43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsفہم القرآن

Ayahs 43:71–73

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان کے سامنے سونے کے ٹرے اور ساغر پیش کیے جائیں گے اور ہر من پسند اور نگاہوں کو خوش کردینے والی چیزیں وہاں موجود ہوگی ان سے کہا جائے گا تم اس میں ہمیشہ رہو گے

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لیے یہاں کثیر تعداد میں پھل موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں داخل ہونے کے بعد متقی لوگوں کی ضیافت۔ جونہی جنتی جنت میں پہنچ کر اپنے محلّات میں داخل ہوں گے تو جنت کے خدّام شراب طہور سے بھرے ہوئے سونے کے جام جنتیوں کے سامنے پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ہی سونے، چاندی کی پلیٹوں میں رکھے ہوئے پھل اور خورد نوش کی دوسری چیزیں پیش کی جائیں گی۔ جنتیوں کے کھانے کے لیے جنت میں بیشمار قسم کے پھل ہوں گے۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے انہیں فی الفور پیش کردیا جائے گا۔ وہ جدھر دیکھیں گے انہیں آنکھوں کی لذت اور دل کا سرور حاصل ہوگا۔ جب سب کے سب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ اعلان کریں گے کہ جس جنت کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو یہ تمہارے صالح اعمال کا صلہ ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ جو ان کے بعد داخل ہوں گے یہ آسمان کے تیز چمکنے والے ستارے کی طرح ہوں گے۔ تمام جنتیوں کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ تو ان کے درمیان اختلاف ہوگا اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی۔ حسن کی وجہ سے جن کی پنڈ لیوں کا گودا ‘ ہڈی اور گوشت کے پیچھے دکھائی دے گا۔ اہل جنت صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔ نہ وہ بیمار ہوں گے اور نہ ہی پیشاب کریں گے ‘ نہ رفع حا جت کریں گے اور نہ ہی تھوکیں گے اور نہ ہی ناک سے رطوبت بہائیں گے۔ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، انگیٹھیوں کا ایندھن عود ہندی ہوگا اور ان کا پسینہ کستوری کی طرح ہوگا۔ سب کا اخلاق ایک جیسا ہوگا نیز شکل و صورت میں سب اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے۔ آدم کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ونعیمہا ] (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے) ۔ “ مسائل 1۔ جونہی جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے سامنے سونے کے جام شراب طہور سے بھرے ہوئے پیش کیے جائیں گے۔ 2۔ جنتیوں کے سامنے جنت کے پھل اور خورد نوش کا سامان سونے چاندی کی پلیٹوں میں پیش کیا جائے گا۔ 3۔ جنتی جنت میں جس چیز کی چاہت کریں گے وہ فی الفور ان کے حضور پیش کردی جائے گی۔ 4۔ اعلان ہوگا کہ تمہیں جنت کا وارث اس لیے بنایا گیا ہے کہ تم نیک اعمال کیا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن جنت کے پھل اور نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس ہے۔ (الکہف : 107) 2۔ جنتیوں کے لیے جنت میں وہ کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ (حٰم السجدۃ : 31) 3۔ جنت کے پھل ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 4۔ یقیناً متقین سایوں اور چشموں اور پسندیدہ میوہ جات میں رہیں گے۔ (المرسلات : 41۔ 42) 5۔ اللہ کے مخلص بندے نعمتوں والی جنت میں ہوں گے ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر بیٹھے ہونگے۔ (الصٰفٰت : 43۔ 44) 6۔ پرہیزگاروں کے لیے عمدہ مقام ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے اور ان میں تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (ص : 49 تا 50)
Ayahs 43:74–78

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

مجرمین ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

کبھی ان کے عذاب میں کمی نہیں ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

وہ پکاریں گے اے مالک تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے مالک جواب دے گا تم یونہی پڑے رہو گے

