Ayah 39:42فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو کسی شخص کی ہدایت کا ذمہ دار نہیں بنایا۔” اللہ “ ہی ہدایت اور گمراہی کا مالک ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہدایت و گمراہی کا مالک ہے اسی طرح ہی وہ لوگوں کی موت وحیات پر بھی اختیار رکھتا ہے۔ اس نے موت وحیات کا سلسلہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگ اپنے انجام کے بارے میں غوروفکر کریں۔
اللہ ہی روحوں کو موت دیتا ہے۔ جن کی موت کا وقت نہیں آتا ان کو ان کی نیند کے بعد لٹا دیتا ہے۔ نیند اور بیداری کے عمل سے گزرتے ہوئے انسان کی زندگی پوری ہوجاتی ہے۔ جب اس کی زندگی پوری ہوجاتی ہے یعنی اس کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کی روح کو قبض کرلیا جاتا ہے۔ اگر انسان نیند اور بیداری کے عمل پر غور کرے تو رب تعالیٰ کو پہنچاننے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ غور کرنے والوں کے لیے اس میں راہنمائی کے بہت سے دلائل ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ہدایت اور گمراہی کی بات کی ہے اس لیے یہاں جسمانی موت کے ذکر میں روحانی موت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ہدایت یافتہ انسان روحانی یعنی ایمانی پر زندہ ہے اور گمراہ شخص روحانی طور پر مردہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نیند کو موت کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ نیند اور موت میں کافی حد تک مشابہت پائی جاتی ہے۔ 1 جس طرح موت کے بعد انسان کو اپنے آپ اور گردوپیش کا علم نہیں ہوتا اسی طرح گہری نیند سونے والے کو اپنے آپ اور اردگرد کے ماحول کی خبر نہیں ہوتی۔ 2 جس طرح موت کے بعد انسان کا عمل ختم ہوجاتا ہے اسی طرح سونے والے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔ 3 جس طرح موت کے بعد انسان اپنا دفاع نہیں کرسکتا اسی طرح نیند کے دوران آدمی اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ 4 جس طرح موت کے بعد آدمی سننے، دیکھنے اور پکڑنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح گہری نیند میں آدمی ایک حد تک سننے، دیکھنے اور پکڑنے کی طاقت سے محروم ہوجاتا ہے۔ 5 جس طرح فوت شدہ آدمی بےبس اور دنیا سے لاتعلق ہوتا ہے اسی طرح گہری نیند سونے والا بھی بےبس اور کچھ وقت کے لیے دنیا سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ 6 جس طرح مرنے والے کیر وح کو کوئی واپس نہیں لاسکتا اسی طرح سونے والے کی روح کو بھی اللہ کے سوا کوئی واپس نہیں لٹا سکتا۔ اسی لیے نیند کے لیے ” یَتَوَفَّی “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی ہے پورا پورا لینا۔ ان وجوہات کی بنا پر نیند کو موت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ میڈیکل سانئس اس نقطہ پر نہیں پہنچ پائی لیکن قرآن مجید اور حدیث شریف کے الفاظ سے اشارہ ملتا ہے۔ کہ نیند کے دوران ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب انسان کی روح حقیقتاً اس کے جسم سے نکلتی جاتی ہے۔ (اللہ اعلم)
نیند کے بیشمار فوائد میں ایک فائدہ کی طرف توجہ فرمائیں اور غور کریں کہ انسان کا جسم تھکاوٹ سے چکنا چور ہوچکا ہو۔ جوں ہی نیند اسے اپنی آغوش میں لیتی ہے تو تھکاوٹ دور اور طبیعت تازہ ہی نہیں بلکہ پہلے کی طرح آدمی کی انرجی بحال ہوجاتی ہے۔ سب سے بڑی حقیقت سمجھنے والی یہ ہے۔ جو رب انسان کو نیند سے اٹھاتا ہے وہی قیامت کے دن اسے اٹھائے گا۔
سونے کی دعا
عَنْ حُذَےْفَۃَ ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَخَذَ مَضْجِعَہُ مِنَ اللَّےْلِ وَضَعَ ےَدَہُ تَحْتَ خَدِّہٖ ثُمَّ ےَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ بِاِسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْےٰی وَاِذَا اسْتَےْقَظَ قَالَ (الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْےَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَےْہِ النُّشُوْرُ )
[ بخاری ومسلم عن البراء ]
حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں جب رات کو نبی کریم ﷺ اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا کرتے۔” الٰہی ! تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور اسی کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں۔ “ اٹھنے کے بعد پڑھتے ” تمام تعریفوں اور شکرانوں کے لائق اللہ تعالیٰ ہے جس نے ہمیں مرنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ “ (بخاری) مزید دعائیں حدیث کی کتب میں ملاحظہ فرمائیں اور یاد کریں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو موت دینے والا ہے۔ 2۔ نیند میں موت کا سبق پوشیدہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو نیند کی صورت میں مارتا اور بیداری کی صورت میں زندگی دیتا ہے۔
Ayahs 39:43–44فہم القرآن
ربط کلام : جو سونے کے بعد اٹھنے پر اختیار نہیں رکھتے وہ رب ذوالجلال کے سامنے اپنی مرضی سے سفارش کس طرح کرسکتے ہیں ؟
اس آیۃ مبارکہ سے چار آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار اور مشر کین سے پوچھو کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ جب زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے سوا کسی نے پیدا نہیں کی تو پھر تم کس بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں کو اپنی خدائی میں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ جس بنیاد پر بزرگ سفارش کریں گے اور وہ مسترد نہ ہو سکے گی۔ اے رسول ﷺ ! ان سے استفسار فرمائیں کہ بیشک انہیں سفارش کا اختیار نہ ہو اور جس کے بارے میں سفارش کرنی ہے اس کے بارے میں کچھ علم نہ ہو تو پھر بھی وہ سفارش کریں گے ؟ انہیں سمجھائیں کہ سفارش کی اجازت دینے اور اسے قبول کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کیونکہ وہی زمین و آسمانوں کا مالک ہے۔ تم اس کے مملوک ہو اور اسی کے ہاں تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ وہ تمہیں بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کر کے آئے ہو۔ سفارش کے بارے میں قرآن مجید اور حدیث میں وضاحت موجود ہے کہ سفارش کرنے کی کن حضرات کو اجازت ہوگی اور وہ کن اصولوں کے تحت کس کس کی اور کس دائرہ کار کے اندر رہ کر سفارش کرسکیں گے۔ قرآن و حدیث میں یہ بات کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ کافر، مشرک اور ظلم کرنے والوں کی سفارش کوئی بھی نہیں کرسکے گا۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی اور پھوپھی کو فرمایا اور اپنے جدِانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا تاکہ کسی کو غلط سفارش کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اسے کہیں گے کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا ؟ کہ میری نافرمانی نہ کرو۔ وہ کہے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ اے میرے رب آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھے قیامت کے دن رسوا نہیں کرونگا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پاؤں کی طرف دیکھیں گے تو ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو بن چکا ہوگا۔ جسے اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “ [ رواہ البخاری : باب قول اللّٰہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا ‘ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اور رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا اور اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا ]
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن سفارش کے اصول :
1۔ کون ہے جو اس کے حکم کے بغیر سفارش کرے۔ (البقرۃ : 255)
2۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس : 18)
3۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (الانبیاء : 28)
4۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : 109)
5۔ قیا مت کے دن کسی سفارشی کی سفارش کام نہیں آئے گی۔ (المدثر : 48)
6۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے رحمن اجازت دے گا۔ (مریم : 87)
7۔ اگر رحمننقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کچھ کام نہ آئے گی۔ (یٰس : 23)
Ayah 39:45فہم القرآن
ربط کلام : سفارش کے ختیارات تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات کے اعتبار سے اکیلا ہے۔ اس بات کا کھول کر ذکر کیا جاتا ہے تو مشرک اسے برا سمجھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا دائمی اور حقیقی مالک ہے۔ وہ اپنی مخلوق پر بلا شرکت غیرے اختیار رکھتا ہے۔ اس نے کسی اعتبار سے کسی کو بھی کوئی اختیار نہیں دیا۔ توحید کے اس پہلو کو کھول کر بیان کیا جائے تو مشرک کو یہ بات بری لگتی ہے جس بنا پر توحید کے بیان سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن جوں ہی بزرگوں کی جھوٹی، سچی کرامات اور ان کی شخصیت کا ذکر کیا جائے تو شرک سے محبت رکھنے والے لوگوں کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ مشرکانہ ماحول کے غلبہ کی وجہ سے اہل توحید کی غالب اکثریت ایسی ہے جو توحید خالص اور عقیدہ کے مختلف پہلوں پر گفتگو سننے کی بجائے دوسرے عنوانات پر وعظ سننا زیادہ پسند کرتی ہے۔ اسی وجہ سے توحید سے نفرت کرنے کی وجہ سے اہل مکہ مطالبہ کرتے تھے کہ اس قرآن کو بدل دیا جائے۔ آج کے مشرک یہ مطالبہ کرنے کی جرأت تو نہیں کرتے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ اور ” مِنْ دُوْنِہٖ “ کے الفاظ آئے ہیں ان کا ترجمہ صرف بت ہی کرتے ہیں۔ یقین کے لیے مشرکانہ عقیدہ رکھنے والے کسی بھی مفسر کی تفسیر دیکھی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اکثر مقامات پر ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ سے مراد بت نہیں زندہ یا فوت شدہ شخصیات ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر حقیقی ایمان نہیں رکھتے۔ اگر ان کا آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ان کے دل اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اختیارات کی بات سن کر باغ باغ ہوجانے چاہییں۔ کیونکہ کہ بڑی سے بڑی ہستی کو پیدا کرنے اور اسے شان دینے والا تو صرف ایک ” اللہ “ ہے مشرک کے آخرت پر ایمان کی اس لیے بھی نفی کی گئی ہے کہ اگر اس کا آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ” اللہ “ کی ذات، صفات اور اختیارات کو بلا شرکت غیرے تسلیم کرئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی توحید پر مطمئن ہوجائے اور اس کے ذکر پر انقباض کی بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔
من دون اللہ سے مراد بزرگ ہیں :
(اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) [ الاعراف : 194]
” بیشک جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں، تو انہیں پکارو، پس چاہیے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں، اگر تم سچے ہو (یعنی وہ تمہاری دعاؤں اور پکار سے بیخبر ہیں۔ ) “ (تفصیل کیلئے دیکھیں میری کتاب ” انبیاء کا طریقہ دعا “ )
من دون اللہ سے مراد علماء، اولیاء اور عیسیٰ ( علیہ السلام) :
(اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) [ توبۃ : 31]
” انہوں نے بنا لیا اپنے پادریوں کو راہبوں کو پروردگار اللہ کو چھوڑ کر اور مریم کے فرزند مسیح کو بھی۔ “
من دون اللہ سے مراد بت :
(قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُون اللَّہِ مَا لَا یَنْفَعُکُمْ شَیْءًا وَلَا یَضُرُّکُمْ )[ الانبیاء : 66]
” ابرہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو کچھ بھی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی توحید پر مشرک ناراض ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ کے سوا دوسروں کے ذکر پر مشرک خوش ہوتا ہے۔
3۔ مشرک کا آخرت پر حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
من دون کے دلائل :
1۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : 104)
2۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : 56)
3۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : 71)
4۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : 20)
5۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : 194)
6۔ انہوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبۃ : 31)
نوٹ : مشرکین کی توحید سے نفرت کے دلائل کے لیے سورة المومن کی آیت 12 ملاحظہ فرمائیں !
