39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الزّمر کا تعارف سورۃ الزّمر مکہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ یہ سورة آٹھ رکوع اور پچھتر آیات پر محیط ہے۔ ربط سورة : سورة صٓ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ لوگوں کے لیے قرآن مجید ایک نصیحت ہے جو اس نصیحت کا انکار کرتا ہے اسے اپنے انجام کا بہت جلد پتہ چل جائے گا۔ الزّمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ یہ ذکر ” اللہ “ غالب حکمت والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کا پہلا پیغام اور فرمان یہ ہے کہ ایک ” اللہ “ کی عبادت کرو کہ جس طرح اس نے اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ اس فرمان کے ساتھ اختلاف اور تکرار کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب اور ناشکرے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ان میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جو اس بات پر اسرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو اپنی اولاد بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی خواہش اور ضرورت نہیں۔ اولاد کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ کمزوری اور مجبوری کے عالم میں ماں باپ کا سہارا ثابت ہو اللہ تعالیٰ ایسی خواہش اور ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک اور تابع فرمان ہے اس وضاحت کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بات نہیں مانتے اور اس کی خالص عبادت نہیں کرتے وہ اور اس عقیدہ کی حامل ان کی اولاد قیامت کے دن نقصان پائیں گے۔ ان کے اوپر نیچے آگ ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس آگ سے ڈراتا ہے تاکہ وہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔ لیکن مشرک کی حالت یہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ وحدہ لاشریک کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ تو وہ منہ بسورتا اور ناراض ہوتا ہے۔ جب غیر اللہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتا ہے حالانکہ ” اللہ “ ہی زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی رزق میں کمی، بیشی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ کفار کے کفر اور مشرکوں کے شرک کے باوجود اس کا فرمان ہے کہ اے پیغمبر جن لوگوں نے کفرو شرک اور اپنے رب کی نافرمانیوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ لوگو ! تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا کیونکہ میں سب گناہوں کو معاف کرنے والا مہربان ہوں لہٰذا ہر حال میں میری طرف رجوع کرو اور عذاب سے پہلے میرے تابع فرمان ہوجاؤ۔ جب میرا عذاب نازل ہوتا ہے تو کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت کروں حالانکہ اس نے مجھ پر اور مجھ سے پہلے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اگر کسی نبی نے شرک کیا تو اس کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔ جو لوگ شرک کرتے ہیں حقیقت یہ ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور کوئی اس کے سامنے بولنے اور دم مارنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اس دن تیرے رب کے جمال سے زمین منور ہوجائے گی اور لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو گواہ کے طور پر بلایا جائے گا اور پورے عدل و انصاف کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلے کر دئیے جائیں گے اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہو پائے گا۔ جہنمی جہنم کی طرف گروہ در گروہ جائیں گے جونہی جہنم کے قریب پہنچیں گے تو ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے ملائکہ ان سے استفسار کریں گے کیا تمہارے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف نہیں لائے تھے جو تمہیں تمہارے رب کے فرامین پڑھ کر سناتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ کرتے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ہمارے پاس انبیاء کرام تشریف لائے اور انہوں نے ہمیں بار بار سمجھایا لیکن ہم اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ جہنمیوں کا جواب سن کر ملائکہ کہیں گے تو پھر جہنم میں داخل ہوجاؤ جس میں تم نے ہمیشہ رہنا ہے اور متکبرین کے لیے رہنے کی یہ بدترین جگہ ہے۔ ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ارشاد ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جونہی جنتی جنت کے دروازوں کے سامنے پہنچیں گے تو ملائکہ جنت کے دروازے کھولتے ہوئے جنتیوں کو سلام کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ جنت میں داخل ہوجائیں۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کو عنایت کردی گئی ہے۔ جنتی اس پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اس فیصلے کے بعد عدالت کبریٰ ختم کردی جائے گی اور سب پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف رب العالمین کے لیے ہے۔

Ayahs 39:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ زبردست اور حکیم کی طرف سے نے نازل شدہ ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

اے نبی یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے کرو

فہم القرآن سورۃ صٓ کے آخر میں آپ ﷺ سے کہلوایا گیا کہ نبوت کے کام کے بدلے نہ میں تم سے کسی قسم کی طالب ہوں اور نہ میں تکلّف کرنے والا ہوں۔ جو کچھ تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں وہ رب العالمین کی طرف سے ایک نصیحت ہے۔ جو اس نصیحت کو تسلیم نہیں کرے گا وہ ایک وقت کے بعد خود اس کا انجام دیکھ لے گا۔ سورة الزمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ جو برے انجام سے بچنا چاہتا ہے اس کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے جس طرح اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو اس ” اللہ “ نے نازل کیا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب اور زبردست ہے۔ غالب اور زبردست ہونے کے باوجود اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اے حبیب ﷺ ! ہم ہی نے آپ کی طرف قرآن مجید کو حق اور سچ کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس کا پہلا حکم یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی کی فرمانبرداری کرتے رہو ! اہل مکہ کو بارہا دفعہ یہ بات بتلائی گئی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا ہے اس کے باوجود مکہ والے قرآن کو من جانب اللہ ماننے کے لیے تیا نہ تھے۔ حالانکہ انہیں مختلف الفاظ میں کئی مرتبہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم قرآن کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ یہ نبی یا کسی شخص کا بنایا ہوا ہے تو پھر تمہیں موقع دیا جاتا ہے کہ تم بھی اس جیسا قرآن بنا کرلے آؤ۔ تمہیں یہاں تک سہولت دی جاتی ہے کہ قرآن مجید کی کسی ایک سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ۔ کفار اس چیلنج کا جواب دینے میں زندگی بھر ناکام رہے۔ مگر اس کے باوجود قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا انکار کرتے رہے۔ نہ صرف انکار کرتے تھے بلکہ قرآن مجید کے خلاف مسلسل پروپیگنڈہ کرتے تھے کہ یہ محمد ﷺ کی اپنی اختراع ہے۔ ان کے مسلسل پروپیگنڈہ کی تردید میں قرآن مجید نے یہ اسلوب اپنایا کہ موقع محل کے مطابق کھلے الفاظ میں یا بین السطور یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ یہ قرآن صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ وہ چاہے تو لوگوں کو اپنی قوت و سطوت کے ذریعے اسے تسلیم کروا سکتا ہے لیکن اس نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اسے تسلیم کریں یا اس کا انکار کرتے رہیں۔ قرآن مجید کا پہلا پیغام اور حکم یہ ہے کہ صرف ” اللہ “ کی تابعداری کرتے ہوئے اسی ایک کی عبادت کی جائے۔ یہی پہلی اور بڑی حکمت ہے۔ عبادت کے اس تصور کا وسیع تر تخیل یہ ہے کہ آدمی منڈی اور بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا نمونہ بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفاداری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اور آپ ﷺ سے یہی بات کہلوائی گئی ہے۔ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) [ الانعام : 162 تا 163] ” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ماننے والا ہوں۔ “ الدّین کا مفہوم : دین اسلام اپنے نام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہے دین کے لفظی معانی ہیں تابع دار ہونا، دوسرے کو اپنا تابع دار بنانا۔ مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا، قانون، مکمل ضابطۂ حیات، جزا وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی الدّین بولا جاتا ہے۔ (مزید تفصیل جاننے کے لیے درج ذیل تفسیر بالقرآن آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) تفسیر بالقرآن ” اَلدِّیْنَ “ کے معانی : 1۔ دین سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ( الفاتحۃ : 3) 2۔ دین کا معنٰی شریعت ہے۔ (النساء : 125) 5۔ قانون : (یوسف : 76) 3۔ اطاعت اور بندگی۔ (الزّمر : 11) 4۔ شریعت : (یونس : 104) ۔ حکمرانی : (المومن : 56) 7۔ جزاء وسزا (بدلہ): (الذّ اریا ت : 6 )
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرر ہے ہیں، اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو

فہم القرآن ربط کلام : الدّین کی بنیادی دعوت اور اس کا پہلا نقطہ۔ عبادت بھی خالص اور تابعداری بھی خالص : ارشاد ہوا کہ اللہ کی عبادت بھی خالص کرنی ہے اور تابعداری بھی خالصتاً “ اللہ “ ہی کی ہونی چاہیے۔ عبادت کی تین بڑی اقسام ہیں۔ ” اَلتَّحَیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ “” زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “ 1 زبانی عبادت کا مفہوم : زبان سے جو بات بھی نکالی جائے وہ اللہ کے حکم کے مطابق اور اس کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ (عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنِ النَّبِیّ ﷺ قَالَ لاَ تَقُولُوا مَا شَاء اللَّہُ وَشَاءَ فُلاَنٌ وَلَکِنْ قُولُوا مَا شَاء اللَّہُ ثُمَّ شَاءَ فُلاَنٌ)[ رواہ ابوداود : باب لاَ یُقَالُ خَبُثَتْ نَفْسِی ] ” حضرت حذیفہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم یہ نہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ کہو جو اللہ چاہے پھر جو فلاں چاہے۔ “ 2 بدنی عبادات : بدنی عبادات میں نماز، روزہ، حج اور لوگوں کی خدمت کرنا شامل ہے۔ بشرطیکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی شامل نہ ہو۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔ (عِنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ رواہ فی شرح السنۃ)[ مشکوۃ المصابیح : باب کتاب الامارۃ والقضاء ] ” حضرت نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مخلوق کی اطاعت میں اللہ کی نافرمانی جائز نہیں۔ “ 3 مالی عبادات : ” تَشٰھُدْ “ میں مالی عبادت کو ” الطَّیِّبَاتُ “ کہا گیا ہے۔ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ مال پاک ہو اور حلال طریقہ سے کمایا گیا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ صدقہ کرتے وقت صرف اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ خرچ کرنے کا طریقہ اور مقام بھی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَیُّھَاالنَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَایَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (یَاأَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ) وَقَالَ (یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! اللہ پاک ہے ا ورپاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے رسولو ! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں اور فرمایا : اے مومنو ! ہم نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے حلال کھاؤ۔ “ شرکیہ مقام پر صدقہ کرنے سے بچنا چاہیے : (حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ ؓ قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَیالنَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ إِنِّيْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِيُّ ﷺ ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ أبوداوٗد : باب مایؤمربہ من وفاء النذر ] ” مجھے ثابت بن ضحاک ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کی نہیں۔ آپ نے پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “ مسافر مکھی نذرانہ کرنے کی وجہ سے جہنم رسید ہوا : (عَنْ طَارِقِ بْنِ شَہَابٍ ؓ أنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ ، وَدَخَلَ النَّارَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ قَالُوْا وَکَیْفَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ مَرَّ رَجُلَانِ عَلٰی قَوْمٍ لَہُمْ صَنَمٌ لَا یَجُوْزُہٗ أحَدٌ حَتّٰی یُقَرِّبَ لَہٗ شَیْءًا، فَقَالُوْا لأحَدِہِمَا قَرِّبْ ، قَالَ لَیْسَ عِنْدِیْ شَیْءٌ أُقَرِّبُ ، قَالُوْا لَہٗ قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَرَّبَ ذُبَابًا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہٗ ، فَدَخَلَ النَّارَوَقَالُوْا للآخَرِقَرِّبْ ، قَالَ مَا کُنْتُ لأُقَرِّبَ لأَحَدٍ شَیْءًا دُوْنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَضَرَبُوْا عُنَقَہٗ ، فَدَخَلَ الْجَنَّۃَ )[ رواہ أحمد : مسند طارق بن شہاب ] ” حضرت طارق بن شہاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی مکھی کا نذرانے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور دوسر امکھی کے نذرانہ کی وجہ سے جہنم میں چلا گیا۔ صحابہ ؓ نے عرض کی اللہ کے رسول ! وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا دو آدمی ایک بت پرست قوم کے پاس سے گزرے جو بتوں کے نام نذرانہ دیے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انھوں نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا کوئی نذرانہ پیش کرو۔ اس نے کہا میرے پاس نذرانے کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا ایک مکھی ہی نذرانہ دے دو ۔ اس نے ایک مکھی کا نذرانہ دے دیا۔ اس پر انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اس وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوا۔ انہوں نے دوسرے سے بھی نذرانہ دینے کے لیے کہا۔ اس نے جواب دیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے نذرانہ نہیں دوں گا۔ انہوں نے اس کی گردن اڑا دی تو وہ جنت میں داخل ہوا۔ “ مشرک ” اللہ “ کے حکم کو نہیں مانتا : ہر دور کے مشرک کی یہ عادت اور عبادت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اور اس کے حکم کے مطابق کرنے کی بجائے اپنی مرضی سے کرتا اور دوسروں کو اس میں شریک کرتا ہے۔ بیشمار کلمہ پڑھنے والے مشرک اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی قیام، رکوع اور سجدے کرتے ہیں اور اپنے اپنے عقیدہ اور طریقہ کے مطابق دوسروں کے سامنے بھی قیام، رکوع اور سجدے کرتے ہیں۔ مسجدوں، مدرسوں اور غریبوں پر صدقے کرتے ہیں اور مزارات پر بھی خیرات کرتے ہیں۔ کافر قبروں، بتوں، چاند، سورج اور بیشمار چیزوں کے سامنے بھی قیام، رکوع اور سجدے کرتے ہیں اور بت خانوں پر خرچ بھی کرتے ہیں۔ مشرکین کے دو گروہ : مشرکین کے ہمیشہ سے دو گروہ رہے ہیں۔ جو کسی نبی کا کلمہ نہیں پڑھتے ان کا عقیدہ ہے کہ چاند، سورج اور ستارے ” اللہ “ کی قدرت کا مظہر ہیں۔ لہٰذا ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی حرمت اور واسطے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا زیادہ ثواب اوراقرب سمجھتے ہیں۔ جو لوگ کسی نہ کسی نبی کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کی عبادت سے خوش ہو کر انہیں اپنی خدائی میں کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے ہم ان کی روحوں کے وسیلے اور حرمت سے مانگتے ہیں۔ یہی بات بت پرست کہتے ہیں کہ ہم بتوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ بت کے تصور سے ” اللہ “ کی عبادت کرنے میں یکسوئی پیدا ہوتی ہے یہی ان لوگوں کا عقیدہ اور طریقہ ہے جو تصور شیخ کے قائل اور فاعل ہیں۔ اس بارے میں بیشمار لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری سنتا نہیں اور ان کی ردّ نہیں کرتا۔ قرآن مجید اس مقام پر اسی عقیدہ کی نفی کررہا ہے کہ جب ان لوگوں کو بلاواسطہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ ہم تو انہیں صرف وسیلہ بناتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ پھر زندہ اور مردہ بزرگوں کے بارے میں من گھڑت کرامتیں بناتے اور سناتے ہیں۔ ایسا عقیدہ اور طریقہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ یہ لوگ اپنے عقیدہ، طریقہ اور پروپیگنڈہ میں جھوٹے اور اللہ تعالیٰ کے ناشکرے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا۔ مشرک کو ہدایت اس لیے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ یہ شرک کو دین سمجھتا ہے اور اس پر اصرار اور تکرار کرتا ہے۔ مشرک کیوں جھوٹے ہیں : 1 اللہ کا فرمان ہے کہ میں نے اپنی خدائی میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ 2 مشرک کہتے ہیں کہ اللہ نے زندہ اور فوت شدہ بزرگوں کو اختیار ات دے رکھے ہیں۔ 3 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور مجھ ہی سے مانگو۔ 4 مشرک نہ اللہ کی خالص عبادت کرتا ہے اور نہ ہی اس کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس سے مانگتا ہے۔ 5 اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اپنے سامنے جھکنے اور صرف اپنی ذات سے مانگنے کا حکم دیا ہے۔ 6 مشرک ناشکرا ہوتا ہے اس لیے اللہ کا شکر گزار ہونے اور صرف اس سے مانگنے کی بجائے در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ اس اعتبار سے توحید شکر ہے اور شرک ناشکری ہے۔ توحید سچائی ہے اور شرک کذب بیانی ہے۔ وسیلے کے نقصانات : خالق و مخلوق کے درمیان وسیلے اور حرمت کے حوالے سے عیسائیوں کو گمراہ کرنے کے لیے پوپ نے یہ تصور دیا۔ کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے واسطہ کی ضرورت ہے اسی نظریے کی بدولت پادری نے جائیدادیں بنائیں لوگوں کی عزتوں پر ڈاکے ڈالے اور انسان پر انسان کی خدائی قائم کی۔ بدقسمتی سے بزرگوں کی محبت و عقیدت کے نام پر مسلمانوں میں بھی عقیدہ عام کردیا گیا اور اس کا نتیجہ نکلا کہ چند پاک باز لوگوں کو چھوڑ کر پیروں اور گدی نشینوں نے کتنی بیٹیوں کو بےآبرو کیا۔ سینکڑوں مربعے زمین اور کروڑوں کی جائیدادیں بنائیں۔ اجازت تو اس بات کی تھی کہ زندہ بزرگ سے دعا کروائی جاسکتی ہے مگر غالب اکثریت نے اس کو کاروبار بنا لیا ہے اور بزرگوں کے فوت ہونے کے بعد ان کی قبریں زیارت گاہ نہیں تجارت کے اڈے بن چکی ہیں۔ جو لوگ سالہا سال اپنے ماں باپ کی قبر پر نہیں جاتے وہ ہزاروں روپے خرچ کر کے مزارات پر ایمان اور مال ضائع کر رہے ہیں۔ حالانکہ رحیم و کریم مالک نے اپنے تک پہنچنے کے لیے گناہ گاروں کی جھجک کو اتنے مؤثر اور دلنشیں انداز میں دور فرمایا ہے کہ اس کے بعد کسی بہانے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بندے کو خالق سے دور رکھنے کے گھٹیا بہانے : (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہُ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ) [ قٓ: 16] ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ہم ان سے وقف ہیں اور اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ “ بندے کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھنے کے لئے یہ گھٹیا اور سطحی تصور دیتے ہوئے، اتنی کمزور اور سطحی مثالیں دی جاتی ہیں کہ جس پر آدمی حیرت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے علماء کا کہنا ہے کہ ڈی سی او سے ملنے کے لیے چپڑاسی کی ضرورت ہے مکان کی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اس بات کو اس شدومد کے ساتھ پھیلایا گیا ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے حضرات حتیٰ کہ عدالتیں کرنے والے جج، قانون کی باریکیوں اور موشگافیوں سے واقف ماہر وکلاء، اندرون اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل سکالر اور دانشور حضرات اس پروپیگنڈے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ صحیح بات ماننا تو درکنار اسے ٹھنڈے دل و دماغ سے سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ حالانکہ ذرا غور کیا جائے۔ کہ جس مدفون بزرگ کا وسیلہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ زندگی اور ان کے فوت ہونے کے بعد کتنا فرق ہے ؟ 1۔ بزرگ بیمار ہوئے ہزار دعاؤں اور دواؤں کے باوجود صحت حاصل نہ کرسکے۔ 2۔ فوت ہوئے تو گھر میں میّت پڑی ہونے کے باوجود روتی ہوئی بیٹیوں، تڑپتی ہوئی والدہ، بلکتی ہوئی بیوی، سسکتے ہوئے بیٹے اور آہ وبکا کرنے والے بھائیوں اور مریدوں کو تسلی نہیں دے سکتے۔ 3۔ شرم و حیا کے مالک ہونے کے باوجود نہ استنجا کرنے کی سکت ہے اور نہ غسل کرنے کی ہمت۔ 4۔ اپنی زندگی میں اپنا مزار بنوانے والے بھی چل کر اپنی قبر تک نہ پہنچ سکے۔ 5۔ جو زندگی میں صرف ایک زبان جانتے تھے فوت ہونے کے بعد دوسری زبانوں میں فریاد کرنے والوں کی زبان سے کس طرح واقف ہوگئے ؟ 6۔ جو خوداولاد سے محروم تھے مثال کے طور پر حضرت علی ہجویری ایک سے زائد شادی کروانے کے باوجود اولاد سے محروم رہے وہ دوسروں کو کس طرح اولاد عطا کرسکتے ہیں ؟ 7۔ جو زندگی میں گہری نیند یا کسی بیماری کی وجہ سے بےہوشی کے عالم میں دیکھ اور سن نہیں سکتے۔ موت کے بعد کس طرح سننے اور دیکھنے کے قابل ہوگئے ؟ 8۔ جو زندگی میں دیوار کی دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے تھے قبر کی منوں مٹی اور مضبوط دیواروں کے پیچھے کس طرح دیکھ سکتے ہیں ؟ 9۔ جو اپنی حالت سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے۔ دوسرے کی حالت رب کے حضور کس طرح پیش کرسکتے ہیں ؟ توہین آمیز اور مضحکہ خیز مثال واعظ کا یہ کہنا ہے کہ چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اس حد تک تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں مگر غور فرمائیں کہ چھت تو جامد اور ساکت ہے وہ قریب نہیں آسکتی اس لیے اس پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اللہ کی قدرت و سطوت تو ہر جگہ موجود ہے اور وہ اپنے علم اور اختیارات کے ذریعے سب سے زیادہ انسان کے قریب حتیٰ کے دل اور شہ رگ پر اس کا اختیار ہے یہاں تو کسی وسیلے و سفا رش اور سیڑھی کی ضرورت نہیں۔ خالق کائنات کے لیے یہ مثالیں اور تشبیہ دینا اس کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ (فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ) [ النحل : 74] ” اللہ کے لیے ایسی مثالیں بیان نہ کیا کرو۔ “ تفسیر بالقرآن سفارش کی حیثیت اور حقیقت : 1۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔ (البقرۃ : 255) 2۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہیں آئے گی۔ (البقرۃ : 254) 3۔ مجرموں کو کسی کی سفارش کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ (المدثر : 48) 4۔ ظالموں کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی۔ (المؤمن : 18) 5۔ کافروں کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : 51) 6۔ بزرگ اور سردار بھی سفارش نہ کریں گے۔ (الرّوم : 13) 7۔ مرنے والوں کو معلوم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (النحل : 21)
Ayahs 39:4–5

