44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الدّخان کا تعارف الدّخان مکہ معظمہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ یہ سورت انسٹھ آیات اور تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام الدّخان ہے جو دسویں آیت میں موجود ہے۔ قیامت کے ایک مرحلہ پر آسمان دھوئیں کی شکل اختیار کر جائے گا اس لیے اس سورت کا نام الدّخان رکھا گیا۔ ربط سورة : سورة الزخرف کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اگر آپ مشرکین سے سوال کریں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو ان کا جواب ہوگا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے جو لوگ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود ایمان نہیں لاتے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ سورة الدّخان کی ابتداء بھی قرآن مجید کے تعارف سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مبارک رات میں نازل فرمایا جس میں ہر کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ فیصلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جو زمین و آسمانوں اور جو ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے۔ سورۃ الدّخان کا پہلا مضمون یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کا ایک ہی رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی موت وحیات کا مالک اور سب لوگوں کا رب ہے۔ یہ حقیقت ٹھوس اور واضح ہونے کے باوجود لوگ اس میں شک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا شک اس وقت ہی دور ہوگا جب ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس دن آسمان دھوئیں کی مانند ہوگا اور نافرمانوں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مجرموں سے بدلہ لے گا اس کے بعد فرعون کی غرقابی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ذلت آمیز مظالم سے نجات دی اور انہیں دنیا کی اقوام پر فضلیت اور برتری عنایت فرمائی۔ بنی اسرائیل نے اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا جس طرح قوم تبّع نے نافرمانی کی۔ سورة کے آخری رکوع میں جہنمیوں کی خوراک کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ ان کی غذا زقوم کا درخت ہوگا۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ان کے پیٹ میں کھلبلی پیدا کر دے گا۔ جہنمیوں کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جب یہ چیخ و پکار کریں گے تو کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا مزہ چکھو۔ کیونکہ تم دنیا میں اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتے تھے اور قیامت کے دن کے بارے میں شک کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی جنت میں امن و سکون کے ساتھ رہیں گے۔ انہیں پہننے کے لیے ریشم کا لباس دیا جائے گا۔ ان کی بیویاں جنت کی حوریں ہوں گی اور وہ جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے انہیں سب کچھ دیا جائے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ انہیں پہلی موت کے سوا پھر موت نہیں آئے گی۔ ان پر ان کے رب کا بڑا فضل ہوگا حقیقت میں یہی بڑی کامیابی ہے۔ سورة الدّخان کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان پر قرآن کو آسان فرما دیا تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اگر یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو ان سے ارشاد فرمائیں کہ تم اپنی جگہ انتظار کرو ہم اپنی جگہ انتظار کرتے ہیں۔

Ayah 44:1
Ayahs 44:2–6

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس واضح کتاب کی

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

ہم نے اسے ایک بڑی خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنا چاہتے تھے

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہمارے حکم سے ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

آپ کے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔ جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا معنٰی آپ سے پوچھنے کی ضرور محسوس فرمائی۔ لہٰذا حروف مقطعات کا معنٰی جانے بغیر ہی ان کی تلاوت کرنی چاہیے۔ حم ٓ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء اس بات سے کی ہے کہ اس کھلی کتاب کی قسم ! ہم نے اسے مبارک رات میں نازل فرمایا ہے۔ یقیناً ہم لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والے ہیں۔ جس رات میں قرآن مجید نازل کیا گیا اس میں ہر کام کے حکیمانہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے صرف ہماری طرف سے صادر ہوتے ہیں اور ہم ہی رسول کو بھیجنے والے ہیں۔ باالفاظ دیگر ہم نے اس رات فیصلہ صادر فرمایا کہ ایک صاحب کتاب رسول مبعوث کرنا چاہیے۔ کتاب مبین اور رسول کو بھیجنا سراسر آپ کے رب کی رحمت کا کرشمہ ہے۔ یقیناً وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ کچھ اہل علم نے کمزور روایات کی بنیاد پر لکھا ہے کہ مبارک رات سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ جسے شب برأت کہا جاتا ہے۔ یہ نام کسی حدیث سے ثابت نہیں کیونکہ شب فارسی زبان کا لفظ ہے اور برأت عربی کا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس رات کے بارے میں کچھ روایات ایسی ہیں جن سے اس رات کی کچھ نہ کچھ فضیلت معلوم ہوتی ہے لیکن جو فضائل اس رات سے منسوب کیے جاتے ہیں وہ سب کے سب اس رات کے بارے میں ہیں جس رات میں قرآن مجید نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس رات کو مبارک رات اور سورة القدر میں اسے عزت والی رات کہا گیا ہے۔ یہ رات رمضان المبارک میں آتی ہے کیونکہ قرآن مجید نے یہ بات کھلے الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید رمضان میں نازل کیا ہے۔ ( البقرۃ : 185) ۔ اس فرمان کے بعد اس رات کا قطعی فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ شعبان کی پندرہویں رات نہیں بلکہ یہ مبارک اور عزت والی رات رمضان المبارک میں آتی ہے۔ نبی ﷺ نے اس رات کی فضیلت اور نشاندہی فرمائی ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا ہے اور اسی رات میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں اہم فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ شب برأت نہیں بلکہ شب قدر ہے۔ جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو رحمت قرار دیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ جہاں یہ کتاب پڑھی جائے گی اور جن لوگوں پر اس کا نفاذ ہوگا اللہ تعالیٰ اس ملک اور ان لوگوں پر اپنی رحمت کا سایہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی نیت وعمل کو جاننے والا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ رسول اور کتاب بھیجنا آپ کے رب کی اپنے بندوں پر رحمت ہے تاکہ وہ صحیح عقیدہ اور صالح اعمال کریں اور اپنے رب کی رحمت کے دائمی طور پر حقدار ہوجائیں۔ مسائل 1۔ قرآن مجید روشن کتاب ہے۔ 2۔ اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکیمانہ فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو مبارک اور عزت والی رات نازل فرمایا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی رسول ﷺ کو بھیجنے والا ہے۔ 5۔ کتاب کے نزول اور رسول ﷺ کی آمد کا مقصد لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ 6۔ قرآن مجید کو نازل کرنا اور نبی ﷺ کو مبعوث فرمانا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کس مہینے اور رات میں نازل ہوا : 1۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل کیا گیا۔ (البقرۃ : 185) 2۔ قرآن مجید عزت والی رات میں نازل کیا گیا۔ (القدر : 1) 3۔ قرآن مجید مبارک رات میں نازل کیا گیا۔ (الدخان : 3) 4۔ اس رات اہم ترین فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ ( الدخان : 4)
Ayahs 44:7–9

