Ayahs 47:1–2فہم القرآن
ربط سورت : الاحقاف کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اے رسول ﷺ ! پہلے رسولوں کی طرح صبر کریں، وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے تو اس قدر بد حواس ہوں گے کہ یہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیوں سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے سورة محمد ﷺ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ دنیا میں بھی ہلاکت کے گھڑے میں گرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل کرے گا اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اس سورت میں کفار، منافقین اور مسلمانوں کے اعمال اور ان کے ا نجام کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ہوا یہ کہ اعلان نبوت کے بعد کفار اور مشرکین نبی کریم ﷺ کی ذات کو انتہائی اختلاف کا باعث سمجھتے تھے۔ اس کشمکش میں یہ سورت نازل ہوئی، اس کا نام آپ کے اسم مبارک پر رکھا گیا تاکہ کفار اور منافقین کو معلوم ہو کہ جس ذات اقدس کو وہ باعث اختلاف سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہستی اور اس کے ساتھیوں کو دنیا اور آخرت میں کیا مقام بخشا ہے۔ سورت کی ابتدا کفار کے رویے سے کی گئی ہے۔ کفار نے نہ صرف خود نبی ﷺ کی ذات اور دعوت کا انکار کیا بلکہ انہوں نے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگادیا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ دنیا کے باطل ادیان اور غلط نظریات پر اللہ کا دین غالب رہے اس لیے اس نے کفار کی کوششوں اور سازشوں کو ناکام کردیا۔ آپ ﷺ کے مخالف نہ صرف دنیا میں ناکام ہوئے بلکہ آخرت میں بھی ذلیل ہوں گے۔ انہوں نے جو رفاہ عامہ اور اپنے دل کی تسکین کے لیے اچھے کام کیے ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں بھی ضائع کر دے گا۔ یعنی ان کے کسی اچھے کام کا بھی انہیں اجر نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ جس ذات کبریا نے انہیں اجر عطا کرنا ہے یہ اس کی ذات اور صفات کا انکار کرتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ اچھے اعمال کے اجر سے محر وم رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ پہلی کتابوں پر ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے اور اس حق پر بھی ایمان لائے جو حضرت محمد ﷺ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور نیک عمل کرتے رہے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور صالح اعمال کی وجہ سے ان کی بشری کمزوریوں کو دور کرے گا اور ان کے اعمال کی اصلاح فرمائے گا۔ بشری کمزوریوں کو دور کرنا اور ان کی اصلاح فرمانے سے مراد دنیا میں ان کے اعمال کی درستگی اور ان کی کمزوریوں کی تلافی کرنا ہے۔ اسی بنا پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھی دنیا میں مثالی مسلمان بنے اور زندگی کے ہر محاذ پر کامیاب رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطاؤں کو معاف کردیا ہے اور انہیں قیامت کے دن جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ اس آیت میں ” اٰمَنُوْا “ کا لفظ دو دفعہ استعمال ہوا ہے۔ دوسری دفعہ ” اٰمَنُوْا “ استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف قرآن مجید پر ایمان نہیں لانا بلکہ حدیث کی صورت میں جو کچھ نبی ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ اس پر بھی ایمان لانا ہے اس لیے ایمان لانے والے کا یہ بھی یقین ہونا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن مجید کے علاوہ جو کچھ فرمایا ہے وہ بھی آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ دوسری دفعہ ” اٰمَنُوْا “ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ سمجھتے تھے کہ ہم اللہ اور انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اس لیے ہم صاحب ایمان ہیں۔ ان کے دعویٰ کی تردید کے لیے یہ وضاحت کردی گئی کہ جو شخص حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے گا اس کا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا تین آدمیوں کے لیے دو گنا اجر ہوگا۔ (1) اہل کتاب میں وہ شخص جو پہلے اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا اب مجھ پر ایمان لے آیا۔ (2) وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ اپنے مالک کے حقوق ادا کرتا ہے۔ (3) جس شخص کے پاس لونڈی ہو اور وہ اس سے صحبت کرتا ہو۔ تو اس نے اس کی تعلیم و تربیت کا بہترین خیال رکھا اس کے بعد اسے آزاد کر کے اسے اپنے نکاح میں لے لیا۔ اس کے لیے بھی دو گنا ثواب ہے۔
(رواہ البخاری : باب تعلیم الرجل أمتہ وأہلہ)
(عَنْ عَاءِشَۃ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِ اغْفِرْلِیْ خَطِیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) (رواہ مسلم : باب الدلیل علی من مات علی الکفر لاینفعہ عمل)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ابن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اسے یہ کام نفع دیں گے ؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمادینا۔ (یعنی اس کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں تھا۔ “ )
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِےَدِہٖ لَا ےَسْمَعُ بِیْ اَحَدٌمِّنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ ےَھُوْدِیٌّ وَلَا نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ ےَمُوْتُ وَلَمْ ےُؤْمِنْ بالَّذِیْ اُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ) (رواہ المسلم : باب وُجُوبِ الإِیمَانِ بِرِسَالَۃِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ إِلَی جَمِیع النَّاسِ وَنَسْخِ الْمِلَلِ بِمِلَّتِہِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں اس ذات کبریا کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں جس یہودی یا عیسائی کو میری نبوت کی اطلاع ہوجائے۔ پھر جو کچھ مجھ پر نازل ہوا ہے وہ اس پر ایمان لائے بغیر مرجائے وہ ضرور جہنم میں داخل ہوگا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن کفر کرنے والوں کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے۔
2۔ جو لوگ دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ان کے اعمال برباد کردیے جائیں گے۔
3۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں کو دور فرمائیں گے اور ان کے احوال کی اصلاح کردیں گے۔
4۔ ایمان لانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ نبی ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہ اس پر بھی ایمان لائیں۔
تفسیر بالقرآن
کفار کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے اور مومنوں کو ان کے ایمان اور اعمال کی جزا دی جائے گی :
1۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کے اعمال ضائع ہوجا تے ہیں۔ (الاعراف : 147)
2۔ مشرکین کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ (التوبہ : 17)
3۔ ایمان کے ساتھ کفر اختیار کرنے والوں کے اعمال ضائع کر دئیے جاتے ہیں۔ (المائدۃ : 5)
4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کے اعمال برباد کردئیے جاتے ہیں۔ (محمد : 33)
5۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ان کے اعمال غارت کر دئیے جائیں گے۔ (آل عمران : 21۔ 22)
6۔ بیشک اللہ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (یوسف : 90) 7۔ صبر کرو ” اللہ “ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ( ھود : 115)
8۔ ” اللہ “ کا ارشاد ہے کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا۔ (آل عمران : 195)
9۔ ہم تمہارے گناہ مٹا دیں گے اور عنقریب ہم احسان کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔ (البقرۃ : 58)
Ayah 47:3فہم القران
ربط کلام : کفار کے اعمال ضائع کرنے کا سبب اور ایمانداروں کو جزادینے کا باعث۔
کفار کے اعمال اس لیے ضائع کردیئے جائیں گے کہ وہ دین کے مقابلے میں کفر، توحید کے بدلے شرک اور حق کی بجائے باطل کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے ہر حال میں اس حق کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حالات اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ کفر اور اسلام، توحید اور شرک، حق اور باطل، جھوٹے اور سچے کے درمیان فرق کرسکیں۔ باطل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا بشرطیکہ حق والے حق کے تقاضے پورے کرتے ہوئے منظم ہو کر کفار کا مقابلہ کریں۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے بدر، اُحد، خندق، فتح مکہ اور تبوک کے موقع پر واضح طور پر ثابت کر دکھایا کہ اللہ تعالیٰ نیک اور منظم لوگوں کی کس طرح مدد کرتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول کے منکر باطل کی پیروی کرتے ہیں۔
2۔ ایماندار لوگ ہمیشہ اپنے رب کی طرف سے نازل کردہ حق کے پیچھے لگتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے واقعات اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔
تفسیر بالقرآن
حق اور باطل کا امتیاز اور ان کا انجام :
1۔ اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ (الرعد : 17) (بنی اسرائیل : 81) (الشوریٰ : 24) (الانفال : 8)
Ayahs 47:4–6فہم القرآن
ربط کلام : کفار باطل کی پیروی کرتے ہیں اس لیے مومنوں کا فرض ہے کہ جب ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو وہ میدان جنگ جیتنے کی کوشش کریں۔
اس سورت کے نزول سے پہلے سورة حج میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں قتال کرنے کی اجازت مل چکی تھی اس لیے اس سورت میں مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! جب کفار کے ساتھ تمہاری مڈھ بھیڑ ہو تو پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ ان کی گردنیں کاٹو یہاں تک کہ جب ان کے سرغنوں کو قتل کرچکو اور لڑائی ختم ہوجائے تو ان کے قیدیوں کو مضبوطی کے ساتھ باندھ لو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرتے ہوئے چھوڑ دو یا ان سے فدیہ وصول کرو۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ آزماتا ہے۔ یادرکھو ! جو اس کے راستے میں شہید ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ضائع نہیں کرتا، جو ان میں باقی بچتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی کرتا ہے اور ان کے معاملات کو درست فرماتا ہے۔ انہیں اس جنت میں داخل فرمائے گا جس کا تعارف اس نے مومنوں کو کروادیا ہے۔ ان آیات میں قتال فی سبیل اللہ کا ایک طریقہ بتلایا ہے کہ جب کفار کے ساتھ مسلمانوں کا آمنا سامنا ہو تو انہیں پوری قوت اور جوش و خروش کے ساتھ کفار پر حملہ آور ہونا چاہیے تاکہ کفار کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے۔ مجاہدوں کو جنگ کے دوران اس جوش اور ولولے سے لڑنا چاہیے کہ کفار کی گردنیں اڑا دینی چاہئیں اور جو ان کے قیدی ہاتھ لگیں انہیں مضبوطی کے ساتھ باندھ لینا چاہیے۔
قیدیوں کے ساتھ سلوک :
فتح کی صورت میں مسلمانوں کو اپنے حالات کے مطابق قیدیوں کے ساتھ چار باتوں میں کوئی ایک بات اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
1۔ احسان کرتے ہوئے قیدیوں کو چھوڑدیا جائے۔ 2۔ قیدیوں سے فدیہ قبول کیا جائے۔ 3۔ آپس میں تبادلہ کرلیا جائے۔ 4۔ قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔
نبی (علیہ السلام) نے حالات کے مطابق اپنے دور میں مختلف موقعوں پر چاروں طریقوں پر عمل کیا ہے۔ 1 ۔ غزوہ بدر کے اکثر قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ جن میں چند قیدیوں کو صحابہ کو تعلیم دینے کے بدلے میں رہا کردیا گیا۔ 2 ۔ غزوہ حنین کے موقع پر سینکڑوں قیدیوں کو بلامعاوضہ آزاد فرمادیا۔ 3 ۔ فتح مکہ کے موقع پر ” آءِمَّۃُ الْکُفْر “ کے چار آدمیوں کو قتل کیا اور باقی کے لیے آزادی کا اعلان فرمایا۔ 4 ۔ بنو ثقیف کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔
شہداء کا مقام :
” اللہ “ کا فرمان ہے کہ جو لوگ اس کے راستے میں قتل کیے گئے ” اللہ “ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ اعمال ضائع نہ کرنے سے پہلی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول کرتے ہوئے انہیں جنت میں داخل فرمائے گا جس جنت کا اللہ تعالیٰ نے قرآان مجید میں مومنوں کو تعارف کروایا ہے۔ شہیدوں کے اعمال ضائع نہ کرنے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نام اور کام کو مدت مدید تک قائم رکھتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں میں یہ نعرہ ایجاد ہوا۔ شہید کی جو موت ہے قوم کی حیات ہے
(اَوَّلُ مَایُہْرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّہِیْدِ یُغْفَرُ لَہٗ ذَنْبُہٗ کُلُّہٗ اِلَّا الدَّیْنَ.)
