Ayahs 47:22–24فہم القرآن
ربط کلام : منافق قتال فی سبیل اللہ سے کَنّی کتراتے ہیں لیکن دنگا فساد کرنے میں تیز ہوتے ہیں۔
قرآن مجید نے منافق کی نشانیاں بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان لوگوں کو سمجھایا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو باز آنے کی بجائے کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اے مسلمانو ! آگاہ ہوجاؤ۔ یہ لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن حقیقت میں شعور نہیں رکھتے۔ (البقرۃ : 11، 12)
منافقین کی اسی روش کے باعث یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر ان لوگوں کو ملک میں کچھ اختیارات حاصل ہوجائیں تو یقیناً یہ لوگ ملک میں فساد کریں گے اور رشتہ داریوں کو توڑ ڈالیں گے۔ ان کے اس کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے جس بنا پر یہ کانوں سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے ہوچکے ہیں۔ انہیں قرآن مجید کے ارشادات اور ہدایات پر غور کرنا چاہیے تھا۔ لیکن یہ قرآن مجید کی ہدایات سے اس طرح لاپرواہ ہوچکے ہیں جیسے ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہوں۔ قرآن مجید نے کفار، مشرکین اور منافقین کے بارے میں یہ بھی بتلایا ہے کہ ان کے دل ہیں مگر ان سے سوچتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ (الاعراف : 179)
دوسرے مقام پر اسی بات کو یوں بیان کیا ہے کہ یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے اور ان کے دل سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پاتے اور ان کے کان حقیقت سننے کی کوشش کرتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں میں دل اندھے ہوجاتے ہیں۔ (الحج : 46)
منافق کی دوسری بری عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر قطع تعلقی کرتے ہوئے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتا ہے اور اپنے مفاد کی خاطر کسی قسم کے تعلق اور رشتے کی پرواہ نہیں کرتا اس لیے فرمایا ہے کہ منافق زمین میں فساد کرتے ہیں اور رشتہ داریوں کو توڑ ڈالتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس بات کا حکم دیا ہے کہ رشتہ داریوں کا خیال رکھا جائے۔ جو لوگ رشتہ داریوں کا خیال نہیں رکھتے وہ دنیا وآخرت میں نقصان پائیں گے۔ ( البقرۃ : 27)
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بالْعَرْشِ تَقُوْلُ مَنْ وَصَلَنِیْ وَصَلَہُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللّٰہُ ) (رواہ مسلم : باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں رحم عرش کے ساتھ لپٹ کر کہتا ہے جو مجھے ملائے اللہ اسے ملائے اور جو مجھے کاٹے اللہ اسے کاٹ ڈالے۔ “
اسلام میں رشتہ داریوں کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے لونڈی اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی کرنے کی اجازت نہیں دی۔
(عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ لَعَنَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الْوَالِدَۃِ وَوَلَدِہَا وَبَیْنَ الأَخِ وَأُختِہِ ) (رواہ ابن ماجہ : بَاب النَّہْیِ عَنِ التَّفْرِیقِ بَیْنَ السَّبْیِ )
” ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ماں اور اس کے بیٹے، بہن اور اس کے بھائی کے درمیان تفریق کرنے والے پر لعنت فرمائی۔ “
مسائل
1۔ منافقین کو ملک میں اقتدار حاصل ہو تو وہ فساد برپا کرتے ہیں۔
2۔ منافقین اپنے مفاد اور عادت کے پیش نظر رشتہ داریوں کا خیال نہیں رکھتے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین پر لعنت کی ہے جس وجہ سے ان کے کان بہرے اور ان کی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں۔
4۔ بہرے اور اندھے ہونے کی وجہ سے منافقین کے دلوں پر تالے پڑچکے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے :
1۔ بےگناہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر لعنت اور اسے اللہ کا عذاب ہوگا۔ (النساء : 93)
2۔ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور ان کو جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الاحزاب : 64)
3۔ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (المائدۃ : 64)
4۔ اللہ اور رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر لعنت برستی ہے۔ (الاحزاب : 57)
5۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ (الفتح : 6)
