48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة فتح کا تعارف اس سورت کا نام الفتح ہے جو اس کی چوبیس آیت میں موجود ہے یہ سورت چار رکوع اور انتیس (٢٩) آیات پر محیط ہے۔ یہ سورت مدینہ منورہ میں ٦ ؁ ہجری میں نازل ہوئی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں دیکھا کہ آپ بیت اللہ کی زیارت کر رہے ہیں اس پر آپ نے اعلان فرمایا کہ ہم عمرہ کرنے کے لیے جارہے ہیں اس لیے سب کو عمرہ کی تیاری کرنی چاہیے لیکن ہوا یہ کہ جب آپ چودہ سو اصحاب کے ساتھ مکہ کے قریب حدیبہ کے مقام پر پہنچے تو آپ کو حضرت عباس کے ذریعے معلوم ہوا کہ مکہ والے آپ کو کسی صورت بھی عمرہ کرنے نہیں دیں گے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کو سمجھانے کے لیے حضرت عثمان (رض) کو بھیجا کہ انہیں سمجھائیں ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے ہماری آمد کا مقصد بیت اللہ کی زیارت کرنا ہے لیکن مکہ والے کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے اس صورت حال میں دونوں طرف سے مذاکرات ہوئے جس کے نتیجہ میں معاہدہ طے پایا جس کی شرائط میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو مدینہ والوں کو اسے واپس کرنا ہوگا اگر کوئی مسلمان مکہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ کی غالب اکثریت کو یہ شرط پسند نہیں تھی لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شرط کو قبول فرمایا بالآخر آپ عمرہ کیے بغیر مدینہ کی طرف واپس پلٹے ابھی آپ مدینہ واپس نہیں آئے تھے کہ یہ سورت نازل ہوئی جس کی ابتدا ان الفاظ سے کی گئی کہ اے رسول ہم نے آپ کے لیے فتح کے دروازے کھول دئیے ہیں اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ بھی معاف کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زبردست مدد فرمائے گا کیونکہ وہ بڑی قوت والا ہے اس کے بعد منافقوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے جو یہ سمجھ کر پیچھے رہ گئے تھے کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کی طرف جا رہے ہیں وہ واپس نہیں پلٹیں گے کیونکہ مکہ والوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہونے کی وجہ سے منافق جانتے تھے کہ مکہ کے لوگ انہیں عمرہ نہیں کرنے دیں گے۔ اس صورت میں لڑائی ہوگئی تو مسلمانوں میں سے کوئی بچ کر واپس نہیں آئے گا۔ لڑائی کے خوف کی وجہ سے منافقوں نے مختلف بہانے بنائے اور بیٹھے رہنے کو اپنے لیے غنیمت جانا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم کی خوشخبری سنانے کے ساتھ یہ خوش خبری بھی دی کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں پر راضی ہوگیا جنہوں نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی صحابہ (رض) کا فرمان ہے کہ ہم نے یہ جان کر بیعت کی تھی کہ اگر مکہ والوں کے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم میں سے کوئی بچ کر واپس نہیں جائے گا کیونکہ ہم خالی ہاتھ تھے۔ مسلمانوں نے اس لیے استقامت کا مظاہرہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی سکینت نازل فرمائی تھی اس سورت کے آخر میں بار بار تاکید کے ساتھ یہ الفاظ استعمال فرما کریقین دہانی کروائی گئی کہ تم ضرور بیت اللہ میں داخل ہو گے اور امن سکون کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل کرو گے بیشک اس مرتبہ تم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائے لیکن یاد رکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دین حق اور اپنی راہنمائی کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ آپ تمام باطل ادیان پر پر دین اسلام کو غالب کردیں۔ یہ اس لیے بھی ہوگا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھیوں میں یہ اوصاف بھی پائے جاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے حضور جھکنے والے، آپس میں مہربان اور حالت جنگ میں کفار کے لیے بڑے سخت ہیں۔

Ayahs 48:1–3

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

اے نبی ہم نے آپ کو واضح فتح دی ہے

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادے اور آپ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے اور آپ کو سیدھے راستے کی راہنمائی کرے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور آپ کی زبردست مدد فرمائے

