41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة حٰمٓ السجدۃ کا تعارف یہ سورة ٥٤ آیات اور ٦ رکوع پر مشتمل ہے۔ مکہ معظمہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ ربط سورة : سورة المؤمن کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ مجرموں کے پاس جب بھی ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے تو ان کی اقوام نے اپنے علم اور تجربہ پر ناز کرتے ہوئے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو استہزا کا نشانہ بنایا۔ اس جرم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا تو وہ پکار اٹھے کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لاتے ہیں لیکن اس وقت ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہ ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ وہ عذاب نازل کرنے کے بعد مجرموں کو موقع نہیں دیا کرتا۔ سورة حٰم السجدۃ کی ابتداء اس فرمان سے ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی مہربان اور شفقت فرمانے والا ہے۔ اس نے اپنی رحمت کی بنا پر لوگوں کی راہنمائی کے لیے مفصل کتاب نازل فرمائی ہے۔ جس میں برے لوگوں کو انتباہ کیا ہے اور اچھے لوگوں کو خوشخبری کا پیغام دیا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس طرح اعراض کرتی ہے جس طرح انہوں نے حق بات کو سنا ہی نہیں۔ حٰمٓ سورتوں میں یہ دوسری سورة ہے اس کا آغاز قرآن مجید کے تعارفی کلمات سے ہوتا ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ قرآن کی دعوت دو باتوں پر مشتمل ہے۔ جو اس پر ایمان لائیں گے ان کے لیے خوشخبری ہے اور جو اس سے اعراض کریں گے انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیا جاتا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت ہمیشہ اعراض ہی کیا کرتی ہے۔ اس سورة کی ابتدا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ آپ لوگوں میں واضح الفاظ میں اعلان کرتے جائیں کہ میں رشتہ انسانی کے اعتبار سے تمہارے جیسا انسان ہوں مگر میرا یہ اعزاز ہے کہ میری طرف وحی آئی ہے کہ میں تمہیں سمجھاؤں اور بتلاؤں کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہے۔ لہٰذا اس بات پر قائم ہوجاؤ۔ ہمیشہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو اور یاد رکھو جو لوگ اپنے رب کی ذات اور صفات میں کسی دوسرے کو شریک کریں گے ان کے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ جو لوگ اپنے رب پر ایمان لائیں گے اور اس کے احکام کو تسلیم کریں گے ان کے لیے ایسا صلہ ہے جس میں کبھی کمی واقع نہیں ہوگی۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے ہیں کیا انہوں نے اس بات پر کبھی غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا پھر اس پر پہاڑ گاڑ دئیے۔ اس کے بعد دو دن میں سات آسمان بنائے ہر آسمان کو اس کے متعلقہ امور کا حکم دیا۔ پھر آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا اور شہاب ثاقب سے اس کی حفاظت کا بندوبست کیا۔ یہ ہے تمہارا رب جس نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود اہل مکہ اللہ کی توحید کا انکار کرتے اور لوگوں کو قرآن پڑھنے اور سننے سے روکتے تھے۔ انہیں سمجھانے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے قوم عاد کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ اس سورت میں آپ کو ارشاد فرمایا کہ سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو ” اللہ “ کی توحید پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے لہٰذا آپ برائی کا جواب نیکی اور حسن اخلاق سے دیں تاکہ تمہارا دشمن تمہارے اخلاق اور دعوت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے اور وہ آپ کا جگری دوست بن جائے۔ یہ مقام صبر سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر کسی وقت آپ کو شیطان ورغلانے اور بھڑکانے کی کوشش کرے تو آپ ” اللہ “ کی پناہ مانگیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو شیطان کی شرارتوں اور سازشوں سے بچانے والا ہے۔ حٰمٓ السجدہ کے آخر میں ان لوگوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور مصائب، مشکلات کے باوجود اپنے ایمان پر پکے رہے۔ جب ان کو موت آئے گی تو ملائکہ انہیں تسلی دیں گے کہ کسی قسم کا خوف کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے جنت کی خوشخبری ہے تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور ہم دنیا میں بھی تمہارے ساتھی تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے، جنت میں جو چاہو گے سو پاؤ گے وہاں رب رحیم کی طرف سے تمہاری مہمان نوازی کی جائے گی۔ یہ مہمانوازی ان لوگوں کے نصیب میں ہوگی جو ” اللہ “ کی توحید اور اس کے تقاضے پورے کریں گے۔ سجدہ تلاوت کی دعا (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَانَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِ الْقُرْاٰنِ بالَّلیْلِ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ فَتَبارَکَ اللّٰہُ أحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ) [ المستد رک علی الصحیحین للحاکم ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیام اللیل میں سجدہ تلاوت کے وقت یہ دعا کرتے تھے۔ میرا چہرہ اس ذات کا مطیع ہوا جس نے اپنی قدرت سے اسے بنا کر کان اور آنکھیں عطاکیے۔ اللہ تعالیٰ بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “

Ayahs 41:1–3

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ قرآن رحمان ورحیم کی طرف سے نازل کردہ ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

ایسی کتاب ہے جس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں، قرآن عربی زبان میں ہے ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں

