروپ دوسرے پر زیادتی کرنے والا ہو اور وہ صلح کرنے پر آمادہ نہ ہو تو صلح کروانے والے مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر اللہ کا حکم ماننے یعنی صلح کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اگر وہ صلح پر آمادہ ہوجائے تو پھر عدل و انصاف کے ساتھ ان کے درمیان صلح کروانی چاہیے۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے تمہیں پھر حکم دیا جاتا ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کروادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے ہوئے ہر قسم کی نافرمانی اور طرفداری سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہاں بنیادی طور پر دو مسئلے بیان کیے گئے ہیں۔ 1 ۔ صلح کروانے والے حضرات کسی کی طرف داری کیے بغیر عدل و انصاف کے اصول پر صلح کروائیں۔ 2 ۔ جو فریق صلح کرنے کے لیے تیار نہ ہو اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ 3 ۔ ” اِنَّمَا “ کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا ہے کہ مومنوں کے درمیان ہر صورت اخوت کا رشتہ قائم رہنا چاہیے۔ اگر کوشش کے باوجود فریقین کے درمیان صلح نہیں ہوتی اور دونوں طرف سے کچھ نہ کچھ دلائل اور حقائق موجود ہوں تو پھر ان سے کنارہ کش ہونا بھی جائز ہے جس کا ثبوت حضرت علی اور حضرت عائشہ ؓ کے درمیان ہونے والی جنگ جمل اور حضرت معاویہ اور حضرت علی ؓ کے درمیان ہونے والی جنگ میں پایا جاتا ہے۔ حضرت علی اور حضرت معاویہ ؓ کے درمیان جنگ صفّین برپا ہوئی۔ کچھ نوجوان حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ آپ اس جنگ میں کیوں شریک نہیں ہوتے ؟ حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ مجھے وہ تلوار دو جو کافر اور مومن کے درمیان فرق کرسکے۔ ان کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ مجھے اس تنازع میں غیر جانبدار رہنے دیا جائے۔ چناچہ حضرت سعد، حضرت ابوہریرہ ؓ اور بیشمار صحابہ کرام ؓ اس تنازع میں غیر جانبدار رہے۔ مسائل 1۔ اگر مومنوں کی دو جماعتوں کے درمیان لڑائی ہوجائے تو ان کے درمیان صلح کروانی چاہیے۔ 2۔ صلح کروانے والوں کا فرض بنتا ہے کہ جو گروہ صلح پر آمادہ نہیں ہوتا وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ 3۔ صلح پورے خلوص اور عدل و انصاف کے ساتھ کروانی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ 5۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے ان کے درمیان صلح اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ 6۔ جو لوگ ” اللہ “ سے ڈرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مسلمانوں کے معاملات میں عدل و انصاف ہونا چاہیے : 1۔ عدل کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو ” اللہ “ سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔ (المائدۃ : 8) 2۔ جب فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : 58) 3۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کا فیصلہ کروں۔ (الشوریٰ : 15) 4۔ اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (المائدۃ : 42) 5۔ کہہ دیجیے مجھے میرے رب نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الاعراف : 29) 6۔ جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کریں۔ اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (الحجرات : 9) 7۔ جب بات کرو تو عدل و انصاف کی بات کرو۔ ( الانعام : 152) 8۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (النحل : 90)
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! نہ مرد دوسروں مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو، ایمان لانے کے بعد نافرمانی کرنا بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے باز نہیں آئیں گے وہ ظالم ہیں

