Ayahs 40:2–3فہم القرآن
سورۃ الزمر کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کو جہنم میں داخل کرے گا اور ایماندار لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ جنتی اپنے اعمال کے بدلے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش کے نتیجے میں جنت میں جائیں گے اور جہنمی برے اعمال کے نتیجے میں جہنّم میں داخل کیے جائیں گے۔ سورة المومن کی ابتدا میں کھلے الفاظ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہی ظالموں کو سخت عذاب دینے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
قرآن مجید کی ترتیب کے مطابق اب تک یہ پہلی سورة ہے جو حٰمٓ سے شروع ہورہی ہے۔ یہ لفظ بھی حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس کا معنٰی حدیث رسول ﷺ سے ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نازل کیا ہے جو انتہا درجہ کی صفات حسنہ سے متصف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی صفات میں درج ذیل کا تذکرہ کیا ہے۔
1 اللہ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ کوئی اس کے ارادے کو بدل اور اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا وہ حکیم ہے۔
2 وہ علیم ہے سب کچھ جاننے والا ہے یہاں تک کہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ کوئی اپنی بات چھپائے یا اسے ظاہر کرے اللہ تعالیٰ کے لیے ظاہر اور باطن دونوں برابر ہیں۔
3 اللہ تعالیٰ بڑے سے بڑے مجرموں پر غلبہ پانے والا ہے۔
4 سب کچھ جاننے کے باوجود گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔
5 لوگوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
6 شدید سزا دینے والا ہے وہ کسی کو سزا دینے کا فیصلہ کرے تو کوئی طاقت نہیں جو مجرم کو سز ا سے بچا سکے کیونکہ اس کی گرفت بہت شدید ہے۔
7 بڑا انعام کرنے والا ہے وہ کسی پر انعام کرنا چاہے تو کوئی اس کے فضل و کرم کو روک نہیں سکتا۔
8 اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ الٰہ کا پہلا معنٰی یہ ہے کہ جس کی عبادت کی جائے۔ عبادت میں حکم، تابعداری اور تمام عبادات شامل ہیں۔
9 مرنے کے بعد کسی نے ادھر اُ دھر نہیں جانا سب نے اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں سب پر غالب ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کرنے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔
7۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ 8۔ مرنے کے بعد سب نے ” اللہ “ کے حضور حاضر ہونا ہے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ ہی الٰہ ہے :
1۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ (البقرۃ : 163) 5۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : 34)
2۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : 22) 3۔ الٰہ تمہارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ : 98)
4۔ آپ ﷺ فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء : 108)
6۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : 46)
7۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جسے میں تلاش کروں۔ (الاعراف : 140)
8۔ اللہ ہی الٰہ ہے وہی اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ ( الانعام : 102)
9۔ کوئی اور الٰہ نہ بناؤ الٰہ تو ایک ہی ہے (النحل : 51) 11۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73)
10۔ اعلان کردیں اللہ ہی ایک الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
Ayahs 40:4–6فہم القرآن
ربط کلام : عظیم ترین صفات رکھنے والے ایک الٰہ کو اس کی پوری مخلوق مانتی ہے لیکن صرف کافر نہیں مانتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء میں اپنی سات صفات کا حوالہ دے کر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ قرآن مجید کو اسی ذات نے نازل فرمایا ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لیکن قرآن مجید اور ” اللہ “ کو ایک الٰہ نہ ماننے والے اس کی آیات یعنی دلائل کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ اے رسول ﷺ ! کفار کا شہروں میں چلنا پھرنا اور ان کی ترقی سے آپ کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور ان کے بعد کئی گروہوں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے۔ جس طرح یہ لوگ آپ کے خلاف منصوبہ بندی کررہے ہیں اسی طرح ہر دور کے لوگوں نے اپنے رسول کے خلاف منصوبہ بنایا کہ اسے گرفتار کرلیا جائے یا شہید کر دیاجائے۔ وہ حق کے بارے میں جھگڑتے رہے تاکہ حق کو دبا دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑلیا دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کس قدر سخت گرفت کی۔ جس طرح انہیں پکڑ لیا گیا تھا اسی طرح ہی آپ کے دور کے کفار کو پکڑ لیا جائے اور آخرت میں یقیناً یہ لوگ جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کفار اور مشرکین کے جھگڑنے کی جو صورتیں ہوسکتی ہیں ان میں چند ایک درج ذیل ہیں۔
1 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا کوئی شریک نہیں۔ مشرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ثابت کرتے ہیں۔
2 اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنی خدائی میں کسی کو کوئی اختیار نہیں دیا۔ مشرک بحث کرتا ہے کہ ” اللہ “ نے فوت شدگان کو کچھ نہ کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔
3 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میری کوئی اولاد نہیں۔ کافر لوگ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں، یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔
4 اللہ کا فرمان ہے کہ میرا کوئی جز نہیں۔ مشرک نبی ﷺ کو نور من نور اللہ کہتے ہیں۔
5 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام کے تمام انبیاء (علیہ السلام) میرے بندے اور انسان تھے۔ کافر کہتے ہیں کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا ہے بعض کلمہ گو کہتے ہیں کہ رسول بشر نہیں ہوتا۔
6 اللہ فرماتا ہے کہ میں نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ کافر کہتے ہیں قرآن نبی ﷺ نے خود بنا لیا ہے۔