(صحیح الجامع للالبانی، رقم حدیث : 2578)
” پہلے قطرہ خون سے شہید کے قرض کے سوا سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار فرمائیں گے اے جنت میں رہنے والو ! جنتی کہیں گے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں آپ کے حضور پیش ہیں۔ ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تم خوش ہو ؟ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! ہم کیوں نہ خوش ہوں ؟ تو نے تو ہمیں ایسی نعمتیں عطاکی ہیں جو آپ نے اپنی مخلوق میں کسی کو عطا نہیں کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر نعمت عطانہ کروں ؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ! اس سے بڑھ کر اور نعمت کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم پر ہمیشہ کے لیے خوش ہوں اب کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔ “
(رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار)
مسائل
1۔ میدان کارزار میں مجاہدین کو پوری قوت کے ساتھ کفار کی گردنیں کاٹنی چاہییں۔
2۔ جنگ ختم ہو تو قیدیوں کو اچھی طرح گرفتار کرلینا چاہیے۔
3۔ مسلمانوں کو قیدیوں کے ساتھ مذکورہ بالا صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہی مسلمانوں کی مدد کرنے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کفار کے ساتھ جنگ میں آزماتا ہے۔
6۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہیدہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ضائع نہیں کرتا۔
7۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی راہنمائی کرتا ہے اور ان کے معاملات درست فرماتا ہے۔
8۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو قیامت کے دن اس جنت میں داخل فرمائے گا جس کا انہیں قرآن مجید میں تعارف کروایا گیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
الجنّتکامختصر تعارف :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ اس میں انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) (الواقعہ : 28 تا 30)
4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23) (حٰم السجدۃ : 31)
5۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے پائیں گے۔ ( الانبیاء : 102)
Ayahs 47:7–9فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو جنگ کے دوران کفار کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ لڑنے کا حکم دینے کے بعد ان کی مدد کرنے کی یقین دہانی اور اس کی بنیاد۔
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد فرمائے گا اور ہر میدان میں تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ یاد رکھو ! کہ کفار کے لیے ہلاکت ہے اور ان کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔ اس لیے ان کے اعمال غارت کردیئے جائیں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مجاہدین کو اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے اور دوسری طرف کفار کے اعمال ضائع کرنے اور ان کی کوششوں کو ناکام کرنے کی خوشخبری دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو اپنی مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔ غور فرمائیں ! کہ ” اللہ “ وہ ہے جو کسی لحاظ سے کسی کی مدد اور تعاون کا محتاج نہیں اور جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی کی معاونت اور مدد کا محتاج ہے وہ پرلے درجے کافر اور مشرک ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو فرمایا کہ اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو ” اللہ “ تمہاری مدد فرمائے گا۔ اس ارشاد میں یہ بات سمجھانا مقصود ہے کہ اے مسلمانو ! جب تم دین کی حمایت میں لڑنے اور کمزوروں کی مدد کرتے ہو۔ سمجھو کہ تم اللہ کی مدد کرتے ہو۔ یہ الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ جس دین کی سربلندی کے لیے مجاہد لڑتے ہیں وہ دین ” اللہ “ نے ہی نازل فرمایا ہے، کمزوروں اور مظلوموں کی مدد کرنے کا حکم بھی اسی نے دیا ہے۔ اس لحاظ سے دین اور کمزوروں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ اَیَّامِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِےْھِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوْا ےَارَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَلاَ الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَ لَا الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ الاَّرَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ ےَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیءٍ ) (رواہ الترمذی : باب ماجَاءَ فِی الْعَمَلِ فِیْ اَیَّامِ الْعَشْرِ ، قال البانی صحیح)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی دن ایسا نہیں کہ اس میں نیک عمل اللہ کے نزدیک عشرۂ ذی الحجہ کے دنوں سے زیادہ پسند ہو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ کی راہ میں لڑ نا بھی اس کے برابر نہیں، فرمایا نہیں اللہ کی راہ میں لڑنا بھی اس کے برابر نہیں، مگر وہ مجاہد جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا، پھر ان میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں ہوا۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے دین کی مدد کرنا ” اللہ “ کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر میدان میں اپنے بندوں کو ثابت قدم رکھتا ہے۔
3۔ کفار کے لیے ہلاکت ہے اور ان کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے کیونکہ وہ ” اللہ “ کے نازل کردہ حق کو نہیں مانتے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور اپنے بندوں کی مدد فرمائی ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی مدد فرمائی اور ان کے مخالفوں کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 120)
2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد فرمائی اور ان کے دشمن کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 66، 67)
3۔ ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل : مکمل) 4۔ بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص : 5)
5۔ ” اللہ “ نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات سے نوازا اور روح القدس کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔ (البقرۃ : 87)
6۔ غار ثور میں نبی ﷺ اور ابوبکر ؓ کی مدد فرمائی۔ (التوبہ : 40)
7۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (آل عمران : 123)
