46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الاحقاف کا تعارف اس سورت کا نام اس کی آیت ٢١ میں موجود ہے۔ یہ سورت ٤ رکوع اور ٣٥ آیات پر مشتمل ہے اور مکہ میں نازل ہوئی اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سورت ہجرت سے تقریباً تین سال پہلے اس وقت نازل ہوئی جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف تشریف لے گئے اور طائف والاوں نے آپ کے ساتھ بد ترین سلوک کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے رویے سے مایوس ہو کر مکہ واپس آ رہے تھے کہ راستے میں 3 کی ایک جماعت نے آپ سے ملاقات کی اور آپ نے انہیں توحید کی دعوت دی۔ جنات نے جب آپ کی دعوت کو سنا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اس قرآن کو نہایت خاموشی کے ساتھ سنو کیونکہ یہ ایسی کتاب ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے اور تورات کی تصدیق کرنے والی ہے۔ یہ کتاب حق بات اور صراط مستقیم کی راہنمائی کرتی ہے۔ 3 نے اپنے ساتھیوں سے یہ بھی کہا کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! تمہیں اس داعی کی دعوت کو ضرورقبول کرنا لینا چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کریں گے اور تمہیں عذاب علیم سے نجات دیں گے۔ اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کیا تم غور نہیں کرتے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواہ پکارتے ہو انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے ؟ یا وہ آسمانوں کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے معاون تھے ؟ اگر تمہارے پاس اس بات کا عقلی یانقلی ثبوت ہے تو پیش کرو۔ یاد رکھو اس شخص سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا۔ جو اللہ تعالیٰ کے سواہ دوسروں سے مانگتا ہے اور انھیں مشکل کے وقت پکارتا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ قیامت تک مانگنے والوں کی دعاؤں اور صداؤں سے غافل ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ایک دوسرے کے سامنے اکٹھا کیا جائے گا تو وہ اپنے پکارنے والوں کی پکار سے انکار کریں گے اس کے بعد یہ ارشاد ہوا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرمائیں کہ میں کوئی نیا اور انوکھا رسول نہیں ہوں اور نہ ہی میں کوئی انوکھی تعلیم دیتا ہوں میں وہی دعوت دے رہا ہوں جو پہلے انبیاء کرام کی دعوت ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں میں نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے بیشک جو لوگ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کریں گے انہیں کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا توحید اور نبی کی رسالت بیان کرنے کے بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور بتلایا کہ اولاد افکار اور کردار کے لخاظ سے دو قسم کی ہوتی ہے ایک اولاد وہ ہے جو اپنے رب کا حکم مان کر اپنے والدین کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک کرتی ہے بلکہ ان کے لیے دعا گو رہتی ہے، دوسری اولاد وہ ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمان اور قیامت کا انکار کرتی ہے اور قیامت کے عقیدہ کو پہلے لوگوں کی کہانیاں سمجھتی ہے اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کا شرکیہ عقیدہ بیان کرنے کے بعد انکے انجام کا ذکر کیا اور اہل مکہ کو سمجھایا ہے کہ جب قوم عاد پر برا وقت آیا تھا تو انکے خداؤں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی تھی جب تم پر برا وقت آئے گا تو تمہاری مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ سورة الاحقاف کا اختتام اس بات پر کیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے انبیاء کی طرح صبرو حوصلہ سے کام لو اور جلد بازی سے اجتناب کرو جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں۔ وقت آئے گا کہ قیامت کے خوف کی وجہ سے وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے تھے۔ نافرمانوں کے لیے اس دن ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

Ayahs 46:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ کتاب ” اللہ “ زبردست اور خوب حکمت والے کی طرف سے نازل کی گئی ہے

فہم القرآن ربط سورت : سورة الجاثیہ کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ جس رب نے زمین و آسمان پیدا کیے ہیں وہی رب العالمین ہے اور زمین و آسمانوں میں صرف وہی ایک کبریا ہے۔ الاحقاف کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ اس کی کبریائی کا عالم یہ ہے کہ زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کسی چیز کی تخلیق میں اس کی شریک ہو یا اسے اس کی خدائی میں کوئی اختیار حاصل ہو۔ حمٓ سورتوں میں سے ساتویں سورت ہے۔ حمٓ کا لفظ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ اس کا معنٰی صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا اللہ کے رسول ﷺ جانتے تھے۔ الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غلبہ رکھنے والا اور اپنا ہر حکم نافذ کرنے پر قادر ہے۔ کائنات پر قوت وسطوت رکھنے اور ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔” اَلْحَکِیْمِ “ کا لفظ ” حُکْمَ “ سے نکلا ہے جس کا دوسرا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا حاکم ہے اس لیے 3 جن و انس کا فرض بنتا ہے کہ وہ دل وجان سے اس کے حکم کو تسلیم کریں اور ہر حال میں اس کی بندگی کرتے رہیں۔ قرآن مجید کے مخالف باربار پراپیگنڈہ کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے اس قرآن کو اپنی طرف سے بنالیا ہے۔ اس الزام کے کافی اور شافی جواب دیئے گئے مگر پھر بھی وہ یہی کہتے تھے کہ ” محمد ﷺ “ نے قرآن اپنی طرف سے بنالیا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن نبی ﷺ کا خود ساختہ یا کسی کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اس کا ایک ایک حرف اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ مسائل 1۔ حروف مقطعات کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 2۔ قرآن مجید ” اللہ “ غالب حکمت والے نے نازل فرمایا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے : (یوسف : 21) (البقرۃ : 117) (الانعام : 61) ( المجادلہ : 21) (البقرۃ : 20) (الحشر : 1) (الانفال : 49)
Ayah 46:3