7 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں۔ مشرک کہتا ہے اولیاء بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں۔
اے پیغمبر ﷺ آپ کفار اور مشرکین کے تہذیب و تمدن اور شان و شوکت سے دھوکہ نہ کھائیں۔ کیونکہ یہ زندگی عارضی اور قلیل ہے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں لوگ نسل در نسل خوشحالی، اقتدار اور اختیار کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ تو شاید اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے ایسا ہرگز نہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ وہ انہیں مہلت پہ مہلت دئیے جاتا ہے۔ تاکہ انہیں گناہ کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے اس کا ارشاد ہے :
” کافر ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں یہ مہلت تو ہم نے اس لیے دی ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ “ (آل عمران : 178)
” ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو پھر وہ اچانک ناامیدہوگے۔ جنہوں نے ظلم کیا تھا ان لوگوں کی جڑکاٹ دی گئی اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ “ (الانعام : 44، 45)
قوم نوح اور اس کے بعد جس قوم نے بھی اپنے رسول کو گوفتار کرنے یا قتل کرنے کی سازش اور حق کو دبانے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے انہیں عبرت ناک عذاب سے دوچار کیا۔ دیکھنا چاہو تو ان قوموں کے کھنڈرات دیکھو۔ وہ زبان حال سے بتائیں گے کہ تیرے رب کا عذاب کس قدر شدید تھا۔ قیامت کے دن یہ لوگ جہنم میں پھینکیں جائیں گے۔
مسائل
1۔ مشرک اور کافر اللہ کی آیات کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں۔
2۔ بےدین لوگوں کی ترقی پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔
3۔ پہلی اقوام نے بھی اپنے رسولوں کو قابو کرنے اور حق کو دبانے کی کوشش کی تھی۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں کو دنیا میں سزادی اور آخرت میں یہ لوگ جہنم میں جھونکیں جائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
پہلی اقوام کے عذاب کا ایک منظر :
1۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : 45)
2۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
3۔ قوم عاد کو تندو تیز ہوا نے ہلاک کیا۔ (الحاقۃ : 6)
4۔ قوم لوط کی بستی کو الٹاکر دیا اور ان پرکھنگر والے پتھر برسائے گئے۔ (الحجر : 74)
5۔ آل فرعون کو غرق کردیا گیا۔ (البقرۃ : 50)
6۔ بنی اسرائیل کو اللہ نے ذلیل بندر بنا دیا۔ (البقرۃ : 65)
7۔ ان کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا کسی پر تند ہوا بھیجی، کسی کو ہولناک آواز نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو غرق کردیا۔ (العنکبوت : 40)
Ayahs 40:7–9فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے حکم سے ملائکہ کفار اور مشرکین کو سزا دیتے ہیں اور مومنوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
پہلی اقوام کا اپنے رسولوں کے ساتھ سلوک اور حق کے معاملہ میں ان کا رویہ بتلا کر رسول محترم ﷺ کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ اے رسول ﷺ ! مومنوں کو بتلائیں کہ انہیں دل چھوٹا کرنے اور ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ بیشک کفار اور مشرکین ان کی جان کے درپے اور حق کو دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن انہیں خوش ہونا چاہیے کہ ان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ملائکہ صبح و شام دعائیں کرتے ہیں جو اپنے رب کا عرش تھامے ہوئے اور اپنے رب کی حمد میں رطب اللسان رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے ہر چیز کو اپنی رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے تو ان لوگوں کو معاف کردے جو تیرے حضور توبہ کرتے اور تیرے راستے کی پیروی کرتے ہیں انہیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا۔ اے ہمارے رب ! انہیں اپنے وعدے کے مطابق ہمیشہ کی جنت میں داخل فرما اور ان کے ساتھ ان کے نیک ماں باپ، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد کو جنت میں داخل فرما۔ کیونکہ تو ہی غالب حکمت والا ہے اور تو ہی ان کے گناہوں کو معاف کرنے والا اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمانے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسے تو نے قیامت کے عذاب سے بچا لیا اس پر تیرا بڑا کرم ہوا اور یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ملائکہ کی دعاؤں اور مومنوں کی نیکیوں کے بدلے اللہ تعالیٰ جنتیوں پر کرم فرماتے ہوئے ان کے قریبی رشتہ داروں کو اکٹھا فرمائے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ جنت کے نچلے درجے میں رہنے والوں کو جنت کے اعلیٰ مقام میں رہنے والوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی کرم کے ساتھ جنت میں بھی لوگوں کو ترقیوں سے ہمکنار فرمائیں گے۔ یہاں ملائکہ کی دعا میں ” السَّیِّئاٰتِ “ کا لفظ آیا ہے اس کے مفسرین نے تین معنٰی کیے ہیں۔ 1 گناہ 2 ہر قسم کا نقصان 3 عذاب۔
مسائل
1۔ عرش معلی کے فرشتے اپنے رب کی حمد بیان کرنے کے ساتھ مومنوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔
2۔ عرش معلی کے ملائکہ مومنوں کے لیے جہنم کے عذاب سے نجات اور جنت میں داخلے کی دعائیں کرتے ہیں۔
3۔ جہنم سے نجات پا کر جنت میں داخل ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayahs 40:10–12فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے بعد جہنمیوں کا ذکر۔
جہنمی جہنم میں نہ صرف اپنے علماء، پیروں اور لیڈروں پر غصہ نکالیں گے بلکہ وہ اپنے آپ پر بھی غضبناک ہوں گے۔ یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ! ہم رسول کا راستہ چھوڑ کر فلاں فلاں کو اپنا خیر خواہ نہ بناتے۔ (الفرقان : 27۔ 28)
جب وہ اپنے ہاتھ کاٹ رہے ہوں گے تو رب ذوالجلال انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے کہ جس طرح آج تمہیں اپنی حالت زار پر غصہ آرہا ہے۔ جب دنیا میں تم مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے اور میرے شریک بناتے تھے تو مجھے اس سے کہیں زیادہ غصہ آتا تھا۔ لیکن میں نے تمہیں مہلت دئیے رکھی تاآنکہ تم جہنم میں داخل کردئیے گئے۔ اس وقت جہنمی فریاد پر فریاد کریں گے کہ اے ہمیں پیدا کرنے اور پالنے والے رب ! تو نے ہمیں دو مرتبہ پیدا کیا اور دو مرتبہ زندہ فرمایا اب ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔ کیا ہماری نجات کا کوئی راستہ ہے۔ تمام اہل علم نے لکھا ہے کہ دو مرتبہ موت سے مراد ایک انسان کی وہ حالت ہے جب اس کا وجود عدم میں ہوتا ہے۔
