Ayah 39:20فہم القرآن
ربط کلام : احسن بات کو قبول کرنے اور طاغوت سے بچنے والوں کا صلہ۔
طاغوت سے بچنے اور اپنے رب سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو ان کا رب جنت کے بلند وبالا محلات اور اعلیٰ مقامات میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ متقین کے ساتھ ان کے رب کا وعدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تقویٰ کیا ہے :
” اللہ کی ذات، احکام اور اس کے شعائر کے احترام کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ “ (الحج : 32)
” تقویٰ نام ہے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے کا۔ “ (النور : 52)
” تقویٰ نام ہے سمع و اطاعت کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے رہنے کا۔ “ (التغابن : 16)
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیل اللّٰہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں سودرجے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس مانگا کرو۔ بلاشبہ وہ جنت کے درمیان اور سب سے اعلیٰ جنت ہے میں نے دیکھا کہ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اس سے ہی جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا)
[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....]
” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا۔ جنتی ایک دوسرے کے ہاں جھانک نہیں سکیں گے۔ “
مسائل
1۔ متقین کو جنت کے محلات میں داخل کیا جائے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
جنت اور اس کی نعمتیں :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، گھنا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30)
4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23)
5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31)
6۔ جنت میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں کسی جن وانس نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ ( الرحمن : 56)
7۔ جنت میں محبت کرنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ ( الواقعہ : 37)
8۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : 25 تا 38)
Ayah 39:21فہم القرآن
ربط کلام : جس اچھے قول کی متقی پیروی کرتے ہیں اس کی مثال بارش کی مانند ہے :
اچھے قول سے مراد ” اللہ “ کا دین ہے جسے ” اللہ “ نے وحی کے ذریعے نبی آخر الزمان ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ اس کی مثال یہاں اور سورة البقرہ کی آیت 19 میں بارش کے ساتھ دی گئی ہے۔” اس کی مثال آسمان سے بارش کی طرح جس میں اندھیرے گرج ‘ اور بجلی ہے لوگ موت سے اور کڑک سے ڈر کر اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ “ (البقرۃ : 19) اس مقام پر ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے جسے زمین کے سوتوں میں پہنچاتا اور چشمے جاری کرتا ہے۔ پھر اس کے ذریعے مختلف قسم کی فصلیں اگاتا ہے۔ ان میں ایسی جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں جو صرف بارش سے اگتی ہیں اور کچھ مدّت کے لیے لہلاتی ہیں او پھر گل سڑ جاتی ہیں۔ بارش کے نزول اور اس کے ذریعے اگنے والی مختلف قسم کی نباتات میں عقل سے کام لینے والوں کے لیے بہت سی نصیحتیں ہیں۔” لُبّ “ کا معنٰی عقل، فہم، فراست، دانائی اور سمجھ وغیرہ ہے۔
” حضرت ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس علم اور ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال زمین پر برسنے والی موسلا دھار بارش کی طرح ہے جو زمین کا قطعہ اچھا تھا اس نے اسے قبول کیا۔ اس نے گھاس اور سبزہ خوب اگایا۔ جو زمین سخت تھی پانی اس میں جذب ہونے کی بجائے کھڑارہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ لوگوں نے خود پانی پیا اور جانوروں کو پلایا اور پھر اس سے کھیتی باڑی بھی کی۔ زمین کا تیسرا ٹکڑا چٹیل میدان تھا نہ اس نے پانی جذب کیا اور نہ ہی پانی اس کے اوپر ٹھہرا۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین دے کر مجھے مبعوث فرمایا اس دین کی فہم حاصل کرنے والے اور اس سے نفع اٹھانے والے کی مثال ایسے ہے کہ اس نے علم سے فائدہ اٹھایا خود سیکھا اور لوگوں کو بھی سکھلایا۔ دوسری زمین کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے دین کے علم کی طرف توجہ نہ کی اور نہ ہی اس بات کو قبول کیا جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب فضل من علم ]
مسائل
1۔ ” اللہ “ ہی آسمان سے بارش نازل کرنے والا ہے۔ 2۔” اللہ “ ہی بارش کے ذریعے مختلف قسم کی نباتات اگاتا ہے۔
3۔ ” اللہ “ ہی بارش کے پانی کو زمین میں داخل کرتا اور چشمے جاری کرتا ہے۔
4۔ بارش اور اس سے اگنے والی نباتات میں عقل والوں کے لیے نصیحت ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی بارش نازل کرنیوالا ہے :
1۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا ” اللہ “ ہے کیا اس کے ساتھ کوئی اور برسانے والا ہے ؟ (النمل : 60)
2۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جو ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے بھیجتا ہے جو بھاری بادل اٹھاتی ہیں۔ (الاعراف : 57)
3۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل کرنے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164)
