Ayahs 42:1–4فہم القرآن
سورة حم ٓ سجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ سورة الشّوریٰ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ جس طرح قرآن کی شکل میں آپ ﷺ کی طرف وحی کی جاررہی ہے۔ اسی طرح ہی آپ ﷺ سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔
حم ٓ، عسق حروف مقطّعات میں سے ہیں۔ ان کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اے نبی ﷺ ! ” اللہ “ ہی وحی کے ذریعے قرآن مجید آپ کی طرف نازل کررہا ہے۔ اس طرح جیسے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحائف، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر انجیل نازل فرمائی اور ان کے علاوہ دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی بھیجی۔ قرآن مجید اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب ہے اس کے ہر حکم میں دانش ہوتی ہے اور اس کے احکامات محکم ہوتے ہیں۔ وہی زمین و آسمانوں اور ان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے بلند وبالا اور عظیم تر ہے۔ یہاں پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجنے کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ جن انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا ایمان ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کرتا تھا۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی ایمان ہونا چاہیے کہ وہی ” اللہ “ حضرت محمد ﷺ پر وحی کے ذریعے قرآن نازل کررہا ہے۔ اہل مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور کچھ اور پیغمبروں کے بارے میں ایمان رکھتے تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی۔ یہودی بالخصوص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے بارے میں اور عیسائی عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ ان پر وحی کی جاتی تھی اور وہ اللہ کے پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر کا نام لیے بغیر ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح ان پر وحی کی جاتی تھی۔ اے نبی ﷺ ! آپ پر بھی اسی طرح وحی کی جارہی ہے۔ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر وحی نازل نہیں ہوتی یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ زمین و آسمان اور ان میں جو چیز ہے وہ اللہ کی ملکیت میں ہے اور اللہ اپنی ذات، صفات، اقتدار اور اختیار کے حوالے سے بلندو بالا اور عظیم تر ہے۔ باربار دلائل پیش کرنے کے باوجود یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انہیں مہلت دیے جارہا ہے۔ جب پکڑنے پر آئے گا تو کوئی چیز اس کے سامنے مزاحم نہیں ہوسکے گی۔ ان آیات میں ایک طرف نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف قرآن مجید کے مخالفوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ تم بلندو بالا اور عظیم تر ہستی کی دسترس سے باہر نہیں ہو۔ اگر تم اپنی نافرمانیوں کے باوجود بچے ہوئے ہو تو یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس نے تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رکھی ہے۔
مسائل
1۔ حٰآ عسق حروف مقطعات ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر وحی نازل فرمائی جس طرح پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔
3۔ زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بلند بالا، عظیم تر، غالب اور حکمت والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے :
1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56)
3۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 4۔ اللہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ (آل عمران : 27)
5۔ اللہ جسے چاہتا ہے معزز اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : 26)
6۔ اللہ مردے کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ (الاحقاف : 33) 7۔ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے۔ (فاطر : 10)
8۔ اللہ سب کو موت دے کر دوسری مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ (النساء : 133)
9۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے لیے ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ (یونس : 65)
Ayah 42:5فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ اس قدر بلند وبالا اور عظیم تر ہے کہ وہ چاہے تو منکرین قرآن پر آسمان گرا دے۔ وہ ایسا اس لیے نہیں کرتا کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔
منکرین حق قرآن مجید کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی رسالت کو نہیں مانتے۔ نبی ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ہے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے دعویٰ نبوت اپنی طرف سے نہیں کیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے یہ اعلان کروایا اور آپ پر قرآن نازل فرمایا۔ اس لیے قرآن اور نبی ﷺ کا انکار کرنا ربِّ ذوالجلال کو (خاکم بدھن) جھوٹا کہنے کے مترادف ہے۔ یہ اتنا سنگین گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ درگزر نہ فرماتا تو قریب تھا اور ہے کہ منکرین قرآن پر آسمان پھٹ پڑے اور اللہ کے ملائکہ اتر پڑیں۔ جو ہر وقت اپنے رب کی شان کے لائق اس کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں اور ہر دم اہل زمین کے لیے اپنے رب کے حضور معافی کی درخوست کرتے ہیں، جس بنا پر اللہ تعالیٰ قرآن اور رسالت کے منکرین سے درگزر کرتا ہے۔ مجرموں کو یاد ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بار بار معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ فرشتوں کے نازل کرنے کا مقصد مجرموں کو عذاب دینا یا پھر قیامت برپا کرنا ہے۔
حمد کی عظمت :
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ ، خَفِیْفَتَانِ عَلَیْ اللِّسَانِِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِیْ الْمِیْزَانِ سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں، زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن کے لحاظ سے بھاری ہیں۔ “
(عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ]