دوسری مرتبہ جب زندگی گزار کر مرتا ہے۔ اسی طرح پہلے ماں کے پیٹ سے جنم لینا اور دوسری مرتبہ موت کے بعد زندہ ہونا ہے جسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔” تم کیوں اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “ (البقرہ : 28)
قرآن مجید کے دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے کہ کاش آپ دیکھیں کہ جب جہنمی جہنم میں سر جھکائے فریادیں کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے سب کچھ دیکھ اور سن لیا۔ ہماری التجاء ہے کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں لٹادیجیے ہم نیک عمل کریں گے اور آپ کے ارشادات پر یقین کریں گے۔ (السجدۃ : 12)
اس کے جواب میں انہیں فرمایا جائے گا۔ تمہارا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔ جب اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے۔ یعنی آج تم مجھے ” اللہ “ مانتے ہو لیکن دنیا میں تم میرے ساتھ تو کفر و شرک کیا کرتے تھے سورة الزمر آیت 45 میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک اللہ کا ذکر ہوتا تھا تو تمہارے چہرے بگڑ جاتے تھے اور دوسروں کا ذکر ہوتا تو تمہارے چہرے کھل جاتے تھے۔ لہٰذا کفر و شرک کی وجہ سے تمہیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کہا جائے گا کہ فیصلے کا اختیار ” اللہ “ اعلیٰ اور اکبر کو ہے۔ یہ فرما کر انہیں مزید احساس دلایا جائے گا کہ تم دنیا میں اس لیے دوسروں کو اللہ کا شریک بناتے تھے کہ یہ بزرگ اور بت تمہیں اللہ تعالیٰ سے چھڑالیں گے یہ تمہاری خام خیالی تھی۔ اب دیکھ لو کہ بلندو بالاہستی کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا لہٰذا اس کا فیصلہ اٹل ہے جو اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے اعلیٰ ہے اور اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر دیکھ لو کہ اس کی بڑائی اور کبریائی کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی لِأَھْوَنِ أَھْلِ النَّارِ عذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْ أَنَّ لَکَ مَافِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِيْ بِہٖ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ أَرَدْتُّ مِنْکَ أَھْوَنَ مِنْ ھٰذَا وَأَنْتَ فِيْ صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَّاتُشْرِکَ بِيْ شَیْءًا فَأَبَیْتَ إِلَّآأَنْ تُشْرِکَ بِيْ ) [ رواہ البخاری : باب صفۃ الجنۃ والنار ]
” نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ایک جہنمی کو قیامت کے دن کہا جائے گا تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیرے پاس زمین میں جو کچھ ہے وہ تو جہنم کے عذاب کے بدلے فدیہ دے ؟ وہ کہے گا ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ سے اس سے ہلکی اور کم چیز کا مطالبہ کیا تھا۔ میں نے تجھ سے تیرے باپ آدم کی پشت میں عہد لیا تھا کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا لیکن تو نے انکار کیا اور میرا شریک ٹھہرایا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے واویلا پر غضب کا اظہار کریں گے۔
2۔ جہنمی اپنے کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں جھونکے جائیں گے۔
3۔ جہنمی جہنم میں اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے مگر انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا
تفسیر بالقرآن
مشرکین کا ” اللہ “ کی توحید کے ساتھ وطیرہ :
1۔ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباء کرتے رہے ہیں۔ (ھود : 61)
2۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں ہمارے آباء و اجداد کافی ہیں۔ (المائدۃ : 104)
3۔ جب ان کے پاس اللہ وحدہٗ لاشریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جل جاتے ہیں۔ (الزمر : 45)
4۔ جب مشرکین کو توحید کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ تکبر کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں۔ (الصّٰفّٰت : 35)
5۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ (النساء : 61)
6۔ جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ کی نازل کردہ کتاب کی پیروی کرو تو جواب میں اپنے آباء و اجداد کی پیروی کا حوالہ دیتے ہیں۔ (البقرۃ : 170)
7۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کا حکم دیا جاتا ہے تو اپنے آباء اجداد کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ( لقمان : 21)
8۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : 10)
9۔ انبیاء نے کفار کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے کہا ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : 13)
Ayahs 40:13–17فہم القرآن
ربط کلام : جس ایک ” اللہ “ کے ساتھ مشرک شرک کرتے ہیں صرف وہی تو ہے جو سب کو رزق دیتا ہے۔ مگر مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مشرک کی عادت اور بد قسمتی پر غور فرمائیں کہ جو ” اللہ “ اسے اور سب کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اسے حقیقی داتا ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ شرک کی نحوست اور جہالت کی وجہ سے مشرک اس قدر اپنے رب سے ذہنی اور عملی طور پر دور ہوچکا ہوتا ہے کہ جوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور توحیدِخالص کا ذکر ہو۔ مشرک کو ایسی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے۔ جس وجہ سے مشرک نصیحت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقی نصیحت کی ابتدا اور انتہا صرف توحید کو سمجھنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اس سے بڑی کوئی حقیقی نصیحت نہیں جو آخرت میں انسان کے کام آسکے۔
