Ayahs 43:2–4فہم القرآن
الشوریٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ ہم نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور ایمان کیا ہے۔ الزّخرف کی ابتدا اس بات سے ہو رہی ہے کہ وحی کی صورت میں جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کا نام قرآن ہے جو عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
حٰمٓ حروف مقطعات میں سے تین حروف ہیں۔ اب تک یہ چار سورتوں کی ابتدا میں آچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا مختلف الفاظ میں تعارف کروایا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی قسم اٹھا کر ارشار فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ یہ ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت ہے۔ یہ بڑی ہی عالی مرتبت اور پُر حکمت کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم اٹھا کر اس کی عظمت و حرمت میں مزید اضافہ فرمادیا ہے۔ یاد رہے کہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم اٹھانا جائز نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم اٹھائے۔ قسم اٹھانے سے مقصود لوگوں کے یقین کو مضبوط بنانا اور اس چیز کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ کلام کرنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں شامل ہے۔ اس لیے اس موقع پر قرآن مجید کی پانچ صفات کا ذکر کیا ہے۔ 1 قرآن مجید کتاب مبین ہے۔ مبین کا معنٰی ایسی کتاب جس کے ارشادات واضح اور اس کے احکام غیر مبہم ہیں۔ 2 قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ عربی تھے اور آپ ﷺ کے پہلے مخاطب بھی عربی بولنے والے تھے۔ عربی زبان نزول قرآن کے وقت سے لے کر اب تک اور قیامت تک ہر اعتبار سے جامع ترین زبان ہے اور رہے گی۔ کیونکہ قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے۔ اس لیے اہل مکہ کو سمجھایا گیا کہ تم اس کی مخالفت کرنے کی بجائے اس پر غور کرو کہ کیا کوئی انسان اس جیسا کلام کرسکتا ہے اور جو بعید ترین ماضی کے واقعات اور قوموں کے احوال اس میں بیان کیے گئے ہیں اس کا ریکارڈ کہیں موجود ہے ؟ پھر سوچو کہ قرآن مجید جو پیشین گوئیاں کررہا ہے اب تک کوئی اس میں ایک پیش گوئی غلط ثابت ہوئی ہے ؟ اس کے ساتھ ہی اس بات پر غور کرو کہ جنّت اور دوزخ کے بارے میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں کیا وہ اس سے پہلے محمد ﷺ نے آپ کے سامنے کبھی بیان کے تھے ؟۔ ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کوئی بات بھی محمد ﷺ نے کبھی نہیں کہی تھی۔ کیا محمد ﷺ نے اس سے پہلے چالیس سال کی زندگی میں کبھی جھوٹ بولا ہے ؟ تم اقرار کرتے ہو کہ حضرت محمد ﷺ تم میں الصادق اور الامین ہیں۔ جب یہ مبنی علیٰ الحق حقائق اور دلائل ہیں تو پھر تمہیں ہر صورت عقل سے کام لینا چاہیے۔ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور یہ اس کے ہاں لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔ یہ ہر اعتبار سے علوِّ مرتبت کی حامل اور پُر حکمت کتاب ہے۔ یہ اپنے اوصاف حمیدہ کے اعتبار سے لاریب اور جامع کتاب ہے۔” اُمِّ الْکِتَابَ “ کا لفظ استعمال فرما کر یہ بھی ارشارہ کردیا ہے کہ پہلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات کی یہ کتاب ترجمان اور محافظ ہے۔” جَعَلْنَاہٗ “ کا معنٰی اہل زبان نے ” اَنْزَلْنَا “ کے ساتھ کیا ہے۔ ” جَعَلَ “ کا لفظ قرآن مجید نے پیدا کرنے، بنانے اور حکم لگانے کے معنٰی میں بھی استعمال کیا ہے۔
مسائل
1۔ ح م حروف مقطعات میں شامل ہیں۔ 2۔ قرآن مجید ہر حوالے سے کتاب مبین ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ 4۔ قرآن مجید لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
5۔ عربی زبان جاننے والوں کو بالخصوص قرآن مجید پر غور وخوض کرنا چاہیے۔
6۔ قرآن مجید احکام اور ارشادات کے حوالے سے امّ الکتاب ہے۔
7۔ قرآن مجید ہر اعتبار سے عالی مرتبت اور پُر حکمت کتاب ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف حمید کی ایک جھلک :
1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ (لقمان : 3)
3۔ قرآن مجیدلوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے۔ (البقرۃ : 185)
4۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام : 92)
Ayahs 43:5–8فہم القرآن
ربط کلام : اگر لوگوں کا ایک طبقہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو کیا ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی راہنمائی نہ کرے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ مہربان ہے اور اس کی مہربانی کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے جس کے لیے اس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔
قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کا ترجمان، ان کے مضامین کا محافظ، پُر حکمت، عالی مرتبت اور عربی زبان میں ہے۔ اس کے باوجود اہل مکہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ ہر صورت قرآن مجید کی آوازکو دبا دیا جائے۔ اسی بنیاد پر وہ نبی کریم ﷺ کے جانی دشمن ہوچکے تھے۔ وہ کسی طرح بھی گوارہ نہیں کرتے تھے کہ ان کی قوم کے سامنے قرآن مجید کی دعوت پیش کی جائے۔ اس پر انہیں سمجھایا گیا ہے کہ کیا تمہاری ہٹ دھرمی اور مخالفت کی وجہ سے ہم قرآن کو حضرت محمد ﷺ پر نازل کرنا اور لوگوں کی راہنمائی کرنا چھوڑ دیں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تم سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول مبعوث کیے۔ لوگوں کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ جس کی پاداش میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ حالانکہ وسائل واسباب، قوت وسطوت کے اعتبار سے وہ تم سے بڑھ کر تھے۔ اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ وہ چند باغیوں کی خاطر اپنے بندوں پر کرم فرمانا ترک نہیں کرتا۔ وہ ” اَلرَّحْمٰنُ ‘ اور ” اَلْحَکِیْمُ “ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ سرکشی چھوڑ کر اس کی غلامی میں زندگی بسر کریں تاکہ انہیں دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت سے سرفراز فرمائے۔ وہ حکیم ہے۔ حکیم کا کام ہے کہ وہ پر حکمت طریقہ کے ساتھ بگاڑ کا سدھار کرے۔ حکیم مریض کی خیر خواہی کی خاطر اس کی غلطی اور غفلت سے درگزر کرتے ہوئے اس کا علاج جاری رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکیم اور سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اس نے ایک عرصہ تک مکہ میں نزول قرآن کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ چند سرداروں کو چھوڑ کر باقی لوگ اس سے ہدایت پائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کی ہجرت سے پہلے اور باقی فتح مکہ کے موقع پر قرآن مجید کی نصیحت سے سرفراز ہوئے اور دنیا و آخرت میں کامیاب ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ” رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ وَرَضُوْعَنْہٗ “ کے عظیم ترین اعزاز سے سرفراز فرمایا۔
لغت میں ذکر کے معنٰی یاد کرنا، کسی کی بزرگی بیان کرنا، یاد رکھنا، بات سمجھنا، سمجھانا، نصیحت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ چند ظالموں کی وجہ سے اپنے بندوں پر رحم کرنا نہیں چھوڑتا۔
3۔ نبی اکرم ﷺ سے پہلے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے ان سب کے ساتھ ان کی قوم نے مذاق کیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے ظالم قوموں کو ہلاک کردیا جو مکہ والوں سے قوت و سطوت میں کہیں زیادہ تھے۔
تفسیر بالقرآن
اقوام کا اپنے انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ سلوک :
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گذرتے تھے تو ان سے مذاق کرتے۔ (ہود : 38)
2۔ یہ مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (التوبۃ : 79)
3۔ وہ تعجب کرتے اور مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفٰت : 12) 4۔ جب وہ ہماری نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفٰت : 14)
5۔ جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو انہوں نے اس سے مذاق کیا۔ (الحجر : 11)
6۔ ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔ (الزخرف : 7)
7۔ لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جب کبھی رسول آئے تو انہوں نے ان کے ساتھ استہزاء کیا۔ (یٰس : 30)
8۔ جب بھی ان کے پاس آپ سے پہلے رسول آئے انہوں نے انہیں جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
9۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : 10)
Ayahs 43:9–10فہم القرآن
ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اقوام کا بنیادی اختلاف اللہ کی توحید تھا اور یہی اختلاف اہل مکہ کو نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ حالانکہ وہ مانتے تھے کہ کائنات کا خالق اور مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
اہل مکہ کا عقیدہ تھا کہ زمین و آسمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ مکہ والے یہ بھی اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے اور وہ کائنات کے ذرہ ذرہ کو جانتا اور اس کا خالق اور مالک ہے۔ جب بھی ان سے یہ سوال کیا جاتا تو وہ ان باتوں کا اقرار اور اظہار کرتے تھے۔ اس لیے انہیں فرمایا گیا ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اسی نے تمہارے لیے زمین میں راستے بنائے ہیں۔ عربی زبان میں مھد اس جھولے کو کہا جاتا ہے جس میں بچے کو سلایا جاتا ہے۔
دوسرے مقام پر زمین کو فرش قرار دیا ہے مگر یہاں اس کے لیے گہوارے کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی جس طرح ایک بچہ پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے، ایسے ہی تمہارے لیے اس عظیم الشان کُرّے کو پرسکون ٹھکانہ بنا دیا جو فضا میں معلق ہے، جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے۔ جو 66600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے جس کے پیٹ میں وہ آگ بھری ہے کہ پتھروں کو پگھلا دیتی ہے اور آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر کبھی کبھی تمہیں بھی اپنی شان دکھا دیتی ہے۔ مگر اسکے باوجود تمہارے خالق نے اسے اتنا پرسکون بنا دیا ہے کہ تم آرام سے اس پر سوتے ہو اور تمہیں ذرا جھٹکا تک نہیں لگتا۔ تم اس پر رہتے ہو اور تمہیں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ کُرّہ مُعلّق ہے اور تم اس پر سر کے بل لٹکے ہوئے ہو۔ تم اطمینان سے اس پر چلتے پھرتے ہو اور تمہیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ تم بندوق کی گولی سے بھی زیادہ تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو۔ بےتکلف اسے کھودتے ہو، اس کا سینہ چیرتے ہو طرح طرح سے اس کے پیٹ سے اپنا رزق اس سے وصول کرتے ہو، حالانکہ اس کی ایک معمولی سے جھرجھری کبھی زلزلے کی شکل میں آکر تمہیں خبردے دیتی ہے کہ یہ کس بلا کا خوفناک دیو ہے جسے اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن : جلد 4)
جہاں تک زمین میں راستوں کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام اور حکومتوں نے راستے بنائے تاکہ آمدروفت اور نقل وحمل آسان سے آسان تر ہوجائے۔ لیکن اگر راستوں کی تاریخ پر غور کیا جائے تو ہر علاقہ میں قدرت کی طرف سے ایسے راستے اور نشانات ضرور پائے جاتے ہیں جن کی مدد سے سڑکیں اور نئے راستے بنائے جاتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں پہاڑوں کی ساخت اس طرح بنا دی ہے کہ ان کے درمیان راستے بنا دئیے ہیں۔ جن کو ہزاروں سالوں سے انسان راستوں کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اگر پوری زمین چٹیل میدان ہوتی تو ابتدائی طور پر انسان کو راستے متعیّن کرنے میں مشکل ہوتی۔ اب بھی صحراؤں اور ریگستانوں میں جو راستے بنائے جاتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی نشان کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ جہاں زمین کے نشان نظروں سے دور ہوتے ہیں وہاں ستاروں کی مدد سے راستے متعین کیے جاتے ہیں۔ آج ایسے آلات ایجاد ہوچکے ہیں جن سے دن کے وقت بھی ستارے نظر آتے ہیں اور فاصلے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سہولت اس لیے عطا فرمائی ہے تاکہ اسے ایک علاقہ سے دوسرے علاقے تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ اس کے لیے ہدایت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ جس طرح منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے تم صحیح راستوں کا انتخاب کرتے ہو اسی طرح ہی جنّت میں داخلے کے لیے تمہیں اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ راستوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ جس کا بنیادی سنگ میل عقیدہ توحید اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔
مسائل
1۔ اہل مکہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ زمین و آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔
2۔ اہل مکہ کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر غالب اور سب کچھ جانتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر بسنے والوں کی سہولت کے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنے اور نقل و حمل کے لیے زمین میں راستے بنادیئے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
زمین کے بارے میں قرآن مجید کے ارشادات :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117) 3۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29)
4۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22) (الاعراف : 54)
5 (البقرۃ : 29) (النمل : 61) (النمل : 0 6) (النمل : 60) (یٰس : 34) (الروم : 8) (الزلزال : 1)
Ayah 43:11فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات کبریا نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا اور زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں راستے بنائے وہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔
قرآن مجید نے درجنوں مقامات پر بارش کو اللہ تعالیٰ کی قد رت کی نشانی کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ بارش کے فوائد بتلانے کے ساتھ یہ استدلال بھی لوگوں کے سامنے رکھا کہ بارش پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اسے ایک خاص مقدار اور انداز میں نازل کرتا ہے۔ سورة الشوریٰ کی تفسیر میں یہ بات عرض کی ہے کہ کبھی نہیں ہوا کہ بادل پورے کا پورا پانی پرنالے کی طرح ایک ہی جگہ انڈیل دے۔ اللہ تعالیٰ ہواؤں کے ذریعے بادلوں کو نہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ چلاتا ہے بلکہ پہاڑوں کی مانند دکھائی دینے والے بادلوں کو ہوائیں زمین پر گرنے نہیں دیتیں۔ بادلوں سے اس طرح پانی برستا ہے جس طرح آبشاریں پانی برساتی ہیں۔ اس طرح ہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ہر علاقے میں ایک خاص کوٹہ کے مطابق پانی برسایا جاتا ہے۔ لوگوں کے پانی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہے۔ اسی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ویران زمین کو ہریالی کا لباس پہناتا ہے جس زمین پر ویرانی کی وجہ سے آنکھ نہیں ٹکتی تھی۔ بارش کے بعد وہی زمین اس طرح سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے کہ آنکھ اسے بار بار دیکھ کر ٹھنڈک محسوس کرتی ہے۔ آدمی بارش پر غور کرے تو اسے فوراً اس بات پر یقین آجائے گا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے سبز و شاداب کھیتیاں پیدا کرتا ہے اسی طرح ہی قیامت کے دن لوگوں کو قبروں سے اٹھالے گا۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْنَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ )[ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اسی سے پیدا کیا جائے گا اور جوڑا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ایک خاص مقدار اور انداز میں آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش کے ذریعے مردہ زمین کو ہریالی بخشتا ہے۔
3۔ جس طرح ایک مدت کے بعد بیج زمین سے اگتا ہے اسی طرح ہی قیامت کے دن لوگوں کو زمین سے زندہ کرکے نکالا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
بارش اور زمین کے حوالے سے انسان کی پیدائش اور اس کی موت کا ثبوت :
1۔ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنا، زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (الانعام : 95)
2۔ اللہ سے بخشش طلب کرو وہ تمہیں معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : 10۔ 12)
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20) 4۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12)
5۔ حضرت آدم بد بودار مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (الحجر : 26)
6۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
7۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکہف : 37)
Ayahs 43:12–14فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات حق قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی اسی نے ہی ساری مخلوق کے جوڑے پیدا فرمائے ہیں۔ جوڑوں کا ذکر فرما کر اشارہ دیا کہ جس طرح ہر چیز کے جوڑے ہیں اسی طرح زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد زندگی ہے۔ یعنی دنیا کے بعد آخرت ہے۔
قیامت کے دن زندہ ہونے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جس ذات نے مردوں کو زندہ کرنا ہے اسی ذات نے ہر چیز کا جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر انسان سواری کرتے ہیں۔ اس کا حکم ہے کہ جب تم سواریوں پر سوار ہو تو اپنے رب کے اس انعام کو یاد کرو کہ اسی نے چوپاؤں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کیا ہے۔ جب تم ان پر اچھی طرح بیٹھ جاؤ تو یہ دعا پڑھو ! وہ ذات ہر قسم کے شرک اور کمزوریوں سے پاک ہے جس نے ہمارے لیے انہیں مسخر کردیا ہے ورنہ انہیں تابع کرنا ہمارے بس کی بات نہ تھی۔ اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی منتقل ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب سے انسان کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے ہی اس کی آمدروفت اور باربرداری کے لیے چوپاؤں کو پیدا کیا اور پھر انسان کو کشتی بنانے کا شعور بخشا۔ ابتداء آفرینش سے لے کر اب تک ذرائع مواصلات میں سب سے آسان ذریعہ چوپائے ہیں۔ جن پر نہ صرف انسان سواری کرتا ہے بلکہ ان کے گوشت سے دیگر فوائد بھی حاصل کررہا ہے۔ چوپاؤں پر غور فرمائیں ! کہ اونٹ اپنی قدو قامت اور جسامت کے اعتبار سے انسان سے کتنا بڑا ہے مگر ایک چھوٹا سا بچہ اسے نکیل ڈالے جہاں چاہتا ہے لیے پھرتا ہے۔ سینکڑوں اونٹوں پر مشتمل ریوڑ کو ایک دو آدمی جہاں چاہتے ہیں ہانک کرلے جاتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کے ذہنوں میں انسان کی برتری اور تابعداری پیدا کردی ہے۔ ہاتھی کو دیکھیں ! کتنا بڑا جانور، کس قدر لمبی سونڈ ہے مگر ایک فیل بان بیشک وہ بچہ ہی کیوں نہ ہو ہاتھی کو ادھراُدھر لیے پھرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انہیں انسان کے تابع نہ کرتا تو دس آدمی مل کر بھی ہاتھی پر قابو نہ پاسکتے تھے۔ پھر غور کیجیے ! کہ سائیکل سے لے کر ہوائی جہاز کی تکنیک انسان کے شعور میں کس نے پیدا کی ؟ نہ معلوم ! قیامت تک اللہ تعالیٰ انسان کے ذریعے کون کونسی ایجادات معرض وجود میں لائے گا۔ انسان کو چاہیے کہ جونہی سواری پر براجمان ہو تو وہ سنت نبوی کے مطابق دعائیں پڑھے۔ جس میں رب کا شکر بھی ہے اور اس کی طرف سے حفاظت کا بندوبست بھی۔
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ کہہ کر رکاب میں پاؤں رکھا، پھر سوار ہونے کے بعد فرمایا ” اَلْحَمْدُ الِلّٰہِ ، سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِےْنَ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ پھر تین مرتبہ ” اَلْحَمْدُ الِلّٰہِ “ اور تین دفعہ ” اَللّٰہُ اَکْبَرُ “ کہا، پھر فرمایا ” سُبْحَانَکَ “ لَااِلٰہَ اِلَّا اَ نْتَ “ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ “ اس کے بعد آپ ہنس دئیے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ فرمایا، بندہ جب ” ربِّ اغْفِرْلِیْ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے وہ فرماتا ہے کہ میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا اسے کوئی بخشنے والا نہیں۔ (رواہ الترمذی : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَکِبَ النَّاقَۃَ )
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے کشتیاں اور چوپائے اس لیے بنائے تاکہ لوگ ان پر سوار ہوسکیں۔
3۔ سواری پر بیٹھ کر اپنے رب کو یاد کرنا چاہیے اور یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ 4۔ ہر کسی نے اپنے رب کے پاس جانا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔ (النحل : 1)
2۔ اللہ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ شریکوں سے بلند وبالا ہے۔ (النمل : 3)
3۔ اللہ غائب اور حاضر کو جاننے والا ہے اور وہ شریکوں کی شراکت سے بلند وبالا ہے۔ (المومنون : 92)
4۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے بالا تر ہے۔ (النمل : 63)
Ayah 43:15فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کا اقرار کرنے کے باوجود مشرک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے۔ یہ اس کی واضح طور پر ناشکری کی دلیل ہے۔
اس جاری خطاب میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مشرکین کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو ان کا جواب ہوتا ہے اور ہوگا کہ زمین و آسمانوں کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد اپنی آٹھ قدرتوں اور نعمتوں کا ذکر فرمایا جس سے تمام انسان مستفید ہوتے ہیں۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کی خالقیّت کا اعتراف کرنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود ” اللہ “ کے بندوں میں سے کچھ بندوں کو اس کا حصہ بناتے ہیں۔ جو مشرک کفر اور اس کی ناشکری کی واضح نشانی ہے۔ قوم نوح (علیہ السلام) نے پانچ فوت شدگان کو اللہ تعالیٰ کا جز بنایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے بادشاہ کو رب تسلیم کیا۔ فرعون نے اپنے آپ کو ” رب الاعلیٰ “ کے طور پر منوایا۔ یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ عسائیوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم (علیہ السلام) کو رب کا جز بنایا۔ امت مسلمہ اس حد تک گراوٹ کا شکار ہوئی کہ ایک فرقہ پنچتن پاک کی محبت میں شرک کا ارتکاب کر رہا ہے۔ امت مسلمہ کی کثیر تعداد نے نبی ﷺ کو ” نور من نور اللہ “ کے طور پر متعارف کروایا اور یارسول اللہ کہہ کر آپ سے مدد مانگتے ہیں۔ کسی کو داتا گنج بخش کہا، کسی کو دستگیر کے لقب سے یاد کیا۔ کسی کو گنج بخش کے طور پر اور کسی کو امام بری، میری قسمت کردے ہری بھری کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ کسی کو عزت کا مالک سمجھتے ہوئے اس طرح پکارا جاتا ہے کہ شہباز قلندرمیری پت رکھنا۔ کسی کو لجپال کہا جاتا ہے نہ معلوم مشرکین نے کس کس کو کیا کیا اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ یہاں شرک کو پرلے درجے کی ناشکری قراردیا گیا ہے۔ شرک کرنے والا اس لیے ناشکرا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزت و عظمت کی خاطر اسے صرف اپنے سامنے جھکنے اور دردر کی ٹکروں سے بچنے کا حکم دیا۔ لیکن مشرک عقیدہ توحید پر راضی اور شکرگزار ہونے کی بجائے دردر کی ٹھوکروں کو اختیار کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسان کی ناشکری کیا ہوسکتی ہے ؟ اسی حالت کے بارے میں ارشاد فرمایا۔
” یکسو ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک بنائے گا گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “ [ الحج : 31]
Ayahs 43:16–19فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کے بندوں میں کسی کو اس کا جز بنانے کا ثبوت۔