حضرت ابومالک اشعری ؓ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے ‘ ” الحمدللہ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سبحان اللہ “ اور ” الحمدللہ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔
استغفار کی فضیلت :
” حضرت ابو سعید خدری ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر توبہ کے لیے ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا۔ کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ راہب نے جواب دیا نہیں اس نے اسے بھی قتل کردیا۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے کے لیے دوسرے عالم کے پاس گیا، اس شخص نے اسے ایک بستی کی طرف رہنمائی کی۔ راستے میں اس کو موت نے آلیا تو وہ اپنے سینے کے بل اس بستی کی طرف گرا۔ اس شخص کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو حکم دیا کہ مرنے والے کے قریب ہوجائے اور چھوڑی ہوئی بستی کو اس سے دوری کا حکم دیا۔ پھر دونوں کے درمیان فاصلہ ناپنے کا حکم ہوا۔ مرنے والا منزل مقصود کے بالشت بھر قریب پا یا گیا اس لیے اس کو معاف کردیا گیا۔ “ [ رواہ البخاری : باب حدیث الغار ]
مسائل
1۔ قریب ہے کہ منکرین قرآن پر آسمان ٹوٹ پڑے یا فرشتے اتر پڑیں۔ 3۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بڑا رحیم ہے۔
2۔ ملائکہ اپنے رب کی تسبیح پڑھنے کے ساتھ اہل زمین کے لیے بخشش مانگتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
استغفار کی برکات :
1۔ حضرت یونس کی قوم کے سوا کسی قوم کو عذاب کے وقت ایمان لانے کا فائدہ نہ ہوا۔ (یونس : 98)
2۔ اللہ سے بخشش طلب کیجیے یقیناً وہ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : 106)
3۔ اگر تم استغفار کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہتر صلہ دے گا۔ (ہود : 3)
4۔ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو میرا رب رحم کرنے اور شفقت فرمانے والا ہے۔ (ہود : 90)
5۔ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو یقیناً وہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (المزمل : 20)
Ayah 42:6فہم القرآن
ربط کلام : بخشنہار اور مہربان ” اللہ “ کو چھوڑ کر لوگ دوسروں کو اپنا کارساز اور خیر خواہ بناتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب پر نگران اور سب کا ذمہ دار ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان کے جرائم سے درگزر کرنے والا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ ہر انسان ایسے مہربان کو اپنا کارساز اور خیرخواہ مانے۔ مگر مشرک کی حالت یہ ہے کہ وہ ” اللہ “ بخشنہار اور مہربان کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کارساز اور خیر خواہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر نگران اور اس کی نیّت و عمل سے آگاہ ہے۔ اے رسول ﷺ ! آپ اپنا کام کرتے جائیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنایا ہے۔ رسول کا کام لوگوں کو حق کا پیغام دینا ہے منوانا اس کی ذمہ داری نہیں۔ نبی کریم ﷺ صبح و شام پوری جانفشانی اور اخلاص کے ساتھ لوگوں کو توحید اور دین حق کی دعوت دیتے۔ مگر مشرکین کی حالت یہ تھی کہ وہ کفر و شرک میں آگے بڑھے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ ﷺ افسردہ اور دل گرفتہ ہوجاتے۔ جس پر آپ کی طبیعت مضمحل ہوجاتی۔ اس پر آپ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کا ابلاغ کرنے کے لیے مبعوث فرمایا ہے کسی پر پاسبان اور چوکیدار مقرر نہیں کیا۔
قرآن مجید نے مشرکین کے لیے کئی بار یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا اولیاء سمجھتے ہیں۔ ولی کی جمع اولیاء ہے جس کا معنٰی خیر خواہ اور دلی دوست ہے۔
مفسرین نے ولی کے مختلف معنٰی و مفہوم بیان کیے ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
1 جس کے کہنے پر آدمی چلے، جس کی ہدایات پر عمل کرے، اور جس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی پیروی کرے۔ (النساء : 119، الاعراف : 3، 27، 30)
2 جس کی راہنمائی پر آدمی اعتماد کرے اور یہ سمجھے کہ وہ اسے صحیح راستہ بتانے اور غلطی سے بچانے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : 97، الکہف : 17، 50، الجاثیۃ : 19)
3 جس کے متعلق آدمی عقیدہ رکھے کہ میں دنیا میں خواہ کچھ کرتا رہوں وہ مجھے اس کے برے نتائج سے بچالے گا۔ (النساء : 123، 173، الانعام : 51، الرعد : 37، العنکبوت : 22، الاحزاب : 65، الزمر : 3)
4 جس کے متعلق آدمی یہ سمجھے کہ وہ دنیا میں ما فوق الفطرت طریقے سے اس کی مدد کرتا ہے، آفات و مصائب سے اس کی حفاظت کرتا ہے، اسے روزگار دلواتا ہے، مرادیں برلاتا ہے اور ہر طرح کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ (ہود : 20، الرعد : 16، العنکبوت : 41)
بعض مقامات پر قرآن مجید میں ولی کا لفظ ان میں کسی ایک معنٰی میں استعمال کیا گیا ہے اور بعض مقامات پر اس کے سارے ہی مفہوم مراد ہوتے ہیں۔ یہاں اللہ کے سوا دوسروں کو ولی بنانے سے مراد مذکورہ بالا چاریا کسی ایک معنٰی میں ان کو اپنا سرپرست بنانا اور حامی و مددگار سمجھنا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیوی وسائل کے تحت ایک حد تک انسان کو ایک دوسرے کا خیر خواہ اور کارساز بنایا ہے۔ لیکن یہ کارسازی اور خیر خواہی انسان کے اپنے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو عام انسان تو درکنار جنم دینے والی ماں بھی اپنی اولاد کی خیر خواہی اور اس کی چارہ جوئی نہیں کرسکتی۔ ماں کے دل سے رحم کا جذبہ ختم ہوجائے تو اپنے ہی لخت جگر کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ ماں بیماری کی وجہ سے لاچار ہوجائے تو جگر گوشے کو دودھ پلانا تو درکنار اسے آنکھیں کھول کر دیکھ بھی نہیں سکتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کی چارہ جوئی کرتا ہے۔ لہٰذاحقیقی اور بنیادی طور پر خیر خواہ اور کا ساز صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ لیکن مشرک اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ دوسروں کو بھی اپنا چارہ گر اور خیر خواہ سمجھتا ہے۔
مسائل