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اس چیز کا رب جو آسمانوں وزمینوں کے درمیان ہے۔ اگر تم لوگ یقین رکھنے والے ہو

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تمہارا رب اور تمہارے ان آبا کا رب جو پہلے گزر چکے ہیں

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

مگر یہ لوگ اپنے شک میں مشعول ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے مبارک رات میں قرآن مجید نازل کیا ہے وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ قرآن مجید کا پہلا اور مرکزی پیغام ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات کی پہچان کروانا ہے۔” اللہ “ ہی سب کا رب ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو پیدا کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی کائنات کی موت اور زندگی پر اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔ اگر واقعی تم اس پر یقین کرنے والے ہو۔ لیکن اکثر لوگ اپنے رب کی ذات اور اس کی صفات میں شک کرتے ہیں۔ اہل علم کی تقسیم کے مطابق یہ توحید کی دوسری بڑی قسم ہے جسے توحید ربوبیت کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اکثر مقامات پر توحید ربوبیت کو توحید الوہیت کے اثبات کے لیے ذکر فرمایا ہے۔ توحید کی اقسام میں توحید الوہیت ہی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ جو شخص توحید الوہیت کا انکاریا اس میں ملاوٹ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔ توحید الوہیت کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی ذات اور اس کی صفات کا پوری طرح اقرار کرئے اور بلاشرکت غیرے اس کی عبادت کرے۔ لیکن لوگوں کی غالب اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں شک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ اس بات کو شغل کے طور پر لیتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے انہیں یہی کہا تھا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ اپنا تعارف رب کہہ کر کروایا ہے۔ لفظِ رب کے چار معانی ہے اور اس نام میں قربت اور شفقت پائی جاتی ہے۔ 1 ۔ پوری کائنات کو پیدا کرنے والا۔ 2 ۔ مخلوق کی تمام ضروریات کو پورا کرنے والا۔ 3 ۔ پوری کائنات کا مالک 4 ۔ پوری کائنات کا بادشاہ۔ (قَالُوْٓا اَجِءْتَنَا بالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ )[ الانبیاء : 55] ” انہوں نے کہا کیا تو ہمارے سامنے حقیقت پیش کر رہا ہے یا مذاق کر رہا ہے ؟ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا رب ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں کا رب ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے وہی کائنات کی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے۔ 4۔ لوگوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کو حقیقی رب ماننے کی بجائے دوسروں کو بھی رب کا درجہ دیتی ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمانوں میں صرف ایک ہی الٰہ ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60) 2۔ تمہارا الٰہ ایک ہے وہ رحمن اور رحیم ہے۔ (البقرۃ : 163) 3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا۔ کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61) 4۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62) 5۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63) 6۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64) 7۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 8۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : 71) 9۔ کیا اس الٰہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لے آئے ؟ (القصص : 72) 10۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88)
Ayahs 44:10–16

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

بس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان دھواں کی مانند ہوجائے گا