فہم القرآن سورۃ المومن کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ باطل پر اصرار کرنے والے بالآخر نقصان اٹھائیں گے۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ اگر دنیا اور آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہو تو رب رحمٰن کی اتاری ہوئی کتاب پر پوری طرح ایمان لاؤ۔ لیکن اکثر لوگ اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔ حم ٓ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن مجید کا فہم رکھنے والا جانتا ہے کہ ان کا معنٰی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز لفظ ” تَنْزِیْلٌ“ کے بعد ” اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ کی صفات سے ہورہا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بیشک تم انکار کرو لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس قرآن میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جسے نبی ﷺ نے اپنی طرف سے بنایا اور شامل کیا ہو۔ قرآن سارے کا سارا اسی ذات اقدس نے نازل فرمایا ہے۔ جس کی شفقت اور مہربانی کی کوئی انتہا نہیں۔ لوگوں کی مکمل راہنمائی اور سہولت کی خاطر اس کی آیات اپنا مفہوم خود واضح کرتی ہیں۔ یہ عربی زبان میں ہے۔ اس سے وہی لوگ راہنمائی حاصل کریں گے جو صحیح دانست سے کام لیں گے۔ یہاں قرآن مجید کی تین صفات کو کھلے الفاظ میں اور ایک وصف کا اشارتاً ذکر کیا گیا ہے۔ 1 قرآن کے نزول میں کسی بندے یا پوری مخلوق میں سے کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ 2 اس کی آیات اپنا مدّعا کھول کر بیان کرتی ہیں۔ جس میں حق اور باطل، کھرے اور کھوٹے، نیک اور بد، نفع اور نقصان کے درمیان فرق واضح کردیا گیا ہے۔ 3 قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ پُر تاثیر اور جامع زبان ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ اس کی تین وجوہات ہیں۔ 1 قرآن نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوا ہے آپ اپنے اخلاق، کردار اور صلاحیتوں کے اعتبار سے پوری دنیا میں منفرد انسان تھے۔ جیسا نہ کوئی انسان تھا اور نہ ہوگا۔ 2 نزول قرآن کے وقت عربی تمام زبانوں میں فصیح زبان تھی اور اب بھی ہے اور انشاء اللہ قیامت تک رہے گی۔ 3 قرآن مجید کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو اعتراض کرنے والے پھر اس زبان پر اعتراض کرتے کیونکہ آپ عربی تھے اس لیے قرآن عربی زبان میں ہے اور ہونا چاہیے تھا۔ 4 قرآن کسی فرشتے، جن اور بندے کی طرف سے نازل نہیں کیا گیا۔ یہ رب رحمن اور الرحیم نے نازل فرمایا ہے۔ جس میں کھلا اشارہ ہے کہ اگر اپنے رب کی شفقت اور مہربانی چاہتے ہو تو اس کی شفقت و مہربانی قرآن کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ بالفاظ دیگر یہ قرآن تمہارے رب کی رحمت کا سرچشمہ ہے۔ قرآن کا لفظ تین معانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے : 1 ۔ ایسی کتاب جو بار بار پڑھی جائے کیونکہ قرآن کی تلاوت بار بار اور کثرت کے ساتھ کی جاتی ہے اس لیے اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا نام دیا ہے۔ 2 ۔ جو حوض پانی سے لبالب بھرا ہوا ہو عرب اسے ” قرات الحوض “ کہتے ہیں، اسی سے ہی قرآن کا لفظ لیا گیا ہے۔ یعنی وہ کتاب جو علم معرفت سے لبالب ہے۔ 3 ۔ قرن کا معنی ملانا ہے، قرآن مجید کے الفاظ اور مضامین آپس میں ملے اور جڑے ہوئے ہیں اس لیے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن مجید نازل فرمایا ہے۔ 2۔ قرآن مجید پیکر رحمت ہے۔ 3۔ قرآن مجید کی آیات بہت ہی واضح ہیں 4۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید رحمت اور ہدایت کی کتاب ہے۔ (لقمان : 3) 3۔ قرآن مجیدلوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے۔ (البقرۃ : 185) 4۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام : 92) 5۔ قرآن مجید میں ہدایت واضح کردی گئی ہے۔ (النحل : 89) 6۔ قرآن مجید روشن اور بین کتاب ہے۔ (المائدۃ : 15) 7۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ (یوسف : 3) 8۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ (الشعراء : 192)
Ayahs 41:4–5

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

قرآن بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے مگر ان کی اکثر یت اس سے روگردانی کرتی اور اسے بےتوجہگی سے سنتی ہے

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

کہتے ہیں جس چیز کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کرتے رہیں گے

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے نزول اور نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد نیک لوگوں کو خوشخبری سنانا اور بروں لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے نیک لوگوں کو ان کے بہتر انجام کی خوشخبری دی جائے اور برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہی بات بیان فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد حقیقی ایمان اور صالح کردار رکھنے والوں کو دنیا اور آخرت کی خوشخبری سنانا اور باطل عقائد اور برا کردار رکھنے والوں کو ان کے بھیانک انجام سے ڈرانا ہے۔ جسے آپ ﷺ نے پورے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ کھول کر بیان کردیا۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے اعراض کیا اور آپ کی بات سننے کے لیے تیارنہ ہوئے۔ نہ صرف سننے کے لیے تیارنہ ہوئے بلکہ کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ جس بات کی آپ دعوت دیتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے دلوں پر پردے پڑچکے ہیں۔ ہمارے کان اسے سننے سے بہرے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک پردہ حائل ہوچکا ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ مکہ کی غالب اکثریت کا یہی رویہّ تھا اس لیے انہوں نے اپنے بارے میں یہ الفاظ استعمال کیے۔ اس کے دو مفہوم بنتے ہیں۔ 1۔ تم دعوت دینے سے باز آنے والے نہیں اور ہم مرتے دم تک آپ کی مخالفت چھوڑنے والے نہیں۔ 2۔ تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کام کریں گے۔ یعنی تم اپنے طریقے کے مطابق رب کی عبادت کرو ہم اپنے طریقے کے مطابق عبادت کریں گے۔ سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے۔ مگر ناکام ہوئے بالآخر انہوں نے یہ ہتھکنڈا استعمال کیا کہ آپ ﷺ اور ان کے درمیان سمجھوتہ ہوجائے۔ ایک دن رسول ﷺ حرم کے ایک گوشہ میں تشریف فرما تھے اور دوسرے گوشہ میں چند سرداران قریش بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد ﷺ کے سامنے کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا۔ اگر اس نے میری بات قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرلیں گے۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! آپ یہ کام ضرور کریں۔ چناچہ عتبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اکر ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا۔ بھتیجے ! قوم میں جو تفریق پیدا ہوچکی ہے آپ اسے جانتے ہیں۔ میں چند باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جو چاہو پسند کرلو۔ مکہ کی حکومت چاہتے ہو یا کسی بڑے گھرانے میں شادی یا مال و دولت ؟ اور اگر آپ کے پاس کوئی جن بھوت آتا ہے تو اس کے علاج کی بھی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ مگر آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ رسول اللہ ﷺ عتبہ کی باتیں سنتے رہے۔ جب عتبہ خاموش ہوگیا تو آپ نے فرمایا۔ اب میرا جواب سن لیں آپ نے سب باتوں کے جواب میں اسی سورة کی ابتدائی چند آیات تلاوت فرمائیں۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے تو عتبہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اس نے آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ عذاب اسی وقت نہ اتر پڑے پھر وہ اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس آکر کہنے لگا۔ محمد ﷺ جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں۔ بلکہ کلام ربانی ہے تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہوگیا تو یہی تم چاہتے ہو۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! معلوم ہوتا ہے کہ تم پر بھی اس کا جادو چل گیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) مسائل 1۔ اللہ کے رسول ایمانداروں کو خوشخبری دینے اور دوسروں کو ڈرانے کے لیے تشریف لاتے تھے۔ 2۔ کفار فخر و غرور اور جہالت کی بنیاد پر کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر پردہ، کانوں پر بوجھ اور تیرے اور ہمارے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی ہوچکی ہے۔ 3۔ لوگوں کی اکثریت حقیقت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
Ayahs 41:6–9

