Ayah 46:16فہم القرآن
ربط کلام : نیک اولاد اور صالح اعمال کرنے والے لوگوں کی جزا۔
جو ایماندار لوگ ” اللہ “ کے شکر گزار، اپنے والدین کے تابع فرمان ہوں گے اور صالح اعمال اختیار کریں گے۔ ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم ان لوگوں کے نیک اعمال منظور فرمائیں گے اور ان کی بشری کوتاہیوں سے صرف نظر کریں گے اور انہیں اہل 3 میں شامل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ سچا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ اور فرمان سچا اور اٹل ہوتا ہے۔ والدین کی تابعدار اور شکرگزار اولاد کے لیے بالخصوص ” وَعْدَ الصِّدْقِ “ کے الفاظ استعمال فرما کر یہ پیغام دیا ہے کہ لوگو ! اپنے والدین کا تابع فرمان رہنا اور میرا شکر گزار بننا۔ میرا شکر گزار اور والدین کا تابعدار ہونے کا صلہ یہ ہے کہ میں تمہاری نیکیوں کو مستجاب اور غلطیوں سے درگزر فرما کر تمہیں اہل 3 میں شامل کروں گا۔
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) (رواہ أبوداوٗد : باب فی الإستغفار)
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
(عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعُواللَّہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الأُمُورِ کُلِّہَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَاب الآخِرَۃِ )
(رواہ احمد : مسند بسر بن ارطاۃ، ہذا حدیث حسن غریب)
” حضرت بسر بن ارطاۃ قرشی ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ ! ہمارے تمام معاملات کا انجام اچھا فرما اور ہمیں دنیا اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔ “
(رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَاب النَّارِ ) (البقرۃ : 201)
” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں 3 کے عذاب سے محفوظ فرما۔ “
Ayah 46:17فہم القرآن
ربط کلام : نیک والدین اور صالح اولاد کے تذکرہ کے بعد بری اولاد کے خیالات اور اس کے کردار کا ذکر۔
اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں ایک بڑی نعمت اولاد کا صالح ہونا ہے۔ اولاد نیک اور باصلاحیت ہوتوبوڑھے والدین اپنے آپ میں ایک قوت اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ اولاد اعتقادی طور پر بری ہو اور عملی طور پر نافرمان ہو تو والدین کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ یہاں نیک اور بری اولاد کا موازنہ کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان لوگ بھی اولاد کی نافرمانی کا دکھ برداشت نہیں کرسکتے لیکن نیک والدین کے لیے یہ دکھ زیادہ ہی اذّیت کا باعث ہوتا ہے۔ جب ان کی اولاد اعتقادی طور پر دین کی مخالف اور عملی طور پر اپنے ماں باپ کی نافرمان ہو تو والدین کے لیے یہ اذّیت اس قدر کربناک ہوتی ہے کہ جس سے ماں، باپ کی زندگی دکھوں، پریشانیوں کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ یہاں اسی کیفیت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ نیک ماں، باپ اپنی بدعقیدہ اولاد کو بار بار سمجھاتے ہیں کہ بیٹا اپنے رب کے تابعدار ہوجاؤ اور ہمارا خیال رکھو۔ بری اولاد نہ صرف ماں باپ کو دکھ پہنچاتی ہے بلکہ وہ اس بات کا بھی مذاق اڑاتی ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ پرانے اور بوسیدہ خیالات کی بنیاد پر مجھے ڈراتے اور خوفزدہ کرتے ہو کہ مرنے کے بعد مجھے زندہ کیا جائے گا اور وہاں مجھے سے پوچھ گچھ ہوگی۔ میں اس عقیدے کو نہیں مانتا کیونکہ یہ پرانی باتیں ہیں۔ مجھ سے پہلے اَن گنت لوگ فوت ہوچکے آج تک ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔ نافرمان بیٹے کی اصلاح اور فلاح کے لیے والدین اپنے رب سے رو رو کر دعائیں اور التجائیں کرتے ہیں لیکن نافرمان بیٹا کسی صورت بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ مجھے مر کر زندہ ہونا اور اپنے رب کی بارگاہ میں جواب دینا ہے۔ والدین پھر سمجھاتے ہیں کہ اے ناعاقبت اندیش بیٹے ! تجھ پر افسوس ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے کہ وہ لوگوں کو ہر صورت زندہ کرے گا اور ان سے حساب و کتاب لے گا۔ جو کسی کے انکار کرنے سے ٹل نہیں سکتا۔ یہاں ایک طرف اولاد کی نافرمانی کا کرب بیان کیا گیا ہے اور دوسری طرف آخرت پر یقین نہ رکھنے والی نسل کے نظریات اور کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جب کوئی شخص آخرت کی جوابدہی کا عقیدہ فراموش کردیتا ہے تو اسے کسی رشتے کا احترام اور اپنے محسن کے احسان کا احساس نہیں رہتا۔ فکر آخرت کا عقیدہ جس قدرکمزور ہوگا تو اسی قدر ہی انسان کے کردار اور اخلاق میں کمزوری واقع ہوگی۔ فکر آخرت کا عقیدہ جس قدر مضبوط اور تازہ ہوگا اس قدر ہی انسان اپنے والدین کا فرمانبردار اور اپنے رب کا عبادت گزار ہوگا۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکَبَآءِرَ فَقَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ فَقَالَ أَلَآ أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ قَالَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ )
(رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب عقوق الوالدین من الکبائر)
” حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : بڑے گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ “ پھر فرمایا : کیا میں تمہیں بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ؟ وہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔ “
مسائل
1۔ آخرت کا انکار کرنے والے لوگوں کی اکثریت اپنے ماں، باپ کی گستاخ ہوتی ہے۔
2۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہم سے پہلے لوگ اب تک کیوں زندہ نہیں ہوئے ؟
3۔ قیامت کا انکار کرنے والے دوبارہ زندہ ہونے کو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں قرار دیتے ہیں۔
4۔ قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے وہ ہر صورت لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان سے ان کے عقیدہ وعمل کا حساب لے گا۔
5۔ نیک ماں باپ کو نافرمان اولاد کا بڑا دکھ ہوتا ہے۔” اللہ “ اس دکھ سے بچائے رکھے۔ آمین یا رب العالمین !
