42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsفہم القرآن

Ayahs 42:17–18

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اور ترازو نازل کیا ہے اور تمہیں کیا خبر شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے۔ خوب سن لو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرنے والے لوگ اگر اپنے بےحیثیت دلائل کو حق کے ترازو میں رکھ کر وزن کرتے تو وہ عذاب شدید سے مامون ہوسکتے ہیں۔ ہر جھگڑا کرنے والے کے پاس کوئی نہ کوئی حجّت اور دلیل ہوا کرتی ہے۔ دلیل کو پرکھنے اور حق بات تک پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور ایک میزان نازل فرمائی ہے۔ اس لیے کہ لوگ کتاب الٰہی سے راہنمائی حاصل کریں اور اس میزان کے ذریعے اپنی دلیل کا وزن کریں۔ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کی حجت اور بات کی حیثیت کیا ہے۔ جہاں تک قیامت کی آمد کا معاملہ ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کس قدر قریب آپہنچی ہے۔ لوگ اپنی بات کا میزان میں وزن کرنے کی بجائے قیامت کے بارے میں جلد بازی کا اظہار کررہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ لوگ آپ ﷺ سے کہتے کہ جس کی آمد سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک کیوں برپا نہیں ہوئی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے خائف رہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ قیامت ہر حال میں برپا ہونی ہے۔ اس لیے وہ اس کی ہولناکیوں اور حساب و کتاب سے ڈرتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتا ہے درحقیقت وہ کائنات کے نظام اور اپنی تخلیق کو بےمقصد قرار دیتا ہے۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ قرآن مجید میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ 9 دفعہ آیا ہے تاہم دو آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے ایک میزان بھی نازل فرمایا ہے۔” اَلْمِیْزَانُ “ کے بارے میں اہل علم کے چار قسم کے خیالات ہیں۔ جو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حق پر مبنی ہیں۔ 1” اَلْمِیْزَانُ “ درحقیقت الکتاب کی تشریح ہے۔ 2 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان وزن اور فرق کرسکتا ہے۔ 3” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد وہ عقل سلیم ہے جس کی روشنی میں آدمی حق اور ناحق کی پہچان کرتا ہے۔ 4 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد دنیا کی کسی چیز کی پیمائش یا وزن کرنے کا وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے لوگ اپنا لین دین کرتے ہیں۔ جن آیات میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (الانعام : 152، الاعراف : 85، ھود : 84، 85، الشوریٰ : 17، الرحمن : 7، 8، 9، الحدید : 25) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور میزان نازل فرمایا ہے۔ 2۔ قیامت کا انکار کرنے والے لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔ 3۔ قرآن مجید اور میزان کے ذریعے لوگوں کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنا چاہیے۔ 4۔ جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے وہی اس کے بارے میں جلدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 5۔ قیامت پر ایمان رکھنے والے لوگ اس کی ہولناکیوں اور اپنے حساب و کتاب سے ڈرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن دور کی گمراہی میں مبتلا ہونے والے لوگ : 1۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 116) 2۔ ” اللہ “ کے راستہ سے روکنے والے دور کی گمراہی میں ہیں۔ (النساء : 167) 3۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص : 50) 4۔ کفار سے دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : 1) 5۔ جس نے اللہ، رسول، ملائکہ، کتابوں اور دن آخرت کا انکار کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء : 136) 6۔ جو لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (ابراہیم : 3)
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح حق و باطل میں فرق سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک میزان قائم فرمایا ہے اسی طرح اس کے ہاں رزق کے لیے ایک میزان ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ لوگوں کا رزق کم اور زیادہ کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے سے زائد اسماء الحسنیٰ ہیں۔ اسم ” اللہ “ کے علاوہ تمام کے تمام صفاتی اسمائے گرامی ہیں۔ ہر اسم اپنے آپ میں ایک متعین معنٰی رکھنے کے باوجود دوسری صفات کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ اسماء عالی مرتبت میں ایک مبارک نام ” اللَّطِیْفُ “ بھی ہے۔ ” اللَّطِیْفُ “ کا معنٰی باریک سے باریک چیز کو جاننے والا اور اپنی مخلوق پر ہمہ وقت لطف و کرم کی برکھا برسانے والا ہے۔ اسی لطف وکرم کا نتیجہ ہے کہ انسان اس کی بغاوت کی انتہا کردیتا ہے مگر پھر بھی وہ اسے اپنی عنایات سے نوازتا ہے۔ اس کی بڑی بڑی نوازشات میں انسان کے رزق کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ وہ اپنی حکمت کاملہ کے تحت جتنا اور جسے چاہتا ہے رزق سے نوازتا ہے۔ اس کے خزانوں میں کمی واقع نہیں ہوتی اور اس کے نظام میں کوئی دخل انداز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے اللہ پر ہی بھروسہ کرے۔ کسی اور کی آس میں نہ بیٹھا رہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ ہی رزق عطا کرنے والا ہے : (الذاریات : 58) (سباء : 39) (یونس : 31) (الزمر : 52) (ھود : 6) (الحجر : 20) (طٰہٰ : 132) (البقرۃ : 212) (العنکبوت : 60)
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا میں ہی دے دیتے ہیں۔ مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا

فہم القرآن ربط کلام : اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف ” اللہ “ ہی رزق دینے والا ہے۔ لیکن اس نے انسان کو رزق کے حصول کے لیے محنت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے محنت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ انسان وہی کچھ پائے گا جس کے لیے وہ محنت کرے گا۔ (النّجم : 39) دنیا اور آخرت کے حصول کو ” حرث “ کہا گیا ہے۔ ” حرث “ کا معنٰی کھیتی ہے۔ جس میں ہر قسم کی فصل اور پودا جات شامل ہیں۔ کھیتی پر غور فرمائیں تو اس سے غلّہ حاصل کرنے میں زمیندار کو کتنے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بار بار ہل چلاکر زمین کو بیج کے قابل بنانا، صحیح وقت پر اسے سیراب کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں مکوڑوں سے اس کی حفاظت کرنا، مناسب مقدار میں کھاد لگانا اس طرح بہت سے مراحل طے کرنے کے بعد انسان لقمہ کھانے کے قابل ہوتا ہے۔ یہی حال پھل اور میوہ جات کا ہے کہ کتنی محنت کے بعد انسان اس قابل ہوتا ہے کہ ان سے لطف اندوزہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ” حَرْثَ “ کا لفظ بول کر انسان کو دنیا اور آخرت کے لیے محنت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بیشک دنیا کے رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ لیکن آخرت کی کامیابی اسی شخص کو حاصل ہوگی جو اس کے لیے اخلاص اور قرآن و سنت کے مطابق کوشش کرے گا۔ آخرت کی کامیابی کا حصول دنیا کی کامیابی کے مقابلے میں نسبتاً مشکل ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ جو آخرت کی کھیتی کے لیے کوشش کرے گا ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کے لیے کوشش کرے گا ہم اسے دنیا کا حصہ دیں گے۔ لیکن جس نے صرف دنیا کے لیے کوشش کی اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ نبی ﷺ نے آخرت کی کھیتی کے اضافہ کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ انسان کی محنت کے مطابق اسے دنیا اور آخرت کا صلہ دیتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مسلمان کو آخرت میں اس کی محنت سے زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔ 3۔ جس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت کا تقابل : 1۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : 32) 2۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : 26) 3۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن : 39) 4۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : 20) 5۔ دنیا آخرت کے مقابلہ میں بہت کمتر ہے۔ (التوبۃ : 38) 6۔ جو چیز تم دیے گئے ہو یہ تو دنیا کا سامان اور زینت ہے۔ (القصص : 60) 7۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ (آل عمران : 185) 8۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : 46) 9۔ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن : 15) 10۔ آپ فرما دیں کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے۔ (النساء : 77) 11۔ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو جبکہ آخرت اس سے بہتر ہے۔ (الاعلیٰ : 17)
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین جیسا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا جاتا، یقیناً ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے

فہم القرآن ربط کلام : جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ان لوگوں میں سرفہرست مشرک ہیں۔ ” اَلدِّیْنِ “ اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی ﷺ کے ارشادات پر مبنی ہے۔ جس میں زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ دیا گیا ہے۔ اس میں کسی چھوٹے، بڑے، نیک اور بد یہاں تک کہ نبی ﷺ کو بھی یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ آپ ﷺ اس میں اپنی مرضی سے بال برابر بھی کمی بیشی کرسکیں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ارشاد فرمایا۔ اس قدر واضح اور ٹھوس اصول ہونے کے باوجود مشرکین نے کچھ لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ دین کے نام پر جو چاہیں مسائل بناتے اور چلاتے رہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہاں شرکاء سے پہلی مراد وہ لوگ ہیں جو حکمرانوں یا پارلیمنٹ کو اکثریت کی نمائندہ ہونے کی بنیاد پر آئین سازی کا اختیار دیتے ہیں۔ جس بنا پر مسلمان ملکوں کی پارلیمنٹوں اور حکمرانوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس میں ماضی، حال کے وہ علماء اور پیر بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے فتویٰ اور فرمان کو شریعت بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اور لوگوں نے اسے عقیدت کی بنیاد پر ٹھنڈے دل سے قبول کرلیا۔ جس طرح غیر اسلامی قانون بنانے والے رب کے شریک بن بیٹھے ہیں اسی طرح انہیں خاموشی سے قبول کرنے والے بھی ایک حد تک شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ گویا کہ دونوں فریق اپنے اپنے مقام پر شرک فی الحکم میں ملوث ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے فیصلے کا ایک وقت مقرر نہ کر رکھا ہوتا تو ان کا جرم اتنا بھاری تھا کہ انہیں نیست ونابود کردیا جاتا۔ ظالموں کے لیے آخرت میں اذیت ناک عذاب ہوگا اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو حاکم کل تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں کو بھی اس کی حاکمیّت میں شریک کر رکھا ہے۔ اس ظلم کا نتیجہ ہے کہ ظالم کو پکڑنے والا اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِی ﷺ وَفِی عُنُقِی صَلِیبٌ مِنْ ذَہَب فَقَالَ یَا عَدِیُّ اطْرَحْ عَنْکَ ہَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُہُ یَقْرَأُ فِی سُورَۃِ بَرَاءَ ۃَ (اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُون اللَّہِ ) قَالَ أَمَا إِنَّہُمْ لَمْ یَکُونُوا یَعْبُدُونَہُمْ وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَہُمْ شَیْءًا اسْتَحَلُّوہُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَیْہِمْ شَیْءًا حَرَّمُوہُ ) [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ ] ” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی معظم ﷺ کے پاس آیامیری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی آپ نے فرمایا اس بت کو پھینک دو ۔ میں نے سنا آپ ﷺ سورة برأۃ کی تلاوت فرما رہے تھے (اِتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُون اللَّہِ ) (میں نے عرض کیا کہ ہم انہیں رب نہیں مانتے) آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہیں کہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے لیکن جب وہ کسی چیز کو حلال کہتے ہیں تو یہ اس کو حلال سمجھتے ہیں۔ جب وہ کسی چیز کو حرام قرار دیتے ہیں تو وہ اس کو حرام جانتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ ظالمو ! نے دین میں ملاوٹ کرکے دوسروں کو اللہ کا شریک بنا لیا ہے۔ 