Ayah 39:46فہم القرآن
ربط کلام : بیشک مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید کے ذکر سے ناراض اور دوسروں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس بات کی پرواہ کیے بغیر صرف ایک رب کا ذکر کرنا اور اسی سے مانگنا ہے۔
اے رسول ﷺ اپنے رب سے دعا کیجیے ! الٰہی ! تو ہی زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا اور تو ہی ہر چیز کے ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ مشرک اللہ کی وحدت کے ذکر پر ناراض اور اپنے معبودوں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں اور اہل توحید سے جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ تمہیں مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اپنے رب کو یاد کرنا اور اس کی توحید کا پرچار کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذات کبریا کے حضور دعا کرتے رہو کہ اے بار الٰہا ! تو ہی زمینوں آسمانوں کا پیدا کرنے والا، غائب اور ظاہر کو جاننے والا ہے اور قیامت کے دن اپنے بندوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے والا ہے۔ اس کا بین السطور معنٰی یہ ہے کہ الٰہی ہمیں ایسی طاقت عطا فرما کہ دنیا میں بھی حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ اسی لیے ہجرت سے پہلے آپ ﷺ کو یہ دعا سکھلائی گئی۔
(وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا) [ بنی اسرائیل : 80۔ 81]
” اور دعا کیجیے میرے رب ! داخل کر مجھے سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور نکال مجھے سچائی کے ساتھ نکالنا اور مجھے غلبہ اور مدد عطا فرما۔ اور فرما دیں حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔ “
(رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْن)[ الاعراف : 89]
” اے ہمارے رب ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ “
جانوروں کے درمیان فیصلہ :
(عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ ہی زمینوں آسمانوں کا خالق اور ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ 3۔ مومن کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کے درمیان قطعی اور آخری فیصلہ کرنے والا ہے :
1۔ بیشک تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یونس : 93)
2۔ اللہ تعالیٰ ان کے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (البقرۃ : 210) 3۔ اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔ (المومن : 20)
4۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ فرمائے گا۔ (النمل : 78)
5۔ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ (یونس : 54)
6۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (الحج : 69)
7۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عدل و انصاف کا ترازو قائم فرمائے گا۔ (الانبیاء : 47)
8۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا جو وہ اختلاف کرتے تھے۔ (الزمر : 3)
9۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور مومنوں پر کافر کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔ (النساء : 141)
10۔ یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرمادے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یوسف : 80)
11۔ اے اللہ یقیناً تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (ھود : 45)
12۔ وحی کی فرمانبرداری کرو اور صبر کرو تاآنکہ اللہ فیصلہ فرمادے اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس : 109)
Ayahs 39:47–48فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے والا ہے لہٰذا قیامت کے دن ظالموں کے بارے میں جو فیصلہ ہوگا اس کا اعلان۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ظالموں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر فرمائے گا۔ ظالم سے مراد ہر قسم کے ظالم ہیں۔ ان میں سرفہرست وہ ظالم ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کیا ہوگا جس طرح یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو رب کا بیٹا قراردیا۔ عسائیوں نے حضرت مریم، حضرت عیسیٰ اور ذات کبریا کو شامل کر کے تثلیث کا عقیدہ بنایا۔ مشرکین مکہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی صفات بتوں اور فوت شدگان میں تصور کرتے تھے۔ جیسا کہ لاکھوں کلمہ گو لوگ نبی ﷺ کو نور من نور اللہ کہتے ہیں اور علی ہجویری کو داتا گنج بخش اور عبدالقادر جیلانی ؓ کو پیر دستگیر اور نامعلوم فوت شدگان اور زندہ بزرگوں کے بارے میں مشرک کیا کیا کہتے اور عقیدہ رکھتے ہیں۔ ایسے ظالموں کو جب جہنم میں جھونکا جائے گا۔ تو یہ اس بات کی خواہش کریں گے کہ کاش ! ہمارے پاس زمین کے خزانے اور اتنا کچھ اور ہو تو ہم جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے وہ کچھ ظاہر فرمائے گا جس کا آج یہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ان کے برے اعمال ایک ایک کر کے ان کے سامنے لائے جائیں گے اور جس عذاب کو یہ مذاق سمجھتے تھے وہ ان کو ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہوگا۔
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ َیُؤْتٰی بالرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَّ مَنْزِلَکَ فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ شَرُّّ مَنْزِلٍ فَیَقُوْلُ لَہٗ أَتَفْتَدِيْ مِنْہُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَھَبًا فَیَقُوْلُ أَيْ رَبِّ نَعَمْ فَیَقُوْلُ کَذَبْتَ فَقَدْ سَأَلْتُکَ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِکَ وَأَیْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَیُرَدُّ إِلَی النَّارِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب باقی المسند السابق ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا۔ ایک جہنمی لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب ! بدترین ٹھکانہ ہے اللہ تعالیٰ اسے کہیں گے کیا تو زمین بھر کر سونا فدیہ کے طور پردے گا ؟ وہ کہے گا ہاں میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے کم اور آسان کام کا مطالبہ کیا تھا جو تو نے نہ کیا پھر اسے جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ “
1 اللہ تعالیٰ نے انسان کے شرف اور مقام کے پیش نظر اسے صرف اپنے سامنے جھکنے کا حکم دیا ہے لیکن مشرک اس کی ناقدری کرتے ہوئے دردر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔
2 اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی بارگاہ سے مانگنے کا حکم دیا لیکن مشرک ہر جگہ جھولی پھیلائے پھرتا ہے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن ظالم خواہش کریں گے کہ زمین اور اس کے برابر چیز دے کر ہماری جان چھوٹ جائے۔
2۔ قیامت کے دن ظالموں کے تمام اعمال ان کے سامنے لائے جائیں گے۔
3۔ قیامت کے دن ظالموں کو ہر طرف سے گھیر لیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
مذاق کرنے والے اور ان کا انجام :
1۔ وہ چیز ان کو گھیرہی لے گی جس کی بنا پر یہ مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 8)
2۔ جب وہ ہماری نشانیاں دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصّٰفّٰت : 14) 3۔ وہ تعجب کرتے ہیں اور مذاق کرتے ہیں۔ (الصّٰفّٰت : 12)
4۔ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 38)
5۔ کفار نے رسولوں سے باطل دلائل کے ساتھ جھگڑا کیا تاکہ وہ حق کو نیچا دکھائیں اور میری آیات، تنبیہات کا مذاق اڑائیں (الکہف : 56)
6۔ جہنم ان کے کفر اختیار کرنے کا بدلہ ہے جو میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ (الکہف : 106)
Ayahs 39:49–51فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ جب انہیں دنیا میں تکلیف پہنچتی تھی تو صرف ایک رب کو پکارتے تھے اور جب انہیں کوئی نعمت دی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ یہ ہماری فہم و فراست کا نتیجہ ہے۔
انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ” اللہ “ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اس کی تکلیف رفع کردیتا ہے اور اسے اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو پھر وہ سمجھتا اور بعض مرتبہ زبان سے بھی کہتا ہے کہ یہ تو میری قابلیت کا نتیجہ ہے۔ بیماری کے بعد صحت کے بارے میں کہتا ہے کہ بروقت اور مناسب علاج کی وجہ سے صحت یاب ہوا ہوں۔ تونگری کے بارے میں برملا اظہار کرتا ہے کہ یہ میری منصوبہ بندی اور محنت کا صلہ ہے۔ منصب اور اقتدار حاصل ہو تو اپنی ذہانت اور سیاست کی بات کرتا ہے۔ اگر کہیں اللہ کا ذکر کرتا ہے تو بڑی بےتوجہگی کے ساتھ اور رواجی طور پر کرتا ہے۔ اس میں شکر کا فقدان ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دین بروقت علاج اور ہر کام میں توجہ اور محنت کا حکم دیتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مومن اسباب کی بجائے مسبب الاسباب پر نظر رکھتا ہے اور پورے خلوص کے ساتھ ذکر اور اس کا شکر کرتا ہے۔ مومن کے مقابلے میں دنیا پرست اپنی لیاقت اور اسباب پر بھروسہ کرتا ہے۔ کلمہ پڑھنے والا مشرک درباروں اور کافربتوں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے طفیل ملا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی آزمائش کی جاتی ہے۔ لیکن ان کی توجہ اس کی طرف مبذول نہیں ہوتی۔ اس جہالت اور سوچ کا پہلے لوگ بھی اظہار کرتے تھے جس کا اظہار مکہ والے کررہے ہیں۔ ان سے پہلے ظالموں نے جو کچھ کمایا اس کا انہیں کچھ فائدہ نہ ہوا۔ ان لوگوں کو بھی اپنے کیے کا وبال بھگتنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی معاملہ میں کوئی عاجز نہیں کرسکتا۔
مسائل
1۔ انسان تکلیف کے وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور خوشی کے وقت اسے بھول جاتا ہے۔
2۔ اکثر مال دار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی محنت اور لیاقت کی وجہ سے ان کو مال دیا گیا ہے۔
3۔ مال آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ اس آزمائش کو نہیں جانتے۔
4۔ پہلے لوگ بھی اپنے مال پر اتراتے تھے جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ان کا مال کسی کام نہ آیا۔
5۔ مکہ والے بھی مال و اسباب پر اتراتے ہیں۔ عنقریب یہ اپنے کیے پر پکڑے جائیں گے۔
6۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی کسی طرح بھی مجبور نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
دولت کے منفی اثرات :
1۔ مال اور اولاد انسان کے لیے آزمائش ہیں اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15)
2۔ مال و دولت اور دنیا کی زندگی انسان کے لیے آزمائش ہے۔ (طٰہ : 131)
3۔ لوگوں کو مال اور اولاد کی کثرت نے ہلاک کردیا۔ (التکاثر : 1)
4۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہے۔ (حٰم السجدۃ : 15)
Ayah 39:52فہم القرآن
ربط کلام : جس مال پر مال دار اتراتے ہیں اس کی حقیقت۔
کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ ” اللہ “ ہی رزق بڑھانے اور تنگ کرنے والا ہے۔ بلا شبہ اس میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اس فرمان میں پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی داتا نہیں۔ وہی ہر چیز کا مالک ہے اور وہ اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو رزق عطا کرتا ہے۔ دوسرا سبق اس میں یہ پایا جاتا ہے کہ کسی مالدار کو اپنے مال پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ رزق کی کشادگی اور تنگی کسی کی لیاقت اور محنت پر منحصر نہیں۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو شب و روز محنت کرتے ہیں مگر رزق کی کشادگی دیکھنا ان کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ کچھ ایسے ہیں۔ جو اپنی محنت سے کہیں گنا زیادہ پاتے ہیں۔ اس حقیقت کو جاننے کے لیے زمیندار کی مثال سامنے رکھیں۔ زمین ایک ہی ہے جس کا پانی، موسم اور بیج یکساں ہوتا ہے اور دیگر ذرائع بھی برابر استعمال کیے جاتے ہیں مگر فی ایکڑ کے حساب سے ایک قطعہ کی فصل بہت اچھی ہوتی ہے اور دوسرے کی بہت کم یہی صورت حال منڈی اور بازار میں دیکھی جاتی ہے۔ ایک ساتھ دکانیں اور ایک جیسا مال ہونے کے باوجود ایک کو سر کھجانے کی فرصت نہیں اور دوسرا خالی ہاتھ بیٹھا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ رزق بڑھانا اور کم کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لیے مالدار کو اپنے مال پر اترانے کی بجائے اپنے رب کا شکر گزارہونا چاہیے اور تنگ دست کو اپنی حالت پر صبر کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور دعا کرنی چاہیے۔
(اَللّٰہُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ) [ رواہ الترمذی : باب اللھم اکفنی حلالک عن حرامک ]