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے دردناک عذاب

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

کہیں گے کہ پروردگار ہم سے عذاب ٹال دے، اب ہم ایمان لاتے ہیں

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کے لیے نصیحت کس طرح ہوگی حالانکہ ان کے پاس واضح طور پر رسول آچکا ہے

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے منہ موڑ لیا اور کہا کہ یہ تو پڑھا لکھا پاگل ہے

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

اگر ہم عذاب ہٹا بھی دیں تو تم وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے ان تک حق پہنچا دیا تھا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منہ موڑے رکھا کہ یہ کسی کا پڑھایا ہوا اور پاگل شخص ہے۔ ہم کچھ مدت کے لیے عذاب ہٹا دیں گے مگر تم لوگ وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو بالآخر ایک دن ان کی سخت گرفت کریں گے اور ہم پوری طرح ان سے انتقام لیں گے۔ مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے دو موقف اختیار کیے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ان آیات میں جس دھویں اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے وہ قیامت کے دن کا دھواں ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ بیشک آسمان اور لوگوں کو گھیر لینے والا دھواں قیامت کے دن ضرور نمودار ہوگا۔ لیکن قیامت سے پہلے اس کا کچھ حصہ اہل مکہ پر اس وقت نازل ہوا جب نبی اکرم ﷺ نے اہل مکہ کے لیے قحط کی دعا کی تھی۔ جس کے نتیجے میں تین سال تک مکہ کی سرزمین پر بارش نہ ہوئی جس سے ایک طرف ان پر قحط مسلط ہوا اور دوسری طرف ثمامہ بن اثال نے اپنے علاقہ سے غلہ کی ترسیل روک دی جس وجہ سے اہل مکہ مردار کھانے پر مجبور ہوئے۔ قحط سالی کے عالم میں وہ جدھر دیکھتے بھوک اور موسم کی حدت کی وجہ سے انہیں ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ اس صورت حال سے مجبور ہو کر ابوسفیان نبی معظم ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہو کر درخواست کرتا ہے کہ یامحمد ! آپ کی قوم کے لوگ بھوکے مر رہے ہیں اس لیے آپ اپنے امتی ثمامہ بن اثال کو حکم جاری فرمائیں کہ وہ تاجرحضرات کو مکہ کی منڈی میں غلہ لانے کی اجازت دے اور اس کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعا کریں کہ وہ رحمت کی بارش نازل فرمائے۔ نبی کریم ﷺ نے ابوسفیان کی دونوں درخواستیں قبول فرمائیں۔ بارش کی دعا کی اور ثمامہ بن اثال کو خط لکھا کہ مکہ والوں کے لیے غلہ کی جاری کیا جائے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اس موقع پر ابوسفیان نے نبی ﷺ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر یہ عذاب ٹل جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن جب یہ عذاب ٹل گیا تو مکہ والوں نے پرانی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو کسی کا سکھلایا ہوا اور پاگل شخص ہے۔ قرآن مجید نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم کچھ مدت کے لیے عذاب ٹال دیں گے مگر یہ لوگ وہی کچھ کہیں اور کریں گے جو پہلے سے کررہیں۔ چناچہ عذاب ٹل جانے کے بعداہل مکہ اسی طرح کفر و شرک کرتے رہے جس طرح عذاب سے پہلے کیا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کی قیامت کے دن سخت پکڑ ہوگی اور ان کے کفر و شرک کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مجرموں سے سخت انتقام لینے والا ہے۔ اس کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے کہ جب تم نہ رسول کی بات سنتے ہو اور نہ چھوٹے بڑے عذاب سے سمجھتے ہو تو اس دن کا انتظار کرو جس دن دھواں چھا جائے گا اور تم فریادیں کرو گے کہ اے رب قیامت کا عذاب ٹال دے۔ اب ہم ایمان لاتے ہیں۔ کہا جائے گا کہ اب ایمان لانے اور نصیحت پانے کا وقت گزر گیا۔ جب تمہارے پاس رسول آیا اور اس نے تمہیں سمجھایا تو تم اسے پاگل کہتے تھے اور الزام دیتے تھے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ کسی سے پڑھ کر ہمیں سناتا ہے اور یہ شخص مجنون ہے۔ لہٰذا آج تم سے پوری طرح انتقام لیا جائے گا۔ ( عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِی ظِلِّ غُرْفَۃٍ لِرَسُول اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرْنَا السَّاعَۃَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آیَاتٍ طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوج الدَّابَّۃِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوق النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ )[ رواہ ابوداؤد : باب أمارات الساعۃ ] ” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم ﷺ کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ہم نے گفتگو کے دوران قیامت کا ذکر کیا اس کے ساتھ ہی ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ پوری ہوجائیں۔ 1 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، 2 دابہ جانور کا نکلنا، 3 یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، 4 دجال کا نکلنا، 5 عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا نازل ہونا، 6 دھواں کا ظاہرہونا 7 زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں 8 ایک مرتبہ مشرق میں 9 ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں ۔ آخری آگ یمن کے علاقہ سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مجرموں سے انتقام لینے والا ہے : 1۔ ان کے پاس ان میں سے رسول آئے لیکن انہوں نے تکذیب کی تب انہیں عذاب نے آلیا۔ (النحل : 113) 2۔ ان کے لیے کہا جائے گا تکذیب کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا رہو۔ (السجدۃ : 20) 3۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139) 4۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : 37) 5۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : 136) 6۔ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 10) 7۔ ہم مجرموں سے انتقام لیتے ہیں۔ (السجدۃ : 22)
Ayahs 44:17–22