فہم القرآن ربط سورت : سورت محمد ﷺ کا اختتام اس فرمان پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہاری جگہ دوسری قوم لاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لانے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلی قوم کا سیاسی اقتدار اور سماجی اثر و رسوخ ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ دوسری قوم کو موقع دیا جائے جس کی واضح مثال فتح مکہ میں پائی جاتی ہے۔ نبی معظم ﷺ نے ایک رات خواب دیکھا کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کررہا ہوں جس میں سال اور وقت کا تعین واضح نہیں تھا۔ بیت اللہ کی زیارت کا شوق اور حالات کے تقاضے کے پیش نظر آپ ﷺ نے صحابہ میں اعلان فرمایا کہ تیاری کرو کہ ہم عمرہ کے لیے مکہ معظمہ کا سفر کرنے والے ہیں اور یہ بات مجھے خواب میں بتلائی گئی ہے۔ اس خواب کا اشارہ سورة بنی اسرائیل کی آیت 60 میں موجود ہے۔ نبی معظم ﷺ چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو حضرت عباس ؓ جو اس وقت تک مکہ میں ہی مقیم تھے انہوں نے خفیہ ذرائع کے ذریعے آپ کو اطلاع دی کہ مکہ والے آپ کو کسی صورت عمرہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔ نہ صرف اجازت دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ آپ کے ساتھ پوری طرح جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اطلاع پر نبی کریم ﷺ نے مکہ کی طرف جانے والا عام راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کیا اور حالات کے پیش نظر مکہ جانے کی بجائے حدیبیہ کے مقام پر قیام فرمایا تاکہ اہل مکہ کو اپنے سفر کا مقصد بتلانے کے ساتھ سمجھایا جائے کہ ہم عمرہ کے لیے آئے ہیں اس کے سوا ہمارے آنے کا کوئی اور مقصد نہیں۔ لیکن اہل مکہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان حالات میں آپ کو عمرہ کی اجازت دی تو لوگ سمجھیں گے کہ مکہ والے محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں سے ڈر گئے ہیں۔ اس لیے وہ کسی صورت میں آپ کو مکہ داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنی آمد کی حقیقت بتلانے کے لیے حضرت عثمان کو مکہ روانہ کیا۔ حضرت عثمان ؓ مذاکرات کرنے کے لیے مکہ پہنچے تو انہیں واپس آنے میں کچھ تاخیر ہوئی جس بنا پر صحابہ کرام ؓ میں بہ بات عام ہوگئی کہ اہل مکہ نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا ہے اس پر نبی ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے صحابہ کرام [ سے بیعت لی جس کا ذکر اسی سورت کی آیت 10 تا 18 میں موجود ہے۔ واقعہ کی تفصیلات جاننے کے لیے سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دونوں طرف سے مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر ایک معاہدہ قرار پایا جس کی درجہ ذیل شرائط طے پائیں۔ 1۔ اس سال مسلمان عمرہ نہیں کرسکتے البتہ اگلے سال انہیں عمرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ 2۔ اگر مکہ والوں میں کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ پہنچے تو اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص مکہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ 3۔ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے تو ان کے ساتھ کسی قسم کا اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ والے تین دن کے لیے مکہ خالی کردیں گے۔ 4۔ آپس میں دس سال تک جنگ نہیں کی جائے گی۔ 5۔ اہل مکہ اور مسلمان جن قبائل کو چاہیں گے اپنا حلیف بنا سکیں گے۔ کچھ صحابہ نے ابتداً معمولی سا اختلاف کیا لیکن اس کے بعد فی الفور تمام صحابہ نے اس معاہدے کو تسلیم کیا جن کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس کے بعد آپ ﷺ مدینہ کی طرف واپس ہوئے۔ راستے میں سورة الفتح کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ تعالیٰ نے پورے جلال کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے واضح طور پر آپ کو فتح عطا فرمادی ہے تاکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں اور آپ پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے، آپ کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے اور آپ کی زبردست مدد فرمائے۔ صلح حدیبیہ کو درج ذیل امور کی وجہ سے فتح مبین قرار دیا گیا ہے۔ 1۔ نبی اکرم ﷺ نے مکہ کا سفر اختیار کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب چاہیں ہم مکہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ 2۔ نبی معظم ﷺ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اخلاق اور تبلیغ کے ذریعے پھیلتا ہے 3۔ آپ ﷺ نے اپنے نہتے ساتھیوں کو موت کے منہ سے بچا لیا کیونکہ صحابہ کرام ؓ کا فرمان ہے کہ اگر مکہ والوں کے ساتھ جنگ ہوجاتی تو اس میں بظاہر ہماری موت یقینی تھی۔ 4۔ آپ ﷺ نے مکہ والوں پر اخلاقی فتح حاصل کی کیونکہ اس معاہدہ کے ذریعے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمان برابر کی چوٹ رکھتے ہیں بظاہر مکہ والے کرّو فر دکھا رہے تھے لیکن حقیقت میں مسلمانوں کی طاقت تسلیم کرچکے تھے۔ 5۔ صلح حدیبیہ سے تعصبات کی دیواریں ٹوٹ گئیں اور اسلام کی تبلیغ کا راستہ ہموار ہوا۔ 6۔ ٹھیک دو سال سے پہلے مکہ فتح ہوا اور مکہ کے بڑے بڑے سردار معافی کے خواستگار ہوئے جنہیں آپ نے معاف فرمادیا اور انہوں نے خوشدلی کے ساتھ اسلام قبول کرلیا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرمایا۔ 8۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ہر میدان میں زبردست مدد فرمائی۔ 9۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس موقع پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی۔ (لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ ) (الفتح : 2) ” تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے۔ “ (تفصیل کے لیے سورة محمد کی آیت 19 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ) (عَنِ الْمُغِےْرَۃِ ؓ قَالَ قَام النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِےْلَ لَہُ لِمَ تَصْنَعُ ھٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا) (رواہ البخاری : باب قِیَام النَّبِیِّ ﷺ حَتَّی تَرِمَ قَدَمَاہُ ) ” حضرت مغیرہ ؓ ذکر کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ رات کو اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے قدم سوج جایا کرتے تھے۔ جب آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ اس قدر کیوں قیام کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں ؟ فرمایا کیا مجھے اس کا شکرگزار بندہ نہیں بننا چاہیے۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرنے والا ہے : 1۔ اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ (البقرۃ : 107) 2۔ اللہ نے یہ لکھ دیا کہ وہ اور اس کے رسول غالب آئیں گے۔ (المجادلہ : 21) 3۔ ” اللہ “ نے حنین کے موقعہ پر اپنے بندوں کی مدد فرمائی۔ ( التوبہ : 25) 4۔ اللہ نے غار ثور میں نبی ﷺ کی مدد فرمائی۔ ( التوبہ : 40) 5۔ اللہ اپنے رسولوں اور مومنوں کی مدد فرماتا ہے۔ (الانفال : 62) 6۔ اللہ نے اپنا رسول اس لیے مبعوث فرمایا کہ اس کے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔ ( الفتح : 28) 7۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور سفارشی پھر تم کیوں نصیحت نہیں حاصل کرتے۔ (السجدۃ : 4)
Ayahs 48:4–5

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکون پیدا فرمایا تاکہ وہ ان کے ایمان کے ساتھ اپنا ایمان اور بڑھالیں، زمین اور آسمانوں کے تمام لشکر اللہ کے اختیار میں ہیں، اور وہ بڑا جاننے والا اور خوب حکمت والا ہے