2۔ اللہ کے قانون کے سوا دوسروں کا قانون ماننا اور چلانا اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی حاکمیت میں دوسروں کو شریک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ 4۔ دوسروں کا قانون بنانے اور چلانے والے ظالم ہیں۔ ظالموں کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کے قانون کے علاوہ قانون بنانے اور اسے ماننے والے ظالم ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب آپ پر نازل کی ہے آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : 48) 2۔ جو کتاب اللہ کے بغیر اپنی مرضی سے فیصلہ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے بھٹک جائے گا۔ (ص : 26) 3۔ قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ دینے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : 47) 4۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ کافر ہے۔ (المائدۃ : 44) 5۔ جو قانون الٰہی کے خلاف فیصلہ کرے وہ ظالم ہے۔ (المائدۃ : 45)
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اس وقت اپنے کیے پر ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر واقع ہو کر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے، جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے، یہ بہت بڑا فضل ہے

فہم القرآن ربط کلام : ظالموں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر۔ قرآن مجید یہاں بھی اپنے اسلوب کے مطابق ظالموں کی سزا کا تذکرہ کرنے کے بعد جنتیوں کی جزا کا ذکر کرتا ہے لہٰذا ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جوں ہی وہ جہنم کا عذاب دیکھیں گے جو ان پر وارد ہونے والا ہوگا تو اپنے اعمال کے انجام پر خوف زدہ ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے وہ جنت کے لہلہاتے اور مہکتے ہوئے باغات میں ہوں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے یہ ان کے رب کا ان پر بڑا فضل ہوگا۔ مسائل 1۔ جہنّم کا عذاب دیکھ کر ظالم اپنے انجام سے خوف زدہ ہوں گے۔ 2۔ صالح اعمال کرنے والے ایماندار جنت کے باغات میں رہیں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے۔ 3۔ جنتیوں کو ان کے اعمال سے زیادہ عطا کیا جائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں پر بڑا فضل فرمائیں گے۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ وہ چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اے نبی ان لوگوں سے فرما دو کہ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں، جو کوئی بھلائی کرئے گا ہم اس کی بھلائی میں اور اضافہ کردیں گے بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا اور صاحب ایمان اور صالح اعمال لوگوں کو ان کے تابناک مستقبل کی بشارت دینا تھا۔ اس پر آپ ﷺ کسی معاوضہ کے طلب گار نہ تھے۔ آپ ﷺ برے لوگوں کو ڈرانے اور نیک لوگوں کو بشارت دینے کے ساتھ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں اس دعوت کے بدلے تم سے کسی اجر کا طلبگار نہیں ہوں۔ البتہ تمہیں قرابت داری کا لحاظ تو رکھنا چاہیے۔ جو شخص نیکی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نیکی کرنے کی مزید توفیق عنایت فرمائے گا۔ اگر نیک لوگوں سے بتقاضأ بشریّت کوئی غلطی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا۔ کیونکہ وہ معاف فرمانے والا، نیکی اور نیک لوگوں کی قدر کرنے والا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں آپ ﷺ کی زبان اطہر سے اس بات کا اظہار کروایا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے فرمائیں کہ میں قرابت داری کی محبت کے سوا تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا۔ ان الفاظ کے مفسّرین نے تین مفہوم لیے ہیں۔ نبی کریم ﷺ صبح و شام اخلاص اور جانفشانی کے ساتھ لوگوں کو برے اعمال اور اس کے انجام سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔ مگر ان کی حالت یہ تھی کہ وہ برے کاموں سے بچنے کی بجائے آپ ﷺ کی جان کے درپے ہوچکے تھے۔ 1 اس پر آپ ﷺ نے انہیں سمجھایا کہ اگر تم برائی سے بچنے کے لیے تیار نہ ہو تو کم ازکم تمہیں معاشرتی حقوق اور نسبی رشتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ سیّدنا عباس ؓ سے کسی نے پوچھا کہ (اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ ) کا کیا مطلب ہے ؟ سعید بن جبیر ؓ نے فوراً کہہ دیا اس سے آپ ﷺ کی آ ل مراد ہے۔ ابن عباس ؓ کہنے لگے تم جلد بازی کررہے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپ کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو ! (رواہ البخاری : کتاب التفسیر) 2 میں تم سے اس دعوت کا کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ سوائے اس کے کہ تم برے اعمال چھوڑ کر اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرو ! یہی میری دعوت کا صلہ ہے۔ 3 کچھ لوگوں نے اپنے مخصوص نظریات کی خاطر یہ تفسیر کی ہے کہ میں تم سے اس کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا کہ تم میرے رشتہ داروں کا بالخصوص اہل بیت کا خیال رکھو ! ظاہر ہے کہ جن میں حضرت حسن اور حسین ؓ شامل ہیں۔ اس تفسیر کو بڑے بڑے مفسّرین نے من گھڑت قراردیا ہے۔ کیونکہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تھی تو اس وقت حضرت فاطمہ کا حضرت علی ؓ کیساتھ نکاح بھی نہیں ہوا تھا۔ (ضیاء القرآن : جلد 4 حضرت پیر کرم شاہ صاحب بریلوی) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کی کامیابی اور جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو نیکی کی مزید توفیق دیتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو معاف کرنے والا اور ان کی نیکی کی قدر کرنے والا ہے۔ 4۔ نبی اکرم ﷺ نبوت کے کام پر کسی قسم کے معاوضے کے طلبگار نہیں تھے۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) نبوت کے کام پر کسی قسم کا معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : 29) 2۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعرا : 127) 3۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا اجر اللہ رب العالمین پر ہے اور تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ (الشعرا : 145) 4۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تم سے نہ اجر چاہتا ہوں اور نہ کسی قسم کا تکلف کرتا ہوں۔ (ص : 86) 5۔ ہود (علیہ السلام) نے کہا میرا اجر اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ہود : 51) 6۔ میرا اجر اللہ پر ہے اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : 47)
