45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الجاثیہ کا تعارف الجاثیہ کا نام اس سورة کی ٢٨ آیت میں آیا ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ جب ہر امت رب ذوالجلال کے حضور گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی ہوگی۔ اس سورة کی سینتس (٣٧) آیات ہیں اور یہ چار رکوعات پر مشتمل ہیں۔ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ ربِط سورة : الدّخان کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ قرآن مجید کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان اطہر پر آسان کردیا گیا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ الجاثیہ کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ قرآن ” اللہ “ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لیے زمین و آسمانوں میں بیشمار نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔ الجاثیہ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں ذکر فرما کر یہ بتلایا ہے کہ جھوٹا اور مغرور انسان جان بوجھ کر حقیقت کو جھٹلاتا ہے۔ جو لوگ حقیقت کو جھٹلاتے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں انہیں ذلت آمیز عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے سمندر کو مسخر کردیا تاکہ تم بحری جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے اس کا فضل تلاش کرو۔ اس نے انسانوں کے لیے صرف سمندر اور کشتیوں کو تابع نہیں کیا بلکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز کو ان کی خدمت میں لگا رکھا ہے تاکہ لوگ اس پر غوروفکر کریں۔ اس کا ارشاد ہے کہ جس نے اچھے اعمال اختیار کیے۔ ان کا فائدہ صرف اسی کو ہوگا اور جس نے برے اعمال کیے ان کا وبال اس پر ہوگا۔ اور تم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بتلائی کہ اللہ تعالیٰ زندگی اور موت کے حوالے سے نیک اور برے لوگوں کو برابر نہیں کرے گا وہ ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ جس شخص نے اپنے نفس کو الٰہ کا درجہ دے دیا حقیقت میں اس نے اپنے آپ کو گمراہ کرلیا ہے۔ ایسے لوگوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ گمراہی کی مہر ثبت کردیتا ہے جس وجہ سے یہ ہدایت پانے سے محروم ہوجاتے ہیں الجاثیہ کے آخر میں فرمایا کہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔ قیامت کے دن جھوٹے لوگ ذلیل ہوں گے اور نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا جو لوگ اپنے رب کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ وہاں ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو زمین و آسمانوں اور پوری کائنات کا رب ہے اور زمین و آسمانوں میں ہر قسم کی کبریائی اسی کو زیب دیتی ہے کیونکہ وہ ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔

Ayah 45:1
Ayahs 45:2–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کو نازل کرنے والا ” اللہ “ ہے جو زبردست اور حکیم ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ایمان لانے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں اور ان حیوانات میں بھی بڑی نشانیاں ہیں جنہیں اللہ زمین میں پھیلا رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنے والے ہیں

فہم القرآن سورۃ الدّخان کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کی زبان پر قرآن مجید کو آسان کردیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ سورة الجاثیہ کی ابتداء میں یہ ارشاد ہوا کہ جس قرآن کو آپ کے لیے آسان بنایا گیا ہے اس کو صرف ” اللہ “ نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ” اللہ “ ہی نے قرآن کو نازل فرمایا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اپنے بندوں پر غالب ہے مگر اس نے اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو اختیاردیا ہے کہ وہ اس کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لائیں یا انکار کریں۔ البتہ اگر لوگ زمین و آسمان کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور کریں تو یقیناً قرآن مجید کی نصیحت پر ایمان لائیں گے۔ قرآن کی پہلی نصیحت یہ ہے کہ اپنے رب کو پہچانو اور اس کا حکم تسلیم کرو۔ اس کی ذات کو پہچاننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی اور چوپاؤں کی تخلیق پر غور کرئے تو اسے یقین آجائے گا کہ زمین و آسمان، انسان اور چوپاؤں کو پیدا کرنے والا صرف ایک ” رب “ ہے۔ جس نے پوری دنیا میں مختلف قسم کے چوپائے پیدا کیے اور انہیں لوگوں کی ضرورت کے لیے پھیلادیا ہے۔ قرآن مجید نے زمین و آسمان کی بناوٹ، انسان کی تخلیق اور چوپاؤں کا کئی دفعہ حوالہ دیا اور ان کے فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ انسان صرف اپنی شکل و صورت اور صلاحیتوں پر غور وفکر کرے تو یہ الفاظ کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔ (فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ )[ المومنون : 14] ” بابرکت وہ ذات جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ جس طرح زمین میں لوگوں کو پھیلا رہا ہے اسی طرح چوپاؤں کو بھی زمین پر پھیلارہا ہے تاکہ جہاں انسان رہتے ہوں وہاں چوپائے بھی موجود ہوں تاکہ لوگ ان سے استفادہ کریں۔ ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ (النساء : 1) مسائل 1۔ قرآن مجید کو صرف اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ہر کام اور فرمان میں حکمت ہوتی ہے۔ 3۔ انسان کے اپنے وجود اور چوپاؤں میں ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب کے فرمان پر یقین رکھتے ہیں۔ 4۔ زمین و آسمان کی تخلیق اور بناوٹ میں اللہ کی قدرت کی بیشمار نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان، زمین و آسمان اور چوپاؤں میں قدرت کی نشانیوں کی ایک جھلک : 1۔ دن اور ات کے مختلف ہونے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6) 2۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) 3۔ آسمان سے رزق اتارنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الجاثیۃ : 5) 4۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش اور دن رات کے مختلف ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : 190) 5۔ کیا تم اپنے آپ پر غور نہیں کرتے۔ ( الذٰریات : 21) 6۔ ہم عنقریب تمہیں تمہاری جانوں اور آفاق میں نشانیاں دکھائیں گے۔ (حم السجدۃ : 53)
Ayahs 45:5–6