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسی 3 میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے گناہ ان سے دور کر دے۔ اللہ کے ہاں یہ بہت بڑی کامیابی ہے

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ کرام ؓ کو فتح مکہ کی خوشخبری سنانے کے ساتھ جنت کی خوشخبری بھی دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حدیبیہ کے مقام پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی اور مومنوں پر اطمینان اور سکون نازل فرمایا تاکہ مومنوں کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کے لشکر اور قوتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ” یَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا “ کے الفاظ فرما کر صحابہ کرام ؓ کو بتلایا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور توفیق شامل حال تھی اس لیے یہ معاہدہ ہر اعتبار سے صحیح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں صحابہ کرام ؓ کو کامیابیاں عطا فرمائیں اور آخرت میں مومن اور مومنات کو جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور جنتی اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی پہلی پانچ آیات میں نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کو پانچ، پانچ خوشخبریاں سنائیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....) ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا دوسرا انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ “ عربی لغت ” المنجد “ کے مطابق ” اَلسَّکِیْنَۃُ “ کا معنٰی سکون، اطمینان، سنجیدگی اور وقار ہے۔ مسائل اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس موقعہ پر پانچ اور صحابہ ؓ کو چار خوشخبریاں دیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی صورت میں آپ ﷺ کو عظیم فتح عطا فرمائی اور اسلام کی کامیابی کے لیے راستہ کھول دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے اگلے پچھلے گنا ہوں کو معاف فرمادیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر اپنی نعمت پوری کرنے کا وعدہ فرمایا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے مقابلے میں آپ ﷺ کی زبردست مدد فرمائی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی گارنٹی دی۔ 1۔ صحابہ اور صحابیات ؓ کو دنیا اور آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ 2۔ صحابہ اور صحابیات ؓ کے گناہ معاف کرنے کی خوشخبری سنائی۔ 3۔ صحابہ ؓ کے ایمان میں مزید اضافہ فرمایا۔ 4۔ صحابہ اور صحابیات ؓ کو ہمیشہ کے لیے جنت میں داخلے کی خوشخبری سنائی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز کیا : 1۔ بدر میں مشرکین پسپا ہوئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ (آل عمران : 123 تا 127) 2۔ احد میں پہلے مسلمان غالب رہے۔ (آل عمران : 152) 3۔ 8 ہجری کو اہل مکہ مغلوب ہوئے اور مسلمان کامیاب ہوئے۔ (الفتح : 1) 4۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست کھا گئے اور مسلمان کامیاب رہے۔ (التوبہ : 26) 5۔ جنگ خندق میں اہل مکہ اور دیگر قبائل کو شکست ہوئی۔ (الاحزاب : 25 تا 27) 6۔ صحابہ ؓ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلہ : 22)
Ayahs 48:6–7

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور اللہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے گا جو اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں، وہ خود ہی برے حالات میں پھنس گئے ہیں، ان پر اللہ کا غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے 3 تیار کر رکھی ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور وہ زبردست اور بڑا حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ ؓ کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی نوید سنانے کے بعد منافقین اور مشرکین کو دنیا اور آخرت کی ذلت سے آگاہ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے دور میں منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مرد اور مشرک عورتوں کو دنیا میں ان کے کیے کی سزا دی کیونکہ منافق اور مشرک اپنے اپنے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتے تھے اور مسلمانوں کے بارے میں برا سوچتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں لعنت کی اور آخرت میں ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ مدینے کے منافق مرد اور منافق عورتوں کا خیال تھا کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کی طرف جا رہے ہیں اس لیے بچ کر واپس نہیں آئیں گے۔ یہی سوچ مشرکین مکہ اور ان کی عورتوں کی تھی وہ بھی سمجھتے تھے کہ اس بار مسلمان ہمارے ہاتھوں بچ کر نہیں جاسکیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا مشرکین مکہ پر اس طرح رعب ڈال دیا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔ کیونکہ ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور آخرت میں ان کے لیے جہنم تیار کی ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ زمین و آسمانوں کے لشکر اللہ کے اختیار میں ہیں اور وہ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر غالب ہے اس کے فیصلوں کو زمین و آسمانوں کی کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی اور اس کے ہر حکم میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ (ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ ) (التوبۃ : 26) ” پھر اللہ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی، اور وہ لشکر اتارے جن کو تم نہیں دیکھ سکتے تھے اور ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے کفر کیا اور یہی کافروں کی سزا ہے۔ “ ” اور اہل کتاب اور مومن کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جہنم کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔ “ (المدثر : 31) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں منافق مرد اور منافق عورتیں، مشرک مرد اور مشرک عورتیں بداعتقادی اور بد ظنی رکھتے ہیں۔ 2۔ منافق اور مشرک ہمیشہ مسلمانوں کے نقصان کے بارے میں سوچتے ہیں۔ 3۔ منافق مرد اور منافق عورتوں، مشرک مرد اور مشرک عورتوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے اور ان پر لعنت برستی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین اور مشرکین کے لیے جہنم تیار کی ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ 5۔ زمین و آسمانوں کے لشکر ” اللہ “ کے اختیار میں ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن مسلمانوں کے بارے میں منافقین اور مشرکین کی بری سوچ اور ان کی سزا : 1۔ منافق ” اللہ “ اور مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( البقرۃ : 9) 2۔ رسول ﷺ کو منافق دھوکہ دینے کی کوشش کرتے تھے۔ ( المنافقون : 1) 3۔ منافق نماز بھی دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ ( النساء : 142) 4۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا کرتے تھے۔ (الانفال : 34) 5۔ کفار اور مشرک اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ (التوبہ : 32) 6۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء : 145) 7۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (ابراہیم : 30)
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا ساتھ دو ، اس کی تعظیم کرو اور صبح وشام اللہ کی تسبیح کرتے رہو