” اللہ تعالیٰ نے کئی بار بارش کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اللہ “ ہی تمہارے لیے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے۔ اس سے مراد اکثر مفسرین نے بارش لی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بارش رزق کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ “ (الانبیاء : 30)
بارش تو ایک ذریعہ ہے کیونکہ رزق کے بارے میں ارشاد ہے۔ اے لوگو ! جس رزق کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ (الذٰریات : 22)
اگر صرف بارش کے حوالے سے بات کی جائے تو غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش کا کس طرح انتظام کرتا ہے۔ اس اللہ کی قدرت سے سمندر کا پانی بخارات کے ذریعے اوپر جاتا ہے اور اس کے حکم سے ہوا بخارات اٹھائے پھرتی ہے۔ پھر بخارات بادل بنتے ہیں اور بادلوں کو برسنے کا حکم ہوتا ہے۔ (الاعراف : 57) اس پورے نظام میں دنیا کے حکمران، کسی ستارے، دیوتا اور فوت شدگان کا کوئی عمل دخل نہ ہے اور نہ ہوگا۔ اس لحاظ سے بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو ہر دور کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ دکھلاتا آرہا ہے اور دکھلاتا رہے گا۔ مگر اس کے باوجود کافر اور مشرک نہ اس کو ایک الٰہ مانتے ہیں اور نہ اسی ایک کی عبادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے مومنوں کو حکم ہے کہ کفار کو یہ دعوت اور یہ طریقہ عبادت کتنا ہی برا لگے۔ تمہارا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ وہی بلندو بالا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل کرتا ہے۔ جس پر وحی کی جائے وہ لوگوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرائے۔ جس دن لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور ان کی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی۔ رب ذوالجلال فرمائے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ بالآخر خود جواب دے گا کہ آج اکیلے اللہ قہار کی بادشاہی ہے۔ پھر اعلان ہوگا کہ بیشک آج ایک اللہ قہار کی بادشاہی ہے لیکن اس کے باوجود کسی پر رتی برابر بھی زیادتی نہ ہونے پائے گی۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ اے لوگو ! ہوش کرو ! تمہارا رب بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ آیت 15 میں درج ذیل چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
1 رَفِیْعُ الدََّرَجَاتِ : اس کے مفسرین نے دو معنٰی کیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات، رفعت مکانی اور علوِّمرتبت کے لحاظ سے لاثانی، بےمثال اور اعلیٰ ہے اور وہی اپنے فضل سے مومنوں کے درجات بلندفرمانے والا ہے۔
2 ذُوالْعَرْشِ بڑے عرش والا جس کے بارے میں عرش عظیم اور عرش کریم کے الفاظ بھی استعمال فرمائے ہیں۔
3 یُلْقِی الرُّوْحَ : الرّوح کے کئی معانی ہیں جن میں ایک معنٰی وحی ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنی وحی کے لیے منتخب کرتا ہے۔ جن بندوں کو اس نے اپنی وحی کے لیے منتخب کیا۔ ان میں آخری اللہ کے بندے حضرت محمد ﷺ ہیں جو اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی رسول اور نبی نہیں آئے گا۔ رسولوں کا کام لوگوں تک حق بات پہچانا تھا منوانا نہیں تھا۔
4 یَوْمَ التَّلَاقِ : مختلف مراحل کے حوالے سے قیامت کے کئی نام ہیں ان میں ایک نام ” یَوْمَ التَّلَاقِ “ ہے جس کا معنٰی ملاقات کا دن ہے۔ اس میں ہر شخص بلاواسطہ اپنے رب کے حضور پیش ہوگا اور اسے اپنے اچھے اعمال کی جزا ملے اور برے اعمال کی سزا ہوگی۔
(عَنْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَطْوِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ثُمَّ یَطْوِی الأَرَضِینَ بِشِمَالِہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ )[ رواہ مسلم : باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ آسمان کو قیامت کے دن لپیٹ لے گا پھر اس کو دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر لوگ ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ پھر زمین کو بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر اعلان ہوگا میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ ؟ اور کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ تُحْشَرُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُہِمَّہُمْ ذَاکَ )[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کیف الحشر ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیے جاؤ گے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس دن معاملہ اس قدر شدید ہوگا کہ انھیں اس کا خیال تک بھی نہیں آئے گا۔ “
بارش کی دعا :
(اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ )[ رواہ ابو داؤد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ]
” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلندوبالا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عرش عظیم کا مالک ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی نازل کرتا ہے۔ وحی کا ایک مقصد آخرت کے عذاب سے لوگوں کو ڈرانا ہے۔ 4۔ رب ذوالجلال سے لوگوں کی کوئی بات پوشیدہ ہے اور نہ رہے گی۔
5۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟
6۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔
7۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر رائی کے دانے برابر زیادتی نہ ہوگی۔ 8۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
بارش کس طرح نازل ہوتی ہے :
1۔ ہوائیں بخارات اٹھاتی اور بادلوں کو چلاتی ہیں۔ (الاعراف : 57)
2۔ آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164)
3۔ تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرما دے گا۔ (ہود : 52)
4۔ اللہ سے بخشش طلب کرو وہ معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : 10۔ 12)
Ayahs 40:18–20فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اس کے باوجود لوگوں کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔
رب ذوالجلال کا رعب اور قیامت کے حساب و کتاب کے ڈر کی وجہ سے لوگوں کے کلیجے ان کے حلق تک آچکے ہوں گے۔ اس وقت ظالموں کا کوئی خیر خواہ اور سفارشی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو جانتا ہے وہ اپنے بندوں کو سچائی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے وہ کوئی بھی حکم نہیں دے سکتے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ سچائی سے پہلی مراد ” اللہ “ کی توحید اور اس کے تقاضے ہیں۔
قیامت کے دن ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ ربِّ ذوالجلال کے خوف کی وجہ سے ان کے کلیجے ان کے حلقوں میں اٹک جائیں گے اور ظالم اس قدر پریشان ہوگے کہ ان کے چہروں سے ان کی ذلت اور پریشانی بالکل عیاں ہوگی۔ وہ اپنے دوست و احباب سے مدد طلب کریں گے مگر کوئی بھی ان کی مدد کے لیے تیار نہ ہوگا۔ مجرم حساب و کتاب کے ابتدائی مرحلے میں جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے گناہوں کا انکار اور انہیں چھپانے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی چھپا نہیں سکیں گے۔ کیونکہ وہ انسان کی آنکھوں کی خیانت اور اس کے دل میں چھپے ہوئے خیالات کو جانتا ہے۔ مشرک اس لیے شرک کرتا ہے کہ قیامت کے دن اس کے ٹھہرائے ہوئے شریک اسے بچالیں گے مگر جب قیامت قائم ہوگی تو اللہ تعالیٰ سے کوئی کسی کو چھڑا نہیں سکے گا۔ وہاں صرف اللہ تعالیٰ ہی فیصلے کرنے والا ہوگا جو حق اور سچ کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلے صادر فرمائے گا۔ اس کا فرمان ہے کہ کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ ہوپائے گی۔ دنیا میں بھی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے اور قیامت کے دن بھی سامنے ہوگی۔ وہ ہر حال میں ہر بات سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
(عَنِ الْمِقْدَادِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ تُدْ نَیْ الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْھُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ فَیَکُوْنُ النَّا سُ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ فِیْ الْعََرَ قِ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی حَقْوَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یُّلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ اِلٰی فِیْہِ ) [ رواہ مسلم : باب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ أَعَانَنَا اللَّہُ عَلَی أَہْوَالِہَا ]
” حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سروردو عالم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ‘ آپ ﷺ فرما رہے تھے قیامت کے دن سورج لوگوں سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہوگا بعض لوگوں کے ٹخنوں تک ‘ بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور بعض کے منہ تک پسینہ ہوگا یہ بیان کرتے ہوئے رسول معظم ﷺ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن ربِّ ذوالجلال کے خوف کی وجہ سے ظالموں کے کلیجے ان کے حلق میں اٹک جائیں گے۔
2۔ قیامت کے دن ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے۔
3۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھید جانتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن حق اور سچ کیساتھ فیصلہ فرمائے گا۔
5۔ قیامت کے دن اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوگا۔
6۔ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن کفار اور مشرکین کا کوئی مددگار نہیں ہوگا :
1۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (ہود : 20۔ البقرۃ : 107)
2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو تمہاری مدد کرسکے۔ (البقرۃ : 120)
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ولی اور بچانے والا نہیں ہے۔ (الرعد : 37)
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (العنکبوت : 22۔ الشوریٰ : 31)
Ayahs 40:21–22فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو پوری کائنات پر کلی اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن معبودان باطل کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس حقیقت کو دیکھنا چاہو تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔
ہلاک ہونے والی اقوام کا سب سے بڑا جرم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کرنا تھا۔ اپنے اپنے اعتقاد اور سوچ کے مطابق ان کا یقین تھا کہ ہمارے دیوتے، بزرگ اور اسباب ہمیں مشکل کے وقت بچا لیں گے۔ اسی طرح ہی مکہ والے اپنے بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے اور اپنے وسائل پر اتراتے تھے۔ یہاں تک مکہ والوں کے اسباب اور قوت کا معاملہ ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلی اقوام اسباب اور قوت کے اعتبار سے ان سے کہیں آگے تھیں۔ ان کی ترقی اور اسباب کا عالم یہ تھا کہ ان میں کسی نے پہاڑوں کے سینے چیر کر ان میں کالونیاں بنائیں اور بڑے بڑے محل تعمیر کیے۔ کسی نے اپنی شان و شوکت کے لیے بڑی بڑی یاد گاریں تعمیر کیں۔ لیکن رب ذوالجلال نے انہیں ان کے جرائم کی بنا پر پکڑا تو ان کے بت، دیوتے، بزرگ اور ان کے وسائل انہیں بچا نہ سکے۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول بڑے بڑے معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ آئے اور انہیں شب وروز سمجھاتے رہے۔ لیکن انہوں نے کفر ہی اختیار کیے رکھا۔ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔ اس کی پکڑ بڑی شدید ہوا کرتی ہے کیونکہ وہ بڑی قوت والا اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔
مسائل
1۔ ہلاک ہونے والی اقوام اہل مکہ سے زیادہ طاقتور تھیں۔
2۔ ہلاک ہونے والی اقوام نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت کی تو انہیں کوئی نہ بچا سکا۔
تفسیر بالقرآن
ہلاک ہونے والی چند اقوام کی تباہی کا ایک منظر :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ (الانعام : 6)
2۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 120)
3۔ آل فرعون نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کیوجہ سے ہلاک کردیا۔ (الانفال : 54)
4۔ بستی والوں نے جب ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الکہف : 59)
5۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
