Ayah 39:67فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ کے علاوہ یا اس کے ساتھ کسی کی عبادت کرتے ہیں وہ مشرک ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ناقدردان اور ناشکرے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنی عبادت کا حکم دینے سے پہلے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ ہی ہر چیزکا خالق اور اس کا وکیل ہے۔ اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔ جاہل لوگوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کی جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ یہی اس کے شکر ادا کرنے کا صحیح طریقہ ہے جو لوگ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے رب ذوالجلال کی قدرہی نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اسی کے پاس زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں اور قیامت کے دن بھی پوری کی پوری زمین اس کے قبضہ میں ہوگی اور ساتوں آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ مشرکوں کی مشرکانہ عبادت سے پاک اور ان کے بےہودہ عقائد سے بلند وبالا ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے گا اور آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ “ [ رواہ البخاری : باب یقبض اللّٰہ الارض ]
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الأَحْبَارِ إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ، إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللَّہَ یَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالأَرَضِینَ عَلَی إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ ، وَسَاءِرَ الْخَلاَءِقِ عَلَی إِصْبَعٍ ، فَیَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ فَضَحِکَ النَّبِیُّ ﷺ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ تَصْدِیقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُول اللَّہِ ﷺ (وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) )[ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (وَمَاقَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ )]
” حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم نبی معظم ﷺ کے پاس آکر کہنے لگا اے محمد ﷺ ! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ کر فرمائیں گے میں بادشاہ ہوں۔ نبی اکرم ﷺ یہودی کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے مسکرا پڑے یہاں تک آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) “
1 ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے شرف اور مقام کے پیش نظر اسے صرف اپنے سامنے جھکنے کا حکم دیا ہے لیکن مشرک اس کی ناقدری کرتے ہوئے در، در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی بارگاہ سے مانگنے کا حکم دیا لیکن مشرک ہر جگہ جھولی پھیلائے پھرتا ہے۔
مسائل
1۔ مشرک اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کرتا۔ 2۔ قیامت کے دن زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہوں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے شرک سے پاک اور بلندو بالا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا مشرک اور اس کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں :
1۔ اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : 3)
2۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : 1)
3۔ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النمل : 63)
4۔ اللہ پیدا کرتا ہے اور مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (ا لقصص : 68)
5۔ قیامت کے دن آسمانوں کو اللہ اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ( الزمر : 67)
6۔ کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے۔ اللہ بری ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (الطور : 43)
Ayah 39:68فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کا پچھلی آیت میں ذکر ہوا ہے اس کی ابتدا یوں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ جب قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا تو اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ یونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو جو بھی جاندار آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں وہ بےہوش ہوکرگرپڑیں گے۔ سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ اس کے بعد پھر اسرافیل کو دوسری مرتبہ حکم ہوگا جونہی صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس فرمان میں ” اِلّا مَنْ شَاءَ “ فرما کر کچھ لوگوں کا استثناء کیا ہے کہ وہ بےہوش ہونے سے بچ جائیں گے۔ حدیث مبارکہ میں کھلے الفاظ میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ اللہ تعالیٰ کس کس کو بےہوش ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ البتہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہوگی جو بےہوش نہیں ہوگی۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے کچھ شخصیات کا نام لیا ہے۔ اس سے چاروں فرشتے یعنی جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل مراد لیے ہیں۔ بعض نے اس میں حاملین عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء، صلحاء اور شہداء کو بھی۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بےہوشی سے نہ بچے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ بھی بےہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچ سکتے ہیں۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینے کے بازار میں ایک یہودی نے قسم کھا کر کہا اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بشریت (محمد ﷺ پہ فضیلت عطا فرمائی ایک انصاری اٹھا اس نے اس کے چہرے پہ تھپڑ مارتے ہوئے کہا تو اس طرح کہتا ہے جب کہ اللہ کے نبی ہم میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صور پھونکا جائے گا آسمانوں اور زمین کی ہر چیز بےہوش ہوجائے گی مگر وہی بچے گا جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا سارے کے سارے رب کے روبرو پیش ہوجائیں گے آپ نے فرمایا : میں سب سے پہلے سر اٹھاؤں گا موسیٰ (علیہ السلام) کو عرش کا پایہ تھامے ہوئے پاؤں گا۔ میں نہیں جانتا موسیٰ (علیہ السلام) نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا یا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے استثنا حاصل ہے جس نے کہا میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا۔ “ [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الزُّمَرِ ]