فہم القرآن ربط کلام : کفار، مشرکین اور منافقین کی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو غالب فرمایا۔ کیونکہ اس نے نبی آخر الزمان ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ دین اسلام کو باطل ادیان پر غالب کردے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی ! ہم نے آپ ﷺ کو حق کی گواہی دینے والا بنا کر مبعوث کیا ہے۔ آپ کی بعثت کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور رسول ﷺ کی تعظیم اور معاونت کریں اور اللہ تعالیٰ کو صبح وشام یاد کرتے رہیں۔ قرآن مجید نے کئی مرتبہ بات بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو حق کی شہادت دینے کے لیے مبعوث فرمایا ہے اور آپ ﷺ خوشخبری دینے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ شہادت کا معنٰی ہے کہ لوگوں کے سامنے بلاخوف و خطر اللہ کی توحید اور دین حق کو پیش کیا جائے۔ جونہی آپ کے ذمے شہادتِ حق کا فریضہ لگایا گیا ہے۔ آپ نے اس کے لیے دن رات ایک کردیئے نہ کاروبار کی طرف توجہ فرمائی اور نہ ہی رات اور دن کے آرام کا خیال کیا۔ اللہ کے راستے میں کھڑے ہوئے تو تیئس سال تک یہ کھڑے رہے۔ یہاں تک کہ اپنے اور بیگانے مان گئے کہ آپ نے شہادتِ حق کا فرض ادا کردیا ہے۔ نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کا مقصد شہادتِ حق ہے اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات اور بات پر ایمان لائیں۔ یہ ایمان زبانی کلامی نہیں بلکہ عملاً ہونا چاہیے جس کا تقاضا ہے کہ اللہ کے رسول کی معاونت و تعظیم کی جائے۔ آپ کی معاونت کا معنٰی یہ ہے کہ آپ کی دعوت پر عمل کرتے ہوئے اسے لوگوں تک پہنچایا جائے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کی جائے۔ آپ کی تعظیم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ذات اور بات کا دل وجان سے احترام کیا جائے کیونکہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد لوگوں کو اللہ کی ذات اور اس کا ارشاد پہچانا تھا۔ اس لیے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہوئے صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہیں۔ صبح وشام سے مراد ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہیے۔ جس طرح نبی آخرالزماں ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کا طریقہ بتلایا اور کرکے دکھلایا ہے اس میں پانچ وقت کی نماز اور شہادتِ حق کا ابلاغ بھی شامل ہے۔ آپ ﷺ کی عالمگیر نبوت : (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِيْ وَلَا أَقُوْلُھُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِيْ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا وَّأُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتُھَا لِأُمَّتِيْ فَھِيَ لِمَنْ لَّایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) (مسند احمد : باب بدایۃ مسند عبداللہ بن العباس) ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ میں اس میں فخر نہیں کرتا۔ میں تمام کالے اور گورے لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں، ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے غنیمت کا مال حلال قرار دیا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں تھا، میرے لیے زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی ہے، مجھے شفاعت عطا کی گئی میں نے اسے اپنی امت کے لیے سنبھال رکھا ہے اور وہ ہر اس شخص کی نجات کا ذریعہ بنے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ “ (لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَلَایَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ ) (مسند أحمد : باب حدیث تمیم الداري، ھٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین) ” یہ دین ہر صورت وہاں تک پہنچے گا جہاں رات کی تاریکی اور دن کی روشنی پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر کچے پکے گھر میں اس دین کو داخل کردے گا۔ “ آپ ﷺ کی محبت اور تعظیم : (لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) (مشکٰوۃ : کتاب العلم، قال النووی ہذا حدیث صحیح) ” تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے۔ “ ( عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِيْ قِرَادٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ تَوَضَّأَ یَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْءِہٖ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِيُّ ﷺ وَمَاحَمَلَکُمْ عَلٰی ھٰذَا قَالُوْا حُبُّ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَقَال النَّبِيُّ ﷺ مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّحِبَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ أَوْ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ فَلْیَصْدُقْ حَدِیْثَہٗ إِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ أَمَانَتَہٗ إِذَا اءْتُمِنَ وَلْیُحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَہٗ ) (رواہ البہیقی فی شعب الإیمان) ” حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن وضو کیا۔ آپ کے اصحاب آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنے لگے۔ نبی ﷺ نے ان سے استفسار فرمایا تم ایسا کیوں کررہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت کا حق ادا کرے اور اپنے ہمسائیوں سے اچھا برتاؤ کرے۔ “ اللہ کا ہر حال میں ذکر کرنا چاہیے : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) (رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں ﷺ کو حق کی شہادت دینے والا، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ 2۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اللہ اور آپ ﷺ پر ایمان لائیں۔ 3۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ نبی آخر الزماں کی مدد کریں۔ 4۔ ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ آپ ﷺ کی تعظیم کرتے رہیں۔ 5۔ ایمان داروں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صبح وشام تسبیح کیا کریں۔ تفسیر بالقرآن نبی آخرالزماں ﷺ کی عالمگیر نبوت اور اس کے تقاضے : 1۔ اے رسول اعلان فرمائیں کہ ” اللہ “ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رسول منتخب فرمایا ہے۔ (الاعراف : 158) 2۔ آپ ﷺ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (سباء : 28) 3۔ رسول اللہ ﷺ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : 45) 4۔ رسول اللہ ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : 107) 5۔ رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40) 6۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو نبوت اور حکمت عنایت فرمائی۔ ( الجمعہ : 2) 7۔ آپ ﷺ کی نبوت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

اے نبی بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں دراصل وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں، ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا، جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اسی پر ہوگا اور جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرے گا۔ اللہ بہت جلد اسے بڑا اجر عطا فرمائے گا