تفسیر بالقران
قیامت سے پہلے لوگوں کو زندہ کرنے کی مثالیں :
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 260)
2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73) 3۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259)
4۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243)
5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ذریعے مردوں کو زندہ کیا۔ ( آل عمران : 49) (الکہف : 25)
Ayahs 46:18–19فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ کی توحید کا انکار اور اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔
جو لوگ ” اللہ “ کی توحید اور اپنے والدین کی نافرمانی کریں گے وہ لوگ دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا فرمان اسی طرح سچ ثابت ہوگا جس طرح اس کا فرمان ان سے پہلے نافرمان جنوں اور انسانوں پر سچ ثابت ہوا جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں اپنے رب کے غضب کا شکار ہوئے اور آخرت میں ہمیشہ ہمیش نقصان میں رہیں گے۔ نقصان سے مراد جنت سے محرومی ہے اور جہنم میں داخل کیا جانا ہے۔ اس کا اصول ہے کہ ” کوئی جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ “ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کی پوری، پوری سزا اور جزا دے گا۔ کسی کے ساتھ کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا۔ دنیا دار لوگ دنیا میں اچھے اعمال کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے وسائل میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں نیک نامی سے نوازتا ہے لیکن یہ لوگ آخرت کے اجر سے محروم ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں صحیح العقیدہ اور صالح کردار رکھنے والے لوگ دنیا میں بھی صلہ پاتے ہیں اور آخرت میں اَن گنت اور لامحدود اجر پائیں گے۔ دنیا کے اجر میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ نیک لوگوں کو دل کے اطمینان سے نوازا جاتا ہے۔ ان سے کوئی چیز چھن جائے تو حد سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔ انہیں عطا کیا جائے تو وہ اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتے۔ گویا کہ وہ ہر حال میں اپنے رب پر راضی اور مطمئن رہتے ہیں۔ یہ ایسی نعمت ہے کہ دنیا کی کوئی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
(قُلْ ہَلْ نُنَبِّءُکُمْ بالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا۔ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًا۔ اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَ لِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمْ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْٓا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ ہُزُوًا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلًا) (الکہف : 103 تا 108)
” اے نبی ان سے فرما دیں کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے نقصان پانے والے کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ ہیں جن کی دنیا کی زندگی میں ہی ساری محنت ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیش ہونے کا یقین نہ کیا۔ ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے قیامت کے دن ہم انہیں کوئی وزن نہیں دیں گے۔ ان کی سزا جہنم ہے اس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اس وجہ سے کہ وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے رہے۔ یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اس سے نکلنے کی کبھی خواہش نہیں کریں گے۔ “
مسائل
1۔ نافرمان لوگوں پر ” اللہ “ کا عذاب برحق ثابت ہوتا ہے۔
2۔ بیشمار جن اور لاتعداد انسان دنیا میں ” اللہ “ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور آخرت میں جہنم میں داخل ہوں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ کسی پر کسی اعتبار سے ظلم نہیں ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت میں نقصان پانے والے لوگ :
1۔ اپنے مالوں اور اولادوں کے بارے میں سستی کرنے والے دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔ ( المنافقون : 9)
2۔ جو لوگ مساجد کو برباد کرتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں ذلّت اٹھائیں گے۔ ( البقرۃ : 114)
3۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ ( ہود : 21)
4۔ جن لوگوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی وہ دنیا وآخرت میں خسارہ پائیں گے۔ ( النحل : 109)
Ayah 46:20فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کا انکار اور والدین کی نافرمانی وہی شخص کرتا ہے جو آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ اس لیے یہاں اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر صورت لوگوں کو زندہ کرے گا اور ان سے حساب و کتاب لے گا۔ نیک لوگ اپنے عقیدہ اور عمل کی جزا پائیں گے۔ برے لوگ اپنے برے عقیدہ اور عمل کے مطابق سزا سے دو چار ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو جب جہنم کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اس سے پہلے دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتوں سے لذّت یاب ہوچکے اب تمہارے لیے اذّیت اور ذلّت ناک عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ تم نے دنیا میں بلادلیل حق کے ساتھ تکبر کا رویہ اختیار کیا اور تم اپنے رب کی نافرمانی کرتے رہے۔ قرآن مجید نے لوگوں کو یہ حقیقت بار بار بتلائی اور سمجھائی ہے کہ دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں تھوڑی اور ناپائیدار ہیں۔ دنیا اور اس کی نعمتوں کے مقابلے میں آخرت کی زندگی اور جنت کی نعمتیں لامحدود اور بیشمار ہیں۔ اس لیے دنیا کی خاطر آخرت کا نقصان نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت سب کچھ دنیا ہی کو سمجھ بیٹھتی ہے۔ اس وجہ سے اپنے رب کے ارشادات سے لاپرواہی کرتے ہوئے اس کی نافرمانی میں زندگی بسر کرتے ہیں جس وجہ سے انہیں ذلّت ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