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

رات اور دن کے اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل کرتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اور ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں اب آخر اللہ کی ذات اور اس کی آیت کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مزید نشانیوں کا تذکرہ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے آنے جانے اور آسمان سے بارش برسانے اور بارش کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنے اور ہواؤں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے۔ یہ تمام کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظہر ہیں۔ ان میں کوئی ایک کام ایسا نہیں جس کا معمولی حصہ بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کرسکے اور نہ ہی ان کاموں میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ ہوگا۔ لیکن ان کاموں پر وہی شخص غور کرے گا جو اپنی عقل سے کام لے گا۔ جس نے ان چیزوں پر غور کرلیا وہ ” اللہ “ پر ضرور ایمان لائے گا۔ اس لیے ان آیات میں پہلے ایمان کا ذکر ہوا پھر یقین کرنے کی بات ہوئی اور اب عقل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ایمان تک پہنچنے کے لیے یہی تین مدارج ہیں۔ انسان اللہ تعالیٰ کے کاموں پر غور کرے تو اس کی عقل تسلیم کرے گی کہ میرے رب نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ یقین کرنے کے قابل ہے۔ جس میں یقین پیدا ہوگا وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہوجائے گا۔ یہاں رزق کا تعلق آسمان سے بیان کیا گیا ہے جس کے بنیادی طور پر دو اسباب ہیں۔ 1 رزق کا کنٹرول آسمان میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس رزق کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ آسمان میں ہے۔ (الذٰریات : 22) اس کا دوسرا تعلق زمین کے ساتھ ہے جس کے بارے میں بتلایا ہے کہ زمین میں جو بھی چلنے والا ہے اس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (ہود : 6) رزق کا سب سے بڑا سبب پانی ہے اور پانی کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہے۔ اگر طویل عرصہ تک بارش نہ ہو تو زمین کا پانی اتنا گہرا ہوجاتا ہے کہ اسے انسان کے لیے حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا۔ بارش کے ذریعے ہی زمین نباتات اگانے کے قابل ہوتی ہے اور بارش کا نظام ہوا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ہوا بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں ہوا گر م مرطوب ہوتی ہے اور کچھ حصوں میں ہوا میں رطوبت کی بجائے جدّت زیادہ ہوتی ہے۔ کچھ ہوائیں بادلوں کو دھکیل کر دور سے دور لے جاتی ہیں اور کچھ ہوائیں بادل برسانے والی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کے لیے بھی ایک مدار قائم فرمایا ہے اس مدار سے اوپر ہوا بہت کم رہ جاتی ہے۔ پھر فضا میں ہر مقام پر ہوا کا دباؤ ایک جیسا نہیں رہتا۔ فضا کے اندر ہوا کے درمیان خلا پائے جاتے ہیں۔ جنہیں ائیر لائن کی زبان میں (AIR POCKET) کہا جاتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ فضا میں صرف پانچ منٹ کے لیے ہوا ختم کردے تو زمین پر ہی نہیں بلکہ زمین کے اندر اور پانی میں رہنے والی مخلوق بھی ختم ہوجائے۔ یہاں تک کہ فضا میں اڑنے والے پرندے اور جہاز بھی زمین پر گرپڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو شیشے کی طرح صاف بنایا ہے۔ اگر ہوا کو رنگ آلود کردیا جائے تو سورج کی روشنی کے باوجود کوئی چیز نظرنہ آئے۔ جس سے ہر قسم کی آمدروفت جامد ہو کر رہ جائے۔ غور فرمائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مقررہ حد سے زیادہ ہوا چلا دے تو ہر چیز اڑنا شروع ہوجائے گی۔ فوائد کے اعتبار سے ہوا انسان کے کھانے پینے سے بھی زیادہ اہم نعمت ہے۔ اللہ کی نعمتوں کی وہی لوگ قدر کرتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم عطا فرمائی ہے۔ عقل سلیم ہی انسان کو صراط مستقیم پر گا مزن کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ ان دلائل کے بعد پھر کون سے دلائل ہوں گے جن پر کافر اور مشرک ایمان لائیں گے۔ مسائل 1۔ رات اور دن کے آنے جانے، آسمان سے رزق کے نازل ہونے، بارش کے ساتھ زمین کے زندہ ہونے اور ہوائیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے مگر اس کے باوجود لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت کے بارے میں کھول کھول کر حقائق بیان کیے ہیں مگر مشرک اور کافر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
Ayahs 45:7–11

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اس جھوٹے بدعمل شخص کے لیے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا ہے پھر غرور کی بنا پر اپنے کفر پر اس طرح اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے آیات کو سنا ہی نہیں ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنائیں

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ انہیں مذاق کرتا ہے۔ ایسے سب لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے پیچھے جہنم ہے جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی، نہ ان کے وہ سرپرست ہی ان کے لیے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے ان کے لیے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا ان لوگوں کے لیے ذلت اور اذیت ناک عذاب ہوگا