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی تعظیم اور تکریم کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ آپ کی اطاعت کی جائے اس لیے آپ ﷺ کی اطاعت کی فضیلت اور اس کا اجر بیان کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ سے جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر تھا۔ جو بیعت کرنے کے بعد اسے توڑ دے اس کا نقصان اسی کو ہوگا اور جو بیعت کرکے اس پر قائم رہے اللہ تعالیٰ اسے بہت جلد اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ بعض مفسرین نے اس بیعت سے مراد دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی بیعت لی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بیعت کے تقاضے بھی وہی ہیں جو اس بیعت کے ہیں جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر چودہ سو (1400) صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ آپ کی بیعت کررہے تھے درحقیقت وہ اپنے رب سے بیعت کرتے تھے کیونکہ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر تھا۔ قرآن مجید میں اور بھی مقامات پر اس طرح کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ جس میں رسول ﷺ کے کام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ ایک مقام پر ارشاد ہوا کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء : 80) دوسرے مقام پر ارشاد ہوا کہ آپ نے کفار کی طرف مٹی نہیں پھینکی حقیقت میں اللہ نے ان کی طرف مٹی پھینکی تھی۔ (الانفال : 17) اس بیعت کے بارے میں ایک مفسر نے کسی حوالے کے بغیر لکھا ہے کہ یہ بیعت عام طریقہ سے ہٹ کر کی گئی تھی۔ بیعت کرنے والے کا ہاتھ نیچے ہوتا تھا اور نبی کریم ﷺ اس کے ہاتھ پر اپنا دست مبارک رکھتے تھے۔ جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر تھا۔ اگر اس طرح بیعت نہ بھی کی گئی ہو تو یہ ایک اسلوب بیان ہے جس کے مطابق ہر زبان میں یہ بات کہی جاتی ہے۔ کہ فلاں کے سر پر اللہ کا ہاتھ ہے جس وجہ سے اب تک وہ اپنے دشمنوں سے بچا ہوا ہے۔ بہرحال صلح حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام ؓ نے جو بیعت کی انہوں نے اس کی وفا کا حق ادا کردیا۔ اس وفا کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نہ صرف مکہ والوں پر برتری عطا فرمائی بلکہ ٹھیک تین مہینے بعد ان کے ہاتھوں خیبر فتح ہوا جس میں بیشمار مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین میں ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں اور سینکڑوں کی تعداد میں دشمن کے قیدی مسلمانوں کے غلام بنے جن کو نبی ﷺ نے بہت جلد آزاد کردیا۔ تفصیل کے لیے کسی مستند سیرت کی کتاب کا مطالعہ فرمائیں ! مسائل 1۔ صلح حدیبیہ کے مقام پر ہونے والی بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ 2۔ بیعت اور عہد توڑنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ 3۔ جس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کی اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا : 1۔ ” اللہ “ نیک لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ دے گا۔ (التوبہ : 121) 2۔ ” اللہ “ صابر لوگوں کو ان کے صبر کی بہترین جزا دے گا۔ (النحل : 96) 3۔ ” اللہ “ نیکوں کو ان کے اعمال سے بہتر جزا دے گا۔ (العنکبوت : 7) 4۔ ” اللہ “ اپنے فضل سے مزیداجر عطا کرے گا۔ (النور : 38) 5۔ ہم ان کے اعمال کا انہیں بہتر صلہ عطاکریں گے۔ (النحل : 97) 6۔ ہم ایمان لانے والوں کو ان کا اجر دیں گے۔ (الحدید : 27) 7۔ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : 10) 8۔ ایمان لانے والوں، نماز قائم کرنے والوں اور زکوٰۃ دینے والوں کے لیے اللہ کے ہاں اجر ہے۔ (البقرۃ : 277)
Ayahs 48:11–14

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

اے نبی ! دیہاتیوں میں سے جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے۔ وہ ضرور آپ سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے اموال اور بال بچوں نے مشغول کردیا۔ آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا کریں یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ ان سے فرمائیں کہ کون تمہارے معاملہ میں اللہ سے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع دینا چاہے ؟ بلکہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھروالوں میں واپس نہیں آئیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت اچھا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے۔ تم تو ہلاک ہونے والے لوگ ہو