” حضرت عبداللہ بن حکیم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے ساتھ مدائن میں تھے۔ حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا تو ایک کاشتکار چاندی کے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا۔ حضرت حذیفہ ؓ نے اسے پھینک دیا اور فرمانے لگے کہ میں تمہیں بتاتے ہوئے حکم دیتا ہوں کہ کوئی شخص ایسے برتن میں نہ دے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو۔ زیور اور ریشمی لباس نہ پہنو (مرد) یقیناً یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔ “
(رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ عَلَی الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ )
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ نَامَ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَلَی حَصِیرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِہِ فَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَکَ وِطَاءً فَقَالَ مَا لِی وَمَا للدُّنْیَا مَا أَنَا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی أَخْذِ الْمَال)
” حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ! آپ اجازت دیں تو ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ ایک مسافر جیسا تعلق ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن منکرین کو جہنم کی آگ کے سامنے کھڑا کر کے کہا جائے گا۔
2۔ تم نے دنیا کی لذت سے فائدہ اٹھا لیا اب جہنم کے اذیت اور ذلت ناک عذاب میں مبتلا رہوگے۔
3۔ جہنم میں تمہیں اس لیے جھونکا جارہا ہے کہ تم حق بات کے ساتھ تکبر کرنے والے اور اپنے رب کے نافرمان تھے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم کی ہولناکیوں کا ایک منظر :
1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : 35)
2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مذید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
3۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پانی پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55)
4۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 43)
5۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : 29)
6۔ جہنمی کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزامل سکے۔ (النساء : 56)
Ayahs 46:21–23فہم القرآن
ربط کلام : حق کے ساتھ استکبار کرنے والے لوگوں میں قوم عاد بھی شامل ہے اس لیے ان کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے رہنے والے جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے قرآن مجید نے انھیں ” احقاف والے “ کہا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام، کڑیل جوان اور بہترین سیرت و صورت کے حامل تھے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کفر و شرک اور برے کاموں کو چھوڑ دو اور میرے پیچھے چلو۔ میں پوری دیانت داری کے ساتھ تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ اس خدمت پر میں آپ سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا، میرا صلہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ تم ہر اونچی جگہ پر یاد گاریں بناتے ہو اور تم بےمقصد بڑے بڑے محلات تعمیر کرتے ہو جیسے تم نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ تم میں یہ برائی بھی موجود ہے کہ جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو تمھاراروّیہ ظالموں اور ” اللہ “ کے باغیوں جیسا ہوتا ہے۔ میں تمہیں پھر سمجھتاتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو میں اس کا رسول ہوں اور میری تابعداری کرو۔ (الشعراء : 125 تا 131)
حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ” اللہ “ کی عبادت اور توبہ و استغفار کی دعوت دی۔ لیکن قوم نے اس کا یہ جواب دیا کہ اے ھود ! تو ہمارے پاس ٹھوس اور واضح دلائل نہیں لایا۔ اس لیے ہم تیری بےبنیاد باتوں پر اپنے معبودوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت کی وجہ سے ہمارے کچھ معبودوں کی تجھ پر مار پڑگئی ہے۔ جس کی وجہ سے تو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا تم جو چاہو کہو۔ لیکن میں اس بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ گواہ رہنا کہ جن کو اللہ کا شریک بناتے ہو میں ان سے نفرت اور برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے تمہارے معبودوں نے کچھ کردیا ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اور تمہارے معبود اکٹھے ہو کر میرے خلاف جو اقدام کرنا چاہتے ہو کرو۔ میں تم سے ایک لمحہ بھی مہلت مانگنے کے تیار نہیں ہوں۔ (ھود : 52 تا 55) حضرت ھود (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے وہی مطالبہ کیا جو ان سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم مطالبہ کرچکی تھی۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مطالبہ پر تین باتیں ارشاد فرمائیں۔ 