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کرلیتا وہ اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو وہ اکیلا ” اللہ “ سب پر غالب ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے، اسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک وقت مقرر تک چلا جا رہا ہے جان رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نہ کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی ذات کے ساتھ اس کی رشتہ داری ہے۔ اس سے پہلی آیت میں اس بات کو کذب اور گمراہی قرار دیا گیا ہے کہ کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی خدائی میں کچھ اختیارات دیئے ہیں۔ اب اس بات کی نفی کی جارہی ہے کہ ذات کبریا کی نہ کسی کے ساتھ رشتہ داری ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو بیٹا یا بیٹیاں بنایا ہے اور نہ ہی اس کی ذات کو یہ بات زیبا ہے۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اسے کسی معاون کی ضرورت ہوتی تو مخلوق میں سے کسی کو اپنی ذات کے لیے مختص کرلیتا یعنی اسے اپنی خدائی میں شریک بنا لیتا۔ اسے اپنی ذات اور خدائی میں کسی کے تعاون کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ ہر قسم کی مجبوری اور معذوری سے پاک ہے۔ وہ اکیلا ہی ہر چیز پر پوری طرح اختیار رکھنے والا ہے۔ اس کے اقتدار اور اختیار کا کچھ اندازہ کرنا چاہو تو زمین و آسمانوں کی تخلیق پر غور کر کہ اربوں سال سے زمین پانی پر کھڑی ہے نہ کسی طرف سے جھکی اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے۔ اب آسمان کی طرف توجہ کرو ! جو ستونوں کے بغیر کھڑا ہے نہ کسی جانب سے جھکا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی کمزوری پیدا ہوئی ہے یہاں تک اس کی رنگت میں بھی کوئی فرق نہیں پیدا ہوا۔ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز اس نے بےمقصد پیدا نہیں کی اور نہ ہی ان کی تخلیق میں کوئی نقص چھوڑا۔ جو کچھ پیدا کیا ٹھیک ٹھیک پیدا کیا اور اس میں کوئی نہ اس کا کوئی شریک تھا اور نہ معاون۔ اب رات اور دن کے نظام پر غور کرو ! کہ رات کس طرح دن کے حصے کو ڈھانپ لیتی ہے اور دن کس طرح رات کے کچھ حصہ پر چھا جاتا ہے۔ سورج اور چاند اپنے مقررہ اوقات اور حساب کے مطابق اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگے ہوئے ہیں۔ کیا مجال کبھی ان کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوا۔ یا ان میں سے کوئی اپنے وقت سے آگئے پیچھے ہوا ہو۔ اس پورے نظام کو بنانے اور چلانے والاصرف ایک ” اللہ “ ہے۔ چاہیے تو یہ کہ وہ کفار، مشرکین اور نافرمانوں کو ایک لمحہ میں نیست ونابود کردے۔ مگر ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود لوگوں کو باربار معاف کرنے اور ان سے در گزر فرمانے والا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نہ کسی کو اپنی اولادبنایا اور نہ ہی اپنی خدائی میں کسی کو اختیار دیا ہے۔ 2۔” اللہ “ ہی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت اور معذوری سے پاک ہے۔ 4۔ ” اللہ “ اکیلا ہی ہر قسم کی قوت کا مالک ہے۔ 5۔ اللہ ہی رات اور دن کو چھوٹا اور لمبا کرنے والا ہے۔ 6۔ ” اللہ “ ہی سورج اور چاند کو مسخر کرنے والا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود لوگوں کو معاف کرنیوالا ہے۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن، سورج اور چاند پر صرف ” اللہ “ کا اختیار ہے : 1۔ سورج اور چاند اپنے مقررہ وقت کے پابند ہیں۔ (الرعد : 2) 2۔ رات اور دن اپنے وقت کے پابند ہیں۔ (الزمر : 5) 3۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو اند ہیروں میں تمہاری رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا۔ (الانعام : 97) 4۔ چاند، سورج اور ستارے اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ (الاعراف : 54) 5۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو ضیاء اور چاند کو روشنی عطا کی ہے۔ (یونس : 5) 6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں چاند کو روشنی کا باعث اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ (نوح : 16 )
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایا، اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے، وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد دوسری شکل دیتا ہے، یہی اللہ ہے جس کے یہ کام ہیں وہ تمہارا رب ہے بادشاہی اس کی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے پھر تم کدھر سے بہکائے جا رہے ہو