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود جھوٹا اور متکبر آدمی اپنے رب کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کا انجام بدترین ہوگا۔ جو آدمی توحید و رسالت کو جھٹلانے اور تکبر کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی اسے اللہ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ انہیں سننے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرتا ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کی آیات کو سنا ہی نہیں۔ اگر کسی وقت توجہ سے سن لیتا ہے تو ایمان لانے کی بجائے انہیں مذاق کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کو اذیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائیں۔ جو اذیّت ناک ہونے کے ساتھ اپنے آپ میں ہر قسم کی ذلت بھی لیے ہوئے ہوگا۔ قرآن مجید ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو ہدایت قبول کرنے کے لیے سنتے ہیں۔ جو قرآن مجید کو ہدایت کے لیے نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنے یا اس کا جواب دینے کے لیے سنتا ہے اسے سخت ترین عذاب دیا جائے گا۔ تکبر کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ اس کا معنٰی ہے لوگوں سے منہ پھیرنا اور حق بات کا انکار کرنا۔ ظاہر بات ہے کہ جس میں یہ عیب پائے جائیں گے اس کا صراط مستقیم کی طرف آنا ناممکن ہوگا۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق کا نشانہ بنانے کا تعلق ہے اس کی کئی صورتیں ہیں۔ جو لوگ کسی حد تک خوف خدا رکھتے ہیں۔ وہ براہ راست آیات ربانی کو مذاق کرنے کی بجائے علماءِ حق کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں سے اللہ کا خوف اٹھ جاتا ہے وہ اللہ کی آیات بالخصوص اسلامی قوانین کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔ کچھ اتنے بےخوف ہوتے ہیں کہ وہ حدود اللہ کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ مذاق اور انکار کرنے کی مختلف صورتیں ہیں جن کے انداز اور الفاظ حالات کے مطابق بدلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دنیا میں کوئی نہ کوئی حمایت کرنے والا ہوتا ہے لیکن آخرت میں ان کی کوئی بھی مدد نہیں کر پائے گا۔ جنہوں نے اپنے رب کی ہدایت کا انکار کیا ان کو ذلت ناک عذاب دیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَکُونُوا عِبَاد اللَّہِ إِخْوَانًا ) [ رواہ البخاری : باب مَا یُنْہَی عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ ] حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو ‘ نہ ہی دشمنی کرو۔ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہو۔ “ (عَنْ أُمِ مَعْبَدٍ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ طَہِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاِقِ وَعمَلِیْ مِنَ الرِّیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃَ فَإِنَّکَ تَعْلَمْ خَاءِنَۃَ الْأَعَیْنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرِ )[ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر ] ” حضرت ام معبد ؓ بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دعا کرتے ہوئے سنا آپ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو ریاء کاری سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے محفوظ فرما۔ یقیناً آپ خیانت کرنے والی آنکھ اور دلوں کے خیالات سے واقف ہیں۔ “ (عَنْ أبِی أمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَطْبَعُ الْمُؤمِنُ عَلٰی الْخِلَالِ کُلِّہَا اِلَّا الْخِیَانَۃَ وَالْکِذْبَ ) [ رواہ أحمد : مسند ابی امامۃ ] ” حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن میں ہر قسم کی کمزوری پائی جاسکتی ہے مگر خیانت اور جھوٹ نہیں پائے جاسکتے۔ “ مسائل 1۔ جھوٹے او گناہ گار کے لیے جہنّم ہوگی۔ 2۔ قیامت کے دن مجرموں کی کوئی خیرخواہی نہیں کرسکے گا۔ 3۔ جو شحص اللہ کی آیات کو سنی اَن سنی کرتا ہے اسے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ 4۔ جو شخص اللہ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتا ہے اسے ذلیل کردینے والا عذاب دیا جائے گا۔ 5۔ قرآن مجید ہدایت بن کر آیا ہے لیکن جو لوگ اس کے فرامین کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرموں کی کوئی بھی مدد نہیں کرسکے گا : 1۔ اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (ہود : 20) 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (العنکبوت : 22) 3۔ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔ (البقرۃ : 107) 4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو تمہاری مدد کرسکے۔ (البقرۃ : 120) 5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ولی اور بچانے والا نہیں ہے۔ (الرعد : 37) 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔ (الشوریٰ : 31)
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر ادا کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اس نے زمین و آسمانوں اور تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے اور سب کچھ اسی کی طرف سے ہے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرنے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو عذاب کی خوشخبری سنانے کے بعد ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ لیل ونہار کی گردش چاند، سورج کا آنا جانا بارش کا برسنا اور کشتیوں کا سمندر میں چلناان سب کو اپنی قدرت کی نشانیاں بتلایا ہے۔ لیکن جہاں بھی ان چیزوں کا ذکر کیا ہے انداز اور استدلال جدا جدا ہے۔ غور فرمائی ! اس مقام پر کشتیوں کا سمند میں چلنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کے ساتھ منسوب کیا اور فرمایا ہے کہ یہ کشتیاں میرے حکم کے ساتھ سمندر میں چلتی ہیں تاکہ تم سمندر سے اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہو ! دنیا میں کشتیوں اور بحری جہازوں کے کاروبار کے ساتھ لاکھوں نہیں کروڑوں انسان وابستہ ہیں۔ جو کشتیوں کے ذریعے محنت مزدوری کرتے ہیں اور سمندر سے مچھلیاں اور ہیرے جواہرات نکال کر اربوں، کھربوں روپے کما رہے ہیں مگر ان کی اکثریت کفار کی ہے۔ جو مسلمان اس کاروبار کے ساتھ وابستہ ہیں ان کی غالب اکثریت بےدین طبقہ پر مشتمل ہے۔ حالانکہ سمندر میں کاروبار کرنے والے جانتے ہیں کہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو جدید ٹیکنالوجی کے باوجود غوطہ زنی اور ماہی گیری کا سارے کا سارا نظام معطل ہوجاتا ہے۔ اس وقت پرلے درجے کا کافر اور مشرک بھی صرف اور صرف ایک رب کو پکارتا ہے۔ لیکن جونہی ان لوگوں کو سمندری طوفان سے نجات ملتی ہے تو پھر شرک و کفر کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف سمندروں اور کشتیوں کو انسان کے تابع کیا ہے بلکہ اس نے جو کچھ بھی زمین و آسمانوں میں پیدا کیا ہے۔ سب کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ نباتات ہوں یا جمادات، حیوانات ہوں یا کوئی اور چیز یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مقرب ترین فرشتے کو بھی انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار ہوجائے کیونکہ شکر گزار ہی اس کے تابعدار ہوتے ہیں۔ تابعدار اور شکر گزار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں پر غور کرے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر اور دریاؤں کو انسان کے تابع کردیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے کشتیوں کو انسان کے اس لیے تابع کیا ہے تاکہ انسان سمندر سے اپنے رب کا فضل تلاش کرے اور اس کا شکر ادا کرے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی ہر چیز انسان کی خدمت میں لگا رکھی ہے۔ 4۔ قدرت کی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی پہچان پائی جاتی ہے لیکن اس قوم کے لیے جو غور وفکر کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن شکر گزاری کا حکم اور اس کے فوائد : 1۔ لوگو ! اللہ کو یاد کرو اللہ تمہیں یاد کرے گا اور اس کا شکر ادا کرو کفر نہ کرو۔ (البقرۃ : 152) 2۔ اللہ نے تمہیں دل، آنکھیں اور کان دیے تاکہ تم شکرادا کرو۔ (السجدۃ : 9) 3۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزار بندوں میں شامل ہوجائیے۔ (الزمر : 66) 4۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔ (آل عمران : 144۔ 145) 5۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سماعت، بصارت اور دل بنایا تاکہ تم شکر کرو۔ (النحل : 78) 6۔ اللہ کی پاکیزہ نعمتیں کھا کر اس کا شکر کرو۔ (البقرۃ : 172) 7۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرو۔ (العنکبوت : 17) 8۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے کو زیادہ عطا کرتا ہے۔ (ابراہیم : 7) 9۔ شکر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ (الزمر : 7) 10۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو بہتر جزا دیتا ہے۔ (القمر : 35) 11۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کا قدردان ہے۔ (النساء : 147) 12۔ جو شخص شکر کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو ناشکری کرتا ہے میرا رب اس سے بےپروا ہے۔ (النمل : 40)
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے نبی ایمان لانے والوں سے فرمایں کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی خوف نہیں رکھتے ان کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود اس گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا وہ خود ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر سب کو جانا تو اپنے رب ہی کی طرف ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو شخص اپنے رب کی قدرتوں پر غوروفکر اور اس کی نعمتوں کا شکرادا کرتا ہے وہ ہر صورت اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔ ایمان لانے والوں کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔ ایمان کی ابتدا ” لا الٰہ الا اللہ “ سے ہوتی ہے جس کا معنٰی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی ضرورتیں پوری کرنے اور بگڑی بنانے والا ہے ہے۔ اس بات کا اقرار کرنے سے پہلے ہر معبود کی نفی کرنا فرض ہے۔ جو شخص اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کا کلمہ قبول نہیں کرتا۔ کلمہ طیبہ میں پہلے معبودان باطلہ کی نفی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب ایماندار اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی نفی کرتا ہے تو کافر اور مشرک کو یہ بات برداشت نہیں ہوتی۔ اس پر کافر اور مشرک موحّد کے خلاف ہر اقدام کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور مومن بندوں کو درگزر کرنے کا حکم دیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ اے نبی ! ایمان والوں سے فرمائیں کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو برے اعمال کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ایام سے نہیں ڈرتے۔ انہیں یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ جو ایمان لانے کے بعد صالح عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جس نے ایمان لانے سے انکار کیا اور برے اعمال کرتارہا اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ بالآخر تم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔ پہلی آیت میں ان لوگوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو اللہ کے ایام کا خوف نہیں رکھتے۔ ایام کے بارے میں اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہاں ایام سے مراد ایسے دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کسی قوم کی پکڑ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے جو لوگ بےپرواہ ہوتے ہیں وہ بات بات پر جنگ وجدال پر اتر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے الجھنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے تبلیغ کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ کو حکم ہوا اور دوسرے مقام پر ایمانداروں کی یہ صفت بیان کی ہے۔ ” اور اگر کبھی آپ کو شیطان ابھارے تو اللہ کی پناہ طلب کریں بیشک وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے “ (الاعراف : 200) یہ خوبی حاصل نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ “ (حم سجدہ : 35) ” اہل کتاب کے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ حق واضح ہوجانے اور تمہارے ایمان لانے کے بعدوہ تمہیں اپنے حسد و بغض کی بناء پر ایمان سے ہٹا کر کافر بنا دیں۔ بس تم معاف کرو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ فرما دے یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ (البقرۃ : 109) ” رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اگر ان سے جاہل جھگڑیں تو وہ ان کو سلام کہہ کر چل دیتے ہیں۔ “ (الفرقان : 63) مسائل 1۔ جو لوگ اپنے رب کی پکڑ سے بےخوف ہوتے ہیں۔ ایمانداروں کو ان سے درگزر کرنا چاہیے۔ 2۔ جو ایماندار صالح عمل کرے گا وہ اس کی جزا پائے گا اور جو برے عمل کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔ ہر کسی نے اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ تفسیر بالقرآن حق کا انکار کرنے والوں کے ساتھ مومنوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں آپ لوگوں سے اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ (مریم : 48) 2۔ اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 51) 3۔ اے ایمان والو ! اگر تمہارے آباء اسلام پر کفر کو ترجیح دیں تو اپنے آباء اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ : 23) 4۔ اے ایمان والو ! کفار کو مومنوں کے مقابلہ میں دوست نہ بناؤ۔ (النساء : 144) 5۔ اے ایمان والو ! جن لوگوں نے تمہارے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے انہیں دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 57) 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے معبودباطل کا انکار کیا اور ان سے براءت کا اظہار کیا۔ (الممتحنہ : 4)
Ayahs 45:16–17