1 ۔ میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کب اور کس طرح کا عذاب نازل کرے گا۔ 2 ۔ میرا کام تم تک اپنے رب کے پیغامات پہچانا ہے۔ 3 ۔ اے میری قوم ! تم نے ہدایت کی بجائے عذاب کا مطالبہ کیا ہے جو پرلے درجے کی جہالت ہے۔ یاد رہے کہ مشرکین کی شروع سے عادت ہے کہ وہ اپنے باطل عقیدہ کو سچ ثابت کرنے کے لیے نہ صرف اپنے معبودوں کے متعلق جھوٹے دعوے اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ بلکہ توحید کی دعوت دینے والوں کو یہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے حاجت روا اور مشکل کشاؤں کے خلاف بات کی تو وہ تمہارا قلع قمع کردیں گے۔ اگر کسی موحد کو ناگہانی مشکل آن پڑے یا کوئی نقصان ہوجائے تو مشرکین یہ کہنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ ہمارے بزرگوں کا کیا دھرا ہے۔ ایسا ہی دعویٰ حضرت ھود (علیہ السلام) کے مخالفوں نے کیا تھا حالانکہ ہر دور میں یہ مثالیں موجود رہی ہیں کہ مشرکین جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں وہ اپنے اور کسی دوسرے کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ پاکستان میں علی ہجویری کے مزار کی تعمیر کے دوران مزار کی چھت گِر پڑی جس سے درجنوں مزدور لقمہ اجل بنے، سندھ میں شہباز قلندر کے مزار میں آگ لگ گئی جس سے سب کچھ جل کر خاکستر ہوا۔ 2010 ء میں بڑے بڑے مزارات پر دھماکے ہوئے جن میں درجنوں لوگ چل بسے۔ پنجاب حکومت نے لاہور کی سڑکیں کھلی کرنے کے لیے کئی مزارات مسمار کیے لیکن مسمار کرنے والوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قبروں والے مدد کرتے ہیں۔ اسی عقیدہ کی بنا پر اس نے مزارات پر کروڑوں روپے لگا کر انہیں نئے سرے سے تعمیر کروایا۔
مسائل
1۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم عاد کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کی تلقین فرمائی۔
2۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عظیم دن کے عظیم عذاب سے ڈرایا۔
3۔ قوم عاد نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلے میں اپنے باطل معبودوں پر اصرار کیا اور ھود (علیہ السلام) سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا۔
4۔ قوم عاد کی دھمکی پر حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ھود (علیہ السلام) کی بدعا اور قوم کا انجام :
1۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المومنون : 39)
2۔ قوم ہود پر سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقہ : 7)
3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24)
4۔ آندھی نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقہ : 7)
5۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 42) 6۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72)
7۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ (حٰم السجدۃ : 16)
8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : 58)
Ayahs 46:24–25فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مطالبہ پر عذاب نازل ہونا اور قوم عاد کا انجام۔
نامعلوم حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کس کس انداز میں اور کتنی مدت سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی کوشش فرمائی لیکن ناہنجار قوم نے بالآخر حضرت ھود (علیہ السلام) کو بدعا کرنے پر مجبور کردیا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے جب پوری طرح محسوس کیا کہ یہ قوم کسی طرح سدھرنے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے قوم کے اصرار پر اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی کہ اب اس قوم کا فیصلہ ہوجانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی بدعا قبول کی اور قوم عاد پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ بڑی مدت کے بعد ایک دن قوم عاد پر کالے بادل اس طرح امڈ کر آئے کہ چند لمحوں میں قوم عاد کے پورے علاقے پر چھا گئے۔ قوم عادنے گھنے اور کالے بادل دیکھ کر انتہائی خوشی محسوس کی اور یہ امید لگا بیٹھے کہ ابھی موسلا دھار بارش ہونے والی ہے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ کالے بادل ان پر پانی برسانے کی بجائے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوں گے۔ کالے اور گھنے بادلوں کے ساتھ اس قدر تیز آندھی چلی کہ جو اپنے گھر سے باہر نکلتا تھا ہوا اسے کئی فٹ اوپر اٹھا کر زمین پر یوں دے مارتی کہ اس شخص کا کچونبر نکل جاتا۔ یہ زمین پر اس طرح گِر پڑے جیسے کھجور کے تنے زمین پر پڑے ہوتے ہیں۔
(وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُومًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعَی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ) (الحاقۃ : 6، 7)
” اور عاد ایک شدید آندھی سے تباہ کر دئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آندھی کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیے رکھا آپ وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ وہ اس طرح پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ “
قوم عاد جن بادلوں کے بارے میں ابر رحمت کی امید لگائے ہوئے تھی وہی بادل ان کی تباہی کا سبب بنے۔ آندھی نے ان لوگوں کو اس طرح تباہ و برباد کیا کہ دیکھنے والا یوں محسوس کرتا تھا جیسے ان کے مکانوں میں کوئی بسا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو اس طرح ہی سزا دیتا ہے۔