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

ان سے پہلے ہم فرعون کی قوم کو اس آزمائش میں ڈال چکے ہیں ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول آیا

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

اور اس نے کہا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے اپنی نبوت کی واضح نشانی لایا ہوں

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اپنے رب اور تمہاررے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھے رجم کرو

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے باز ہو

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : 15، 16) ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بغاوت نہ کرنا کیونکہ میں تمہارے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ اس مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو کریم نبی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اور نبی ﷺ کے بارے میں رؤف رحیم اور رحمت للعالمین کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل جدو جہد کو اس مقام پر اشارات کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی طویل جدوجہد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے قوم فرعون کی طرف معزز رسول طرف معزز رسول کو بھیجا اور اس نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا جس کی مختصر روئیداد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ جب فرعون نے انہیں ماننے سے انکار کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سامنے دو عظیم معجزے پیش فرمائے۔ مگر فرعون نے انہیں جادوگر کہہ کر ٹھکرا دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل جدوجہد کے دوران فرعون کے ساتھ کئی معرکے ہوئے۔ مگر فرعون اور اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں راہ راست پر لانے کے لیے ان پر کئی عذاب نازل کیے لیکن پھر بھی وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ البتہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جد وجہد کا یہ نتیجہ نکلا کہ بنی اسرائیل کے علاوہ فرعون کی قوم کے نوجوان اور کچھ سر کردہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ جس کے رد عمل میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رجم اور قتل کرنے کی دھمکی دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہاری دھمکیوں کا کوئی ڈر نہیں کیونکہ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آچکا ہوں۔ اگر تم مجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو میرا راستہ چھوڑ دو ! مگر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا ایک دفعہ پھر قتل عام شروع کردیا۔ نہ معلوم یہ قتل عام کتنا عرصہ جاری رہا۔ بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور التجا کی کہ اے میرے رب ! یہ قوم جرائم میں آگے ہی بڑھتی جارہی ہے اس لیے آپ سے عاجزانہ التجا ہے ہے کہ اب انہیں تہس نہس کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی التجا قبول فرمائی اور انہیں مصر سے ہجرت کرجانے کا حکم دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آخری دفعہ پھر فرعون کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ میرا اور تمہارا رب ” اللہ “ ہے جس نے مجھے واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کیساتھ تمہاری طرف بھیجا ہے۔ میں اسی کی طرف سے امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یعنی جو کچھ میں تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں میری ذات کا کوئی عمل دخل نہیں اور جو کچھ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں وہ پوری ذمہ داری سے پیش کررہا ہوں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی سرکشی چھوڑ کر اس کی تابعداری اختیار کرو یہی تمہارے لیے بہتری کا راستہ ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی توحید سمجھانے کے ساتھ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہی معزز اور امانت دار رسول تھے۔ 4۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رجم کردینے دھمکی دی۔ 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ تمہیں اللہ کی سرکشی سے بازآنا چاہیے۔ 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم ایمان نہیں لاتے تو میرا راستہ چھوڑ دو ۔ 7۔ فرعون کے بےانتہا مظالم کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے مجرموں کی تباہی کی بدعا کی۔ تفسیر بالقرآن مجرم اقوام کی انبیائے کرام (علیہ السلام) کو دھمکیاں : 1۔ مشرکوں کی حضرت نوح (علیہ السلام) کو دھمکی اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کردیا جائے گا۔ (الشعراء : 116) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔ (مریم : 46) 3۔ حکمران اور قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینک دیا۔ ( الانبیاء : 68) 4۔ قوم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کرنے کی دھمکی دی۔ (ہود : 91 ) 5۔ مشرکوں کی حضرت لوط (علیہ السلام) کو دھمکی کہ اگر تو باز نہ آیا تو تمہیں شہر بدر کردیں گے۔ (الشعراء : 167) 6۔ فرعون کی ایمانداروں کو دھمکیاں کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھا دوں گا۔ (طٰہٰ : 71) 7۔ فرعون کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی کہ میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ ( الدخان : 20) 8۔ فرعون نے اپنی قوم کو کہا کہ میرا راستہ چھوڑ دو کیونکہ میں موسیٰ کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔ (المومن : 26) 9۔ مشرکوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اور تیرے ساتھ ایمان لانے والوں کو شہر سے نکال دیں گے۔ (الاعراف : 88) 10۔ یہودیوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو سولی پر لٹکایا لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس اٹھا لیا۔ ( النساء : 157۔ 158) 11۔ نبی ﷺ کو قتل اور ملک بدر کرنے کی سازش۔ (الانفال : 30) 12۔ نبی ﷺ کو اللہ کی ہدایت سے پھیر دینے کی سازش۔ (البقرۃ : 109)
Ayahs 44:23–29