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق کا ئنات کے ذکر کے بعد انسان اور چوپاؤں کی تخلیق کا بیان۔ اے لوگو ! جس ” اللہ “ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا، لیل و نہار کا نظام ترتیب دیا اور سورج، چاند کو تمہاری خدمت پر لگایا۔ اسی نے تمہیں آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی حوا [ کو پیدا کیا۔ پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے۔ یہ ہے تمہارا ” اللہ “ جس نے تمہیں پیدا کیا اور وہی تمہاری ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسے چھوڑ کر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔ اسی نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا فرمائے۔ کچھ کو تم بار برداری اور سواری کے لیے استعمال کرتے ہو، کچھ کا دودھ پیتے اور گوشت کھاتے ہو، ان سے اور بھی فوائد حاصل کرتے ہو۔ چوپاؤں کے لیے ” اَنْزَلَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے مفسرین نے تین معانی سمجھے ہیں۔ 1” اَنْزَلَ “ بمعنٰی پیدا کرنا 2 اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں چوپاؤں کو جنت میں پیدا فرمایا پھر ان کی نسل کو زمین پر اتار دیا۔ 3 انسان اور ہر جاندار چیز کا رزق زمین سے وابستہ ہے جسے پیدا کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے اور پانی کا بنیادی تعلق آسمان یعنی بارش کے ساتھ ہے اس لیے مجازاً چوپاؤں کے لیے ” اَنْزَلَ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آٹھ چوپائے : بھیڑ اور بکری، گائے اور اونٹ، جو جنس کے اعتبار سے جوڑا، جوڑا ہیں اور ان کی تعداد آٹھ بنتی ہے۔ تخلیق انسان کے مختلف مراحل اور مقام : ” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔ پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں بناکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے بہترین۔ “ [ المؤمنون : 13۔ 14] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول مکرم ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے اور جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اس اس کا عمل، رزق، موت، نیک یا بد ہونا لکھنے کا حکم ہوتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ “ تین اندھیرے : 1 ماں کے پیٹ کا اندھیرا 2 پیٹ میں رحم کا اندھیرا 3 رحم میں اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حوا [ کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ 3۔ ہر انسان کی تخلیق تین اندھیروں میں ہوتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے آٹھ چوپائے پیدا فرمائے۔ 5۔ اللہ ہی سب کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کا مالک ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے اور اس کو حاجت روا ماننے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بےپرواہ ہے، وہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ کسی کی عبادت کرنا پرلے درجے کی گمراہی اور ناشکری ہے جسکی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر حوالے سے یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان ! میرے سوا نہ تجھے کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ میرے سوا کوئی تیری ضرورتیں پوری کرنیوالا ہے۔ لہٰذا تجھے صرف میری ہی عبادت کرنا ہے اور مجھ سے اپنی حاجات مانگنا چاہیے۔ لیکن ہر دور میں بیشمار ایسے لوگ رہے ہیں اور ہوں گے جو اپنے خالق اور مالک کی اتنی بات بھی اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اس کی بےانتہا درجے کی ناشکری ہے، جسے اللہ تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا۔ وہ انسان کی ناشکری کی بجائے اس کی شکر گزاری اور تابعداری پر خوش ہوتا ہے۔ اس کے باوجود انسان ناشکری پر تلا رہے اور غیروں کی تابعداری کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کو اس کی رائی کے دانے کے برابر بھی پرواہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی خدائی اور بادشاہی کو بال کے برابر فرق پڑتا ہے۔ سورۃ کی ابتداء میں اس شرک کی مذمت کی گئی کہ کسی فوت شدہ شخصیت یا بت وغیرہ کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بنانا گمراہی ہے۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مشرک سمجھتا ہے کہ فلاں شخصیت قیامت کے دن میری نجات کی ذمہ داری اٹھالے گی کیونکہ قبروں کے مجاور، بتوں کے پجاری اور شرک کا پرچار کرنے والے علماء، پیر اور فقیر لوگوں کو یہی کہہ کر گمراہ کرتے ہیں کہ بزرگ اور مرشد دنیا میں خدا کی خدائی میں اختیارات رکھتے ہیں اور قیامت کے دن بھی تمہاری نجات کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس بات کی یہاں نفی کی جارہی ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ جو لوگ سمجھانے کے باوجود اپنے باطل عقیدہ پر قائم رہتے اور اس کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے باطل عقیدہ اور عمل کے بارے میں بتلائے گا یعنی انہیں پوری پوری سزا دے گا۔ کیونکہ بالآخر سب نے اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ اور کوئی اس سے بات چھپا نہیں سکتا کیونکہ وہ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ وہاں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ مجرم کو جب یہ الفاظ کہے جائیں کہ وقت آنے پر تجھے سب کچھ بتلا دیا جائے تو یہ الفاظ ہر زبان میں زبردست مجرم کے لیے انتباہ کی حیثیت رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنے کردار پر نظر ثانی کرے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِيْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِيْ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ناشکری نہیں شکرگزاری پر خوش ہوتا ہے۔ 2۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو سب کچھ بتلائے گا اور نا شکروں کو سز ا دے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جاننے والا ہے کیونکہ سب نے اس کے حضور پیش ہونا ہے۔
Ayahs 39:8–9