(عَنْ عَآءِشَۃَ ؓ قَالَتْ مَا رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ضَاحِکًا حَتّٰی اَرٰی مِنْہُ لَھَوَاتِہٖ اِنَّمَا کَانَ ےَتَبَسَّمُ فَکَانَ اِذَا رَاٰی غَےْمًا اَوْ رِےْحًا عُرِفَ فِیْ وَجْھِہٖ ) (رواہ البخاری : باب التبسّم والضحک)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول محترم ﷺ کو کبھی کھل کھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ اکثر مسکرایا کرتے تھے۔ آندھی یا بارش کے وقت آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوجاتے تھے۔ “
مسائل
1۔ قوم عاد نے جن بادلوں پر بارش کی امید لگائی تھی وہی بادل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر سات راتیں اور آٹھ دن آندھی چلائی اور انہیں پٹک پٹک کر دے مارا۔
3۔ آندھی اور بادلوں کی کڑک نے قوم عاد کو اس طرح کردیا جیسے وہ اپنے گھروں میں کبھی بسے ہی نہیں تھے۔
4۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قوم عاد کے جرائم :
1۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
2۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
3۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقتور کوئی نہیں۔ (حٰم السجدۃ : 15)
4۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود : 59) 5۔ قوم عاد سفّاک اور بڑے ظالم لوگ تھے۔ ( النجم : 52)
6۔ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : 22)
7۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 60)
Ayah 46:26فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو ان کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔
قوم عاد جسمانی اعتبار سے اس قدر کڑیل جوان تھے کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ہم نے ان جیسے لوگ پیدا نہیں کیے۔ (الفجر : 8) اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ “ (الاعراف : 69) ” انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ “ (الشعراء : 133) یہ بڑے بڑے محلات میں رہتے تھے۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ “ (الشعراء : 129 تا 133)
اللہ تعالیٰ نے انہیں کان، آنکھیں اور دل عطا کیے لیکن انہوں نے اپنے کانوں، اپنی آنکھوں اور اپنے دلوں کو حقیقت کو پانے کے لیے استعمال نہ کیا۔ بلکہ اپنے عقیدے پر تکرار اور اصرار کرتے ہوئے ” اللہ “ کی آیات کا مذاق کرتے رہے۔ قوم عاد کا حوالہ دے کر اہل مکہ کو ارشاد فرمایا کہ اے مکہ والو ! اللہ تعالیٰ نے نہ تمہیں ان جیسی جسمانی طاقت دی ہے اور نہ ہی ان سے بڑھ کر وسائل دیئے ہیں۔ سوچو اور غور کرو کہ قوم عاد ” اللہ “ کے عذاب کے سامنے نہ ٹھہر سکی تو تم کس طرح اس کے عذاب کے سامنے ٹھہر سکتے ہو ؟ جس روّیے کی بنا پر انہیں نیست و نابود کیا گیا وہی روّیہ تمہارا ہے کہ تم نبی آخر الزماں ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر مظالم ڈھاتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات سے مذاق کرتے ہو۔ قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے مگر انہوں نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا یہی تمہاری حالت ہے کہ تم بھی اپنے کانوں، آنکھوں اور دلوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے کے لیے دل عطا فرمایا ہے تاکہ انسان حق بات کو سنے، بصیرت کی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے دل سے فیصلہ کرے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ حق تک پہنچنے کے یہی وہ بنیادی ذرائع ہیں۔ اگر یہ ذرائع مفلوج ہوجائیں تو انسان کا ہدایت پانا نہ ممکن ہوجاتا ہے۔
” ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ یہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو بالکل غافل ہیں۔ “ (الاعراف : 179)
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ ( کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) )
(رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن )
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو جو کچھ دیا تھا وہ اہل مکہ کو حاصل نہیں تھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کان، آنکھیں اور دل دیئے ہیں مگر وہ ان سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھاتے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکرار اور استہزا کرنے والوں کا انجام :
1۔ استہزا کرنے والوں کو رسوا کن عذاب ہوگا۔ ( الجاثیہ : 9) 2۔ اللہ کی آیات اور انبیاء سے مذاق کی سزا جہنم ہے۔ ( الکہف : 106)
3۔ وہ چیز ان کو گھیرلے گی جس کا یہ مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 8)
4۔ یہ لوگ مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (التوبہ : 79)
Ayahs 46:27–28فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کا انجام بیان کرنے کے بعد اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر انتباہ کیا گیا۔