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل پڑ تمہارا پیچھا کیا جائے گا

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

سمندر کو اس کے حال پر کھلا چھوڑ دے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

کتنے ہی باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیت اور شاندار محل چھوڑ گئے

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

کتنے ہی عیش کے سامان جن میں وہ مزے کر رہے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

ان کے پیچھے دھرے رہ گئے یہ ان کا انجام ہوا اور ہم نے دوسروں کو ان کا وارث بنا دیا

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا قبول فرمائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ ہجرت معمولی کام نہیں کہ پیغمبر کا دل اکتائے اور وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں اور چلاجائے۔ یہ مشکل ترین کام ہے جسے انتہائی مشکل ترین حالات میں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس پیغمبر کو بھی ہجرت کی اجازت دی گئی اس کے حالات اتنے پرکٹھن تھے کہ پیغمبر کا مزید وہاں رہنا سود مند نہیں تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو ہجرت کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر سے ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی اور یہ ہدایت کی کہ رات کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جاؤ لیکن یاد رکھنا کہ تمہارا تعاقب ضرور کیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہجرت کی اجازت ملنے پر اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ پوری احتیاط کے ساتھ فلاں دن اور فلان وقت سمندر کے فلاں مقام پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مصر کی سرزمین چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق ان کے ساتھی ہر شہر اور علاقے سے نکل کر سمندر کے اس مقام پر پہنچے جس کی انہیں نشاندہی کی گئی تھی۔ جن کی تعداد مؤرخین نے ایک لاکھ کے قریب بتلائی ہے اتنی تعداد میں مختلف شہروں اور علاقوں سے لوگوں کا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلنا اور ایک ہی مقام کی طرف رخ کرنا زیادہ دیر تک کس طرح خفیہ رہ سکتا تھا۔ ہجرت کرنے والوں نے بیشک پوری احتیاط کی۔ لیکن فرعون کی ایجنسیاں ان پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھیں۔ جونہی انہوں نے فرعون تک اطلاع پہنچائی تو فرعون نے انتظامیہ کو ان الفاظ میں حکم جاری کیا کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ جنہوں نے ہمیں بہت غصہ دلادیا ہے اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکس رہنا ہے۔ (الشعراء : 54 تا 56) فرعون کے حکم کے مطابق انتظامیہ کے لوگ اور بڑے بڑے لیڈر اپنے گھروں سے نکل کر اجتماعی شکل میں بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہیں۔ ان کے نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں ان کے باغات، چشموں، خزانوں اور عمدہ مکانوں سے نکالا اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنایا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے وقت سرکاری طور پر جو اعلان کیا اس کے الفاظ یہ تھے کہ لوگو ! اپنے اپنے شہروں سے باہر نکلو بیشک بنی اسرائیل تھوڑے ہیں لیکن ان کا پوری طرح تعاقب کرو یہ لوگ جانے نہ پائیں۔ انتظامی نقطہ نظر سے چاہیے تو یہ تھا کہ فو ج کے چند دستے اور سول انتظامیہ کی بھاری نفری بھیج کر نہتے اسرائیلیوں کو گرفتار کرلیا جاتا یا پھر مار مار کر ملک کی سرحد سے باہر نکال دیا جاتا۔ لیکن فرعون نے طیش میں آکر سول انتظامیہ اور فوج کے ساتھ وزیروں، مشیروں اور ملک بھر سے بڑے بڑے پارٹی لیڈروں کو اکٹھا کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا۔ ان کے اس طرح نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرماکر ثابت کیا ہے کہ یہ ہماری منشاء کے مطابق ہوا تاکہ ہم انھیں ان کے باغات، چشموں، خزانوں اور ان کے محلاّت سے بےدخل کریں اور دوسری قوم کو ان کی تمام چیزوں کا وارث بنائیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے فرعون اور اس کے لشکر و سپاہ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو وہ پکار اٹھے کہ ہم تو مارے گئے۔ (فَلَمَّا تَرَاءَ الْجَمْعَانِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰی اِِنَّا لَمُدْرَکُوْنَقَالَ کَلَّا اِِنَّ مَعِی رَبِّی سَیَہْدِیْنِی ) [ الشعراء : 61، 62] ” جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔ موسیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ “ (فَاَوْحَیْنَا اِِلٰی مُوْسٰی اَنْ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ) [ الشعراء : 63] ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعہ حکم دیا کہ سمندر پر اپنا عصا مار تو یکایک سمندر پھٹ گیا۔ اور اس کی ہر لہر بہت بڑے پہاڑ کی طرح کھڑی ہوگئی۔ “ ادھر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سمندر عبور کررہے تھے دوسری طرف فرعون اپنے ساتھیوں سمیت سمندر میں انہی راستوں سے داخل ہوا جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی گزر چکے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ ایک دفعہ پانی پر عصا مار کر راستے بند کردئیے جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر روک دیا کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر میں داخل ہونے دیں۔ جونہی وہ سمندر میں داخل ہوں تو اپنا عصا سمندر پر ماریں تاکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا جائے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طرح ہی کیا۔ جس کے نتیجے میں پہاڑوں کی طرح ٹھہری ہوئی لہریں چل پڑیں۔ فرعون اور اس کے ساتھی غرق کردئیے گئے۔ اس طرح فرعون اور اس کے ساتھی مہکتے ہوئے باغ، جاری چشمے، لہلہاتی ہوئی کھیتیاں، پُرشکوہ محلات اور بیش بہا عیش و عشرت کا سامان چھوڑ کر سمندر میں غرق ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری قوم کو ان کا وارث بنایا اور ان کے ڈوب مرنے پر نہ زمین کو رونا آیا اور نہ ہی آسمان نے آنسو بہائے اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی۔ ان آیات میں فرعون کی ترقی اور ان کی عیش و عشرت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی ان پر رونے کے لیے تیار نہ ہوا۔ جو لوگ فرعون اور اس کے وزیروں، مشیروں کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے اور ان کے استقبال کے لیے پہروں کھڑے رہتے تھے اور فرعون کے سامنے سرجھکاتے تھے۔ ان میں ایک نفس بھی ایسا نہیں تھا جس نے افسوس کا اظہار کیا ہو۔ جس کے لیے یہ الفاظ کہے گئے کہ ان پر نہ زمین روئی اور نہ آسمان کو افسوس ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہونے کے ساتھ ہر زبان میں محاورہ بھی ہے کہ جب بدترین شخص دنیا سے جاتا ہے تو اس پر افسوس کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ جہاں تک قوم فرعون کے بعد مصر کی سرزمین کے وارث بننے والوں کا تعلق ہے اس میں اہل علم کے دو آراء ہیں۔ بے شک تاریخ سے بنی اسرائیل کا آل فرعون کے محلاّت اور باغات کا مالک ہونا ثابت نہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید نے یہاں دوسری قوم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں لیکن سورة الشعراء میں کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ ہم نے آل فرعون کو غرق کیا اور بنی اسرائیل کو ان کے باغوں، چشموں اور محلّات کا مالک بنا یا۔ (الشعراء : 59) اس وضاحت کے بعد تاریخ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ جب کہ تاریخی ریکارڈ تسلسل کے ساتھ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل فلسطین کے ساتھ مصر کے بھی مالک ہوئے اور انہیں وہ سب کچھ ملا جو آل فرعون کے پاس ہوا کرتا تھا۔ حضرت عمر ؓ کا بیت المقدس کی فتح کے موقع پر ان آیات کی تلاوت کرنا : حضرت عمر ؓ جب بیت المقدس شہر کے قریب پہنچے تو ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر چاروں طرف نگاہ ڈالی۔ القدس کا دلفریب منظر اور شاندار مکانات سامنے تھے۔ دل پر ایک خاص اثر ہوا۔ عبرت کے لہجہ میں یہ آیت پڑھی۔ (کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَعُیُوْنٍ ) [ الدخان : 25] َُْْمسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبل از وقت بتلا دیا گیا کہ فرعون تمہارا تعاقب کرے گا۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے رات کے وقت ہجرت کی۔ 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ عصا مارنے پر سمندر کا پانی پہلے کی طرح ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ 4۔ فرعون اور اس کے ساتھی غرق کردئیے گئے۔ 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی امن وامان کے ساتھ سمندر پار کرگئے۔ 6۔ فرعون اور ان کے ساتھی اپنے باغات، بہتے ہوئے چشمے، لہلہاتی ہوئی کھیتیاں، بڑے بڑے محلات اور عیش و عشرت کا سامان چھوڑ کر سمندر میں غرق ہوئے۔ 7۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر کوئی ایک شخص بھی رونے کے لیے تیارنہ ہوا۔ 8۔ اللہ تعالیٰ نے مصر پر دوسری قوم کو اقتدار اور اختیار بخشا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ جسے چاہے زمین کا وارث بناتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کر کے دوسری قوم کو وارث بنایا۔ (الانعام : 6) 2۔ اے ایمان والو ! اگر تم دین سے مرتد ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ (المائدۃ : 54) 3۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے۔ یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (ابراہیم : 19۔ 20) 4۔ اگر اللہ چاہے تو تم کو فنا کر کے دوسری مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے مشکل نہیں۔ (فاطر : 16۔ 17) 5۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ (النساء : 123) 6۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے لے آئے۔ (الانعام : 133)
Ayahs 44:30–33