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور تمام چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک خاص مدت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر کافر اس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں، جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلْحَکِیْمِ “ کی حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے جو کچھ زمین و آسمانوں میں پیدا کیا ہے اس کا ایک مقصد ہے لیکن کافر اس مقصد کا انکار کرتے ہیں۔ ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرنے والوں میں بیشمار لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ کائنات کا نظام خود بخود معرض وجود میں آیا ہے اور یہ اس طرح ہی چلتا رہے گا۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر کفار کی اس سوچ کی تردید کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں کوئی ایک چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی ہر چیز کو پیدا کرنے کے مجموعی طور پر دو مقصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اپنے رب کو یاد کرے اور اس کے حکم کے مطابق کام کرے، دوسرا مقصدیہ ہے کہ وہ انسان کی خدمت کرتی رہے۔ یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت اور اطاعت کرنے کے ساتھ دوسرے لوگوں کی خدمت کرتا رہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو لامحدود زندگی عطا نہیں کی بلکہ ذرّہ سے لے کرپہاڑتک، شمس و قمر اور زمین و آسمانوں میں ہر چیز کی ایک مدت مقرر کردی گئی ہے جب یہ مدت پوری ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ ہر چیزکوفنا کے گھاٹ اتار دے گا۔ پھر ایک مدت کے بعد حشر کا میدان قائم کرے گا وہاں 3 وانس کو ان کی زندگی کے مقصد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی لیکن کفار اس دن کا انکار کرتے ہیں۔ جو قیامت کا انکار کرتے ہیں گویا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں، 3 اور انسانوں کو یوں ہی پیدا کردیا ہے۔ حالانکہ اس کا فرمان ہے کہ اس نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ (اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ) (المومنوں : 115، 116) ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹ کر نہیں آنا۔ پس اللہ بلند وبالا اور حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا مالک ہے۔ “ (وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ لَوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَہْوًا لَّا تَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَ ) (الانبیاء : 16، 17) ” ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ اگر ہم کھیل تماشا کرنا چاہتے تو یہ تماشا اپنے ہاں کرتے۔ “ (الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ ) (آل عمران : 191) ” جو لوگ اللہ کا ذکر کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے اور کہتے ہیں اے پروردگار تو نے کوئی چیز بےفائدہ پیدا نہیں کی۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں کوئی بھی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن 3 و انس سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ 4۔ کافر قیامت کے دن اور اس کے حساب و کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی : 1۔ کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹ کر نہیں آنا۔ (المومنون : 115) 2۔ عقل مند وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بےفائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ (آل عمران : 191) 3۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ ” اللہ “ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6) 4۔ زمین کی ہر چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ (البقرۃ : 29)
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

اے نبی ! ان سے فرمائیں کبھی تم نے غور کیا ہے کہ جنہیں تم ” اللہ “ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے ؟ اس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا تمہارے پاس کوئی علمی ثبوت ہو تو اسے لاؤ ! اگر تم سچے ہو

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کی ایک مدت مقرر کی ہے۔ پوری مخلوق کے پیدا کرنے اور ان کی ایک مدت مقرر کرنے میں کسی کا ذرّہ برابر عمل دخل نہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ حقیقی خالق اور مالک کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی اور غلامی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ٹھوس دلائل کے ساتھ باربار یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک نہیں۔ چاہے تو یہ کہ لوگ اپنے خالق اور مالک کی بندگی کریں اور اس کا حکم مانیں لیکن ” اللہ “ کو خالق اور مالک ماننے کے باوجود لوگ دوسروں کی بندگی اور غلامی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے کان کھولنے کے لیے پھر ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان لوگوں سے اس بات کا جواب طلب کریں کہ جن کو تم ” اللہ “ کے سوا پکارتے اور جن کی تم عبادت کرتے ہو بتاؤ ! انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق اور ان کے معاملات میں وہ کس کام میں شریک ہوئے ؟ اگر تمہارے پاس کسی آسمانی کتاب کا کوئی ثبوت ہو یا کوئی علمی دلیل ہو تو اسے پیش کرو اگر تم اپنے کفر و شرک کے بارے میں سچے ہو۔ ظاہر بات ہے کہ ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کا حوالہ اور کوئی عقلی اور علمی ثبوت نہیں۔ مگر پھر بھی ذات کبریا کے سوا دوسروں کے سامنے جھکتے اور انہیں پکارتے ہیں۔ ان کے باطل عقیدہ کی کلی کھولتے ہوئے یہ بات سمجھائی ہے کہ دین کی بنیاد کتاب اللہ، نبی کی سنت اور ٹھوس علمی ثبوت پر ہے۔ اس کے سوا کسی کی رائے دین کی تشریح میں معاون ہوسکتی ہے مگر دین کہلوانے کی حقدار نہیں ہوسکتی۔ جہاں تک کفار سے اس سوال کا تعلق ہے کہ جن کی یہ عبادت اور غلامی کرتے ہیں انہوں نے زمین و آسمان میں کیا پیدا کیا ہے تو ہر مشرک اور کافر اس کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ زمین و آسمان اور ہر چیز کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ بلانے والوں کی پکار سے بیخبر ہیں