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

اے نبی ان سے فرمائیں میں تمہارے جیسا بشر ہوں مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا گیا ہے کہ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے لہٰذا تم اسی کی طرف اپنا رخ کرو اور اس سے معافی مانگو، مشرکوں کے لیے تباہی ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے یقیناً ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

اے نبی ان سے کہو کیا تم اس اللہ کا انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا، وہی تو پوری کائنات کا رب ہے

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کو اپنے لیے بوجھ قرار دینے والوں کو نبی محترم ﷺ کا جواب۔ جو شخص گمراہی اور اپنی جہالت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس پر اترائے۔ اس کے ساتھ جھگڑنے یا اس پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ بحیثیت انسان میں بھی تمہارے جیسا ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول منتخب کیا اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر واضح کروں کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اس کا حکم ہے کہ ادھر ادھر کے راستوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے راستے پر پکے ہوجاؤ۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگو ! اور کفر و شرک سے تائب ہوجاؤ ! یاد رکھو ! کہ مشرکین کے لیے ویل ہے۔ ویل سے مراد افسوس اور جہنّم ہے۔ ان کے لیے بھی ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ جو ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو نہ کم ہوگا اور نہ ہی ختم ہوگا۔ آپ ﷺ سے آپ کی بشریت کا اعلان کروانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نبی کا کام حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں کسی کو ہدایت دینا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا اگر تم نے اپنے لیے گمراہی کو پسند کرلیا ہے تو پھر میں کیا کرسکتا ہوں ؟ بحیثیت انسان میرے ذمّہ حق بات پہنچانا ہے کسی کو ہدایت دینا میرے بس کی بات نہیں۔ البتہ یہ بات یادرکھو کہ مشرک اور وہ لوگ بھی جہنّم میں جائیں گے جو زکوٰۃ اور آخرت کے منکر ہیں۔ اکثر اہل علم نے یہاں لفظ زکوٰۃ کا معنٰی شرک سے پاک ہونا مراد لیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَامِنْ رَجُلٍ لَا یُؤَدِّيْ زَکَاۃَ مَالِہٖ إِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِيْ عُنُقِہٖ شُجَاعًا ثُمَّ قَرَأَ عَلَیْنَا مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) الآیۃَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیر القرآن، باب ومن سورة آل عمران ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس بات کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) ۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ بشر تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرا کوئی الٰہ نہیں۔ 3۔ جو لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی کا خیال نہیں رکھتے یقیناً وہ آخرت کے انکاری ہیں۔ 4۔ ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کے لیے دائمی اجر وثواب ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء (علیہ السلام) بشر تھے : 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11) 3۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف : 109) 2۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل : 43) 4۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : 186) 5۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : 24) 6۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لاؤ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : 154) 7۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : 33) 8۔ آپ ﷺ اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : 110) 9۔ نبی آخر الزماں ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ (حٰمٓالسجدۃ : 6)
Ayahs 41:10–12

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اس نے زمین بنانے کے بعد اس پر پہاڑ جما دیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور زمین میں سب طلب گاروں کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا انتظام فرما دیا، یہ سب کام چار دن میں ہوگئے

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت دھواں تھا، اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا چاہو یا نہ چاہو ہر حال وجود میں آجاؤ، دونوں نے کہا ہم فرمانبردار ہو کر حاضر ہوگئے

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

تب اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کا قانون جاری کردیا، اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے خوبصورت بنایا اور اسے محفوظ کردیا یہ سب کچھ ایک جاننے والی زبردست ہستی کا بنایا ہوا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور کافر جس حقیقی الٰہ کے ساتھ شرک اور کفر کرتے ہیں صرف اسی ایک ذات نے زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کو بنایا ہے۔ کیا کوئی ہستی ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں ؟ قرآن مجید نے یہ بات بھی بار ہا دفعہ بتلائی ہے کہ رمینوں آسمانوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے بنانے میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک تھا۔ اس لیے یہاں کفار سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا تم اس ذات کبریا کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو یوم میں پیدا فرمایا۔ تم بتوں، بزرگوں اور دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ایک ” اللہ “ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی نے زمین پر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت پیدا فرمائی اور اس میں ہر قسم کا معیشت کا سامان رکھا۔ جو ضرورت مندوں کے لیے برابر ہے۔ اے نبی ﷺ جنہوں نے آپ سے سوال کیا ہے ان کا یہ جواب ہے۔ یہودیوں کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر زمین و آسمانوں کے بارے میں سوال کرتا ہے جس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ زمین اتوار اور پیر کے دن، پہاڑ اور جو کچھ ان میں معدنیات ہیں انہیں منگل کے دن، درخت، دریا، سمندر اور صحراء وغیرہ بدھ کے دن بنائے گئے اس طرح یہ نظام چار دن میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان بنانے کا ارادہ فرمایا جو دھویں کی شکل میں تھا۔ زمین اور آسمان کو حکم صادر فرمایا کہ خوشی یا نا خوشی سے میرے پاس حاضر ہوجاؤ۔ زمینوں اور آسمانوں نے عرض کی کہ ہم بڑی خوشی کے ساتھ آپ کے حضور حاضر ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو دن میں آسمان بنائے اور ہر آسمان میں جو کچھ پیدا فرمایا اسے حکم دیا کہ تو نے یہ یہ کام سرانجام دینے ہیں۔ پھر آسمان دنیا کو ستاروں سے مزیّن فرمایا اور شیطانوں سے اس کی حفاظت کا بندوبست کیا۔ اس نظام کو صرف ” اللہ “ غالب جاننے والے نے ہی اپنی مرضی سے بنایا اور پوری طرح مربوط کیا ہے۔ پہلی آیت میں یہ ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان بنانے کا ارادہ فرمایا تو زمین اور آسمان کو حکم دیا کہ خوشی یا نا خوشی شے میرے پاس حاضر ہوجاؤ۔ گویا کہ یہ شاہی فرمان تھا کہ تم چاہو یا نہ چاہو بہرحال تمہیں یہ کام کرنا ہوگا۔ ان الفاظ میں بین السطور اللہ تعالیٰ کی رفعت و جلالت کا پتہ چلتا ہے۔ زمین و آسمان سے مراد ان کا میٹریل ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے پہلے حکم پر معرض وجود میں آچکا تھا۔ جس کی موجودہ زمانے کے کچھ سائنسدان بھی تائید کرتے ہیں۔ اس کا دوسرا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر چیز کا ذخیرہ فرمادیا تاکہ زمین میں رہنے والی مخلوق قیامت تک اپنی ضرورت پوری کرتی رہے گی۔ اس میں پہاڑ، سمندر، صحراء اور ہر چیز شامل ہے اس میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا۔ کہ کسی ایک علاقے کی بجائے مختلف چیزوں کو زمین کے مختلف طبقات میں رکھا جائے تاکہ تمام لوگ ایک دوسرے کے محتاج ہوں اور آپس میں رابطہ رکھنے کی ضرورت محسوس کرتے رہیں۔ اس لیے سائلین کا معنٰی حاجت مند بھی کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین، سمندر اور پہاڑوں میں اس طرح خزانے چھپادئیے ہیں کہ ہر دور کے انسان اپنی کوشش اور صلاحیت کے مطابق نکالتے رہیں گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دنوں میں تخلیق فرمایا۔ 2۔ اللہ نے زمین کی تخلیق کے بعد اس میں پہاڑ جما دیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو دو دنوں میں پیدا کیا۔ 4۔ زمین و آسمانوں میں اللہ کا ہی حکم چلتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان اور ہر جاندار کے لیے زمین، پہاڑ اور سمندر میں رزق رکھ کر اس میں برکت پیدا کردی ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور اس سے آسمان کی حفاظت کا بندوبست بھی فرمایا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے : 1۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20) 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 3۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4) 4۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : 189) 5۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 22) 6۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54) 7۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1) 8۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : 58) 9۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (ا لسباء : 39) 10۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132)
Ayahs 41:13–14