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ اپنے رب کو پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کے برابر ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے۔ اے نبی اس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا اس شخص کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی جو مطیع فرمان ہے اور رات کو اپنے رب کے حضور کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت پرامید لگائے ہوئے ہے ان سے پوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہوسکتے ہیں، نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ مشرک اپنے عقیدہ اور بات میں جھوٹا ہے۔ اب اس کے جھوٹ کا عملی ثبوت پیش کیا جارہا ہے۔ یہاں انسان سے مراد مشرک انسان ہے۔ مشرک کو تکلیف پہنچتی تو وہ اٹھتا، بیٹھتا، چلتا، پھرتا، رات اور دن اپنے رب کو پکارتا اور اس کے حضور فریادیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب بیماری کے بعد صحت، تنگی کے بعد فراخی اور غم کے بعد اسے خوشی نصیب کرتا ہے تو مشرک کو نہ اپنی فریادیں یاد رہتی ہیں اور نہ ہی رب یاد رہتا ہے۔ رب کو یاد رکھنا تو دور کی بات وہ نام و نہاد مسلمان کہلوانے کے باوجود اس بات کا دعویٰ اور پرچار کرتا ہے کہ میری حاجت روائی اور مشکل کشائی فلاں بزرگ اور مزار کے طفیل اور صدقے سے ہوئی ہے۔ اگر وہ کلمہ گو نہیں تو بتوں یا کسی اور چیز کا نام لیتا ہے۔ اس طرح دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ خود گمراہ ہونے کے ساتھ جھوٹی کرامات اور من گھڑت کہانیوں سے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ اس شخص کو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت اور اپنے کفر سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے بالآخر تو نے جہنم میں جانا ہے۔ قرآن مجید کے کئی مقامات پر شرک کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے سورة الکافرون پارہ 30 میں مکہ کے مشرکوں کو کافر کے لفظ کسے مخاطب کیا ہے کیونکہ کفر اور شرک نتیجہ کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں شرک کو نا شکری کہا گیا اور اب شرک کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ مشرک کے مقابلے میں مومن کا کردار یہ ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں بھی اپنے رب کو پکارتا اور رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر اس کے حضور قیام، سجود اور اس کی بارگاہ میں رو روکر فریاد پر فریاد کرتا ہے۔ کہ اے میرے پالنہار مجھے آخرت کی سختیوں سے مامون فرما۔ اے نبی ﷺ ان سے پوچھیں کیا علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر بات ہے یہ برابر نہیں ہوسکتے نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ گویا کہ علم کے ساتھ عقل کی بہت ضرورت ہے اور صحیح عقل والا وہ ہے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچے اور آخرت کا فکر کرے۔ یہاں مشرک کو بےعلم بھی قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ حقیقی علم اور عقل رکھنے والا شخص اپنے رب کے ساتھ نہ کفر کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہے۔ (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ )[ رواہ ابن ماجۃ : باب ذکر الموت والاستعداد لہ ] ” حضرت ابو یعلیٰ شداد بن اوس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے۔ نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگا اور اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الجنائز ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ اسی حال میں فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔ “ مسائل 1۔ مشرک صرف مصیبت کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔ 2۔ مشرک مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ 3۔ شرک اور کفر ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ 4۔ مشرک آگ میں داخل کیے جائیں گے۔ 5۔ علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ گویا کہ مشرک جاہل ہے اور توحید والا صاحب علم ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن توحید اور شرک میں فرق : 1۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ : 119، النساء : 87، 122) 2۔ شرک سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ھود : 18) 3۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : 18) 4۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : 13) 5۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : 39) 6۔ شرک بیوقوفی ہے۔ (الجن : 4) 7۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے۔ (البقرۃ : 177) 8۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ (النساء : 48) 9۔ توحید فرمانبرداری کا نام ہے۔ (النحل : 48، الرعد : 15) 10۔ شرک بغاوت ہے۔ (یونس : 23) 11۔ شرک حقیقت کو چھپانا ہے۔ (البقرۃ : 42) 12۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : 18، الانعام : 19، الروم : 30)
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