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

یقیناً فرعون حد سے گزر جانے والوں میں پرلے درجے کا زیادتی کرنے والا تھا

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور انہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں کھلی آزمائش تھی

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کا اذیت ناک عذاب سے نجات پانا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا غرق ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر میں غرقاب کیا کیونکہ وہ بڑا ہی عالی اور غالی انسان تھا۔ دنیا میں بڑے بڑے باغی اور سرکش انسان گزرے ہیں مگر کسی نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ فرعون ایساغالی اور متکبر انسان تھا کہ اس نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو جبراً اپنے سامنے جھکا یا کرتا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کو اذیت ناک سزائیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جنہیں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد کے نتیجے میں نجات عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں عذاب مھین کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور اسے جنت بڑی آزمائش قرا ردیا۔ اس ذلت ناک سزا کا تذکرہ قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ (وَ اِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمْوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ کْمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ)[ البقرۃ : 49] ” اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بد ترین عذاب دیتے تھے۔ وہ تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔ “ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کا احساس، آخرت کا خوف اور ان کے ماضی کے الم ناک دور کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا ہے کہ آج تم کمزور اور بےخانماں مسلمانوں پر ظلم کررہے ہو تمہیں وہ وقت بھی یاد رکھنا چاہیے جب فرعون تمہارے جوانوں اور نونہالوں کو سر عام ذبح کرتا تھا اور تمہاری ماؤں اور بہو ‘ بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ قرآن مجید نے اسے بلائے عظیم قرار دے کر ان تمام مضمرات کی طرف اشارہ کیا ہے جو مظلوم اور غلام قوم کو پیش آیا کرتے ہیں۔ ظالم لوگ مغلوب اور مظلوم قوم کی بہو بیٹیوں کے ساتھ وہ سلوک روا رکھتے ہیں جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل ! اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان عظیم کرتے ہوئے ان مظالم سے تمہیں نجات دلائی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے بد ترین دشمن کو ذلت کی موت دیتے ہوئے ہمیشہ کے لیے اسے نشان عبرت بنا دیا۔ اس سے دنیا میں تمہاری عظمت و سچائی اور بزرگی کی دھوم مچ گئی کہ بنی اسرئیل کے لیے دریا رک گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے بد ترین مغروروسفّاک، خدائی اور مشکل کشائی کا دعوی کرنے والا ڈبکیاں لیتے ہوئے دہائی دیتا رہا کہ لوگو ! میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے خدا پر ایمان لاتا ہوں لیکن آواز آئی کہ تیرا ایمان ہرگز قبول نہیں ہوگا اب تجھے آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔[ یونس : 91] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلت آمیز سزاؤں سے نجات دی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ذلت کی موت مارا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو پوری دنیا پر فضیلت اور عظمت عطا فرمائی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے بنی اسرائیل پر انعامات : 1۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام فرمائیں۔ (البقرۃ : 40) 2۔ بنی اسرائیل کو ساری دنیا پر فضیلت دی گئی۔ (البقرۃ : 47) 3۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ ( البقرۃ : 0 5) 4۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دی۔ (البقرۃ : 49) 5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف : 160) 6۔ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے بادلوں کا سایہ کیا اور من وسلویٰ نازل فرمایا۔ (البقرۃ : 57) 7۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73) 8۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243) 9۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص : 5) 10۔ ہم نے بنی اسرائیل کوا ذیت ناک عذاب سے نجات دی۔ (الدخان : 30)
Ayahs 44:34–36

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ ہماری پہلی موت کے سوا ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو اٹھا کر لاؤ