6۔ قوم تبع اور ان سے پہلے مجرموں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ (الدخان : 37)
7۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی طرف وحی کہ کہ وہ ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : 13)
8۔ ہم کسی بستی والوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک ان میں ڈرانے والے نہ بھیج دیں۔ (الشعراء 208)
Ayahs 40:23–25فہم القرآن
ربط کلام : ہلاک کی جانے والی اقوام میں آل فرعون بھی شامل تھے۔ جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور دلائل دے کر فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا اور جادوگر قرار دیا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو فرعون اور ان کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ جو بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اسے قتل کردیا جائے اور اس کی عورتوں کو اپنے لیے باقی رہنے دیا جائے۔ حق کے مقابلے میں کفار کی منصوبہ بندیاں ہمیشہ انہیں دنیا اور آخرت کے نقصان میں زیادہ ہی کرتی ہیں۔ انسان مشکل کے وقت تدبیر اسے لیے کرتا ہے کہ وہ مصیبت سے نجات پائے۔ لیکن جب انسان اپنے رب کا باغی بن جائے اور حق بات کو ٹھکراتاچلا جائے تو اس کی عقل الٹی ہوجاتی ہے۔ ایسی تدابیر کرتا ہے اور اس کے ساتھی اپنے مفاد اور اس کی خوشنودی کے لیے اسے ایسے مشورے دیتے ہیں کہ جس سے اس کی ذلت اور نقصان میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ یہی حالات فرعون اور اس کے ساتھیوں کے تھے۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سامنے بڑے بڑے معجزات پیش کیے اور انہیں ٹھوس دلائل کے ساتھ اللہ کی توحید کی دعوت دی تو انہوں نے حق تسلیم کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ ایمان لانے والے مردوں اور ان کے بیٹوں کو قتل کیا جائے اور ان کی بیویوں اور بیٹیوں کو باقی رہنے دیا جائے۔ یاد رہے کہ فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کو قتل کرنے کی یہ دوسری مہم تھی۔ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت بھی بنی اسرائیل کا قتل عام کیا گیا تھا۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔[ البقرۃ : 49]
دنیا میں بنی اسرائیل کے علاوہ شاید ہی کوئی قوم ہو جسے اجتماعی طور پر یہ سزا دی گئی ہو کہ ان کے مردوں کو کئی سال تک قتل کیا گیا اور ان کی بہو بیٹیوں کو ہر قسم کی زیادتی کا نشانہ بنانے کے لیے زندہ رہنے دیا گیا۔ بنی اسرائیل دو مرتبہ طویل عرصہ تک اس آزمائش کا شکار ہوئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مظالم سے نجات دی۔
” سُلْطَانٍ مُّبِیْنٌ“ سے مراد ایسے دلائل ہیں جنہیں سننے کے بعد آدمی کے دل میں یقین پیدا ہوجائے کہ واقعی حق یہی ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو پہلے دن ہی موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا اژدھا اور ید بیضا دیکھ کر یقین ہوگیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں۔ وہ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوئے تھے کہ جو شخص کچھ عرصہ پہلے گرفتاری کے ڈر سے یہاں سے بھاگ نکلا تھا آج کس جرأت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمارے نظریات کے خلاف باتیں کررہا ہے۔ انہیں یہ بھی یقین ہوچکا تھا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈھیل دی گئی تو اس کے ساتھیوں میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) سے لوگوں کو دور رکھنے اور حکومت کا دبدبہ قائم کرنے کے لیے۔ فرعون نے فوری طور پر حکم جاری کیا کہ جو شخص بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اسے اور اس کے رشتہ داروں کو سرعام قتل کردیا جائے۔ البتہ ان کی بیویوں اور بہو، بیٹیوں کو اپنے لیے باقی رہنے دیا جائے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور ٹھوس دلائل دے کر فرعون اور اس کے ساتھیوں کی طرف بھیجا۔
2۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کذّاب اور جادوگر قراردیا۔
3۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو سر عام قتل کرنے کی مہم چلائی۔
4۔ فرعون نے اپنی اور اپنی قوم کی خدمت کے لیے بنی اسرائیل کی بہو بیٹیوں کو باقی رکھا۔
تفسیر بالقرآن
موسیٰ (علیہ السلام) کو دیے جانے والے عظیم معجزات اور دلائل :
1۔ (یونس : 75) 2۔ (المومنون : 46) 3۔ (العنکبوت : 39) 4۔ (الاعراف : 133) 5۔ (المومن : 27)
Ayahs 40:26–27فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے قتل عام کے بعد فرعون کا انتہائی اقدام کرنے کا فیصلہ۔
نامعلوم فرعون نے کتنی مدّت تک بنی اسرائیل کا قتل عام جاری رکھا۔ اس ظالمانہ اقدام کے باوجود بنی اسرائیل کا نوجوان طبقہ موسیٰ (علیہ السلام) پر دھڑا دھڑ ایمان لانے لگا جس کا قرآن مجید نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔
” موسیٰ پر اس کی قوم کے نو جوانوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف اور ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی وجہ سے کوئی ایمان نہ لایا اور بلا شبہ فرعون زمین میں سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں تھا۔ موسیٰ نے فرمایا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم فرمانبردار ہو۔ تو انہوں نے کہا ہم نے اللہ پر ہی توکل کیا، اے ہمارے رب ہمیں ظالم لوگوں کے سے بچا۔ اور اپنی رحمت کے ساتھ ہمیں کافر لوگوں سے نجات عطا فرما۔ “ (یونس : 83 تا 86)
اس صورت حال میں فرعون نے یہ محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کے قتل عام کا فیصلہ جس مقصد کے لیے کیا گیا تھا اس کا نتیجہ ہماری بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جارہا ہے۔ اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف انتہائی اقدام کرنے کا اعلان کیا۔ جس کے لیے اس نے وزیروں مشیروں کو کہا کہ میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔ اب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کر کے رہوں گا۔ بیشک وہ اپنے رب کو میرے مقابلے میں لے آئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح ڈھیل دیئے رکھی تو وہ تمہارے دین کو بدل دے گا اور ملک کو برباد کر دے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے ظاہر ہورہا ہے کہ فرعون غصہ میں اپنے آپ سے باہر ہوا جارہا تھا اور اس کی قتل عام کی مہم ناکام ہوچکی تھی اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگائے کہ یہ ہمارے دین کو بدلنا چاہتا ہے اور ملک کو برباد کرنے درپے ہے۔ مجھے چھوڑ دو کے بارے میں مفسرین نے تین آراء کا اظہار کیا ہے۔