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہے، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔ کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم ﷺ نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول ﷺ اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ان کی بزدلی اور منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عظیم سعادت سے محروم رکھا ہے ان کے لیے ” مُخَلَّفِیْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی ہے پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے بارے میں کئی قسم کے نقصانات کی توقع رکھتے تھے اس سوچ کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ بنیادی طور پر برے اور ہلاکت میں مبتلا ہونے والے تھے۔ ان کی بری سوچ کی بنیاد یہ تھی کہ اہل مکہ اس قدر طاقتور ہیں کہ انہوں نے بدر کا معرکہ مکہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹر کا سفر کرکے مدینہ کے قریب آکر لڑا۔ اُحد میں انہوں نے مدینہ پہنچ کر جنگ کی اور مسلمانوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ غزوہ خندق کے موقع پر مکہ والوں نے مسلمانوں کو مدینہ میں محصور کردیا اور مسلمانوں نے خندق کھود کر اپنی جانیں پجائیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر منافقین اور کمزور ایمان والے دیہادتیوں کا خیال تھا کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کے شیروں کے منہ میں ہاتھ ڈالنے جارہے ہیں۔ لہٰذا یہ اپنے اہل و عیال میں کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ اس لیے دیہات کے منافقین اور کمزور ایمان والے لوگوں نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ ہم اپنے مال مویشی اور اہل و عیال کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اس سفر میں شرکت نہیں کرسکتے۔ آپ ﷺ سے درخواست ہے کہ ہماری عدم شرکت پر اللہ سے دعا کریں کہ ہماری اس کمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے۔ ان کے بہانوں اور منافقت کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کو ان الفاظ میں آگاہ کیا گیا کہ یہ لوگ اپنی زبان سے آپ کے سامنے معذرت اور استغفار کی درخواست کرتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں سفر میں عدم شرکت کے گناہ کا کوئی احساس نہیں ان کی معذرت اور استغفار کی درخواست جھوٹ کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جہاں تک ان کے اس بہانے کا تعلق ہے کہ ہمارے مال اور اہل و عیال غیر محفوظ ہیں۔ ان کو بتلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو کون ہے جو تمہارے مویشیوں کو موت کے منہ سے بچا سکے گا ؟ اگر تمہارے اہل و عیال پر کوئی مصیبت نازل کرے تو پھر کون انہیں اس مصیبت سے محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ اگر وہ تمہاری کھیتیوں اور باغات پر کوئی آفت نازل کر دے تو ان کو ویران ہونے سے کون بچائے گا ؟ یارکھو ! اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں دے سکتا۔ یہ بات بتلانے کے بعد کہ نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اگر تم اس سفر میں شریک ہوتے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نفع پاتے۔ لیکن تم اپنی منافقت اور بزدلی کی وجہ سے عظیم ثواب اور مستقبل کے فائدے سے محروم ہوچکے ہو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں اور کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلادینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کی بادشاہت ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے سزا سے دوچار کرے۔ حقیقت یہ ہے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ یہ فرما کر منافقین کو ایک دفعہ پھر موقع دیا گیا کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ تائب ہوجاؤ اور اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمادئے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہیں اذّیت ناک عذاب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ( یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْن) (البقرۃ : 9، 10) ” وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور وہ شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے اللہ نے انہیں بیماری میں زیادہ کردیا ہے اور انہیں دردناک عذاب ہوگا کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) ( رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم، قال البانی ضعیف) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “ مسائل 1۔ اسلام اور مسلمانوں پر مشکل کے وقت آئے تو منافق جھوٹے بہانوں کے ذریعے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2۔ منافق دنیاوی نفع و نقصان کی بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ 3۔ منافق ہمیشہ اسلام اور دین کی حمایت میں نقصان اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ 4۔ منافق ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔ 5۔ منافق حقیقت میں ہلاکت میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ 6۔ اللہ اور اس کے رسول پر اخلاص کے ساتھ ایمان نہ لانے والے لوگ حقیقت میں کافر ہوتے ہیں اور کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلا دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 7۔ زمینوں اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے معاف فرمادے اور جسے چاہے عذاب دے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ سچی توبہ کرنے والے کو معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی نفع اور نقصان کا مالک ہے : 1۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتے ہو۔ جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : 16) 2۔ میں انپے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے ؟ (یونس : 49) 3۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : 76) 4۔ اگر اللہ تمہیں نفع و نقصان میں مبتلا کرنا چاہے تو کون ہے جو اس سے بچاسکے۔ (الفتح : 11) 5۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الفرقان : 3) 6۔ فرما دیجیے میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : 188) 7۔ (اے نبی کریم ﷺ آپ فرما دیں کہ مجھے تمہارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں ہے۔ (الجن : 21)
Ayahs 48:15–16

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ آپ سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ، یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں، ان سے صاف طور پر کہیں کہ تمہارے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے یہ کہیں گے کہ بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو، بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم سمجھتے ہیں