Ayahs 47:25–28فہم القرآن
ربط کلام : منافق قرآن مجید سنتے ہیں مگر اس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ہدایت سے منہ پھیرلیتے ہیں جس وجہ سے گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو ان کے برے اعمال خوبصورت کرکے دکھلاتا ہے اور انہیں جھوٹی امیدیں دلائے رکھتا ہے۔
شیطان کی شیطینت کی وجہ سے منافقین، یہود و نصاریٰ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کچھ کاموں میں تمہاری بات تسلیم کریں گے اور کچھ کاموں میں دوسروں کی بات مانیں گے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے۔ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ان کی موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ ماریں گے اور ان کی کمروں پر کوڑے برسائیں گے۔ اسی حالت میں انہیں دنیا سے عالم برزخ میں لے جائیں گے۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی پیروی کرنے کا انہیں حکم دیا وہ اسے برا سمجھتے ہیں اور اپنے رب کی رضا مندی کو اچھا نہیں جانتے۔ جس وجہ سے ان کے اچھے کاموں کو بھی غارت کردیا جائے گا۔
(وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلآءِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَ اَدْبَارَہُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ) (الانفال : 50)
” کاش ! آپ دیکھیں جب فرشتے کفار کی جان قبض کرتے ہیں تو ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ جلا دینے والا عذاب چکھو۔ “
(عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِی جَسَدِہِ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَیَأْخُذُہَا فَإِذَا أَخَذَہَا لَمْ یَدَعُوہَا فِی یَدِہِ طَرْفَۃَ عَیْنٍ حَتَّی یَجْعَلُوہَا فِی تِلْکَ الْمُسُوحِ وَیَخْرُجُ مِنْہَا کَأَنْتَنِ ریح جیفَۃٍ وُجِدَتْ عَلَی وَجْہِ الأَرْضِ فَیَصْعَدُونَ بِہَا فَلاَ یَمُرُّونَ بِہَا عَلَی مَلأٍ مِنَ الْمَلاَءِکَۃِ إِلاَّ قَالُوا مَا ہَذَا الرُّوحُ الْخَبِیثُ فَیَقُولُونَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَاءِہِ الَّتِی کَانَ یُسَمَّی بِہَا فِی الدُّنْیَا حَتَّی یُنْتَہَی بِہِ إِلَی السَّمَاء الدُّنْیَا فَیُسْتَفْتَحُ لَہُ فَلاَ یُفْتَحُ لَہُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُول اللَّہِ (لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَاب السَّمَاءِ وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ ) فَیَقُول اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ اکْتُبُوا کِتَابَہُ فِی سِجِّینٍ فِی الأَرْضِ السُّفْلَی فَتُطْرَحُ رُوحُہُ طَرْحاً ثُمَّ قَرَأَ (وَمَنْ یُشْرِکْ باللَّہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرِّیحُ فِی مَکَانٍ سَحِیقٍ ) ۔۔ ) (رواہ أحمد : مسند براء بن عازب ؓ ، ھذا حدیث صحیح )
” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کافر کا دنیا سے رخصت ہونے اور اس کی موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے پاس کھردرا لباس ہوتا ہے۔ وہ فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ کی جاتی ہے، اور اس کو اس طرح کھینچا جاتا ہے جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے پھر اس روح کو فرشتے پکڑتے ہیں اور کوئی فرشتہ اسے اپنے ہاتھ میں آنکھ جھپکنے سے زیادہ دیر نہیں رکھتا۔ اسے بدبودار ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار جیسی گندی بدبو نکلتی ہے جس طرح تم مردار کی بدبو زمین پر محسوس کرتے ہو۔ وہ اسے لیکر آسمانوں کی طرف جاتے ہیں ان کا گذر جس فرشتے کے ہاں ہوتا تو وہ کہتا ہے یہ کس کی گندی روح ہے تو وہ جواب دیتے ہیں وہ فلاں ابن فلاں ہے اس کے برے برے نام لیتے ہیں جن کے ساتھ اسے دنیا میں پکارا جاتا تھا حتیٰ کہ اسے آسمان دنیا کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے کہا جاتا ہے تو دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ( ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہو سکیں گے حتی کہ اونٹ کو سوئی کے سوراخ میں داخل کردیں۔ ) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کے اعمال نامہ سجین میں لکھ دو جو زمین کی سب سے نچلی جگہ ہے اس کی روح کو پھینکا جائے گا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ( اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرگیا پرندے اسے اچک رہے ہیں یا ہوا اس کو دور جگہ میں پھینک رہی ہے۔ ) “