1۔ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز اور خیرخواہ سمجھتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر نگران اور پاسبان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کارساز اور حقیقی خیرخواہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ تم اس کی عبادت کرو کیونکہ وہ ہر کسی کا کارساز ہے۔ (الانعام : 102)
2۔ بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : 12)
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پروردگار ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الزمر : 41)
4۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : 132)
5۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : 65)
6۔ وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : 9)
Ayah 42:7فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا خیرخواہ اور کارساز بنا لیا ہے۔ اِ ن کو ان کے برے عقیدے کے انجام سے ڈرانے کے لیے آپ کی طرف قرآن وحی کیا گیا ہے کہ آپ انہیں ان کے برے انجام سے متنبہ فرمائیں جس کا آغاز مکہ اور گردونواح سے ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا جو عربی زبان میں ہے۔ عربی زبان میں نازل کرنے کی بنیادی طور پر تین وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر قرآن مجید غیر عربی میں ہوتا تو نہ صرف آپ ﷺ کے مخاطبین کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ملکہ آپ کو بھی قرآن سمجھنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔ عربی زبان میں قرآن نازل فرماکر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس دقت سے بچالیا۔ دوسری وجہ عربی میں قرآن نازل کرنے کی یہ ہے کہ اس زمانے میں صرف عربی زبان ہی ایسی زبان تھی جس کی جامعیت کا اہل علم اعتراف کرتے تھے اور آج بھی یہ زبان پوری دنیا کی زبانوں میں الفاظ اور قواعد کے اعتبار سے زیادہ جامع ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ آخر کسی نہ کسی زبان میں قرآن مجید نازل ہونا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ان تمام اوصاف سے متصف فرمایا تھا جو آخر الزماں پیغمبر میں ہونا چاہیے تھے۔ آپ ﷺ عربی تھے اس لیے قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ ﷺ امّ القریٰ اور اس کے گرد و پیش میں رہنے والے لوگوں کو آخرت کے ثواب اور احتساب سے آگاہ فرمائیں جس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اس دن ذات پات اور ہر قسم کی اونچ نیچ کے سوا صرف لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے۔ صحیح عقیدہ اور صالح اعمال رکھنے والے لوگ جنت میں جائیں گے اور بدبخت لوگوں کو جہنّم میں جھونکا جائے گا۔ قرآن مجید نے سورة الاعراف میں ایک تیسرے گروہ کا ذکر بھی کیا ہے جہنیں قیامت کے دن اصحاب الاعراف کے نام سے پکارا جائے گا۔ یہ بالآخر جنت میں جائیں گے۔ لیکن کچھ بنیادی کوتاہیوں کی وجہ سے انہیں ایک عرصہ کے لیے جنّت اور جہنّم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ ان کا ذکر یہاں اس لیے نہیں کیا گیا۔ کیونکہ بالآخر وہ جنت کے مہمان ہوں گے۔ اس لیے انہیں جنتیوں میں ہی شمار کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے مکہ معظّمہ کو امّ القریٰ قرار دیا ہے۔ جس کا معنٰی ہے بستیوں کی ماں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین و آسمان بنانے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے بیت اللہ کے مقام پر زمین کا آغاز ہوا۔ (آل عمران : 96) دوسری وجہ یہ ہے کہ مکہ معظّمہ بیت اللہ کی وجہ سے ابتداء ہی سے مرجع خلائق رہا ہے۔ امّ القریٰ کے آس پاس سے مراد مکہ کے گرد و نواح کی بستیاں ہیں۔ اس آیت میں تبلیغ کا نیٹ ورک بتلایا گیا ہے کہ کام کا آغاز اپنے قریب سے کرنا چاہیے۔ جس کے لیے حکم ہے کہ اپنے آپ اور اپنے عزیز و اقربا کو جہنم کی ہولناکیوں سے بچاؤ۔ ( الشعراء : 214) اکثر اہل علم نے امّ القریٰ سے پوری دنیا مراد لی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کا ارشاد اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ میں کالے اور گورے، عربی اور عجمی کے لیے رسول بنایا گیا ہوں اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اسلام کا پیغام دنیا کے ہر گھر تک نہ پہنچ جائے۔[ رواہ احمد : مسند ابی ذر ]
(قُلْ یٰٓا أَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا) [ الاعراف : 158]
” اے پیغمبر ﷺ فرما دیجئے ! اے لوگو میں تم تمام کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نبی اکرم ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا ہے۔ 2۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔
3۔ اللہ کے رسول ﷺ اہل مکہ اور پوری دنیا کو قیامت کے حساب و کتاب سے متنبّہ کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے۔
4۔ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد لوگ دو اقسام میں تقسیم کیے جائیں گے۔
5۔ ایک فریق جنتی ہوگا اور دوسرا فریق دوزخ میں جھونکا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
جنت اور جہنم کا ایک منظر :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
5۔ جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (البقرۃ : 167) 6۔ جہنم سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ (الزخرف : 77)
7۔ جہنم میں موت وحیات نہیں ہوگی۔ (طٰہٰ : 74) 8۔ دنیا میں لوٹ آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ (الانعام : 27)
9۔ جہنم کی سزا میں وقفہ نہیں ہوگا۔ (فاطر : 36) 10۔ جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ (الفرقان : 65)
Ayahs 42:8–9فہم القرآن