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کے پاس باطل عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں مگر پھر بھی ” اللہ “ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے ہیں یہ لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔ قرآن مجید نے مِن دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں لیے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی پکارا جائے اور جس کی بھی عبادت کی جائے گی وہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ میں شامل ہوگا۔ یہاں تفسیر بالقرآن میں ان آیات کے حوالے پیش کیے گئے ہیں جن میں بتوں کے علاوہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ افسوس ! اتنی واضح آیات ہونے کے باوجود شرک کی حمایت کرنے والے ایک مفسر نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ شرک کے بچاری لوگ کس قدر شرک کی حمایت میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ موصوف اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ مشرکین جو بڑے زور شور سے اپنے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور اگر اس پر انہیں ٹوکا جاتا تو وہ بہت برہم ہوتے۔ ان سے پوچھا جارہا ہے کہ جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر تم نے ان کی پوجا شروع کر رکھی ہے۔ کیا اس کی کوئی معقول وجہ بھی تم بتاسکتے ہو ؟ کیا کرّہ زمین کی کسی چیز کے وہ خالق ہیں، آسمان کی آفرینش میں کیا ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر تمہارے پاس کو تحریری ثبوت ہے تو پیش کرو اور اگر تم خود اس بات کا اعتراف کرتے ہو کہ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تم پھر اس خالق و حکیم کو چھوڑ کر کسی پتھر، کسی بےروح یا ذی روح شے کی پوجا کرنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ (ضیاء القرآن جلد چہارم، ص : 472) غور فرمائیں کہ اس پہرہ کی آخری سطر میں من دون اللہ کا ترجمہ کرتے ہیں کہ تم پھر خالق و حکیم کو چھوڑ کر کسی پتھر یا کسی بےروح یا ذی روح شے کی پوجا کرنا کتنی بڑی حماقت ہے، لیکن اس کے باوجود صحیح عقیدہ لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ بعض مہم جو لوگ جو ملت کے اتحاد کو انتشار کا شکار بنانا چاہتے ہیں، رات دن اس دھن میں لگے رہتے ہیں کہ ملت میں نئی ملت تخلیق کریں وہ یہ آیت اہل سنت پر چسپاں کرتے ہیں۔ (معاذ اللہ) بحمدہٖ تعالیٰ اہل سنت میں سے کوئی اَن پڑھ سے اَن پڑھ بھی اللہ جلَّ مجدہٗ کے سوا کسی کی خدائی اور الوہیت کا عقیدۂ فاسدہ نہیں رکھتا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب، تمام نبیوں کے سردار، تمام رسولوں کے تاج، اپنے آقا و مولیٰ اور دونوں جہانوں کے سردار محمد ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ” اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ “ اور نماز میں کئی کئی بار اس شہادت کا اعادہ کرتا ہے تو وہ کسی اور کو کیونکر خدا یا خدا کا ہمسر اور شریک تصور کرسکتا ہے۔ یہ محض بہتان اور افترائے عظیم ہے کہ اہل سنت کو خدا کا شریک بناتے ہیں۔” ھذا افک مبین و بہتان عظیم “ مزید لکھتے ہیں۔ خارجیوں (جدید اور قدیم) کے علاوہ تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ حضور سرور دوعالم ﷺ کی بارگاہ بکیس پناہ میں جب کوئی غلام صلوٰۃ وسلام عرض کرتا تو حضور ﷺ اس کو سلام کا جواب دیتے ہیں جس کو خواص اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور لذّتِ جواب سے سرشار ہوتے ہیں۔ مصر کے مشہور ولئ کامل حضرت سید احمد رفاعی (رح) جب روضۂ اقدس پر حاضر ہوئے تو بصد ادب و نیاز عرض کی ” الصلوٰۃ والسلام علیک یا جدّی “ اے میرے نانا پاک آپ پر صلوٰۃ وسلام ہو۔ روضۂ اقدس سے جواب آیا ” وعلیک السلام یا ولدی “ اے میرے بچے تجھ پر بھی سلام ہو۔ یہ سن کر آپ پر وجد کی 3 طاری ہوگئی اور فی البدیہہ یہ رباعی عرض کی : (ضیاء القرآن) فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی وھی نائبتی ” جب میرا جسد خاکی یہاں سے دور تھا تو میں آستانہ بوسی کے لیے اپنی روح کو بھیجا کرتا تھا۔ “ وھذہ دولۃ الاشباح قد حضرت فامدد یمینک کی تحظٰی بھا شفتی اب تو میں خود بارگاہ اقدس میں حاضر ہوں۔ دست پاک نکالیے تاکہ میں بوسہ دے کر دل کی حسرت پوری کرسکوں۔ دست مبارک باہر آیا جس کو آپ نے بوسہ دیا۔ ہزارہا آدمیوں نے اس کو دیکھا۔ (ضیاء القرآن) بالفرض صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے کہ کسی بزرگ نے روضۃ الرّسول یا کسی قبر کے پاس جاکر فوت شدہ بزرگ سے مدد مانگی ہو تو کیا اس کا عمل امت کے لیے دلیل اور اللہ کے ہاں قابل قبول ہوگا ؟ جبکہ قرآن مجید من دون اللہ کو پکارنے سے بار بار منع کرتا ہے۔ من دون اللہ کا معنی ہے۔” اللہ “ کے سوا۔ اس میں حجر و شجر، شمس و قمر، اولیاء اور انبیاء شامل ہیں، لہٰذا قرآن مجید کی تاویلات کرنے کی بجائے سیدھے طریقے سے اس کا فرمان قبول کرنا چاہیے یہی ہدایت کا راستہ ہے۔ عقل و انصاف کا تقاضا : عقل کے ساتھ انصاف فرمائیں کہ جو لوگ دنیا سے چل بسے اور زندگی بھر لوگوں کو من دون اللہ سے روکتے رہے اور اپنے مریدوں کو صرف ” اللہ “ کے حضور دعائیں کرنے کی تلقین اور تبلیغ کرتے رہے۔ ان کے رخصت ہونے کے بعد لوگوں نے ان کی قبروں پر مزار بنائے اور شرک کے اڈے قائم کیے۔ اگر وہ لوگوں کی فریاد سنتے ہوں اور اپنی قبروں پر سجدے، رکوع کرتے ہوئے دیکھتے ہوں تو کیا ان کو خوشی ہوگی یا پریشانی ؟ ظاہر بات ہے ان کو پریشانی ہوگی۔ کیا اللہ تعالیٰ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح حضرات کو موت کے بعد کوئی پریشانی آنے دیتا ہے ؟ بالکل نہیں اس لیے عقل و انصاف کا تقاضا ہے کہ نہ وہ سنتے ہیں اور نہ کسی کو دیکھتے ہیں، اور نہ کسی کی مدد کرتے ہیں۔ من دون اللہ میں شامل بت ہوں یا فوت شدگان نہ وہ سنتے ہیں اور نہ ہی پکارنے والے کی فریاد کا جواب دیتے ہیں : 1 ۔ کوئی برا ہو یا نیک موت کے بعد اس کی روح ایسے مقام پر پہنچا دی جاتی ہے جہاں پکارنے والے کی پکار ان تک نہیں پہنچ سکتی۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے فوت شدگان کو یہ صلاحیت اور اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی پکارنے والے کی فریاد سنیں اور ان کی مدد کرسکیں۔ جو لوگ فوت شدگان کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں ان کے پاس بےسند کہانیوں کے سوا کوئی ثبوت نہیں۔ اوپر دی ہوئی ضیاء القرآن کی عبارت آپ ایک دفعہ پھر پڑھیں اور غور فرمائیں کہ قرآن و سنت سے دلیل پیش کرنے کی بجائے صرف کمزوراسناد پر مبنی بزرگوں کے واقعات لکھ کر شرک کی حمایت کی گئی ہے۔ (اعانت و استعانت کی شرعی حقیقت از قلم حضرت پیر سید نصیر الدین صاحب آف گولڑہ) مسائل 1۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے صرف ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہ کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کرسکتا ہے۔ 3۔ کسی آسمانی کتاب، کسی نبی کی شریعت اور علمی ثبوت کے ذریعے من دون اللہ سے مانگنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ تفسیر بالقرآن من دون اللہ سے مراد زندہ اور مردہ، بت اور جاندار سب شامل ہیں : 1۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : 104) 2۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : 56) 3۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : 71) 4۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : 20) 5۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : 194) 6۔ انھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبہ : 21)
Ayahs 46:6–7

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور اپنی عبادت کا انکار کریں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

