Ayahs 43:33–35فہم القرآن
ربط کلام : جس مال کو لوگ جمع کرتے ہیں اور جس کی محبت میں مرے جاتے ہیں اس کی حقیقت۔
قرآن مجید نے بار بار لوگوں کو یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز عارضی اور ناپائیدار ہے۔ ہمیشہ رہنے والی آخرت ہے اس دن سچا ایمان اور صالح اعمال کام آئیں گے۔ جہاں تک دنیا کے وسائل اور اس کی زیب وزینت کا معاملہ ہے۔ اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ دنیا کی خاطر سب کے سب لوگ کفر پر اکٹھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کفار کے گھر ہی نہیں ان کے مکانوں کی چھتیں، سیڑھیاں، گھروں کے دروازے اور جہاں وہ تکیہ لگائے اپنی مجالس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی سونے چاندی کے بنا دیتا۔ یعنی اس قدر انہیں مال کی فروانی سے ہمکنار کردیتا لیکن سب کچھ دینے کے باوجوددنیا کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ آخرت کے مقابلے میں عارضی اور قلیل سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ہر حال میں متقین کے لیے بہتر ہے۔ آیت نمبر 32 کے ابتدائی الفاظ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر لوگوں کے پھسل جانے کا خدشہ نہ ہوتا تو وہ کفار کو اس قدر دنیا کا مال و متاع عنایت کرتا کہ یہ اپنے مکانوں کی چھتیں اور دروازے بھی سونے، چاندی کے بنا لیتے۔ انسان آخر انسان ہے بیشک وہ کتنا ہی ایمان میں پختہ کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی وہ ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کو گمراہی سے بچانے کے لیے کفار کو ایک حد تک ہی وسائل عطا کیے ہیں۔ لیکن آخرت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
(عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ مَا سَقٰیکَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَاءٍ )[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد وہو حدیث صحیح ]
” حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی وقعت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ بھی پانی کا نہ دیتا۔ “
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ بالسُّوْقِ دَاخِلًا مِّنْ بَعْضِ الْعَالِیَۃِ وَالنَّاسُ کَنَفَتُہٗ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہٗ فَأَخَذَ بِأُذُنِہٖ ثُمَّ قَالَ أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنَّ ھٰذَا لَہٗ بِدِرْھَمٍ فَقَالُوْا مَانُحِبُّ أَنَّہٗ لَنَا بِشَیْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ قَالَ أَتُحِبُّوْنَ أَنَّہٗ لَکُمْ قَالُوْا وَاللّٰہِ لَوْکَانَ حَیًّاکَانَ عَیْبًا فِیْہِ لِأَنَّہٗ أَسَکَّ فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ فَقَالَ فَوَاللّٰہِ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق، باب ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بازار میں ایک جانب سے داخل ہوئے اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا پسند کرے گا ؟ صحابہ نے کہا : ہم تو اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے۔ ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب یہ مرا ہوا ہے تو ہم اسے کیسے پسند کریں۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا حقیر ہے۔ اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو بڑی آزمائش سے بچانے کے لیے کفار کو ایک حد تک وسائل عطا کیے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو کفار کو اس قدر دنیا عطا کرتا کہ ان کے مکانوں کی چھتیں اور دروازے بھی چاندی کے ہوتے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقین کے لیے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔
Ayahs 43:36–39فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کو سب کچھ سمجھنے والا شخص نہ صرف آخرت کو فراموش کرتا ہے بلکہ اپنے رب کی یاد سے بھی غافل ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں شیطان اس کا ساتھی بنا دیا جاتا ہے۔
جو شخص اپنے رب کی یاد سے غافل ہوجائے اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کردیتا ہے اور وہ اس کا مستقل ساتھی بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو شیطان نیکی کے کاموں سے روک لیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں۔ ہم صحیح راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ موت کے بعد جب اس کی حاضری اپنے رب کے حضور ہوگی تو وہ افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار کرے گا کہ کاش ! دنیا میں میرے اور شیطان کے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی۔ اس کے ساتھ ہی شیطان کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا کہ تو میرا بدترین ساتھی ثابت ہوا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا کہ تمہارا ایک دوسرے سے جھگڑنا اور اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرنا۔ آج کے دن اس کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تم نے ہر قسم کے مظالم کیے ہیں لہٰذا عذاب میں بھی تم ایک دوسرے کے ساتھی ہوگے۔ ان آیات میں تین باتوں کی طرف خصوصی طور پر توجہ دینا چاہیے۔
1” ذکر الرحمن “ سے مراد صرف زبانی ذکر نہیں بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا اور اس کو یاد رکھنا ہے۔
2 اللہ تعالیٰ کا کسی پر شیطان مسلط کرنے کا یہ معنٰی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے لیے برا راستہ اختیار کرلیتا اور اس پر اصرار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شیطان کے حوالے کردیتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ناراض ہو کر اس پر شیطان کو مسلط کردیا ہے۔ جس پر شیطان مسلط کردیا جائے وہ مرتے دم تک نیکی اختیار کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
3 شیطان پہلا کام یہ کرتا ہے کہ وہ برائی اور بےحیائی کو لوگوں کے سامنے فیشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ برائی کو فیشن کے طور پر اختیار کرنے والے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے طرز زندگی کو صحیح تصور کرتے ہیں۔ ایسے شخص کا صحیح راستے کی طرف آنا ممکن نہیں ہوتا۔ قیامت کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان بھی ان سے برأت کا اعلان کر دے گا۔[ ابراہیم : 22]
مسائل
1۔ الرحمن کے ذکر سے غفلت کرنے والے پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے
2۔ جس پر شیطان مسلط کردیا جائے وہ برائی کو اچھائی سمجھتا ہے۔
3۔ قیامت کے دن مجرم اس بات کی خواہش کرے گا کہ کاش ! دنیا میں میرے اور شیطان کے درمیان بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِہوتا۔
4۔ قیامت کے دن ظالم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گے اور جہنّم میں اکٹھے ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرمین کی خواہش اور آرزو :
1۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
2۔ جب بھی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ جہنم میں لٹادئیے جائیں گے۔ (السجدۃ : 20)
3۔ جب بھی ارادہ کریں گے کہ ہم نکلیں جہنم سے تو اس میں واپس لٹائے جائیں گے۔ (الحج : 22)
4۔ جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27 تا 28)
5۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
Ayahs 43:40–42فہم القرآن
ربط کلام : جس شخص پر شیطان مسلّط کردیا جائے وہ برائی کو اچھائی سمجھنے کی وجہ سے اندھا اور بہرا ہوجاتا ہے۔
یہ حقیقت بڑی واضح ہے کہ جو شخص برائی کو اچھائی سمجھ کر کرتا ہے اسے جس طرح بھی سمجھایا جائے وہ نہ صرف اچھی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دل کے اندھے پن کی وجہ سے وہ اچھی بات پر غور کرنا اور اسے توجہ کے ساتھ سننا اپنے لیے بوجھ سمجھتا ہے۔ یہی صورت حال اہل مکہ اور اہل کتاب کی غالب اکثریت کی تھی۔ اہل مکہ دین ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر شرک و بدعات کرتے اور اہل کتاب اپنے آپ کو اہل حق سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کو جب بھی سمجھایا جاتا تو ان کا رد عمل اندھے اور بہرے لوگوں جیسا ہوتا۔ اس پر نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کیا آپ بہرے شخص کو سنا سکتے ہیں اور اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں اور اس شخص کو ہدایت دے سکتے ہیں جو پوری طرح گمراہ ہوچکا ہے ؟ گمراہ شخص کی صورت حال بیان کرنے کے بعد آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ اگر ہم آپ کو فوت کرلیں تو ان سے ضرور بدلہ لیں گے یا آپ کی زندگی میں وہ کردکھائیں گے جس کا ان کے ساتھ ہم وعدہ کرتے تھے۔ ہم ان سے انتقام لینے پر پوری طرح قدرت رکھتے ہیں۔ اہل مکہ آپ ﷺ سے باربار مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک کیوں نازل نہیں ہوا ؟ اس کا جواب اس موقع پریوں دیا گیا کہ ہم چاہیں تو آپ کی موت کے بعدان سے بدلہ لیں اور اگر چاہیں تو آپ کی زندگی میں انہیں عذاب میں مبتلا کریں گے۔ دونوں صورتوں میں ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں کیونکہ ہم ان پر ہر اعتبار سے اقتدار اور اختیار رکھتے ہیں۔
ہدایت کے لیے لازم ہے کہ انسان عقل وفکر سے کام لے :
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ) [ قٓ: 37]
” جو شخص دل سے اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے سنتا ہے اس کے لیے اس میں نصیحت ہے۔ “
(اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِے الصُّدُوْرِ ) [ الحج : 46]
” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر سینوں میں دل اندھے ہوجاتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ بھی بہرے کو سنا اور اندھے کو راستہ نہیں دکھا سکتے تھے۔
2۔ یہاں بہرے اور اندھے سے پہلی مراد سچائی سننے سے بہرا ہونا اور ہدایت پانے سے اندھا ہونا ہے۔
3۔ جو شخص برائی کو اچھائی سمجھتا ہے وہ گمراہ ہوچکا ہوتا ہے۔
4۔ موت نبی اکرم ﷺ کا بھی مقدر تھی اس لیے آپ وفات پاچکے ہیں۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کو عذاب دینے کے لیے آپ ﷺ سے جو وعدہ فرمایا اسے آپ کی زندگی میں ہی پورا کردیا۔
6۔ مشرک اور کافر کو اس کی موت کے بعد بھی سخت عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے قادر مطلق ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29)
2۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
3۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284)
4۔ اللہ تعالیٰ تمہارا خیر خواہ اور ذمہ دار ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الشورٰی : 9)
5۔ اللہ تعالیٰ ہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ( الروم : 50) 6۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20)
Ayah 43:43فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ حالات جیسے بھی ہوں آپ نے اپنے رب کی وحی کے مطابق چلنا اور اس کا ابلاغ کرنا ہے۔ اور یہی سیدھا راستہ ہے۔” تَمَسَّک “ کا معنٰی ہے چمٹنا، تھامنا، کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑنا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنا رسول منتخب فرمایا۔ الرسول کا سب سے پہلا کام ” اللہ “ کی وحی پر اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا اور مکمل طور پر لوگوں تک پہنچانا ہے۔ وحی کا بنیادی مقصد لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنا ہے۔ یہی صراط مستقیم ہے جس پر آپ ﷺ تادم واپسیں قائم رہے اور لوگوں کی راہنمائی کرتے رہے۔ یہاں کفار کی اس یا وہ گوئی کا جواب دیا گیا ہے جو وہ عوام میں کرتے اور پھیلاتے تھے۔ کہ محمد ﷺ اپنے آباؤ اجداد کے صحیح راستے سے بہک گیا ہے۔ اس کا جواب سورة یًٰس کی ابتدائی آیات میں یوں دیا گیا ہے۔ اے سردار ! قرآن مجید کی قسم یقیناً آپ انبیاء میں شامل ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ” میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑلو ! (عَضُّوا عَلَیْہَا بالنَّوَاجِذِ وَعَلَیْکُمْ ) تم اسے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا “ [ رواہ ابن ماجۃ : فی المقدمۃ : باب اتِّبَاعِ سُنَّۃِ الْخُلَفَآء الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْن ]
مسائل
1۔ نبی محترم ﷺ بھی اپنے رب کی وحی کے پابند تھے۔
2۔ آپ ﷺ صراط مستقیم پر قائم رہے اور لوگوں کی راہنمائی کرتے رہے۔
تفسیر بالقرآن
صراط مستقیم کے بنیادی اصول :
1۔ کچھ نہ کرنے والا اور اچھی باتوں کی تعلیم دینے والا اور صراط مستقیم پر چلنے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ (النحل : 76)
2۔ جس شخص نے اللہ کی رسی کو پکڑلیا اس کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کی گئی۔ (آل عمران : 101)
3۔ اللہ کو ایک ماننا صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51) 4۔ ایک اللہ کی عبادت کرنے والا صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس : 61)