فہم القرآن ربط کلام : مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے انہیں آپس کے اختلافات سے بچنا چاہیے یہ تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھیں گے اور ایسے الفاظ اور انداز سے بچیں جس سے دوسرے بھائی کی توہین کا پہلو نکلتاہو۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الحجرات میں مسلمانوں کو تیسری مرتبہ ” اٰمَنُوْا “ کے لفظ سے مخاطب کیا ہے کہ اے ایمان والو ! کوئی قوم کسی دوسری قوم سے تمسخر نہ کرے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کو مذاق کا نشانہ بنائیں ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ایک دوسرے کے عیب نکالا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد دوسروں کے برے نام رکھنا ” اللہ تعالیٰ “ کی نافرمانی کرنا ہے جو اس کام سے باز نہ آئیں وہ لوگ ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس خطاب میں مسلمانوں کو سطحی اور گھٹیا اخلاق اور کردار سے بچانے کے لیے تین حکم دیئے ہیں۔ 1۔ کوئی قوم دوسری قوم کو اور عورتیں دوسری عورتوں کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمسخر کرنے والوں سے بہتر ہوں۔ اس صورت میں مذاق کرنے والی کی نہ صرف اپنی بےعزتی ہوگی بلکہ معاشرے میں اختلاف بھی پیدا ہوگا جس سے بچنا چاہیے۔ ایک دوسرے کا تمسخراڑانا منع ہے : تمسخر کا معنٰی ہے کسی کو حقیر جانتے ہوئے اس کی بےعزتی کرنا، ذلیل کرنا، مذاق اڑانا، توہین کرنا۔ عربوں میں اس بات کا عام رواج تھا کہ ایک قبیلے کا شاعر دوسرے قبیلے کی تضحیک کرتا۔ نہ صرف ان کے سر کردہ لوگوں کی تضحیک کرتا بلکہ ان کی خواتین کو بھی تضحیک کا نشانہ بناتا اور یہی عادت خواتین میں پائی جاتی تھی۔ جو قبیلہ دوسرے قبیلے کا سب سے زیادہ تمسخر اڑاتا اسے دوسروں سے برتر سمجھا جاتا تھا۔ تمسخر اڑانے والے شاعر کو خراج تحسین پیش کیا جاتا۔ دوسرے کی عزت و احترام کے ساتھ کھیلنا اور انہیں لوگوں کی نظروں میں حقیر بنانا ان کے نزدیک کوئی عیب نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں کو یہ کہہ کر منع کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جن کو تم تمسخر کا نشانہ بناتے ہو وہ ایمان، اخلاق اور کردار کے لحاظ سے تم سے بہتر ہوں۔ ” اٰمَنُوْا “ کے لفظ میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں لیکن اعلیٰ اخلاق کی ترویج اور اس کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے مردوں اور خواتین کو الگ الگ مخاطب کیا اور انہیں اس بری عادت سے منع فرمایا ہے۔ یاد رہے کہ آدمی دوسرے کو اس وقت مذاق کا نشانہ بناتا ہے جب اس کے دل سے اس کا احترام اٹھ جاتا ہے جب کسی کا احترام اٹھ جائے تو پھر باہمی اخوت باقی نہیں رہتی۔ جس معاشرے اور قوم میں اخوت اور بھائی چارے کا فقدان ہو اس میں اتحاد باقی نہیں رہ سکتا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ تمسخر اور خوش طبعی میں بڑا فرق ہے۔ خوش طبعی میں دوسرے کو خوش کرنا مقصود ہوتا ہے لیکن تمسخر میں دوسرے کی تذلیل پائی جاتی ہے۔ بیشک یہ کام زبان سے کیا جائے یا اشارے کنائے سے اس سے ہر صورتبچنا چاہیے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَاد اللّٰہِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ التَّقْوٰی ہَاہُنَا وَیُشِیرُ إِلَی صَدْرِہٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۔۔ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم) ” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا با ہم حسد نہ کرو اور ایک دوسرے پر بو لی نہ بڑھاؤ اور بغض نہ رکھو اور قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر تجارت نہ کرے اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ اپنے بھائی پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے تقویٰ اس جگہ ہے آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا۔۔ “ (وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ اَحْسَنَکُمْ اَخْلَاقًا) (رواہ البخاری : باب مَنَاقِبُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ) ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا : مجھے وہ شخص زیادہ پسند ہے، جو تم میں بہترین اخلاق والا ہے۔ “ ” عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے وہ بہتر ہیں، جو اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہیں۔ “ (رواہ البخاری : باب صفۃ النبی ﷺ عیب جوئی سے بچنے کا حکم : دوسرا حکم یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کیا کرو۔ آپس کا لفظ استعمال فرما کر یہ سمجھایا کہ ہر ایماندار دوسرے کو اپنا بھائی جانے اور اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھے۔ مقصود یہ ہے کہ جس طرح اپنی عزت کا خیال رکھتے ہو اسی طرح اپنے بھائی کی عزت کا خیال رکھو ! عیب جوئی کرنے والے کا مقصد ہی دوسرے کے عیب اچھالنا اور اس کو ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ چاہے یہ کام عادت کے طور پر کیا جائے یا حسد اور مخالفت کی بنیاد پر دوسرے کی عزت اچھالنے کے سوا اس کام کی کوئی اچھی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ ظاہر ہے جب ایک شخص دوسرے کی عزت اچھالنے کی کوشش کرے گا۔ یا تو وہ اس سے بدلہ لے گا یا پھر اس سے نفرت کا اظہار کرے گا۔ کیونکہ اخوت اور نفرت بیک وقت جمع نہیں ہوسکتے۔ نفرت پیدا کرنے سے اجتناب کرنے کا حکم : نبی (علیہ السلام) نے باہمی نفرت سے بچنے کا اس حد تک خیال فرمایا کہ آپ جہاں بھی اپنے نمائندے بھیجتے۔ انہیں حکم دیتے کہ وعظ و نصیحت میں بھی ایسے الفاظ اور ایسا انداز اختیار نہ کیا جس سے لوگ دین سے نفرت کریں یا ان میں بلاوجہ تفریق پیدا ہوجائے۔ (عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِّنْ أَصْحَابِہٖ فِیْ بَعْضِ أَمْرِہٖ قَالَ بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا وَ یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا) (رواہ البخاری : باب مَا کَان النَّبِیُّ ﷺ یَتَخَوَّلُہُمْ بالْمَوْعِظَۃِ وَالْعِلْمِ کَیْ لاَ یَنْفِرُوا) ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں نبی گرامی ﷺ جب اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو کسی کام کیلئے بھیجتے تو فرماتے، لوگوں کو خوش خبری دینا، انہیں تقسیم نہ کرنا۔ ان کے ساتھ نرمی کرنا، مشکل میں مبتلا نہ کرنا۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَسَکِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا) (رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ یَسِّرُوا، وَلاَ تُعَسِّرُوا) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا : نرمی کرو، مشکل میں نہ ڈالو، دوسرے کو سکون پہنچاؤ، اور نفرت نہ دلاؤ۔ “ غیبت سے بچنے کا حکم : ” وَلَا تَنَابَزُوْ ا “ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ أَتَدْرُوْنَ مَاالْغِیْبَۃُ قَالُوا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ قِیْلَ أَفَرَأَیْتَ اِنْ کَانَ فِیْ أَخِیْ مَا أَقُوْلُ قَالَ اِنْ کَانَ فِیْہِ مَاتَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَھَتَّہٗ. (رواہ مسلم : وَفِیْ رِوَایَۃٍ اِذَاقُلْتَ لِاَخِیْکَ مَا فِیْہِ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ وَاِذَاقُلْتَ مَا لَیْسَ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہٗ ) (رواہ مسلم : باب تحریم الغیبۃ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کو ان الفاظ کے ساتھ یاد کرو جنہیں وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کیا گیا، اگر کسی بھائی میں وہ ناپسندیدہ بات موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو۔ اس صورت میں آپ کا کیا ارشاد ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر اس میں وہ بات موجود ہے جو تو کہہ رہا ہے تو پھر تو نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات موجود نہیں، جو تو نے کہی ہے پھر تو نے اس پر بہتان لگایا۔ (مسلم) دوسری روایت میں ہے۔ اگر تو نے اپنے بھائی کی وہ بات کی، جو اس میں موجود ہے تو تو نے اس کی غیبت کی۔ اگر ایسی بات کہی جو اس میں موجود نہیں ‘ تو پھر تو نے اس پر بہتان لگایا۔ “ البتہ کسی کے مشورہ طلب کرنے پر دوسرے کی کمزوری بتلانا غیبت میں شامل نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ ضرورت کے تحت دوسرے کی کمزوری بیان کرتے ہوئے نیت، الفاظ اور انداز اچھا ہو۔ حدیث کی مقدس کتب میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ برے القاب رکھنا گناہ کا کام ہے : مومنوں کو تیسرا حکم یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے برے نام اور القاب نہ رکھاکریں۔ یہاں مطلقاً القاب رکھنے سے منع نہیں کیا گیا۔ ” بِءْسَ الِاسْمُ “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ برے نام رکھنے سے اجتناب کرو۔ کسی کے اچھے کام اور اخلاق کی وجہ سے اسے اچھا لقب دینا نبی ﷺ کی سنت ہے۔ بیشک یہ لقب کسی کے طبعی رجحان کی بنیاد پر دیا جائے یا اچھے کام پر۔ جس طرح ایک دن آپ ﷺ نے حضرت علی کو زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا تو محبت سے اسے ” ابو تراب “ کہہ کر بلایا۔ ابوہریرہ کو بلی کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو اسے ابوہریرہ کے لقب کے ساتھ یاد کیا۔ صدیق اکبر کی صداقت کی وجہ سے انہیں ” اَلصِّدِیْق “ کے اعزاز سے سرفراز فرمایا۔ اس طرح حدیث میں کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ لہٰذا ” بِءْسَ الِاسْمُ الْفَسُوْقُ “ کا معنٰی ہے کہ کسی کو ایسے نام یا لقب سے پکارا جائے جس میں وہ اپنی ہتک محسوس کرتاہو۔ البتہ اگر وہ کسی لقب یا نام میں اپنی تحقیر نہیں سمجھتا تو اسے اس لقب کے ساتھ پکارنے میں کئی حرج نہیں۔ حدیث میں اس کی بھی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ 1۔” ذوالیدین “ یعنی لمبے ہاتھوں والا : آپ ﷺ کے دور میں ایک صحابی کے ہاتھ دوسرے صحابہ کے ہاتھوں سے قدرے لمبے تھے۔ لوگ اسے ذوالیدین کہہ کر پکارا کرتے تھے اور وہ اسے محسوس نہیں کرتے تھے۔ 2۔ حمار یعنی گدھا : ایک دیہاتی صحابی دوسروں سے زیادہ جفاکش اور محنتی تھا۔ زیادہ محنت کرنے کی وجہ سے لوگ اسے الحمار کہتے تھے۔ کیونکہ اس لقب سے اس کی توہین کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ یہ لفظ اس کی جفاکشی اور محنت کا ترجمان تھا۔ اس بنا پر لوگ اسے الحمار کہہ کر پکارتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی شعبہ میں ایک ہی نام کے کئی مشہور لوگ ہوں اور ان کی شناخت کے لیے ان کو کسی ایسے لقب سے پکارا جائے جو بات ان میں موجود ہو تو ایسا لقب استعمال کرنے کی بھی ایک حد تک اجازت ہے بشرطیکہ اس کے پیچھے اس کی تحقیر مقصود نہ ہو۔ مسائل 1۔ ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برا مذاق نہ کریں۔ 2۔ ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کے برے القاب نہ رکھیں۔ 3۔ ایمان لانے کے بعد برے القاب رکھنا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنا ہے۔ 4۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے وہ ظالم ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن کون لوگ ظالم ہیں : 1۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 114) 2۔ اللہ کی گواہی کو چھپانے والا ظالم ہے۔ (البقرۃ : 140) 3۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا۔ (الانعام : 12) 4۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا۔ (الانعام : 93) 5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا۔ (الاعراف : 37) 6۔ اللہ کی آیات سن کر اعراض کرنے والا۔ (الکہف : 57) 7۔ حق بات کو جھٹلانے والا۔ (العنکبوت : 68) 8۔ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ (الکہف : 15) 9۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مانگنے والا۔ (یونس : 106) 10۔ قرآن کی نصیحت سے منہ موڑنے والا۔ (الکہف : 57) 11۔ اللہ کی آیات کو سن کر اعراض کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (السجدۃ : 22) 12۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ (الانعام : 144) 13۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ (الانعام : 21)