ان لوگوں کو جب ہماری واضح آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے پاس پہنچ جاتا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ ” اللہ تعالیٰ “ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ ان کے حق میں واضح دلیل نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود اپنے باطل عقیدہ پر قائم رہتے اور جھگڑتے ہیں۔ یہ انداز اللہ تعالیٰ کے ہاں کفر کرنے کے مترادف ہے۔ ہر دور کے کفار اور مشرک اس بات کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں نہ کوئی شریک تھا اور نہ ہے اور نہ ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اور کافر۔ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کو پکارتے اور ان سے مانگتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کوئی ایک بھی قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے پکارنے سے بھی بیخبر ہیں۔ (فاطر : 14) جب قیامت کے دن ان معبودوں کو ان کے سامنے اکٹھا کیا جائے گا تو وہ اپنے عابدوں کی عبادت اور پکارنے والوں کی پکار کا انکار کریں گے۔ ان میں دو قسم کے لوگ ہوں گے۔ 1 ۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح حضرات جو دنیا میں کفرو شرک کی مخالفت کرتے رہے لیکن ان کے فوت ہونے کے بعد بد عقیدہ امتیّوں، برے مقتدیوں اور مریدوں نے انہیں لوگوں کے سامنے حاجت روا مشکل کشا بنا کر پیش کیا اور ان کے بارے میں جھوٹی سچی کرامات بیان کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے رہے۔ قیامت کے دن جب انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح حضرات سے ان کے نام پر کیے گئے شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ اپنے رب کے حضور معذرت پیش کرتے ہوئے اپنے نام پر کیے ہوئے کفر و شرک کا انکار کریں گے۔ 2 ۔ جو پیر اور فقیر، علماء اور بادشاہ شرک کی تبلیغ کرتے یا اس کا ماحول بناتے رہے۔” اللہ “ کا جلال اور اس کا عذاب دیکھ کر ہر قسم کے شرک کا انکار کریں گے یعنی جھوٹ بولیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کی عبادت کرنے والوں کو 3 میں پھینک دے گا اور وہ ہمیشہ جلتے رہیں گے۔ ” اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جنھوں نے شریک بنائے، ان سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر ہم ان کے درمیان علیحدگی کردیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے ؟ “ (یونس : 28) (ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ) (الانعام : 23) ” پھر ان کا فریب اس کے سواکچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم ! اے ہمارے رب ! ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ “ (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وٰرِدُوْنَ ) (الانبیاء : 98) ” بیشک تم اور تمہارے معبود جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو 3 کا ایندھن ہیں اور تم نے بھی 3 میں جانا ہے۔ “ مسائل 1۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے وہ قیامت تک پکارنے والوں کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے۔ 3۔ جن صالح فوت شدگان کو مصیبت کے وقت بلایا جاتا ہے اور ان کے حضور فریادیں کی جاتی ہیں قیامت کے دن وہ پکارنے والوں کا انکار کریں گے۔ 4۔ جن فوت شدگان کو پکارا جاتا ہے وہ پکارنے والوں کی پکار سے بیخبر ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن عابد اور معبودوں کا ایک دوسرے کا انکار کرنا : 1۔ قیامت کے دن معبود اپنی عبادت کا انکار کریں گے۔ (یونس : 28) 2۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کے معبود انکار کریں گے۔ (النحل : 86) 3۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودوں کو دیکھ کر کہیں گے یہ ہمیں گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : 63) 5۔ اس دن اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں وہ کہیں گے ہم میں سے کوئی اس کا دعویدار نہیں ہے۔ (حٰم السجدۃ : 47) 4۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166) 6۔ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے معبودوں کو پکارو لیکن ان کے معبود ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ (الکھف : 52) 7۔ 3 میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کر کہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے۔ الٰہی انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : 38)
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

یاوہ کہتے ہیں کہ رسول نے اسے خود بنا لیا ہے ان سے فرمائیں کہ اگر میں نے اسے اپنی طرف سے بنالیا ہے تو تم پھر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکو گے۔ اس کے بارے میں جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہ کافی ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم فرمانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کی گمراہی کی ایک اور انتہا۔ مشرکین مکہ ” اللہ “ کو خالق، مالک اور رازق ماننے کے باوجود توحید پر مبنی آیات سنتے تو کہتے کہ یہ تو واضح طور پر جادو دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی پراپیگنڈہ تھا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا۔ بلکہ محمد ﷺ اپنی طرف سے بنا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان دونوں الزامات کے کئی جواب دیئے ہیں مگر اہل مکہ اپنی یا وہ گوئی پر اصرار کرتے رہے۔ آج بھی کچھ لوگ بلا دلیل نزول قرآن کا انکار کرتے ہیں۔ یہاں ان کے انکار اور الزام کا یہ جواب دیا گیا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے فرمائیں کہ اگر میں نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیا ہے تو پھر مجھے تم ” اللہ “ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ البتہ جو باتیں تم میرے اور قرآن مجید کے بارے میں بناتے اور کرتے ہو اللہ تعالیٰ انہیں خوب جانتا ہے۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اہل مکہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ اعلان نبوت سے پہلے محمد ﷺ نے اس طرح کی بات کبھی نہیں کی تھی۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ پھر بھی آپ پر الزام لگاتے کہ آپ نے قرآن اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ ان کی یا وہ گوئی کا مزید جواب دینے کی بجائے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا ہے کہ آپ ﷺ فرما دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے اور وہی حق اور سچ کا فیصلہ کرے گا۔ وہی اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا اور ان کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ غفور الرحیم کی صفات لا کر اشارہ کیا ہے اے قرآن کا انکار کرنے والو اگر تم اپنا رویہ تبدیل کرلو اور قرآن پر ایمان لے آؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری گستاخیوں اور غلطیوں کو معاف کرنے والا ہے۔ لہٰذا تمہیں اپنے رب سے معافی مانگ لینی چاہیے تاکہ وہ تم پر رحم فرمائے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ ) (رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ، قال الشیخ البانی حسنٌ) ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ ( کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) ) (رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “ مسائل 1۔ قرآن مجید کی تاثیر دیکھ کر اہل مکہ اسے جادو قرار دیتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرامین کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ 3۔ نبی ﷺ کا عقیدہ اور اعلان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میری گرفت کرنے پر آئے تو کوئی بھی مجھے چھڑا نہیں سکتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر گواہ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف کرنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب دینا چاہے تو اسے کوئی نہیں بچا سکتا : 1۔ ” اللہ “ کا عذاب برحق ہے اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (یونس : 53) 2۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ (یونس : 27) 3۔ اس دن وہ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے انہیں اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ (المومن : 33) 4۔ اگر ” اللہ “ کسی کو تکلیف دے تو کون ہے جو اسے اس سے بچا سکے۔ (الاحزاب : 17) 5۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43)
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