اے نبی کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : عقل مند وہ ہے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ اور دنیا کے مقابلے میں ایمان کو ترجیح دے اور ایمان کی خاطر وطن چھوڑنا پڑے تو ہجرت کر جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی عظمت اور اہمیت اجاگر فرمانے کے لیے نبی محترم ﷺ کو پے درپے سات مرتبہ لفظ ” قُلْ “ سے حکم دیا ہے۔ اور اس موقعہ پر آخر میں فرمایا : اے نبی ﷺ یہ بات بھی فرما دیں کہ علم والے اور بےعلم یعنی موحد اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لیے موحدین سے فرما دیں کہ کفار اور مشرکین سے ڈرنے کی بجائے صرف اپنے رب سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ یاد رکھو کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی۔ ان کے لیے دنیا اور آخرت میں اچھائی اور بہتری ہے۔ اگر کہیں دین پر عمل کرنا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کر جاؤ کیونکہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بیشک ہجرت کرنا آسان کام نہیں لیکن جو لوگ صبر سے مشکلات کا سامناکریں گے ان کے لیے قیامت کے دن بےحساب اجر ہوگا۔ ” حَسَنَۃٌ“ کا لفظ بھلائی، نیکی اور فائدہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی : ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیز کو ترک کرنا، چھوڑ دینا۔ عرف عام میں دین کی خاطر کسی مقام کو چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ شریعت کے وسیع تر مفہوم میں ہر اس چیز کو چھوڑ دینا ہجرت ہے۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔ (وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَانَھَی اللّٰہُ عَنْہُ ) [ رواہ البخاری : باب المسلم من سلم المسلمون ] ” مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ “ کن حالات میں ہجرت کا حکم ہے ؟ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا کہ مقصد حیات یعنی ایمان کے لیے ہر چیز قربان کردینا ہی اکمل ایمان کی نشانی ہے۔ ایسے ہی جذبات کا مندرجہ ذیل آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ (یٰعِبَادِيَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ أَرْضِيْ وَاسِعَۃٌ فَإِیَّايَ فَاعْبُدُوْنِ ) [ العنکبوت : 56] ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ! میری زمین بہت وسیع ہے بس تم میری بندگی کئے جاؤ۔ “ اس آیت مبارکہ میں و اضح اشا رہ موجود ہے اگر مکہ میں اللہ کی بند گی کرنا مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ۔ ملک خدا تنگ نیست۔ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے جہاں بھی تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکتے ہو وہاں چلے جاؤ۔ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ایمان سے خالی دل ہجرت کی تکالیف اور مشکلات برداشت نہیں کرسکتا یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ (العنکبوت : 26) ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔ “ [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی ] مسائل 1۔ مومن کو ہر حال میں اپنے رب سے ڈرنا چاہیے۔ 2۔ آخرت میں نیکی کا بدلہ بہترین اور بےحساب اجر ہے۔ 3۔ جہاں دین پر عمل کرنا مشکل ہو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم ہے۔ 4۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن ہجرت کا حکم اور اجر : 1۔ ہجرت کا اجر وثواب اور فضیلت۔ (آل عمران : 195) 2۔ ہجرت کے دوران فوت ہونے والے کو پورا ثواب ملے گا۔ (النساء : 100) 3۔ ہجرت کا دنیا میں اجر۔ (النحل : 41، 42) 4۔ ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا۔ (النساء : 97، 99)
Ayahs 39:11–16