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے فرمائیں کہ میں تم کو اسی طرح کے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر آیا تھا

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب اللہ کے رسول ان کے پاس ان کے آگے، پیچھے اور ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، تو انہوں نے کہا ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرتیں دیکھنے اور اس کی نعمتیں استعمال کرنے کے باوجود جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ انہیں قوم عاد اور قوم ثمود کے انجام پر نظر رکھنا چاہیے۔ اے نبی ﷺ ! آپ کے مخاطبین ہر قسم کے دلائل سُننے اور حقائق جاننے کے باوجود اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک چھوڑ نے کے لیے تیار نہیں تو انہیں فرما دیں کہ میں نے تمہیں قوم عاد اور قوم ثمود کے دھماکوں سے ڈرا دیا ہے۔ ان کے پاس اور ان کے بعد رسول آئے اور انہوں نے زندگی بھر انہیں دعوت دی کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو معبود مانو اور نہ کسی اعتبار سے ان کی بندگی کرو۔ قوم عاد اور ثمود نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا اگر واقعی ” اللہ “ اپنا پیغام پہنچانا چاہتا تو تمہاری بجائے ہمارے پاس فرشتے بھیجتا۔ جس چیز کی تم دعوت دیتے ہو ہم اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حق کے منکرین کی شروع سے یہ عادت ہے کہ وہ رسولوں کو انسان تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ فرق صرف یہ ہے پہلے لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی نبوت کا اس لیے انکار کرتے تھے کہ بشر نبوت جیسے عظیم منصب پر فائز نہیں ہوسکتا اور آج کلمہ پڑھنے والے بعض مسلمان کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کو بشر کہنا آپ کی توہین ہے۔ فرق یہ ہے کہ اہل مکہ آپ کو بشر مانتے تھے لیکن رسالت کا انکار کرتے تھے۔ آج کچھ مسلمان آپ کی نبوت مانتے ہیں لیکن بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور پہاڑوں کا ذکر فما کر اپنی کبریائی کا اشارہ کیا اور بتلایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود بھی اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے۔ اور اہل مکہ بھی اپنے اپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ جس طرح قوم عاد اور ثمود کا برا انجام ہے اسی طرح مکہ والے بھی برے انجام کو پہنچے گے۔ مسائل 1۔ قوم عاد اور قوم ثمود کی تباہی سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ 2۔ کفار نے انبیاء (علیہ السلام) کی نبوت کا اس لیے انکار کیا کہ وہ انسان تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اس لیے مبعوث فرمائے تاکہ وہ لوگوں کو سمجھائیں کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ تفسیر بالقرآن نبوت کو تسلیم نہ کرنے کے بہانے : 1۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : 35) 2۔ عنقریب مشرکین کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ (الانعام : 148) 3۔ کفار نے کہا ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے کوئی چشمہ جاری نہ کر دے۔ (بنی اسرائیل : 90) 4۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ (ھود : 12) 5۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ : 55) 6۔ قرآن کے نزول کے وقت منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے تھے۔ (التوبۃ : 127) 7۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ؟ (التوبۃ : 124) 8۔ جب قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول سے مل کر جہاد کرو تو منافق بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبۃ : 86) 9۔ جب کوئی محکم سورة نازل ہوتی اور اس میں قتال کا تذکرہ ہوتا ہے تو منافق آپ کی طرف ایسے دیکھتے جیسے ان پر موت کی بیہوشی طاری ہوگئی ہو۔ ( سورة محمد : 20)
Ayahs 41:15–16