8۔ اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے۔ (الروم : 5)
9۔ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 150)
Ayahs 47:10–11فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کا وعدہ اور کفار کی ہلاکت کا ذکر ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ کفار کی تباہی دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو۔
انسان جن چیزوں سے سبق حاصل کرتا ہے ان میں پہلی اقوام کے آثار اور نشانات بھی اس کی عبرت کا باعث بنتے ہیں اس لیے قرآن مجید میں کئی مرتبہ لوگوں کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ! زمین پر چل کر ان لوگوں کے آثار اور نشانات دیکھو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تباہ و برباد کیا ہے۔ یہی حکم اہل مکہ کو دیا گیا کہ کیا وہ اپنے سے پہلے باغیوں کا انجام نہیں دیکھتے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح تباہ کیا اور اسی طرح ہی تمہارے ساتھ ہوگا۔ ایسا اس لیے کیا گیا اور ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کی مدد کرتا ہے اور کفارکو تباہ کرتا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کی ناکامی اور بربادی کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس کس جرم میں تباہ کیا اور وہ کس طرح ذلیل اور تباہ کردیئے گئے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مومنوں کو یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ بالآخر مومنوں کی مدد کرتا ہے اور کفار کو ذلیل اور ناکام بنا دیتا ہے کیونکہ وہ کفار کی بجائے مومنوں کا مددگار ہے بشرطیکہ مومن ایمان کے تقاضے پورے کریں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کا مولیٰ ہے اور کافروں کا مولیٰ نہیں ہے یہی بات غزوہ احد کے موقع پر ابوسفیان کے جواب میں کہی گئی۔ جب اس نے بلند آواز سے کہا تھا کہ آج ھبل بلند ہوگیا۔ یاد رہے کہ مکہ والوں نے ھبل کا بت بیت اللہ کی چھت پر رکھا ہوا تھا۔
( اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ ) ” اللہ بلند وبالا اور عظمت والا ہے۔ “
حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ احد بدر کا بدلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ تمہارے مرنے والے جہنم کا ایندھن بنے اور ہمارے شہید جنت کے مہمان قرار پائے ہیں۔ (رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ أحد)
(اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْوَلَا یُعْلیٰ ) (ارواء الغلیل از الالبانی، حدیث نمبر : 1268، ھٰذا حدیث حسن)
” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “
1 ۔ اہل مکہ نے نبی محترم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ترقی نصیب فرمائی۔ 2 ۔ ہجرت کے موقع پر کفار نے نبی معظم ﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام اور ذلیل کردیا۔
3 ۔ بدر کے موقع پر کفار نے کہا کہ مسلمانوں کو ختم کردیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار مکہ کو ہمیشہ ہمیش کے لیے ذلیل کردیا۔ 4 ۔ اُحد کے موقع پر اہل مکہ نے مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بزدل بنا دیا اور وہ فتح کی حسرت لے کر مکہ کی طرف واپس گئے۔ 5 ۔ غزوہ خندق کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار کے دس ہزار لشکر کو ناکام کردیا۔
6 ۔ فتح مکہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو سربلند فرمایا اور کفار سرنگوں ہوکرمعافی کے خواستگار ہوئے۔ 7 ۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو پوری طرح رسوا کیا اور نبی معظم ﷺ کو ان کی سازشوں سے محفوظ فرمایا۔ 8 ۔ اللہ تعالیٰ نے غزوہ تبوک کے موقع پر رومیوں کو پسپا کیا۔ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو رہتی دنیا تک سربلند فرمایا۔ 9 ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سربلند فرمایا اور کفر کو سرنگوں کردیا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے مجرم اقوام کو ذلیل اور نیست ونابود کردیا :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 2۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136)
3۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13)
4۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : 6) 5۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : 35)
6۔ ثمود زور دار دھماکے کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5) 7۔ آل فرعون کو سمند میں ڈبو دیا گیا۔ ( ٍیونس : 90)
8۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : 82)
9۔ ہم نے مکہ والوں سے پہلے کئی بستیوں کو ہلاک کیا جو ٹھاٹھ باٹھ میں ان سے بہت آگے تھے۔ (مریم : 74)
10۔ ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں، جو قوت میں مکہ والوں سے بڑھ کر تھیں۔ (ق : 36)
Ayahs 47:12–14فہم القرآن
ربط کلام : مسلمان دین پر قائم رہتے ہوئے منظم طریقے کے ساتھ کفار کا مقابلہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور کرتا ہے اور آخرت میں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایمانداروں کے ساتھ بار بار وعدہ کیا ہے کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور اس کے بتلائے ہوئے صالح اعمال اختیار کرو تو تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہاں تک کفار کا معاملہ ہے وہ اپنے رب کی نعمتیں کھاتے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن آخر کار ان کا انجام جہنم کی آگ ہوگا اور یہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں جلتے رہیں گے۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی بستیاں تباہ کیں جو آپ ﷺ کی بستی مکہ سے طاقتور تھیں۔ جب ہم نے انہیں ہلاک کیا تو کوئی بھی ان کی مدد نہ کرسکا۔ اس فرمان میں کھلے الفاظ میں مکہ والوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر تم اپنی روش سے باز نہ آئے تو پہلے لوگوں کی طرح ہلاک اور برباد کر دئیے جاؤ گے پہلے کفار کا انجام بتلانے سے پہلے فرمایا ہے کہ یہ چوپاؤں کی طرح اللہ کی نعمتیں کھاتے اور استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہاں کفار کو چوپاؤں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے کہ جس طرح چوپائے کھانے پینے اور رہنے سہنے سے آگے شعور نہیں رکھتے اسی طرح ہی کفار کی حالت ہے کہ وہ کھانے پینے اور رہنے سہنے سے بڑھ کر کچھ نہیں سوچتے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے کس لیے پیدا کیا ہے اور انہیں کون سے کام کرنے کا حکم دیا ہے اور کن کاموں سے منع کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ چوپاؤں سے بدتر ہیں۔
(وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) (الاعراف : 179)
” اور بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ زیادہ بدتر اور غافل ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ایماندار اور صالح کردار لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔
2۔ جنت میں نہریں اور آبشاریں جاری ہوں گی۔ 3۔ کفار چوپاؤں کی طرح کھانے پینے سے آگے نہیں سوچتے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کفار کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا جو ان کے لیے بدترین ٹھکانہ ہوگا۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے کئی بستیوں کو تباہ و برباد کیا جو مکہ والوں سے زیادہ طاقت رکھنے والے تھے۔
6۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بستی کو تباہ کرتا ہے تو پھر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
مومنوں کا مقام اور کفار کا انجام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
2۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ (البقرۃ : 257)
3۔ صبر کرو متقین کا انجام بہتر ہے۔ (ہود : 49)
4۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : 45)
5۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامہ : 22) 6۔ مجرموں کے لیے جہنم ہے۔ (طٰہٰ : 74)
7۔ کفار کے چہرے کالے ہوں گے اور جنتی کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : 106۔ 107)
8۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27)
9۔ جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 39)
10۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الاعراف : 36)
Ayah 47:15فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ دنیا میں ہلاک کیے گئے ان کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ وہ ہدایت پر چلنے کی بجائے اپنی خواہشات کے بندے بن چکے تھے جس وجہ سے ان کا دنیا میں برا انجام ہوا اور آخرت میں جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔
اس سورت میں مومنوں اور کفار کے درمیان موازنہ کیا جارہا ہے۔ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی طرف سے ٹھوس اور واضح دلیل پر عمل پیرا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا وہ ہے جو اپنے جذبات اور خیالات کی پیروی کرتا ہے اور اس کے لیے شیطان نے اس کے برے اعمال کو فیشن بنا دیا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور دلیل پر عمل پیرا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے رب نے اس جنت کا وعدہ کیا ہے جس کی شان اور حال یہ ہے کہ اس میں چار قسم کی نہریں جاری ہوں گی۔ جنت میں داخل ہونے والوں کے لیے ہر قسم کے ثمرات ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے ان کے لیے بخشش کا اعلان ہوگا۔ ان کے مقابلے میں جس شخص نے اپنے جذبات اور خیالات کی پیروی کی اور برے اعمال کو اپنے لیے اچھا جانا اسے ہمیشہ کے لیے جہنم کی میں جھونکا جائے گا اور پینے کے لیے اسے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ جو اس کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔
جنت میں چلنے والی نہریں :
1 ۔ جنت کی نہروں میں ایک نہر صاف اور شفاف پانی سے لبریز ہوگی اور اس کے پانی کی لہریں آپس میں اٹکلیاں کررہی ہوں گی۔ اس نہر کا پانی اس قدر صاف اور شفاف ہوگا جس میں نہ مٹی ہوگی اور نہ ہی ریت کے ذرات ہوں گے۔ اس پانی کا نہ رنگ بدلے گا، نہ ذائقہ تبدیل ہوگا اور نہ ہی اس میں بوپیدا ہوگی۔
2 ۔ جنت میں ایک نہر ایسی ہوگی جو دودھ سے لبالب ہوگی۔ اس میں ایسا دودھ ہوگا کہ جس کا رنگ چاند کی روشنی سے زیادہ روشن ہوگا۔ اس کے دودھ کا ذائقہ کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔ جنتی اس سے دودھ کے جام بھریں گے اور آپس میں خوش گپیاں کرتے ہوئے ان سے لطف اندوز ہوں گے۔
3 ۔ جنت میں بہنے والی تیسری نہر شراب سے بھر پور ہوگی۔ دیکھنے میں یہ شراب ہوگی لیکن یہ کسی اعتبار سے بھی دنیا کی شراب کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتی ہوگی۔ دنیا کی شراب میں کڑواہٹ، ترشی اور کچھ نہ کچھ نشہ ضرور ہوتا ہے جس سے انسان کی عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنت کی شراب اس قسم کی آلائشوں سے یکسر پاک ہوگی یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگی جو دنیا میں شراب کو حرام سمجھتے تھے اور اس سے کلی طور پر اجتناب کیا کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کو جہنم کی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم کی تلخی کی وجہ سے پانی طلب کریں گے تو انہیں پینے کے لیے انتہائی کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جس سے ان کی آنتڑیاں کٹ کر رہ جائیں گی۔
4 ۔ جنت کی نہر ایسے شہد سے بھری ہوگی جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوگی۔ یہ شہد اتنا صاف اور شفاف ہوگا جس میں پینے والے کو اپنا چہرہ نظر آئے گا۔ اس کی مٹھاس کے بارے میں کسی انسان کے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ جس سے وہ اس کے ذائقے اور مٹھاس کی ترجمانی کرسکے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ اور رسول پر ایمان لایا اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی جنم دھرتی میں بیٹھا رہا۔ صحابہ ؓ نے عرض کی اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ مقام ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر)
مسائل
1۔ اپنے رب کی ہدایت پر چلنے والا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔
2۔ جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگے گا وہ برباد ہوجائے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے پاک پانی، شفاف دودھ، مزیدار شراب اور خالص شہد کی نہریں جاری کر رکھی ہیں۔
4۔ جنت کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کو جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا اور انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ 5۔ جنتی کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جنتی پر ہمیشہ ہمیش راضی رہے گا۔
تفسیر بالقرآن
جنتی کا انعام اور جہنمی کا انجام :
1۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : 32)
2۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : 24)
3۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : 34)
4۔ فرشتے جب جنتی کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : 89)
5۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
6۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
7۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
8۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پیئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55)
Ayahs 47:16–17فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دئیے جاتے ہیں ان میں منافقین بھی شامل ہیں اس لیے منافقین کی عادت اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سورت کی ابتدائی آیات کی تفسیر میں عرض ہوچکا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، اور منافقین کا مومنوں کے کردار اور انجام کے ساتھ موازنہ کیا ہے۔ پہلے کفار اور مشرکین کا مومنوں کے ساتھ موزانہ پیش کیا گیا اور اب منافقین اور مومنوں کا موزانہ کیا جاتا ہے۔ منافقوں کی بری عادات میں ایک عادت یہ تھی کہ جب نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو بظاہر اس طرح آپ کی طرف توجہ کرتے کہ دیکھنے والے یوں محسوس کرتے جیسے یہ پورے انہماک اور اخلاص کے ساتھ نبی ﷺ کی گفتگو کو سن رہے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مجلس سے نکلتے تو منافق اہل علم صحابہ سے پوچھتے کہ اس نبی نے ابھی ابھی کیا کہا ہے ؟ ان کے سوال کرنے کا مقصد بات سمجھنا نہیں تھا۔ ان کا مقصد ایک طرف اپنی لاپرواہی کا اظہار کرنا تھا اور دوسری طرف یہ تاثر دینا تھا کہ نبی ﷺ صحیح معنوں میں بات سمجھانے کا ملکہ نہیں رکھتے۔ حالانکہ یہ اس وجہ سے تھا کہ منافق اپنی خواہشات اور مفاد کے بندے بن چکے تھے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر نفاق کی مہر ثبت کردی تھی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص اور کوشش کو دیکھ کر ان کے ایمان اور تقویٰ میں اصافہ فرمادیا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ) (رواہ البخاری : باب علامۃ المنافق)
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ “ (جس میں جو اور جتنی عادت ہوگی اتنا ہی وہ منافق ہوگا۔ )
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً ) (رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم )
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔ “
منافقین کا انجام :
(اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِوَ لَنْ تَجِدَلَھُمْ نَصِیْرًا) (النساء : 145 )
” یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔ “
مسائل
1۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات کو لاپراواہی کے ساتھ سنتے تھے جس وجہ سے ان کے نفاق میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا۔
2۔ صحابہ ؓ نبی ﷺ کے ارشادات کو توجہ کے ساتھ سنتے تھے جس وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ کیا گیا۔
3۔ مومن کی شان یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات کو اخلاص اور اطاعت کے لیے سنتا ہے اس لیے اس کے ایمان اور تقویٰ میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
منافق کی بری عادات :
1۔ منافق قرآن سن کر اس پر اعتراض کرتا ہے۔ (التوبہ : 124)
2۔ نبی ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر منافق اپنے سرداروں کو یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ (البقرۃ : 14)
3۔ اللہ اور مومنوں کو منافق دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( البقرۃ : 9)
4۔ رسول ﷺ کو منافق دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( المنافقون : 1)
5۔ منافق نماز بھی دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ ( النساء : 142) 6۔ منافق قرآن سنتا ہے تو اس کے نفاق میں اضافہ ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 10) 7۔ مومن قرآن سنتا ہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ (الانفال : 2)
Ayah 47:18فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو انتباہ۔
قرآن مجید نے منافقین کو ہر موقع اور ہر حوالے سے ہدایت کی طرف لانے کی کوشش فرمائی مگر منافقین بدفطرت ہونے کی وجہ سے نفاق میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ حالانکہ وہ کئی بار کفار کا انجام دیکھ چکے تھے لیکن اس کے باوجود سچا ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے جس پر قرآن مجید نے انہیں انتباہ کے انداز میں ارشاد فرمایا کہ اب تو ان کے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہیں۔ سوائے اس کے ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب ان پر قیامت آپڑے گی تو انہیں نصیحت پانے کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر یہ غور کریں تو قیامت کی کئی نشانیاں آچکی ہیں۔ یاد رہے کہ قیامت کی نشانیاں تین اقسام پر مشتمل ہیں۔
1 ۔ کچھ نبی ﷺ کے دور میں پوری ہوچکی ہیں۔ 2 ۔ کچھ قیامت سے پہلے نمودار ہوں گی۔
3 ۔ کچھ قیامت کے قریب برپا ہوں گی۔
(اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ) (القمر : 1)
” قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند پھٹ گیا۔
نبی ﷺ کے دور میں قیامت کی ایک نشانی :
(عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَہْدِ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِرْقَتَیْنِ ، فِرْقَۃً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَۃً دُونَہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ اشْہَدُوا) (رواہ البخاری : باب (وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃً یُّعْرِضُوا)
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں شق قمر کا واقعہ پیش آیا۔ چاند کے دو ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا پہاڑ پر گرا اور ایک ٹکڑا اس کے علاوہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا لوگو ! گواہ ہوجاؤ۔ “
(عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ عِظْنِی وَأَوْجِزْفَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِی صَلاَتِکَ فَصَلِّ صَلاَۃَ مُوَدِّعٍ وَلاَ تَکَلَّمْ بِکَلاَمٍ تَعْتَذِرُ مِنْہُ غَداً وَاجْمَعِ الإِیَاسَ مِمَّا فِی یَدَیِ النَّاسِ ) ( رواہ احمد : مسند ابو ایوب انصاری، ھٰذا حدیث صحیح)
” حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آکر عرض کی کہ مجھے نصیحت کیجیے آپ نے فرمایا جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح نماز ادا کیا کرو گویا کہ الوداعی نماز پڑھ رہے ہو اور ایسی گفتگو نہ کرو۔ جس کے لیے کل کو عذر پیش کرنا پڑے اور جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس کی امید نہ کرو۔ “
(عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْسُطُ یَدَہٗ باللَّیْلِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ النَّھَارِ وَیَبْسُطُ یَدَہٗ بالنَّھَارِ لِیَتُوْبَ مُسِیْءُ اللَّیْلِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا)
(رواہ مسلم : باب قبول التوبۃ من الذنوب وإن تکررت الذنوب والتوبۃ)
” حضرت ابوموسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یقیناً اللہ عزوجل رات کو اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں تاکہ دن کو خطائیں کرنے والا توبہ کرلے اور دن کو ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ صورت حال سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک رہے گی۔ “ (یعنی قیامت سے پہلے تک)
مسائل
1۔ منافق سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود اپنی منافقت سے توبہ نہیں کرتا۔
2۔ منافق بڑی سے بڑی مصیبت اور ذلت قبول کرلیتا ہے لیکن منافقت چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
منافق کا کردار :
1۔ منافق کو مسلمانوں کی بھلائی اچھی نہیں لگتی۔ (آل عمران : 120) 2۔ منافق صرف زبان سے حق کی شہادت دیتا ہے۔ (المنافقون : 1)
3۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ : 14) 4۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ (البقرہ : 10)
5۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ (البقرہ : 14) 6۔ منافق مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ (المنافقون : 8)
7۔ منافق اسلام کی بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (آل عمران : 167)
8۔ منافق ریا کار ہوتا ہے۔ (النساء : 142) 9۔ منافق دنیا کے فائدے کے لیے اسلام قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ : 20)
Ayah 47:19فہم القران
ربط کلام : جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے تقاضے پورے کرنا چاہئیں کیوں کہ یہ کلمہ تمام نصیحتوں کا ترجمان اور مجموعہ ہے لیکن کفار اور منافقین اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اہل علم نے لکھا ہے کہ تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کے کلمہ طیبہ کا پہلا حصہ ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ ہوا کرتا تھا جس کی قرآن مجید کے الفاظ سے اس طرح تصدیق ہوتی ہے۔ اے نبی ﷺ ! جتنے رسول آپ سے پہلے مبعوث ہوئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اس لیے میری ہی عبادت کرو۔ (الانبیاء : 25)
” اہل کتاب کو فرمائیں کہ آؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ “ (آل عمران : 64)
اے رسول ﷺ ! آپ اپنے اور مومنوں کے گناہوں کے لیے استغفار کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے کی جگہ کو جانتا ہے۔ دوسرے مقام پر قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کردیا ہے۔ (الفتح : 2) لیکن یہاں آپ کو یہ حکم ہوا کہ آپ اپنے اور مومنوں کے گناہوں کے لیے اپنے رب سے معافی طلب کریں۔ مومنوں کے گناہوں کے بارے میں بات واضح ہے کہ ان سے غلطی ہوسکتی ہے لہٰذا آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنے ساتھیوں کے لیے معافی مانگتے رہیں۔ یہاں تک آپ کی ذات اقدس کا معاملہ ہے آپ ﷺ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے تھے۔ اس لیے اہل علم نے ان الفاظ کے تین مفہوم لیے ہیں۔ 1 ۔ بیشک آپ ﷺ انبیاء کرام کے سردار ہیں لیکن جو ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی تھی اس کا تقاضا تھا کہ آپ سے ادنیٰ سے ادنیٰ غفلت بھی نہ ہو پائے۔ بیشک آپ ارفع مقام پر فائز تھے لیکن بحیثیت انسان سستی کا امکان ہوسکتا تھا جس کی آپ اپنے رب سے پناہ مانگا کرتے تھے اور یہی آپ کا استغفار تھا۔ جس پر جتنے ” اللہ “ کے احسانات ہیں اتنا ہی اس کے ذمہ شکر، عبادت اور عاجزی کرنا فرض ہوتا ہے۔
2 ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی بجاآوری میں خواہ کتنی ہی کوشش کی جائے، انسان پر لازم ہے کہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا رہے اور یہ سمجھے کہ مجھے جو کرنا چاہیے تھا وہ مجھ سے نہیں ہوسکا۔ منعم حقیقی نے جو بےپایاں احسانات مجھ پر فرمائے ہیں میں ان کا حق شکر ادا نہیں کرسکا۔ یہ تصور انسان کا کمال ہے نقص نہیں۔
3 ۔ اس آیت کے ضمن میں امام فخرالدین رازی نے لکھا ہے کہ اس آیت کی دو توجیہیں کی گئی ہیں۔ ایک توجیہہ یہ ہے کہ خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے لیکن مراد امت ہے، یہ توجیہہ درست نہیں کیونکہ مومنین کے لیے استغفار کا علیحدہ حکم ہے۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ یہاں ” ذَنْبٌ“ سے مراد گناہ یا نافرمانی نہیں بلکہ ترک افضل ہے، امام لکھتے ہیں۔ ” وحاشا من ذالک “ کہ نبی ﷺ کی ذات والا صفات اس سے منزہ ہے کہ وہ افضل کو چھوڑ کر غیر افضل کریں۔ اس لیے امام رازی ؓ نے اپنی توجیہہ پیش کی ہے فرماتے ہیں ” اِنَّ الْمُرَادَ تَوْفِیْقُ الْعَمَلِ الْحَسَنِ وَ اِجْتِنَابِ الْعَمَلِ السَّیِّءِی “ اچھے کام کی توفیق اور برے کاموں سے اجتناب ہے کیونکہ استغفار کا معنٰی طلب غفران ہے اور غفران کا معنٰی کسی قبیح چیز کا ڈھانپ دینا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کے ارتکاب سے ہی محفوظ رکھے جس طرح نبی ﷺ کی شان ہے یا گناہ کے ارتکاب کے بعد اس کو ڈھانپ دے جس طرح کہ مومنین اور مومنات کا حال ہے۔ (ضیاء القرآن جلد چہارم)
اس آیت مبارکہ کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے کی جگہ کو جانتا ہے۔ اس ارشاد کے بھی تین مفہوم لیے گئے ہیں۔
1 ۔ آپ دشمنوں کی دشمنی سے بےفکر ہو کر ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی دعوت دیتے جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا کیونکہ وہ آپ کے چلنے پھرنے اور قیام کرنے کی جگہوں کو جانتا ہے۔
2 ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دنیا میں چلنے پھر نے کے مقامات اور آخری آرام گاہ کو جانتا ہے۔
3 ۔ اللہ تعالیٰ نیک اور برے لوگوں کے جنت اور جہنم کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔
(أَللّٰھُمَّ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَآأُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَآ أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ ) (رواہ مسلم : باب مایقال في الرکوع والسجود)