4۔ قیامت برپا ہونے، بارش کے نازل ہونے، جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی انہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ (لقمان : 34)
5۔ تم ” اللہ “ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا۔ (ہود : 52)
Ayah 39:22فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح بارش کا پانی جذب کرنے کے بعد زمین گل و گلزار اگاتی ہے اسی طرح ہی جو شخص ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور وہ اسلام کی روشنی میں زندگی بسر کرتا ہے۔
اسلام کی پہلی دعوت ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات پر اسی طرح ایمان لانا ہے جس طرح اس کا حکم اور تقاضا ہے۔ جو شخص توحید کے تقاضے پورے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے جس بنا پر اس کے سینے میں ہدایت کا نور پیدا کردیتا ہے۔ ایسا شخص بڑی سے بڑی مصیبت میں اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ اسے غیر معمولی کا میابی اور خوشی نصیب ہوتی ہے تو بھی اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جس کا دل کفر و شرک اور گناہوں کی وجہ سے سخت ہوگیا ہو۔ اسے نصیحت کی جائے تو وہ اس سے چڑتا ہے۔ اللہ کی توحید کا تذکرہ ہو تو اس سے بد کتا ہے۔ اس قسم کے لوگ راہ راست سے اس قدر بھٹک جاتے ہیں کہ ان کی گمراہی میں رتی بھر بھی شک باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ ان کے دل اس قدر سخت ہوجاتے ہیں کہ ان پر کوئی نصیحت اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بدقسمتی اور نافرمانی کا وہ درجہ ہے۔ جس کے بارے میں قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور ان کی آنکھوں پر گمراہی کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن ان کے لیے عظیم عذاب ہوگا۔ ( البقرہ : 7)
Ayah 39:23فہم القرآن
ربط کلام : جس نور کا پچھلی آیت میں ذکر ہوا وہ قرآن مجید کی شکل میں نازل ہوا ہے اور ” اللہ “ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
اس سے پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے وہ اپنے رب کے نور پر ہوتا ہے۔ المائدۃ آیت 15 میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے پھر ارشاد ہوا کہ اس قرآن کو ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل فرمایا تاکہ آپ اپنے رب کے حکم سے لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر قرآن کے نور کی طرف لے آئیں۔ (ابراہیم : 1)
یہاں قرآن مجید کو ” اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ “ فرمایا ہے۔ اس کی آیات اور مضامین آپس میں ملتے جلتے ہیں اور باربار دوہرائے جاتے ہیں۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ قرآن کی آیات سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، اور ان کے وجود کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے دل اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان کی طرف مزید متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ ” اللہ “ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ جس کو اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا۔ قرآن مجید کے بیشمار اوصاف ہیں اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے چار اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا ہے۔
1 قرآن مجید کے احکام اور اس کے ارشادات ہر اعتبار سے بہترین اور دنیا اور آخرت کے لیے بےانتہا مفید ہیں۔ نبی آخرالزمان ﷺ اپنے خطبہ میں اکثر یہ الفاظ پڑھا کرتے تھے۔
(فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللَّہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ)
[ رواہ مسلم : باب تَخْفِیف الصَّلاَۃِ وَالْخُطْبَۃِ ]
” بیشک سب سے بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ بدترین کام بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “
2 قرآن مجید کے مضامین آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ ان میں کسی قسم کا تعارض اور تنا قص نہیں پایا جاتا۔ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا جو واقعات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں انہیں مختلف الفاظ میں اور کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے لیکن کسی ایک واقعہ میں تضاد کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔
3 قرآن مجید اس قدر محبوب اور دل آویز کتاب ہے کہ اسے جتنی بار بھی پڑھا جائے اس کی کشش اور لذّت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی کتاب موجود نہیں اور نہ ہوگی جسے باربار پڑھنے سے دل کی چاہت میں اضافہ ہوتا ہو یہ لذت اور سرور صرف کتاب اللہ میں ہی پایا جاتا ہے۔
4 قرآن مجید کی تاثیر کا عالم یہ ہے کہ کوئی شخص اسے سمجھ کر پڑھے یا صرف اس کی تلاوت کرے تب بھی یہ کتاب پڑھنے والے پر اپنا غیر معمولی اثر پیدا کرتی ہے جس وجہ سے ترجمہ نہ جاننے والے شخص پر بھی اس قدر گہرا اثر ہوتا ہے کہ اس کے جسم کے رو نگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، اس کا وجود لرزتا ہے اور دل اللہ کی یاد میں مسرور اور مسحور ہوجاتا ہے۔ جس نے سمجھ کر اس کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی کوشش کی اس میں کسی قسم کا تکبر نہیں پایا جاتا اگر کسی وقت اس پر شیطان کا غلبہ ہو۔ تو وہ اللہ کی یاد سے شیطان کے اثرات سے نجات پاتا ہے۔