Ayahs 43:44–45فہم القرآن
ربط کلام : جس کے ساتھ آپ ﷺ کو تمسک کرنے کا حکم ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو آپ اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اس کا پہلا نقطہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
قرآن مجید وحی کے ذریعے نازل کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا ذریعہ اور اس کی طرف سے نصیحت ہے۔ جسے آپ ﷺ اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اب لوگوں کا فرض ہے وہ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سے بات پرس کرے گا۔ جو لوگ قرآن مجید کی آمد اور اس کے منع کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے استفسار فرمائیں جنہیں ہم نے آپ سے پہلے رسول بنایا تھا۔ کیا ہم نے الرحمن کے سوا کوئی اور الٰہ بنایا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ؟ ان آیات میں پہلا ارشاد یہ ہے کہ جو قرآن آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہ آپ اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے جو لوگ اسے تسلیم نہیں کرتے اور اس کے بتلائے ہوئے راستے پر گامزن نہیں ہوتے ہم انہیں بہت جلد پوچھ لیں گے۔ پھر ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ اپنے سے پہلے انبیاء سے پوچھ لیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ کوئی معبود بنایا تھا یا بنایا ہے جس کی یہ لوگ عبادت کریں اس حقیقت کو ہر کوئی جانتا تھا اور مانتا ہے کہ پہلے انبیاء آپ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔ اس کے باوجود یہاں یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! پہلے انبیاء سے سوال کریں۔ اس کا یہ ہرگز معنٰی نہیں کہ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) جسمانی یا روحانی طور پر دنیا میں موجود تھے۔ جن سے جاکر آپ پوچھتے۔ اس کا معنٰی یہ ہے کہ جو لوگ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی اتباع اور ان کی نبوت کا حوالہ دیتے ہیں آپ ان لوگوں سے سوال کریں کہ اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی صحیح تعلیم کے مطابق بتاؤ کہ رب الرّحمن نے کسی آسمانی کتاب میں یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ اس نے اپنے سوا یا اپنے ساتھ کسی اور کو الٰہ بنایا ہے کہ جس کی عبادت کی جائے ؟ ظاہر بات ہے کہ کسی آسمانی کتاب میں رب رحمن کے سوا کوئی الٰہ نہیں کہ جس کی عبادت کرنا جائز تھی اور نہ ہی قرآن مجید میں رب رحمن کے سوا کسی کو معبود بنانے کا اشارہ ملتا ہے۔ الٰہ کا معنٰی ہے کہ جس کی عبادت کی جائے اور جسے حاجت روا اور مشکل سمجھا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ لہٰذاصرف اسی کی عبادت کرنا اور اسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا اور ماننا چاہیے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید وحی کے ذریعے نازل ہوا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی طرف سے نصیحت ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ اپنی نصیحت کے بارے میں ہر شخص سے باز پرس کرے گا۔
3۔ الرحمن کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ جس کی عبادت کی جائے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔
تفسیر بالقرآن
الٰہ کے معانی اور مفہوم :
1۔ اللہ کے ساتھ دوسرا الٰہ نہ بناؤ ورنہ بدحال بےیارومددگار ہوجاؤ گے۔ (بنی اسرائیل : 22)
2۔ اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (القصص : 88)
3۔ اگر یہ اِلٰہ ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے۔ (الانبیاء : 99)
4۔ انہوں نے اللہ کے سوا اِلٰہ بنا لیے ہیں جنہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ (الفرقان : 3)
5۔ کیا انہوں نے اللہ کے سوا اپنی مدد کے لیے الٰہ بنا لیے ہیں ؟ (یٰس : 23)
6۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا اللہ ہے کیا اس کے ساتھ دوسرا الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
7۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61)
8۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62)
9۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63)
10۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
11۔ تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 163)
Ayahs 43:46–50فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ غرور اور تکبر کی بنا پر نبی محترم ﷺ کو رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس لیے اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش کا کچھ حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ تاکہ مکہ والوں اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو کہ فرعون نے تکبر کی بنیاد پر موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی جس بنا پر اس کا بدترین انجام ہوا۔ اے مکہ والو ! تم نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو لہٰذا اپنا انجام سوچ لو۔۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غلام قوم کے ایک فرد تھے۔ جب جوان ہوئے تو ان کے ہاتھوں سرکاری پارٹی کا ایک آدمی سہواً قتل ہوا جس بنا پر موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف ہجرت کرگئے۔ مدین میں ایک عرصہ گزارنے کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس آرہے تھے تو راستہ میں انہیں نبوت عطا ہوئی۔ نبوت ملنے کے ساتھ دو معجزات بھی عطا کیے گئے۔ حکم ہوا کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے پاس جاؤ اور انہیں اپنے رب کی توحید سمجھاؤ ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور یہ درخواست کی کہ میری معاونت کے لیے میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون بنایا۔ حضرت موسیٰ ، ہارون کے ساتھ فرعون اور ان کے وزیروں کے پاس گئے اور انہیں اللہ کی توحید کا پیغام سنایا اور اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ نہ معلوم ! موسیٰ (علیہ السلام) نے کتنی مدت تک جدوجہد جاری رکھی۔ اس دوران جادوگروں کے ساتھ معرکہ پیش آیا جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کامیاب ہوئے اور جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔ لیکن فرعون اور اس کے ساتھی موسیٰ کے معجزات دیکھنے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے۔ نہ صرف ایمان نہ لائے بلکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار مطالبہ کرتے رہے کہ تیرے کہنے کے باوجودہم پر عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو پانچ سخت اور ذلیل کردینے والے عذاب دیے۔