Ayahs 39:69–70فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کا اپنی اپنی جگہ سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہونا اور عدالت کبریٰ کا قیام۔
قرآن مجید نے یہ بھی بتلایا ہے کہ پہلے نفخہ کے بعد زمین و آسمانوں کو تبدیل کردیا جائے گا۔ ( ابراہیم : 8 4) زمین اس قدر چٹیل میدان ہوگی کہ کوئی اس پر نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ (طہٰ : 106، 107) اس کے بعد اسرا فیل کو دوسری مرتبہ صور پھونکنے کا حکم صادر ہوگا جونہی وہ صور پھونکے گا لوگ اپنے اپنے مقام سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے۔ قرآن مجید اور احادیث میں اس بات کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے کہ لوگوں کو کس طرح میدان محشر میں اکٹھا کیا جائے گا۔ لوگ محشر کے میدان میں اکٹھے ہوجائیں گے تو ملائکہ کو محشر کے میدان میں پہنچنے کا حکم جاری ہوگا۔ ملائکہ اور جبرائیل امین قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38) اسی اثناء میں رب ذوالجلال جلوہ افروز ہوں گے۔ پوری کی پوری زمین رب ذوالجلال کے جمال سے منور ہوجائے گی۔ لوگوں کے اعمال نامے ان تک پہنچ جائیں گے۔ جس سے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور گواہ حاضر کیے جائیں گے۔ لوگوں کے درمیان حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ کسی پر رائی کے دانے برابر بھی زیادتی نہیں ہوگی ہر کسی کے عمل کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ جو کچھ لوگ عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ یعنی اعمال ناموں اور گواہوں پر ہی اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کو بلاواسطہ بھی سب کچھ معلوم ہوگا۔
(عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال قیلَ لَہُ مَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ ؟ قَالَ ذَاکَ یَوْمٌ یَنْزِلُ اللَّہُ تَعَالَی عَلَی کُرْسِیِّہِ یَءِطُّ کَمَا یَءِطُّ الرَّحْلُ الْجَدِیدُ مِنْ تَضَایُقِہِ بِہِ وَہُوَ کَسَعَۃِ مَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ) [ رواہ الدارمی : باب فِی شَأْنِ السَّاعَۃِ وَنُزُول الرَّبِّ تَعَالَی ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا مقام محمود کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہوں گے، اللہ کے عرش سے اس طرح آواز آئے گی جس طرح کہ نئے پالان سے آواز آتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عرش کی وسعت آسمانوں اور زمینوں کی وسعت کے کے برابر ہوگی۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن پوری کی پوری زمین اپنے رب کے نور سے منور ہوجائے گی۔
2۔ قیامت کے دن ہر شخص کا اعمال نامہ اس تک پہنچ جائے گا۔
3۔ قیامت کے دن انبیائے کرام (علیہ السلام) اور گواہ اپنی اپنی شہادت پیش کریں گے۔
4۔ قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوپائے گی۔ 5۔ قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔
6۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
عدالت کبریٰ کا ایک منظر :
1۔ اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (یونس : 54)
2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (الزمر : 69)
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو پورا پورا اجر دے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 281)
4۔ ” اللہ “ کی عدالت میں مجرم کی سفارش قبول نہ ہوگی۔ (البقرۃ : 48)
5۔ ” اللہ “ کی عدالت میں خریدو فروخت، دوستی اور کسی کی سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254)
6۔ اس دن عدل و انصاف کا ترازو قائم کیا جائے گا اور کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء : 47)
7۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا۔ (الدخان : 41، 42)
8۔ قیامت کے دن متقین کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ (الزخرف : 67)
Ayahs 39:71–72فہم القرآن
ربط کلام : عدالت کبریٰ کے فیصلے بعد کفار کو جہنم کی طرف ہانکا جانا۔
جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا تو رب ذوالجلال کی طرف سے حکم ہوگا۔ کہ جہنمیوں کو ان کے جرائم کے مطابق گروہ بندی کرکے جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ جہنمی جہنم کے پاس پہنچیں گے تو جہنم کے دروغے جہنم کے دروازے کھولتے ہوئے جہنمیوں کو طعنہ اور جھڑکتے ہوئے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے تھے جو تمہارے سامنے تمہارے رب کے ارشادات پڑھتے اور تمہیں آج کے دن سے ڈراتے۔ جہنمی زارو قطارورتے ہوئے اقرار کریں گے۔ کیوں نہیں ! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول آئے۔ اور انہوں نے ہمیں باربار اخلاص کے ساتھ سمجھایا لیکن ہم باز نہ آئے جس وجہ سے عذاب کا حکم ہم پر برحق ثابت ہوا اور ہم اس کے سزا وار ٹھہرے۔
اس کے بعد ملائکہ انہیں جہنم کے دروازوں میں دھکیلتے ہوئے کہیں گے تم نے فخر و غرور کی وجہ سے اپنے رب کے ارشادات کا انکار کیا لہٰذا تکبر کرنے والوں کے لیے جہنم ہے جو بدترین ٹھکانہ ہے اور تمہیں یہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ یاد رہے کہ رب کی عبادت کے پیچھے شکر گزاری کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس کی نافرمانی کے پیچھے شعوری یا بےپرواہی اور تکبر ہوا کرتا ہے۔
(لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابِ لِکُلِّ بَابٍ مِنْھُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ) [ الحجر : 44]
” اس کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کا ایک گروہ مقرر ہے۔ “