ہدات اور گمراہی کے بارے میں فہم القرآن کے کئی مقامات پر عرض ہوا ہے کہ جس طرح دوسری نعمتیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اسی طرح ہدایت اور گمراہی بھی اس کے قبضہ میں ہے۔ جو شخص ہدایت کا طالب ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کرتا ہے اور جو ہدایت نہیں چاہتا اسے گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ کہ وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کر دے۔
” جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت والا ہے اور جسے وہ گمراہ کردے وہ شخص خسارہ پانے والا ہے۔ “ (الاعراف : 178)
(عَنِ ابْنِ عَبَّاس ؓ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ ؓ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ قَدْ شِبْتَ قَالَ شَیَّبَتْنِی ہُودٌ وَالْوَاقِعَۃُ (وَالْمُرْسَلاَتُ ) وَ (عَمَّ یَتَسَاءَ لُونَ ) وَ (إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ) قَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ لاَ نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَرَوَی عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ نَحْوَ ہَذَا وَرُوِیَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ شَیْءٌ مِنْ ہَذَا مُرْسَلاً ] [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الْوَاقِعَۃِ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ بوڑھے ہوئے جا رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا سورة ھود، واقعہ، مرسلات، عم یتساء لون اور سورة تکویر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ “
” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔ یقیناً دوزخیوں میں سب سے معمولی عذاب پانے والے کے پاؤں میں آگ کے جوتے اور تسمے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھول رہا ہوگا۔ وہ یہ خیال کرے گا کہ دوسرے شخض کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا، حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ “ [ رواہ مسلم : باب أھون أھل النار عذابا ]
مسائل
1۔ قرآن مجید کے احکام اور ارشادات ہر حوالے سے بےمثال اور دنیا اور آخرت میں بےانتہا فائدہ دینے والے ہیں۔
2۔ قرآن مجید کے مضامین اور احکام میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ 3۔ قرآن مجید ہی باربار پڑھی جانے والی کتاب ہے۔
4۔ قرآن مجید کی تلاوت سے انسان کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور وجود میں لرزہ طاری ہوتا ہے اور دل اپنے رب کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ 5۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کی تاثیر :
1۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
2۔ قرآن مجید لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (ابراہیم : 1)
3۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 4۔ قرآن مجید دلوں کے لیے شفا ہے۔ ( یونس : 57)
5۔ تلاوت قرآن سے اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ (الانفال : 2) 6۔ قرآن کی تلاوت سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ (الانفال : 2)
Ayah 39:24فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے ہدایت کے باوجود گمراہی کو پسند کیا ان کا انجام۔
جس شخص نے اپنے لیے گمراہی کو پسند کیا اس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے قیامت کے دن اسے بد ترین عذاب ہوگا اور انہیں کہا جائے گا کہ ظالمو ! اپنے کیے کا مزہ چکھو۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب اس پر کوئی چیز سامنے سے حملہ آور ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس سے اپنا چہرہ چھپانے اور بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر شعلہ فگن ہوگی جس کے شعلے پہاڑوں کی مانند ہوں گے اور جہنمی کا جسم اتنا بڑا گا کہ اس کی زبان تین میل لمبی اور اس کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی۔ (رواہ البخاری : کتاب الرقاق) جب اسے جہنم میں دھکیلا جائے گا تو جہنم کی آگ طوفان کی شکل میں اس کا استقبال کرے گی اور اس کے شعلے اس قدر جوش مارتے ہوئے جہنمی کے چہرے کی طرف لپکیں گے۔ کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس کا چہرہ بچ جائے لیکن وہ کسی صورت اپنا چہرہ اور جسم نہ بچا سکے گا۔
(کَلَّا لَیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحُطَمَۃُ نَار اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْءِدَۃِ اِِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُوْصَدَۃٌ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ )[ الہمزۃ : 4 تا 9]
” ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یقیناً وہ حطمہ میں ڈال دیا جائے گا اور تجھے کیا معلوم حطمہ کیا ہے۔ حطمہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک چڑھ آئے گی وہ آگ ان کو گھیرے ہوئے ہے لمبے لمبے ستونوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ “
(لَہُمْ مِنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ذَلِکَ یُخَوِّفُ اللَّہُ بِہِ عِبَادَہُ یَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ )[ الزمر : 16]