مسائل
1۔ ہدایت واضح ہونے کے باوجود منافق اسے قبول نہیں کرتا۔
2۔ شیطان منافق کو اس کا برا کردار اچھا کرکے دکھلاتا ہے اور اسے جھوٹی امیدیں دلائے رکھتا ہے۔
3۔ منافق کفار اور مسلمانوں کو اپنی رفاقت کی یقین دہانی کرواتا ہے۔
4۔ ملائکہ منافق کی موت کے وقت اس کے چہرے اور کمر پر مارتے اور جھڑکیاں دیتے ہیں۔
5۔ منافق اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی ناراضگی کے کاموں پر خوش ہوتا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ منافق کے تمام اعمال غارت کردیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن کن لوگوں کے اعمال غارت ہوجائیں گے :
1۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کے اعمال ضائع ہوجا تے ہیں۔ (الاعراف : 147)
2۔ مشرکین کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ (التوبہ : 17)
3۔ رسول ﷺ کی گستاخی کرنے والے کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے۔ (الحجرات : 2)
4۔ ایمان کے ساتھ کفر اختیار کرنے والوں کے اعمال ضائع کر دئیے جاتے ہیں۔ (المائدۃ : 5)
5۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کے اعمال برباد کردئیے جاتے ہیں۔ (محمد : 33)
6۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ان کے اعمال غارت کر دئیے جائیں گے۔ (آل عمران : 21۔ 22)
Ayahs 47:29–31فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کی بری عادات کا ذکر جاری ہے۔
” اَضْغَانَ “ کا واحد ” ضغن “ ہے جس کا معنٰی حسد وبغض اور کینہ ہے۔ منافق یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے حسد وبغض کو ظاہر نہیں کرے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو منافقوں کو اس طرح آشکارہ کردیتا کہ تمام مسلمان ان کو اچھی طرح پہچان لیتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور شفقت کی بنا پر ان کی پردہ پوشی کیے ہوئے ہے۔ البتہ اس نے منافقین کے لیڈروں کو کافی حد تک ظاہر کردیا ہے۔ اس بنا پر آپ ان کے کردار اور انداز گفتگو سے انہیں اچھی طرح پہچان سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے اور تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ اور اپنے ارشادات کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ تم میں سے مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو ممتاز کر دے اور جس سے تمہارے فکر و عمل کی پہچان ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کا کسی کے فکر وعمل اور مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو پہچاننے کا معنٰی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے فکر و عمل سے بیخبر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ انسان سوچتا ہے اور جو عمل کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہے۔ تو اس کا یہ معنٰی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار اور منافقین کو مخلص مسلمانوں کے سامنے آشکارہ کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان اپنے اور بیگانوں کی اچھی طرح پہچان کرسکیں۔
(عَنْ صُھَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَالِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَفَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَا نَ خَیْرًا لَّہُ ) (رواہ مسلم : باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہُ کُلُّہُ خَیْرٌ)
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا : ایمان دار شخص کی حالت پر رشک آتا ہے۔ وہ اپنے معاملات میں، ہر صورت میں بہتر ہے اور یہ اعزاز صرف ایمان دار کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی حاصل ہو تو شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں کے عیوب کو آشکارہ کردے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے منافقوں کو آشکارہ کردیا۔ 3۔ منافق اپنے کردار اور گفتار سے پہچانا جاتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آزماتا ہے تاکہ مومنوں کو مجاہدین اور صابرین کا علم ہوجائے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ لوگوں کی آزمائش کرتا ہے :
1۔ جنت میں داخلہ کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت : 2 )
2 پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا۔ (العنکبوت : 3)