مسائل
1۔ کفارکو گروہوں کی صورت میں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔
2۔ کفار کو دیکھتے ہی جہنّم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور ملائکہ ان سے سوال کریں گے۔
3۔ جہنّمی اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس اللہ کے رسول آئے تھے اور انہوں نے اس کا پیغام پہنچایا تھا۔
4۔ جہنّمیوں کے اقرار کے بعد ملائکہ انہیں جہنّم میں دھکیل دیں گے۔
5۔ جہنّم رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
منکرین کا انجام :
1۔ زمین میں چل، پھر کردیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (النحل : 36)
2۔ ہم نے ان سے انتقام لیا دیکھئے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الزخرف : 25)
3۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : 11) 4۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ : 92)
5۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23) 6۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المومن : 76)
Ayahs 39:73–74فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کو جنت میں جانے حکم۔ اور انہیں ملائکہ کا سلام پیش کرنا۔
یہاں دو وجہ سے جنتیوں سے پہلے جہنمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پچھلی آیات میں عدالت کبرٰی کے قیام کے ذکر سے پہلے جہنمیوں کا ذکر ہورہا تھا۔ دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حساب و کتاب کے بعد جنتیوں کو جہنمیوں کی حالت زار دکھانا چاہیں گے۔ تاکہ انہیں احساس ہو کہ اگر ہم پر ہمارے رب کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی جہنمیوں میں شامل ہوتے۔ یہ مشاہدہ اور احساس کروانے کے بعد جنتیوں کو حکم ہوگا کہ تم نے تکبر اور نافرمانیوں سے بچ کر زندگی گزاری۔ لہٰذا اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ ! جنتی خراماں خراماں جنت کے دروازوں کے پاس پہنچیں گے تو فرشتے ڈھک، ڈھک جنت کے دروازے کھولتے ہوئے انہیں سلام کہیں گے اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ تم بہت اچھے رہے اس لیے ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اس پر جنتی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ تمام تعریفات اس ذات پاک کے لیے ہیں جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچ کردکھایا اور ہمیں جنت کی سرزمین کا وارث بنایا اور جنت میں اپنی مرضی کے مطابق رہنے کی اجازت عنایت فرمائی۔ اچھے عمل کرنے والوں کے لیے کتنا ہی اچھا اجر ہے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ وَالَّذِیْنَ عَلٰی آثَارِھِمْ کَأَحْسَنِ کَوْکَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَآءِ إِضَآءَ ۃً قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍلَاتَبَاغُضَ بَیْنَھُمْ وَلَاتَحَاسُدَ لِکُلِّ امْرِیءٍ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ یُرٰی مُخُّ سُوْقِھِنَّ مِنْ وَرَآءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ )
[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء في صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں پہلا گروہ جنت میں چودھویں رات کے چاند کی صورت میں داخل ہوگا ان کے بعد کے لوگ آسمان میں چمکدار اور حسین ستارے کی مانند ہوں گے۔ ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان نہ کوئی بغض ہوگا اور نہ ہی حسد۔ ہر جنتی کے لیے حور العین میں سے دو بیویاں ہوں گی جن کی ہڈیوں کا گودا، گوشت ہڈیوں کے درمیان سے نظر آئے گا۔ “
تفسیر بالقرآن
متقین کا استقبال :
1۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل 32)
2۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : 24)
3۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخل ہونے کا دن ہے۔ (ق : 34)
4۔ جب ملائکہ جنتیوں کے پاس آئیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : 89)
5۔ قیامت کے دن نیک لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے اس میں ان کے لیے دعا سلام ہوگا۔ (ابراہیم : 23)
6۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں غم وحزن میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے لیے جنت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : 30)
Ayah 39:75فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے بعد عدالت کبریٰ کا اختتام۔
جب جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو عدالت کبریٰ برخاست ہوجائے گی۔ جہنمیوں کے انجام اور جنتیوں کے انعام کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا اے رسول ﷺ ! آپ دیکھیں گے کہ ملائکہ اپنے رب کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوئے اپنے رب کی حمد کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ہر چیز پکار اٹھے گی کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ جونہی رب ذوالجلال عدالت کبریٰ قائم فرمائیں گے تو ملائکہ کی ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے عرش کے چاروں طرف موجود ہوگی جو رب ذوالجلال کی جلالت و جبروت کی وجہ سے دل ہی دل میں اس کی حمد و ستائش کررہے ہوں گے۔ لیکن جونہی جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان فیصلہ سنایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کے رحم و کرم کو دیکھتے ہوئے ملائکہ بےساختہ پکاراٹھیں گے کہ تمام تعریفات جہانوں کے رب کے لیے ہیں۔ کیونکہ اس نے عدل پر مبنی فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنتی حضرات اپنے رب کی حمد و ستائش میں مصروف ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کی بنا پر یقین ہے کہ جہنمی بھی اپنے رب کے عدل و انصاف کی تعریف کریں گے۔ اس لیے سب کے لیے ” قِیْلَ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
” عرشِ الٰہی کے حامل فرشتے اور جو ملائکہ عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں، وہ ” اللہ “ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی اتباع کی انہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔ “ (المومن : 7)