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی اور ہم نے انہیں طیب رزق سے نوازا اور دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کے بارے میں انہیں واضح ہدایات دیں پھر جو اختلاف ان کے درمیان رونما ہوا وہ ( ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ) علم آجانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرتے تھے اللہ قیامت کے دن ان معاملات کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے فیصلہ فرما دے گا

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے ایام اللہ کی پرواہ نہ کی ان میں بنی اسرائیل بھی شامل ہیں۔ قرآن مجید نے جن اقوام کے حالات اور واقعات سب سے زیادہ بیان کئے گئے ہیں ان میں سرفہرست بنی اسرائیل ہیں۔ بنی اسرائیل پر فرعون نے مظالم کی انتہا کر رکھی تھی۔ فرعون ان کے مردوں کو قتل کرتا اور ان کی بہوبیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو فرعون کے عذاب اور اس کی غلامی سے نکالنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو رسول منتخب کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عظیم اور طویل جدوجہد کی جس کے نتیجہ میں فرعون اور اس کے ساتھی غرق ہوئے اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے نجات عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کئی صدیوں تک بنی اسرائیل کو کتاب، حکومت، نبوت اور رز قِ حلال کی فراوانی سے سرفراز فرمایا اور بنی اسرائیل کو طویل عرصہ تک پوری دنیا میں عزت و عظمت کے ساتھ ہمکنار کیا۔ انہیں راہ راست پر لانے اور اس پر قائم رکھنے کے لیے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ ان کی راہنمائی فرمائی۔ مگر یہ قوم بغاوت اور سرکشی ہی اختیار کرتی رہی۔ جس کا بنیادی سبب ان کا مفاد اور آپس میں حسد وعناد تھا۔ آپ کا رب قیامت کے دن یقیناً ان کے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ کسی قوم کی راہنمائی اور سربلندی کے لیے چار چیزیں ناگزیر ہوتی ہیں۔ اگر قوم اخلاص نیت اور پوری ہمت کے ساتھ ان باتوں کا خیال رکھے تو وہ صدیوں تک لوگوں پر اپنی عظمت اور سطوت کا سکہ جما سکتی ہے۔ 1 ۔ قوم کی راہنمائی کے لیے آسمانی کتاب کا اصلی حالت میں موجود ہونا۔ 2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کی صورت میں قیادت کا پایا جانا۔ 3 اقتدار اور اختیار کا حاصل ہونا۔ 4 رزق حلال اور جائز وسائل کی فراوانی ہونا۔ جس قوم کے پاس یہ چار چیزیں موجود ہوں وہ دنیا میں ضرور عزت کی مالک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو صدیوں تک یہ نعمتیں عطا فرمائیں۔ مگر انہوں نے ہر دور میں اپنے انبیاء کا مذاق اڑایا اور حق بات کے ساتھ اختلاف کیا اور حسد وبغض کا شکار ہوئے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمیشہ کے لیے مغضوب قرار دیا اور حضرت داود (علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے ان پر لعنت برسائی۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو الکتاب، حکومت، نبوت اور وا فرمقدار میں رزق حلال عطا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ہزاروں سال لوگوں پر عزت و عظمت عطا فرمائی۔ 3۔ بڑے بڑے معجزات دیکھنے اور واضح دلائل پانے کے باوجود بنی اسرائیل حسد وبغض کا شکار ہوئے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء اور حق کے ساتھ اختلاف کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل کا انجام : 1۔ اللہ تعالیٰ کے گستاخ ہوئے۔ (آل عمران : 181) 2۔ انبیاء کے قاتل اور گستاخ ٹھہرے۔ (آل عمران : 21) 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکاری ہیں۔ (البقرۃ : 61) 4۔ شرک کی وجہ سے ذلیل ورسوا ہوئے۔ (المائدۃ : 18) 5۔ اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی وجہ سے رسوا ہوئے۔ (البقرۃ : 83 تا 85) 6۔ کتاب اللہ میں تحریف کرنے کی وجہ سے خوار ہوئے۔ (النساء : 46)
Ayahs 45:18–20