ان سے فرما دیں میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کے پراپیگنڈہ کے جواب میں نبی ﷺ کی طرف سے ایک اور اعلان۔ اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی فرمائیں کہ میں کوئی نیا رسول نہیں اور نہ ہی مجھے یہ علم ہے کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں کھلے الفاظ میں برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ اہل مکہ ایک طرف نبی کریم ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے اور آپ پر مختلف قسم کے الزام لگاتے تھے لیکن دوسری طرف آپ سے مطالبات کرتے کہ اگر آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے پاس کم از کم یہ چیزیں ہونا ضروری ہیں۔ ان کے مطالبات کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ ان کے مطالبات پورے نہیں کرتیتو ہم لوگوں کے سامنے کہیں گے کہ یہ شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے اور اس میں کوئی خاص بات نہیں یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ انسانی حاجات کے حوالے سے ایک انسان تھے لیکن اپنے مقام، اوصاف اور دعوت کے حوالے سے بےمثال انسان اور رسول تھے۔ بلکہ تمام رسولوں کے سردار تھے۔ اس لیے آپ کی زبان اطہر سے اس موقع پر دو باتیں کہلوائیں گئیں کہ آپ اعلان فرمائیں کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں بلکہ اس طرح ہی اللہ کا رسول ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے حضرت نوح، ابراہیم اور دیگر انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ پہلے انبیاء بھی رسول ہونے کے ساتھ انسان تھے اور میں بھی اللہ کا رسول ہونے کے ساتھ ایک انسان ہوں۔ نہ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو اللہ کی خدائی میں کوئی اختیار حاصل تھا اور نہ ہی مجھے اس کی خدائی میں کسی قسم کا کوئی اختیار ملا ہے۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے۔ میرا کام ” اللہ “ کے پیغامات کو لوگوں تک پہچانا اور انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کرنا ہے۔ اس آیت میں نبی ﷺ سے یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ آپ کہیں کہ میں کوئی انوکھا یعنی نیا رسول نہیں ہوں مجھ سے پہلے کئی رسول آئے اور وہ لوگوں کو ” اللہ “ کے احکام پہنچاتے رہے میں بھی تمہیں وحی کے مطابق تمہارے برے اعمال کے انجام سے ڈراتا ہوں لہٰذا وقت ہے سمجھ جاؤ ورنہ ایک دن آئے گا کہ تمہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ (وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (سبا : 28) ” اور اے نبی ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ مسائل 1۔ نبی آخرالزماں ﷺ پہلے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے اور آپ کے مخالفوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ 3۔ نبی ﷺ ” اللہ “ کی وحی کے پابند تھے۔ 4۔ نبی ﷺ لوگوں کو کھلے الفاظ میں انتباہ کرنے والے تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی کریم ﷺ غیب نہیں جانتے تھے : 1۔ ” اللہ “ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : 59) 2۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب ” اللہ “ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 3۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ (ھود : 31) 4۔ نبی اکرم ﷺ کا اعلان اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ (الاعراف : 188) 5۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں آپ اس وقت موجود نہ تھے۔ (یوسف : 12) 6۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : 50) 7۔ فرما دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس : 20)
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

اے نبی ! ان سے فرمائیں کہ کبھی تم نے غور کیا ہے۔ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار دیا (پھر تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے کلام پر بنی اسرائیل کا ایک گواہ گواہی دے چکا ہے، وہ ایمان بھی لا چکا ہے اور تم نے تکبر کیا۔ بلاشبہ ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا

فہم القرآن ربط کلام :” نبی آخر الزّماں ﷺ پہلے اور انوکھے رسول نہیں تھے۔ “ آپ ﷺ کا تذکرہ پہلی کتابوں میں پایا جاتا ہے جس کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ اہل مکہ اور یہود و نصاریٰ اپنے اپنے انداز میں یہ پراپیگنڈہ کرتے کہ محمد ﷺ اللہ کا رسول نہیں۔ یہ اپنی طرف سے قرآن مجید بنا کر نبوت کا دعویٰ کیے جارہا ہے اس موقع پر ان کے پراپیگنڈہ کے دو جواب دیئے گئے۔ ایک کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہوا اور دوسرے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اے نبی ﷺ ! انہیں فرمائیں کہ اگر قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تم اس کا انکار کرتے ہو۔ حالانکہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ کی تائید کرچکے ہیں۔ جس کا ثبوت تورات اور انجیل میں جابجا پایا جاتا ہے اسی بنا پر اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو قرآن اور نبی آخر الزماں کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور حضرت محمد ﷺ حقیقتاً اللہ کے آخری رسول ہیں۔ سیرت رسول اور حدیث کی کتب میں یہ واقعہ بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ جب نبی آخر الزماں ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو ایک دن مدینہ کے بہت بڑے دانشور، تورات اور انجیل کے عالم عبداللہ بن سلام آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس نے آپ سے چند سوالات کیے۔ اپنے سوالات کا تسلی بخش جواب پاکر ابن سلام نے آپ کی بیعت کی۔ بیعت کرنے کے بعد عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہود کے فلاں فلاں آدمی کو طلب کریں اور ان سے میرے بارے میں استفسار فرمائیں کہ میں ان کے ہاں کیسا آدمی ہوں ؟ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے چند بڑے یہودیوں کو اپنے ہاں بلایا اور ان سے استفسار فرمایا کہ عبداللہ بن سلام کیسا آدمی ہے ؟ یہودیوں نے کہا وہ ہم سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور معزز انسان ہے، اور ہمیں اس کی دیانت وامانت پر پورا یقین ہے۔ آپ نے فرمایا اگر عبداللہ بن سلام اسلام قبول کرلے تو کیا تم ایسا کرنے کے لیے تیار ہو ؟ یہودی کہنے لگے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اچانک ان کے سامنے آئے اور کلمہ طیبہ پڑھا۔ اس پر یہودی کہنے لگے عبداللہ خود بھی برا آدمی ہے اور اس کا باپ بھی ایسا ہی تھا۔ (بخاری : کتاب المناقب) نبی ﷺ کے دور میں عبداللہ بن سلام ؓ کچھ یہودی مسلمان ہوئے لیکن یہودیوں کی غالب اکثریت تکبر کی بنیاد پر ایمان لانے سے انکاری رہی۔ جو شخص حقیقت جاننے کے باوجود قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کرتا ہے وہ اقرار کرے یا نہ کرے حقیقت میں وہ متکبر ہوتا ہے۔ متکبر شخص ظالم ہوتا ہے اور ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَّنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) (رواہ مسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ) ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوا وہ 3 میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا کہ آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور اس کے جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ 2۔ یہود و نصاریٰ قرآن کی حقیقت جاننے کے باوجود تکبر کی بنیاد پر انکار کرتے ہیں۔ 3۔ تورات، انجیل میں جا بجا قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے کی تائید پائی جاتی ہے۔ 4۔ جو شخص حق بات کا انکار کرتا ہے وہ ظالم اور متکبر ہے۔ ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : 258) 2۔ اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ : 108) 3۔ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : 107) 4۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : 264) 5۔ گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دی جاتی۔ (النحل : 37)
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