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

قوم عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی استحقاق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ طاقت ور ؟ انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں ان پر شدید آندھی بھیجی تاکہ انہیں دنیا کی زندگی میں ذلّت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھائیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے زیادہ رسوا کن ہے وہاں ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کا کفر اور اس کا انجام۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ ہیں۔ قوم عاد کے لوگ جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انہوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام، کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : 1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : 69) 2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 ) انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : 133) 3۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 134) 4۔ انھوں نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے۔ (الانعام : 101) 5۔ قوم ثمود آخرت کو جھٹلانے والے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : 33) 6۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : 37) 7۔ قوم عاد اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حآالسجدۃ : 15) قوم عاد کے کفر کو اللہ تعالیٰ نے تکبّر قرار دیا ہے۔ بیشک کفر کرنے والا بول چال اور معاملات میں کتنا ہی بااخلاق کیوں نہ ہو حقیقت میں وہ متکبر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کو ترجیح دینے کی بجائے اپنے مفاد اور نظریات کو مقدّم سمجھتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کافر اور مشرک کو متکبّر قرار دیا ہے۔ قوم ثمود نے اس لیے تکبّر کیا تھا وہ سمجھتے تھے کہ جسمانی قوت اور دنیوی ترقی کے اعتبار سے ہم سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ حالانکہ انہیں غور کرنا چاہیے تھا کہ جس ” اللہ “ نے انہیں پیدا کیا ہے وہ کتنا قوت والا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کیا۔ جس بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کچھ دن منحوس بنا دئیے ان میں زبردست آندھیاں چلائیں۔ مسلسل آندھی اور بادوباراں کے طوفان کے ذریعے دنیا میں ذلّت کی موت مری اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہوگا اور انہیں کسی طرف سے کوئی مدد نہیں مل سکے گی۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی دن اور چیز فی نفسہٖ منحوس پیدا نہیں کی۔ منحوس ایام سے مراد جن ایام میں قوم ثمود پر عذاب نازل کیا گیا۔ وہ دن قوم ثمود کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔ (وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا عَدْوٰی وَلَا طِےْرَۃَ وَ لَا ھَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ ) [ رواہ بخاری : بَابُ الْجُذْامِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں۔ بد شگونی کی بھی نہیں ہے۔ نہ الوبد روح ہے اور نہ صفر کا مہینہ نحوست والا ہے۔ اور کوڑھی شخص سے اس طرح بھاگوجس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ “ قوم عاد پر ” اللہ “ کے عذاب کی مختلف صورتیں : 1۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : 7) (الشعراء : 20) 2۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24) 3۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : 7) 4۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41، 42) 5۔ قوم عاد کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72) مسائل 1۔ قوم عاد اپنی طاقت کی وجہ سے متکبّر ہوگئی۔ حالانکہ جس ذات نے انہیں پیدا کیا وہ زیادہ طاقت ور ہے۔ 2۔ قوم عاد نے تکبّر کی بنیاد پر اپنے رب کی ذات اور اس کے ارشادات کا انکار کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر شدید آندھیاں چلائیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عادکو دنیا میں ذلیل کیا اور آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ 5۔ قوم عاد کی کوئی بھی مدد نہ کرسکا۔ 6۔ قیامت کے دن بھی قوم عاد کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ تفسیر بالقرآن قوم عاد کی تباہی کا ایک منظر : 1۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود : 59) 2۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6) 3۔ قوم عاد نے اپنے رسول کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139) 4۔ (الحاقۃ : 7) (الشعراء : 20) (الاعراف : 72) (الذاریات : 41، 42) (الحاقۃ : 7) (الاحقاف : 24)
Ayahs 41:17–18

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

رہے ثمود تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنا رہنا ہی پسند کیا، آخر ان کی کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور بدعملی سے پرہیز کرتے تھے

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا کردار اور انجام۔ اس قوم کو اصحاب الحجر بھی کہا گیا ہے۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ قوم ثمود کا کردار : 1۔ قوم ثمود اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61) 2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141) 3۔ وہ پہاڑوں اور نرم زمین پر بڑے بڑے محل تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74) 4۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : 152، 151) 5۔ قوم ثمود ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ ( حٰمٓ السجدۃ : 17) 6۔ انہوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : 66) قوم کے جواب اور الزامات : 1۔ اے صالح ہم تجھے بہت اچھا سمجھتے تھے مگر تو ہمارے آباؤ اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے۔ (ھود : 62) 2۔ کیا تو ہمیں ان کاموں سے روکتا ہے جو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں۔ (ھود : 62) 3۔ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (النمل : 74) 4۔ کیا ہم اپنے بزرگوں، آباؤ اجداد کے مذہب کو چھوڑ کر صرف تمہاری پیروی کریں۔ (القمر : 24) 5۔ صالح تو بہت جھوٹا اور متکبر ہے۔ (القمر : 25) 6۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 153) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : 1۔ انہوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل و عیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : 49) 2۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : 29) 3۔ اے صالح ! ہم تمہارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : 76) 4۔ اے صالح ! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : 77) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : 1۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84) 2۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45) 3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31) قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) نے زندگی بھر سمجھایا۔ مگر ان کی گمراہی ہدایت پر غالب آگئی۔ جس کے نتیجہ میں انہیں ایک دھماکہ کی صورت میں ذلّت آمیز عذاب نے آلیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب سے بچا لیا جو صالح کردار اور ایماندار تھے۔ تفسیر بالقرآن قوم ثمود کا انجام : 1۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157) 2۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعراء : 153۔ 185) 3۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77) 4۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : 14) 5۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5) 6۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : 38) 7۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78) 8۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
Ayahs 41:19–21

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

جس دن اللہ کے دشمن جہنم کی طرف لے جانے کے لیے گھیر لیے جائیں گے، انہیں ان سے پیچھے آنے والوں کے لیے روک لیا جائے گا

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

وہ اپنے وجود سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی وہ جواب دیں گی ہمیں اسی اللہ نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا۔ اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد اور ثمود دنیا میں ذلّت کی موت مرے اور آخرت میں انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا۔ اس سے پہلے قوم عاد اور ثمود کی تباہی کا ذکر ہوا جس میں یہ بتایا گیا کہ ہم نے صالح کردار ایمانداروں کو عذاب سے بچا لیا۔ تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ صاحب ایمان اور صالح کردار کو کس طرح بچایا گیا تاہم یہ بات حقیقت ہے کہ جس نبی کی موجودگی میں اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور اس کے ساتھیوں کو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ لوگ عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ اب مجرموں کے اخروی انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی ابتدا یوں ہوگی کہ جب محشر کے میدان میں تمام لوگ اکٹھے ہوں گے تو ایماندار اور صالح کردار حضرات کو ہلکے پھلکے حساب کے بعد جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔ ان کے مقابلے میں کفر و شرک کا عقیدہ رکھنے اور برے اعمال کرنے والوں سے کڑا حساب لیا جائے گا۔ ان میں ایسے مجرم بھی ہوں گے جو اپنے اعمال نامے کا انکار کردیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی شہادت کو یہ کہہ کر مسترد کردیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی نبی آیا ہی نہیں اور ہمیں کسی سمجھانے والے نے سمجھایا ہی نہیں تھا۔ ایسے مجرموں کے خلاف زمین گواہی دے گی اور ان کے اعضاء اور جسم شہادت دیں گے کہ ان کے مجرم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ حساب و کتاب کے وقت جنت اور جہنم کا قریب ہونا : (وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغَاوِینَ ۔ وَقِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ ) [ الشعراء : 90 تا 92] ” اس دن جنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی۔ اور دوزخ گمراہ لوگوں کے سامنے کھڑی کی جائے گی۔ اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے ؟ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن ” اللہ “ کے دشمنوں کو جہنّم کے قریب لاکھڑا کیا جائے۔ 2۔ مجرموں کے اعضاء اور ان کے وجود ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو بولنے کی صلاحیت عطا فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن شہادتیں : 1۔ قیامت کے دن ہر کسی اس کا اعمال نامہ دے کر کہا جائے گا اسے پڑھ۔ (بنی اسرائیل : 14) 2۔ اعمال نامہ پڑھ کر مجرم کہیں گے کہ اس کتاب نے تو کوئی بات نہیں چھوڑی۔ ( الکہف : 49) 3۔ قیامت کے دن مجرموں کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے۔ (ہود : 18) 4۔ قیامت کے دن مجرم کے ہاتھ، پاؤں اور زبان اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ (النور : 24) 5۔ قیامت کے دن مجرموں کے منہ پر مہر لگادی جائے گی پھر اس کے ہاتھ اور پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ (یٰس : 65) 6۔ نبی اکرم ﷺ اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (البقرۃ : 143) 7۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (النساء : 41)
Ayahs 41:22–24