ربط کلام : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگ جہنّمی نہ بنتے اور سب کے سب لوگ جنت میں داخل ہوتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حق پر مجبور کرنے کی بجائے اس نے لوگوں کو حق و باطل میں انتخاب کا اختیار دے رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں حکمرانی عطا فرمائی اور ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔ اشرف المخلوقات اور زمین پر خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اسے اس کی ذات کے بارے میں ایک حد تک اختیارات عطا فرمائے ہیں۔ جس میں سب سے بڑا اختیار یہ دیا کہ یہ چاہے تو ” اللہ “ کی نازل کردہ ہدایت قبول کرے نہ چاہے تو گمراہی کا راستہ اختیار کرلے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو کھول کر بیان کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ لوگوں کو ایک ہی امت یعنی ہدایت پر جمع کرسکتا تھا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے سرفراز کرتا ہے اور جو لوگ اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے وہ ظالم ہیں اور ظالموں کے لیے قیامت کے دن کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوگا۔ ظالم سے پہلی مراد مشرک ہیں۔ مشرک کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز اور حقیقی خیرخواہ سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ موت وحیات صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جو ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔ لفظ ولی کی تشریح اس پہلے آیت 6 میں کردی گئی ہے۔ شرک کی حمایت کرنے والے مفسّرین نے یہاں بھی من دونہٖ اولیاء سے مراد بت لیے ہیں۔ حالانکہ ان سے مرادوہ بزرگ ہیں جن کی زندگی میں یا ان کے فوت ہونے کے بعد لوگوں نے انہیں حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیا ہے۔ یہاں اولیاء سے مراد اس لیے بزرگ لیے گئے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کے الفاظ استعمال فرما کر کھلا اشارہ دیا ہے کہ جن بزرگوں اور اولیاء کے سامنے لوگ فریادیں کرتے ہیں وہ تو اپنی موت اور زندگی پر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ جب کسی کو اپنی موت اور زندگی کے بارے میں اختیار نہیں تو وہ کسی کی بگڑی کس طرح سنوار سکتا ہے۔ جو لوگ ہر مقام پر من دون اللہ سے مراد بت لیتے ہیں۔ انہیں انصاف سے سوچنا اور اقرار کرنا چاہیے کہ کیا بت میں روح ہوتی ہے ؟ اس کے بارے میں موت اور زندگی کا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ کیا بتوں کو قیامت کے دن زندہ کرکے ان سے حساب لیا جائے گا ؟ یہاں پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے۔ یہاں رحمت سے مراد دین کا فہم اور اس پر عمل کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جسے اپنی رحمت میں شامل کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔[ رواہ البخاری : کتاب العلم ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
2۔ جسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے سرفراز فرمانا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مشرک دور ہوتا ہے۔ 4۔ قیامت کے دن ظالموں کا کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوگا۔
5۔ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں اور بزرگوں کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔
6۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی موت وحیات کا مالک ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک اللہ کے سوا اور اس کے ساتھ دوسروں کو اپنا کارساز سمجھتے ہیں :
1۔ کیا کافر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا کار ساز بنا لیں گے۔ (الکہف : 102)
2۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے ہی بندے ہیں۔ (الاعراف : 194)
3۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (الاعراف : 197)
4۔ سوال کیجیے کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے ؟ (الاحقاف : 4)
5۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : 73)
6۔ تم بعل (بت) کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑدیتے ہو۔ (الصّٰفٰت : 125)
Ayah 42:10فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو فکر و عمل کا اختیار دینے کے باوجود حکم فرمایا ہے کہ وہ ہر حال میں اس کے حکم کی پیروی کرے۔ اور اس کی ذات پر بھروسہ کرے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فکرو عمل کی آزادی عطا فرمائی ہے۔ جس وجہ سے لوگوں کی فکر اور عمل میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ دین میں اختلاف اس وقت رونما ہوتا ہے جب کوئی شخص بالخصوص عالم دین اپنی ذاتی رائے کو حرف آخر سمجھ لیتا ہے۔ اگر اس کی سوچ دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو اور اس اختلاف کے پیچھے دینوی مفاد اور فرقہ واریت ہونے کی بجائے اخلاص ہو تو اس اختلاف کے نقصانات تھوڑے ہوتے ہیں اور اس کی ایک حد تک دین میں گنجائش بھی موجود ہے۔ اگر یہ اختلاف عقیدہ توحید، رسالت اور آخرت یعنی دین کے بنیادی اصولوں میں پایا جائے تو اس کے نقصانات ناقابل تلافی ہوتے ہیں۔ جس کا پہلا نقصان یہ ہے کہ آدمی دین سے نکل کر دائرہ کفر میں داخل ہوجاتا ہے۔ اختلاف بنیادی ہو یا فروعی، معاشی ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا سماجی، انفرادی ہو یا اجتماعی بیشک اختلاف حاکم اور محکوم کے درمیان کیوں نہ ہو ہر کسی کے لیے حکم ہے کہ اس کا حل اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا خالق اور مالک ہے۔ یہی سرور دو عالم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ اپنے مخالفوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ جس بات میں تم میرے ساتھ اختلاف کررہے ہو۔ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے۔ وہ میرا خالق ہے اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔ میرا رب چاہے گا تو دنیا میں ہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا۔ اگر دنیا میں فیصلہ نہ ہوا تو آخرت میں بہرحال یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ کون ہدایت پر تھا اور کون گمراہی میں مبتلا تھا۔ مومن کو ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اسی کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے درمیان کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول اور اپنے امیر کی طرف لوٹاؤ۔ (النساء : 59) کیونکہ اصل حاکم اللہ کی ذات ہے اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنا نام لیا ہے اگر اس حکم سے مراد قیامت کے متعلق حکم لیا جائے تو وہاں صرف ایک ” اللہ “ کا ہی حکم چلے گا۔
Ayah 42:11فہم القرآن