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

اے نبی پھر ہم نے آپ کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا آپ اسی پر چلیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کریں جو علم نہیں رکھتے

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی ” اللہ “ ہے

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ بصیرت کی باتیں سب لوگوں کے لیے ہیں اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو یقین رکھتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل حق کی ناقدری کرنے اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے دنیا کی قیادت سے محروم ہوئے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قیادت کے منصب پر فائز فرمایا ہے۔ بنی اسرائیل میں سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے انجیل اور بڑے، بڑے معجزات عطا فرمائے مگر بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے ناصرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا بلکہ انہوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو صحیح وسالم آسمانوں پر اٹھالیا جو قیامت کے قریب دنیا میں نزول فرمائیں گے اور حضرت امام مہدی ؓ کے ساتھ مل کر عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ جہاد کریں گے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد تقریباً پانچ سو سال تک کسی شخصیت کو نبوت سے سرفراز نہیں کیا گیا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی کے طور پر مبعوث فرمایا اور آپ کو خاتم النبیین کے لقب سے سرفراز کیا۔ اس لیے آپ کے بارے میں ارشاد ہوا کہ بنی اسرائیل کے بعد ہم نے آپ ﷺ کو ایک واضح دین کی راہنمائی فرمائی ہے۔ لہٰذا آپ کو صرف اسی کی اتباع کرنا چاہیے اور ان لوگوں کے پیچھے نہیں لگنا جو جہالت کی وجہ سے اپنی خواہشات کے بندے بن چکے ہیں۔ اگر آپ ان لوگوں کے پیچھے چلیں گے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ یقین فرمائیں ! کہ ظالم لوگ ایمانداروں کے خیر خواہ نہیں ہوتے۔ جو دوسروں کی خواہشات کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنے رب کا حکم مانتے اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راہنمائی اور خیر خواہی کرتا ہے۔” اَلْاَمْرِ “ سے مراد اللہ کا دین ہے اور ” شریعت “ سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور اس کا بتایا ہوا راستہ ہے جس کی ہر حال میں اتباع کرنا چاہیے اسی بات کو قرآن مجید نے یوں بھی بیان فرمایا ہے۔ ” اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ [ البقرۃ : 143] ظالم سے مراد کافر، مشرک اور وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ امت کے کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ان کی خیر خواہی اور ہمدردی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوتی ہے۔ جس وجہ سے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ظالم لوگ ظالموں کے دوست اور بہی خواہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا ولی نہیں ہوتا۔ وہ تو متقین کا ولی ہے۔ جن کا اللہ ولی ہوجائے انہیں کسی ظالم کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے ہدایت کی باتیں ہیں جو یقین کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ ولی کا معنٰی دوست، خیر خواہ اور ذمہ دار ہے۔ مسائل 1۔ پہلی امتیں شریعت کا علم رکھنے کے باوجود اختلافات کا شکار ہوئیں۔ 2۔ پہلی امتوں نے باہمی حسدوبغض کی بنا پر آپس میں اختلاف کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو واضح دین عطا فرمایا ہے۔ 5۔ لوگوں کی خواہشات کی پرواہ کئے بغیر مسلمان کو دین کی اتباع کرنی چاہیے۔ 6۔ کسی کو کوئی طاقت دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا نہیں سکتی۔ 7۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ 8۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کا خیر خواہ اور ساتھی ہوتا ہے۔ 9۔ قرآن مجید ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذریعہ ہے۔ 10۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بصیرت کی باتیں بتلائی ہیں مگر ان سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان پر یقین کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے انسان کو قرآن وسنت کی اتباع کرنا چاہیے : 1۔ کتاب اللہ کے مقابلے میں لوگوں کی خواہشات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ (المائدۃ : 48) 2۔ خواہشات کی اتباع کرنے کی بجائے کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں۔ (المائدۃ : 49) 3۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا تباہ ہوجاتا ہے۔ (طٰہٰ : 16)
Ayahs 45:21–22