” ان کے اوپر اور نیچے سے آگ ہوگی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے پس اے میرے بندو میرے عذاب سے بچو۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِینَ جُزْءً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ قیلَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْہِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَسِتِّینَ جُزْءً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّہَا) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر درجے کم ہے۔ صحابہ نے عرض کی کیا یہی آگ کافی نہیں تھی۔ آپ نے فرمایا وہ اس سے انہتر درجے زیادہ تیز ہے اور ہر درجہ دوسرے کے برابر ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو ایک ہزار سال تک کو بھڑکا یا گیا تو وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتی کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “
مسائل
1۔ جہنمی جہنم کی آگ سے اپنے چہرے بچانے کی کوشش کریں گے لیکن وہ ہرگز نہ بچا سکیں گے۔
2۔ قیامت کے دن ظالموں کو ہر صورت اپنے کردار کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
جہنم کی آگ کا جوش :
1۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 2۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبۃ : 81)
3۔ مجرم لوگ جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 4۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30)
5۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور اس پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : 6)
6۔ مجرموں کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کی چٹخارسنیں گے۔ (الملک : 7)
7۔ جہنم کی آگ کے شعلے بڑے بڑے مکانوں کے برابر بلند ہوں گے۔ ( المرسٰلٰت : 32)
Ayahs 39:25–26فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کو صرف آخرت میں سزا نہیں ملے گی بلکہ دنیا میں بھی انہیں ذلّت سے دوچار ہونا پڑے گا۔
نبی اکرم ﷺ کفار اور مشرکین کو باربار سمجھاتے کہ اگر تم نے کفر و شرک کو نہ چھوڑا تو قیامت کے دن تمہیں اذیت ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور دنیا میں بھی تم پر عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ اس بات پر لوگ آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے اور تکرار کے ساتھ مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا ہے کہ جس عذاب کا تم مذاق اڑاتے ہو وہ تمہیں ایسے مقام اور وقت میں آلے گا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اگر سمجھنا اور بچنا چاہتے ہو تو اپنے سے پہلے ظالموں کی تاریخ پڑھو اور ان کا جغرافیہ دیکھو ! تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی زندگی میں کس طرح ذلیل کیا اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔ کا ش ! لوگ حقیقت پانے کی کوشش کریں۔
تفسیر بالقرآن
پہلی اقوام پر عذاب کی مختلف صورتیں :
1۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : 45) 2۔ قوم عاد کو تیز و تند ہوا نے ہلاک کیا۔ (الحاقۃ : 6)
3۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
4۔ آل فرعون کو غرق کردیا گیا۔ (البقرۃ : 50) 5۔ بنی اسرائیل کو اللہ نے ذلیل بندر بنا دیا۔ (البقرۃ : 65)
Ayahs 39:27–28فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کو عذاب میں مبتلا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہا دفعہ سمجھایا تاکہ یہ عذاب سے بچ جائیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ ہے کہ اس وقت تک کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا جب تک ان کے پاس حق کا پیغام نہ پہنچ جائے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام کے پاس انبیائے کرام (علیہ السلام) بھیجے جو انہیں ٹھوس دلائل اور مؤثر انداز میں سمجھاتے رہے۔ اسی اصول کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا اور قرآن مجید میں مختلف امثال کے ذریعے لوگوں کو نصیحتیں فرمائیں تاکہ لوگ کفر و شرک اور ہر قسم کی نافرمانیوں سے بچ کر قرآن کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف اور ابہام نہیں پایا جاتا۔ قرآن مجید یکبار نہیں بلکہ تئیس (23) سال میں وقفہ وقفہ سے نازل ہوا۔ اس کے باوجود اس میں کسی قسم کا تعارض نہیں پایا جاتا۔ قرآن مجید اپنا پیغام اس قدر پُر حکمت اور شفاف انداز میں پیش کرتا ہے کہ معمولی سمجھ رکھنے والا انسان بھی اس سے کامل راہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔ پھر لوگوں کی فہم کی آسانی کے لیے توحید و رسالت اور موت کے بعد جی اٹھنے کے عقیدہ کو کئی مثالوں کے ذریعے بیان اور ثابت کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس پر ایمان لائیں، اس کے تقاضے پورے کریں اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں کوئی ابہام اور اختلاف نہیں پایا جاتا :
1۔ یہ کتاب مبین ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف : 1)
3۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : 57)
Ayah 39:29فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید میں بیان کی گئی امثال میں سے ایک مثال۔