ربط کلام : جس اللہ پر بھروسہ کرنا ہے اسی نے زمین و آسمان اور لوگوں کو پیدا کیا ہے۔
فاطر کا لغوی معنٰی ہے پیدا کرنے والا اور کسی کام کو بالکل ابتدا سے شروع کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور اس کے بعد نسل انسانی کی افزائش کا سلسلہ جاری فرمایا۔ (النساء : 1)
اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کی خدمت کے لیے چوپائے پیدا کیے۔ ان میں بھی نر اور مادہ بنائے تاکہ ان کی افزائش کا سلسلہ جاری رہے۔ اسی نے جاندار اور غیر جاندار چیزیں پیدا فرمائی ہیں۔ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشابہت رکھتی ہو۔ وہ اپنی مخلوق کی ہر بات سنتا ہے اور اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں ” لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ“ کے الفاظ استعمال فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ مخلوق میں کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ہے اور وہ عرش پر متمکّن ہے۔ جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ گویا کہ رفع مکانی کے لحاظ سے بھی کوئی چیز اس سے ارفع و اعلیٰ نہیں۔ وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے اس کے دیکھنے کی طرح کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ وہ ہر بات سنتا ہے اس کے سننے کی طرح کوئی سن نہیں سکتا۔ اس کی مخلوق کا شمار نہیں وہ سب کی بولیاں سمجھتا اور سنتا ہے۔ جن و انس اور ملائکہ سب سے اعلیٰ مخلوق ہیں مگر ان میں بھی کسی کی یہ استعداد نہیں کہ بیک وقت وہ اپنے ہی ہم جنس افراد کی باتیں سمجھ سکیں اور سب کو دیکھ پائیں۔ یہ صرف اللہ ہی کی شان ہے جو اپنی مخلوق کو جانتا، ان کی بولیاں سمجھتا ہے اور ہر چیز کو ہر حالت میں دیکھتا ہے۔ اس لیے اس کا ارشاد ہے کہ اس کی ذات اور صفات کے ساتھ کسی چیز کی مثال نہ دی جائے۔ کیونکہ اس کی ذات اور صفات بےمثال ہیں۔ لیکن افسوس ! مشرک پھر بھی ایسی باتیں کرتے اور مثالیں دیتے ہیں۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔
ا اللہ تعالیٰ سے بندے کو دور رکھنے کے لئے اپنے رب کے بارے میں اتنی کمزور اور سطحی مثالیں دی جاتی ہیں کہ جس پر آدمی حیرت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے علماء کا کہنا ہے کہ ڈی سی سے ملنے کے لیے چپڑاسی کی ضرورت ہے اور مکان کی چھت پر سیڑھی کے بغیر نہیں چڑھا جاسکتا۔ اس مثال اور باطل عقیدے کو اس شدومد کے ساتھ پھیلایا گیا ہے کہ اچھے بھلے، پڑھے لکھے حضرات حتیٰ کہ عدالتیں کرنے والے جج، قانون کی باریکیوں اور موشگافیوں سے واقف وکلاء، اندرون اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل سکالر، اس پراپیگنڈے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ صحیح بات ماننا تو درکنار اسے ٹھنڈے دماغ سے سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔
ڈی سی او ایک انسان ہے جو بیک وقت ایک ہی انسان کی بات سن اور سمجھ سکتا ہے کمزور آدمی اس تک اس لیے نہیں پہنچ سکتا کہ اس نے لوگوں کے درمیان چھوٹے بڑے کا امتیاز قائم کر رکھا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی ایسا ہے کہ اس نے امیر اور غریب چھوٹے اور بڑے کے درمیان امتیاز قائم کر رکھا ہے ؟ چھت قریب آ نہیں سکتی اور انسان سیڑھی کے بغیر اس پر چڑھ نہیں سکتا کیا اللہ تعالیٰ کا بھی یہی معاملہ ہے ؟ ( نعوذ باللہ من ذالک)
مسائل
1۔ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ 2۔ اللہ ہی نے انسانوں اور چوپاؤں کے جوڑے بنائے ہیں۔
3۔ اللہ ہی انسانوں اور چوپاؤں کی افزائش کرنے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات لازوال اور بےمثال ہیں۔ 6۔ مخلوقات میں کوئی کسی اعتبار سے بھی اس جیسا نہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہر اعتبار سے سے لازوال اور بےمثال ہے :
1۔ ہر چیز تباہ ہوجائے گی صرف اللہ کی ذات کو دوام حاصل ہے۔ (الرحمن : 26 تا 27)
2۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر شے ہلاک ہوجائے گی۔ (القصص : 88) 3۔ قیامت کے دن اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی۔ (الفرقان : 26)
4۔ اللہ تعالیٰ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید : 3) 5۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور : 35)
6۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں لہٰذا صرف اسی کو پکارو (المومن : 65)
7۔ ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ پر توکل کرو جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (الفرقان : 58)
8۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ (آل عمران : 2)
9۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کو نیند اور اونگھ نہیں آتی۔ (البقرۃ : 255)
Ayah 42:12فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ جیسا کوئی نہیں ہے۔ اس کے اختیارات دائمی اور لا محدود ہیں اور اسی کے پاس زمین و آسمانوں کے خزانوں کا کنٹرول ہے۔
اللہ تعالیٰ کے پاس ہی زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی جاندار پیدا کیا ہے۔ اس کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے وہ ہر کسی کے مستقل قیام اور عارضی ٹھہراؤ کو جانتا ہے اور اس نے ہر بات لوح محفوظ میں لکھ رکھی ہے۔ (ھود : 6) قرآن مجید میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اے انسان ! تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (المدّثر : 31) اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے والی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع اور ( Mobile) بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے۔ گوشت کھانے والے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دنکا لینے والے کو دانہ دنکا میسر ہے۔ چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی سب کے سب صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کا انحصار انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مرجاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق ہے جس کے پیش نظر لوگوں کا رزق بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بیشک وہ قحط سالی بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو بارش کی کمی بھی انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ وہ لوگوں کی مستقل قیام گاہوں اور عارضی رہائش کو جانتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کے اعمال اور ضروریات سے باخبر رہنا اس کی صفت کاملہ ہے۔ اس لیے نہ صرف ہر لحاظ سے باخبر رہتا ہے بلکہ اس نے انسان اور دنیا کی ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِءْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ أَہْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ )
[ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ]
” حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پڑھتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے، تو اس ثناء کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو ثناء اور عظمت بندہ بیان کرتا ہے ہم سب تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء کرنا چاہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا نفع نہیں دے سکتا۔ “
مسائل
1۔ زمین و آسمان کی چابیاں صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ 2۔ اللہ ہی رزق بڑھانے اور گھٹانے والا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : 58) 2۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سباء : 39)
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132)
4۔ بیشک اللہ بغیر حساب کے جس کو چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے۔ (آل عمران : 37)
5۔ ہم نے اس زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : 20)
6۔ کتنے ہی چوپائے ایسے ہیں کہ تم انہیں رزق نہیں دیتے اللہ ہی ان کو رزق دینے والا ہے۔ (العنکبوت : 60)
7۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں اور انھیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : 151)
Ayah 42:13فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کی روزی کا بندوبست کیا ہے اسی طرح ہی اس نے ان کی راہنمائی کا انتظام فرمایا ہے۔
انسان کا وجود بنیادی طور پر دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اس کا جسم مٹی سے بنایا گیا ہے۔ جسم کی بنیادی ضروریات مٹی کے ساتھ تعلّق رکھتی ہیں۔ انسان کے وجود کو جو چیز حرکت میں رکھتی ہے اس کا نام ” اَلرُّوْحُ “ ہے۔ ” اَلرُّوْحُ “ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ہے۔ جسے اہل علم نے ملکوتی چیز قرار دیا ہے۔ ” اَلرُّوْحُ “ کی خوراک اور راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر وحی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ جو نبی آخر الزماں ﷺ پر مکمل ہوا۔ اس راہنمائی کا نام ” اَلدِّیْنُ “ ہے۔ جس کے بنیادی اصول اور مسائل ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ البتہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس کی شروعات میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ اس کے لیے مشہور مثال یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دور میں بہن اور بھائی کا آپس میں نکاح جائز تھا۔ جونہی انسان کی نسل افزائش پذیر ہوئی تو بہن بھائی کا نکاح حرام قرار پایا۔ پہلی شریعتوں میں ایک آدمی کے نکاح میں بیک وقت دو بہنیں جائز قرار پائیں۔ لیکن شریعت محمدی ﷺ میں اسے بھی ناجائز قراردیا گیا۔ پہلی شریعتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا اب کلیتاً حرام ہے۔ لہٰذا شرع سے مراد وہ تشریح اور تفسیر ہے جس سے دین کے تقاضے پورے ہوتے ہیں یہ تشریح اور تفصیل بھی وحی کے ذریعے نبی کو بتلائی اور سمجھائی جاتی ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے قرآن اور اس کی مثل ایک اور چیز بھی عطا کی گئی ہے۔
اسے ہم حدیث رسول ﷺ کے نام سے جانتے اور مانتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بارے میں ہی فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہی دین تمہارے لیے پسند فرمایا ہے جس کی وحی آپ ﷺ پر کی گئی ہے۔ اس طرح ہی آپ ﷺ سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر کی گئی تھی۔ مقصد یہ تھا اور ہے کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ بازی پیدا نہ کرو۔” اَلدِّیْنُ “ سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے جس کی دعوت مشرکین پر بڑی گراں گزرتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ اپنی توحید کی سمجھ دے دے اسے اپنی بارگاہ میں برگزیدہ کرلیتا ہے۔ جو شخص بھی خلوص نیت کے ساتھ اللہ سے اس کی توحید کی راہنمائی چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی ضرور راہنمائی کرے گا۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ضرور ہدایت دیتا ہے کیونکہ وہ نیکی کرنے والوں کی دستگیری کرتا ہے۔ (العنکبوت : 69) اس آیت میں جو دوسری بات سمجھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ” اَلدِّیْنُ “ میں تفرّقہ پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ تفرّقہ سے بچنے کے لیے جو اصول سمجھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اے مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے امیر کا حکم مانو ! اگر امیر کے ساتھ کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کردو۔ (النساء : 59) اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید اور نبی ﷺ کے فرمان کے سامنے پیش کرو۔ یہ اس قدر سادہ اور ٹھوس اصول ہے کہ نیت میں اخلاص اور رب کی رضا مطلوب ہو تو آج بھی اس میں ہمارے اختلافات کا حل موجود ہے۔ لہٰذا ہر شخص اور فرقہ اپنے عقیدہ اور عمل کو بالخصوص قرآن مجید اور بخاری و مسلم کے سامنے پیش کرے۔ بالیقین امت میں اٹھانویں فیصد اختلافات دور ہوجائیں گے۔ مگر یہ بات مشرک اور مفاد پرست علماء اور دنیادار لوگوں کو پسند نہیں کیونکہ یہ لوگ اپنے معاملات کو قرآن و سنت کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جس وجہ سے امت اختلافات کا شکار ہے۔ اختلافات سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پورے اخلاص کے ساتھ دین کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ حقیقتاً یہی اس کے قیام کا معنٰی ہے جو پورا ہونا چاہے۔
(عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یکَرِبَ الْکِنْدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ ) [ مسند احمد : باب حدیث المقدام بن معدیکرب ]
” مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار بیشک مجھے کتاب اور اس جیسی اور چیز عطا کی گئی ہے۔ خبردار مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز عطا کی گئی ہے۔ “
مسائل
1۔ ” اَلدِّیْنُ “ ہمیشہ سے ایک ہے اور اس کی تشریح حدیث کی شکل میں موجود ہے۔
2۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی وحی کی صورت میں نازل کی گئی۔ 3۔” اَلدِّیْنُ “ سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے۔
4۔ اللہ کی توحید مشرکین پر بڑی گراں گزرتی ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔
6۔ جو شخص ” اللہ “ کی طرف خلوص نیت کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرور راہنمائی کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک کو توحید خالص اور دین کی دعوت گراں گزرتی ہے :
1۔ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباء کرتے رہے ہیں۔ (ھود : 62)
2۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں ہمارے آباء و اجداد کافی ہیں۔ (المائدۃ : 104)
3۔ جب ان کے پاس اللہ وحدہٗ لاشریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جل جاتے ہیں۔ (الزمر : 45)
4۔ جب مشرکین کو توحید کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ تکبر کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ (الصّٰفّٰت : 35)
5۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ (النساء : 61)
6۔ جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (المطففین : 13)
11۔ جب انہیں قرآن کی پیروی کے لیے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں ہمیں اپنے باپ دادا کافی ہیں۔ (البقرۃ : 170)
12 جہنمیوں کو جواب دیا جائے گا کہ جس حالت میں تم مبتلا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب صرف ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے اختیار ہیں۔ (المومن : 12)
13۔ اس اللہ کو چھوڑ کر لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نفع اور نقصان نہیں پہنچاسکتے اور کافر اپنے رب کا مخالف بنا ہوا ہے۔ (الفرقان : 55)
Ayah 42:14فہم القرآن
ربط کلام : تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کا دین ایک ہی تھا مگر ان کے بعد ان کے نا خلف وارثوں نے باہمی حسد وبغض کی وجہ سے اس میں اختلافات پیدا کردیئے۔
دین کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے۔ توحید کا معنٰی ہے کہ ایک اللہ کا حکم مانا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ رسالت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے جو فرمایا اور کرکے دکھلایا اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ ان دونوں چیزوں سے جو شخص جتنا آگے پیچھے ہوگا اتنا ہی وہ اتحاد امت سے دور ہوگا اور عملاً اختلافات کا باعث بنے گا۔ اگر اس اختلاف میں حسد وبغض شامل ہوجائے تو دین اور ملت تفرّقہ بازی کا شکار ہوجائیں گے پہلی امتوں میں یہی کچھ ہوا۔ قرآن مجید بتلا رہا ہے کہ یہ تفرقہ بندی بےعلمی کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی کہ انہیں علم نہ تھا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے ؟ پہلی امتوں کے علماء اور زعماء کو سب کچھ بتلادیا گیا تھا مگر ذاتی مفاد اور باہمی عناد کی وجہ سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، ذاتی اور جماعتی مفادات کی خاطر تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگئے۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ آنے والی نسلوں کا دین سے اعتماد اٹھ گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بات طے نہ ہوتی کہ لوگوں کو فکروعمل کی آزادی دی جائے اور ان کے اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی ان کا فیصلہ چکا دیتا۔ امت مسلمہ کو اس صورت حال سے بچانے کے لیے نبی ﷺ نے یوں راہنمائی فرمائی ہے۔
( عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أُمَّتِی مَا أَتَی عَلٰی بَنِی إِسْرَاءِیلَ حَذْوَ النَّعْلِ بالنَّعْلِ حَتّٰی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَنْ أَتٰی أُمَّہُ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِی أُمَّتِی مَنْ یَصْنَعُ ذَلِکَ وَإِنَّ بَنِی إِسْرَاءِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً قَالُوْا وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذ ہ لامۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ بالکل اس طرح مل جائے گی جس طرح جو تا ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ضرور ہوگا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی۔ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کون سا گروہ ہے ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کرام ؓ کے طریقے پر عمل کرنے والا ہوگا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَکُونُوا عِبَاد اللَّہِ إِخْوَانًا )
[ رواہ البخاری : باب مَا یُنْہَی عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ تم کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ کسی کی غیر حاضری میں باتیں کرو ‘ نہ ہی دشمنی کرو۔ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ “
مسائل
1۔ پہلی امتوں کے علماء اور زعماء نے باہمی حسد کی وجہ سے دین اور امت کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ قیامت پر چھوڑ رکھاہے
3۔ دین میں اختلافات پیدا کرنے سے لوگوں کا دین پر اعتماداٹھ جاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
دین اور امت میں اختلافات سے بچنے کا حکم :
1۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ! تفر قہ بازی میں نہ پڑو ! (آل عمران : 103)
2۔ اتحاد واتفاق اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ (الانفال : 63) 3۔ اتحاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ (آل عمران : 103)