” اے اللہ ! مجھے حرام سے بچا اور اپنے حلال کے ساتھ میری کفالت فرما اور اپنے فضل کے ساتھ مجھے بےنیاز کردے۔ “
Ayah 39:53فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مال کی کمی، بیشی کے بارے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ہے۔ اب گناہگاروں کی غلط فہمی دور کی جارہی ہے :
گناہگار بالخصوص بڑے بڑے جرائم کرنے والوں کو ہمیشہ سے غلط فہمی رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اس غلط فہمی کی بنیاد پر کچھ لوگ جرائم میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ انہیں موت آ لیتی ہے۔ کچھ لوگ یہ یقین کرلیتے ہیں کہ جب تک فلاں قبر والے یا زندہ بزرگ کو راضی نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری توبہ قبول نہ ہوگی۔ اس غلط فہمی کو ان لوگوں نے مزید پختہ کیا جو مذہب کی آڑ میں مال بٹورتے اور لوگوں کی حرمتوں سے کھیلتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں میں بیشمار پیر، ہندؤوں میں سادھو، عیسائیوں میں پادری بدنام ہیں اور یہ لوگ دین اور توبہ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید نے ان کے بارے میں نشاندہی فرمائی ہے۔
” مسلمانو ! بہت سے مولوی اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں۔ “ (التوبہ : 34)
گناہگاروں بالخصوص کفر و شرک اور بڑے بڑے جرائم کرنے والوں کو رب کریم نے بڑے پیار اور دلرباانداز میں بلایا ہے اور یقین دلایا ہے کہ اے میرے بھٹکے ہوئے بندو ! تمہیں مایوس ہونے اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آؤ میری بارگاہ میں آجاؤ تم جیسے بھی ہو میرے ہی بندے ہو۔ میری رحمت بےکنار ہے لہٰذا میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔ یقین کرو کہ میں تمہارے تمام کے تمام گناہ معاف کردوں گا کیونکہ میں معاف کرنے والا اور مہربان ہوں۔ اس آیت کریمہ کی باربار تلاوت کریں اور اس کے الفاظ پر غور فرمائیں کہ کہ اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ اپنا عظیم نام اللہ لے کر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا کہ میرے بندوں کو میرا نام لے کر کہیں کہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکوں نے بہت سے قتل اور بکثرت زنا کیے تھے وہ آپ ﷺ کے پاس آکر کہنے لگے آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس دین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھا ہے۔ مگر آپ ﷺ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا ہمارا اسلام لانا ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ؟ اس وقت (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ ) اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے۔ “ تا آخر اور سورة الزمر کی یہ آیت (قل یعبادی الذین) تا آخر نازل ہوئی۔ “ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ )]
(عَنْ أَبِیْ سَعَیْدٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الشَّیْطَانَ قَالَ وَعِزَّتِکَ یَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أَغْوِیْ عِبَادَکَ مَا دَامَتْ أَ رْوَاحُہُمْ فِیْ أَجْسَادِہِمْ ، فَقَال الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَعِزَّتِیْ وَجَلاَلِیْ لاَ أَزَالُ أَغْفِرُ لَہُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِیْ )[ رواہ الحاکم فی المستدرک : کتاب التوبۃ والانابۃ ]
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان نے کہا اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم میں ہمیشہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسموں میں روحیں موجود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ! میں ہمیشہ انہیں معاف کرتا رہوں گا جب تک یہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہٖ قَالَ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّیْ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا وَإِذَا أَتَانِیْ یَمْشِیْ أَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید ]
” حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں جو آپ نے اللہ تعالیٰ سے بیان کی گویا کہ یہ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں۔ جب وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں۔ جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مجھے ایک عورت کہنے لگی کیا میرے لیے بھی توبہ ہے۔ میں نے زنا کیا حمل سے بچہ پیدا ہوا اور میں نے اسے قتل کر ڈالا۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرا گناہ معاف ہونے کی کوئی صورت ہے ؟ میں نے کہا ہرگز نہیں وہ بڑی حسرت کے ساتھ آہیں بھرتی ہوئی واپس چلی گئی۔ اگلے دن میں نبی ﷺ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو میں نے آپ ﷺ سے رات کا قصہ عرض کیا آپ نے فرمایا تو نے غلط جواب دیا ابوہریرہ تو نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی (وَالَّذِینَ لا یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ )إِلٰی قَوْلِہ (إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صالِحًا فَأُولَءِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّءَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَان اللَّہُ غَفُورًا رَحِیمًا) ” (اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے) اس فرمان تک (مگر جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ جن کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ) نبی ﷺ کا جواب سن کر میں نکلا اور اس عورت کو تلاش کرنا شروع کیا، وہ مجھے عشاء ہی کے وقت ملی میں نے اسے بشارت دی اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے تیرے سوال کا جواب یہ دیا ہے عورت سنتے ہی سجدے میں گرگئی اور کہنے لگی شکر ہے اس رب کا جس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا اور میری نجات کی راہ بنائی۔ “ [ تفسیر طبری : جلد 19]
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِی کِتَابِہٖ فَہُوَ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِی)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کائنات کی تخلیق سے فارغ ہوا تو اپنی کتاب میں جو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس عر ش کے اوپر ہے اس میں لکھا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ “
مسائل
1۔ بڑے سے بڑے مجرم کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ تمام کے تمام گناہ معاف کرنے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے :
1۔ ” اللہ “ کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ (یوسف : 87)
2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53)
3۔ ” اللہ “ کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کوئی ناامید نہیں ہوتا۔ (الحجر : 56)
4۔ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کرنے والے اللہ کی رحمت سے مایوس ہیں۔ (العنکبوت : 23)
5۔ مومن اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 218)
6۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے پروردگار کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اس کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا۔ (مریم : 48)
7۔ اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ (الاعراف : 156) 8۔ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : 56)
9۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر مہربانی کرنا از خود اپنے آپ پر لازم قرار دے لیا ہے۔ (الانعام : 54)
Ayahs 39:54–58فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ غفور الرّحیم ہے لہٰذا اس کی گرفت سے پہلے پہلے اس کے حضور حاضر ہوجاؤ۔ اس انتباہ میں دنیا اور آخرت کے دونوں عذاب شامل ہیں۔
گناہگاروں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر اپنے رب کی بخشش اور رحمت چاہتے ہو تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوپائے۔ اس وقت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہو کہ کاش ! میں اپنے رب کے معاملے میں کوتاہی نہ کرتا اور نہ ہی اس کی آیات کو مذاق کرنے والوں میں شامل ہوتایا اس تمنا کا اظہار کرے کہ کاش ! میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پاکر متقی بن جاتا یا موت دیکھ کر کہے کہ ہائے افسوس ! میرے لیے کسی طرح دنیا میں لوٹ جانے کی کوئی صورت بن جائے اور میں نیکی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں۔ ان آیات میں اس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ کے عذاب یا موت کے وقت کافر، مشرک اور مجرموں پر وارد ہوتی ہے۔ ایسے لوگ حسرت پر حسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت انہیں اپنی حسرتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔
” جو ہم نے تم کو دیا ہے اس میں کچھ خرچ کرو اس سے پہلے کہ تمہیں موت آجائے اس وقت کہنے لگو کہ اے ہمارے رب ! اگر تو ہمیں تھوڑی سی اور مہلت دیتا تو ہم صدقہ کرتے اور نیک بندوں میں شریک ہوجاتے۔ جب کسی کو موت کا وقت آن پہنچے تو اللہ تعالیٰ کسی کو مہلت نہیں دیتا اور اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ “ (المنافقون : 11، 12)
(عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْٓءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ ) [ رواہ أحمد : مسند براء بن عازب ]
” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کافر کا دنیا سے رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے پاس ٹاٹ کا لباس ہوتا ہے۔ فرشتے فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان۔ اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوتی۔ فرشتے اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔ “
اس لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اس کے عذاب سے بچنا اور اس کی رحمت کے حقدار بننا چاہتے ہو تو رجوع الی اللہ کے لیے یکسو ہوجاؤ تمہارے رب کی رحمت بےکنار ہے اس کی بخشش کا دروازہ ہر ایک کے لیے اس کے نزع کے وقت تک کھلا ہے جو قیامت تک کھلا رہے گا۔ مگر ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب کی طرف اخلاص کے ساتھ رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لیے ارشاد ہے کہ اے میرے بندو ! اِدھر ادھر کی بجائے اور میرے عذاب سے پہلے پہلے صرف میری طرف رجوع کرو۔ جب میرا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت اس کو کوئی دور کرنے والا نہ ہوگا۔ لہٰذا اس کی پیروی کرو جو بہترین چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس کی رحمت اور بخشش کے حقدار ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ 1 اِدھر ادھر کی بجائے صرف اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ 2 اس طریقہ کے مطابق جس کی وضاحت قرآن مجید میں کی گئی ہے۔ جس کے لیے ” اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
مسائل
1۔ انسان کو ” اللہ “ کی گرفت سے پہلے توبہ کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آیا کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب یا موت کے بعد نیکی کی حسرت کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
4۔ نیکی اور توبہ کا موقعہ عذاب اور موت سے پہلے ہوتا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر اپنے رب کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
توبہ و استغفار کی اہمیت و فضیلت :
1۔ وہ لوگ جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں اور اس کے بعد توبہ اور اپنی اصلاح کرتے ہیں اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (النحل : 119)
2۔ جو شخص جرم کرنے کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرے بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (المائدۃ : 39)
3۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔ (التوبۃ : 74) 4۔ اے ایمان والو ! خالص توبہ کرو۔ (التحریم : 8)
5۔ یقیناً میں اسے معاف کردوں گا جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ (طٰہٰ : 82)
6۔ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے اور عمل صالح کرے تو میں اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دوں گا۔ (الفرقان : 70)
7۔ اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے تو اللہ تمہارے چھوٹے گناہ معاف کر دے گا۔ (النساء : 31)
8۔ توبہ کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ (التوبۃ : 112) 9۔ توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222)