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں اور ایمان دار نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کردیں گے ان کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے گا۔ بُرا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے تاکہ ہر نفس نے جو کچھ کیا ہے اسے اس کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے شریعت نازل فرمائی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنی ضد اور جہالت پر قائم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقیقت کھول کر بیان فرمائی ہے کہ نیک اور برے لوگ کسی اعتبار سے برابر نہیں ہوسکتے۔ مگر اس کے باوجود ظالم لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر قسم کی فراوانی اس لیے دے رکھی ہے کہ وہ ہمیں پسند کرتا ہے اور ہمارے مقابلے میں نیک لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے لوگوں میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ ہم آخرت میں بھی ایمانداروں سے بہتر ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کے انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایماندار اور صالح کردار لوگوں کی زندگی اور موت کو مجرم لوگوں کی زندگی اور موت جیسی کردے۔ مجرم جو کچھ سوچتے اور کہتے ہیں وہ ہر اعتبار سے ان کے لیے برا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کے حوالے سے بتلایا ہے کہ مومن اور ظالم برابر نہیں ہوسکتے۔ جہاں تک دنیا کی زندگی کا معاملہ ہے بظاہر دنیا دار لوگ مومنوں سے برتر ہوتے ہیں۔ لیکن گہرائی سے دیکھا اور سوچا جائے تو دنیا میں بھی ایک مومن اور ظالم کی زندگی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بیشک مومن غریب ہو مگر اس کا دل مطمئن ہوتا ہے۔ جس وجہ سے وسائل کی کمی کے باوجود وہ پرسکون زندگی گزارتا ہے۔ مومن کے مقابلے میں فاسق شخص وسائل کی فراوانی کے باوجود پریشانی اور بےسکونی کا شکار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کے لیے ہر قسم کی برائی اور بےحیائی کرتے ہیں۔ کئی لوگ سکون نہ پانے کی وجہ سے خودکشی کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ جہاں تک موت کا تعلق ہے بیشک مرنے والا موت کی کیفیت سے دوسروں کو آگاہ نہیں کرسکتا۔ لیکن ایک مومن اور فاسق کی موت میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ جس کا ہم تصور نہیں کرسکتے۔ اسی لیے قرآن مجید نے دوسرے مقام پریوں ارشاد فرمایا ہے۔ (اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لَا یَسْتَوٗنَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی نُزُلًا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰیھُمُ النَّارُ کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَ قِیْلَ لَھُمْ ذُوْقُوْا عَذَاب النَّارِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) [ السجدۃ : 18 تا 25] ” بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی طرح ہوجائے جو فاسق ہے یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے اعمال کے بدلے۔ ان کی ضیافت کے لیے جنتوں کی قیام گاہیں ہیں اور جنہوں نے نافرمانی اختیار کی ہے ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا کہ اب آگ کے عذاب کا مزا چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ اس فرق کو یہ کہہ کر واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو بامقصد پیدا کیا ہے۔ تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پائے اور کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اس فرمان میں استعارے کی زبان سے بتلایا گیا ہے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد برے اعمال کی ہمیں کوئی باز پرس نہیں ہوگی کہ وہ شعوری اور غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام یوں ہی بنادیا ہے۔ انسان کی زندگی لیل ونہار کی گردش سے منسلک ہے۔ اس لیے زمین و آسمان کا نام لے کر بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بامقصد پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان کی زندگی کا ایک مقصد ہے جس وجہ سے ہر کسی کو اپنے اعمال کا بدلہ پانا ہے۔ ” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کافر کا دنیا سے رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے پاس کھردرا لباس ہوتا ہے۔ وہ فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوجاتی ہے۔ اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔ اس روح کو فرشتے پکڑتے ہیں اور کوئی فرشتہ اسے اپنے ہاتھ میں آنکھ جھپکنے سے زیادہ اپنے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتا اور اسے بدبودار ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔ اس سے مردار جیسی گندی بدبو نکلتی ہے جس طرح کی بدبو تم زمین پر مردار کی طرح محسوس کرتے ہو۔ وہ اسے لیکر آسمانوں کی طرف جاتے ہیں ان کا گذر جس فرشتے کے پاس ہوتا تو وہ کہتا ہے یہ کس کی خبیث روح ہے لیکن وہ جواب دیتے ہیں وہ فلاں ابن فلاں ہے اس کے برے برے نام لیتے ہیں جن کے ساتھ اسے دنیا میں پکارا جاتا تھا حتیٰ کہ اسے آسمان دنیا کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے کہا جاتا ہے لیکن دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ( ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہو سکیں گے حتی کہ اونٹ کو سوئی کے سوراخ میں داخل کردیں) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا اعمال نامہ سجین میں لکھ دو جو زمین کی سب سے نچلی وادی ہے اس کی روح کو پھینکا جائے گا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی (اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرگیا پرندے اسے اچک رہے ہیں یا ہوا نے اس کو دور جگہ پھینک دیا) “ [ رواہ احمد : مسند براء بن عازب ] مسائل 1۔ برے لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مومن اور فاسق کو برابر رکھے گا ایسے لوگوں کی سوچ اور دعویٰ غلط ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے مومن اور فاسق کی موت اور زندگی میں نمایاں فرق رکھا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بامقصدپیدا کیا ہے۔ 4۔ ہر انسان کو اپنے عمل کا بدلہ دیا جائے گا۔ 5۔ قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ تفسیر بالقرآن مومن اور کافر کی موت کا فرق اور انجام : 1۔ فرشتے مومن کی روح قبض کرتے وقت سلام کہتے ہیں۔ (النحل : 32) 2۔ کفار کی روح قبض کرتے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہیں۔ (الانفال : 50) 3۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ : 39) 4۔ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے جنت میں جائیں گے۔ (البقرۃ : 82) 5۔ موت کے وقت فرشتے فاسق کو کہتے ہیں کہ آج تجھے عذاب دیا جائے گا۔ (الانعام : 93)
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا الٰہ بنا لیا ہے اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اللہ کے بعد اب اور کون ہے ؟ جو اسے ہدایت دے کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں سیکھتے

فہم القرآن ربط کلام : جو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو یونہی پیدا کیا ہے اور مومن اور فاسق کے انجام میں کوئی فرق نہیں۔ درحقیقت وہ شخص اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے۔ کیونکہ کسی کے انجام کو جاننا اور اس کا فیصلہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جس شخص نے اپنے نظریات اور جذبات کو الٰہ بنا لیا ہے۔ اس کے افکار اور کردار پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم دینے کے باوجود گمراہی میں کھلا چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی گئی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے سوا اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اس کے باوجود تم نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ الٰہ کا معنٰی ہے معبود یعنی جس کی عبادت کی جائے۔ عبادت کا جامع مفہوم یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی اپنے رب کی غلامی میں بسر ہونی چاہیے۔ جس شخص نے اپنے نفس کو الٰہ بنا لیا ہے وہ اللہ کی ذات اور اس کی بات کی پرواہ کیے بغیر زندگی گزارتا ہے ایسا شخص کسی اخلاق اور ضابطے کا پابند نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے اپنی خواہشات کی تکمیل اور دنیا کی ترقی کے سوا کوئی مشن نہیں ہوتا۔ اس شخص کو اقتدار ملے تو اپنے آپ کو فرعون سمجھتا ہے۔ اسے طاقت نصیب ہو تو درندہ بن جاتا ہے۔ اس کے پاس مال ہو تو غریبوں کے لیے قارون بن ثابت ہوتا ہے۔ اسے افرادی طاقت مل جائے تو ابوجہل کا کردار پیش کرتا ہے۔ یہ شخص اپنے مفاد اور اقتدار کی خاظر اور ملک و ملت کے ساتھ غداری کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ اپنے نفس کو معبود بنانے والا شخص عالمدین ہو تو اپنے ایمان اور دین کو دنیا کی خاطر بیچ ڈالتا ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والا آدمی گھٹیا سے گھٹیا حرکت کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اس کی گمراہی کے حوالے کردیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کے کان حق بات سننا گوارہ نہیں کرتے۔ دل سچائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں کو دیکھنے کے باوجود اس کی آنکھیں اندھی رہتی ہیں۔ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسی شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ” وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ “ کے مفسرین نے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ 1 یہ شخص اپنے نفس کا بچاری ہونے کی وجہ سے عالم ہونے کے باوجود گمراہی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ 2 اپنے نفس کو معبود بنانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہی میں پھینک دیا ہے۔ 3 اپنے نفس کو معبود بنانے والا شخص اپنے نظریات اور جذبات کو حق اور اس کا معیار سمجھتا ہے اس لیے وہ گمراہی میں مبتلارہتا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) [ مشکوٰۃ : باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی اپنی خواہشات کو جب تک میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کرے تب تک وہ ایمان دار نہیں ہوسکتا۔ “ مسائل 1۔ جو شخص اپنے نفس کا غلام بن جائے اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا۔ 2۔ جس کی گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے وہ بھی ہدایت نہیں پاسکتا۔ 3۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ارشادات سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اپنی اور لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنے والا شخص گمراہ ہوتا ہے : 1۔ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنے والا گمراہ ہوتا ہے۔ (صٓ: 26) 2۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا تباہ ہوجا تا ہے۔ (طٰہٰ : 16) 3۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص : 50) 4۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا خواہشات کو الٰہ بنا لیتا ہے۔ (الفرقان : 43) 5۔ حق کو چھوڑ کر خواہشات کی پیروی کرنے سے زمین و آسمان میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ (المؤمنون : 71)
Ayahs 45:24–27