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق سے کراہت تھی

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزائیں۔ جنتی جنت میں ہر قسم کی نعمتوں اور خوشیوں سے سرفراز ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مقابلے میں جن پر فرد جرم ثابت ہوجائے گی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی آہ زاریوں کے باوجود ان پر عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ وہ جہنّم سے نجات پانے میں مایوس ہوجائیں گے اور اسی مایوسی میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جہنم کا عذاب ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ ہوگا۔ جہنمی جہنم کی اذیّت ناکیوں سے تنگ آکر بالآخر جہنّم کے سردار فرشتے جس کا نام مالک ہے اس سے درخواست کریں گے کہ اے مالک ! ہماری کوئی فریاد بھی قبول نہیں ہوئی اب آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور ہماری طرف سے درخواست پیش کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری موت کا فیصلہ کردے۔ جہنمیوں کے جواب میں جہنمکا فرشتہ کہے گا کہ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے مگر تم نے ہمیشہ حق سے کراہت کا اظہار کیا۔ ان الفاظ کے مفسرین نے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔ پہلا مفہوم یہ ہے۔” لَقَدْ جِءْنٰکُمْ بالْحَقِّ “ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے۔ اس سے مراد ملائکہ ہیں جو ملائکہ میں شامل ہونے کی وجہ سے وحی لانے والے فرشتے کی ترجمانی کریں گے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جہنمیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب دیا جائے گا کہ تم دنیا میں حق کی مخالفت کرتے رہے۔ جب کہ ہم نے تم تک حق پہنچا دیا تھا، لہٰذا اب تمہیں ہمیشہ کے لیے سزا بھگتنا ہوگی۔ دنیا میں انسان مایوس ہوجائے تو وہ خودکشی کے ذریعے اپنی جان ختم کرلیتا ہے۔ مگر قیامت کے دن جہنّمی خود کشی بھی نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ موت کو موت دے دی جائے گی۔ ” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن موت مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو کریب نے کچھ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ پھر جنتیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو تو وہ اسے پہچاننے کی کوشش کریں گے اور اس کی طرف دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ جہنمیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ بھی پہچاننے کی کوشش کریں گے۔ اچھی طرح دیکھ کر کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر حکم ہوگا اور اسے ذبح کردیا جائے گا اسکے بعد اعلان ہوگا اے جنتیو ! جنت میں ہمیشہ رہو تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو ! جہنم میں ہمیشہ رہو تمہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور انہیں حسرت والے دن سے ڈرایئے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لائیں گے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ] مسائل 1۔ مجرم ہمیشہ جہنّم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ 2۔ ان پر کبھی بھی عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی یہ لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ 4۔ جہنّی جہنّم سے نجات کے بارے میں مایوس ہوجائیں گے۔ 5۔ جہنّمی اس لیے جہنّم میں جائیں گے کیونکہ وہ حق کو ٹھکرایا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کی آہ و بکا اور فریادیں : 1۔ ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت دے ہم تیری دعوت قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44) 2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12) 3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37) 4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
Ayahs 43:79–80

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ہم بھی ایک فیصلہ کیے دیتے ہیں

