Ayahs 40:34–35فہم القرآن
ربط کلام : مرد مومن کا خطاب جاری ہے۔
مرد مومن نے مصر کی پرانی تاریخ کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو سمجھایا کہ یاد کرو ! جب تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کھلے دلائل کے ساتھ آئے تھے۔ تم نے ان کے بارے میں بھی شک کا اظہار کیا تھا۔ جب یوسف (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جو حق بات میں شک کرنے والے اور حد سے تجاوز کرنے والے ہوتے ہیں اور بغیر کسی دلیل کے اللہ کے احکام اور ارشادات کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ بلاجواز جھگڑنا اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کے نزدیک بڑی بری بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فعل کی وجہ سے مغرور انسان کے دل پر گمراہی کی مہر ثبت کردیتا ہے۔
” اللہ “ کی ناراضگی تو واضح ہے کیونکہ وہ ہر برے کام پر ناراض ہوتا ہے۔ مومنوں کی ناراضگی کا اس لیے حوالہ دیا گیا ہے کہ مومن کی خوشی اور ناراضگی اپنے رب کی خوشی اور ناراضگی کے تابع ہوتی ہے۔ مرد مومن نے یہ بات بھی کھلے الفاظ میں فرعون اور اپنی قوم کو سمجھائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر تمہیں ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس لیے تمہارے نظریات اور کردار پر اعتراض کرتے اور ناراض ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے عقائد اور کردار پر ناراض ہے۔
مرد مومن نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حوالہ اس لیے دیا کہ مصر کے خاص و عام یوسف (علیہ السلام) کے جمال اور کمال سے پوری طرح آگاہ تھے۔ مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن کے چرچے اور ان کی پاکدامنی کے قصّے لوگوں کی زبان پر عام تھے۔ ان کے نظام حکومت کی خوبیاں اور عدل و انصاف کے واقعات نسل در نسل تاریخ کا حصہ بن چکے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بعد اس طرح نہ مصر کی خوشحالی باقی رہی اور نہ ہی ان جیسا کوئی عدل و انصاف قائم کرسکا۔ تاریخ میں یوسف (علیہ السلام) کا دور مصر کا سنہری دورشمار ہوتا ہے۔ اس بنا پر ہر سمجھدار شخص کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ناراض ہوچکا ہے لہٰذا اب کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ کیونکہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی قدر نہیں کی تھی جس وجہ سے اب رسول نہیں آئے گا۔ اس کا یہ معنٰی بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا نہ یوسف (علیہ السلام) جیسا رسول آئے گا اور نہ ہی ہم اس پر ایمان لائیں گے۔
بندہ مومن نے یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی۔ اے میری قوم لوگو ! اب تو موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لاچکے ہیں۔ لہٰذا پہلے کی طرح شک کرنے سے بچو اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاؤ۔ گویا کہ اس نے بین السطور یہ بات سمجھا دی کہ فرعون کے پیچھے مت چلو۔ یہ مغرور اور متکبر آدمی کا راستہ ہے۔ جو خود گمراہ ہے اور لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔ اس مومن نے اپنے خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کو بھی شک کی نظر دیکھا تھا۔ حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کئی صدیاں پہلے فوت ہوچکے تھے۔ مومن کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ تمہارے باپ دادانے یوسف (علیہ السلام) پر شک کیا اور تم موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر شک کررہے ہو۔ حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی وہی دعوت دے رہے ہیں جو یوسف (علیہ السلام) نے جیل کی کال کوٹھڑی میں قیدیوں کو اور مصر کے بادشاہ بننے کے بعد پوری قوم کو دی تھی۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) پر الزام لگا یا اور انہیں جیل بھیج دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو باعزت جیل سے نکال کر بادشاہ بنا یا۔ تم بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگاتے ہو اور اسے قتل کرنے کے درپے چکے ہو۔ سوچو اور غور کرو ! مرد مومن نے یوسف (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو فرعون اور قوم کے نمائندوں کو خطاب فرمایا اور بتلایا کہ گمراہی کا دوسرا نام شک ہے۔ گویا کہ ہدایت یقین سے حاصل ہوتی ہے لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اور بات پر یقین کرو۔ نبی معظم ﷺ بھی اپنی قوم کے ہاتھوں ایسی صورت حال سے دوچار تھے۔ جس بنا پر یہ واقعات بیان کیے جارہے ہیں۔