1 موسیٰ (علیہ السلام) کی جرأت اور ان کے معجزات دیکھ کر فرعون اپنے دل میں خوف زدہ تھا کہ اگر میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی گزند پہنچائی تو ” اللہ “ کے ہاں فوری طور پر میری گرفت ہوجائے گی۔
2 جس طرح اس نے یہ جھوٹ بولا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ملک میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح ہی اس نے جھوٹی دھمکی دی تھی کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔
3 فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی وارننگ دے کر انہیں مرعوب کرنا چاہتا تھا۔ حالانکہ اسے معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا آسان نہیں۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے رسول ہیں اور اپنے رب کی نگرانی میں ہیں۔ یہاں تک کہ فرعون کا یہ کہنا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارا دین بدلنا چاہتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) ملک میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات شروع سے ہی حکمران اور دنیا دار انبیاء اور داعی حق کے بارے میں کہتے آ رہے ہیں۔
اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کی دین سے مراد اس کا نظام حکومت ہے یہ بات بھی ٹھیک ہے لیکن اس بات کی گنجائش بھی موجود ہے کہ
مشرک جس کی بھی پوجا کرتے ہیں وہ دین اور ثواب سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔ فرعون کے ا لفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مذہبی لوگوں کو دین کے حوالے سے اور سیاسی لوگوں کو ملک کے نظام کے حولے سے اکسایا تھا تاکہ بیک وقت مذہب اور سیاست کے نام پر لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بھڑکایا جاسکے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون نے کسی دوسرے موقع پر براہ راست موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کھلے الفاظ میں فرمایا کہ میں قیامت کا انکار کرنے والے ہر متکبر سے اپنے اور تمہارے رب کی حفاظت میں آچکا ہوں۔ (المومن : 27 )
تکبر کی سزا :
(عَنِ ابْنِ عُمَر ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اِزَارَہٗ مِنَ الْخُیَلَاءِ خُسِفَ بِہٖ فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ )[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ ایک دفعہ ایک شخص تکبر کے ساتھ چادر گھسیٹ کر چل رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ )
[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “
مسائل
1۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ملک میں فساد کرنے والا قرار دیا۔ 2۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی۔
3۔ فرعون نے اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے لوگوں کو کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارا دین بدلنا چاہتا ہے۔
4۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بلا خوف یہ بات فرمائی کہ میری حفاظت میرے رب نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔
5۔ مومن کو متکبر شخص سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
6۔ جو شخص قیامت کے حساب و کتاب کو نہیں مانتا حقیقتاً وہ متکبر ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
متکبر شخص کی عادات اور اس کا انجام :
1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : 74)
2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : 39)
3۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : 35)
4۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23) 5۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المومن : 76)
6۔ اللہ تعالیٰ ہر جابر اور متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (المومن : 35)
7۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہ آسکے گا۔ (الاعراف : 48)
8۔ تکبر کرنے والوں کو ذلت آمیز سزا دی جائے گی۔ (الاحقاف : 20)
9۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الاعراف : 36)
10۔ جہنم کے دروازوں سے ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔ تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانہ ہے۔ (النحل : 29)
Ayah 40:28فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کی دھمکی کے رد عمل میں ایک مومن کا درد مندانہ خطاب۔
فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں صرف اتنا فرمایا کہ میں تیرے اقدام قتل سے نہیں ڈرتا کیونکہ میری حفاظت میرے رب کے ذمے ہے۔ اس صورت حال میں ایک مومن تڑپ اٹھا۔ جس کے بارے میں قرآن مجید بتلارہا ہے کہ اس نے حالات کے جبر کی وجہ سے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ جوں ہی اس نے محسوس کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون انتہائی اقدام کرنے والا ہے تو وہ بےدھڑک ہو کر فرعون کے سامنے پرسوز لہجہ اور پورے جلال کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے باربار اپنی قوم کو سمجھاتا ہے۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا۔ اس نے کہا کہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب ” اللہ “ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہے بالفرض اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہوگا۔ اگر وہ سچا ہے تو پھر تمہیں وہ عذاب ضرور آلے گا جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ جھوٹے اور زیادتی کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا۔ آل فرعون سے تعلق رکھنے والے مومن نے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا تعارف کروایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہیں ” اللہ “ کی طرف بلاتے ہیں اور اس نے دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ وہی تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ہے۔ مرد مومن نے بڑی جرأت سے کام لیتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا انہی الفاظ میں تعارف کروایا۔ جن الفاظ کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دن فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تھی۔ (الاعراف : 104)