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کے سامنے باربار جنتیوں کے انعامات اور جہنّمیوں کی سزاؤں کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ اپنے انجام پر غور کریں۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے نبی ﷺ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ نبی محترم ﷺ شب وروز اس بات پر محنت کررہے تھے کہ مکہ کے لوگ کفرو شرک سے باز آجائیں اور کلمہ حق قبول کرلیں۔ مگر ان کی حالت یہ تھی کہ وہ دن بدن کفر و شرک میں آگے ہی بڑھتے جا رہے تھے۔ وہ حق کی مخالفت میں اس قدر آگے بڑھے کہ انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ محمد ﷺ کو قتل کردیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کھلے الفاظ میں چیلنچ کیا کہ اگر انہوں نے قطعی فیصلہ کرلیا ہے تو ہم نے بھی آخری فیصلہ کرلیا ہے۔ لہٰذا انہیں یہ خیال چھوڑ دینا چاہیے کہ ہم ان کی خفیہ باتوں کو نہیں سنتے۔ کیوں نہیں ہم ان کی خفیہ باتوں اور مجالس سے پوری طرح آگاہ ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ہمارے فرشتے وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں۔ اہل مکہ نے دار الندوہ میں منصوبہ بنایا کہ ہر خاندان کا ایک ایک آدمی مسلّح ہو کر محمد ﷺ کے گھر کا محاصرہ کرے۔ جب صبح کے وقت نکلے تو اس پر یکبارگی حملہ کرکے ختم کردیا جائے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور انہیں کھلے الفاظ میں چیلنج کیا کہ اگر تم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نبی کی حفاظت کرے گا اور تمہیں ذلت اٹھانا پڑے گی۔ چناچہ یہی کچھ ہوا۔ (واقعہ کی تفصیل جاننے کے لیے سیرت طیبہ کا مطالعہ کیجیے ) ” جب کفر کرنے والے لوگ آپ کے خلاف تدبیریں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو نکال دیں وہ سازش کررہے تھے جبکہ اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سے سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ “ [ الانفال : 30]
Ayahs 43:81–84

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

ان سے کہو اگر واقعہ رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرمانروا عرش کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

اچھا انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

وہی آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی الٰہ اور وہی حکیم وعلیم ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کے ساتھ مکہ والوں کا بنیادی اختلاف ” اللہ “ کی توحید پر تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ ہستیوں کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو بیٹیاں بنا کر انہیں اپنی خدائی میں شریک کرلیا ہے۔ قرآن مجید نے کئی بار اس بات کی نفی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے۔ اس موقع پر اس بات کا صرف یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ارشاد فرمائیں کہ اگر الرّحمن کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا یعنی اسے تسلیم کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس کی اولاد ہے اور نہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں۔ یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ جو کچھ الرّحمن کے بارے میں یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں وہ اس سے پاک اور مبرّا ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کا پیدا کرنے والا اور عرش کا مالک ہے۔ اگر یہ لوگ اتنی بڑی حقیقت کو نہیں مانتے تو انہیں ان کی یا وہ گوئی اور بےہودگی کے لیے چھوڑ دیجیے ! یہاں تک کہ یہ اس دن کو پالیں جس دن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔ الرحمن ہی زمین و آسمانوں کا اکیلا الٰہ ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے ہر فرمان میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ مشرکین کی یا وہ گوئی کے باوجود اس نے انہیں ڈھیل دے رکھی ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت پوشیدہ ہے کہ یہ لوگ کھل کر گناہ کرلیں تاکہ ان کے دل میں کوئی حسرت باقی نہ رہے اور قیامت کے دن انہیں ٹھیک، ٹھیک سزا دی جائے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد اور کسی شریک کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ وہ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا خالق، مالک، رازق اور بلاشرکت غیرے بادشاہ ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ اور کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کا اکیلا ہی رب ہے۔ 3۔ مشرکین اپنی یا وہ گوئی سے باز نہیں آتے تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑیں۔ 4۔ اللہ ہی زمین و آسمانوں میں اکیلا الٰہ ہے جو بڑا حکمت والا اور سب کچھ جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمانوں میں صرف ایک ہی الٰہ ہے : 1۔ ” اللہ “ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60) 2۔ ” اللہ “ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61) 3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62) 4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63) 5۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64) 6۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 7۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : 71) 8۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لے آئے ؟ (القصص : 72) 9۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88)
Ayahs 43:85–86

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

بہت بابرکت ہے ” اللہ “ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے اور وہی قیامت کا علم رکھتا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جانے والے ہو

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، سِوائے اس کے جو علم کی بناء پر حق کی شہادت دے