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ بنا لیا ہے اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے۔ اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے ارشادات سے حق ثابت کر دکھاتا ہے۔ وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں ظالموں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہوا۔ اب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹائے گا اور حق کو حق ثابت کر دکھائے گا۔ وہ جانتا ہے کون حق کو قبول کرتا ہے اور کون اس کا انکار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے سینے کے راز جانتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کفار اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے بھی نہ کسی کے ساتھ غلط بیانی کی اور نہ ہی کسی معاملے میں آپ سے کوئی خیانت سرزد ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قبل از نبوت بھی ہر قسم کے عیب سے پاک رکھا۔ جس کا اہل مکہ برملا اعتراف کرتے تھے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود کفار آپ ﷺ پر الز ام لگاتے کہ آپ قرآن اور نبوت کے نام پر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ جس کی تردید کرتے ہوئے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کفار کے الزام کا یوں جواب دیتا ہے۔ کہ اگر محمد ﷺ اللہ پر جھوٹ بولتے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر گمراہی کی مہر لگا دیتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا بہت بڑا ظلم ہے۔ جس کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے نبی ﷺ کو براہ راست یہ الفاظ کہے گئے ہیں کہ اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے۔ اس ارشاد سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا وجود ہی نہیں بلکہ دل بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا اور یہی نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ تمام انسانوں کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے لوگوں کے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ اسی عقیدہ کی بنیاد پر آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو ہدایت پر قائم فرما ! یہاں یہ حقیقت بھی بتلائی ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ بھی قرآن مجید میں کمی بیشی کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو بھی سزا دیتا۔ جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ کے دل پر مہر لگا دی جاتی۔ کسی کے دل پر گمراہی کی مہرلگنا سب سے بڑی سزا ہے۔ کیونکہ یہ رب ذوالجلال کی ناراضگی کی انتہا ہے۔ اسی لیے تو کفار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عظیم عذاب ہے۔ “ (البقرۃ : 7) اس لیے ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ باطل کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ جب باطل اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور حق کو حق ثابت کردکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز تک جاننے والا ہے۔ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لاََخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ) [ الحاقۃ : 44 تا 46] ” اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی جھوٹی بات بنا دیتے تو ہم ان کے دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ ڈالتے۔ “ مسائل 1۔ اگر نبی کریم ﷺ قرآن مجید میں ترمیم و اضافہ کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے دل پر مہر لگا دیتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بالآخر باطل کو مٹا کر حق کو حق کردکھاتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا کر حق کو حق ثابت کردیتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم کو غرقاب کرکے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو حق کر دکھایا۔ (ھود : 48) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے بچا کر حق کو حق کر دکھایا۔ (الانبیاء : 69، 70) 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو گروں کے مقابلے میں کامیاب فرما کر حق کو حق کردکھایا۔ (یونس : 82) 4۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے موقعہ پر نبی ﷺ کو بچا کر حق کو بلند کر فرمایا۔ ( التوبۃ : 40)
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو اسے سب کچھ معلوم ہے

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو مزید دیتا ہے۔ جو انکار کرنے والے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اسلام کے مخالفین کو تو بہ کرنے کی ترغیب۔ اہل مکہ کے الزام کی تردید کرنے اور قرآن مجید کو ہر قسم کی دست برد سے محفوظ ثابت کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اہل مکہ کو ترغیب دی گئی ہے کہ اے مکہ والو ! نبی کریم ﷺ پر الزام لگانے سے باز آجاؤ اور اپنے رب کے حضور سچی توبہ کرو اور یقین کرو کہ تمہارا رب توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول کرنے کے ساتھ اپنے فضل سے بہت کچھ عطا فرماتا ہے۔ جو کافر ہیں ان کے لیے شدید عذاب وگا۔ پوری طرح جان لو ! جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کو انعامات کی خوشخبری سنائی ہے۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ 2 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ 3 اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کی دعاؤں کو مستجاب فرماتا ہے۔ 4 اللہ تعالیٰ لوگوں کی دعاؤں سے بڑھ کر انہیں عطا کرتا ہے۔ اس کے فضل کی انتہا دیکھیے کہ وہ نہ صرف اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے بلکہ ان کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ (الفرقان : 70)
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرتے مگر وہ جتنا چاہتا ہے حساب کے مطابق نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے۔ اور ان کو دیکھنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے فضل کی ایک صورت بارش بھی ہے اس لیے یہاں بارش کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ” اللہ “ ہی اپنی پوری مخلوق کو رزق دینے والا ہے اور وہی اپنے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق اپنے بندوں کو رزق عطا کرتا ہے۔ اس کے رزق عطا کرنے کے اصولوں میں ایک اصول یہ ہے کہ وہ کسی کو ایک حد سے بڑھ کر رزق عطا نہیں کرتا۔ اگر وہ لامحدود طریقہ سے کسی کو رزق عطا کرے تو لوگ زمین میں بغاوت کرنے لگیں۔ وہ اپنے بندوں کو پوری طرح جانتا اور ہر وقت انہیں دیکھنے والا ہے۔ یہ بات تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے ہر انسان کے لیے اس کے رزق کی کیا حد مقرر کر رکھی ہے۔ لیکن یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ جب لوگوں کو رزق کی فروانی حاصل ہوتی ہے تو چند لوگوں کے سوا باقی لوگ اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ دنیا میں کتنے لوگ ہوئے اور ہیں جنہوں نے رزق کی بنیاد پر لوگوں میں بےحیائی پھیلائی، کسی نے وسائل کی بنیاد پر اپنی قوم کو غلام بنایا اور ان کے لیے فرعون بن بیٹھا۔ رزق کی فراوانی پر ہی بیشمار مالداروں نے غریبوں پر ظلم ڈھائے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے مقرر کردہ اصولوں سے بڑھ کر ان لوگوں کو رزق دیتا تو نامعلوم یہ لوگ کیا کیا ظلم کرتے ؟ رزق سے مرادصرف خوردونوش کا سامان ہی نہیں بلکہ رزق سے مراد ہر قسم کے وسائل ہیں جن میں سیاسی اقتدار بھی شامل ہے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ” خَبِیْرٌ“ اور ” بَصِیْرٌ“ کی صفات کا ذکر فرما کر باغی لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ بات نہ بھولنا کہ تمہیں کوئی دیکھنے اور جاننے والا نہیں۔ یقین کرو کہ جو تمہیں رزق عطا کرتا ہے وہ ہر حال میں تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر قسم کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہی چارہ گر اور قابل تعریف ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو ” اللہ “ لوگوں کا رزق مقرر کرتا اور انہیں عطا کرتا ہے وہی آسمان سے بارش برساتا ہے۔ صرف ایک ” اللہ “ ہے جو لوگوں کے مایوس ہونے کے وقت آسمان سے بارش نازل کرتا ہے اور اس کے ذریعے اپنی رحمت بکھیر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگوں کا والی اور خیرخواہ ہے جو ہر تعر یف کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برسا سکتا۔ بارش سراسر ” اللہ “ کی رحمت ہے۔ بالخصوص جب لوگ اس کے برسنے سے ناامید ہوجاتے ہی۔ تو پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور اس کے بعد موسلادھار بارش برستی ہے جس کے بارے میں ” یَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ ” یَنْشُرُ “ کے لفظ پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کے ذریعے کس طرح بخارات کو اٹھاتا اور ان کو بادلوں میں تبدیل کرتا ہے۔ پھر اس کے حکم سے بادل اس طرح ٹپکتے اور برستے ہیں کہ ہر چیز گرد غبار سے دھل جاتی ہے آج تک کبھی نہیں ہوا کہ بادل کسی آبشار یا پرنالے کی طرح ایک ہی جگہ پر پانی انڈیل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادل اس طرح برستے ہیں جس طرح کسی فوارے سے پانی نکلتا ہے۔ اگر بادل ایک ہی دفعہ پانی انڈیل دیں تو کوئی بستی اور شہر باقی نہ رہے۔ بارش کے برسنے کا انداز اور اس کا پانی سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کرشمہ ہے۔ بارش کا پانی ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہوتا ہے۔ بارش اس قدر اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کی رحمت لیے ہوئے ہوتی ہے جس کے فوائد کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ البتہ چند فوائد ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ ہم بارش کی افادیت کو کسی حد تک سمجھ سکیں۔ 1 بارش سے پوری فضاصاف اور جراثیم سے پاک ہوجاتی ہے۔ 2 بارش سے موسم کی تلخی ختم ہوجاتی ہے اور فضا خوشگوار بن جاتی ہے۔ 3 بارش سے درختوں کا پتاپتا دھل جاتا ہے اور پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔ 4 بارش سے نہ صرف دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی مقدار بڑھتی ہے بلکہ زمین کے اندر کا پانی بھی اوپر آجاتا ہے۔ 5 بارش سے انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار چیز مستفید ہوتی ہے۔ 6 بروقت بارش سے فصلیں دوگنی ہونے کے ساتھ بجلی کی بچت ہوتی ہے۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں کی پیدائش، اور جاندار مخلوق جو اس نے پھیلا رکھی ہے یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے جب وہ چاہے انہیں اکٹھا کرسکتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں رزق اور بارش کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔ رزق اور بارش کا تعلق زمین کے ساتھ بھی ہے اس لیے زمینوں آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ جس طرح بارش اللہ کی قدرت کی نشانی ہے اسی طرح چوپائے بھی اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کی ہیت اور تخلیق کے بارے میں بارہا دفعہ ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! ان پر غور کرو کہ زمین و آسمان کی تخلیق کس طرح ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح قائم کر رکھا ہے اور پھر ان دونوں میں بیشمار مخلوقات کو پھیلا دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لشکر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (المدّثر : 31) وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مجموعی طور پر ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ 1 آسمانوں میں بسنے والی مخلوق میں سے ہم صرف ملائکہ کے بارے میں چند معلومات رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد کے بارے میں نبی ﷺ رحمت کا ارشاد ہے۔ ( عَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اُتِیْتُ بالْبُرَاق وَھُوَ دَآبَّۃٌ اَبْیَضُ طَوِیْلٌ فَوْقَ الْحِمَارِوَدُوْنَ الْبَغْلِ یَقَعُ حَافِرُہٗ عِنْدَ مُنْتَھٰی طَرَفِہٖ فَرَکِبْتُ حَتّٰی اَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدَسِ فَرَبَطْتُّہٗ بالْحَلْقَۃِ الَّتِیْ تَرْبِطُ بِھَا الْاَنْبِیَاءُ قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّیْتُ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَ نِیْ جِبْرَءِیْلُ بِاِنَاءٍ مِّنْ خَمْرٍٍ وَّاِنَاءٍ مِّنَ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرَءِیْلُ اِخْتَرْتَ الْفِطْرَۃَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا اِلَی السَّمَاءِ ۔۔ وَقَالَ فِیْ السَّمَاء السَّابِعَۃ فَاِذَا اَنَا بِاِبْرَاھِیْمَ مُسْنِدًا ظَھْرَہٗ اِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ وَاِذَا ھُوَ یَدْخُلُہٗ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ لَّا یَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ ۔۔ ) [ رواہ مسلم : باب الإِسْرَاءِ بِرَسُول اللَّہِ ﷺ إِلَی السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ ] حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا، پھر آسمان کی طرف ہمارا عروج شروع ہوا۔۔ مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے تھا۔ وہ بیت المعمور سے کمر لگائے ہوئے تشریف فرما تھے۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور جن کی باری پھر کبھی نہیں آتی۔۔ “ 2 زمین اور فضا میں رہنے الی مخلوق کی تعداد شمار کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ صرف کیڑوں مکوڑوں کے بارے میں ماہرین ارضیات اب تک کے اندازے کے مطابق ان کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد بتلاتے ہیں۔ 3 زمین کی تہہ میں بسنے والی مخلوق پانی میں رہتی ہو یا زمین کے اندر بستی ہو اس کے بارے میں بھی کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق زمین و آسمانوں، فضاؤں اور ہواؤں میں جہاں کہیں رہتی ہے اللہ تعالیٰ اس کی وہاں ہی ضرورتیں پوری کررہا ہے اور وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔” دَآبَّۃٍ “ کا لفظ عربی زبان میں عام طور پر چوپاؤں کے لیے بولا جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے ” دَآبَّۃٍ “ کا لفظ اپنی پوری مخلوق کے لیے استعمال فرمایا۔” دَآبَّۃٍ “ کا مصدر (ROOT) دبیب ہے جس کا معنٰی حرکت کرنے والا۔ کیونکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اپنے اپنے مقام پر متحرک ہے۔ اس لیے ان سب کے لیے دآبّۃ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس میں نوری، ناری، خاکی اور تمام مخلوقات شامل ہیں۔ مسائل 1۔ زمین و آسمانوں کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی نشانیاں ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں بیشمار مخلوقات پیدا کر رکھیں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو جب چاہے اکٹھا کرسکتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20) 2۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے۔ (الطلاق : 12) 3۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29) 4۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148) 5۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284) 7۔ بیشک میرا پروردگار جو تم عمل کرتے ہو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (ھود : 92) 8۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 54) 9۔ اللہ ہر چیزکا احاطہ کرنے والا ہے۔ (النساء : 126)
Ayahs 42:30–31

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے، اور اللہ بہت سے گناہوں سے درگزر کردیتا ہے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

تم اسے زمین میں عاجز نہیں کرسکتے، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و مددگار نہیں رکھتے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرنے پر قادر نہیں بلکہ وہ دنیا میں بھی لوگوں پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسکی کوتاہی پر پکڑ لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے درگزر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر قادر ہے۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی اور اختیار ہے کہ جسے چاہے اس کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لے اور جسے چاہے معاف کردے۔ اکثر انسانوں میں ہمیشہ سے یہ کوتاہی اور کمزوری رہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اپنے گناہوں، پر اصرار اور ان کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ بسا اوقات خدا کے باغی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں یہ تو لیل ونہار کی گردش اور حالات کے تغیر وتبدل کا نتیجہ ہے گویا ان کے نزدیک ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔ (وَقَالُوا مَا ھِیَ إلاّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَا إلاّ الدَّھْرُ وَمَا لَھُمْ بِذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ إنْ ھُمْ إلاّیَظُنُّوْنَ ) [ الجاثیۃ : 24] ” وہ کہتے ہیں ہماری اس زندگی کے علاوہ کوئی دوسری زندگی نہیں ہمیں یہیں زندہ رہنا اور مرنا ہے، اور ہماری ہلاکت گردش زما نہ کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں، یہ محض ان کے خیالات ہیں۔ “ ایسے انسان بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں جو اپنے احوال کی درستگی کے برعکس اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ڈالتے رہے ہیں جو حالات کو بدلنے اور ان کو برے اعمال چھوڑنے کی تلقین کرتے ہیں۔ (قَالُوْا إنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ لَءِنْ لَّمْ تَنْتَھُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ ألِیْمٌ) [ یٰس : 18] ” وہ مصلحین کو کہنے لگے کہ ہم تمہیں اپنے لیے منحوس خیال کرتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے درد ناک سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ “ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشکلات و مصائب ہماری وجہ سے نہیں، تمہاری وجہ سے آیا کرتی ہیں جب ان کے سامنے حقائق کے پردے کھلتے ہیں تو تسلیم و اعتراف کی گردن جھکا نے کی بجائے سب کچھ تقدیر کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو پاک دامن اور معصوم خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو کچھ تمہارے ساتھ بیت رہی ہے وہ تمہارے گناہوں کی ہلکی سی سرزنش ہے۔ جبکہ تمہاری بیشمار غلطیوں اور زیادتیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ دنیا میں تمہارے دامن کو تھوڑا سا کھینچا اور گریبان کو ہلکا سا جھنجھوڑا جاتا ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی پنہاں ہے تاکہ تمہارے قدم بغاوت ونا فرمانی سے رک جائیں اور تم مالک حقیقی کی طرف پلٹ آؤ۔ سمجھدار اور نیکو کار لوگ اپنی کمزوریوں اور ان کے بدلے میں پیدا ہونے والے حا لات کو اپنے کردار کے حوالے سے ہی دیکھا کرتے ہیں۔ (ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ )[ الروم : 41] ” لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کیے کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوگیا ہے تاکہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھایاجائے شاید کہ وہ باز آجائیں۔ “ (وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ) [ السجدۃ : 21] ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔ “ (فَلَنُذِیقَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا وَّلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ حٰم السجدۃ : 27] ” ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے اور ہم ان کے برے اعمال کی پوری پوری سزا دیں گے۔ “
Ayahs 42:32–35

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ کشتیاں سمندر کی سطح پر کھڑی کی کھڑی رہ جائیں، اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اچھی طرح صبر و شکر کرنے والا ہے

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

بہت سے گناہوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے چند گناہوں کی وجہ سے انہیں ڈبو دے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑے کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس اللہ کو کوئی عاجز اور بےبس نہیں کرسکتا۔ اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ سمندر میں پہاڑوں کی طرح لمبے، چوڑے اور بلندو بالاجہاز دوڑے پھر رہے ہیں۔ قرآن مجید نے متعدد آیات میں سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ قرار دیا ہے اور کشتیوں میں سفر کرنے والوں کو اس بات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ غور کرو ! کہ جو پانی ایک سوئی کا بوجھ برداشت نہیں کرتا وہی پانی ہزاروں ٹن کا بوجھ اٹھائے ہوئے بحری جہازوں اور کشتیوں کو سمندر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچاتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی چوٹیاں دور سے پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔ ان کشتیوں کا دارومدار باد موافق پر تھا۔ اگر کسی وقت ہوا کا رخ مخالف ہوجاتا تو کئی کئی دن تک کشتیاں سمندر کے سینے پر ٹھہری رہتی تھیں۔ بسا اوقات باد مخالف اس قدر تیز اور زور آور ہوتی کہ کشتی کے ملّاح اور اس کے ساتھیوں کو پتوار کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ کشتی میں سفر کرنے والے لوگوں کو اپنی جان کے لالے پڑجاتے اور وہ سب کچھ بھول کر صرف ایک الٰہ کو پکارنے پر مجبور ہوتے تھے۔ اس صورت حال کے بارے میں بتلایا جارہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کشتیوں کو سمندر کے پانی پر جامد کردے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جو کشتی کو ساحل سمندر تک پہنچا سکے۔ اگر وہ چاہے تو لوگوں کے باطل نظریات اور برے اعمال کی وجہ سے کشتی کو غرق کردے۔ لیکن یہ اس کا کرم اور حوصلہ ہے کہ لوگوں کی بغاوت کے باوجود ان کی اکثر خطاؤں سے در گزر کرتا ہے۔ کشتیوں کی آمد روفت میں صابر اور شکرگزار لوگوں کے لیے بہت ساسامان عبرت ہے۔ صابر اور شکرگزار لوگوں کی طرف اشارہ فرماکریہ حقیقت واضح کی ہے کہ عبرت وہی شخص حاصل کرسکتا ہے جو مشکل کے وقت صبر کرتا ہے اور آسانی کے وقت اپنے رب کا شکرگزار ہوتا ہے۔ جہاں تک موجودہ ٹیکنالوجی اور جہادرانی کا معاملہ ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ہزاروں (HORSE POWER) رکھنے والے بحری جہاز ہزاروں ٹن بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اس طرح ہی بےبس ہیں جس طرح بادبانی کشتیاں بےبس ہوجایا کرتی تھیں۔ سمندر میں طغیانی اور طوفان ہو تو آج بھی بحری جہاز کئی کئی دن تک سمندر میں جامد اور ساکت کھڑے رہتے ہیں۔ کپتان اور اس کا عملہ اسی طرح بےبس ہوجاتا ہے جس طرح پرانے زمانے کے ملّاح بےبس ہوجایا کرتے تھے۔ آج بھی جہاز پانی میں غرقاب ہوجاتے ہیں اور آبدوزیں سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی ہیں۔ انہیں کوئی بھی بچانے والا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ اکثراوقات ان کا ملبہ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ بڑی بڑی ترقی یافتہ حکومتیں بھی بےبس دکھائی دیتی ہیں۔ اسی بنا پر فرمایا ہے کہ جو لوگ ” اللہ “ کی آیات کے ساتھ جھگڑتے اور ان کا انکار کرتے ہیں وہ جان لیں کہ جس طرح وہ دنیا میں بےبس ہوجاتے ہیں اس سے ہزار گناہ زیادہ قیامت کے دن بےبس ہونگے اور جہنم کے عذاب سے چھٹکارا نہیں پائیں گے۔ مسائل 1۔ سمندروں میں بحری جہاز اور کشتیوں کا چلنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ چاہے توجہازوں اور کشتیوں کو سمندر میں جامد اور ساکت کردے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی بہت سی غلطیوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ 4۔ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑنے والے لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ تفسیر بالقرآن قرآن میں کشتیوں کا تذکرہ : 1۔ کشتیوں کا غرق ہونے سے بچنا اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ (یٰسٓ: 43، 44) 2۔ سمندر میں کشتیوں کا چلنا ” اللہ “ کی قدرت کی نشانی ہے۔ (البقرۃ : 164) 3۔ کشتیاں دریاؤں میں ” اللہ “ کے حکم سے چلتی ہیں۔ (الحج : 65) 4۔ اللہ نے کشتیوں، نہروں، چاند، سورج، دن اور رات کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ (ابراہیم : 32۔ 33) 5۔ جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65)
Ayahs 42:36–37

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اپنے رب کے احکام اور ارشادات کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی اور اس کا سازو سامان قلیل اور عارضی ہے۔ اس لیے ” اللہ “ کے نیک بندے کبیرہ گناہوں اور بےحیائی سے اجتناب کرتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کے ساتھ معاف کردینے کا اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ انسان غصے کی حالت میں دوسرے پر زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ قتل نفس کا واقعہ بھی پیش آجاتا ہے جو کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ جس دنیا کے اسباب و وسائل پر لوگ اتراتے اور اپنے رب کے احکام کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے اسباب و وسائل تھوڑے اور نہ پائیدار ہیں۔ یہاں تک کہ انسان کی زندگی بھی تھوڑی اور عارضی ہے۔ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو کچھ تیار کر رکھا ہے وہ دنیا ومافیہا سے بہت بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ہمیشہ کی بقا اور خیر کثیران لوگوں کو حاصل ہوگی جو اپنے رب پر سچا اور پکا ایمان رکھتے ہیں اور دنیا کے اسباب وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجائے مسبب الاسباب پر توکل اور بھروسہ کرتے ہیں۔ توکل کا یہ معنٰی نہیں کہ انسان وسائل کو استعمال کرنے سے اجتناب کرے اور ان پر ایک حد تک اعتماد کرنے کی بجائے بےاعتمادی کا شکار رہے۔ بےاعتمادی کا شکار آدمی نہ دشمن کے مقابلے میں کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ ہی منزل مقصود پاسکتا ہے۔ توکل کا معنٰی ہے کہ اپنی محنت اور وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی رحمت پر بھروسہ کرے۔ کیونکہ وہی وسائل دینے والا ہے اور اسی نے وسائل کو بروئے کار لانے کی توفیق دینے کے ساتھ انہیں مؤثر بناتا ہے۔ ایماندار لوگوں کے اوصاف میں نمایاں وصف یہ ہیں۔ 1 اللہ اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے کبیرہ جرائم سے بچتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں سے اس لیے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک تو نافرمانی کے اعتبار سے یہ بڑے گناہ ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو کبیرہ گناہ سے بچا لیتا ہے اسے چھوٹے گناہ چھوڑنے مشکل نہیں رہتے۔ 2 اللہ پر ایمان اور توکل رکھنے والے لوگ ہر قسم کی بےحیائی سے اجتناب کرتے ہیں۔ فواحش سے مراد ہر وہ بری حرکت ہے جو شریف معاشرے میں ایک شریف انسان کو زیب نہیں دیتی۔ اس میں بھی وہی فلسفہ پنہاں ہے جس بنا پر بڑے گناہوں سے روکا گیا ہے۔ کیونکہ جو شخص بڑی بےحیائی سے بچتا ہے اس کے لیے چھوٹی بےحیائی سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی بدکاری سے نفرت کرتا ہے تو اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ غیر محرم عورت کو اشارے کرے یا اس کے ساتھ آنکھ لڑانے کی کوشش کرے۔ کبیرہ گناہ : ” فرما دیجیے کہ آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی اور ہر قسم کی بےحیائی کے قریب نہ جاؤ جو ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور ناحق کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے۔ یہ اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ۔ “ (الانعام : 151) (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَبَاءِرُ الإِشْرَاک باللَّہِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ )[ رواہ البخاری : باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ “ 3 جب انہیں غصہ آتا ہے تو بدلہ اور انتقام لینے کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ غصہ انسان کی فطری کمزوری بھی ہے اور اس کی ضرورت بھی۔ کیونکہ غصہ کے بغیر انسان اپنی عزت، جان اور آبرو کی حفاظت نہیں کرسکتا۔ اس لیے کلّی طور پر غصہ کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ البتہ اس میں یہ بات ضرور ہونی چاہیے کہ جب کوئی صالح شخص غیر ارادی طور پر زیادتی کربیٹھے تو بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کردینا اللہ کے بندوں کا شیوہ ہونا چاہیے۔ نبی معظم ﷺ نے غصہ پر قابو پانے کے لیے یہ طریقہ اور ذکر بتلایا ہے۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ ۔۔ إِنَّ رَسُول اللَّہ ﷺ قَالَ لنَا إِذَا غَضِبَ أَحَدُکُمْ وَہُوَ قَاءِمٌ فَلْیَجْلِسْ فَإِنْ ذَہَبَ عَنْہُ الْغَضَبُ وَإِلاَّ فَلْیَضْطَجِعْ ) [ رواہ احمد : مسند ابی ذر الغفاری ] ” حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب تم میں سے کسی کو کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اگر غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔ “ (عن سُلَیْمَان بن صُرَدٍ ؓ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَہٗ جُلُوسٌ وَأَحَدُہُمَا یَسُبُّ صَاحِبَہٗ مُغْضَبًا قَدْ اِحْمَرَّ وَجْہُہٗ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ لَوْ قَالَ أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ فَقَالُوا للرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُول النَّبِیُّ ﷺ قَالَ إِنِّی لَسْتُ بِمَجْنُونٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ] ” حضرت سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں آپس میں گالی گلوچ کی اور ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں ایک شدید غصے میں تھا وہ دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں اگر وہ اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے۔ : ” أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ “” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ “ صحابہ کرام ؓ نے اس شخص سے کہا کیا تو نے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نہیں سنا ؟ اس نے کہا میں پاگل تو نہیں ہوں۔ (یعنی میں نے سنا ہے اور اسے پڑھتا ہوں) “ مسائل 1۔ لوگوں کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ تھوڑا اور ناپائیدا رہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے صاحب ایمان لوگوں کے لیے جو کچھ تیار کر رکھا ہے وہ ہمیشہ رہنے والا اور دنیا سے بیش بہا بہتر ہے۔ 3۔ اللہ کے بندے ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ کے بندوے بڑے گناہوں، ہر قسم کی بےحیائی سے بچتے اور ایک دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن توکل اور اس کے فوائد : 1۔ رسول کریم کو اللہ پر تو کل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79) 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ : 10) 3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67) 4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3) 5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : 129) 6۔ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)