سیلاب :
1۔ بارش انسانی صحت اور ہر چیز کی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر زمین مردہ اور ہر چیز مرجھا جاتی ہے۔ بشرطیکہ یہ مناسب مقدار میں ہو۔ اگر بارش غیر معمولی ہو تو اس سے ہر چیز تباہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون پر غیر معمولی بارشیں نازل کیں۔ جس سے ان کی فصلیں تباہ، جانور بدحال اور مکانات گرگئے۔ باد و باراں کے طوفان اس لیے نازل کیے گئے تاکہ یہ لوگ توبہ و استغفار کریں۔ لیکن توبہ کرنے کے بجائے یہ لوگ تکبرّاور نافرمانی میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ اس کے بعد ٹڈیوں کا عذاب نازل ہوا۔
ٹڈیوں کے جھنڈ :
2۔ ٹڈیوں کے دل کے دل امڈ آئے اور انہوں نے سیلاب سے بچ جانے والی فصلوں کو تباہ کیا بلکہ درختوں کی ٹہنیاں تک چبا ڈالیں۔
جوؤں کی بہتات :
3۔ آل فرعون کے لباس اور جسم کے ایک ایک روؤگٹے میں اس قدر جوئیں پیدا ہوئیں کہ ان کا رات کا سونا اور دن کا سکون غارت ہوگیا۔ لوگوں نے خارش کر کر کے اپنے جسم لہولہان کرلیے مگر ایمان نہ لائے۔
مینڈکوں کی بہتات :
4۔ جوؤں کے بعد مینڈکوں کا اتنا شدید سیلاب آیا کہ مینڈکوں کے ڈَل کے ڈَل ان کے کھیتوں، کھلیانوں اور گھروں میں اس طرح گھس آئے کہ ان کے لیے چار پائی پر سونا بھی حرام ہوگیا۔ خوفناک شکل اور بھاری بھرکم مینڈک ملک میں اس طرح پھیل گئے کہ ہر شخص خوف کے مارے چھپتا پھرتا تھا۔
خون ہی خون :
5۔ ہر کھانے پینے والی چیز میں خون ہی خون پیدا ہوا، یہاں تک کہ آل فرعون خواتین کی چھاتیوں میں دودھ کی بجائے خون اتر آیا حتیٰ کہ آل فرعون میں سے کوئی کسی اسرائیلی سے پانی طلب کرتا تو جونہی پانی کو پینے لگتا تو وہ بھی گندے خون میں تبدیل ہوجاتا۔ بعض مفسرین نے یہاں تک لکھا ہے کہ آل فرعون کی ایک عورت نے انتہائی قلق کی حالت میں اپنی پڑوسن اسرائیلی عورت کو کہا کہ پانی کی ایک کلی میرے منہ میں ڈال دے تاکہ مجھے سکون حاصل ہو۔ جب اس کی پڑوسن نے ایسا کیا تو پانی کی کلی آل فرعون کی عورت کے منہ میں جا کر خون میں تبدیل ہوگئی۔
نہ معلوم فرعون نے پہلے پہل ان عذابوں کے بارے میں عوام میں کیا تاثر دیا ہوگا اور ان کے مقابلہ میں سرکاری سطح پر کیا کیا جتن کیے ہوں گے لیکن جب اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ ہر عذاب کے بعد مجبور ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہو کر انتہائی عاجزی کے ساتھ پختہ وعدہ کرتے ہوئے کہتا کہ اے موسیٰ ! اپنے رب کے حضور دعا کیجیے کہ یہ عذاب ہم سے ٹل جائے۔ اس عذاب سے نجات ملے گئی تو ہم آپ پر ایمان لاکر بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے۔ لیکن جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب ٹلتا تو وہ عہد شکنی کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ شرک و کفر کرتے اور بنی اسرائیل کو اذیتیں دیتے۔ قرآن و حدیث میں ان عذابوں کے دورانیہ کی وضاحت نہیں ملتی تاہم تفسیر روح المعانی اور قرطبی کے مؤلفین نے بنی اسرائیل کی روایات کو بنیاد بنا کر لکھا ہے کہ ہر عذاب کا دورانیہ ایک ہفتہ پر محیط ہوتا تھا۔ اور اس کے بعد ایک مہینہ کی مہلت دی جاتی تھی جب کہ لوگ کچھ آسودہ حال ہوتے تو پہلے سے زیادہ کفر و شرک اور مظالم کا ارتکاب کرتے تھے۔
موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون ہر مشکل موقع پر فریاد کرتا مگر اس کی رعونت کا حال یہ تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو گر کہہ کر پکارتا تھا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اپنے عظیم حوصلہ اور قوم کی خیرخواہی کی خاطر یہ گستاخی برداشت کرتے کہ شاید ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں۔ فرعون اور اس کے ساتھی ہر بار عہد شکنی کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر فرعون نے یہاں تک ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا۔
Ayahs 43:51–53فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا تکبر کی انتہا اور اس کی ہرزہ سرائی۔
فرعون اور اس کے ساتھی عذاب ٹل جانے کے بعد بار بار عہد شکنی کرتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے باوجود لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے متاثر ہورہے تھے۔ متاثر ہونے والوں میں فرعون کا ایک قریبی رشتہ دار بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا۔ قریب تھا کہ جادو گروں کی طرح فرعون کے اور رشتہ دار بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اظہار کرتے۔ لیکن فرعون بڑا جابر اور شاطر انسان تھا۔ جونہی وہ لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے متاثر ہوتے ہوئے محسوس کرتا تو وہ کوئی نہ کوئی نیا ہتھکنڈا اور پراپیگنڈہ شروع کردیتا۔ اس بار اس نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایک طرف تکبر کی انتہا کردی اور دوسری طرف اپنے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اے میری محبوب عوام ! تم خواہ مخواہ موسیٰ سے متاثر ہوئے جارہے ہو۔ دیکھو اور غور کرو ! کہ ملک کا حکمران میں ہوں یا کوئی اور ؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ میں نے اپنے محل کے نیچے نہریں جاری کر رکھی ہیں۔ یعنی دیکھو کہ ملک کا دارالخلافہ کس قدر خوبصورت ہے اس کے ساتھ میرے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تجزیہ کرو ! کیا میں بہتر ہوں یا وہ ذلیل شخص (نعوذ باللہ) جو صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ؟ اس کی غربت اور کمپرسی کا یہ عالم ہے کہ نہ اس کے پاس سونے کے کنگن ہیں اور نہ ہی کوئی اس کے باڈی گارڈ۔ اس طرح اس نے عوام کو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ فرعون نے اپنے ملک کی ترقی بالخصوص شہروں میں ترسیلِ آب اور زراعت کے لیے آب پاشی کے نظام کا حوالہ دے کر قوم کو ورغلایا اور اپنے آپ کو ممتاز اور منفرد شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہوئے ملک کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ فرعون نے اپنے مقابلے میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حقیر اور گونگا کہا اور ملک کی خوشحالی کا حوالہ دیتے ہوئے قوم کو اپنی کلائیوں کے سونے کے کنگن دکھلائے اور جاہ و حشمت کے اظہار کے لیے اپنے لشکر و سپاہ کا حوالہ دیا۔ یاد رہے کہ ہر ڈکٹیٹر اپنے بارے میں یہی سوچتا ہے اور تاثر دیا کرتا ہے یاد رہے اس قسم کے خیالات کا اظہار اہل مکہ بھی کیا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ تو غریب ہے نبی تو طائف یا مکہ کے فلاں سردار کو ہونا چاہیے تھا، جس لیے فرعون کی اس گفتگو کا قدرتفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ فرعون نے اس بات کا بھی اظہار کرتا تھا کہ اگر واقعی موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے ساتھ ہر وقت ملائکہ کا دستہ ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ ہر موقع پر اس کی تائید اور مدد کرتے۔ ایسی ہی گفتگو اہل مکہ نبی محترم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ اہل مکہ کو یہ کہہ کر سمجھایا گیا کہ تم ملائکہ کی آمد کا مطالبہ کرتے ہو۔
(وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ) [ الانعام : 8]
” اور انہوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ “
زمانہ قدیم کے بادشاہ اور مالدار لوگ دولت کی نمائش کے لیے اپنی کلائیوں میں سونے کے کنگن پہنا کرتے تھے جس طرح آج کل کچھ لوگ کلائی میں کڑا، اور ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی پہنتے ہیں اور گلے میں سونے کی زنجیر لٹکاتے ہیں۔ کچھ لوگ سونے کی گھڑی پہننے پر فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہماری شریعت میں مردوں کو سونا پہننے سے منع کیا گیا ہے۔
(عَنْ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یُخْبِرُ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ کَانَ یَمْنَعُ أَہْلَ الْحِلْیَۃِ وَالْحَرِیرِ وَیَقُولُ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْیَۃَ الْجَنَّۃِ وَحَرِیرَہَا فَلاَ تَلْبَسُوہَا فِی الدُّنْیَا)[ رواہ احمد : باب حدیث عقبۃ بن عامر الجھنی ]
” حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انے زیور اور ریشم سے منع کرتے اور فرماتے تھے کہ اگر تم جنت میں زیور اور ریشم پہننا چاہتے ہو تو دنیا میں نہ پہنا کرو ! “
(عن عَبْد اللّٰہِ بْنَ عُکَیْمٍ قَالَ کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ ؓ بِالْمَدَآءِنِ فَاسْتَسْقٰی حُذَیْفَۃُ فَجَآ ءَ ہٗ دِہْقَانٌ بِشَرَابٍ فِیْٓ إِنَاءٍ مِّنْ فِضَّۃٍ فَرَمَاہُ بِہٖ وَقَالَ إِنِّیْٓ أُخْبِرُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَمَرْتُہٗ أَنْ لاَّ یَسْقِیَنِیْ فِیْہِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لاَ تَشْرَبُوْا فِیْٓ إِنَآء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلاَ تَلْبَسُوا الدِّیْبَاجَ وَالْحَرِیْرَ فَإِنَّہٗ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ لَکُمْ فِی الآخِرَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )[ رواہ مسلم : کتاب اللباس والزینۃ، باب تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ ۔۔]
” حضرت عبداللہ بن عکیم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے ساتھ مدائن میں تھے۔ حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا تو ایک کاشتکار چاندی کے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا حضرت حذیفہ نے اسے پھینک دیا اور فرمانے لگے کہ میں تمہیں یہ بات بتلاتے ہوئے حکم دیتا ہوں کہ کوئی مجھے ایسے برتن میں نہ پلائے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو۔ زیور اور ریشمی لباس نہ پہنو (مرد) یقیناً یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔ “
مسائل
1۔ فرعون نے اپنی قوم کو ملک کی ترقی کا حوالہ دے کر ورغلایا۔
2۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے صاحب جمال اور جلیل القدر پیغمبر کو اپنے مقابلے میں ذلیل کہا۔ (نعوذباللہ)
3۔ فرعون نے اپنے مقابلے میں موسیٰ (علیہ السلام) کو گونگا قرار دیا۔ 4۔ فرعون نے اپنی جاہ و حشمت کا مظاہرہ کیا۔
تفسیر بالقرآن
نبی معظم ﷺ سے اہل مکہ کے مطالبات :
1۔ منکرین حق اس قرآن کے علاوہ قرآن یا اس میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ (یونس : 15)
2۔ کافر کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوئی۔ (یونس : 20)
3۔ کفار کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے رب کی طرف سے معجزات کیوں نازل نہیں ہوتے۔ (العنکبوت : 50)
4۔ کفارنے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری کردے۔ (بنی اسرائیل : 90)
5۔ کفار نے نبی معظم ﷺ سے مطالبہ کیا کہ تیرے لیے کھجور اور انگور کا ایک باغ ہو پھر اس کے درمیان نہریں جاری کر دے۔ (بنی اسرائیل : 91)
6۔ آسمان کو ٹکڑے کرکے ہم پر گرا دے جیسا کہ تو نے دعویٰ کیا ہے۔ یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ (بنی اسرائیل : 92)
7۔ تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تیرے چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب لے آئے جسے ہم پڑھیں۔ آپ فرما دیں میرا رب پاک ہے میں تو ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں۔ “ (93)
Ayahs 43:54–56فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے تشدد اور پراپیگنڈہ کے قوم پر منفی اثرات۔
فرعون نے قوم کو ہر اعتبار سے مرعوب اور اپنے تابع رکھنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جس کے نتیجہ میں قوم نے فرعون کی ہر بات کو تسلیم کیا جس کا سبب یہ تھا کہ یہ قوم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمان تھی۔ فرعون اور اس کی قوم نے جب اللہ تعالیٰ کو ناراض کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور سب کو سمندر میں غرق کرڈالا اور انہیں ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت بنادیا۔ فرعون کی قوم کے لیے ” فَاسْتَخَفَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفسرین نے دو معانی بیان کیے ہیں۔
1 فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا۔ 2 اس نے اپنی قوم کو ڈرا دھمکا کر اور مختلف قسم کے لالچ دے کر ہلکا کردیا۔