ایمان داروں کے بارے میں کافر کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینااچھا کام ہوتا تو آپ لوگ ہم سے اس میں سبقت نہ لے جاتے، انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی نبوت اور قرآن مجید کا انکار کرنے والے ظالموں کا ایک اور بہانہ۔ اہل مکہ کا یہ بھی پراپیگنڈہ تھا کہ اگر قرآن من جانب اللہ ہوتا اور اس دین میں خیر پائی جاتی تو ہم مسلمانوں سے سبقت لے جاتے کیونکہ ہمیں اس میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی اس لیے ہم حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس بہانے کی بنیاد پر اہل مکہ ایمان لانے سے محروم ہوئے۔ اس محرومی کی بنا پر کہتے یہ تو بڑا قدیمی جھوٹ ہے۔ اس یا وہ گوئی کے ساتھ مکہ والے یہ بات بھی کہا کرتے تھے کہ اس نبی پر ایمان لانے والے سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت ہی کم درجہ کے لوگ ہیں۔ اہل مکہ غرور میں آکر یہ بھی کہتے تھے کہ یہ قدیمی جھوٹ ہے اور پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں اس لیے ہم قرآن مجید اور محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ مسائل 1۔ نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت اور قرآن کا انکار کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام اور مسلمانوں سے بہتر ہیں۔ 2۔ حقیقت کا انکار کرنے والے اپنی گمراہی کے سبب قرآن اور اس کی دعوت کو قدیمی جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ کے بارے میں یہود، نصاریٰ اور کفار کی یا وہ گوئی : 1۔ جب قرآن سنایا جاتا تو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے تھے۔ (التوبہ : 127) ( یونس : 15) (ص : 4) 2۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے ؟ (التوبہ : 124) 3۔ جب قرآن میں قتال کا تذکرہ ہوتا ہے تو منافق آپ کی طرف ایسے دیکھتے جیسے ان پر موت کی بیہوشی طاری ہوگئی ہو۔ ( سورة محمد : 20) 4۔ جب قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے تو یہ بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبہ : 86)
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے اور عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو خبردار کرے اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دے