3۔ ڈر سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 4۔ فاقوں سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155)
5۔ مال و جان کی کمی کے ساتھ آزمائش۔ (البقرۃ : 155)
6۔ ” اللہ “ نے موت وحیات کو انسان کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ (الملک : 2)
7۔ ” اللہ “ نے آزمائش کے لیے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ ( الانعام : 166)
8۔ مال اور اولاد انسان کے لیے آزمائش ہیں۔ (التغابن : 15)
9۔ آزمائش میں ثابت قدمی کے بعد اللہ کی مدد یقینی اور قریب ہوا کرتی ہے۔ (البقرۃ : 214)
10۔ جنت میں داخلے کے لیے آزمائش ضروری ہے۔ (آل عمران : 142)
Ayahs 47:32–33فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے بعد کفار کے کردار اور انجام کا ذکر۔
جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے باوجود اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ” اللہ “ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کا سب کچھ بگاڑ سکتا ہے اور بگاڑ دے گا۔ اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔ ان آیات میں دو اصول بیان کیے گئے ہیں۔
1۔ جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی کفر پر قائم رہتے ہیں اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے برے عقیدہ اور کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے بھلے کام بھی ضائع کردے گا۔
(عَنْ عَاءِشَۃ ؓ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِ اغْفِرْلِیْ خَطِیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) (رواہ مسلم : باب الدلیل علی من مات علی الکفر لاینفعہ عمل)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ابن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اسے یہ کام نفع دیں گے ؟ آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ : اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمادینا۔ “
اللہ کے رسولوں کی مخالفت کا ایک معنٰی یہ بھی ہے کہ کوئی شخص نبی ﷺ کی سنت جانتے ہوئے اس کی مخالفت کرے۔ یا جان بوجھ کر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چلے بیشک وہ ایمان لانے کا دعوے دار ہو لیکن اگر وہ اللہ کے رسول کے طریقے کے خلاف چلتا ہے تو حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اس اعتبار سے جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے نکل کر اعمال کرے گا بیشک وہ اعمال بظاہر کتنے ہی اچھے اور بھلے کیوں نہ ہوں۔ مگر کتاب و سنت کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے سب کے سب ضائع ہوجائیں گے۔ اس لیے مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ہر حال میں اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَےْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) (رواہ مسلم : باب نَقْضِ الأَحْکَامِ الْبَاطِلَۃِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ )
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئی بات ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے وہ ردّ ہوگی۔ “
” حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تمہارا حوض کوثر پر انتظار کروں گا جو بھی میرے پاس آئے گا وہ اس سے پیے گا اور جو شخص بھی اس سے ایک مرتبہ پیے گا وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا۔ میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے وہ مجھے پہچان لیں گے اور میں انھیں اپنے امتی کے طور پر سمجھوں گا پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا ابو حازم نے کہا نعمان بن ابی عیاش نے مجھ سے سنا اور کہا کیا تم نے اسی طرح سہل سے سنا ہے میں نے کہا ہاں، پس اس نے کہا میں ابو سعید خدری ؓ سے سنا وہ اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا یہ تو میرے امتی ہیں کہا جائے گا آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا بدعتیں شروع کیں میں ان سے کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الرقاق باب الحوض)
مسائل
1۔ کفار کے کفر کی وجہ سے ان کے تمام کے تمام اعمال ضائع کردیئے جائیں گے۔
2۔ جو شخص ہدایت واضح ہوجانے کے باوجود اللہ کے راستے سے روکتا ہے اس کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے۔
3۔ رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ ان کا سب کچھ ضائع کردے گا۔