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بدگمانی کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ بہت سی بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں، جاسوسی نہ کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں کوئی ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے ؟ تم اسے برا سمجھتے ہو۔ اللہ سے ڈرو اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : عیب جوئی کا آغاز بد ظنی سے ہوتا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے حکم دیا ہے کہ ہر قسم کی بدگمانی سے اجتناب کرو۔ ایمانداروں کو تیسرا خطاب اس میں تین کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اے ایماندارو ! بدگمانیوں سے بچو کیونکہ اکثر بد گمانیاں بدظنی پر مبنی ہوتی ہیں اور کوئی مسلمان کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ حالانکہ اس سے تم ہر صورت نفرت کرتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ! یقیناً اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ پہلے کسی کے بارے میں بدظنی پیدا ہوتی ہے اور پھر بدظنی کے بعد عیب جوئی کے لیے تجسس شروع ہوتا ہے جس کا نتیجہ غیبت کی صورت میں نکلتا ہے۔ بدظنی، تجسس اور غیبت آپس میں لازم و ملزوم ہیں اس لیے بیک وقت تینوں کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے بچنے والے کو خوشخبری دی گئی ہے کہ جو غیبت سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ ظن : قرآن مجید نے ظن کا لفظ یقین اور گمان کرنے کے معانی میں بھی استعمال کیا ہے۔ (اس کا تعین موقعہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ) ظن کا معنٰی یقین کرنا (الحاقہ : 20) ظن کا معنٰی کسی بات یا کام کے بارے میں تذبذب کا شکار ہونا۔ (یوسف : 42) ظن کا معنٰی کسی کے بارے میں بدگمانی کرنا۔ (الحجرات : 12) یہاں ظن سے مراد بدگمانی ہے جس سے قرآن مجید اور نبی ﷺ نے مسلمانوں کو منع کیا ہے اور اس کے مقابلے میں آپس میں اچھا گمان یعنی حسن ظن رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَکُونُوا عِبَاد اللَّہِ إِخْوَانًا) (رواہ البخاری : باب مَا یُنْہَی عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ ) حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو، نہ آپس میں دشمنی رکھو۔ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ “ تجسّس : تجسّس سے مراد ایک دوسرے کے نقائص اور عیب تلاش کرنا ہے۔ دوسرے کے عیب تلاش کرنے سے اس کے بارے میں دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو باہمی نفرت سے بچانے کے لیے حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کا تجسس نہ کیا کرو لیکن تجسس کی بعض صورتیں ایسی ہیں جو جائز ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ذمہ دار لوگوں پر تجسس کرنا فرض ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر معاشرے میں گناہوں پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ حکومت کا جرائم پیشہ لوگوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور کسی ادارے کے سربراہ کا ادارے کے حالات سے آگاہ ہونا ضروری ہے تاکہ اصلاح احوال کے لیے بروقت قدم اٹھایا جاسکے۔ مسائل 1۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔ 2۔ اکثر بدگمانیاں انسان کو گناہ اور دوسرے کے ساتھ زیادتی کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ 3۔ مسلمانوں کو خوامخواہ ایک دوسرے کے معاملات کا تجسس نہیں کرنا چاہیے۔ 4۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی غیبت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ 5۔ مسلمان بھائی کی غیبت کرنا اپنے فوت شدہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ 6۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہارے خاندان اور قبیلے بنا دئیے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، یقیناً اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور اچھی طرح باخبر ہے