اہل مکہ نے خود ساختہ تصورات کی بنیاد پر کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا جز اور کچھ کو اس کی صفات کا مظہر بنا رکھا تھا۔ جن شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا جز قرار دیتے تھے ان میں ملائکہ بھی شامل تھے۔ ملائکہ کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کی مردہ فطرت کو بیدار کرنے کے لیے ان کی اپنی نفسانی خواہش پیش کر کے سوال کیا گیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کی ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کرتا ہے ؟ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ کالاہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا جو زیور میں پرورش پائے اور کسی بحث کے دوران اپنا مؤقف کھول کر بیان نہ کرسکے اسے ” الرحمن “ کے لیے پسند کرتے ہو اور اپنے لیے اسے عار سمجھتے ہو۔ غور کرو کہ یہ کیسی سوچ اور فیصلہ ہے ؟ جس بنا پر تم نے ملائکہ کو ” الرحمن “ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے حالانکہ ملائکہ اس کے غلام ہیں۔ کیا یہ بات کہنے والے اس وقت موجود تھے ؟ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو اپنی بیٹیاں قرار دیا تھا کہ ان کی گواہی لکھ لی جائے۔ ایسی بات ہرگز نہیں ہوئی لہٰذا اس ہرزہ سرائی اور یہ عقیدہ رکھنے والوں کو قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے والوں سے اللہ تعالیٰ نے پہلے تو بیٹیوں کی ولادت کے وقت جو ان کی حالت ہوتی ہے اس کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد ان سے دوسوال کیے ہیں۔
اولاد کی ضرورت انسان کو تین وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے۔
1 نسل کا تسلسل قائم رکھنا۔ 2 فطری جذبہ اور محبت کے تحت اولاد کی خواہش کرنا۔ 3 اولاد اپنے ماں باپ کا سہارا ہوتی ہے اس لیے ہر ماں باپ اولاد کا طلبگار ہوتا ہے لیکن والدین بیٹی کی بجائے بیٹے پسند کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تینوں قسم کے جذبات سے مبرّا ہے لہٰذا اسے اولاد کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک فرشتوں کا معاملہ ہے وہ اس کی بیٹیاں نہیں بلکہ وہ اس کے عاجز اور تابع فرمان غلام ہیں جو اس کے حکم کے مطابق اس کی طرف سے تفویض کردہ کام سرانجام دیتے ہیں ان کی کیا مجال کہ وہ بال برابر بھی نافرمانی کر پائیں۔
2 ۔ انسان اپنی فطرت اور ضرورت کے تحت بیٹیوں کی بجائے بیٹے پسند کرتا ہے۔ بیٹی پیدا ہونے سے والدین اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ محسوس کرتے ہیں اور بیٹے کو اپنا مددگار اور سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں اور کمزوریوں سے مبرّا اور ماورأ ہے۔ اس لیے اسے بیٹے اور بیٹی کی ضرورت نہیں اور نہ اس کی شان ہے کہ وہ کسی کو بیٹا یا بیٹی بنائے۔ یہاں تک بیٹی کا معاملہ ہے وہ تو فطری طور پر مرد کے مقابلے میں ناتواں ہوتی ہے اور طبعی طور پر اچھے لباس اور زیور کو پسند کرتی ہے۔ وہ اپنی فطری حیا کی وجہ سے جھگڑے کے وقت اپنی بات کھل کر بیان نہیں کرسکتی۔ عورت میں فطری طور پر مرد کے مقابلے میں حیا زیادہ ہوتی ہے۔ اعصابی اور ذہنی اعتبار سے بھی عورت مرد کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی مرد کے ساتھ اس کا جھگڑا ہوجائے توحیا اور جذبات سے مغلوب ہو کر اپنا مؤقف بھی کھل کر بیان نہیں کرسکتی بیشک اس کا جھگڑا خاوند کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا معاملہ بزرگوں کے سامنے پیش ہو تو اکثر عورتیں اپنی بات کرتے ہوئے رو پڑتی ہیں۔
بیٹیاں آزمائش ہیں :
ماں، باپ کے لیے ساری اولاد آزمائش ہوتی ہے بالخصوص بیٹیاں بڑی آزمائش ہیں۔
(اِِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ وَّاللّٰہُ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) [ التغابن : 15]
تمہارا مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے اور ” اللہ “ کے ہاں برا اجر ہے۔ “
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ عَالَ ثَلاَثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ فَلَہُ الْجَنَّۃُ ) [ رواہ ابو داؤد : باب فِی فَضْلِ مَنْ عَالَ یَتَامَی ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تین بچیوں کی پرورش کی انہیں ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ “
مسائل
1۔ بعض مشرک ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں حالانکہ اپنے لیے وہ بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
2۔ اکثر باپ بیٹی کی خوشخبری سن کر غم زدہ ہوجاتے ہیں۔
3۔ عورت فطری طور پر زیور کو پسند کرتی ہے اور جھگڑے کے وقت اپنا مؤقف کھل کر بیان نہیں کرسکتی۔
4۔ بعض مشرک ملائکہ کو خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانے والوں کو قیامت کے دن اچھی طرح پوچھ گچھ کی جائے گی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینے کا گناہ اور اس کی سزا :
1۔ ” اللہ “ اولاد سے پاک ہے۔ (الانعام : 101) 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم [ خدا نہیں اللہ کے بندے تھے۔ (المائدۃ : 75)
3۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم ہے۔ (مریم : 91، 92) 4۔ اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد۔ (الجن : 3)
5۔ اللہ تعالیٰ کو کسی نے جنم نہیں دیا نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے۔ (الاخلاص : 3)
6۔ کیا تمہارے رب نے تمہیں بیٹے دئیے ہیں اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا ہے ؟ یہ بڑی نامعقول بات ہے۔ (بنی اسرائیل : 40)
7۔ انہوں نے کہا اللہ کی اولاد ہے حالانکہ وہ اس سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116)
8۔ انہوں نے کہا ” الرحمن “ کی اولاد ہے حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ (الانبیاء : 26)
9۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہے نہ اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے۔ (المومنون : 91)
Ayahs 43:20–22فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن مشرک سے اس کے شرک کے بارے میں ہر صورت سوال ہوگا۔ دنیا میں اس سے اس کے شرک کے بارے میں سوال کیا جائے اور اس کو اس کے باطل عقیدہ کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ سمجھنے کی بجائے مختلف قسم کے بہانے پیش کرتا ہے۔ اس کے بہانوں میں سے ایک بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرکیہ عقیدہ اختیار نہ کرتے۔