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ جبکہ زمین و آسمانوں کا وہی بادشاہ ہے اور ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ ملائکہ یا کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا شریک یا اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں تاکہ وہ ان کی قیامت کے دن سفارش کریں۔ اہل مکہ کے سامنے جب بھی قیامت کا ذکر کیا جاتا تو وہ چلّا کر کہتے کہ قیامت کب آئے گی ؟ ہر موقع پر انہیں اس بات کا شافی جواب دیا گیا۔ مگر پھر بھی وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہتے تھے۔ اس بار یہ جواب دیا گیا کہ اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسی کی ملک ہیں۔ وہی قیامت کا علم رکھنے والا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں وہ اس کے ہاں سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ سفارش وہی لوگ کرسکیں گے جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں گے اور ان کا اپنا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا۔ قرآن مجید نے یہ مسئلہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکے گا۔ جس کو اس کے حضور سفارش کی اجازت ملے گی وہ بھی وہی بات کرے گا جو حق اور ٹھوس معلومات پر مبنی ہوگی۔ مفسرین نے ” اِلَّا مَنْ شَھِدَ بالْحَقِّ “ کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ سفارش کرنے والا خود بھی حق کی گواہی دینے والا ہو یعنی اس کا کلمہ طیبہ پر پورا یقین اور اس پر عمل کرنے والا ہو جس کے متعلق گواہی دے گا وہ بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والا ہو۔ اس حقیقت کا وہ مفسر بھی اعتراف کرتے ہیں جو من دون اللہ اور من دونہٖ کے الفاظ کو مخصوص معانی پہناتے ہیں۔ یہاں اس مفسر کا حوالہ دیا جاتا ہے جو قرآن مجید کے اکثر مقامات پر من دون اللہ اور من دونہٖ کی تفسیر اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ کفار اس گھمنڈ میں تھے کہ یہ بت اور فرشتے ان کی شفاعت کریں گے۔ بتادیا کہ ایسا نہیں ہوگا ہر ایک کی مجال نہیں کہ بارگاہِ رب العزت میں شفاعت کرنے کی جرأت کرسکے اور نہ ہر شخص اس قابل ہے کہ اس کی شفاعت کی جائے۔ شفاعت کرنے کا وہ مجاز ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی بھی دے اور اس کی یہ گواہی علم یقین پر مبنی ہو۔ اسی طرح شفاعت اس کی کی جائے گی جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔ یہ بات خوب ذہن نشین رہے کہ شفاعت صرف ان گناہگاروں کے لیے ہوگی جو ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور جن کا خاتمہ کفر یا شرک پر ہوگا ان کے لیے شفاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ ( ضیاء القرآن : جلد 4۔ مولانا پیر کرم شاہ بریلوی) یہاں بھی موصوف مفسر نے اپنے مشرکانہ عقیدہ کی تائید کے لیے (مِنْ دُوْنِہٖ الشَّفَاعَۃَ ) سے مراد بت لیے ہیں۔ حالانکہ اگلی آیت میں واضح طور پر بتلایا گیا ہے کہ اگر آپ ﷺ نے ان سے سوال کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ جواب دیں گے کہ ہمیں ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے ان سے فرمائیں پھر تم کیوں بہکے پھر رہے ہو۔ 1 کیا نبی ﷺ نے بتوں سے سوال کرنا تھا ؟ 2 کیا بتوں نے کہا تھا کہ ہمیں ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے ؟ 3 کیا پتھروں کو کہا تھا گمراہی میں کیوں بھٹکے پھر رہے تھے ؟ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَہٗ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِيْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِيْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَھِيَ نَآءِلَۃٌ إِنْ شَآء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِيْ لَایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے ہر نبی نے اپنی دعا کرنے میں جلدی کی میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے وہ میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ دے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی اس کے حضور سفارش نہیں کرسکے گا۔ 2۔ سفارش کرنے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ خود بھی کلمہ پر یقین اور اس کا علم رکھنے والا ہو۔ 3۔ سفارش کرنے والا اسی کی سفارش کرسکے گا جس کا کلمہ پر پورا ایمان ہو۔ 4۔ ” اَلْحَقُّ “ سے مراد کلمہ طیبہ کو سمجھ کر پڑھنا اور حتّٰی المقدور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔
Ayahs 43:87–89