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیزجو ہمیں ہلاک نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس علم نہیں ہے محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی حجت نہیں ہوتی کہ اٹھالاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

اے نبی ان سے فرمائیں کہ اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں مگر اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ کے پاس ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست لوگ خسارے میں ہوں گے

فہم القرآن ربط کلام : اپنے نفس کو معبود بنانے والا شخص دنیا کی لذات پر اس قدر فریفتہ ہوجاتا ہے کہ اس کا مرنے کو جی نہیں چاہتا اس وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا صرف دنیا میں ہے موت کے بعد نہ ہم نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے جواب دینا ہے۔ انسان اپنے نظریات اور جذبات کو اس وقت الٰہ کا درجہ دیتا ہے جب دنیا پر بےحد فریفتہ ہو کر وہ حقیقی الٰہ کو بھول جاتا ہے۔ اس وجہ سے نفس کا بچاری سمجھ بیٹھتا ہے کہ مرنے کے بعد نہ میں نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے حساب دینا ہے۔ اس بنیاد پر کہتا ہے کہ بس ہم نے اسی دنیا میں جینا اور مرنا ہے۔ ہماری زندگی اور موت کا معاملہ زمانے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے زمانے کے ردّ بدل کی وجہ سے ہم جیتے اور مرتے ہیں۔ اس کے سوا ہماری زندگی اور موت کا کوئی مالک نہیں۔ ان کے اپنے اٹکل پچو کے سوا اس نظریے کی کوئی علمی دلیل نہیں۔ جب ان کے سامنے موت وحیات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر قیامت کے بارے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے دکھلاؤ ؟ انہیں فرمائیں کہ زمانہ یا کوئی اور موت وحیات کا مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہیں پیدا کرتا ہے اور وہی تمہیں موت دیتا ہے۔ موت دینے کے بعد پھر اسی نے قیامت کے دن تمہیں اٹھانا اور اکٹھا کرنا ہے۔ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں۔ زمین و آسمان کی بادشاہی صرف اللہ کے پاس ہے جس دن قیامت برپا ہوگی۔ جھوٹے نظریات رکھنے اور برے اعمال کرنے والے لوگ نقصان پائیں گے۔ یہاں پہلی آیت میں مادہ پرست لوگوں کا دعویٰ اور نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری موت وحیات زمانے کے تغیر و تبدل کی وجہ سے ہے۔ یہ ایسا نظریہ ہے جسے نہ عقل مانتی ہے اور نہ ہی علم تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اپنے آپ کو جدّت پسند اور ترقی یافتہ سمجھنے والے لوگ اہل مکہ کی جہالت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جو سائنسدان کسی آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مادہ میں از خود یہ صلاحیت ہوتی ہے جس وجہ سے اس میں خود بخود تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ جس کے لیے وہ بگ بینگ (BIG BANG) کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کائنات ایک دھماکہ کے ذریعے معرض وجود میں آئی ہے اور اس کی وجہ سے ہی مادہ معرض وجودآیا۔ مادہ کے بارے میں جس سائنسدان کو سائنس کی دنیا کا باپ تصور کیا جاتا ہے۔ آئن سٹائن (EIEN STIEN) اس کا نظریہ ہے کہ مادہ کو نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے اور نہ ہی یہ ختم ہوگا۔ (MATTER CAN NIETHER BE CREATED NOR DESTROYED) (تفصیل کے لیے فہم القرآن جلد 2: الاعراف : 54 کی تفسیر دیکھیں) آسمانی کتابوں پر یقین رکھنے والے عیسائی، یہودی اور مسلمان سائنسدان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس کائنات کی ابتدا کرنے والا ” اللہ “ ہے اور اسی کے حکم سے بگ بینگ (BIG BANG) ہوا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا کائنات کو قائم رکھے گا اور جب چاہے گا اسے فنا کر ڈالے گا۔ اس کے بعد قیامت قائم کرے گا جس میں لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا اور سزا دی جائے گی۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یُؤْذِینِی ابْنُ آدَمَ ، یَسُبُّ الدَّہْرَ وَأَنَا الدَّہْرُ ، بِیَدِی الأَمْرُ ، أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ ) [ رواہ البخاری : باب (وَمَا یُہْلِکُنَا إِلاَّ الدَّہْرُ )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے۔ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں۔ تمام اختیارات میرے پاس ہیں۔ میں ہی دن رات کو بدلتا ہوں۔ “ جہاں تک قیامت کا انکار کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے دکھلایا جائے۔ پہلی بات یہ ہے کہ قیامت کے بارے میں انسان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور ہمیں اس پر اعتراض کیے بغیر من و عن ایمان لانا چاہیے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے بڑے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سامنے مردوں کو زندہ فرمایا اور اس زمانے کے لوگوں نے انہیں کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا لیکن اس کے باوجود قیامت کا انکار کرنے والے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ اگر ان لوگوں کے سامنے مردے زندہ کیے جائیں تو یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (الاعراف : 11) مسائل 1۔ مادہ پرست لوگوں کا عقیدہ ہے کہ انسان کی موت اور زندگی صرف زمانے کے مدّ و جزر کی وجہ سے واقع ہوتی ہے۔ 2۔ زمانے کو موت وحیات کا سبب قرار دینے والوں کے پاس عقلی اور علمی دلیل نہیں ہوتی۔ 3۔ قیامت کا انکار کرنے والے سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کو زندہ کرکے دکھلایا جائے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی نے قیامت کے دن سب کو اکٹھا کرنا ہے۔ 5۔ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہی قیامت برپا کرے گا۔ 6۔ قیامت کو جھٹلانے والے قیامت کے دن لامتناہی نقصان پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سامنے مردوں کا زندہ کیا جانا : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے سامنے چار پرندوں کو زندہ کیا۔ (البقرہ : 260 ) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے سامنے ان کی قوم کے ستر سرداروں کو موت دے کر دوبارہ زندہ کیا۔ (الاعراف : 155 ) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت دے کر دنیا میں دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243 ) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ فرمایا۔ (المائدۃ : 110) 5۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلاکر بیدار فرمایا۔ (الکہف : 25)
Ayahs 45:28–29