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں کفار سے مراد اہل مکہ اور یہودی ہیں اس لیے یہودیوں کے سامنے تورات اور قرآن مجید کی حیثیت بیان کی گئی ہے۔ یہودی مالی، سیاسی اور علمی اعتبار سے عرب پر بڑا اثرورسوخ رکھتے تھے اور یہی لوگ مکہ والوں کو اوٹ پٹانگ باتیں بتلاتے تھے۔ یہودیوں کے علمی غرور اور سیاسی تسلط کو توڑنے اور لوگوں کو ان کی حقیقت بتلانے کے لیے قرآن مجید نے موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور تورات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ نزول قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت فرمائی جو اپنے دور میں لوگوں کے لیے راہنما اور رحمت کا باعث تھی۔ اس دور میں تورات پر عمل کرنا فرض تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اب عربی زبان میں قرآن مجید نازل کیا ہے جو پہلی کتابوں بالخصوص تورات کی تائید اور تصدیق کرتا ہے اور ظالموں کے لیے انتباہ ہے اور ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو قرآن پر ایمان لانے کے ساتھ نیکی کرنے والے ہیں۔ اس سے پہلے آیت 9 میں یہود و نصاریٰ اور کفار کے پراپیگنڈہ کا جواب دیتے ہوئے۔ آپ کی زبان اطہر سے یہ کہلوایا گیا کہ آپ لوگوں میں اعلان فرمائیں کہ میں پہلا اور انوکھا رسول نہیں ہوں۔ میں اس بات کی پیروی کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل کی جاتی ہے اور لوگوں کو کھلے الفاظ میں انتباہ کرنے والا ہوں۔ یہی قرآن مجید کی دعوت کا خلاصہ ہے کہ انکار کرنے والوں کو ڈرایا جائے اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دی جائے۔ کفار میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ پر یہ بھی الزام لگاتے تھے کہ آپ فلاں عجمی سے پڑھ کر ہمیں سنا دیتے ہیں۔ اس پر یہ جواب دیا گیا کہ جس شخص کا نام لیتے ہو وہ تو عجمی ہے یعنی وہ عربی نہیں جانتا جب کہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس میں عربوں کو یہ سمجھایا ہے کہ تم عربی ہو اور قرآن بھی عربی زبان میں ہے، لہٰذا اسے سمجھنے کی کوشش کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔ یہاں انجیل کا دو وجہ سے ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ پہلی آیات میں یہودیوں کی طرف اشارہ ہے اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انجیل تورات کا ہی تتمہ ہے لہٰذا تورات کے ذکر میں انجیل بھی شامل ہے۔ (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْہَاجًا وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) (المائدۃ : 48) ” اور ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور اس پر محافظ ہے، پس ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا اور جو حق آپ کے پاس آیا ہے اس سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کریں تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک امت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں اس میں آزماتا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے، پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اللہ ہی کی طرف تم سب کالوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید کے نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ظالم لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرایا جائے اور حقیقی ایمانداروں کو خوشخبری دی جائے۔ 2۔ قرآن مجید سے پہلے تورات راہنما اور باعث رحمت کتاب تھی۔ 3۔ اب لوگوں کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں قرآن مجید نازل کیا ہے۔ تفسیر بالقرآن نیکی کی جزا، برائی کی سزا : 1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8) 2۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے 3 ہے۔ (البقرۃ : 71) 3۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام : 160) 4۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص : 84) 5۔ صبر کرنے والوں کے لیے 3 کی جزا ہے۔ (الدھر : 12) 6۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا بدلہ 3 ہے۔ (النازعات : 37) 7۔ نافرمانوں کو ہمیشہ کے عذاب کی سزادی جائے گی۔ (یونس : 52) 8۔ تکبر کرنے والوں کو ذلت آمیز سزا دی جائے گی۔ (احقاف : 20) 9۔ شیطان اور اس کے پیروکاروں کو 3 کی سزا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل : 63)
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے پھر اس پر قائم ہوگئے نہ انہیں خوف ہوگا اور نہ وہ پریشان ہوں گے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ ان اعمال کے کی جزا ہوگی جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید جن لوگوں کو خوشخبری سناتا ہے ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں اور تادم آخر اس پر پکے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی تیسری آیت میں اپنی توحید کی یہ دلیل دی ہے کہ جو لوگ ” اللہ “ کے سوا دوسروں کو مانتے اور پکارتے ہیں۔ اے نبی ! ان سے فرمائیں کہ یہ زمینوں اور آسمانوں میں کسی ایسی چیز کی نشاندہی کریں جو ان کے معبودوں نے پیدا کی ہو یا اللہ کی کسی تخلیق میں وہ شریک کار ہوں۔ پھر فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی اسی کی ہدایت اور دعوت یہ تھی کہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور قرآن مجید بھی یہی دعوت دیتا ہے۔ دعوت توحید کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ اس بات کا اقرار اور اظہار کریں وہ تادم آخر اس پر پکے رہیں ان کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی موت کے وقت سے لے کر 3 میں داخلے تک اور پھر جنت میں داخل ہونے کے بعد ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ ہی یہ حزن و ملال سے دوچار ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ 3 میں بسیرا کریں گے جو ان کے اعمال کا صلہ ہوگا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر قدرے تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب ” اللہ “ ہے اور اس پر ثابت قدم رہے یقیناً ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، اور نہ غم کرو، بلکہ اس 3 کے بارے میں خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے، وہاں جو چاہو گے تمہیں ملے گا اور جس کی خواہش کرو گے اسے پاؤ گے۔ یہ اس ” ب “ کی طرف سے مہمان نوازی ہے جو غفور ورحیم ہے۔ “ (حٰم السجدۃ 30 تا 32) (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) ( رواہ ابوداؤد : کتاب الجنائز، باب فی التلقین، قال الشیخ البانی صحیح) ” حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس کا آخری کلام ” لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ “ ہو وہ 3 میں داخل ہوگا۔ “ (وَعَنْ سُفْےَانَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَّا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ غَےْرَکَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) (رواہ مسلم : باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ) ” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم ﷺ کی خدمت میں عرض کی مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے کہ ” آپ کے علاوہ “ کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا ” اللہ “ پر ایمان لانے کے بعد اس پر قائم رہو۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ اقرار کریں کہ ہمارا رب ” اللہ “ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کریں انہیں کوئی خوف و خطر اور حزن و ملال نہیں ہوگا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم رہنے والوں کا صلہ 3 ہے۔ 3۔ اللہ کی توحید کا اقرار کرنے اور تقاضے پورے کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیش 3 میں بسایا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن توحید کی اہمیت اور اس کے فائدے : 1۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ : 119، النساء : 87، 122) 2۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : 18) 3۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : 18) 4۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : 39) 5۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے۔ (البقرۃ : 177) 6۔ توحید فرمانبرداری کا نام ہے۔ (النحل : 48، الرعد : 15) 7۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں غم وحزن میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے لیے 3 ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : 30)
Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

ہم نے انسان کو وصیت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ اٹھا رکھا اور تکلیف کے ساتھ ہی اسے جنم دیا اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا، تو اس نے کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں۔ جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسے نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہوجائے، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا۔ مجھے توفیق دے کہ میں تیرے حضور توبہ کرتا رہوں اور تابع دار بندوں میں شامل ہوجاؤں