ہر ڈکٹیٹر اور ظالم حکمران کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو مختلف قسم کے لالچ دے کر خرید لیتا ہے جس سے ان لوگوں کے ضمیر ہلکے ہوجاتے ہیں اور ڈکٹیٹرر کو خوش کرنے کے لیے وہ حق والوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ جو لوگ بکنے والے نہیں ہوتے ان پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی اکثریت دب کر رہ جاتی ہے۔ یہی کچھ فرعون نے اپنی قوم کے ساتھ کیا۔ جس کے نتیجے میں لوگ اس کے سامنے جھک گئے اور ان کے ضمیر ہلکے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کا عذر قبول نہ کیا اور ان کو نافرمان قرار دیتے ہوئے فرعون کے ساتھ ہی غرق کردیا۔ فرعون کی قوم کے ساتھ یہ سلوک اس لیے ہوا کہ لوگوں کا اجتماعی طور پر فرض ہوتا ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ روکیں اور سچے لوگوں کا ساتھ دیں۔ لیکن انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بجائے فرعون اور اس کی پارٹی کا ساتھ دیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کیا۔ اس طرح انہیں آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنایا۔
لوگوں کا اجتماعی فرض
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ) [ التوبۃ : 119]
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھی بن جاؤ۔ “
(مَثَلُ الْقَاءِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالْوَاقِعِ فِیْھَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُّوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فَأَصَابَ بَعْضُھُمْ أَعْلَاھَا وَبَعْضُھُمْ أَسْفَلَھَا فَکَانَ الَّذِیْنَ فِيْ أَسْفَلِھَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوْا عَلٰی مَنْ فَوْقَھُمْ فَقَالُوْا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِيْ نَصِیْبِنَا خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ یَتْرُکُوْھُمْ وَمَا أَرَادُوْاھَلَکُوْا جَمِیْعًآ وَإِنْ أَخَذُوْا عَلٰی أَیْدِیْھِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا) [ رواہ البخاری : کتاب الشرکۃ، ھل یقرع فی القسمۃ والإستھام فیہ ]
” اللہ تعالیٰ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں ملوث ہونے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ایک بحری جہاز کے بارے میں قرعہ اندازی کی۔ بعض کو اوپر والے حصے میں اور کچھ کو نیچے والے حصے میں جگہ ملی۔ نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پڑتی تو اوپر والوں کے پاس جاتے۔ نیچے والوں نے کہا کہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیتے ہیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اگر اوپر والے انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیں تو سب لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھوں کو روک لیں گے تو سب بچ جائیں گے۔ “
مسائل
1۔ فرعون نے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی قوم کو ہلکا کردیا۔ 2۔ فرعون کی قوم بھی درحقیقت فاسق لوگ تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے فاسق قوم سے بدلہ لیا اور انہیں فرعون کے ساتھ غرقاب کردیا۔
4۔ فرعون اور اس کی قوم کو ان سے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے کن لوگوں سے انتقام لیا :
1۔ ان کے پاس انہی سے رسول آئے لیکن انہوں نے تکذیب کی جس بنا پر انہیں عذاب نے آلیا۔ (النحل : 113)
2۔ ان کے لیے کہا جائے گا تکذیب کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا رہو۔ (السجدۃ : 20)
3۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
4۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : 37)
5۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : 136)
6۔ ہم مجرموں سے انتقام لیا کرتے ہیں۔ ( سجدہ 22)
Ayahs 43:57–59فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنایا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اہل مکہ اور دیگر لوگوں کے لیے قدرت کا نمونہ اور مثال بنایا ہے۔
اسی سورت کی آیت 45 میں نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ اپنے سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) سے پوچھیں۔ انبیاء ( علیہ السلام) سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابیں اور اہل کتاب کے منصف مزاج اہل علم سے پوچھنا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے علاوہ کوئی معبود اور مشکل کشا بنایا ہے ؟ جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں۔ ظاہربات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی کو معبود نہیں بنایا۔ جب آپ ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے ان آیات کی تلاوت تو وہ کھل کھلا کر ہنسنے اور چلّانے لگے کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ ( علیہ السلام) بہتر ہیں ؟ حقیقت یہی ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) بہتر تھے اور بہتر ہیں۔ اس پر انہوں نے یہ دلیل لی کہ اگر عیسیٰ ( علیہ السلام) جہنم میں جائیں گے (نعوذ باللہ) تو ہم اور ہمارے معبود بھی جہنّم میں جانے کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) صرف ایک ” اللہ “ کی عبادت کا حکم دیا کرتے تھے جس کا ذکر اگلی آیات میں کیا گیا ہے، جہاں تک ان لوگوں کا جہنم میں داخل ہونے کا معاملہ ہے ان میں وہ پیر اور لوگ جہنم میں پھینکیں جائیں گے۔ جنہوں نے شرک کی تعلیم دی یا ایسا ماحول دیا کہ لوگ ان کی یا دوسروں کی عبادت کرنے لگے ان سب کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کے بندے تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے بڑا انعام فرمایا اور انہیں بنی اسرائیل کے لیے نمونہ قراردیا۔ جہاں تک مشرکین کی دلیل کا تعلق ہے بحث و تکرار اور جھگڑے کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو شرک و خرافات سے روکتے رہے۔ جس کا ثبوت دو آیات کے بعد دیا جارہا ہے۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے جو انعامات فرمائے ان کا اختصار یہ ہے۔
1 اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ حضرت مریم [ کو بڑی عزت عطا فرمائی ہے۔
2 اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرما کر اپنی قدرت کا نشان قرار دیا ہے۔
3 اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات عطا فرمائے۔
4 اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو وجیہ اور معزز بنایا۔
5 اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو جسم سمیت آسمان پر اٹھالیا۔
6 اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو قیامت کی نشانی قرار دیا۔
7 اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو صاحب کتاب نبی بنایا۔
مسائل
1۔ مشرک اپنے شرک کی تائید میں خواہ مخواہ بہانے تلاش کرتا ہے۔
2۔ مشرک کے پاس علم اور حقیقت پر مبنی دلیل نہیں ہوتی اس لیے وہ بحث و تکرار اور جھگڑا کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) پر بہت زیادہ فضل و کرم فرمایا تھا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا عقیدہ اور دعوت :