فہم القرآن ربط کلام : اخلاقی اور لسانی عیوب سے بچنے کے لیے یہ حقیقت بتلائی اور اس کے ذریعے احساس دلایا ہے کہ تم بنیادی طور پر ایک ہی ماں، باپ کی اولاد ہو لہٰذا تمہیں بدگمانی، ایک دوسرے کا تجسس اور غیبت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اے لوگو ! تمہارے رب کا فرمان ہے کہ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور پھر قبیلے بنائے تاکہ تمہیں ایک دوسرے کو جاننے اور پہچاننے میں آسانی ہو۔ تمہارے خاندان اور قبائل بنانے کا یہ مقصد نہیں کہ تم خاندان اور قبائل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فخر کرو۔ یقیناً ” اللہ “ کے نزدیک تم میں سے وہی عزت والا ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔ ” شُعُوْبً “ شعبٌ کی جمع ہے۔ شعوب کا لفظ وسیع تر معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عمرانیات کے ماہرین نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔ 1 ۔ لوگوں کا بڑا گروہ جو ایک باپ کی طرف منسوب ہو۔ 2 ۔ لوگوں کی ایک بڑی جماعت جو ایک سوشل نظام کے ماتحت ہو۔ 3 ۔ وہ جماعت جس کے افراد کی بودوباش اور زبان ایک ہو۔ 4 ۔ قبیلے کی جمع قبائل ہے جس کا معنٰی ایک باپ یا دادا کی طرف منسوب لوگ ہیں۔ خاندان اور قبائل بنانے کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں ایک دوسرے کو پہچاننے میں آسانی ہو۔ قبیلہ سے مراد ایک برادری بھی ہوسکتی ہے جس طرح پاکستان میں مختلف ناموں پر برادریاں ہیں اور پھر بڑی برادریوں کے درمیان بھی برادریاں ہوتی ہے۔ پھر ان میں خاندان ہیں۔ عام طور پر ایک دادا کی اولاد کو ایک خاندان سمجھا جاتا ہے۔ (یَآ أَیُّھَا النَّاسُ ! أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلآی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بالتَّقْوٰی) (مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث رجل من أصحاب النبی ﷺ ” اے لوگو ! خبردار یقیناً تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار ! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو کالے پر اور کسی کالے کو سرخ پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَمَاتَ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً وَمَنْ قَاتَل تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَغْضَبُ لِعَصَبِیَّۃٍ اَوْیَدْعُوْ لِعَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبِیَّۃً فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلٰی اُمَّتِیْ بِسَیْفِہٖ یَضْرِبُ بَرَّھَا وَ فَاجِرَھَا وَلَا یَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِھَا وَلَا یَفِیْ لِذِیْ عَھْدٍ عَھْدَہٗ فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ ) (رواہ مسلم : باب الأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَۃِ عِنْدَ ظُہُورِ الْفِتَنِ وَتَحْذِیر الدُّعَاۃِ إِلَی الْکُفْرِ ) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا، جو اطاعت اور جماعت سے علیحدہ ہوا اور وہ اسی حالت میں فوت ہوا، تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص نامعلوم جھنڈے کے نیچے لڑتا رہا، عصبیت کی خاطر غیرت میں آیا اور عصبیت کی دعوت دیتا رہا، یا عصبیت کی وجہ سے مدد کرتا ہوا قتل ہوا، اس کا قتل، جہالت پر ہوگا۔ جو شخص میری امت کے خلاف تلوار سونت کر نیک و بد سب کو تہ تیغ کرتا چلا گیا اور کسی مومن کی اس نے پروا نہ کی اور نہ ہی کسی عہد والے کے عہد کا پاس کیا، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مرد اور عورت سے تخلیق فرمایا۔ 3۔ کنبے اور قبیلے بنانے کا مقصد ایک دوسرے کی پہچان ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز سے باخبر ہے۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ کی اہمیت و فضیلت : 1۔ مصیبتوں میں صبر اختیار کرنا اور سچ بولنا تقویٰ ہے۔ (البقرۃ : 177) 2۔ حلال روزی کھانا، اللہ پر ایمان لانا اور اس سے ڈرنا تقویٰ ہے۔ (المائدۃ : 88) 3۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دینا اور اس پر قائم رہنا تقویٰ ہے۔ (طٰہٰ : 132) 4۔ شعائر اللہ کا احترام کرنا تقویٰ ہے۔ (الحج : 32) 5۔ حج کے سفر میں زاد راہ لینا تقویٰ ہے۔ (البقرۃ : 197) 6۔ متقی کی خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5) 7۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34) 8۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو قیامت کے دن بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 61 تا 64)