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور بہانہ ساز لوگ مشکل وقت میں پیچھے رہتے ہیں اور مفاد کے وقت آگے آگے ہوتے ہیں۔ نبی ﷺ کے دور کے منافقین کا یہی کردار تھا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی سورت کی آیت 10 کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اجر عظیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجاہدین کو فتح سے سرفراز فرمائے گا اور مال غنیمت سے ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والوں کو مال غنیمت کی خوشخبری دینے کے ساتھ اس موقعہ پر پیچھے رہنے والوں کا کردار بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے چلو گے تو جو لوگ اس سے پیچھے رہ گئے ہیں وہ کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت عنایت فرمائیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کے فرمان کو تبدیل کردیں جو ہرگز تبدیل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ان سے فرما دیں کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں جاسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے ہی تمہیں اپنے ساتھ لے جانے سے منع کردیا ہے۔ اس پر یا وہ گوئی کریں گے کہ تم تو ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ بہت کم حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے دیہاتیوں کو یہ بھی فرما دیں کہ عنقریب تمہیں اپنی قوم سے جہاد کرنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑی جنگجو قوم ہے۔ تم ان کے ساتھ شدید جنگ کرو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم اس جنگ میں شریک ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین اجر دے گا۔ اگر تم پہلے کی طرح منہ پھیر جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ جن غنائم کی اس موقعہ پر مسلمانوں کو خوشخبری دی گئی ہے ان کے بارے میں تمام مفسرین کا خیال ہے کہ یہ خیبر کے غنائم ہیں۔ خیبر کا معرکہ صلح حدیبیہ کے ٹھیک تین ماہ بعد پیش آیا۔ یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے نو قلعے تھے۔ یہاں وہ یہودی بھی آباد تھے جنہیں بار بار بدعہدی کرنے اور گھناؤنی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے نکال دیا گیا تھا یہ لوگ خیبر میں رہائش پذیر ہوکراسلامی ریاست کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرتے رہتے تھے۔ صلح حدیبیہ کے بعد اہل مکہ اور اس کے گردو پیش کے قبائل سے قدرے اطمینان حاصل ہوا تو آپ ﷺ نے ضروری سمجھا کہ خیبر کے یہودیوں کی سرکوبی کی جائے۔ آپ نے چند مسلمانوں کو چھوڑ کر انہی لوگوں کو شریک سفر کیا جنہوں نے صلح حدیبیہ کے وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ جب آپ ﷺ حدیبیہ میں بیعت کرنے والوں کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تو مدینہ اور اس کے ارد گرد رہنے والے منافق اور کچھ دوسرے لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی اس سفر میں شریک کیا جائے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جب اہل مکہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں تو یہودی کس طرح مسلمانوں کا مقابلہ کرسکیں گے اس لیے خیبر کی فتح یقینی ہے۔ اس یقین کی بنا پر صلح حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے لوگ آپ ﷺ سے باربار التجا کرتے رہے کہ ہمیں بھی اس جنگ میں شریک کیا جائے لیکن آپ نے انہیں اجازت نہ دی۔ آپ نے اس تیز رفتاری کے ساتھ خیبر کی طرف پیش قدمی کی اور اس کا محاصرہ کیا کہ خیبر والوں کو آپ کی آمد کی خبر نہ ہوسکی۔ خیبر کے لوگ صبح کے وقت کھیتی باڑی کے لیے نکلے تو آپ کا لشکر دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی اور ارشاد فرمایا۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَتَی خَیْبَرَ لَیْلاً وَکَانَ إِذَا أَتَی قَوْمًا بِلَیْلٍ لَمْ یُغِرْ بِہِمْ حَتَّی یُصْبِحَ فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتِ الْیَہُودُ بِمَسَاحِیہِمْ وَمَکَاتِلِہِمْ فَلَمَّا رَأَوْہُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّہِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِین) (رواہ البخاری : باب غزوۃ خیبر) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ رات کے وقت خیبر میں داخل ہوئے۔ آپ کا معمول تھا کہ جب بھی کسی قوم کی طرف رات کے وقت پیش قدمی کرتے تو صبح تک حملہ نہ کرتے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے اپنے بیلچے اور کلہاڑے لے کر نکلے۔ انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ اللہ کی قسم محمد ﷺ لشکر سمیت آچکے ہیں۔ نبی معظم ﷺ نے فرمایا کہ خیبر والے تباہ و برباد ہوگئے۔ جب بھی ہم کسی قوم پر داخل ہوتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بری ہوتی ہے۔ “ یہودی خوف زدہ ہو کر اپنے قلعوں میں بند ہوگئے۔ اور ان کے پاس بیس ہزار جنگجو فوج کا لشکر تھا لیکن مسلمانوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ مسلمانوں نے قلعہ قموص کے سوا باقی قلعے یکے بعد دیگرے فتح کرلیے۔ قلعہ قموص کا نگران خیبرکا مشہور پہلوان اور جنگجو مرحب تھا جس کی کمان میں یہودیوں نے بیس دن تک اپنا دفاع کیا جس وجہ سے باربار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا۔ قریب تھا کہ مسلمانوں میں مایوسی پیدا ہوجائے لیکن نبی معظم ﷺ نے مسلمانوں کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے اعلان فرمایا کہ کل صبح ایسے شخص کو پرچم دیا جائے گا جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرتا ہے۔ (رواہ مسلم : باب مِنْ فَضَاءِلِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ) بالآخر قلعہ قموص فتح ہوا اور یہودیوں کی زمین، باغات اور بہت سامال مسلمانوں کے ہاتھ آیا جسے مجاہدین اور حبشہ کے مہاجرین میں تقسیم کیا گیا۔ جنگجو قوم کے ساتھ مقابلہ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے : (قُلْ لِلْمُخَلَّفِینَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ فَاِِنْ تُطِیعُوْا یُؤْتِکُمُ اللّٰہُ اَجْرًا حَسَنًا وَّاِِنْ تَتَوَلَّوْا کَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (الفتح : 16) ” ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنا ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا۔ “ مفسرین نے جنگجو قوم سے مراد ہوازن قبیلہ کے لوگ لیے ہیں۔ ان کے ساتھ جو معرکہ ہوا وہ غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ الْقَانِتِ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَّلَا صَلٰوۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللّٰہ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا اور قیام کرتا ہے۔ نفلی روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حتی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد واپس لوٹ آئے۔ “ مسائل 1۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بہترین اجرعطا فرمائے گا۔ 2۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ پھیرلیا اللہ تعالیٰ اسے اذّیت ناک سزا دے گا۔ 3۔ منافق غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ تفسیر بالقرآن جو لگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے انہیں بہترین اجر دیا جائے گا : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ایمان کی نشانی ہے۔ (الانفال : 1) 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت باعث رحمت ہے۔ (التوبہ : 71) 3۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ (النور : 52) 4۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (النساء : 13) 5۔ اطاعت رسول سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ( آل عمران : 31) 6۔ آپ ﷺ کی اطاعت ہدایت کا منبع ہے۔ (النور : 54) 7۔ جنت میں داخلے کا معیار آپ ﷺ کی اطاعت ہے۔ ( الفتح : 17) 8۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی رسول اللہ کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : 132) 9۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، صلحاء شہداء، اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء : 69)
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ جائے تو ان پر کوئی گناہ نہیں، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ایسی 3 میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا۔ اسے اللہ درد ناک عذاب دے گا