رب ذوالجلال کا فرمان ہے۔ اے مکہ والو ! ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیوں کو تباہ کیا اور ان کے سامنے بار بار اپنی آیات پڑھیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ جب وہ اپنے رب کی طرف نہ پلٹے تو اس نے انہیں نیست و نابود کردیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں نیست و نابود کیا تو جنہیں وہ ” اللہ “ کے سوا مشکل کشا سمجھتے تھے اور ان کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بناتے تھے وہ ان کی مدد نہ کرسکے۔ قوم عادجب ” اللہ “ کے عذاب میں مبتلا ہوئی تو انہیں اپنے معبود یاد نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے معبودوں کو اپنے قرب کا ذریعہ نہیں بنایا تھا۔ مشرک اپنے معبودوں کے بارے میں جو کچھ سمجھتے اور کہتے ہیں وہ جھوٹ ہے اور ان کا خود ساختہ عقیدہ باطل ہے جو عذاب کے وقت قوم عاد کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کا انجام اور ان کا اپنے معبودوں کے بارے میں روّیہ بیان کیا ہے۔ قوم ثمودہو یا اہل مکہ یا کوئی بھی ہو مشکل کے وقت ان کے کوئی کام نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ اپنے معبودوں کو بھول جاتی ہے۔ یہی مشرک کی عادت اور فطرت ہے کہ وہ آسانی کے وقت اپنے رب کو بھول جاتا ہے اور انتہائی مشکل کے وقت اپنے معبودوں کو فراموش کردیتا ہے۔
قرآن مجید میں جن قوموں کی تباہی کا ذکر ہوا ہے وہ اہل مکہ سے دور نہیں تھیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کے آس پاس کی کئی اقوام کو ہلاک ہے۔
(عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لأَبِی یَا حُصَیْنُ کَمْ تَعْبُدُ الْیَوْمَ إِلَہًاقَالَ أَبِی سَبْعَۃً سِتًّا فِی الأَرْضِ وَوَاحِدًا فِی السَّمَاءِ قَالَ فَأَیُّہُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِکَ وَرَہْبَتِکَ قَالَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ قَالَ یَا حُصَیْنُ أَمَا إِنَّکَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُکَ کَلِمَتَیْنِ تَنْفَعَانِکَ قَالَ فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَیْنٌ قَالَ یَا رَسُول اللَّہِ عَلِّمْنِی الْکَلِمَتَیْنِ اللَّتَیْنِ وَعَدْتَنِی فَقَالَ قُلِ اللّٰہُمَّ أَلْہِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی)
(رواہ الترمذی : باب جامِعِ الدَّعَوَاتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ
” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے میرے باپ کو فرمایا : اے حصین آپ کتنے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں میرے باپ نے کہا سات کی جس میں چھ زمین میں اور ایک آسمان میں ہے۔ آپ نے فرمایا : خوف اور امید کے وقت کس کو پکارتا تھا اس نے کہا جو آسمانوں میں ہے۔ آپ نے فرمایا : اے حصین اگر تو اسلام لے آئے تو میں تجھے دو کلمات ایسے سکھلاؤں گا جو تیرے لیے انتہائی مفید ہوں گے جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کی اللہ کے رسول مجھے وہ کلمات سکھلادیں جن کا آپ نے وعدہ فرمایا تھا آپ نے کہا کہہ اے اللہ مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔ “
مسائل
1۔ نبی ﷺ کی نبوت سے پہلے مکہ کے گرد و پیش کی کئی بستیوں کو تباہ کردیا گیا۔
2۔ مشرک جن معبودوں کو اللہ کے قرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں مشکل کے وقت انہیں بھول جاتے ہیں۔
4۔ مشرکانہ عقیدہ سراسر جھوٹ اور اپنی طرف سے بنایا ہوا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انتہائی مشکل میں مشرک کا اپنے معبودوں کے بارے میں وطیرہ :
1۔ جب دریا میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اللہ کے سواسب کو بھول جاتے ہو۔ (بنی اسرائیل : 67)
2۔ انہوں نے خیال کیا کہ وہ گھیرے میں آگئے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (یونس : 22)
3۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65)
4۔ جب انہیں موجیں سائبان کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ (لقمان : 32)
5۔ مشرک اپنے معبودوں کے دشمن بن جائیں گے۔ (الاحقاف : 6)
Ayahs 46:29–31فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ اور اہل طائف کا قرآن مجید سے انحراف مگر جنوں کا قرآن مجید کی طرف متوجہ ہونا۔
اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی ﷺ مکہ والوں سے مایوس ہو کر اہل طائف کی طرف گئے اور انہیں اپنی دعوت پیش کی مگر انہوں نے مکہ والوں سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ نبی کریم ﷺ کو پتھرمار مار کر لہو لہان کردیا۔ اس کی تفصیل تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں دیکھنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ طائف سے شکستہ دل اور زخمی جسم کے ساتھ واپس آ ہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ وادی میں جنوں کو آپ کی طرف متوجہ فرمایا۔ جب جنوں کی جماعت نے آپ کی زبان اطہر سے قرآن مجید کی تلاوت سنی تو وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ یہ ” اللہ “ کا کلام ہے۔ لہٰذا نہایت ادب اور خاموشی کے ساتھ اس کی تلاوت سنو ! جن آپ کی زبان اطہر سے قرآن مجید سن کر اپنی قوم کی طرف گئے تو انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایسی کتاب سنی ہے جو پہلی کتابوں کی تائید اور تصدیق کرتی ہے یہ کتاب حق ہے اور صرا طِ مستقیم کی راہنمائی کرتی ہے۔ اے ہماری قوم ! آپ سے ہماری اپیل ہے کہ اس داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ ! اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کرے گا اور تمہیں جہنم کے اذّیت ناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور جنوں کے رد عمل کا موازنہ کیا ہے۔
1 ۔ مکہ کے سردار ! اپنی قوم سے کہتے تھے کہ قرآن سن کر شورو غوغا کیا کرو۔ جبکہ جنوں نے قرآن کی تلاوت سن کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسے نہایت ادب اور توجہ سے سنو !