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

جب تم دنیا میں جرائم کرتے وقت چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے وجود تم پر گواہی دیں گے۔ تم نے سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو خبر نہیں ہوگی

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

تم نے جو اپنے رب کے ساتھ گمان کیا تھا وہی تمہاری تباہی کا باعث ثابت ہوا اور اسی کی وجہ سے تم خسارہ پانے والوں میں شامل ہوئے

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

صبر کریں یا نہ کریں آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہوگی، اور اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہ ہوگی

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے اعضاء کی مزید گواہی۔ جب جہنمیوں کے اعضاء اور ان کے وجود گواہی دے رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ کیا تم اپنا گھناؤنا کردار اس لیے چھپایا کرتے تھے کہ شاید تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری چمڑیاں گواہی نہ دیں گی اور تم یہ بھی گمان رکھتے تھے کہ تمہارے بہت سے اعمال کا تمہارے رب کو علم نہیں ہوگا۔ اپنے رب کے بارے میں جو تم گمان رکھتے تھے۔ اسی نے تمہیں ہلاک کردیا اور تم نقصان پانے والوں میں شامل ہوگئے۔ اب صبر کرو یا واویلا کرو دونوں صورتوں میں تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ سوچ اور عقیدہ دیا ہے کہ اسے ہر کوئی کام کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہییں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تعالیٰ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن اعضاء کے ساتھ انسان حرکات و سکنات کرتا ہے یہ اعضاء اور انسان کا وجود اس کے حق یا اس کے خلاف گواہی دے گا۔ ” وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے اور جو رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو سرعام پھرنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے نگران لگے ہوئے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خود بدلے جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی ہٹانے والا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں۔ “ (الرعد : 9 تا 11) ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے کم اور نہ ہی زیادہ۔ مگر ” اللہ “ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں۔ قیامت کے دن وہ انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔ “ (المجادلۃ : 7) مسائل 1۔ انسان اپنے رب سے کوئی بات چھپا نہیں سکتا۔ 2۔ قیامت کے دن انسان کے اعضاء اس کے حق یا اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ 3۔ جہنمی آہ وزاریاں کریں گے لیکن ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں کفار اور مشرکین کی آہ زاریاں : 1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44) 2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12) 3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال لے ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (فاطر : 37) 4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال لے اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کردیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کردکھاتے تھے، ان پر بھی وہی فیصلہ نافذ ہوا جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر نافذ ہوچکا تھا، یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے

فہم القرآن ربط کلام : جب انسان فکری اور اعتقادی طور پر اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیتا ہے تو پھر وہ اپنے نظریات اور معاشرے کی رسومات کو اپنے لیے حرف آخر سمجھتا ہے اور یہ چیز اس پر اس طرح مسلط ہوجاتی ہے کہ وہ اس کے سوا کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتا ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ انسان میں لاپرواہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی برا کام اس کے لیے فیشن بن جاتا ہے۔ جو لوگ قیامت کے حساب اور اپنے رب کو بھول جاتے ہیں۔ ان پر شیطان مسلّط کردیا جاتا ہے۔ جس پر شیطان مسلّط کردیاجائے۔ تو اس کی سوچ، کردار اور ماحول برا بن جاتا ہے۔ اگر حکمران ہے تو اس کے وزیر، مشیر، اس کے برے کاموں کی تعریف کرتے ہیں اور اسے باور کرواتے ہیں کہ آپ اور ملک لازم ملزوم ہیں۔ آپ کے جانے کے بعد ملک کا برا حال ہوجائے گا۔ اگر وہ کسی جماعت، قبیلے کا سربراہ ہے تو اس کے حواری کہتے ہیں کہ آپ تو جماعت اور قبیلے کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک وہ شخص لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہیں ہوجاتا۔ جوں ہی وہ ذلّت کے گھاٹ اترتا ہے جو اس کی تعریف کرنے والے اس کی جگہ لینے والے کی تعریفیں کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کو غلط کاموں اور خوشامد میں لذّت محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جنوں اور انسانوں کے پہلے گروہ گمراہ ہوئے اور انہیں کے گناہوں کے اثرات کے وجہ ان کی آنے والی نسلیں گمراہی کا شکار ہوئیں۔ قیامت کے دن یہ لوگ یقیناً نقصان پانے والے ہیں۔ یہ بات فہم القرآن کے کئی مقامات پر عرض کی ہے کہ جب گمراہی کی نسبت ” اللہ “ کی طرف ہوتی ہے تو اس کا معنٰی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کے حوالے کردیتا ہے جو گمراہی اور تباہی کا آخری درجہ ہے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اپنے رب سے سچی توبہ اور برے ماحول سے نکل جائے۔ (عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِِ وَالسُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّآ أَنْ یُّحْذِیَکَ وَإِمَّآ أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّآ أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًاطَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّآ أَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًاخَبِیْثَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ] ” حضرت ابوموسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تجھے تحفہ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا تم اس سے اچھی خوشبو پاؤ گے اور بھٹی پھونکنے والا یا تمہارے کپڑوں جلا دے گا یا تو اس سے بری بو محسوس کرے گا۔ “ (وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ) [ الزخرف : 36] ” جو شخص رحمن کے ذکر سے منہ موڑتا ہے ہم شیطان کو اس کا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ برے لوگوں کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دئیے جاتے ہیں۔ 2۔ برے لوگوں پر اللہ کا عذاب برحق ثابت ہوتا ہے۔ 3۔ برے جنّات اور انسان ناقابل تلافی نقصان پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت میں نقصان پانے والے لوگ : 1۔ اللہ کفار کے اعمال دنیا میں تباہ کرے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (التوبۃ : 69) 2۔ اسلام کا انکار کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (البقرۃ : 121) 3۔ اسلام کے بغیر دین تلاش کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (آل عمران : 85) 4۔ شیطان کی تابعداری کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (المجادلۃ : 19) 5۔ مشرک نقصان پائیں گے۔ (الزمر : 65) 6۔ کافر نقصان پائیں گے۔ (النحل : 109) 7۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والے ہوں گے۔ (الاعراف : 23) 8۔ جس نے اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنالیا اس نے بہت نقصان پایا۔ (النساء : 119) 9۔ ان لوگوں نے نقصان پایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی۔ (الانعام : 31)
Ayahs 41:26–28