” اے اللہ ! میں تیری رضا مندی کے ذریعے تیری ناراضی سے اور تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں میں اس طرح تیری تعریف نہیں کرسکتا جس طرح تیری شایان شان ہے۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَدْعُوْ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماجاء فی جامع الدعوات، قال الترمذی ہذا حدیث حسن صحیح)
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخیلی، مسیح الدجال کے فتنے اور عذاب قبر سے پناہ چاہتا ہوں۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یٰأَ یُّہَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللَّہِ فَإِنِّی أَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ إِلَیْہِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ ) (رواہ مسلم : باب اسْتِحْبَاب الاِسْتِغْفَارِ وَالاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ )
” حضرت ابن عمر ؓ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو۔ بلاشبہ میں ہر روز سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ “
” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کے بنیادی طور پر چار تقاضے ہیں۔
1 ۔ اچھی طرح سمجھ کر پڑھنا کہ ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کا معنٰی اور مفہوم کیا ہے ؟
2 ۔ آخر دم تک اس پر استقامت اختیار کرنا۔
3 ۔ اس کے مطابق اپنے عقیدہ، اخلاق اور کردار کو بنانا۔
4 ۔ پوری محنت اور اخلاص کے ساتھ اس کا ابلاغ کرنا۔
(عَنْ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامِتِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَےْہِ النَّارَ ) ( رواہ مسلم : باب مَنْ لَقِیَ اللَّہَ بالإِیمَانِ وَہُوَ غَیْرُ شَاکٍّ فیہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَحَرُمَ عَلَی النَّارِ )
” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے توحید و رسالت کی گواہی دی اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔ “
مسائل
1۔ سب سے بڑا ذکر اور نصیحت ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کو سمجھنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔
2۔ ہر ایماندار کو اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے چلنے، پھرنے اور ٹھہرنے کی جگہوں کو جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کے تقاضے :
1۔ اللہ کے بندے اس کی توحید کا اقرار کرکے اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ (الاحقاف : 14، حم السجدۃ : 30)
2۔ اللہ کے بندے اس پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 82)
3۔ اپنے چہرے کو دین حنیف پر سیدھا کیے چلتے جاؤ۔ (الروم : 30)
4۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لہٰذا تمہیں اسلام پر ہی موت آنی چاہیے۔ (البقرۃ : 132)
5۔ سب سے بہترین دعوت توحید کی دعوت دینا اور اس کے تقاضے پورا کرنا ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : 33)
Ayahs 47:20–21فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے ذکر کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ جو ابھی تک اپنے ایمان میں پختہ نہیں تھے۔
مکہ معظمہ میں کچھ مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ ہمیں کفار کے خلاف قتال کرنے کی اجازت دی جائے لیکن قتال کی اجازت کی بجائے انہیں یہ حکم ہوا کہ لڑائی سے اپنے ہاتھ بند رکھو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ (النساء : 77) جب ہجرت کے بعد دو ٹوک انداز میں قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل ہوا تو جن لوگوں کے دلوں میں ایمان کمزور تھا اور بزدلی تھی وہ اس حکم سے اس طرح تھرا گئے جس طرح ان پر موت کی بےہوشی طاری ہوچکی ہو۔ ان کے بارے میں یہ فرمان جاری ہوا کہ جو لوگ قتال فی سبیل اللہ کا حکم سن کر اس کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس ہلاکت سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اتباع کی جائے اور لوگوں کو اچھی بات کی تبلیغ کرتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کے لیے تیار ہوا جائے۔ اگر یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے اور مضبوط ہوتے تو یہ کام انہیں ضرور کرنے چاہیں تھے۔ ایسا کرنا ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بہتر ہوتا۔ یہاں قتال فی سبیل اللہ سے کترانے والوں کے لیے ہلاکت کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ جو لوگ جنگ مسلط ہوجانے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرتے وہ دشمن کے ہاتھوں ذلیل اور تباہ ہوجاتے ہیں۔ ذلت اور تباہی سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے۔
” اور ان کے مقابلے میں تیاری کرو پوری قوت اور اسے بندھے ہوئے گھوڑوں سے جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ دوسروں کو ڈراتے رہو، جنہیں تم نہیں جانتے۔ انہیں اللہ جانتا ہے اور جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمہاری طرف لوٹائی جائے گی اور تم پر زیادتی نہیں کی جائے گی۔ “ ( الانفال : 60)
(اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاہِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (التوبہ : 41)
” نکلو ہلکے ہو یا بوجھل اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھنے والے ہو۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُْوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَ مَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَا وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ )
(رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ :”إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما “ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو صحابہ ؓ نے عرض کی اللہ کے رسول ﷺ ! یہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی جان کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن، مومن، بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “
مسائل
1۔ بزدل اور منافق انسان قتال فی سبیل اللہ سے کتراتے ہیں۔
2۔ جو لوگ قتال فی سبیل اللہ سے کتراتے ہیں وہ دشمن کے ہاتھوں ذلیل اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔ مسلمان کو اللہ اور اس کے رسول کی اتباع کرتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
3۔ اللہ اور رسول کی اتباع کا تقاضا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کرتے رہیں۔
تفسیر بالقرآن
قتال فی سبیل اللہ اور حق بات کی تبلیغ کرنے کا حکم :
(الانفال : 65) (النساء : 75) (الانفال : 57) (التحریم : 6) (آل عمران : 104)