قرآن مجید نے ہر قسم کے دلائل کے ساتھ مشرکین کو یہ بات سمجھائی ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے اور نہ ہی اس نے اپنی خدائی میں کسی کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے۔ مشرکین مکہ کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی آج کا مشرک اس کا جواب دے سکتا ہے اور نہ کوئی آئندہ اس کا جواب دے سکے گا۔ اس کے باوجود مشرکین دیگر بہانوں کے ساتھ یہ بہانے بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو ہم کس طرح شرک کرسکتے ہیں ؟ اس کے جواب میں فرمایا ہے کہ درحقیقت ان کے پاس علم نہیں جس وجہ سے یہ اٹکل پچو بیان کرتے ہیں۔ جو حقیقی معنوں میں شریعت کا علم جانتا ہے وہ اس قسم کی بےمعنٰی باتیں نہیں کرتا۔ مشرک کے پاس علم نہ ہونے کا دوسرامعنٰی یہ ہے کہ کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک آزادی دے رکھی ہے۔ چاہے تو ہدایت قبول کرے نہ چاہے تو گمراہی کے راستے پر چلتا رہے۔ علم نہ ہونے کا صاف معنٰی ہے کہ مشرک جاہل ہوتا ہے کیا ان کے پاس پہلی آسمانی کتابوں میں سے کوئی آسمانی کتاب ہے کہ جس کی بنیاد پر اپنے باطل عقیدہ کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ ان الفاظ کے مخاطب اہل مکہ ہیں کیونکہ ان کے پاس قرآن مجید سے پہلے کوئی کتاب نہیں آئی تھی۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد عقیدہ توحید پر ہے اور توحید کے دلائل آسمانی کتابوں میں دیئے گئے ہیں یہی حقیقی اور ٹھوس علم ہے اس کے علاوہ ایمان کی حقیقی تشریح کہیں اور جگہ نہیں ملتی اور نہ ہی وہ قابل قبول ہوگی۔ کیونکہ علم کی حقیقی بنیاد وحی ہے۔ مشرکین مکہ سے ان دلائل کا جواب نہ بن پڑا تو کہنے لگے کہ ہم تو اسی راستے پر چلتے رہیں گے جن پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو چلتے ہوئے پایا۔ قرآن مجید نے دوسرے موقع پر اس کا جواب یہ دیا ہے۔ کیا ان کے باپ دادا دین کی سمجھ اور ہدایت نہ رکھتے ہوں اس کے باوجودبھی یہ لوگ ان کا راستہ اختیار کریں گے اس سے بڑھ کرے بےعقلی اور گمراہی کی کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ (البقرۃ : 170)
مسائل
1۔ مشرک بہانہ پیش کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔
2۔ حق کے منکر اپنے آباء اجداد کی تقلید کو ہدایت کی دلیل سمجھتے ہیں۔
3۔ مشرک جہالت کی بنا پر گمراہی پر قائم رہتے ہیں۔ 4۔ مشرک حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
علم کی حقیقت اور اس کا فائدہ :
1۔ صاحب علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ (الزمر : 9)
2۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : 11)
3۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو علم عطا کیا۔ (النمل : 15) 4۔ یقیناً اللہ سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔ (فاطر : 28)
5۔ ہم لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں مگر ان کو عالم لوگ ہی سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت : 43)
6۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ کچھ بتلایا جو یہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق : 5) 7۔ انسان کو رحمٰن نے قرآن سکھایا۔ (الرحمن : 2)
8۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنا سکھایا۔ (العلق : 4) 9۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھلایا۔ (الرحمن : 4)
10۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا۔ (البقرۃ : 31) 11۔ فرشتوں نے بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ سے سیکھا۔ (البقرۃ : 32)
Ayahs 43:23–25فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح کے بہانے مشرکین مکہ پیش کرتے تھے۔ اسی طرح کے بہانے پہلے لوگوں نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیے۔ بہانے پیش کرنے والوں میں سر فہرست ان کا مال دار طبقہ تھا۔
نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے اطمینان کی خاطر بتلایا گیا کہ آپ سے پہلے جس بستی میں بھی رسول مبعوث کیا گیا وہاں کے سرمایہ دار طبقہ نے اپنے نبی کے سامنے یہی بہانہ پیش کیا کہ ہم اسی راستے پر چلتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہم اپنے بزرگوں کا مذہب اور کلچر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہر قوم کے نبی نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے بہترین راہنمائی لایا ہوں۔ کیا پھر بھی تم اپنے باپ دادا کے دین اور رسم و رواج کو اپنائے رکھو گے ؟ ان لوگوں نے کھلے الفاظ میں کہا ہاں ہم تمہاری بات اور طریقے کا انکار ہی کرتے رہیں گے۔ جب یہ لوگ ایک حد سے آگے بڑھ گئے اور انہوں نے اپنے پیغمبر کا رہنا سہنا محال کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بغاوت کا انتقام لیا۔ تاریخ کے اوراق اور ان قوموں کے آثار دیکھو ! انبیاء ( علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ ان آیات میں یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ ہر قوم کے مال دار طبقہ کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے جو باطل تحریکوں اور تنظیموں کی اس لیے بشت پنا ہی کرتی ہے تاکہ وہ اپنے سے پہلے لوگوں کی تہذیب اور رسومات کا بہانہ بنا کر اپنی عیش و عشرت کو جاری رکھ سکیں یہی کچھ اہل مکہ نبی آخر الزمان ﷺ کے ساتھ کررہے تھے اور یہی ہر دور میں ہوتا آرہا ہے۔
مسائل
1۔ مال دار طبقہ کی اکثریت نے ہر دور کے نبی کی مخالفت کی ہے۔
2۔ بالخصوص مال دار طبقہ باطل تحریک اور تہذیب و تمدن کی حمایت کرتا ہے۔
3۔ بڑے لوگوں کی اکثریت نے ہمیشہ سے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کیا ہے۔
4۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں سے اللہ تعالیٰ نے انتقام لیا۔
تفسیر بالقرآن
بے دین مال دار طبقہ کا کردار اور انجام :
1۔ مالدار بخل کو اپنے لیے اچھا خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : 180)
2۔ جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں فسق و فجور کرتے ہیں تو اس بستی پر بات ثابت ہوجاتی ہے پھر ہم اسے بری طرح برباد کردیتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 16)
3۔ جب بھی ہم نے کسی بستی میں رسول بھیجا تو مالدار لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔ (الزخرف : 23)
4۔ کبھی ایسا نہیں ہوا ہم نے کسی بستی میں رسول بھیجا ہو اور اس کو مالدار طبقے نے نہ جھٹلایا ہو۔ ( سبا : 34)
5۔ جو کچھ زمین میں ہے وہ باعث آزمائش ہے۔ (الکہف : 7)