قرآن مجید کی پہلی اور بنیادی دعوت ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات کا شعور حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنا ہے اس لیے توحید کو مختلف انداز اور امثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ مشرک اور موحد کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کی مثال دی ہے۔ ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو کئی آقاؤں کا زر خرید غلام ہے۔ جو مختلف مزاج رکھنے والے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر بد اخلاق ہیں۔ اس غلام کو ایک مالک اپنی طرف بلاتا ہے اور دوسرا اپنے پاس آنے کا حکم دیتا ہے۔ ایک آقا اپنی مرضی کا کام دیتا ہے اور دوسرا اس کے الٹ ڈیوٹی لگاتا ہے۔ اس غلام کی بےبسی اور مظلومیت کا کون تصور کرسکتا ہے کہ جو ایک قدم آگے بڑھانے پر مجبور ہے اور دوسرا قدم پیچھے کی طرف اٹھانے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ جائے تو کہاں جائے حکم مانے تو کس کا مانے۔ گویا کہ وہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جس کا صرف ایک ہی مالک ہے جو نہایت ہی خیر خواہ اور بہت مہربان ہے وہ اسے حکم دیتے ہوئے اس کی طبیعت اور استعداد کا خیال رکھتا ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ کوئی ادنیٰ عقل رکھنے والا شخص بھی انہیں ایک جیسا نہیں کہہ سکتا۔ اسی لیے موحد کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے جس نے اسے صرف اپنے سامنے جھکنے کا حکم دیا اور اس کو دردر کی ٹھوکروں سے بچا لیا۔ اور توحید کے ایسے دلائل دیئے کہ جو ہر دور کے مشرک کو لاجواب کردیتے ہیں لیکن مشرک اس قدر حقیقی علم سے بیخبر ہوتا ہے کہ وہ دو غلاموں کا فرق سمجھنے اور اس سچائی کو جاننے کے باوجود صرف اللہ کی بندگی اور بہت سے خداؤں کی بندگی میں فرق کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی مشرک اور موحد کا فرق ہے۔ موحد کا عقیدہ ہے کہ میرا رب میری طاقت سے زیادہ مجھ پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت اور خیر خواہی ہوتی ہے جس بنا پر موحّد عُسر اور یسر، خوشی اور غمی میں اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مشرک نہ اپنے رب کے حکم کی اتباع کرتا ہے اور نہ ہی اس کے فیصلوں پر راضی ہوتا ہے رب کا حکم ہے کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہ کی جائے اور نہ میرے حکم کے خلاف کسی کا حکم تسلیم کیا جائے۔ مشرک نہ اپنے رب کے فیصلوں پر راضی ہوتا ہے اور نہ اس کے حکم کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ ایک رب کی عبادت کرنے کی بجائے جگہ جگہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے۔ ایک مالک کا حکم ماننے کی بجائے کبھی کسی ڈکیٹر کا حکم مانتا ہے اور کبھی جمہوریت کو حاکم اعلیٰ تسلیم کرتا ہے۔ وہ ایک رسول کی اطاعت کرنے کی بجائے جو حقیقتاً اللہ کی اطاعت ہے کئی اماموں اور بزرگوں کی اطاعت کا دم بھرتا ہے۔ کیا ” اللہ “ اور اس کے رسول کی تابعداری بہتر ہے یا کئی خداؤں اور بہت سے اماموں کی تابعداری بہتر ہے ؟ پھر سوچ لیجیے کہ دونوں میں کون بہتر ہے ؟ لیکن مشرک اس حقیقت کو پانے کے لیے تیار نہیں۔
مسائل
1۔ کیا ایک کی غلامی بہتر ہے یا کئی آقاؤں کی غلامی بہتر ہے ؟
2۔ کیا ایک الٰہ کا بندہ بننا اور اس کی عبادت کرنا بہتر ہے یا کئی خداؤں کا بندہ بننا اور ان کے سامنے جھکنا بہتر ہے ؟
3۔ کیا حاکم حقیقی کا حکم ماننا بہتر ہے یا کسی ڈکٹیٹر اور جمہوریت کو حاکم اعلیٰ تسلیم کرنا بہتر ہے ؟
4۔ کیا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بہتر ہے یا درجنوں خداؤں، کئی اماموں اور پیروں کی تابعداری بہتر ہے ؟
5۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے انسان کو صرف اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔
6۔ لوگوں کی اکثریت حقائق جاننے اور انہیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
تفسیر بالقرآن
قرآن کی امثال :
1۔ ایک غلام کے دو مالک ہوں تو ؟۔ (الزمر : 29) 2۔ ناکارہ اور کار آمد غلام کی مثال۔ (النحل : 76)
3۔ مشرک کی تباہی کی مثال۔ (الحج : 31) 4۔ باطل معبودوں اور مکھی کی مثال۔ (الحج : 73)
5۔ دھوپ اور سایہ کی مثال۔ (فاطر : 21) 6۔ اندھیرے اور روشنی کی مثال۔ (فاطر : 20)
7۔ اندھے، دیدے، بہرے اور سننے والے کی مثال۔ (ھود : 24)
Ayahs 39:30–31فہم القرآن
ربط کلام : بےعلمی کی انتہا اور اس کے برے نتائج۔
مکہ کے ابتدائی سالوں کی بات ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ قرآن مجید کے دلائل اور اس میں دی جانے والی امثال کے ذریعے توحید و رسالت اور آخرت کا عقیدہ بیان فرماتے تو مکہ کے بڑے بڑے لوگ لاجواب ہوجاتے لیکن عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہتے کہ محمد ﷺ کی خود ساختہ دعوت از خود ختم ہوجائے گی تھوڑے سے انتظار کی ضرورت ہے اس کے مرنے کے بعد اس کا قصہ بالکل پاک ہوجائے گا۔ نہ اس کا بیٹا ہے جو اس کے مشن کو جاری رکھ سکے اور نہ اس کے ساتھی اتنے زیادہ ہیں جو ہمارا مقابلہ کرسکیں۔ اس موقعہ پر انہیں یہ جواب دیا گیا کہ ان کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ کو موت آجائے گی۔ کیا آپ کو موت آئے گی تو انہوں نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ انہوں نے بھی مرنا ہے اور آپ کو بھی موت آئے گی کیونکہ موت ہر ذی روح کا مقدر ہے۔ صرف آپ ﷺ کا رب ہمیشہ سے ہے اور اس نے ہمیشہ رہنا ہے۔ اسی کے سامنے قیامت کے دن تنا زعات پیش ہوں گے اور وہی تمہارے تنازعات کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