تفسیر بالقرآن
ایمانداروں کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے :
1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (آل عمران : 132)
(الانفال : 46) (المائدۃ : 92) (النساء : 59) (محمد : 33) (الاحزاب : 71) (آل عمران : 31) (النساء : 69)
Ayahs 47:34–35فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو ان کا انجام بتلانے کے بعد مومنوں کو تسلی دی گئی ہے کہ دنیا میں تم ہی غالب رہو گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور پھر اسی حالت میں مرجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں معاف نہیں کرے گا بلکہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے۔ اے مسلمانوں تمہارا ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو میدان جنگ میں نہ ہمت ہارنا اور نہ ہی کمزور بن کر صلح کی دعوت دینا ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس لیے تم ہی غالب رہو گے۔ مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے اور ان کو یقین دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار مخاطب کی ضمیر استعمال فرمائی ہے جس میں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ مسلمانوں تمہیں ہمت نہیں ہارنا چاہیے اور نہ ہی تمہیں جھک کر کفار سے صلح کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ تم کفار پر غالب آنے والے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھی اور معاون ہے۔ اسی بات کو غزوہ احد کے موقع پر یوں بیان فرمایا کہ اے مسلمانو ! نہ ہمت ہارو اور نہ غم کھاؤ ! اگر مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔ (آل عمران : 139)
مسلمانوں کو حالت جنگ میں کفار کے ساتھ جھک کر صلح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ جھک کر صلح کرنا اپنے آپ کو ذلیل کرنے اور موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی حالت جنگ میں دشمن کے سامنے جھک کر صلح کی نہ صرف اسے ذلیل کیا گیا بلکہ ان کا قتل عام بھی ہوا۔ یہاں مشرقی پاکستان کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ 1973 ء میں مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب الرحمن نے انڈیا کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دیا اور وہ بنگلہ دیش کا پہلا وزیر اعظم بنا۔ جسے بعدازاں اس کی فوج کے چیف نے اس کے خاندان سمیت اسے قتل کردیا شیخ مجیب الرحمن کے کہنے پر جب انڈیا کی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کی حمایت اور دفاع کے لیے جنرل اے کے نیازی کی کمان میں مشرقی پاکستان جانے والی نوے ہزار (90, 000) فوج نے پلٹن میدان ڈھا کہ میں ہتھیار ڈال دیئے اور دنیا کو باور کروایا کہ ہم نے انڈیا اور مجیب الرحمن کے ساتھ باعزت معاہدہ کیا ہے۔ لیکن جوں ہی جنرل اے کے نیازی نے انڈیا کے جرنیل جنرل اروڑہ کے سامنے اپنا پسٹل پیش کیا اور اسے سلوٹ مارا تو نہ صرف اے کے نیازی کو گرفتار کرلیا گیا بلکہ نوے ہزار (90, 000) پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنایا گیا اور فوج کی حمایت کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو سرعام قتل کردیا گیا اور پاکستانی فوج کے ہتھیار پھینکنے کی پوری دنیا میں بار بار فلم دکھائی گئی۔
قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایسی ذلت سے بچانے کے لیے یہ ہدایت کی ہے کہ اے مسلمانوں دشمن کے مقابلے میں تم ہی کامران اور سربلند ہوگے بشرطیکہ تم ایمان کے تقاضے پورے کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ بدر، خندق، فتح مکہ، حنین اور تبوک کے میدان میں پورا کر دکھایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے یہ وعدہ کیا ہے کہ آپ اور اسلام غالب ہو کر رہیں گے۔
” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے دوسرے ادیان پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ “ (الصف : 9)
” اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے یقیناً اللہ زبردست اور غالب ہے۔ “ (المجادلہ : 21)
” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے۔ “ (المومن : 51)
مسائل
1۔ جو لوگ کفر کی حالت میں مریں گے اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف نہیں کرے گا۔
2۔ مسلمانوں کو حالت جنگ میں کفار کے مقابلے میں نہ ہمت ہارنا چاہیے اور نہ جھک کر صلح کرنی چاہیے۔