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

منکرین حق کہتے ہیں کہ اس قرآن کو بالکل نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو شوروغل کرو، شاید کہ اسی طرح تم غالب آجاؤ

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے اور ہم ان کے برے اعمال کی پوری پوری سزا دیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آگ ہے جو ہمیشہ کے لیے ان کا ٹھکانہ ہوگی، یہ سزا اس جرم کی ہے جو ہماری آیات کا وہ انکار کرتے رہے

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح پہلے لوگ گمراہ ہوئے اسی طرح ہی اہل مکہ نے گمراہی اختیار کی۔ ابھی بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے لیے گمراہی کا راستہ پسند کرتے ہیں ان کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیئے جاتے ہیں۔ جس کے لیے شیطان برے اعمال خوبصورت بنا دے پھر اسے سمجھ نہیں رہتی کہ میں کس قدر گمراہی میں آگے نکل چکا ہوں۔ یہی صورت حال اہل مکہ کی تھی۔ اللہ کے نبی ﷺ انہیں قرآن مجید اس لیے سناتے تھے تاکہ یہ لوگ گمراہی کے راستے کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر آجائیں۔ آپ کی تلاوت سن کر لوگ بالخصوص نوجوان طبقہ آپ کی طرف متوجہ ہورہا تھا۔ یہاں تک کہ نبوت کے ابتدائی تین سالوں میں ابوجہل کے بھتیجے بھی مسلمان ہوچکے تھے۔” قرآن “ کے انقلاب کو روکنے کے لیے کفار نے یہ حربہ بھی استعمال کیا کہ اس کے مقابلے میں شورو غوغا کرو تاکہ تمہاری آواز قرآن کی دعوت پر غالب رہے۔ اندازہ لگائیں کہ اہل مکہ کس قدر گمراہ ہوچکے تھے کہ وہ قرآن مجید کے بارے میں ایک دوسرے کو کہتے کہ جب محمد ﷺ تمہارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کریں اسے تو خاموشی سے سننے کی بجائے جواب میں شورو غوغا کیا کرو تاکہ تمہاری آواز قرآن مجید کی تلاوت اور دعوت پر غالب رہے۔ اس کے جواب میں قرآن مجیدنے انہیں ایک بار پھر سمجھایا۔ ” کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ “ (الاعراف : 204) لیکن اس کے باوجود کفار شوروغوغا کرنے سے باز نہ آئے۔ جس پر رب ذوالجلال نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اپنے کفر پر ڈٹے رہے تو ہم ان کو ان کے برے اعمال کے بدلے شدید ترین عذاب میں مبتلا کریں گے۔ یہ اللہ کے دشمن ہیں اس لیے انہیں جہنّم کی آگ میں جھونکا جائے گا جس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ سورة مبارکہ مکہ میں نازل ہوئی اور ان آیات کا سیاق وسباق بتلارہا ہے کہ اہل مکہ قرآن مجید کے جواب اور اس کی تاثیر کے مقابلے میں بےبس ہوچکے تھے جس بنا پر وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ اس کے لیے انہیں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ کے غضب کو چیلنج کرنے کی بجائے اس کا رحم مانگو ! جو قرآن مجید سننے اور اس پر عمل کرنے سے نصیب ہوگا۔ قرآن مجید کی تلاوت کے اثرات اور برکات : ” حضرت ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے سنا کہ ایک آدمی اپنے گھر میں سورة الکہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ اس کے گھوڑے نے بدکنا شروع کردیا تو اس نے سلام پھیر کر آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو اسے بادلوں کا ایک ٹکڑا نظر آیا جو اسے ڈھانپے ہوئے تھا۔ اس نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ کے سامنے کیا آپ نے فرمایا کہ آپ کو تلاوت کرتے رہنا چاہیے تھا یہ تو سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہوئی تھی۔ “ [ رواہ البخاری : باب علاَمَات النُّبُوَّۃِ فِی الإِسْلاَمِ ] مسائل 1۔ کفار ایک دوسرے کو قرآن سننے سے منع کرتے تھے۔ 3۔ قرآن مجید کا مقابلہ کرنے والوں کو سخت ترین عذاب ہوگا۔ 2۔ کفار نے قرآن مجید پر غالب آنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ 4۔ قرآن مجید کی مخالفت کرنے والے ” اللہ “ کے دشمن ہیں جنہیں جہنّم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے بارے میں منافقین اور کفار کا رویہ : 1۔ جب قرآن سنایا جاتا تو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے تھے۔ (التوبۃ : 127) 2۔ منافقین قرآن مجید کے نزول کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے ؟ (التوبۃ : 124) 3۔ جب قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے تو یہ بہانے تراشنے لگتے ہیں۔ (التوبۃ : 86) 4۔ جب قرآن میں قتال کا تذکرہ ہوتا ہے تو منافق آپ کی طرف ایسے دیکھتے جیسے ان پر موت کی بیہوشی طاری ہوگئی ہو۔ ( سورة محمد : 20) 5۔ کفار کہتے کہ اس قرآن کو بدل دو ۔ ( یونس : 15)
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

جہنم میں کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ان جِنّوں اور انسانوں کو دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل ہوں