تنازعات انفرادی ہوں یا اجتماعی، مذہبی ہوں یا سیاسی، مالیاتی ہوں یا فوج داری غرض کے جس قسم کے بھی چھوٹے بڑے تنازعات ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلے صادر فرمائے گا۔ یہاں تک کہ جانوروں کے درمیان بھی عدل کے ساتھ فیصلے کیے جائیں گے۔
(عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “
(عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ ]
” حضرت عبادہ بن صامت ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ یا آپ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی نے عرض کیا ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام واکرام کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوجاتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے سامنے چیزوں سے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔
(مومن موت سے پہلے گھبراتا ہے جب آجاتی ہے تو اپنے مالک کی ملاقات کے لیے خوش ہوجاتا ہے۔ )
مسائل
1۔ اے رسول ﷺ آپ کو بھی موت آئے گی اور آپ کے مخالفوں نے بھی مرنا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
موت سب کو آنی ہے :
1۔ ہر شے فنا ہوجائے گی۔ صرف رب رحمن باقی رہے گا۔ (الرحمن : 26، القصص : 88)
2۔ قلعہ بند ہونے کے باوجود موت تمہیں نہیں چھوڑے گی۔ (النساء : 78) 3۔ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے۔ (الاعراف : 34)
4۔ پہلے انبیاء فوت ہوئے۔ (آل عمران : 144) 5۔ رسول اللہ ﷺ بھی موت سے ہمکنار ہوں گے۔ (الزمر : 30)
6۔ ہر نفس کو موت آئے گی جو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہوگا۔ ( آل عمران : 185)
Ayah 39:32فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید کا انکار اور دین حق کو جھٹلانے والوں کا انجام۔
اہل مکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے تھے کہ آپ قرآن اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں یہاں بین السطور اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بڑا اور برا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اور جب اس کے سامنے قرآن و سنت پیش کیے جائیں تو وہ ان کی تکذیب کرے ایسے جھگڑالو اور جھوٹے آدمی کی سزا جہنم کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کا یہ بھی معنٰی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے زندہ یا فوت شدہ کسی ہستی کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے۔ ایسا کہنے والا پرلے درجے کا ظالم، کذاب اور جھگڑالو ہے۔ اس کے ساتھ وہ شخص بھی بالواسطہ طور پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ جھوٹ لگاتا ہے جو سروردوعالم ﷺ کی تکذیب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کافرقرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کے لیے جہنّم تیار کی گئی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا سب سے بڑا ظالم ہے۔ 2۔ نبی معظم ﷺ کی تکذیب کرنے والا بھی ظالم ہے۔
3۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنیوالے کافر ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے۔
تفسیر بالقرآن
بڑے بڑے ظالم :
1۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف : 37) 2۔ سچ بات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الزمر : 32)
3۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 12) 4۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 93)
Ayahs 39:33–35فہم القرآن
ربط کلام : حق کو جھٹلانے والے کے مقابلے میں سچائی کی تصدیق کرنے والے کا مقام اور صلہ۔
جو شخص لوگوں کے سامنے سچائی کے ساتھ آیا اور جس نے سچائی کی حمایت کی وہی لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جس کی وہ تمنا کریں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی صلہ دیا جائے گا۔ حق لانے والے سے مراد سرور دوعالم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ تصدیق کرنے والوں میں سر فہرست صحابہ کرام (علیہ السلام) کی جماعت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ( علیہ السلام) کو حق بات کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کیا اور دل و جان کے ساتھ حق کا ساتھ دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کے بعدہر آدمی اس صلہ کا حق دار ٹھہرے گا۔ جس نے سچائی کو قبول کیا اور خلوص دل کے ساتھ لوگوں تک حق بات پہنچانے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایسے لوگ ہی صاحب تقویٰ ہیں انہیں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو ختم فرمائے گا اور ان کے نیک کاموں کا بہترین بدلہ دینے کے ساتھ انہیں اپنے کرم سے مزید نوازتا رہے گا۔ گناہوں کے خاتمہ کے بارے میں ” کَفَّرَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے کسی بات کو ہر اعتبار سے چھپادیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدق دل سے حق کو ماننے والے اور اپنی استعداد کے مطابق اس کا پرچار کرنے والوں کے نامہ اعمال سے ان کے گناہوں کو کلیتاً ختم کردیا جائے گا۔ الحمد للہ علی ذالک !
(مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی ....]