4۔ کتاب اللہ کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ (البقرۃ : 256) 5۔ باہمی اختلاف اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ (الانعام : 65)
Ayah 42:15فہم القرآن
ربط کلام : پہلی امتوں کے لوگ حسد وبغض کی وجہ سے تفرقہ بازی کا شکار ہوئے۔ جس کے نتیجہ میں اللہ کا دین تقسیم ہوا اور لوگ دین کے بارے میں شک کا شکار ہوگئے۔ افتراق اور شک سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دین پر پکا رہے۔
دین پر پکا رہنے اور اس میں شک وشبہ سے بچنے کے لیے یہاں چار باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر باربار نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم ہوا ہے کہ آپ کو ان باتوں پر ہر حال میں توجہ دینا اور ان پر قائم رہنا ہوگا۔
1 قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان لانا۔ 2 حالات جیسے بھی ہوں دین پر استقامت اختیار کرنا۔ 3 لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے اجتناب کرنا۔ 4 حالات کی پروا کیے بغیر دین حق کی لوگوں کو دعوت دیتے رہنا۔
جس داعی میں یہ چار اوصاف پائے جائیں وہی عدل کی بات کرسکتا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرسکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زبان اطہر سے عدل کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جو کچھ میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں اس میں کسی کی حمایت اور مخالفت مقصود نہیں۔ میں تو اسی بات کی دعوت دیتا ہوں جو انصاف پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اسی کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔” اُمِرْتُ لِاَ عْدِ لَ بَیْنَکُمْ “ کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے دین کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ میں تمہارے درمیان تمہارے دینی اور دنیاوی اختلافات میں عدل کے ساتھ فیصلہ کروں۔ اگر تم اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو ہمارے ساتھ جھگڑنے کی بجائے تم اپنا کام کرو اور ہمیں اپنا کام کرنے دو کیونکہ ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ نہ ہمارے اعمال کے بارے میں تمہیں پکڑا جائے گا اور نہ تمہارے اعمال کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہوگی۔ اس کے باوجود تم جھگڑتے ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو قیامت کے دن اکٹھا فرما کر سب کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ ہمیں تو ہر حال میں دین پر پکے رہنے اور لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنے سے منع کیا گیا ہے۔
نبی ﷺ کی دعا :
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دینِکَ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِءْتَ بِہِ فَہَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ أَصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّہِ یُقَلِّبُہَا کَیْفَ یَشَاءُ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ أَصْبُعَیِ الرَّحْمَنِ ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے دلوں کو پھیرنے والے ” اللہ “ میرے دل کو دین پر ثابت فرما۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ لے کر آئے اسے تسلیم کیا۔ کیا آپ ہمارے بارے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! بیشک دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں وہ جدھر چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ مسلمان کو ہر حال میں لوگوں کو دین کی دعوت دینا چاہیے۔ 2۔ ہر حال میں دین پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔
3۔ گمراہ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتب اور قرآن مجید پر ایمان لانا فرض ہے۔
5۔ دین کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کے درمیان عدل قائم کیا جائے۔
6۔ کوئی شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار نہیں۔
7۔ اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے۔ اور وہی لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلے کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
دین پر استقامت اختیار کرنے کا حکم :
1۔ دین پر قائم رہو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ (الشوریٰ : 13) 2۔ دین پر قائم رہو اور بےعلموں کے راستہ کی پیروی نہ کرو۔ (یونس : 89)
3۔ ایمان لانے کے بعد استقامت دکھلانے والوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : 13)
Ayah 42:16فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور آیات کے بارے میں جھگڑا کرنے والوں کی سزا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کے دلائل دیتے ہوئے ثابت فرمایا ہے کہ وہ اپنی ذات، صفات اور اختیارات میں اکیلا ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی ذات ایسی نہیں جو کسی اعتبار سے اس کی معاون اور شریک ہو۔ اتنی ٹھوس اور واضح بات ہونے کے باوجود کافر اپنے رب کی ذات کا انکار کرتے ہیں اور مشرک اس کی ذات، صفات اور اختیارات کے بارے میں اہل توحید کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے لایعنی قسم کے دلائل دیتے ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کفار اور مشرکین کے دلائل اس قدر بوسیدہ اور بےہودہ ہیں۔ جیسے کسی چیز کو پاؤں تلے مسل دیا گیا ہو۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ کفار اور مشرکین کی حجّت بازی اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی گھٹیا اور ذلیل ہے۔ اسی لیے موحّدین کو ایسی باتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھنا چاہیے۔ جسے مشرک دلیل سمجھ کر پیش کرتے ہیں درحقیقت یہ اپنے رب کے ساتھ جھگڑا کرنے کے کچھ بھی نہیں ہے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔
مسائل
1۔ کفار اور مشرکین کے دلائل حجّت بازی کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کفار اور مشرکین کی حجّت بازی انتہائی گھٹیا اور ذلیل حرکت ہے
3۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں حجت بازی کرتے ہیں انہیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