2 ۔ اہل مکہ لوگوں کو نبی کریم ﷺ سے متنفر کرتے تھے ان کے مقابلے میں جنوں نے اپنے ساتھیوں کو قرآن اور نبی ﷺ کی طرف متوجہ کیا۔
3 ۔ اہل مکہ قرآن مجیدکو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتے تھے، جنوں نے قرآن مجید کو اللہ کی کتاب سمجھا اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا تسلیم کیا۔
4 ۔ اہل مکہ قرآن مجید کی دعوت کو گمراہی سمجھتے تھے۔ جنوں نے قرآن مجید کو حق اور صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والا قرار دیا۔
5 ۔ اہل مکہ اور طائف والوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدسلوکی کی اور آپ کی دعوت کو ٹھکرایا۔ جنوں کے وفد نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں کے سامنے نبی کریم ﷺ کو داعی الیٰ اللہ کے طور پر پیش کیا اور آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔
6 ۔ اہل مکہ قرآن اور نبی ﷺ پر ایمان لانے کی بجائے آپ سے عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو ایمان لانے کی دعوت دی اور انہیں یقین دلایا کہ ایمان لانے سے ہمارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور ہم اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جنوں کے لیے بھی نبی مبعوث کیے گئے ہیں۔ اس لیے آپ پر جن ایمان لائے جو پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے۔ جنوں نے موسیٰ اور ان پر نازل ہونے والی تورات کا اس لیے حوالہ دیا تھا کیونکہ تورات کے بعد قرآن مجید ہی جامع اور مفصل کتاب ہے۔ جہاں تک انجیل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں انجیل میں موجود ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تورات کی تکمیل کرنے کے لیے آیا ہوں۔ (تدبر قرآن جلد 7، ص : 378)
یہ بھی ممکن ہے کہ جنوں کو عیسیٰ ( علیہ السلام) کی دعوت کا علم نہ ہو اس لیے انہوں نے انجیل کی بجائے تورات کا حوالہ دیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے پاس حاضر ہونے والے جن عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ مانتے ہوں۔ جہاں تک جن اور ہماری شریعت کا معاملہ ہے۔ اس کے بنیادی ارکان جن وانس کے لیے ایک ہیں مگر ان کے عملی تقاضوں میں فرق ہوسکتا ہے کیونکہ جنوں اور انسانوں کی ضروریات کے درمیان بڑا فرق ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تائید اور حوصلہ افزائی کے لیے جنوں کو آپکی طرف متوجہ فرمایا۔
2۔ جنوں نے قرآن مجید کو نہایت ادب اور خاموشی کے ساتھ سنا اور اس پر ایمان لائے۔
3۔ جن ایمان لا کر اپنی قوم کے لیے داعی ثابت ہوئے۔
4۔ تورات کے بعد قرآن مجید ہی جامع اور مفصل کتاب ہے۔
5۔ قرآن مجید لوگوں کی حق اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
6۔ جو لوگ قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کرتا ہے اور انہیں عذاب سے بچالیتا ہے۔
7۔ جو لوگ جنوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں انہیں اس واقعہ پر غور کرنا چاہیے اور درج ذیل تفسیر بالقرآن کے دلائل پر توجہ کرنی چاہیے
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں جنوں کا تذکرہ :
1۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ (الذاریات : 56)
2۔ جن غیب نہیں جانتے۔ (سبا : 14) 3۔ جن اور انسان مل کر اس جیسا قرآن بنا لائیں۔ (بنی اسرائیل : 88)
4۔ جن و انس مل کر قیامت تک ایک سورة بھی اس جیسی نہیں بناسکتے۔ (البقرۃ : 23)
5۔ اے انسانوں اور جنوں اگر تم خدا کی خدائی سے نکل سکتے ہو نکل جاؤ۔ ( الرّحمن : 33)
6۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا۔ ( سبا : 12)
7۔ جنوں نے نبی اکرم ﷺ سے قرآن سن کر تعجب کا اظہار کیا۔ (الجن : 1)
8۔ پہلے دور میں انسان جنوں سے پناہ لیا کرتے تھے۔ (الجن : گ 6)
9۔ جنوں کو یقین نہیں تھا کہ جن وانس میں سے کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرسکتا ہے۔ (الجن : 5)
Ayah 46:32فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جنوں کے وفد کا اپنے ساتھیوں سے خطاب۔
جنوں کے وفد نے قرآن اور نبی ﷺ پر ایمان لانے کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو یہ بھی بتلایا کہ جس نے داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول نہ کی وہ اللہ تعالیٰ کو زمین میں عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی گرفت کرنے پر آئے تو اس کی کوئی حمایت کرنے والا نہیں ہوگا۔ جنہوں نے داعی الیٰ اللہ کی دعوت قبول نہ کی وہ کھلی گمراہی میں مبتلا رہیں گے۔ جنوں کے وفدنے اپنے ساتھیوں کو دعوت دیتے ہوئے یہ بات بھی باور کروائی کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقابلے میں ہمیں زیادہ قوت عطا فرمائی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ قوت والا ہے۔ اگر وہ ہمیں پکڑنا چاہے تو اسے کوئی بےبس اور عاجز نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہمارا کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں کمی اور نقص واقع نہیں ہوگا۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو بین السطور یہ بات بھی سمجھادی کہ ہمارے ایمان لانے سے ہمیں ہی فائدہ ہوگا اور انکار کرنے پر ہمیں عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا ہمیں قرآن مجید پر ایمان لانا چاہیے یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھائی تھی۔
(وَ قَالَ مُوْسٰٓی اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ) (ابراہیم : 8)
” تم اور جو کوئی زمین میں ہے وہ اپنے کفر کا اعلان کردے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی اور لائقِ تعریف ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ )
(رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم)
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین فاسق وفاجر انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتا۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں اور مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “
مسائل
1۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی بات قبول نہ کی وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔
3۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے وہ کھلی گمراہی میں مبتلاہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کھلی گمراہی میں مبتلا ہونے والے لوگ :
1۔ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ (آل عمران : 164، الجمعۃ : 2)
2۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی میں مبتلا ہوگا۔ (الاحزاب : 36)
3۔ وہ شخص بہت بڑا ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (الانعام : 21)
4۔ کفار ” اللہ “ کے راستہ سے روکنے والے اور دور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : 167)
5۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور دن آخرت کا انکار کیا وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 136) 6۔ ” اللہ “ کے سوا غیروں کو پکارنے والے گمراہ ہیں۔ (الاحقاف : 5)
Ayahs 46:33–34فہم القران
ربط کلام : جو لوگ اپنے رب کی دعوت قبول نہیں کرتے ان کو چیلنج اور ان کا انجام۔
جو لوگ ” اللہ “ کی ذات پر اس کے حکم کے مطابق ایمان نہیں لاتے کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے میں اسے کوئی تھکان محسوس نہ ہوئی۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے۔ کیوں نہیں ! بلاشبہ وہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر مکمل اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، اس کے احکام اور اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا انہیں جان لینا چاہیے کہ ایک دن آنے والا ہے جس دن انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کے سامنے کھڑا کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ کیا تمہارا دوبارہ زندہ ہونا اور یہ جہنم حقیقت نہیں ہے ؟ مجرم پکار اٹھیں گے کیونکہ نہیں ! ہمارے رب ہم دوبارہ زندہ ہوئے اور جہنم بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس اقرار کے بعد اپنے رب سے بڑی عاجزی اور آہ وزاری کے ساتھ معذرت کریں گے کہ ہمیں معاف کردیا جائے لیکن حکم ہوگا کہ اب تم جہنم کے عذاب میں مبتلا رہو گے کیونکہ تم اپنے رب پر ایمان لانے، دوبارہ زندہ ہونے اور اس جہنم کا انکار کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی پیدائش، مردوں کو دوبارہ زندرہ کرنے اور جہنم کا بار بار ذکر کیا ہے اس لیے یہاں ان تینوں باتوں کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ان کا انکار کرنے والوں کا انجام بیان کیا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے زمین و آسمان پیدا کرنے کے بعد تھکان نہ ہونے کا مسئلہ ہے اس بارے میں یہودیوں اور ان سے متاثرین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز پیدا کرنے کے بعد تھکان محسوس کی اس لیے ہفتہ کے دن آرام فرمایا جس وجہ سے ہم بھی ہفتہ کے دن کام کاج سے چھٹی کرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی واضح نفی فرمائی ہے کہ زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد اسے کوئی تھکان نہیں ہوئی تھی اس نے زمین و آسمانوں اور اپنی مخلوق کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ہر وقت اپنی مخلوق کی نگرانی اور حفاظت فرما رہا ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر مکمل اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔
(وَ لَا یَؤُدُہٗ حِفْظُہُمَا وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ) (البقرۃ : 255)
” اور وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتا ہے وہ تو بہت بلند وبالا اور بڑی عظمت والا ہے۔ “
زمین و آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کو یہ بات سمجھائی ہے کہ زمین و آسمانوں کو تخلیق کرنا مشکل کام ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے ؟
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور ان کے پیدا کرنے میں اسے کوئی کمزوری اور تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی۔
2۔ اللہ تعالیٰ موت اور زندگی پر مکمل اختیار رکھتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
3۔ قیامت کے دن جب کفار جہنم کی آگ کے سامنے لائے جائیں گے تو وہ اس کا اقرار کریں گے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں کو حکم دئے گا کہ جہنم کا عذاب پاؤ کیونکہ تم اس کا انکار کیا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
کفار کا قیامت کے دن حقائق کو تسلیم کرنا :
1۔ جہنمی سے 3 کے سوالات اور جہنمی کا اپنے گناہوں کا اقرار کرنا۔ (المدثر : 40 تا 48)
2۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنمی سے فرمائے گا کیا آج کا عذاب برحق نہیں وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ (الاحقاف : 34)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہماری بدبختی نے ہمیں گھیر لیا تھا اور ہم کافر ہوئے۔ (المومنون : 106)
4۔ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا یہاں سے نکلنے کا راستہ ہے۔ (المومن : 11)