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ کہیں گے اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ اے رب یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

اے نبی ان سے درگزر کرو اور سلام کہو عنقریب انہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے ہیں ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سمجھانے کے لیے بیشمار اسلوب اختیار فرمائے ہیں جن میں ایک اسلوب اور طریقہ یہ بھی اختیار کیا ہے کہ مشرکوں سے پوچھا جائے کہ خود ان کی ذات کو کس نے پیدا کیا ہے۔ اس سوال کا یہ بھی مفہوم ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو ان کو کس نے پیدا کیا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہر دور کے مشرک اور کافر یہی جواب دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے کہ ہم سب کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے سوا دوسروں کو پکارنے کا کیا جواز ہے ؟ جو لوگ حقیقت مان کر بھی سچا ایمان لانے اور توحید خالص کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ قسم ہے رسول کے اس فرمان کی کہ اے رب ! یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اے نبی ﷺ ! بس ان سے درگزر کرو اور انہیں سلام کہہ دو اور یہ فرماؤ کہ عنقریب تمہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ یہاں سلام کا لفظ سلامتی کی دعا کے طور پر نہیں بلکہ قطع تعلق کے لیے ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے مایوس ہو کر کہا تھا۔ (سَلٰمٌعَلَیْکَ ) [ مریم : 47] ” تجھ پر سلامتی ہو۔ “ یہی مومنوں کی صفت ہے۔ ” الرحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اگر جاہل ان سے جھگڑیں تو وہ ان کو سلام کہہ کر چل دیتے ہیں۔ “ [ الفرقان : 63] اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کے اس فرمان کی قسم کھائی ہے کہ ” اے میرے رب ! یہ قوم ایمان لانے والی نہیں۔ “ بالآخر ہر پیغمبر کی جدوجہد کے دوران ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب پیغمبر اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوجاتا ہے۔ ایسے مرحلہ میں نبی ہجرت کر جاتے تھے یا پھر قوم کے لیے بدعا کرتے تھے۔ سورة یوسف کی آیت 110 میں اسی مایوسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایسے موقع پر اپنی قوم کے لیے بدعا کی تھی (نوح : 27) جہاں تک سرور دوعالم کا معاملہ ہے۔ آپ ﷺ سے اس قسم کے الفاظ ثابت نہیں۔ ممکن ہے کہ ہجرت سے پہلے آپ ﷺ کے یہ جذبات ہوں جنہیں قرآن مجید نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن لوگوں کے رویہ سے مایوس ہونا گناہ نہیں۔ لوگوں کے رویہ سے مایوس ہو کر ہی انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت کیا کرتے تھے۔ مسائل 1۔ ہر دور کا کافر اور مشرک اس بات کا اقرار کرتا ہے اور کرتا رہے گا کہ سب کو پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ماننے کے باوجود مشرک صرف اس ایک کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ 3۔ ہر نبی کی زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کی قوم کے لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ 4۔ جن لوگوں کے ایمان لانے سے مبلغ مایوس ہوجائے ان سے جھگڑنے کی بجائے انہیں سلام کہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرکین کا اعتراف : 1۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں ” اللہ “ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : 31) 2۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : 34) 3۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ تو کہتے ہیں ” اللہ “ ہی خالق ہے۔ (الزمر : 38) 4۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ؟ جواباً کہتے ہیں، اللہ ہی مالک ہے۔ (المومنون : 86۔ 87) 5۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر کس کی بادشاہت ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی بادشاہی ہے۔ (المومنون : 88۔ 89) 6۔ یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پوچھیں کہ پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : 61)