” جس نے نیکی کے کام کی رہنمائی کی اس کو نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔ “
نبی اکرم ﷺ کی دعا :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ کَانَ یَقُولُ فِی سُجُودِہٖ اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہٗ دِقَّہٗ وَجِلَّہٗ وَأَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ وَعَلَانِیَتَہٗ وَسِرَّہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ اپنے سجدوں میں پڑھا کرتے تھے اے اللہ میرے چھوٹے اور بڑے پہلے اور بعد والے، اعلانیہ اور پوشیدہ کیے ہوئے تمام کے تمام گناہ معاف فرمادے۔ “
احسن بات اور احسن عمل :
(وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ )[ حم السجدہ : 33]
” اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کسی کی ہوسکتی ہے کہ جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے اور اقرار کیا کہ میں مسلمان ہوں۔ “
مسائل
1۔ جس شخص نے حق قبول کیا اور اسے لوگوں تک پہنچایا اس کے لیے بہترین اجر ہوگا۔
2۔ حق قبول کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے والے کے گناہوں کو بالکل ختم کردیا جاتا ہے۔
3۔ مذکورہ شخص پر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بےانتہا کرم نوازیاں فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے :
1۔ میں اللہ سے مغفرت طلب کروں گا بیشک وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (یوسف : 98)
2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے معاف کر دے، جسے چاہے عذاب دے، وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 129)
3۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یقیناً وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (التوبۃ : 99)
4۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 199)
5۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں سکتے اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ( النحل : 18)
6۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے یہی لوگ امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 218)
7۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : 109)
Ayahs 39:36–37فہم القرآن
ربط کلام : حق کی تصدیق اور تبلیغ کرنے والوں کے لیے آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستگیری کا اعلان۔
حق بات کو قبول اور اس کا پرچار کرنا بالخصوص توحید باری تعالیٰ کا پرچار کرنا ہمیشہ سے مشکل ترین کام رہا ہے۔ جس شخص نے بھی توحیدِباری تعالیٰ کا پرچار کرنے کی کوشش کی۔ کفر و شرک کے دلدادہ لوگوں نے اس کا جینا دوبھر کردیا۔ اس راستے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کرنا پڑا۔ مشرکین نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جسمانی اذّیتوں میں مبتلا کرنے کے ساتھ انہیں اعصابی اور فکری طور پر توڑے دینے کی کوشش کی۔ ” اللہ “ کی توحید کا پرچار اور حق کے ابلاغ میں سب سے زیادہ تکلیفیں رسول کریم ﷺ کو پہنچائیں گئیں۔ جسمانی اور ذہنی تکالیف کے ساتھ آپ ﷺ کو یہ کہہ کر دبانے کی کوشش کی گئی کہ اگر تو نے ہمارے خداؤں کی مخالفت جاری رکھی تو یہ تجھے تہس نہس کردیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ضمانت دی ہے۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ؟ ہجرت کے وقت جب آپ ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ غار ثور میں تھے تو کفار تلاش کرتے کرتے غار کے دہانے پر پہنچ گئے حضرت ابوبکر ؓ گھبراکر کہنے لگے اللہ کے نبی ﷺ وہ تو یہاں بھی پہنچ گئے ہیں آپ نے فرمایا ابوبکر گھبراؤ نہیں ” اللہ “ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کا دوسرا معنٰی یہ ہے کہ میرے نبی کی مخالفت کرنے والو ! تم ایڑی چوٹی کا زور لگا لو۔ تم نہ میرے نبی کو گزند پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی دین حق کو دبا سکتے ہو۔ تمہاری مخالفت کرنا انوکھی بات نہیں۔ یہ شروع سے ہوتا آرہا ہے کہ مشرک حق والوں کو اپنے معبودوں سے ڈراتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے ڈرانے والے گمراہ ہوتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت پر قائم رکھے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا۔ ہر کسی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بدلہ لینے میں پوری طرح غالب ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے داعی اور حق کے مبلغ کو ہدایت پر قائم رہنے کی ضمانت دی ہے۔
آپ ﷺ کی دعا :
(یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ]
” اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ “
مسائل
1۔ 1 للہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے ڈرانے والے گمراہ ہوتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ جسے گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
4۔ اللہ تعالیٰ جسے ہدایت پر قائم فرمائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
مشرکین کا انبیاء ( علیہ السلام) کو ڈرانا :
1۔ مشرکوں کی حضرت نوح (علیہ السلام) کو دھمکی اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کردیا جائے گا۔ (الشعراء : 116)
2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کردوں گا۔ (مریم : 46)
3۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی۔ ( المؤمن : 26) 4۔ شعیب (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکیاں دیں۔ (ھود : 91)
5۔ فرعون کی ایمانداروں کو دھمکیاں کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھا دوں گا۔ (طٰہٰ : 71)
6۔ مشرکوں کی حضرت لوط (علیہ السلام) کو دھمکی کہ اگر تو باز نہ آیا تو تمہیں شہر بدر کردیں گے۔ (الشعراء : 167)
7۔ مشرکوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو شہر سے نکال دیں گے۔ (الاعراف : 88)
8۔ یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی چڑھانے کی کوشش کی۔ (النساء : 157)
9۔ کفار نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی۔ (الانفال : 30)
Ayahs 39:38–40فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید اور دین حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں سے ایک سوال۔
قرآن مجید نے اللہ کی توحید سمجھانے اور دین حق کی پہچان کروانے کے لیے ہر زاویہ سے کوشش فرمائی ہے کہ لوگ اللہ کی توحید کا اقرار کریں جو دین حق کی مرکزی اور پہلی اساس ہے۔ مشرکین کی سوئی ہوئی حِس کو بیدار کرنے کے لیے سوال کیا جارہا ہے کہ اے حبیب ﷺ ! اگر آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اب ان سے پھر سوال کریں کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواپکارتے ہو اگر مجھے اللہ کی طرف سے تکلیف پہنچے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ اگر میرا رب مجھ پر اپنی رحمت کا نزول فرمائے تو زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی ہستی اور طاقت ہے جو اللہ کی رحمت کے نزول میں رکاوٹ ڈال سکے ؟ ظاہر بات ہے کہ جس طرح زمین و آسمانوں کی تخلیق میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی طرح کوئی نفع اور نقصان پر اختیار رکھنے والا نہیں ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خوشی اور غم، عُسر اور یسر میں اپنے ” اللہ “ پر بھروسہ کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندے ” اللہ “ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
اس سے پہلی آیت کے تناظر میں اس کا یہ بھی مفہوم لیا جاسکتا ہے۔ کہ جن بتوں، دیوتاؤں اور زندہ اور فوت شدہ ہستیوں سے مجھے ڈراتے ہو وہ میرا کچھ بھی بگاڑ اور سنوار نہیں سکتیں۔ اگر تم اتنی بڑی سچائی پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تو مجھ سے الجھنے کی بجائے اپنے عقیدہ پر عمل کرو اور میں اپنے عقیدہ پر قائم رہتا ہوں۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر دنیا کی ذلت نازل ہوتی ہے اور کون ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِءْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ أَہْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ )
[ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ]
” حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے۔ تو اس تعریف کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو تعریف اور عظمت بندے بیان کرتے ہے ہم سب کے سب تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع نہیں دے سکتا۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ )
[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرے گا تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “
مسائل
1۔ ہر دور کے مشرک اس بات کا اعتراف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے کہ زمین و آسمانوں کو صرف ایک اللہ نے پیدا کیا ہے ؟
2۔ اللہ کے سوا کوئی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے۔ 3۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
4۔ مشرک دنیا میں ذلیل ہوتا ہے اور آخرت میں ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی نفع اور نقصان، شر اور خیر کا مالک ہے :
1۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتے ہو۔ جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : 16)
2۔ میں انپے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے ؟ (یونس : 49)
3۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : 76)
4۔ اگر اللہ تمہیں نفع و نقصان میں مبتلا کرنا چاہے تو کون اس سے بچائے گا۔ (الفتح : 11)
5۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : 3)
6۔ فرما دیجیے کہ میں اپنے نفس کے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : 188)
7۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاروجو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ (یونس : 106)
8۔ اللہ کے سوا کوئی ذرہ بھر بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے۔ (الانبیاء : 66)
Ayah 39:41فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید کے مفہوم میں یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اپنے اور دوسرے کے نفع اور نقصان کا مالک نہیں۔ اسی طرح کوئی اپنی اور کسی کی ہدایت اور گمراہی کا بھی اختیار نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔
نبی کریم ﷺ دن کے وقت لوگوں کی ہدایت کے لیے محنت فرماتے اور رات کو تہجد کی نماز میں ان کے لیے رو رو کر دعائیں کرتے۔ اسکے باوجود لوگ آپ کی مخالفت میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ ﷺ رنجیدہ خاطر ہوجاتے۔ جس پر آپ کو تسلی دینے کے ساتھ یہ حقیقت بتلائی گئی ہے کہ ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی فرمائیں۔ اگر لوگ قرآن مجید سے راہنمائی پانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ دو باتیں یاد رکھیں جن میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ کا کام حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ جو قرآن مجید سے راہنمائی پائے گا دنیا اور آخرت میں اس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ جس نے رہنمائی پانے کی بجائے اپنے لیے گمراہی کو پسند کیا اس کا نقصان بھی اسے ہی اٹھاناپڑے گا کیونکہ ہم نے آپ کو ان کا وکیل نہیں بنایا۔ لہٰذا آپ کا کام لوگوں تک حق بات پہنچانا ہے سو آپ پہنچاتے جائیں۔ اس کا دوسرا معنٰی یہ بھی ہے کہ اے رسول ﷺ ! ان کی گمراہی کا آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس بات کو یوں بھی بیان فرمایا ہے۔
(فَذَکِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ) [ الغاشیہ : 21]
” آپ انہیں نصیحت کرتے رہیں آپ کا کام بس پہنچانا ہے “