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اس وقت تم ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھو گے ہر امت کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے، ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا لکھا ہوا اعمال نامہ ہے جو تم پر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے۔ جو کچھ تم کرتے تھے اسے ہم لکھوائے جا رہے تھے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن لوگوں کی حالت۔ قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہوگا کہ حاملہ اپنا حمل ساقط کربیٹھے گی اور دودھ پلانے والی اپنے بچے کو پھینک دے گی۔ ربِّ ذولجلال کے جلال کی وجہ سے لوگ اس طرح حواس باختہ ہوں گے جس طرح نشہ پینے والا حواس باختہ ہوتا ہے۔ حالانکہ کسی نے کوئی نشہ نہیں پیا ہوگا۔ یہ حالت لوگوں کی اس وجہ سے ہوگی کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہوگی (الحج : 2) لوگ آپس میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے سوائے اس کے کہ وہ ایک دوسرے کی بھنک سنیں گے (طہٖ : 108) خوف کی وجہ سے لوگوں کی آنکھیں نیلی پیلی ہوچکی ہوں گی اور حواس باختگی کی وجہ سے وہ دنیا کی زندگی کے بارے میں کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف دس دن ٹھہرے تھے۔ جو ان میں زیادہ اعتماد کے ساتھ بات کرنے والا ہوگا وہ کہے گا کہ ہم دنیا میں دس دن نہیں بلکہ صرف ایک دن ٹھہرے تھے۔ (طہٰ : 102) قیامت کے دن ایک مرحلہ ایسا آئے گا جب لوگ حساب و کتاب اور رب ذوالجلال کے خوف کی وجہ سے گھٹنوں کے بل ٹیڑھے کھڑ ہوں گے۔ اس حالت میں ہر جماعت اپنے اعمال نامے کی طرف بلائی جائے گی اور اعلان ہوگا کہ آج تمہیں تمہارے کیے کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ ہماری کتاب تمہارے بارے میں جو بیان کرے گی وہ سچ ہوگا۔ یہ اس لیے ہے کہ جو کچھ تم دنیا میں کرتے تھے ہم اسے تحریر کروایا کرتے تھے۔ جونہی لوگوں کو ان کے اعمال نامے ملیں گے تو لوگ اپنا اپناردّعمل ظاہر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر وضاحت فرمائی ہے کہ ہماری طرف سے جو اعمال نامے لوگوں کو دیے جائیں گے وہ ہر انسان کو بول بول کر بتلائے گا کہ تو کیا عمل کرتارہا ہے۔ آج سے کچھ صدیاں پہلے بیشمار لوگ اس بات پر گمراہ ہوئے کہ انسان کے اعمال کا وزن نہیں ہوسکتا۔ اور لوگ یہ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے کہ قیامت کے دن کھربوں لوگوں کے اعمال نامے کس طرح ان تک پہنچ جائیں گے۔ الحمد للہ جدید ٹیکنالوجی نے سب کچھ سچ کر دکھایا اور نہ معلوم آئندہ کیا کیا چیزیں ایجاد ہوں گی اور کس کس انداز میں قیامت کی تصدیق ہوگی۔ جہاں تک اعمال نامے بولنے کا تعلق ہے آج ڈیجیٹل سی ڈی کا ایک ایک لفظ بولتا سنائی دیتا ہے۔ اور بولنے کی شکل اور پوز (POSE) بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ای میل کے ذریعے ہزاروں میلوں دور کی معلومات ایک، ایک لمحہ میں دوسرے تک پہنچ رہی ہیں۔ جس رب نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی ہے کیا وہ سب کچھ نہیں کرسکتا ؟ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُعْرَضُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثَلاَثَ عَرَضَاتٍ فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِیرُ وَأَمَّا الْعَرْضَۃُ الثَّالِثَۃُ فَعِنْدَ ذَلِکَ تَطِیر الصُّحُفُ فِی الأَیْدِی فَآخِذٌ بِیَمِینِہِ وَآخِذٌ بِشِمَالِہِ ) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی العرض ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو تین مرتبہ پیش کیا جائے گا۔ دو پیشیاں لڑائی جھگڑوں اور عذروں کے بارے میں ہوں گی اور تیسری پیشی اس وقت ہوگی جب صحیفے اڑ کر ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے۔ کچھ لوگ اسے دائیں ہاتھ سے پکڑنے والے ہوں گے اور کچھ لوگ اسے بائیں ہاتھ سے پکڑنے والے ہوں گے۔ “ قرآن مجید نے یہ بھی بتلایا ہے کہ جرائم کے اعتبار سے مجرموں کی درجہ بندی کی جائے گی۔ ہوسکتا ہے کہ درجہ بندی کے حوالے سے لوگوں کو اعمال نامے دیئے جائیں۔ جس کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔” کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعیٰ الیٰ کِتَابِھَا “ کہ ہر امت اپنے، اپنے اعمال نامے کی طرف بلائی جائے گی۔ مسائل 1۔ قیامت کے خوف اور رب ذوالجلال کے جلال کی وجہ سے لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوں گے۔ 2۔ ہر جماعت کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔ 4۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ 3۔ لوگوں کے اعمال نامے ٹھیک ٹھیک انداز میں سب کچھ بتلائیں گے جو کچھ وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن اعمال ناموں کی کیفیت : 1۔ ہر کوئی اپنا اعمال نامہ دیکھے گا اور کہے گا یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ جس نے کوئی چھوٹی بڑی بات نہیں چھوڑی گئی۔ (الکھف : 49) 2۔ قیامت کے دن ہر کسی کا اعمال نامہ اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 13) 4۔ جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنے اعمال نامے کو پڑھے گا اور اس پر ظلم نہ ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 71)