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

اے نبی ان سے کہو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کی بندگی کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

انہیں فرمائیں کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے عظیم دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

فرما دیں کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کی بندگی کروں گا

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تم اس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہتے ہو کرتے رہو۔ فرما دیں کہ اصل نقصان پانے والے وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو نقصان میں ڈال دیا، اچھی طرح سن لو کہ یہی کھلا نقصان ہے

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر اور نیچے سے بھی آگ چھائی ہوگی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے پس اے میرے بندو میرے عذاب سے بچو

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ایمانداروں کو حکم ہوا کہ اگر کسی جگہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی کشادہ ہے۔ وہ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دین پر عمل کرنا ہوگا۔ الدّین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے جس کے لیے ہر چیز قربان کردینی چاہیے۔ اے رسول ﷺ آپ لوگوں پر واضح فرمائیں کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی عبادت بلاشرکت غیرے اس طرح کروں جس طرح اس نے مجھے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے رب کا فرما نبردار بنوں۔ اور اس کی توحید کا پرچار کرتا رہوں اس کے ساتھ یہ بھی مجھے حکم ہوا ہے کہ برملا اعلان کروں کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے قیامت کے دن سے ڈرتا ہوں یعنی اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں بھی اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے مجھے باربار تاکید کی گئی ہے کہ میں کھلے الفاظ میں کہوں کہ میں صرف ایک۔” اللہ “ کی عبادت کرتا ہوں ٹھیک اس طریقہ پر جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ اس میں بال برابر بھی میری مرضی کا عمل دخل نہیں ہے۔ یہی بات میں نے تمہیں بار بار بتلائی اور سمجھائی ہے۔ اگر تم سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو تمہاری مرضی۔ البتہ کان کھول کر سن لو کہ وہ لوگ اور ان کے اہل و عیال جو کفر و شرک اختیار کریں گے قیامت کے دن بڑا اور ناقابل تلافی نقصان پائیں گے۔ انہیں اوپر نیچے سے آگ نے گھیر رکھا ہوگا۔ ان پر جہنم کے دروازے بند کردئیے جائیں گے اور انہیں آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ اس عذاب سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے کہ میرے بندو ! مجھ سے ڈرتے رہو اور میری عبادت اس طرح کرو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔ خالص عبادت کا تقاضا ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کی جائے اور نہ اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک بنایا جائے۔ جس نے نیت میں بھی کسی کو اس کا شریک کرلیا وہ شرک کا مرتکب ہوگا۔ جو لوگ طاغوت کی عبادت سے بچیں اور دل و جان سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں۔ یعنی ان کا عقیدہ شرک سے پاک ہو اور اس کا عمل شریعت کے مطابق ہو۔ ان کے لیے اس کے رب کی طرف سے خوشخبری ہے کہ اے میرے بندو ! خوش ہوجاؤ کہ تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا کر ہمیشہ کی جنت میں داخلہ دیا جائے گا کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ جسے جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخلہ دے دیا گیا ہے وہ کامیاب ہوگیا۔ (آل عمران : 158) ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب پانے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے۔ تیرے پاس ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پر دینے کے لیے تیار ہے وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے ہلکی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا وہ یہ کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ راوی کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا لیکن تو شرک سے باز نہ آیا۔ “ [ رواہ مسلم : باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ] والدین کی ذمہ داری : ” اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو جہنم کی آگ سے بچا لو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ جس پر سخت دل فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ اسے فوراً بجا لاتے ہیں۔ “ [ التحریم : 6] مسائل 1۔ انسان کو ہر وقت اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 2۔ عبادت صرف ایک اللہ کی ہی کرنی چاہیے۔ 3۔ نبی اکرم ﷺ کو بھی ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ 4۔ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے دنیا اور آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کی خالص عبادت کرنے کا حکم : 1۔ آپ ﷺ کو حکم ہے کہ آپ فرما دیں کہ میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ (یونس : 104) 2۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (الرعد : 36) 3۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : 2) 4۔ اے لوگو اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ (البقرۃ : 21) 5۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : 40) 6۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی شریک نہ بناؤ (النساء : 36) 7۔ حضرت نوح، ہود، صالح، اور شعیب نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (ہود : 50۔ 61۔ 84) 8۔ اے نبی ﷺ آپ سے پہلے جتنے نبی معبوث کیے گئے انہیں یہی حکم تھا کہ صرف میری عبادت کرو۔ ( الانبیاء : 25)
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

