45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsفہم القرآن

Ayahs 45:30–31

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا یہ واضح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ان سے کہا جائے گا کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو ملنے والے اعمال ناموں کا نتیجہ۔ جو لگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے دامن میں لیے لیا اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جھڑکنے کے انداز میں استفسار فرمائے گا۔ کیا میرے ارشاد تم تک نہیں پہنچے تھے ؟ لیکن تم نے ان کے ساتھ تکبر کیا اور تم مجرم ٹھہرے۔ یقیناً قیامت کے دن مجرموں کو ان کے جرم کے مطابق سزا ہوگی اور کسی پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو نہ صرف ان کے ایمان اور اعمال کی جزا دی جائے گی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف سے بےانتہا اجر سے سرفراز فرمائے گا یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب کی رحمت کے بغیر کوئی شخص جنت میں نہیں جاسکتا۔ صحابہ نے آپ ﷺ سے استفسار کیا۔ کیا آپ بھی رب کریم کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا میں بھی اپنے رب کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا۔ آپ کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ رب کریم کے کرم کے بغیر نہ کوئی ایمان لاسکتا ہے اور نہ ہی صالح اعمال کی توفیق مل سکتی ہے۔ ” اللہ “ ہی نیک اعمال قبول کرنے والا ہے اس لیے انسان جنت میں صرف رب کریم کی رحمت کے ساتھ ہی داخل ہوپائے گا۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ لَنْ یُّدْخِِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ قَالُوْا وَلَآ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ لَا وَلَآ أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَۃٍ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَلَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ إِمَّامُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَإِمَّا مُسِیْءًا فَلَعَلَّہٗ أَنْ یَّسْتَعْتِبَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المرضٰی، باب تمني المریض الموت ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی کو اس کے عمل جنت میں داخل نہیں کریں گے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! آپ بھی آپ نے فرمایا ہاں ! میں بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے۔ اس لیے میانہ روی اختیار کرو اور قریب قریب چلو۔ تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ نیک ہوگا تو اس کے اعمال میں اضافہ ہوجائے گا۔ وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ کرلے۔ “ مسائل 1۔ سچا ایمان اور صالح اعمال رکھنے والے اپنے رب کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے۔ 2۔ جنت میں داخل ہونا بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ 3۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ قیامت کے دن مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے ارشادات کے ساتھ کفر کرنے کا بنیادی سبب تکبر ہی ہوا کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نیک لوگوں کی جزا اور برے لوگوں کی سزا : 1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8) 2۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام : 160) 3۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص : 84) 4۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے جہنم ہے۔ (البقرۃ : 71) 5۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کی سزا جہنم ہے۔ (النازعات : 37) 6۔ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : 56) 7۔ مصلحین کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (الاعراف : 170) 8۔ نیک عمل کرنے والے کا عمل برباد نہیں ہوگا۔ (الکہف : 30) 9۔ نیکو کار کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ (التوبۃ : 120)
Ayahs 45:32–35

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ہمیں یقین نہیں تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اس وقت ان پر ان کی کی ہوئی برائیاں کھل جائیں گی اور وہ اسی کے پھیر میں آجائیں گے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم بھی تمہیں اسی طرح بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرلو

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے تکبر کا نتیجہ تھا کہ وہ قیامت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ذریعے یہ اعلان کروایا کہ لوگو ! قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے مگر تکبر کرنے والوں کو جب بھی کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ تو متکبر لوگ شک کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے کہ قیامت قائم ہوگی۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں اس لیے ہمیں ان پر یقین نہیں آتا۔ حالانکہ ان لوگوں کی بےیقینی کے باوجود قیامت قائم ہوگی اور ان کے سامنے ان کے برے اعمال پیش کردیئے جائیں گے۔ جس قیامت کا وہ مذا ق اڑاتے ہیں وہی انہیں گھیر لے گی انہیں کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کو تم نے فراموش کیا ہوا تھا آج ہم بھی تمہیں فراموش کیے دیتے ہیں۔ تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اب کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔ کیونکہ تم اللہ کی آیات کو مذاق کرتے تھے اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کردیا تھا۔ آج یہ لوگ نہ جہنّم سے نکالے جائیں گے اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔ مجرموں کو فراموش کردینے کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کردے گا۔ ان کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوں گے۔ 1 ۔ قیامت کے بارے میں شک کا کرنا۔ 2 ۔ مجرموں کا یہ کہنا ہے کہ قیامت کے دن فلاں فلاں بزرگ ہماری مدد کریں گے۔ 3 اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو مذاق کرنا۔ 4 دنیا کی زندگی سے دھوکہ کھانا اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو فراموش کردینا۔ یہ چاروں جرائم ایسے ہیں کہ ہر جر م انسان کو جہنّم میں لے جانے والا ہے۔ جب یہ لوگ جہنّم کی آگ میں جھونکے جائیں گے تو اس سے نکلنے کی تمنا کریں گے اور اپنے رب سے باربار معافی مانگیں گے۔ نہ ان کی توبہ قبول ہوگی اور نہ ہی انہیں جہنّم سے نکالا جائے گا۔ کیونکہ ان میں ہر جرم کی سزا دائمی ہوگی۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن مجرموں کا ہر جرم ان کے سامنے کردیا جائے گا۔ 2۔ جس قیامت کا مجرم انکار کرتے ہیں وہی انہیں گھیر لے گی۔ 3۔ جس طرح مجرم اپنے رب کی ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اسی طرح انہیں بھلا دیا جائے گا۔ 4۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق کرتے ہیں اور دنیا کی زندگی پر مطمئن ہوتے ہیں نہ ان کی توبہ قبول ہوگی اور نہ انہیں جہنّم سے نکالا جائے گا۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں میں بڑائی اسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے

فہم القرآن ربط کلام : الجاثیہ کی آیت 32 میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اللہ “ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوگی مگر قیامت کے منکر اس پر ایمان لانے کی بجائے اسے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کے اسباب پر اتراتے ہیں۔ حالانکہ ہر قسم کی بڑائی اور کبریائی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو ہر اعتبار سے غالب اور حکمت والا ہے۔ ” اللہ “ ہی کے لیے تمام تعریفات ہیں جو آسمانوں، زمینوں اور پوری کائنات کا رب ہے۔ زمین و آسمانوں میں ہر قسم کی کبریائی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ یہاں پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے تین مرتبہ ” رب “ کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق زمین و آسمانوں اور جو ان کے درمیان موجود ہے۔ وہ ” الْعٰلَمِیْنَ “ میں شامل ہے۔ ” الْعٰلَمِیْنَ “ کا لفظ استعمال فرما کر اپنی ساری مخلوقات کا احاطہ کرلیا ہے۔ جس کے بارے میں اس کا ارشاد ہے کہ میری مخلوقات کو میرے سوا کوئی نہیں جانتا (المدثر : 31) لفظ رب کے چار معانی ہیں۔ خالق، رازق، مالک اور بادشاہ یہاں بار، بار رب کا لفظ استعمال فرما کر ثابت کیا ہے کہ زمین و آسمان اور پوری کائنات کا صرف ایک ہی رب ہے۔ جب پوری کائنات کا ایک ہی رب ہے تو ہر قسم کی کبریائی اسی کو زیب دیتی ہے۔ وہ ہر اعتبار سے غالب ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ جب کبریائی صرف اسی کو زیب دیتی ہے تو پھر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے رب کی ذات اور اس کے احکامات کے سامنے سرنگوں ہوجائے۔ انسان کے لیے اسی میں دنیا اور آخرت کی بہتری ہے۔ جو لوگ اس کی ذات اور احکامات کے ساتھ تکبر کرتے ہیں انہیں سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کتنے سامنے بےبس ہیں اور ہوں گے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدَرِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالاَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ الْعِزُّ إِزَارُہُ وَالْکِبْرِیَاءُ رِدَاؤُہُ فَمَنْ یُنَازِعُنِی عَذَّبْتُہُ )[ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب باب تحریم الکبر ) ” حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عزت اللہ تعالیٰ کا ازار ہے اور کبریائی اس کی چادر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ان کو مجھ سے چھینے گا میں اس کو عذاب دوں گا۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرق ائق والورع ] ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے باپ سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کے پیپ پلائی جائے گی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں اور پوری کائنات کا رب ہے۔ 2۔ زمین و آسمانوں میں اللہ ہی کو کبریائی زیب دیتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے غالب ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 2۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو حکم کرتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 117) 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہے اس نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : 61) 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : 1) 6۔ اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے۔ ( المجادلۃ : 21) 7۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 20)