Ayahs 39:59–61فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک اور بڑے گناہوں سے توبہ نہ کرنے کا نقصان۔
” اللہ “ کے نافرمان عذاب اور موت کی سختیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر زبان سے یا دل ہی دل میں ان حسرتوں کا اظہار کرتے ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی آیات میں ہوا ہے۔ اس وقت ملائکہ اپنے رب کی طرف سے جواب دیتے ہیں کہ تیرے پاس تیرے رب کے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا۔ اے نبی ﷺ آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا۔ ان کے چہرے کا لے ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک اور نافرمانیوں سے بچے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔ وہاں انہیں معمولی تکلیف بھی نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ کچھ اہل علم نے ” بِمَفَازَتِہِمْ “ میں ” ب “ ظرفیہ اور ” مَفَاذَۃٌ“ کا معنٰی ” مَامَنْ “ کیا ہے۔ جس سے مراد جنت ہے۔
(اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ]
” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے منہ کالے ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
2۔ متقی جنت میں ہوں گے وہاں انہیں کوئی تکلیف اور غم نہیں ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
جنتیوں اور جہنمیوں میں فرق :
1۔ ہم نے جنت میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34)
3۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15)
4۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17)
5۔ جنت میں انہیں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33)
6۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : 52)
7۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 76)
8۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) 9۔ جنتیوں کے چہرے روشن ہوں گے۔ (عبس : 38)
10۔ جہنمیوں کے چہرے کالے ہوں گے۔ (عبس : 41)
11۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : 35)
12۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مذید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
13۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 44)
14۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس طرح پیئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پانی پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55)
15۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکہف : 29)
16۔ جہنمیوں کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزامل سکے۔ (النساء : 56)
Ayahs 39:62–63فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ نے ظالموں کو سزا دینا اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جزا اور انہیں جنت میں داخل کرنا ہے وہی ” اللہ “ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اس پر نگران ہے۔ زمین و آسمان کے اختیارات اسی کے پاس ہیں۔
جاندار ہو یا غیر جاندار، چھوٹی ہو یا بڑی غرض کہ زمین و آسمانوں، ہواؤں اور فضاؤں میں ہو یا کوئی چیز تحت الثّریٰ میں ہو یا عرش معلی پر ہو۔ ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اور صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ اس کے سوا نہ کسی نے کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے میں بہت فرق ہے۔ پیدا کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ چیز، اس کا نمو نہ اور اس کا مٹیریل سرے سے ہی موجود ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کے لیے ” جَعَلَ “ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ جس کا معنٰی بنانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی اس چیز کا مٹیریل پیدا کیا اور پھر اسی نے ہی اسے اس طرح بن جانے کا حکم دیا جس طرح اس کی منشا تھی۔ بنانے کا لفظ آدمی کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں چیز بنائی ہے۔ لیکن خالق کا لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے نہیں بولا جاسکتا۔ جس طرح ہمارے ملک میں کچھ سیاستدان بانئ پاکستان کو خالق پاکستان کہتے ہیں۔ ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف ” اللہ “ ہے۔ لہٰذا خالق کا لفظ اس کے سوا کسی کے لیے بولنا جائز نہیں وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ ہر چیز کا وکیل بھی ہے۔ وکیل کا لفظ جزوی معنوں میں کسی انسان کے لیے بولا جاسکتا ہے۔ لیکن کلی مفہوم کے لحاظ سے صرف اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا وکیل ہے۔ جو تخلیق سے لے کر موت تک ہر جاندار کی تمام ضرورتیں پوری کرنے والا ہے یعنی وہ ہر اعتبار سے اس کا ذمہ دار ہے۔ اسی کے پاس زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ ہر زبان میں عام طور پر چابی کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
1۔ تالا یا کسی بند چیز کو کھولنے والی چیز۔ 2۔ کسی چیز کا قبضہ اور اختیار رکھنا۔ 3۔ خزانے کا مالک ہونا۔
اللہ تعالیٰ کے پاس ہر اعتبار سے زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں۔ اس نے کسی زندہ یا مردہ کو اپنی خدائی میں کوئی اختیار نہیں دیا۔ جو لوگ اس کے ارشادات اور احکام کا جزوی یا کلی طور پر انکار کرتے ہیں وہ ناقابل تلافی اور دائمی نقصان پائیں گے۔
(عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ إِنَّ اللَّہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ ، وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ، وَیَعْلَمُ مَا فِی الأَرْحَامِ ، وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ) [ رواہ البخاری : باب (وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوْ )]
” حضرت عبداللہ بن سالم ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیب کی پانچ چابیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو قیامت کا علم ہے۔ وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کل کیا کرنا ہے ؟ اور کسی کو علم نہیں کہ اسے کس سرزمین پر موت آئے گی۔ یقیناً اللہ جاننے والا، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ “
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی خالق اور ہر چیز کا وکیل ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 22)
2۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4)
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 4۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20)
5۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : 189)
6۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54)
7۔ لوگو ! اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1)
8۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : 102)
9۔ بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : 12)
11۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : 132)
12۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا اللہ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : 65)
Ayahs 39:64–65فہم القرآن
ربط کلام : جب ہر چیز کا خالق اور وکیل صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر عبادت اور تابعداری بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اس کے سوا کسی کی بندگی کی دعوت دینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے آپ کو ہر حوالے سے کا ئنات کا خالق، مالک، بادشاہ اور وکیل ثابت کیا ہے۔ اس لیے ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسی کا حکم تسلیم کرے اور اسی کی بندگی بجالائے۔ لیکن کافر اور مشرک ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مکہ کے مشرک نہ صرف اس بات کے انکاری تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ محمد ﷺ اس دعوت کو چھوڑ دیں یا کم از کم اس بات پر سمجھوتہ کرلیں کہ ہم اس کے الٰہ کی عبادت کریں گے اور یہ وہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرے۔ اس پر آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ ان جاہلوں سے فرمادیں کہ مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کے لیے کہتے ہو ؟ حالانکہ اس نے میری طرف اور مجھ سے پہلے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی کی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرا ہر عمل ضائع ہوجائے گا اور تو نقصان پانے والوں میں شامل ہوگا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر اشارہ دیا ہے کہ ہر نبی کو انہیں الفاظ میں کہا گیا تھا کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے تمام اعمال ضائع کرد ئیے جائیں گے۔ دوسرے مقام پر بڑے بڑے اٹھارہ ( 18) انبیائے کرام (علیہ السلام) کا نام لے کر یہ بات کہی گئی ہے۔
” یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا، خوب جاننے والا ہے۔” اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطاکیے۔ ان سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔” اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ان سب کو جہانوں پر فضیلت دی۔ اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد اور انکے بھائیوں میں سے بعض کو بھی اور ہم نے انہیں چن لیا اور انہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ “ (الانعام : 83 تا 87)
(ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْن)[ الانعام : 88]
” یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ “ (88)
مسائل
1۔ مشرک آپ ﷺ کو بھی شرک کی دعوت دیتے تھے۔ 2۔ شرک سے نیک اعمال برباد اور ضائع ہوجاتے ہیں۔
3۔ تمام انبیاء کی طرف یہ وحی کی گئی کہ ان میں سے کسی نے بھی شرک کیا تو اس کے اعمال اکارت ہوجائیں گے۔
4۔ شرک کی دعوت دینا جاہلوں کا کام ہے۔
تفسیر بالقرآن
شرک کی بڑی بڑی اقسام :
1۔ اللہ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔ (الکہف : 42) 2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم میں دوسروں کو اس کا شریک بنانا۔ (الکہف : 26)
3۔ اللہ کی صفات میں شرک کرنا۔ (الکہف : 102) 4۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائیں : (الکہف : 110)
5۔ اللہ ہی پیدا کرتا ہے اور ووہی مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (القصص : 68)
6۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کا اسے علم نہیں ہے اللہ پاک ہے اور مشرکوں کے شرک سے بلندو بالا ہے۔ (یونس : 18)
7۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا ہے کہ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : 1)
8۔ مشرک اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 170) 9۔ مشرک کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر عبادت کرتے ہیں۔ (النجم : 28)
10۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں ہمارے آباء و اجداد کافی ہیں۔ (المائدۃ : 104)
Ayah 39:66فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی بندگی اور شرک سے بچنا ہی نہیں بلکہ ایک رب کی عبادت بھی کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر قسم کے شرک سے منع کرنے کے ساتھ صرف اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ عبادت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ کیونکہ ” اللہ “ خالق بھی ہے اور انسان کی تمام ضرورتوں کا ذمہ دار بھی ہے۔ اس لیے اس کا شکر ادا کرنا انسان پر لازم ہے۔ اسے دوسری طرح یوں سمجھنا چاہیے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور الوکیل مانا۔ اس کے دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ جس کے دل میں شکر کا جذبہ ضرور پیدا ہوا وہ اپنے رب کی ہر حال میں بندگی کرے گا۔
اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلّل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے۔ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو نا صرف زبان سے اقرار کرے بلکہ اس کا پورا جسم گواہی دے رہا ہو کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجزو بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے۔ دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ یہ میرا مال ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ باالفاظ دیگر پری زندگی میں اپنے کا حکم ماننا اور اس رب کے تابع رہنے نام عبادت ہے۔
مسائل
1۔ صرف ایک ” اللہ “ ہی کی عبادت کرنا چاہیے۔
2۔ ایک اللہ کی عبادت کرنے والا ہی حقیقت میں اس کا شکرگزار ہوتا ہے۔