1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ (المائدۃ : 72)
2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی تصدیق کی۔ (آل عمران : 50)
3۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : 29، 30)
4۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا بیشک میرا اور تمہارا پروردگار ” اللہ “ ہے بس اسی کی عبادت کرو۔ (مریم : 36)
Ayahs 43:60–62فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے ایک اور اعتراض کا جواب۔
جس طرح فرعون نے اپنی قوم سے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پر اسے لیے بھی ایمان نہیں لاتا کہ اس کی معاونت کے لیے ملائکہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اعتراض کی شکل میں اہل مکہ کا بھی یہ مطالبہ تھا کہ محمد ﷺ کی تائید میں ملائکہ مقرر کیوں نہیں کیے گئے۔ جس کا اس موقع پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو زمین میں فرشتے تمہارے جانشین بنا دیں۔ دوسرے موقع پر کفار کے اعتراض کے یہ جواب دیئے گئے۔
(قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْأَرْضِ مَلَاءِکَۃٌ یَمْشُونَ مُطْمَءِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولًا) [ بنی اسرائیل : 95]
” اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بناتے۔ “
(وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَکًا لَقُضِیَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُونَ وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکًا لَجَعَلْنَاہُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَا یَلْبِسُونَ )[ الانعام : 8، 9 ]
” اور انہوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا ؟ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو ضرور کام تمام کردیا جاتا، پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی۔ اور اگر ہم اسے فرشتے بناتے تو یقیناً اسے آدمی بناتے اور یہ اس پر وہی مغالطہ دیتے جو وہ معالطہ اب ڈال رہے ہیں۔ “ (الانعام : 8، 9)
یعنی یہ کہتے کہ ہم انسان میں ہمارے لیے انسان رسول کیوں نہ بھیجا گیا۔
جہاں تک عیسیٰ ( علیہ السلام) کی ذات کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قیامت کی نشانی بنایا ہے۔ لوگوں کی اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ اے رسول ﷺ ! لوگوں سے فرمادیں کہ بس میری اتباع کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید، نبی ﷺ کی رسالت اور قیامت کی نشانی کا ذکر فرماکر واضح کیا ہے کہ یہ عقیدہ اور سوچ صراط مستقیم ہے۔ لوگوں کو اس کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ اس لیے آپ ﷺ سے یہ بات کہلوائی گئی کہ لوگوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ تمہیں شیطان صراط مستقیم سے نہ بہکائے اور پوری طرح جان لو ! کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
(عَنْ أبی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أَنْ یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ أَحَدٌ حَتّٰی تَکُون السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! عنقریب تم میں عیسیٰ ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت میں آئیں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ ختم کریں گے مال و دولت کی اس قدر بہتات ہوگی کوئی اس کو لینے والا نہ ہوگا یہاں تک کہ ایک سجدہ کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ “
مسائل
1۔ اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو نبی منتخب کرتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو قیامت کی نشانی بنایا ہے اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔
3۔ لوگوں کو شیطان کے پیچھے چلنے کی بجائے صراط مستقیم پر چلنا چاہیے۔ 4۔ شیطان لوگوں کا کھلادشمن ہے۔
تفسیر بالقرآن
شیطان کی لوگوں کے ساتھ دشمنی :
ئ 1۔ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ (البقرۃ : 168)
2۔ شیطان کی رفاقت کا بدترین انجام ہوگا۔ (الفرقان : 29)
3۔ شیطان بےوفائی کرتا ہے۔ (الحشر : 16) 4۔ شیطان بدترین ساتھی ہے۔ (النساء : 38)
5۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی۔ (الاعراف : 20 تا 22) 6۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (یوسف : 5)
Ayahs 43:63–66فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے پہلے عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ہورہا تھا۔ اب عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی دعوت کا ذکر کیا جاتا ہے۔
جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو انہوں نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں حکمت کی باتیں سکھلاؤں اور تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ بس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابعداری کرؤ۔ یقین جانو کہ ” اللہ “ ہی میرا اور تمہارا رب ہے صرف اسی کی عبادت کرو ! یہی صراط مستقیم ہے۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی ہدایت کے باوجود بنی اسرائیل کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا انہوں نے ظلم کیا اس لیے انہیں اذیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ ظالم لوگوں کو صرف اس بات کا انتظار ہے کہ ان پر قیامت برپا ہوجائے وہ ان پر اس طرح ٹوٹ پڑے گی کہ انہیں اس کی خبر تک نہ ہوگی۔ اہل مکہ کا یہ سوال تھا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی پوجا کی جاتی ہے تو کیا عیسیٰ ( علیہ السلام) بھی جہنّم میں جائیں گے ؟ اس بات کی وضاحت کے لیے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تعلیم کا حوالہ دیا ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سوا اپنی یا کسی دوسرے کی عبادت کا سبق نہیں دیتے تھے۔ وہ تو زندگی بھر یہی تلقین کرتے رہے کہ لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو ! وہ میرا اور تمہارا رب ہے۔ صرف ایک رب کی عبادت کرنا ہی صراط مستقیم ہے۔ لیکن لوگوں نے ان کی زندگی اور ان کے بعد عقیدہ توحید اور دوسرے مسائل میں اختلاف کیا۔ حالانکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ان اختلافات کو مٹانے اور سلجھانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ مگر اس کے باوجود اہل کتاب نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کئی گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ عقیدہ توحید اور دین کے بنیادی مسائل میں اختلاف پیدا کرنا پرلے درجے کا ظلم ہے۔ دین کے نام پر ظلم کرنے والوں کو جتنا بھی سمجھایا جائے ان کی اکثریت اس ظلم سے باز نہیں آتی۔ اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ یہ لوگ تو صرف قیامت کے منتظر ہیں۔ انہیں کیا خبر کہ قیامت اس قدر اچانک برپا ہوگی کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ تَفَرَّقَتِ الْیَہُودُ عَلَی إِحْدَی وَسَبْعِینَ أَوِ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً وَالنَّصَارَی مِثْلَ ذَلِکَ وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلَی ثَلاَثٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً )[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ ]
” رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ یہودی اپنے دین میں اختلاف کرنے کی وجہ سے اکہتر فرقے ہوئے، عیسائی اختلاف کی بنا پر بہتر گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو حکمت اور واضح دلائل کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا۔
2۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ہر قسم کا شرک اور ظلم چھوڑ دو اور میری اتباع کرو۔
3۔ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرنی چاہیے کیونہ وہ سب کا پیدا کرنے والا اور پالنہار ہے۔
4۔ صراط مستقیم کی نشانی یہ ہے کہ صرف ایک ” اللہ “ کی عبادت کی جائے۔
5۔ بنی اسرائیل نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور لوگوں کو انتشار کا شکار کیا۔
6۔ جو لوگ دین میں اختلاف اور امت میں انتشار ڈالتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن اذیت ناک سزا دے گا۔
7۔ قیامت اچانک برپا ہوجائے گی اور لوگوں کو اس کے آنے کی خبر نہ ہوپائے گی۔
Ayahs 43:67–70فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں میں شرک کی ابتدا حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی محبت میں غلو کی بنا پر ہوئی۔ جس وجہ سے قیامت کے دن کے بارے میں بتلایا ہے کہ اس دن متقین کی دوستی کے علاوہ کسی کی دوستی اور محبت باقی نہیں رہے گا۔
قیامت کے لمحات کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔
قیامت کے تین مراحل جب کوئی کسی کو یاد نہیں کریگا :
(عَنْ عَاءِشَۃ أَنَّہَا ذَکَرَتِ النَّارَ فَبَکَتْ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا یُبْکِیک قالَتْ ذَکَرْتُ النَّارَ فَبَکَیْتُ فَہَلْ تَذْکُرُونَ أَہْلِیکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَمَّا فِی ثَلاَثَۃِ مَوَاطِنَ فَلاَ یَذْکُرُ أَحَدٌ أَحَدًا عِنْدَ الْمِیزَانِ حَتَّی یَعْلَمَ أَیَخِفُّ میزَانُہُ أَوْ یَثْقُلُ وَعِنْدَ الْکِتَاب حینَ یُقَالُ (ہَاؤُمُ اقْرَءُ وا کِتَابِیَہْ ) حَتَّی یَعْلَمَ أَیْنَ یَقَعُ کِتَابُہُ أَفِی یَمِینِہِ أَمْ فِی شِمَالِہِ أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَہْرِہِ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَیْنَ ظَہْرَیْ جَہَنَّمَ )[ رواہ ابوداؤد : باب فی ذکر المیزان ]
” سیدہ عائشہ ؓ ایک دن جہنم کو یاد کر کے رورہی تھی رسول اللہ ﷺ نے پوچھا اے عائشہ ! تجھے کس چیز نے رولایا ہے۔ سیدہ عائشہ نے کہا جہنم کی آگ یاد آئی تو میں رو پڑی۔ کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل و عیال کو یاد رکھ پائیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین مواقع ایسے ہیں جن میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ 1 اعمال تولے جانے کے وقت جب تلک یہ نہ پتہ چل جائے کہ اس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوا یا ہلکا۔ 2 نامہ اعمال دئیے جانے کے وقت جب کہنے والا کہے آؤ میرے نامہ اعمال کو پڑھ کر دیکھو حتٰی کہ اسے علم ہوجائے کہ اس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جا رہا ہے یا پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں 3 جب جہنم پر پل صراط کو رکھا جائے گا۔ “
” اس دن گنہگار آرزو کرے گا کہ کاش ! اپنے بیٹے، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے کنبے والوں کو جو اس کو پناہ دیا کرتے تھے اور زمین کو فدیے میں دے دے اور خود نجات پاجائے “ (المعارج : 11 تا 14)
” اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے والدین، اپنی بیوی، اور اپنی اولاد سے بھاگ جائے گا۔ “ (عبس : 34 تا 36)
متقین کی دوستی اور محبت قائم رہے گی :
اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت کے دن کافر اور مشرک کے بارے میں کوئی سفارش نہیں کرسکے گا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ قیامت کے دن کچھ مراحل ایسے ہوں گے جب متقین تو درکنار انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی نفسا نفسی کے عالم میں ہوں گے۔ لیکن جب لوگوں کا حساب و کتاب ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ متقین کی سفارشات کو ایسے لوگوں کے حق میں قبول فرمائے گا جو کفر و شرک سے بچے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے ان کے فوت ہونے والے نابالغ بچوں اور کچھ لوگوں کی سفارش کو قبول کیا جائے گا جن میں آخری اور سب سے بڑی سفارش نبی کریم ﷺ کی ہوگی۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن متقین کے سوا سب کے تعلقات ختم ہوجائیں گے۔
2۔ قیامت کے دن متقین کے سوا سب لوگ آپس میں دشمن بن جائیں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ متقین کو ارشاد فرمائے گا۔ اے میرے بندو ! تم اور تمہاری نیک بیویاں جنت میں تشریف لے جاؤ۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن اللہ کے بندوں کو کوئی خوف نہیں ہوگا بلکہ ملائکہ انہیں سلام کریں گے :
1۔ اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے والا بےخوف ہوگا۔ (البقرۃ : 38) 2۔ اولیاء اللہ پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (یونس : 62)
3۔ اللہ اور آخرت پر یقین رکھنے والے کو کوئی ڈر نہیں ہوگا۔ (المائدۃ : 69)
4۔ ایمان لانے کے بعد استقامت دکھلانے والوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : 13)
5۔ رب کے سامنے اپنے آپ کو مطیع کردینے والا بےخوف ہوگا۔ (البقرۃ : 112)
6۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : 32)
7۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : 34)