آپ میرے بندوں کو خوشخبری دیں جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ طاغوت کا انکار کرنا بھی لازم ہے۔ قرآن مجید کا صرف اتنا حکم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ اس کا یہ بھی حکم ہے کہ طاغوت کی اطاعت کا قلباً قولاً اور عملاً انکار کیا جائے۔ اسی لیے کلمہ طیبہ میں پہلے معبودان باطل کی نفی ہے اور پھر اللہ کی ذات کا اثبات کیا گیا ہے۔ کیونکہ طاغوت انسان کو توحید کی روشنی سے نکال کر کفر و شرک کے اندھیروں میں لے جاتا ہے۔ جو چیز بھی انسان کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے دور کرے وہ طاغوت ہے۔ بیشک انسان کا اپنا نفس کیوں نہ ہو۔ جو لوگ طاغوت سے اجتناب کرتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف انابت رکھتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کا ارشاد ہے کہ یہ میرے بندے ہیں اس لیے انہیں خوشخبری کا پیغام دیا جائے ان کے رب کی رضا اور جنت ہے۔ طاغوت سے مراد سرکش، گمراہ کرنے والا، شیطان اور ہر باطل معبود ہے۔ مسائل 1۔ اللہ کے بندے طاغوت سے کلیتاً اجتناب کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ کے بندے کا مل یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ 3۔ طاغوت کا انکار کرنے اور اپنے رب کی یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے والوں کے لیے خوشخبری کا پیغام ہے۔ تفسیر بالقرآن طاغوت سے بچنے کا حکم : 1۔ طاغوت کے انکار کا حکم۔ (النساء : 60) 2۔ طاغوت کی عبادت سے بچنے والے کے لیے خوشخبری ہے۔ (الزمر : 17) 3۔ کفار طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ (النساء : 76) 4۔ اہل کتاب میں سے بھی طاغوت کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (المائدۃ : 60) 5۔ طاغوت کا انکار کرنے والا مضبوط کڑے کو تھامتا ہے۔ (البقرۃ : 256) 6۔ کفار طاغوت کے ساتھی ہیں۔ (البقرۃ : 257)
Ayahs 39:18–19

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو میرے بندے بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

اس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہو، کیا آپ اسے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گر نے والا ہے ؟

فہم القرآن ربط کلام : طاغوت سے اجتناب کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھی بات کو توجہ سے سنیں اور اس پر عمل کریں یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے۔ اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور طاغوت سے اجتناب برتنے والوں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اچھی سے اچھی بات کو قبول کرتے ہیں۔ انہی لوگوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے اور یہی عقل والے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت اور عقل مندی کا نتیجہ ہے کہ مختلف قسم کی باتیں سننے کے باوجود ” اللہ “ کے بندے ہمیشہ اچھی بات قبول کرتے ہیں۔ اچھی بات کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے۔ (وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْن)[ حٰمٓ السجدہ : 33] ” اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور اچھے کام کرے اور کہے میں اللہ کا تابعدار ہوں۔ “ بہترین اسلام کی خوبی ہے : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہٖ )[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔ “ جو اچھی بات قبول نہیں کرتے انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ جو ہدایت سے محروم ہوں گے ان پر اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ ثابت ہوگا کہ یہ لوگ جہنم میں گرنے والے ہیں۔ اے رسول ﷺ بیشک آپ ہزار کوشش کرلیں آپ انہیں جہنم کی آگ سے نہیں بچا سکتے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّا اَضَآءَ تْ مَا حَوْلَھَا جَعَلَ الْفِرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِی تَقَعُ فِی النَّارِ یَقَعْنَ فِیْھَا وَجَعَلَ یَحْجُزُھُنَّ وَیَغْلِبْنَہٗ فَیَتَقَحَّمْنَ فِیْھَا فَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَأَ نْتُمْ تَقَحَّمُوْنَ فِیْھَا ھٰذِہٖ رِوَایَۃُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُھَا وَقَالَ فِیْ اٰخِرِھَا قَالَ فَذَالِکَ مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ اَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ ہَلُّمَ عَنِ النَّارِ ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُوْنِیْ تَقَحَّمُوْنَ فِیْھَا)[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، رواہ مسلم : کتاب الفضائل ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : میری مثال آگ روشن کرنے والے کی طرح ہے۔ جب آگ سے اس کا آس پاس روشن ہوگیا تو پروانے اس میں گرنے لگے۔ آگ جلانے والے نے انہیں بچانے کی سر توڑ کوشش کی لیکن پروانے اس سے بےقابو ہو کر گرتے رہے۔ بس میں تمہیں آگ سے بچانے کے لیے پیچھے سے پکڑتا ہوں مگر تم اس میں گرتے جا رہے ہو۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم میں اس طرح ہے کہ میری اور تمہاری مثال ایسے ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ میری طرف آؤ اور آگ سے بچو، لوگو ! آگ کی بجائے میری طرف آؤ۔ لیکن تم مجھ سے بےقابو ہو کر آگ میں گرے جا رہے ہو۔ “ (عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعُواللَّہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الأُمُورِ کُلِّہَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَاب الآخِرَۃِ )[ رواہ احمد : مسند بسر بن ارطاۃ ] ” حضرت بسر بن ارطاۃ قرشی ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ ! ہمارے تمام معاملات کا انجام اچھا فرما اور ہمیں دنیا اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے بندے احسن بات کو قبول کرتے ہیں۔ 2۔ احسن بات قبول کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی فرماتا ہے۔ 3۔ احسن بات قبول کرنے والے ہی عقلمند ہوتے ہیں۔ 4۔ جو لوگ احسن بات قبول نہیں کرتے وہ آگ سے نہیں بچ سکتے۔ تفسیر بالقرآن احسن کیا ہے ؟ 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن پیدا کیا ہے۔ ( التین : 4) 2۔ اللہ تعالیٰ نے موت اور زندگی اس لیے بنائی ہے کہ انسان احسن عمل کرے۔ (الملک : 2) 3۔ توحید کی دعوت دینے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والے کی بات سے کسی کی بات احسن نہیں ہوسکتی۔ (حم ٓ السجدۃ : 33)