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم بھی گھمنڈ میں آکر کہتے ہو کہ دنیا کی موت ہی ہمارا آخری انجام ہے کیا انہیں معلوم نہیں کہ قیامت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا جن میں قوم آل فرعون کے ساتھ تبع بھی شامل ہے۔ قرآن مجید نے منکرین قیامت کو سمجھانے کے لیے عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ لیکن قیامت کا انکار کرنے والے بلادلیل اپنی بات اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں قرآن مجید کے دلائل کے ساتھ بار بار سمجھایا کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے گی۔ کوئی ڈوب کے مرے یا آگ میں جل کر خاکستر ہوجائے۔ ہر صورت اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا اور اس سے پورا، پورا حساب لیا جائے گا۔ اتنے واضح اور ٹھوس دلائل ہونے کے باوجود مکہ کے لوگ آپ ﷺ کے سامنے اس بات پر مصرّ تھے کہ بس آدمی جب مرجاتا ہے تو پھر اس نے دوبارہ زندہ نہیں ہونا۔ وہ یہ دلیل پیش کرتے کہ اگر واقعی قیامت آنی ہے تو ہمارے باپ دادا کو اٹھالائیں۔ ہم ان سے پوچھیں گے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے خاص طور پر حضرت ابر ہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عزیر، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں زندہ ہونے والے افراد کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور فرمایا۔ (وَقَالُوا أَءِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا۔ قُلْ کُونُوا حِجَارَۃً أَوْ حَدِیدًا۔ أَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا قُلِ الَّذِی فَطَرَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃ) [ بنی اسرائیل : 49 تا 51] ” اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔ فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے لیکن عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ “ مسائل 1۔ قیامت کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہونا۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والے سب سے بڑی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کو ہمارے سامنے لایا جائے تب ہم ایمان لائیں گے کہ واقعی قیامت قائم ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا : 1۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : 51) 2۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55) 3۔ اللہ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : 4) 4۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان ہے۔ (الروم : 27) 5۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11) 6۔ کیا اللہ کو اس بات پر قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو زندہ فرمائے۔ (القیامۃ : 40) 7۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے سامنے چار پرندوں کو زندہ کیا۔ (البقرہ : 260 ) 8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے سامنے ان کی قوم کے ستر سرداروں کو موت دے کر دوبارہ زندہ کیا۔ (الاعراف : 155 ) 9۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت دے کر دنیا میں دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243 ) 10۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سامنے ایک مقتول کو زندہ کیا۔ ( البقرۃ : 73) 11۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ فرمایا۔ (المائدۃ : 110) 12۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلاکر بیدار فرمایا۔ (الکہف : 25) 13۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کو سو سال مارنے کے بعد زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259 ) 14۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کے گدھے کو ان کے سامنے دوبارہ زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259)
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اس سے پہلے لوگ ہم نے ان کو اسی بنا پر تباہ کیا کیونکہ وہ مجرم تھے

فہم القرآن ربط کلام : آل فرعون اور اس کے ساتھیوں کا ظلم بیان کرنے کے بعد اہل مکہ کو قوم تبّع کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ فرعون اور قوم تبّع کی تاریخ سامنے رکھو ! جو اقتدار اور وسائل کے اعتبار سے تم سے بڑھ کر تھے۔ ان کے جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ تم ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو۔ اگر تم ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو پھر اپنے آپ کو ” اللہ “ اور اس کے رسول کے تابع کرلو۔ جس طرح فارس کا بادشاہ کسریٰ ، روم کا حکمران قیصر، مصر کا فرمانروا اپنے آپ کو فرعون کہلواتا تھا اسی طرح یمن کا بادشاہ تبع کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ تبع وہاں کی سب سے بڑی قوم تھی۔ یہ قوم یمن میں ممتاز سمجھی جاتی تھی۔ اس قوم نے یمن میں تین سو سال حکمرانی کی۔ قوت اور سطوت کے اعتبار سے ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ طویل اقتدار اور مال واسباب کی فراوانی نے اس قوم کو مغرور اور متکبر کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی اور ان پر ایسا زوال آیا کہ یہ گلی کے تنکوں سے بھی ہلکے ہوگئے۔ اس قوم کے لیے خیر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی فکرو عمل کے اعتبار سے بہتر ہونا نہیں بلکہ خیر سے مراد مال و اسباب کے لحاظ سے مکہ والوں سے بہتر ہونا ہے۔ کیونکہ ان کے مال کی طرف اشارہ فرما کر اہل مکہ کو سمجھایا ہے کہ تم قوم تبع سے مالی لحاظ سے بڑے نہیں بلکہ کمتر ہو۔ لیکن پھر بھی سرکشی اختیار کیے ہوئے ہو۔ اسی علاقے سے ہی وہ لوگ اٹھے تھے جنہوں نے بیت اللہ کو شہید کرنے فیصلہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ابابیل بھیج کر انہیں تہس نہس کردیا۔ جس کی تفصیل سورة الفیل کی تفسیر پڑھنی چاہیے۔ کچھ مفسرین نے اپنے مشرکانہ عقیدہ کی تائید اور زیب داستان کے لیے اسرائیلی روایات کی بنیاد پر تبع کی قوم کے اس بادشاہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ مدینہ کی سرزمین سے گزرہا تھا۔ اس کے اہل علم نے اسے بتلایا کہ یہاں آخر الزماں پیغمبر ﷺ تشریف فرما ہوں گے۔ اس نے اپنے اہلکار کے ذریعے نبی ﷺ کی خدمت میں خط لکھا جس میں یہ درخواست کی کہ آپ میرا اسلام قبول کریں اور قیامت کے دن میری سفارش فرمائیں۔ یہ خط جن لوگوں کے حوالے کیا۔ اس قبیلے نے اسے نسل درنسل محفوظ رکھا اور جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس قبیلے کے افراد نے وہ خط نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اس بادشاہ کا اسلام قبول کیا اور اس کے لیے دعا کی۔ (اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ )