42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsفہم القرآن

Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اپنے آپس کے معاملات میں مشورے سے چلتے ہیں ہم نے انہیں جو کچھ بھی رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے نیک بندوں کے مزید اوصاف۔ مشاورت کی اہمیت اور اس کی غرض وغایت : قرآن پاک نے مسلمانوں کو مشاورت کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مسلمان اجتماعی مسائل کو اجتماعی انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرز عمل کے بیک وقت کئی فوائد ہیں۔ ایک طرف اہل دانش کی دلجوئی ہے اور دوسری جانب ان کی صلاحیتوں سے اجتماعی فائدہ اٹھانا اور ان کی انفرادی فکر کو اجتماعی سوچ میں ڈھالنا اور باہمی فکرو عمل کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یہ ایسا خیرو برکت سے بھرپور عمل ہے جس سے نبی اکرم ﷺ کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ حالانکہ آپ مسلسل اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایات میں زندگی گزارتے ہوئے لوگوں کی راہنمائی فرما رہے تھے۔ آپ کی ذات گرامی کو حکم ہوا۔ (وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِےْنَ ) [ آل عمران : 159] ” اور معاملات میں ان کو شریک مشورہ رکھا کرو، پھر جب آپ کا عزم کسی رائے پر پختہ ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ “ اس عمل کی اہمیت کو اجاگر اور ممتاز کرنے کے لیے پانچ رکوع پر مشتمل اس سورة کا نام ہی الشّورٰی رکھ دیا گیا تاکہ مسلمان مشاورت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اجتماعی زندگی بسر کرتے رہیں۔ نبی اکرم ﷺ اس حکم کے نزول سے قبل بھی صحابہ ؓ سے مشورہ فرماتے تھے لیکن نزول حکم کے بعد تو یہ حالت ہوگئی کہ آپ ہر کام میں صحابہ سے مشورہ فرماتے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مشورہ کن امور میں کرنا چاہیے ؟ مشاورت کا حدود اربعہ کیا ہے ؟ بدر، احد، خندق غرضیکہ ہر اہم معاملہ میں آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا۔ جنگ سے پہلے مشاورت کا مقصد یہ نہیں تھا کہ جہاد کرنا چاہیے یا نہیں۔ اللہ کے واضح احکامات آجانے کے بعد ان کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں مشورہ کرنا تو درکنار، سوچنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ مشاورت تو اس بات پر کرنی ہے کہ دشمن پر فوری حملہ کرنا ہے یا کہ موسم، وقت، میدان جنگ کا انتخاب، اپنی اور دشمن کی جنگی تیاریوں کا پورا پورا اندازہ کرکے کرنا ہے۔ ان امور کو اللہ تعالیٰ نے امت کے ذمہ داران پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ دیانت داری اور غیر جذباتی فضا میں تجزیہ کریں کہ ہم نے آگے بڑھ کر یلغار کرنی ہے یا صرف دفاع کرنا ہے اور کس وقت یہ اقدام اٹھانا ہے آپ ﷺ کے دور مبارک میں مجلس شوریٰ کے اجلاس اور ان کا ایجنڈا نماز باجماعت کے لیے مشورہ : انس بن مالک ؓ اور ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ مدنی دور کی ابتدا میں لوگ نماز کے اوقات اپنے اپنے اندازے سے متعین کرتے تھے۔ ایک دن جماعت کے لیے مشورہ کیا گیا۔ کسی نے یہود کے بوق کی تجویز پیش کی اور کسی نے نصاریٰ کے ناقوس بجانے کے لیے کہا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ رائے دی کہ ایک شخض کو مقرر کیا جائے جو نماز کے اوقات میں بلند آواز سے لوگوں کو بلائے۔ بالآخر اسی پر فیصلہ ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کام پر حضرت بلال ؓ کو مقرر فرمایا۔ حضرت بلال ؓ نماز کے اوقات میں بلند آواز سے الصلوۃ جامعۃ کہا کرتے تھے۔ یعنی لوگو ! نماز کے لیے جماعت تیار ہے لیکن بعد میں حضرت عبداللہ بن زید ؓ نے خواب میں اذان کے مروجہ الفاظ سنے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کیے آپ نے انہیں حکم دیا کہ یہ الفاظ بلال کو سکھلاؤ پھر بلال ؓ کو انہی الفاظ کے ساتھ اذان کہنے کا حکم دیا حضرت عمر ؓ نے اذان سنی تو دوڑتے ہوئے آئے اور نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ اللہ کی قسم میں نے یہی الفاظ خواب میں سنے ہیں۔ (رواہ ابوداؤد : باب کَیْفَ الأَذَانُ ) بعد ازاں وحی بھی اسکی تائید میں آگئی۔ ابن حجر ؓ فرماتے ہیں۔ (مَبْدَاءُ الْاَذَانِ کَانَ عَنْ مَشْوَرَۃٍ اَوْقَعَھَا النَّبِیُّ بَےْنَ اَصْحَابِہِ حَتّٰی اِسْتَقَرَّ بِرُؤْےَا بَعْضُھُمْ وَفِےْہِ مَشْرُوْعِیَّۃٌ تَشَاوِرُ فِی الْاُمُوْرِ الْمُھِمَّۃِ ) ” اذان کا آغاز مشاورت سے ہوا تھا جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ کی تھی۔ بعد میں بعض صحابہ ؓ کے خواب کے ذریعے اذان مقرر ہوئی۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اہم امور میں مشاورت کرنا شرعی طریقہ ہے۔ “ غزوہ بدر کے بارے میں مشاورت : انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر صحابہ ؓ سے مشورہ کیا۔ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ نے اپنی رائے دی مگر آپ ﷺ انصار کی رائے حاصل کرنے کے لیے خاموش رہے۔ انصار کے سردار سعد بن عبادہ انصاری ؓ نے اٹھ کر عرض کیا : اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد (یمن) تک گھوڑے دوڑانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کے بعد روانگی کا حکم ہوا اور فوج مقام بدر پر مورچہ زن ہوگئی۔ کفار سے معاہدہ کرنے کے بارے میں مشورہ : غزوہ خندق کے موقع پر جب محاصرہ سخت ہوگیا تو رسول اللہ نے بنو غطفان کے لیڈروں عیینہ بن حصن اور حارث بن عوف کے ساتھ مدینہ منورہ کے باغات کے پھلوں کا 3؍1 (ثلث) دے کر مصالحت کی بات کی تاکہ یہ دونوں سردار قریش کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ آپ ﷺ کی اپنی رائے یہ تھی کہ مصالحت ہوجائے لیکن آخری فیصلہ کرنے سے قبل مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔ انصار کے رہنماؤں میں سے سعد بن معاذ ؓ اور سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا کہ اگر یہ ” اللہ “ کا حکم ہے تو ہمیں تسلیم ہے۔ اگر آپ ﷺ حالات کی وجہ سے حکم دینا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں تسلیم نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ اللہ کا حکم ہوتا تو میں آپ سے مشورہ نہ کرتا۔ چناچہ آپ ﷺ نے اپنے خیال پر شوریٰ کی رائے کو ترجیح دی اور مصالحت کی بات ختم کردی۔ سفر جاری رکھنے یا واپس پلٹنے کے بارے میں مشاورت : حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ جب غدیر الاشطاط کے مقام پر پہنچے تو مسلمانوں کے مخبر نے اطلاع دی کہ قریش مکہ نے اپنے حلیف قبائل کو جمع کرلیا ہے جو آپ کو بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانو ! مجھے مشورہ دو کہ اب کیا اقدام کیا جائے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ قریش کے ان دوستوں (احابیش) کے گھروں پر حملہ کیا جائے۔ ابوبکر ؓ نے رائے دی کہ آپ ﷺ کعبہ کی زیارت کی غرض سے آئے ہیں۔ پس آپ اسی غرض کے لیے آگے بڑھیں جو ہمیں روکے گا ہم اس سے لڑیں گے لیکن بعد میں معاہدہ صلح حدیبیہ طے پا گیا۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں مشورہ : بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے مشورہ کیا اور فرمایا قیدیوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے ؟ ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دے ئے جائیں۔ لیکن عمر ؓ نے فرمایا، ان کی گردنیں اڑا دی جائیں اس لیے کہ یہ کفر کے امام اور دشمن قوم کے سردار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق فدیہ لے کر قیدیوں کو آزاد کردیا۔ غزوہ حنین میں بنو ہوازن کے 6 ہزار قیدی اور بہت سارا مال ہاتھ آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ کے مقام پر کچھ دن انتظار کیا اس خیال سے کہ اگر یہ لوگ ایمان لے آئیں تو ان کا مال اور قیدی دونوں واپس کر دے ئے جائیں۔ لیکن حنین والوں نے آنے میں دیر کی تو مال غنیمت تقسیم کردیا گیا۔ بعد میں جب یہ لوگ پشیمان ہو کر آئے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدی رہا کر دے ئے جائیں تم میں سے جو خوشی سے اپنا قیدی آزاد کرنا چاہے تو بہتر ہے ورنہ ہم اسے معاوضہ دے کر اس سے قیدی آزاد کرا لیں گے۔ کچھ لوگوں نے کہا ہم بخوشی آزاد کرتے ہیں کچھ نے انکار کیا۔ صورتحال واضح نہ ہوسکی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم واپس جا کر اپنے نمائندوں (عرفاء) کو اپنی رائے دو ۔ نمائندوں نے آکر کر رپورٹ دی کہ سب کے سب راضی ہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ نے تمام قیدی رہا کر دے ئے۔ تفصیل کے لیے میری کتاب (اتحاد امت اور نظم جماعت) ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 42:39–43

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

زیادتی کا بدلہ ویسی زیادتی ہے، جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں انہیں ملامت نہیں کی جاسکتی

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کی نویں صفت۔ اہل ایمان کی یہ بھی صفت ہے کہ ان پر کوئی جارحیّت کرئے تو وہ پوری غیرت کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس سے پہلے اہل ایمان کی چوتھی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کو معاف کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن جو لوگ اہل ایمان کو کمزور سمجھ کر دبانے اور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جارحیّت کرنے والوں کا پوری جرأت کے ساتھ جواب دیں۔ جارحیّت کرنے والوں سے مراد کافر بھی ہیں اور وہ مسلمان بھی جو کمزوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کا ہاتھ روکنا لازم ہے۔ اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ روکے جائیں تو قوم اور معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگر جارح غیر مسلم ہو تو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ جارحیّت کرنے والا مسلم ہو یا غیر مسلم اس کا بدلہ اتنا ہی لینا ہوگا جتنی وہ زیادتی کرے گا۔ اگر زیادتی کرنے والا مسلمان ہو اور وہ اپنی اصلاح کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اسے معاف کردینا چاہیے۔ معاف کرنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ بدلہ لینے والے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہاں جو لوگ زیادتی کا بدلہ لینا چاہیں ان پر کوئی گناہ نہیں۔ البتہ وہ لوگ ضرور گناہ گا رہوں گے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق فساد کرتے ہیں۔ انہیں اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ جو صبر کرے اور اپنے مسلمان بھائی کو معاف کردے۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ معافی فوج داری، مقدمات اور لین دین کے معاملے میں ہوگی۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّھَا قَالَتْ مَاخُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّآأَخَذَ أَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِنَفْسِہٖٓ إِلَّا أَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ بِھَا) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی ﷺ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔ اگر کام گناہ کا ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے بندوں پر جارحیّت کی جائے تو وہ اس کا بدلہ لیتے ہیں۔ 2۔ بدلہ لیتے ہوئے زیادتی کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ 3۔ جس نے مسلمان بھائی کو معاف کردیا اس کا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہوگیا۔ 4۔ جو معاف کرنے کی بجائے بدلہ لینا چاہے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ 5۔ جو لوگوں پر ظلم اور زمین میں ناحق فساد کرتے ہیں انہیں اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ 6۔ صبر کرنا اور دوسرے کو معاف کردینا عظیم کاموں میں سے ایک بڑا کام ہے۔
Ayahs 42:44–46

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

جسے اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی بھی اللہ کے سوا سنبھالنے والا نہیں۔ تم دیکھو گے کہ جب ظالم عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا واپس پلٹنے کا کوئی راستہ ہے

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ جب یہ جہنم کے سامنے لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اس کو ترشی نظروں کے ساتھ دیکھیں گے، اور اس وقت ایمان والے کہیں گے کہ واقعی اصل نقصان پانے والے یہی ہیں۔ جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈال لیا۔ سن لو کہ ظالم ہمیشہ عذاب میں رہیں گے

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے۔ جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کرسکیں، جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں درحقیقت وہ صحیح راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کی کوئی راہنمائی کرنے والا نہیں ہوتا۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کا کوئی خیرخواہ اور دوست نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب یہ جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے تو آہ وزاریاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا جہنّم سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ آپ انہیں دیکھیں گے کہ جب وہ جہنّم کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو ذلّت کی وجہ سے اپنی نگا ہوں کو نیچے کیے ہوئے ترشی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہوں گے اس وقت مومن کہیں گے۔ یقیناً یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو آج کے دن کے بارے میں نقصان میں رکھا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ ظالم ہمیشہ رہنے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی دوست اور خیر خواہ نہیں ہوگا۔ جو ان کی مدد کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ اور طریقہ باقی نہیں رہتا۔ فہم القرآن میں کئی مرتبہ اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو گمراہ نہیں کرتا۔ اس کے گمراہ کرنے کا معنٰی یہ ہے کہ جو شخص اپنے لیے گمراہی کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے ہوئے گمراہی سے بچنے کی توفیق بھی مانگنا چاہیے۔ کیونکہ ہدایت اور گمراہی اسی کے اختیار میں ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ قیامت کے دن ان کی حالت یہ گی کہ وہ ذلّت کے مارے اپنی نگاہوں کو نیچے کیے ہوئے جہنّم کو ترشی نظروں کے ساتھ دیکھ رہے ہوں گے۔ جس طرح مجرم سزا کے وقت دیکھتا ہے اس حالت میں فریاد کریں گے کہ کاش ! جہنّم سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نکل آئے۔ جنہیں دنیا میں اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔ جن لوگوں نے اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو گمراہ کیا انہیں ہمیشہ رہنے والے عذاب میں داخل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ برے سے برا شخص بھی اپنی اولاد کے نقصان کے لیے نہیں سوچتا۔ مگر اس کے فکر و عمل سے متاثر ہو کر اس کی اولاد اس طرح ہی ہوجاتی ہے جس قسم کا اس نے ماحول دیا ہوتا ہے۔ اگر ماں باپ فکرو عمل کے اعتبار سے صالح لوگ ہیں تو غالب امکان ہے کہ ان کی اولاد بھی صالح ہوگی۔ بصورت دیگر جیسے ماں باپ ہوں گے ویسی ہی اولاد ہوگی۔ اسی بنا پر قیامت کے دن جنتی جہنمیوں کے بارے میں کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ اور اپنی اولاد کو ناقابل تلافی نقصان میں ڈال دیا ہے۔ یعنی یہ لوگ جہنم میں داخل ہوچکے ہیں۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ اَوْ ےُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِےْمَۃُ بَھِےْمَۃً جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِےْھَا مِنْ جَدْعَآءَ ثُمَّ ےَقُوْلُ ” فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَےْھَا لَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ “ ) [ رواہ البخاری : باب اذا اسلم الصبی فمات ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقت جنم دیتے ہیں۔ کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو ؟ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔” اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور درست دین ہے۔ “ ( ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنفُسَکُمْ وَاَہْلِیکُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْہَا مَلاَءِکَۃٌ غلاَظٌ شِدَادٌ لاَ یَعْصُون اللّٰہَلاَ یَعْصُون اللّٰہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ) [ التحریم : 6] اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچا لو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جو حکم کرتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن جہنمی ذلّت کے مارے نگاہیں نیچے کیے ہوئے جہنّم کو دیکھیں گے۔ 2۔ جہنمی اس بات کی خواہش اور اظہار کریں گے کہ کاش ! یہاں سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ مل جائے۔ 3۔ اہل ایمان جہنمیوں کو کہیں گے کہ تم نے اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو بڑے نقصان میں مبتلا کردیا ہے۔ 4۔ جہنمی ہمیشہ اذیّت ناک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ 5۔ جہنمیوں کی کوئی خیر خواہی اور مدد نہیں کرسکے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا : 1۔ نہیں ہے تمہارا کوئی اللہ کے سوا دوست اور نہ مددگار۔ (البقرۃ : 107) 2۔ نہ ملے ان کو اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مددگار۔ (الاحزاب : 17) 3۔ اللہ کے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ (ھود : 30، 63) 4۔ نہیں ہے ان کے لیے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار۔ (التوبۃ : 74) 5۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور سفارشی پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ (السجدۃ : 4)
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ ہی وہ گناہوں کا انکار کرسکیں گے

فہم القرآن ربط کلام : صراط مستقیم پانے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ لوگوں کو اپنے رب کی بات مان کر اس کا تابع فرمان ہوجانا چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا اور آخرت میں کوئی مدد کرنے والا نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا جہنّم سے بچا سکتا ہے تو پھر لوگوں کو اپنے رب کے حکم کے مطابق ہی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی میں زندگی گزارتے ہیں انہیں ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا ہے کہ اس دن کے عذاب سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو جس دن کا عذاب کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ ہی کوئی نکیر کرسکے گا۔ نکیر کا لفظ نکر سے نکلا ہے۔ جس کے اہل علم نے چار مفہوم ذکر کیے ہیں۔ 1” مَالَکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ “ تم اپنے کیے کا انکار نہیں کرسکو گے۔ 2 تم اپنی حالت بدل نہیں سکو گے۔ 3 تمہارے لیے جائے پناہ نہیں ہوگی۔ 4 تم کسی قسم کا احتجاج نہیں کرسکو گے۔ مسائل 1۔ لوگوں کو اپنے رب کا حکم مان کر اپنے آپ کو بدل لینا چاہیے۔ 2۔ قیامت کا دن اور اس کا عذاب کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتا۔ 3۔ قیامت کے دن کوئی جائے پناہ اور گناہوں سے انکار کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

اب بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبی ہم نے تم کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا ہے آپ پر تو حق بات پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ انسان کو جب ہم اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اس پر پھول جاتا ہے۔ اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اس پر الٹ پڑتا ہے تو وہ بہت ناشکرا بن جاتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن مجرموں کے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اس کے باوجود یہ لوگ حق بات سے اعراض ہی کیے جارہے ہیں۔ آپ ﷺ کا کام صرف لوگوں تک حق بات کا ابلاغ کرنا ہے۔ لہٰذا یہ کام آپ کو کرتے رہنا چاہیے۔ نبی ﷺ پوری محنت اور اخلاص کے ساتھ شب وروز لوگوں کو سمجھا رہے تھے کہ اے لوگو ! قیامت کا دن آنے سے پہلے اپنے آپ کو سدھار لو ! قیامت کے دن کوئی اپنے آپ اور کسی دوسرے کو نہیں بچا سکے گا۔ لیکن کفار اور مشرکین کی حالت یہ تھی کہ وہ حق قبول کرنے کی بجائے آپ ﷺ کی مخالفت میں روز بروز آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ جس پر نبی کریم ﷺ دل آزردہ ہوجاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کرتے۔ قریب تھا کہ آپ ﷺ کو کوئی عارضہ لاحق ہوجاتا۔ اس صورت حال میں آپ کو تسلی دینے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ کیا آپ اپنے آپ کو اس لیے بیمار کرلیں گے کہ یہ لوگ حق بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ (الشعراء : 3) آپ کو یہ کہہ کر بھی ڈھارس دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نصیحت کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ اس نے آپ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔ اس لیے آپ کا کام نصیحت کرنا ہے۔ آپ نصیحت کرتے جائیں۔ (الغاشیۃ : 21، 22) آپ ﷺ کی تسلی کے لیے یہاں ارشاد فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ سے اعراض کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو آپ کو ایک حد سے زیادہ فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے آپ کو ان پر چوکیدار نہیں بنایا۔ آپ کا کام صرف حق بات کی دعوت دینا ہے۔ لہٰذا آپ ان کو دعوت دیتے جائیں اور اس کا نتیجہ اپنے رب کے حوالے کریں۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب ہم ان کو اپنی رحمت سے نوازتے ہیں تو یہ اس کے ساتھ خوش ہوجاتے ہے۔ اگر ہم ان کو ان کے اعمال کی سزا دیتے ہیں تو اپنے رب کی ناشکری کرنے پر اتر آتے ہیں۔ اس آیت کے آغاز میں مخاطب تو اہل مکہ ہیں۔ مگر نعمت اور سزا کا ذکر کرتے ہوئے ” الانسان “ کا لفظ لا کر پوری بنی نوع انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ دعوت اور آپ ﷺ کی بعثت صرف اہل مکہ کے لیے نہیں تھی۔ آپ کی دعوت تو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے ہے۔ جس بنا پر ہر داعی کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی فطرت کا خیال رکھتے ہوئے دعوت کا کام جاری رکھے۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ اپنے پسند کی بات پر خوش ہوتا ہے اور ناپسند پر ناراض ہوتا ہے۔ یہی رویہ اس کا اپنے رب کے بارے میں ہوتا ہے کبھی اس پر خوش ہوتا ہے اور کبھی ناراض ہوجاتا ہے۔ اس میں داعی کو یہ بھی سمجھایا جارہا ہے کہ لوگوں کی خوشی اور ناراضگی کی پروا کیے بغیر اسے حق کا ابلاغ کرتے رہنا چاہیے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو لوگوں پر چوکیدار نہیں بنایا تھا۔ 2۔ نبی ﷺ کا کام حق بات کا ابلاغ کرنا تھا جسے آپ ﷺ نے کامل اور اکمل طریقے کے ساتھ سرانجام دیا۔ 3۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کچھ ملے تو خوش ہوجاتا ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ اپنے رب کا بھی ناشکرا بن جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی ﷺ کا کام حق بات پہچانا تھا منوانا نہیں : 1۔ آپ ﷺ تو ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : 12) 2۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : 40) 3۔ آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا گیا آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ (الشوریٰ : 48) 4۔ (پیغمبروں نے کہا) ہمارے ذمہ دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : 17) 5۔ آپ نصیحت کریں آپ کا کام بس نصیحت کرنا ہے، آپ کو چوکیدار نہیں بنایا گیا۔ (الغاشیۃ : 21۔ 22) 6۔ رسولوں کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ (النحل : 35) 7۔ نہیں ہے رسول پر مگر واضح طور پر پیغام پہنچانا۔ (النور : 54)
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں ملا جلا کردیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ رکھتا ہے، وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور کسی دوسرے کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں دیا۔ ہدایت اور ہر قسم کے اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ یہاں تک انسان اپنی اولاد کے بارے میں بھی اختیار نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کا مالک اور بادشاہ ہے۔ اس کے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے صرف بیٹیاں ہی عنایت کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے صرف بیٹے عطا کرتا ہے۔ کسی کو بیٹے اور بیٹیاں دیتا ہے اور کسی کو زندگی بھر بانجھ رکھتا ہے۔ وہ ہر چیز کا کامل اور اکمل علم رکھنے کے ساتھ ہر کسی پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے حوالے سے انسان کو یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ اے انسان ! جس رب کے ساتھ تو کفر و شرک کرتا ہے اس کے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جسے چاہے بیٹے عطا فرمائے اور جس کو چاہے بیٹیاں دے اور جسے چاہے بیٹے، بیٹیاں دے اور جسے چاہے اسے بےاولاد رکھتا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا جوڑا نہیں جو اپنی مرضی سے بیٹے یا بیٹی کو جنم دے سکے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ذات ہے جو کسی کو بیٹے یا بیٹیاں دے سکے اور نہ ہی بانجھ کو کوئی اولاد دے سکتا ہے۔ جب انسان اپنے رب کے سامنے اتنا بےبس ہے تو اسے دل کی رغبت کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننا چاہیے تاکہ دنیا میں اس کا بھلا ہو اور آخرت میں وہ سرخرو ہوسکے۔ اس کے باوجود مشرک کسی کو داتا کہتا ہے اور کسی کو اپنا دستگیر بنائے ہوئے ہے۔ جس شخصیت کو داتا کہا جاتا ہے اس کا اپنا حال یہ تھا کہ انہوں نے دو سے زائد شادیاں کیں مگر زندگی بھر بیٹے اور بیٹی سے محروم رہے۔ (سوانح علی ہجویری ؓ ، مطبع محکمہ اوقاف پنجاب) ہدایت کے بارے میں بھی لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ نہایت صالح، کچھ لوگ ملے جلے کام کرنے والے اور کچھ بالکل ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبرو بات کرے اس کی بات یا تو وحی کے ذریعے ہوتی ہے یا پردے کے پیچھے سے یا پھر وہ فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ ” اللہ “ چاہتا ہے وحی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بلند وبالا اور حکیم ہے

فہم القرآن ربط کلام : انسان ہی نہیں بلکہ انسانوں کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی کوئی اختیارات نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک وہ اللہ تعالیٰ سے برائے راست بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس سورة مبارکہ کا آغاز توحید و رسالت سے ہوا ہے۔ اس کا اختتام بھی توحید و رسالت کے عنوان پر ہورہا ہے۔ عام انسان نہیں بلکہ انسانوں کے سردار جنہیں نبوت کے منصب پر فائز کیا گیا۔ ان کی بےاختیاری کا عالم یہ تھا کہ وہ بھی اللہ جلّ جلالہٗ سے براہ راست بات کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی کسی انسان میں یہ سکت ہے کہ وہ بلاواسطہ اپنے رب کے ساتھ ہم کلام ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے ساتھ بھی کلام فرمایا اس پر وحی نازل فرمائی یا نور کے حجاب کے پیچھے اس سے کلام کیا یا فرشتہ بھیج کر اس تک اپنا پیغام پہنچایا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند وبالا اور حکمت والا ہے۔ اس ارشاد میں اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے کلام کرنے کے تین طریقے ارشاد فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نینبی آخرالزمان ﷺ کو تینوں طریقوں کے ساتھ ہی اپنے ارشادات سے سرفراز فرمایا۔ وحی کا لغوی معنٰی الہام، لکھا ہواپیغام، اشارہ کرنا، چھپا کر بات کرنا اور کسی بات پر آمادہ کرنا۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِءَ بِہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم ﷺ کو وحی کی ابتدا نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی۔ “ 2 حجاب کا یہ معنٰی نہیں کہ اللہ تعالیٰ حجاب میں رہتا ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ اللہ اور نبی کے درمیان حجاب ہوتا ہے۔ (وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ قَالَ نُوْرٌ اَنّٰی أرَاہُ ) [ رواہ مسلم : باب قولہ (علیہ السلام) (نُوْرٌ اَنّٰی أرَاہُ )] حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے (معراج کی رات) اپنے پروردگار کو دیکھا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ؟ 3 تیسری قسم کے بارے میں قرآن شہادت دیتا ہے کہ قرآن مجید جبرائیل امین کے ذریعے رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا گیا ہے۔ ” بلاشک جبرائیل (علیہ السلام) نے ہی آپ ﷺ کے دل پر اللہ کے حکم سے کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ “ ( البقرۃ : 97) ” یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اسے امانت دارفرشتہ لے کر آیا اور اس نے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو ڈرانے والے ہیں۔ یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے۔ “ (الشعراء : 192 تا 195) کفار کا مطالبہ تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے بات کرتا ہے ہم سے کیوں بات نہیں کرتا، اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیرے غیرے کے ساتھ بات نہیں کرتا وہ نبی کے ساتھ بھی براۂ راست بات کرنے کی بجائے صرف تین صورتوں میں بات کرتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کسی بشر کے ساتھ براہ راست بات نہیں کرتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں کسی کو بھی القاء کرسکتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ وحی کے ذریعے بات کرتا تھا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ پردے میں گفتگو فرمائی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ کے ذریعے انبیائے کرام (علیہ السلام) تک اپنا پیغام پہنچاتا تھا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلندوبالا اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن وحی کے مختلف طریقے : 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ پردے میں بات کرتا تھا۔ ( الشورٰی : 51) 2۔ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف القاء کیا کہ پہاڑوں اور درختوں پر اپنے گھر بنائے۔ ( النحل : 68) 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلائے۔ ( القصص : 7) 4۔ اللہ تعالیٰ نے جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے اپنا پیغام انبیاء تک پہنچایا۔ (الشعراء : 193)