6۔ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں قلیل اور حقیر ہے۔ (التوبۃ : 38)
7۔ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے۔ (العنکبوت : 64) 8۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے۔ (آل عمران : 185)
9۔ لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی معمولی فائدہ ہے۔ (الرعد : 26)
Ayahs 43:26–28فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح ہر قوم کے حکمران اور امیر لوگوں نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج پر قائم رہے۔ اسی طرح ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم باطل عقیدہ اور اپنے رسم و رواج پر قائم رہے۔
اہل مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کا وارث سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی طریقہ سے اپنے رب کی عبادت کرتے تھے جس انداز میں ہم عبادت کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں اس بات کی تردید کی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا شرکیہ عقیدہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مشرکین کے ساتھ کوئی واسطہ تھا وہ صرف اور صرف زمین و آسمان کے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی طرف لوگوں کو بلانے والے تھے اور اپنے عقیدہ میں یکسو تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے توحید کی دعوت اپنے والد کے سامنے پیش فرمائی اور اپنی قوم کو باربار سمجھایا کہ اے میری قوم ! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان سے لاتعلق ہوں۔ میں تو صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری راہنمائی کرتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) یہی عقیدہ اور دعوت اپنی اولاد میں چھوڑ کرگئے تاکہ ان کی اولاد ہر حال میں اپنے رب کی عبادت کرے اور اس کی طرف رجوع کرتی رہے۔ اے اہل مکہ تم اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سمجھتے ہو اور ان کی ملت کے دعوے دار ہو۔ لہٰذا تمہیں نبی ﷺ کی دعوت کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ آپ ﷺ اسی بات کی دعوت دیتے ہیں لیکن تم اس طرح ہی مخالفت کر رہے ہو جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ، اس کی قوم اور حکمران طبقہ نے کی تھی۔
(وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْن اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْن وَ وَصّٰی بِھَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبُ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَ اِلٰہَ اٰبَآءِکَ اِبْرَھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ) [ البقرۃ : 130 تا 133]
” دین ابرہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جس نے اپنے آپ کو بیوقوف بنا لیا ہے۔ بلا شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے۔ جب اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرمانبردار ہوجاؤ اس نے عرض کی میں نے اپنے اپ کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا ہے۔ ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا لیا ہے تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے۔ کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے ؟ جب اس نے اپنی اولاد کو فرمایا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ سب نے جواب دیا کہ تیرے معبود کی اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل، اور اسحاق کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ “
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کے عقیدے سے برأت کا اعلان کیا تھا۔
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں کے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے۔
3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہمیشہ خالق حقیقی کی طرف لوگوں کو بلایا۔
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو توحید کی دعوت دی اور اسی عقیدے پر پکے رہنے کی تلقین فرمائی۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور دعوت :
1۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : 16)
2۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : 79)
3۔ مشرکین نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کا الاؤ جلایا اور انہیں آگ میں ڈال دیا۔ ( الصّٰفّٰت : 97)
Ayahs 43:29–31فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مختصر ذکر کرنے کے بعد اب پھر اہل مکہ کو برائے راست مخاطب کیا گیا ہے۔
اہل مکہ تعصّب میں آکر اس قدر بوکھلا چکے تھے کہ وہ کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ جس بنا پر نئی سے نئی بات اور انوکھے سے انوکھا الزام لگاتے تھے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پہ مہلت دئیے جارہا تھا۔ جب کسی ظالم شخص کو طویل مدت تک مہلت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا۔ اہل مکہ بھی اپنے آپ کو حق پر گمان کرتے تھے۔ ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کی گمراہی اور مخالفت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم انہیں مہلت دئیے جا رہے ہیں۔ جبکہ ان میں حضرت محمد ﷺ واضح حق کے ساتھ مبعوث کردئیے گئے ہیں۔ کفار کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی ان کے پاس حق پہنچا تو انہوں نے اسے جادوقرار دیا اور کہا کہ ہم کھلے بندوں حق کا انکار کرتے ہیں۔ یہی اہل مکہ کا تھا ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے واقعی قرآن کسی شخص پر نازل کرنا ہوتا تو مکہ اور طائف کے بڑے سرداروں میں سے کسی ایک پر نازل کیا جاتا۔ نبوت کے لیے وہ ابوجہل اور طائف کے سرداروں کا نام لیتے تھے۔ قرآن مجید میں اس بات کے اور بھی جواب دیئے گئے ہیں جن میں ایک جواب یہ ہے کہ کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرنے والے ہیں یا آپ کا رب اسے تقسیم اور نازل کرنے پر اختیار رکھتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ہر قسم کے اختیارات اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہیں اور وہ اپنی رحمت اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے والا ہے۔ یہاں رحمت سے پہلی مراد نبوت اور دوسری مراد معیشت ہے۔
(اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ ) [ الانعام : 124]
” اللہ زیادہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں بھیجے۔ عنقریب ان لوگون کو جنہوں نے جرم کیے اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا۔ اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “
(مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ اللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ ذُوْ الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ [ البقرۃ : 105]
” نہ اہل کتاب کے کافر اور نہ ہی مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی نازل ہو اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرماتا ہے۔ اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
مسائل
1۔ اکثر لوگ اپنے رب کی دی ہوئی مہلت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔
2۔ کفار کے پاس جب بھی حق آیا انہوں نے اس کا انکار ہی کیا۔
3۔ اہل مکہ کا یہ بھی اعتراض تھا کہ نبّوت طائف یا مکہ کے کسی سردار پر نازل ہونی چاہیے تھی۔
4۔ کسی کو الرّسول منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنا رسول نامزد کرتا ہے۔
5۔ نبی ﷺ کے بعد قیامت تک نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار اور مشرکین کا حق کے ساتھ رویہ :
1۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : 35)
2۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل کیا جاتا۔ (ھود : 12)
3۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ : 55)
4۔ کفار اور مشرکین نے نبی ﷺ کو جادوگر کہا۔ (الذاریات : 52) 5۔ کفار اور مشرکین نے کہا یہ نبی کذاب اور جادوگر ہے۔ ( ص : 4)
Ayah 43:32فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کا اعتراض تھا کہ نبوت کسی مالدار شخص کو ملنی چاہیے تھی ان کے جواب میں دولت اور نبوت میں فرق بتلایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان سماجی، سیاسی اور معاشی تفاوت اس لیے قائم فرمایا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کریں اور دنیا کا نظام چلتا رہے۔ اے نبی ﷺ ! یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عزت و احترام، مقام اور شان آپ کو عطا فرمایا ہے وہ اس سے کروڑہاگنا بہتر ہے جو کچھ یہ لوگ کماتے اور جمع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان جو تفاوت قائم فرمایا ہے اس کی بنیادی حکمت اور مقصد یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھیں۔ اسی اصول کے پیش نظر بادشاہ کو وزیروں، مشیروں اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ وزیر، مشیر اور انتظامیہ بادشاہ کے ساتھ تعلق رکھنے میں مجبور ہیں۔ کارخانے دار کو مزدور کی ضرورت ہے۔ مزدور کارخانے میں کام کیے بغیر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتے۔ لینڈ لارڈ زرعی آلات رکھنے کے باوجود مزارع اور مزدور کے بغیر زمیندارا نہیں کرسکتا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔
متحدہ پاکستان کے دور میں پاکستان دو صوبوں پر مشتمل تھا، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان اسے پاکستان کہا جاتا تھا۔ جس کا موجودہ پاکستان ایک صوبہ تھا۔ 1958 ء سے لے کر 1966 ء تک اس کا گورنر نواب آف کالا باغ تھا۔ جو بڑا منتظم اور سخت گورنر شمار ہوتا تھا۔ اس کے دور میں پشاور شہر کے خاکروبوں نے ہڑتال کی۔ شہر کے میئر اور صوبائی وزراء نے خاکروبوں سے بار بار مذاکرات کیے لیکن خاکروبوں نے یہ شرط پیش کی کہ جب تک صوبائی گورنر ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کی براہ راست گارنٹی نہیں دیتے اس وقت تک ہم ہڑتال ختم نہیں کریں گے اس دور میں فلش سسٹم کا نیٹ ورک جامع اور شہر کی ضرورت کے مطابق نہیں تھا۔ خاکروبوں کی ہڑتال طول پکڑ گئی جس وجہ سے شہر میں شدید تعفن پیدا ہوا اور کئی قسم کی بیماریوں نے شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شہر کے لوگوں نے مجبور ہو کر گورنر سے اپیل کی کہ وہ پشاور تشریف لا کر خاکروب حضرات سے مذاکرات کریں تاکہ شہر میں صفائی کا نظام بحال ہو سکے لیکن گورنر نے یہ مطالبہ مسترد کردیا۔ ہڑتال کو زیادہ دن ہوئے تو پشاور میں وباء نے شدت اختیار کرلی جس وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہسپتالوں میں داخل ہوئے جس سے مجبور ہو کر میر محمد خان پشاور گئے اور خاکروبوں کے مطالبات تسلیم کیے تب جا کر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ بظاہر ایک شہر کا واقعہ ہے لیکن یہ اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک دوسرے کا محتاج بنایا ہے۔
باہمی ضرورت اور مفاد کے تحت بڑے اور ترقی یافہ ممالک چھوٹے ملکوں کے رابطہ رکھنے پر مجبور ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ لوگ بقائے باہمی کی بنیاد پر آپس میں رابطہ رکھیں اور بحیثیت انسان ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنی رحمت کا مالک ہے اور وہی لوگوں پر رحمت نازل فرمانے والا ہے۔
2۔ یہاں رحمت سے پہلی مراد نبوت ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی حضرت محمد ﷺ کو خاتم النّبیّین بنایا ہے۔
3۔ یہاں رحمت سے دوسری مراد دنیا کی خوشحالی ہے بشرطیکہ خوشحال شخص صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والا ہو۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے وسائل کے بارے میں لوگوں کے درمیان ایک فرق رکھا ہے۔
تفسیر بالقرآن
دنیا کے مال کی حیثیت :
1۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص : 60)
2۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل تماشا۔ (العنکبوت : 64) 3۔ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن : 15)
4۔ کفار کے مال واولاد ہرگز ان کے کام نہ آسکیں گے۔ (آل عمران : 10)
5۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص : 60)
6۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : 46) 7۔ دنیا آخرت کے مقابلہ میں بہت کمتر ہے۔ (التوبۃ : 38)