3۔ رب کریم کی دستگیری سے مسلمان ہمیشہ سربلند رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دنیا میں سربلند فرمایا :
1۔ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرجائے۔ (ابراہیم : 13۔ 14)
2۔ کفارنے حضرت نوح کو جھٹلایا ہم نے نوح اور اس کے ماننے والوں کو نجات دی۔ (الاعراف : 64)
3۔ ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (الشعرا : 65) 4۔ ہم نے شعیب اور ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (ہود : 94)
5۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی مدد فرمائی۔ ( الانفال : 62)
Ayahs 47:36–38فہم القرآن
ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان دنیا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے اور پھر یقین کرے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا عارضی اور حقیر ہے۔
قرآن مجید بار بار انسان کو یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا کی حیثیت کھیل اور تماشا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس طرح کھیل اور تماشا وقتی طور پر دل بہلانے کا سامان اور صحت کو برقرار رکھنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے یہی حقیقت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے، لازم ہے کہ انسان دنیا میں دل لگانے کی بجائے اسے آخرت سنوارنے کا ذریعہ سمجھے تاکہ انسان جنت کی دائمی نعمتوں کا مالک قرار پائے۔ اس کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی کا اللہ اور اس کے رسول کی ذات اور بات پر کامل اور اکمل ایمان لائے۔ اس لیے ارشادہوا ہے کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور حقیقی طور پر تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بےانتہا اجر عطا فرمائے گا اور یاد رکھو ! وہ تم سے تمہارے پورے مال کا تقاضا نہیں کرتا۔ اگر وہ تم سے پورے مال کا مطالبہ کرتا تو تم بخل کا مظاہرہ کرتے اور تمہارا بخل ظاہر ہوجاتا۔ وہ تم سے نہ پورے مال کا تقاضا کرتا ہے اور نہ تمہیں تنگ کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا جو بخل کرے گا اس کے بخل کا اسے ہی نقصان ہوگا۔ یادرکھو ! اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے اور تم ہر حال میں اس کے محتاج ہو۔ اگر تم قتال اور انفاق فی سبیل اللہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا وہ تم جیسے نہیں ہوں گے وہ تم سے بہتر ہوں گے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صدقہ کرنے کی تلقین کی ہے اور یہ بات واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تنگ کرنے کے کے لیے تم سے پورے مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ تو جہاد اور غرباء کے لیے تم سے معمولی مال کا مطالبہ کرتا ہے جس میں تمہیں ہی فائدہ ہوگا۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَامِنْ یَوْمٍ یُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُھُمَا اَللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَیَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا)
(رواہ البخاری : باب قول اللّٰہِ تعالیٰ (فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بالْحُسْنٰی )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہر صبح دو فرشتے اتارے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ آواز لگاتا ہے۔ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما دوسرا یہ کہتا ہے اے اللہ ! خرچ نہ کرنے والے کا مال ختم کردے۔ “
مسائل
1۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی اور تھوڑی ہے۔
2۔ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کھیل تماشا سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
3۔ اگر لوگ ایمان لائیں اور پرہیزگاری اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا اجر عطا فرمائے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے بہت کم مال کا تقاضا کرتا ہے۔ 5۔ بخل کرنے والا بالآخر اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے اور لوگ ہر حوالے سے اس کے محتاج ہیں۔
تفسیر بالقرآن
بخیل کی مذّمت اور اس کا انجام :
1۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری دیں۔ (التوبہ : 34) 2۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (الہمزہ : 3)
(آل عمران : 180) (التغابن : 16، الحشر : 9) (التوبہ : 35)