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اے نبی اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں۔ یقیناً آپ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید بھی وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے۔ لیکن یہ وحی جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے آیا کرتا تھی۔ اس لیے بالخصوص جبرائیل امین (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے حکم سے آپ ﷺ کی طرف جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے قرآن نازل کیا۔ حالانکہ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ “ اَلْکِتَابُ “ اور ” اَلْاِیْمَانُ “ کیا ہوتا ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے نور ہدایت بنایا ہے۔ اس کے ساتھ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں کو ہدایت کے ساتھ سرفراز فرماتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! یقین جانو ! کہ آپ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والے ہیں۔ یہ صراط مستقیم اللہ کا متعین کردہ ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ سب کام اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اور وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ سورة کے اختتام میں ایک مرتبہ پھر بالواسطہ کفار کے اس الزام کی تردید کی گئی ہے جو کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے قرآن اپنی طرف سے تیار کرلیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل امین (علیہ السلام) نے آپ کے دل پر نازل کیا ہے۔ اس بات کو ان الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (وَاِِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ وَاِِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ )[ الشعراء : 192 تا 196]
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اس اللہ کے راستے کی طرف جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ سُن لو ! کہ سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں

” یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اسے لے کر امانت دارفرشتہ آیا اور اس نے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو ڈرانے والے ہیں۔ یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے اور پہلی کتابوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ “ اسی فرمان کی بنیاد پر امت کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید القاء، خواب یا کسی اور ذریعے سے نہیں بلکہ سارے کا سارا قرآن جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے نازل ہوا۔ نزول قرآن سے پہلے آپ ﷺ نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور اس کی دعوت یعنی ایمان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نور قرار دیا ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور یہی نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت کا مقصد تھا اور ہے کہ آپ ﷺ قرآن کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ یہاں ہدایت سے مراد قرآن مجید کی تعلیم اور راہنمائی ہے۔ (عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ اأنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ؓ ، اِشْتَکٰی فَدَخَلَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺ یَعُوْدُہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدُکَ یَا عُمَرُ ؟ فَقَالَ اأرْجُوْ وَأَخَافُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ مَا اجْتَمَعَ الرَّجَاءُ وَالُخَوْفُ فِیْ قَلْبِ مَؤْمِنٍ إِلَّا اأعْطَاہ اللّٰہُ الرَّجَاءَ وَأَمِنَہُ الِخَوْفَ ) [ رواہ البیھقی : باب فی الرجاء من اللہ تعالیٰ ] ” سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ بیمار ہوگئے تو نبی اکرم ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے استفسار فرمایا اے عمر ! اپنے آپ کو کیسے محسوس کررہے ہو ؟ عمر ؓ نے جواب دیا مجھے امید بھی ہے اور خوف بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کے دل میں امید اور خوف دونوں جمع ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس کی امید پوری کردیتے ہیں اور اسے خوف سے محفوظ فرمالیتے ہیں۔ “ (عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِیمَانِ مَنْ رَضِیَ باللّٰہِ رَبًّا وَّبِا لإِْسْلَام دینًا وَّبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا) [ رواہ مسلم : باب الدلیل علی ان من رضی باللہ ربا ] ” حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا اس نے ایمان کا لطف پالیا۔ “ اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار اقسام ہیں : 1 طبعی اور فطری ہدایت 2 الہامی ہدایت 3 توفیقی ہدایت 4 ہدایت وحی۔ طبعی اور فطری ہدایت : چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اسی اصول کی روشنی میں رخ بدلتی اور چلتی ہیں۔ بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں یہاں تک کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں۔ فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی مرغی کے قدموں میں پڑجاتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا اور انسان کا نومولود ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ اس طبعی اور فطری ہدایت کی قرآن نے ان الفاظ میں نشاندہی فرمائی ہے : (وَھَدَیْنَاہ النَّجْدَیْنِ ) [ البلد : 10] ” ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیئے۔ “ الہامی ہدایت : الہام وحی کی ایک قسم ہے لیکن وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ وحی صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے جب کہ الہام انبیاء کے علاوہ نیک اور عام آدمی حتی کہ قرآن مجید نے شہد کی مکھیوں کے لیے بھی وحی یعنی الہام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی بات القا فرما دیتا ہے۔ اسے ہدایت وہبی بھی کہا جاتا ہے۔ ( النحل : 68) ہدایت بمعنٰی توفیق اور استقامت : ہدایت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اور توفیق سے اپنے بندے کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کرتے تھے۔ (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ] ” اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ “ (اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب ماء فی جامع الدعوات ] ” اے اللہ ! میری راہنمائی فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ رکھ۔ “ وحی اور حقیقی ہدایت : یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس ہدایت کی دوشکلیں ہیں اور دونوں آپس میں لازم وملزوم اور ضروری ہیں۔ ایک ہدایت ہے ہر نیکی کی ظاہری حالت اور اس کی ادائیگی کا طریقہ جو ہر حال میں سنت نبوی کے مطابق ہونا چاہیے۔ دوسری اس کی روح اور اصل۔ اسے قرآن نے اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے۔ اخلاص کے اثرات دل پر اثر انداز ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوگی جس کا بدلہ جنّت ہے۔ کردار پر مرتب ہوں گے تو نفس اور معاشرے میں پاکیزگی پیدا ہوگی جس سے آدمی کو دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی۔ صراط مستقیم کا تعارف : ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں ان میں سے ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی (بےشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔ “ [ مسند احمد : باب مسند عبدا اللہ بن مسعود ] قرآن مجید نے اس راستے کو نبی ﷺ کا راستہ قرار دیا اور اسے بصیرت سے تعبیر کیا ہے۔ (قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِيْ أَدْعُو إِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ) [ یوسف : 108] ” آپ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اور میرے پیرو کار بصیرت کی بنیاد پر اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ “ ” حضرت عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسا وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے ہم نے کہا اللہ کے رسول یقیناً یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے اس لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں واضح دین پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات بھی دن کی طرح ہے ہلاک ہونے والے کے علاوہ کوئی اس سے نہیں ہٹے گا تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا تم نے جو میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ جانا اس کو لازم پکڑنا اور اسے داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھامنا اور امیر کی اطاعت کرتے رہنا اگرچہ وہ حبشی ہی کیوں نہ ہو۔ مومن نکیل والے اونٹ کی طرح ہوتا ہے اسے جہاں بھی لے جایا جائے وہ چلا جاتا ہے۔ “ [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب المقدمۃ،] تفسیر بالقرآن صراط مستقیم اور اس کے سنگ میل : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج : 54) 2۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 3۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51، مریم : 36) 4۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : 87) 5۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یٰس : 61) 6۔ صراط مستقیم کی ہی پیروی کرو۔ (الانعام : 153)