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں جہاد میں شمولیت نہ کرنے والوں کو اذّیت ناک عذاب کی وعیدسنائی گئی ہے۔ اب ان لوگوں کو مستثنیٰ قراردیا جاتا ہے جو جہاد کرنے سے معذور ہیں۔ اندھے، لنگڑے اور مریض پر جہاد فرض نہیں۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور قتال فی سبیل اللہ سے جان بوجھ کر اعراض کیا اللہ تعالیٰ اسے اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس فرمان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قتال فی سبیل اللہ ہر مسلمان پر فرض نہیں۔ اسی اصول کے پیش نظر نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو قتال فی سبیل اللہ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی تھی۔ شرعی مجبوری کی وجہ سے قتال فی سبیل اللہ سے محروم رہنے والے کو یہ کہہ کر تسلی دی ہے کہ جو بھی اللہ اور اس رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ السَّاعِيْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) (رواہ البخاری : باب فضل النفقۃ علی الأھل) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ اور مسکین کی مدد کرنے والا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاسْتَاْذَنَہٗ فِی الْجِھَادِ فَقَالَ اَحَیٌّ وَالِدَاکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِےْھِمَا فَجَاھِدْ ۔ (متفق علیہ) وَفِیْ رِوَاے َۃٍ فَارْجِعْ اِلٰی وَالِدَےْکَ فَاَحْسِنْ صُحْبَتَھُمَا۔ ) (رواہ البخاری : باب الجہاد بإذن الأبوین) ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضرہوکر جہاد کے لیے اجازت چاہی، آپ ﷺ نے پوچھا کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا، جی ہاں ! آپ نے فرمایا پھر ان کی خدمت کرو۔ ایک روایت میں ہے واپس جا کر ان کی اچھی طرح خدمت کرو۔ “ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے سال میں چودہ سال کا تھا، مجھے رسول مکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، آپ نے مجھے واپس کردیا۔ جنگ خندق کے سال میں پندرہ سال کا ہوا۔ آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت عطا فرمائی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے فرمایا یہ مجاہد اور کم عمر والوں کے درمیان فرق ہے۔ “ ( رواہ البخاری : باب إِذَا زَکَّی رَجُلٌ رَجُلاً کَفَاہُ ) مسائل 1۔ نابینا، لنگڑا اور مریض قتال فی سبیل اللہ سے مستثنیٰ ہیں 2۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ 3۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کی اور قتال فی سبیل اللہ کا انکار کیا اسے اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کن لوگوں کو اذّیت ناک عذاب ہوگا : 1۔ منافقوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 7) 2۔ نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 104) 3۔ اللہ کی آیات چھپانے اور فروخت کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 174) 4۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (الدہر : 31) 5۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور انبیاء کو قتل کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 21) 6۔ اللہ کے عہد اور قسموں کو فروخت کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 77) 7۔ ایمان کے بدلے کفر کو کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 177)
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اللہ کو معلوم تھا اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو بہت جلد فتح سے نوازاے گا

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سا مال غنیمت عطا کرے گا جسے وہ حاصل کریں گے۔ اللہ زبردست اور بڑا حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : معذور لوگوں کو جہاد سے مستثنیٰ قرار دینے کے بعد جہاد میں شریک ہونے والے مجاہدین کے لیے انعام کا اعلان۔ قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب بیان ہے کہ کبھی واقعہ کی جزیات پہلے بیان کی جاتی ہیں اور اس کا مرکزی مضمون بعد میں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے کے دل میں جستجو پیدا ہو اور وہ فکری طور پر لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتا ہوا واقعہ کے مرکزی مضمون اور اس کی اصل روح تک پہنچ جائے۔ اس لیے صلح حدیبیہ سے پہلے رونما ہونے والے واقعات کا ذکر کیا اور اب واضح الفاظ میں صلح حدیبیہ کا ذکر کیا جاتا ہے جسے بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس صلح پر اپنی تائید اور خوشنودی کا اظہار فرما کر بیعت میں شامل ہونے والے مومنوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ مومنوں پر راضی ہوگیا جنہوں نے ایک درخت کے نیچے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے اخلاص کو جان چکا تھا اس لیے ان پر سکینت اور اطمینان نازل فرمایا اور بہت جلد انہیں فتح سے ہمکنار کیا جائے گا۔ بیعت رضوان کی قدرے تفصیل پچھلی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس لیے اس مقام پر صرف اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔ نبی محترم ﷺ چودہ سو صحابہ ؓ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تاکہ عمرہ ادا کیا جائے۔ لیکن کفار نے حرم کا احترام اور بین الاقوامی اخلاق کی پرواہ کیے بغیر آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ داخل ہونے کی اجازت نہ دی اس موقعہ پر دونوں طرف سے مذاکرات ہوئے بالآخر ایک معاہدہ طے پایا جس کی شرائط کا ذکر اسی سورت کی آیت 10 کی تفسیر میں ہوچکا ہے۔ جس میں چودہ سو صحابہ ؓ نے آپ کے ہاتھ پر اس بات پر بیعت کی کہ ہم کٹ جائیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کی طرف سے بیعت کرتے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ گویا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو عثمان ؓ کا ہاتھ قرار دیا یہ ایسا اعزاز ہے جو حضرت عثمان ؓ کے سوا کسی صحابی کو نصیب نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر مسلمانوں پر درج ذیل انعامات فرمائے۔ (فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ بِیَدِہِ الیُمْنَی ہَذِہِ یَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِہَا عَلَی یَدِہِ ، فَقَالَ ہَذِہِ لِعُثْمَانَ ) (رواہ البخاری : بَابُ مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَبِی عَمْرٍو القُرَشِیِّ ﷺ ” رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کے موقع پر اپنے دائیں ہاتھ کو دیکھ کر فرمایا یہ عثمان ؓ کا ہاتھ ہے آپ نے اس ہاتھ کو دوسرئے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی طرف سے ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان کرنے والوں کے دلوں کے خلوص کی گواہی دی 2۔ اللہ تعالیٰ نے بیعت کرنے والے چودہ سو صحابہ کرام ؓ کو اپنی رضامندی کا سر ٹیفکیٹ دیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سکینت نازل فرمائی جس بنا پر مسلمان تھوڑے اور نہتے ہونے کے باوجود مکہ والوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ڈٹ گئے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان کرنے والوں کو بہت جلد مکہ کی فتح کی خوشخبری دی چناچہ دو سال سے قبل مکہ فتح ہوگیا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سارا مال غنیمت عطا کرنے کی نوید سنائی جو صلح حدیبیہ کے بعد خیبر اور پھر مکہ کی فتح کے متصل بعد غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کو حاصل ہوئی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے : 1۔ ” اللہ “ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 2۔ ” اللہ “ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 117) 3۔ ” اللہ “ اپنے بندوں پر غالب ہے اس نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ (الانعام : 61) 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : 1) 5۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : 49) 6۔ اللہ قوی اور غالب ہے۔ ( المجادلہ : 21) 7۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 20) 8۔ مدد تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو آتی ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : 10)