فہم القرآن ربط کلام : حقوق اللہ کے ذکر کے بعد حقوق العباد کا تذکرہ حقوق میں سب سے پہلے والدین کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات پر اپنی توحید کا تذکرہ کرنے کے فوراً بعد انسان کو یہ وصیت فرمائی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھے اور ان کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرے۔ البقرہ آیت 83 میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا کہ ” اللہ “ کی عبادت کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنا۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ ارشاد ہوا کہ اے انسان ! تیرے رب کا قطعی فیصلہ ہے کہ صرف اپنے رب کی عبادت کرنا اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ سورة لقمان میں ” قَضیٰ “ البقرۃ میں اَخَذْنَا اور یہاں ” وَصَّیْنَا “ کے الفاظ استعمال فرما کر والدین کے حقوق کی فرضیت اور افادیت بیان کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد یعنی باپ کو گھر کا سربراہ اور قوّام بنایا گیا ہے لیکن خدمت اور حقوق کے حوالے سے ماں کا اولاد پر باپ سے حق فائق ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی تربیت میں اس کی ماں کا زیادہ کردار ہوتا ہے۔ استقرار حمل سے لے کر بچے کی پیدائش تک ماں بڑی تکلیف اٹھاتی ہے۔ اس طرح وضع حمل سے لے کر بچے کے دودھ چھڑانے تک تیس مہینے ماں کے لیے ہر اعتبار سے آزمائش کے مہینے ہوتے ہیں۔ ماں کے رحم میں جونہی بچے کی تخلیق کی ابتدا ہوتی ہے۔ تو ماں کی زندگی کیمعمولات اور ماکولات بدل ہوجاتے ہیں۔ نہ احتیاط کے بغیر چل سکتی ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے کھا پی سکتی ہے کیونکہ اس کے چلنے پھرنے اور کھانے پینے کے اثرات بچے کی پیدائش اور پرورش پر فوری طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اکثر ماؤں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اپنی مرضی سے کھانا پینا تو درکنار، ان کے لیے باورچی خانے میں جانا بھی تکلیف دہ عمل بن جاتا ہے۔ وہ کھانا جس سے وہ لطف اندوز ہوا کرتی تھی آج اس کی خوشبو بھی اسے ناگوار گزرتی ہے۔ لیکن وہ اپنے بچے کی خاطر ہر تکلیف برداشت کیے جاتی ہے اس امید کے ساتھ کہ اس کی امید اور محنت کا ثمر پھلے پھولے گا اور بڑھاپے میں اس کا سہارا بنے گا۔ اللہ نے اس کی دعاؤں اور محنت کو قبول فرمایا جس کے نتیجے میں اس کا نیک سیرت بیٹا جوان ہوا۔ جب وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو اس کے احساسات اور جذبات کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور دعائیں اور التجائیں کرتا ہے کہ اے میرے رب ! تو نے میرے والدین اور مجھ پر احسانات فرمائے ہیں مجھے تو فیق عطا فرما کہ میں اس پر تیرا شکر ادا کرتا رہوں اور ایسے عمل کروں جس سے تو راضی ہوجائے۔ میرے رب ! میری اولاد کو بھی یہ توفیق دینا کہ وہ بھی ان باتوں کا خیال رکھے اور تیری شکر گزار بن کر زندگی بسر کرے۔ اے رب ! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تیرے تابعدار بندوں میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ قرآن مجید نے والدین کے حقوق کے تذکرہ کے دوران ” اَخَذَ “ ، ” قَضٰی “ اور ” وَصَّیْنَا “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں تاکہ انسان کو معلوم ہو کہ اس کے رب کے نزدیک انسان کے والدین کا کیا مقام اور احترام ہے۔ اس آیت مبارکہ میں عورت کے حمل اور بچے کے دودھ پلانے کی مدّت کو تیس مہینے شمار کیا گیا ہے۔ البقرۃ آیت 233 سورة لقمان آیت 14 میں بچے کے دودھ پلانے کی مدت دو سال بیان کی گئی ہے۔ یہاں حمل اور دودھ پلانے کی مدت کو شامل کر کے تیس مہینے شمار کیا ہے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر امت کے اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کی مدّت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے۔ تیس مہینوں سے چوبیس مہینے نکال دیئے جائیں تو چھ مہینے باقی رہ جاتے ہیں۔ بچہ پیدا ہونے کی یہ کم سے کم مدت ہے جس کی موجودہ میڈیکل سائنس بھی تصدیق کرتی ہے کہ چھ مہینے میں پیدا ہونے والا بچہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے مکمل ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے بچے کی پیدائش کی کم سے کم مدت بیان کی ہے۔ اس آیت اور سورة لقمان کی آیت 14 اور سورة البقرہ کی آیت 233 سے ایک اور قانونی نکتہ نکلتا ہے جس کی نشاندہی ایک مقدمے میں حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے کی اور حضرت عثمان ؓ نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ قصہ یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں ایک شخص نے قبیلہ جہنیہ کی ایک عورت سے نکاح کیا شادی کے چھ مہینے بعد اس کے ہاں صحیح وسالم بچہ پیدا ہوگیا۔ اس شخص نے حضرت عثمان ؓ کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا۔ حضرت عثمان ؓ نے اس عورت کو زانیہ قرار دے کر حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے۔ حضرت علی ؓ نے یہ قصہ سنا تو فوراً حضرت عثمان ؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ یہ آپ نے کیا فیصلہ کردیا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نکاح کے چھ مہینے بعد اس نے زندہ سلامت بچہ کو جنم دیا ہے کیا یہ اس کے زانیہ ہونے کا واضح ثبوت نہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا نہیں۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کی مذکورہ بالا تینوں آیتیں ترتیب کے ساتھ پڑھیں۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ بلائیں۔ سورة لقمان میں فرمایا : ” دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ “ سورة احقاف میں فرمایا :” اس کے حمل اور اس کا دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگے۔ “ اب اگر تیس مہینوں میں سے رضاعت کے دو سال نکال دیئے جائیں تو حمل کے چھ مہینے رہ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حمل کی کم سے کم مدّت، جس میں زندہ سلامت بچہ پیدا ہوسکتا ہے چھ مہینے ہے۔ لہٰذا جس عورت نے نکاح کے چھ مہینے بعد بچہ جنم دیا اسے زانیہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حضرت علی ؓ کا یہ استدلال سن کر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اس بات کی طرف میرا ذہن نہیں تھا۔ حضرت عثمان ؓ نے عورت کو واپس بلوایا اور اپنا فیصلہ بدل دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ کے استدلال کی تائید حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی کی اور اس کے بعد حضرت عثمان ؓ نے اپنے فیصلے سے رجوع فرمالیا۔ (ابن جریر، احکام القرآن للجصاص) (بحوالہ تفہیم القرآن جلدچہارم ) (وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ) (البقرۃ : 233) ” اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِی قَالَ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوکَ.) (رواہ البخاری : باب البِرِّ وَالصِّلَۃِ ) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر تیری ماں۔ پھر تیری ماں۔ پھر تیرا باپ۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ إِنَّ أَبِی اِجْتَاحَ مَالِی فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُکَ لِأَبِیْکَ وَقَالَ رَسُولُ ﷺ إِنَّ أَوْلاَدَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوا مِنْ أَمْوَالِہِمْ ) (رواہ ابن ماجہ : بَابُ مَا للرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِہِ ) ” عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا کہ میرا باپ میرے مال کا محتاج ہے آپ نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے اپنی اولاد کے مال سے کھاؤ۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ رِضَی الرَّبِّ فِیْ رِضَی الْوَالِدِ وَسُخْطُ الرَّبِّ فِیْ سُخْطِ الْوَالِدِ ) (رواہ الترمذی : باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین ) ” حضرت عبداللہ بن عمرو نبی معظم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : والد کی خوشی میں رب کی رضا ہے اور والد کی ناراضگی میں رب کی ناراضگی ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرے۔ (بنی اسرائیل : 23) 2۔ ماں اپنی اولاد کی خدمت کی زیادہ حق دار ہے کیونکہ وہ بڑی تکلیف کے بعد بچے کو جنم دیتی ہے۔ 3۔ وضع حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ 4۔ بچے کو دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔ (البقرۃ : 233) 5۔ انسان کو اپنے رب کا شکر گزار رہنے اور والدین کی خدمت پر اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔ 6۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کا تابع فرمان رہے۔ تفسیر بالقرآن والدین کے حقوق : 1۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم۔ (بنی اسرائیل : 23) 2۔ والدین کو اف کہنا اور جھڑکناجائز نہیں۔ (بنی اسرائیل : 23) 3۔ والدین کے سامنے عاجزی سے رہنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (بنی اسرائیل : 24) 4۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان : 15) 5۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم۔ (مریم : 32) 6۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا۔ (نوح : 28)