دل پر گمراہی کی مہر لگنا :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ ( کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے حق پیش کرتے رہے لیکن لوگوں نے حق کے بارے میں شک کا اظہار کیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے اور حق کے بارے میں شک کرنیوالے کو ہدایت نہیں دیتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ اور مومن بری باتوں پہ ناراض ہوتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ متکبر اور مغرور کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں کے دلوں پر مہر لگاتا ہے :
1۔ کافروں کے دلوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔ (البقرۃ : 7) 2۔ مشرکوں کے دلوں پر مہرلگادی جاتی ہے۔ (الانعام : 46)
3۔ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود بنانے والوں کے دلوں پر مہر ثبت کردی جاتی ہے۔ (الجاثیۃ : 23)
4۔ افتراء بازی کرنے والوں کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ (الشوریٰ : 24)
5۔ مرتد ہونے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے۔ (المنافقون : 3)
6۔ تکبر کرنے والے کے دل پر مہر لگائی جاتی ہے۔ (المومن : 35)
7۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے دلوں پر مہر ثبت کردی جاتی ہے۔ (التوبۃ : 93)
Ayahs 40:36–37فہم القرآن
ربط کلام : مرد حق کے خطاب کے مقابلے میں فرعون کا ردّ عمل۔
چاہیے تو یہ تھا کہ مرد حق کے مدلّل اور مؤثر خطاب کے بعد فرعون ہدایت قبول کرتا۔ لیکن اس نے اپنے خصوصی مشیر ہامان کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک بلندو بالا عمارت تعمیر کی جائے تاکہ میں اس کے ذریعے آسمان کے دروازوں تک پہنچ جاؤں اور دیکھوں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا الٰہ کہاں بیٹھا ہوا ہے۔ میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ فرعون کے تکبّر اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے اس کی رسی کھلی چھوڑ دی گئی۔ جس بنا پر اسے اپنی غلط سوچ، سیاست اور کردار بہترین دکھائی دیتا تھا۔ اسی بنا پر وہ سیدھے راستہ سے روک دیا گیا۔ فرعون کا ہر قدم اس کے لیے تباہی کا سبب ثابت ہوا۔ جسے اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہدایت سے روک دے پھر اسے کون ہدایت دے سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردحق اپنی قوم اور حکومت کے ایوانوں میں بہت اثر رسوخ رکھنے والا تھا۔ جس بنا پر فرعون نے نہ تو اسے کسی قسم کی دھمکی دی اور نہ ہی اس کے خطاب کا سخت جواب دیا۔ اس لیے اب بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدف تنقید بنارہا ہے۔ چناچہ کہنے لگا زمین میں تو مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا دکھائی نہیں دیتا۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ آسمان میں کہاں رہتا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا مل گیا تو پوچھیں گے کہ جناب نے ہمارے پاس موسیٰ جیسا رسول بھیجا ہے۔ کہ جسے بات کرنے کا بھی سلیقہ نہیں آتا کہ بادشاہ کے حضور کس طرح فریاد کی جاتی ہے۔ کیا تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور آدمی نہیں مل سکا۔ ایسے ہی بیہودہ خیالات کا اظہار اہل مکہ بھی کیا کرتے تھے کہ اگر واقعی اللہ نے کسی کو نبی بنانا ہوتا تو مکہ یا طائف کے سرداروں میں سے کسی کو نبی بناتا۔ پہلی دفعہ لفظ اسباب سے مراد وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے وہ آسمان تک پہنچنا چاہتا تھا اور دوسری مرتبہ اسباب سے مراد آسمان کے دروازے ہیں۔ جس شخص کو باربار اس کی گمراہی سے آگاہ کیا جائے اور وہ توبہ کرنے کی بجائے گمراہی کو اپنے لیے بہتر سمجھے تو ایسے شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے۔ ایسے شخص کو اس کے گناہوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی حد ہوتی ہے جس بنا پر اللہ تعالیٰ اس کے دل پر گمراہی کی مہر لگا دیتا ہے۔
مسائل
1۔ فرعون کو اپنے برے اعمال اچھے دکھائی دیتے تھے۔
2۔ جسے اپنے برے اعمال اچھے دکھائی دیں اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔
3۔ فرعون کے بد ترین اعمال کی وجہ سے اسے ہدایت سے روک دیا گیا۔ کیونکہ اس کا ہر قدم گمراہی اور تباہی کی طرف اٹھتا تھا۔
تفسیر بالقرآن
کن لوگوں کے برے اعمال ان کے لیے خوبصورت بنادئیے جاتے ہیں :
1۔ ظالموں کے دل سخت ہوگئے اور شیطان ان کے اعمال کو مزین کر دکھاتا ہے۔ (الانعام : 43)
2۔ اکثر مشرکین کے لیے قتل اولاد کا عمل مزّین کردیا۔ (الانعام : 137)
3۔ شیطان نے اللہ کے راستہ سے روکنے والوں کے برے اعمال کو مزین کردیا اور کہا تم ہی غالب ہو گے۔ (الانفال : 48)
4۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے شیطان نے ان کے بد اعمال کو مزّین کردیا۔ (النحل : 63)