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں داخل ہونے کے بعد اپنے لیڈروں، علماء اور مرشدوں کے خلاف رد عمل۔ رب ذوالجلال سے جہنّمی مطالبہ کریں گے کہ ہمارے رب ! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لیڈر اور مرشد دکھلا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ان کی وجہ سے ہم جہنّم میں داخل ہوئے۔ اگر وہ ہمارے ہاتھ چڑھ جائیں تو ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روند کر سب کے سامنے ذلیل کریں گے اور کہیں گے کہ اے ذلیلو ! اگر تم ہمیں گمراہ نہ کرتے تو آج ہم جہنم کی بجائے جنت میں موجیں مار رہے ہوتے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں لیڈر اور ان کے ور کر، پیر اور ان کے مرید، علماء اور ان کے مقتدی آپس میں جھگڑا کریں گے : 1۔ پوجنے والے اور جن کو وہ پوجتے تھے انہیں اکٹھا کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا۔ (الصّٰفّٰت : 22 تا 31) 2۔ تم پر اللہ کی مار تمہاری وجہ سے اس مصیبت کا ہمیں سامنا کرنا پڑا ہے۔ (ص : 60) 3۔ جہنمی جہنم میں ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔ (یونس : 45) 4۔ جہنمی اپنے سے پہلوں کے بارے میں کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ (الاعراف : 38) 5۔ جب وہ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ یقیناً ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاسکتے ہو۔ (المومن : 47) 6۔ بڑے اور تکبر کرنے والے کمزوروں سے کہیں گے کہ تم تو خودہی مجرم تھے۔ ( سبا : 32)
Ayahs 41:30–32

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر ثابت قدم رہے یقیناً ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، اور نہ غم کرو، بلکہ اس جنت کے بارے میں خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو چاہو گے تمہیں ملے گا اور جس چیز کی تمنا کرو گے اسے پاؤ گے

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ ہے مہمان نوازی اس ” رب “ کی طرف سے جو غفور ورحیم ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مقابلے میں موحّدوں کے ساتھ ملائکہ کا سلوک اور ان کا اکرام۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمار رب ” اللہ “ ہے پھر اس پر مرتے دم تک قائم رہے۔ ان کی موت کے وقت ان کے لیے ملائکہ آتے ہیں جو انہیں تسلی دیتے ہیں کہ غمگین اور پریشان نہیں ہونا۔ بلکہ اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھ تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔ تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے وہ سب کچھ ہے جو تمہارا دل چاہے گا اور تمہارے رب کے ہاں تمہاری مہمان نوازی ہوگی۔ ” رَبُّنَا اللّٰہُ “ سے مراد یہ نہیں کہ بس انہوں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ہمارا رب ” اللہ “ ہے اور پھر اپنی مرضی کرتے رہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ انہوں نے دل کی سچائی اور کردار کی گواہی سے مرتے دم تک ثابت کر دکھایا کہ واقعی ہمارا خالق، مالک، رازق اور حقیقی حکمران صرف ایک ” اللہ “ ہے، ہم اسی کے بندے اور غلام ہیں۔ ہمارا مال، جان، عزت و اقبال اسی کا دیا ہوا ہے اور اسی کے نام اور کام پر قربان ہوگا۔ جسے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔” فرما دیجیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت ” اللہ “ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی بات حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے حکم ماننے والوں میں ہوجاؤں۔ فرما دیجیے کہ کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے۔ “ (الانعام : 162 تا 124) ( الم اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ) [ العنکبوت : 1 تا 3] ” الف۔ لام۔ میم۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے ہیں اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا۔ حالانکہ ہم ان سے پہلے لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں۔ اللہ ضرور دیکھے گا کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں۔ “ (عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الثَّقَفِی ِّ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ قُلْ لِی فِی الإِسْلاَمِ قَوْلاً لاَ أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا بَعْدَکَ وَفِی حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ غَیْرَکَ قَالَ قُلْ آمَنْتُ باللَّہِ فَاسْتَقِمْ )[ رواہ الترمذی : کتاب الایمان، باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ] ” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں جو مجھے آپ ﷺ کے بعد ابو اسامہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ آپ نے فرمایا تو کہہ ! میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیار کر ! “ (عَنْ وَّھْبِ ابْنِ مُنَبِِِِّۃٍ قِےْلَ لَہٗ اَلَےْسَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لَّےْسَ مِفْتَاحٌ اِلَّا وَلَہٗٓ اَسْنَانٌ فَاِنْ جِءْتَ بِمِفْتَاحٍ لَّہٗٓ اَسْنَانٌ فُتِحَ لَکَ )[ رواہ البخاری فی ترجمۃ الباب ] ” حضرت وہب بن منبہ ؓ سے کسی نے یہ سوال کیا کیا لا الہ الا اللہ جنت کی چابی نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں ؟ لیکن ہر چابی کے دندانے (پیچ) ہوا کرتے ہیں اگر تو پیچ دار چابی سے تالا کھولے گا تو کھل سکتا ہے (بصورت دیگر تیرے لیے دروازہ نہیں کھل سکتا۔ ) “ استقامت کی دعا : (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُوْلَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اٰمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِءْتَ بِہٖ فَھَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوْبَ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ یُقَلِّبُھَا کَیْفَ یَشَآءُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب القدر، باب ماجاء أن القلوب ...] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ اکثر دعا کرتے۔ اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھنا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے۔ کیا آپ ہمارے بارے میں بھی خطرہ محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جیسے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ یَا وَلِیَ الإِْسْلَامِ وَأَہْلِہٖ ثَبِّتْنِیْ حَتّٰی أَلْقَاکَ ) [ رواہ الطبرانی : فی الأوسط وہوحدیث صحیح ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے کہ اے سلامتی کے مالک اور اس کے اہل ! مجھے اسلام پر ثابت قدم رکھ۔ یہاں تک کہ تجھ سے آملوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد عقیدہ توحید پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔ 2۔ جو لوگ عقیدۃ توحید پر جم جاتے ہیں ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ 3۔ صراط مستقیم پر گامزن رہنے والوں کو فرشتے تسلی اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن دین پر استقامت اختیار کرنے والوں کی جزا : 1۔ ایمان لانے کے بعد استقامت دکھلانے والوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : 13) 2۔ مومنوں کی استقامت دیکھ کر شیطان خود ڈر جاتا ہے۔ (الانفال : 48) 3۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں غم وحزن میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے لیے جنت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : 30)