تعجب کی بات یہ ہے کہ مرد مومن نے نہ صرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کو کھلے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا تعارف کروایا بلکہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کی تائید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے اور زیادتی کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا۔ گویا کہ اس نے ایک حد تک اپنے الفاظ میں واضح کردیا کہ تم جھوٹے ہو اور موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں۔
آل فرعون کا مرد مومن اور سیدنا ابوبکر صدیق ؓ :
(عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِکُونَ بِرَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ رَأَیْتُ عُقْبَۃَ بْنَ أَبِی مُعَیْطٍ جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ وَہُوَ یُصَلِّی، فَوَضَعَ رِدَاءَ ہُ فِی عُنُقِہِ فَخَنَقَہُ بِہِ خَنْقًا شَدِیدًا، فَجَاءَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی دَفَعَہُ عَنْہُ فَقَالَ أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَقَدْ جَاءَ کُمْ بالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَبِّکُمْ )[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلاً ]
” عروہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا :” مجھے بتاؤ کہ مشرکین مکہ نے نبی اکرم ﷺ کو سب سے زیادہ جو تکلیف دی وہ کیا تھی ؟ وہ کہنے لگے کہ ” ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا۔ آپ کے کندھے پکڑے اور آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر زور سے گلا گھونٹا۔ اتنے میں ابوبکر صدیق ؓ آگئے۔ انہوں نے عقبہ کو کندھے سے پکڑ کر اور آپ سے اسے پیچھے دھکیل دیا اور فرمایا کیا تم اس شخص کو اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ “
Ayahs 40:29–33فہم القرآن
ربط کلام : مرد مومن کے خطاب کے جواب میں فرعون کا جواب۔
مرد مومن نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے قوم کو یہ کہہ کر مزید احساس دلایا کہ آج ملک پر تمہاری بادشاہی ہے اور تم مملکت مصر پر برسراقتدار ہو۔ لیکن یاد رکھو ! اگر ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو بتاؤ ہمیں کون اس کے عذاب سے بچائے گا ؟ مرد مومن نے اس قدر مؤثر اور جاندار انداز میں فرعون اور اپنی قوم کے نمائندوں کو خطاب کیا کہ جو فرعون توحید کی بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ وہ مرد مومن کے جواب میں صرف اتنی بات کہہ سکا کہ میں تو تمہیں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو کچھ میں دیکھتا اور سمجھتا ہوں۔ میرے خیال کے مطابق اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ فرعون کی بات سن کر مرد مومن چونک اٹھا اور اس نے اپنی قوم کو انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اس بات سے ڈرارہا ہوں کہ کہیں تم پر ایسے حالات وارد نہ ہوجائیں جو پہلے لوگوں پر وارد ہوئے تھے۔ جس طرح قوم نوح (علیہ السلام) قوم ثمود، قوم عاد اور ان کے بعد کچھ قوموں پر نازل ہوئے۔ اے میری قوم کے لوگو ! اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا کہ یہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ اے میری قوم ! مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ اس دن تم ایک دوسرے کو آواز پے آواز دو گے لیکن تمہاری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا تمہیں کوئی پناہ نہیں دے سکے گا۔ یاد رکھو ! جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس دن سے مراد کچھ بزرگوں نے عذاب کا دن لیا ہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں کیونکہ عذاب کے دن کے بارے میں مرد مومن نے قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد، قوم ثمود اور دیگراقوام کا حوالہ دے کر ڈرایا ہے۔ اس لیے ” یَوْمَ التَّنَادِ “ سے مراد قیامت کا دن ہے جس دن لوگ ” اللہ “ کے عذاب سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کو دوہائی دیں گے۔ “ (عبس : 34 تا 37)
” کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔ ایک دوسرے کو دکھادیئے جائیں گے۔ گناہ گار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دلا دے۔ ہرگز یہ نہ ہوگا۔ یقیناً وہ شعلہ والی آگ ہے جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لینے والی ہے وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منہ موڑتا ہے اور مال جمع کرکے رکھتا ہے ”(المعارج : 10 تا 18)
مسائل
1۔ مرد مومن کے جواب میں فرعون کوئی معقول بات نہ کرسکا۔
2۔ مرد مومن نے اپنی قوم کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے ڈرایا۔
3۔ قیامت کے دن مجرم ایک دوسرے کو پکاریں گے لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ جسے گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
تفسیر بالقرآن
ہدایت صرف ” اللہ “ کے اختیار میں ہے :
1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120)
2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56) 3۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213)
4۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43)
5۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : 3)
6۔ نبی اکرم ﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص : 56)
7۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے کرم سے حاصل ہوتی ہے۔ (الحجرات : 17)
8۔ ہدایت پر استقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (آل عمران : 8)
9۔ رسول اکرم ﷺ کی تابعداری انسان کی ہدایت کی ضمانت ہے۔ (النور : 54)
10۔ صحابہ کرام ؓ کا ایمان ہدایت کی کسوٹی ہے۔ (البقرۃ : 137)