5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا سورج کو سجدہ کرنے والوں کے برے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزّین کردیا۔ (النمل : 24)
6۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
7۔ ہر گروہ کے بد اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (الانعام : 109)
8۔ حد سے تجاوز کرنے والوں کے اعمال ان کے لیے مزّین کردیے جاتے ہیں۔ (یونس : 12)
Ayahs 40:38–40فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے جواب میں مرد حق کا جواب۔
قرآن مجید کسی بات کو داستان گوئی کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ قاری کی توجہ صرف ان نکات پر مرکوز رکھی جائے جو اس کی راہنمائی کے لیے مفید ہوں۔ اس لیے یہ نہیں بتلایا گیا کہ فرعون اور مرد مومن کی گفتگو کسی ایک اجتماع میں ہوئی یا مختلف مجالس میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مرد مومن کے خطاب کے وقت فرعون کے ہاں اس کی قوم کے نمائندے ضرور موجود تھے۔ جس بنا پر مرد مومن فرعون کی بجائے باربار قوم کو مخاطب کرتے ہیں۔ اور فرعون کی بیہودہ باتوں کے جواب کا جواب دینے کی بجائے قوم کے نمائندوں کو مخاطب کرتے اور بار، بار فرماتے ہیں کہ اے میری قوم ! میری بات مانو ! میں تمہیں سیدھے راستے کی راہنمائی کررہا ہوں۔ باربار سمجھانے کے باوجود قوم دنیاوی مفادات کی خاطر مرد مومن کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس پر انہیں احساس دلانے کی کوشش کی کہ جس دنیا کے عہدوں، محلات اور مفادات کی خاطر دعوت حق سے منہ موڑے ہوئے ہو یہ سب عارضی ہیں۔ آخرت کی زندگی اور اس کا گھر ہمیشہ کے لیے ہے۔ یاد رکھو ! جس نے برے کام کیے وہ اس کے مطابق اس کی سزا پائے گا اور جس نے صالح اعمال کیے وہ اس کی جزا پائے گا بیشک وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان دار ہو۔ وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ اس میں اسے بےحدوحساب رزق دیا جائے گا۔ مومن نے ایمان کی شرط سے ثابت کیا کہ صالح اعمال کی قبولیت اور جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان میں خالص اور اپنے رب کی توحید پر پکا ہو۔
مسائل
1۔ فرعون کے لیے اس کے برے اعمال مزین کردیئے گئے۔
2۔ فرعون کی تدبیر ناکام ہوگئی۔
3۔ مرد مومن نے کہا اے میری قوم ! میری پیروی کرو ! میں تمہاری سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہوں۔
4۔ دنیا کی زندگی تھوڑا سا فائدہ ہے اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش رہے گی۔
5۔ نیکوکاروں اور بدکاروں کو ان کے کیے کی جزا وسزا دی جائے گی۔ 6۔ جنتیوں کو بغیرحساب کے رزق دیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
نیکی کی جزا اور برائی کی سزا :
1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8)
2۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے جہنم ہے۔ (البقرۃ : 71) 3۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص : 84)
4۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعا م : 160)
5۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا بدلہ جہنم ہے۔ (النازعات : 37)
6۔ نافرمانوں کو ہمیشہ کے عذاب کی سزادی جائے گی۔ (یونس : 52)
7۔ تکبر کرنے والوں کو ذلت آمیز سزا دی جائے گی۔ (احقاف : 20)
8۔ شیطان اور اس کے پیروکاروں کو جہنم کی سزا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل : 63)
9۔ صبر کرنے والوں کے لیے جنت کی جزا ہے۔ (الدھر : 12) 10۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88)
Ayahs 40:41–44فہم القرآن
ربط کلام : مرد حق کے خطاب کا آخری حصہ۔
مردِ حق نے اپنی قوم کو پہلی اقوام کی تباہی کے حوالے سے بھی سمجھایا اور پھر دنیا کی بےثباتی بتلانے کے ساتھ جنت کی نعمتوں کی ترغیب بھی دی۔ مگر قوم سمجھنے کی بجائے الٹا اس پر دباؤ بڑھاتی ہے کہ تجھے یہ دعوت چھوڑ کر اپنی قوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ نہ معلوم فرعون اور اس کے ساتھیوں نے مرد مومن پر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا۔ جس سے مجبور ہو کر اللہ کا بندہ پکار اٹھتا ہے کہ اے میری قوم ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے اس بات کی طرف کھینچتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراؤں۔ جس کے لیے میرے پاس کوئی علمی آؤڑ عقلی بنیاد نہیں۔ تم مانو یا نہ مانو میں پھر بھی تمہیں اس اللہ کی طرف بلاتا رہوں گا جو ہر اعتبار سے غالب اور اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس بات کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی ثبوت نہیں۔ یادرکھو ! ہم سب نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ یقین جانو ! کہ حد سے آگے نکلنے والے جہنّم کی آگ میں جھونکے جائیں گے جو نصیحت میں تمہیں کررہا ہوں۔ اگر تم نے اسے قبول نہ کیا تو وقت آنے پر تم پچھتاؤ گے اور اس نصیحت کو یاد کرو گے۔ بس میں اپنا کام اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پوری طرح دیکھنے والا ہے۔ مرد حق نے اپنے خطاب کے اختتام پر شرک کی بےحیثیتی کا ذکر کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ شرک کفر ہے اور اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں اور نہ ہی دنیا اور آخرت میں اس کی قبولیت ہوگی۔ کفار اور مشرکین کو اللہ تعالیٰ جہنّم میں جھونک دے گا۔ بس میں نے اپنا فرض پورا کردیا ہے اب معاملہ ” اللہ “ کے حوالے کرتا ہوں جو اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔
مسائل
مردِ حق کے خطاب کا خلاصہ :
1۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ٹھوس دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ میرا اور تمہارا رب صرف ” اللہ “ ہے۔
3۔ بالفرض موسیٰ (علیہ السلام) جھوٹے ہیں تو جھوٹ کا وبال انہیں پر ہوگا۔ اگر وہ سچے ہیں تو پھر ” اللہ “ کا عذاب تمہیں آلے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے اور زیادتی کرنیوالے کو ہدایت نہیں دیتا۔
5۔ ” اللہ “ کا عذاب نازل ہوا تو ہمیں کوئی بچا نہیں سکے گا۔
6۔ میری قوم کے لوگو ! اگر تم کفر و شرک پر قائم رہے تو تمہیں قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد اور ثمود جیسے حالات سے واسطہ پڑے گا۔
7۔ اے میری قوم ! قیامت کے دن تم ایک دوسرے کو مدد کے لیے بلاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ سے تمہیں کوئی چھڑا نہیں سکے گا۔
8۔ اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے بارے میں بلادلیل جھگڑتے ہو۔
9۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے ایماندار بندے کفر و شرک پر ناراض ہوتے ہیں
10۔ اللہ تعالیٰ متکبّر اور سرکش انسان کے دل پر گمراہی کی مہر لگا دیتا ہے۔
11۔ اے میری قوم ! میں تمہیں سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے جہنّم کی آگ کی دعوت دیتے ہو۔
12۔ اے میری قوم ! یہ دنیا عارضی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔
13۔ جو برا کام کرے گا وہ اس کے برابر سزا پائے گا۔ جو نیکی کرے گا وہ اس کی جزا پائے گا۔
14۔ جس مردیا عورت نے ایمان کی حالت میں صالح اعمال کیے اسے جنّت میں بےحساب رزق دیا جائے گا۔
15۔ اے میری قوم ! تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلاتے ہو اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں جو گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔
16۔ اے میری قوم ! جس بات کی طرف تم مجھے دعوت دیتے ہو یہ دنیا اور آخرت میں منظور نہیں ہوگی۔
17۔ اے میری قوم ! ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو آگ میں جھونک دے گا۔
18۔ اے میری قوم ! وقت آنے پر تم میری دعوت اور نصیحت کو ضرور یاد کرو گے۔
19۔ اے میری قوم ! میں اپنے کام کو ” اللہ “ کے حوالے کرتا ہوں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
شرک کے حق میں کوئی دلیل نہیں :
1۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : 117)
2۔ انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں اس کی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24)
3۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل لاؤ۔ (النمل : 64)
4۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : 71)
5۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : 81)
6۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی توحید کی دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 175)
Ayahs 40:45–46فہم القرآن
ربط کلام : مرد حق نے اپنے خطاب میں فرعون اور قوم کے سامنے وہی باتیں کیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے پیش کی تھیں۔
جن باتوں سے فرعون اور اس کی قوم کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ڈرایا کرتے تھے وہی باتیں مرد حق نے آل فرعون کو سمجھائیں مگر وہ نہ سمجھے۔ جس کے نتیجے میں انہوں نے وہی پایا جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی سازشوں سے محفوظ رکھا فرعون اور آل فرعون کو بدترین عذاب میں مبتلا کیا۔ عالم برزخ میں صبح و شام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور قیامت کے دن فرعون اور اس کے ساتھیوں کو حکم ہوگا کہ شدید ترین عذاب میں داخل ہوجاؤ۔ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کرنے سے مراد ہر وقت جہنّم کی آگ میں جلنا ہے۔
عالم برزخ میں عذاب :
” سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ایک یہودی عورت آئی اس نے قبر کے عذاب کا ذکر کیا اور کہنے لگی آپ کو اللہ عذاب قبر سے محفوظ فرمائے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عذاب قبر کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی ایسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ “
Ayahs 40:47–50فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون اور دوسرے جہنّمیوں کا جہنّم میں کیا حال ہوگا ؟
جب جہنّمی جہنم میں جھونکے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے۔ جو لوگ دنیا میں جس کسی کی تابعداری کرتے تھے ان سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابعدار تھے۔ کیا اب تم آگ کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو۔ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب اس آگ میں اکٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔ اس کا فیصلہ بدلنے کی نہ ہم میں ہمّت ہے اور نہ تم بدل سکتے ہو۔ لہٰذا ہم نے اسی آگ میں رہنا ہے۔ اس کے بعد نہایت مجبور ہو کر جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی ہمارے لیے اپنے پروردگار سے سفارش کرو ! کہ ایک دن تو عذاب سے رخصت مل جایا کرے۔ ملائکہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں سمجھانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی جواب دیں گے کہ کیوں نہیں وہ تو ہمیں سمجھاتے رہے لیکن ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی۔ فرشتے کہیں گے۔ ہم میں تو تمہاری سفارش کرنے کی ہمت نہیں۔ تم خود ہی اپنے رب سے فریاد کرو ! لیکن کفار کا فریاد کرنا انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ دوسرے مقام پر جہنّمیوں کی حالت زار کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
(وَسِیقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّٰی اِِذَا جَاءُوہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ قِیْلَ ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ )[ الزمر : 71، 72]
” کافرگروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ جب وہ جہنم کے پاس پہنچے جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جہنم کے دربان جہنمیوں سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ تمہیں تمہارے رب کی آیات سناتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے۔ جہنمی جواب دیں گے کہ ہاں آئے تھے لیکن عذاب کا حکم ہم پر ثابت ہوگیا۔ کہا جائے گا کہ اب جہنّم کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ ! جہاں تم نے ہمیشہ رہنا ہے، پس سرکشوں کا ٹھکانہ بہت ہی برا ہے۔ “
(قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِکُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَاحَتّآی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًاقَالَتْ اُخْرٰیھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھآؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ وَ قَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰیھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْن)[ الاعراف : 38، 39]
” اللہ تعالیٰ فرمائے گا ان جماعتوں کو جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں آگ میں داخل ہوجاؤ، جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے سے پہلی جماعت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ اور ان کی پہلی جماعت اپنے سے بعد والی جماعت سے کہے گی تمہیں ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کمایا کرتے تھے۔ “
مسائل
1۔ جہنمی جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے۔
2۔ کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ ہماری کچھ نہ کچھ مدد کرو !
3۔ بڑے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا۔ ہم تمہاری مدد نہیں کرسکتے۔
4۔ جہنمی جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے فریاد کرو ! لیکن ملائکہ سفارش کرنے سے انکار کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں جہنمیوں کا آپس میں جھگڑا کرنا :
1۔ قیامت کے دن پیر مرید ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : 25)
2۔ قیامت کے دن پیشوا اپنے پیرو کاروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166)
3۔ قیامت کے دن گمراہ پیروں اور لیڈروں کے پیچھے لگنے والے کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے علیحدگی اختیار کریں گے۔ (البقرۃ : 165)
4۔ کمزور بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ (سبا : 32۔ 31)
5۔ قیامت کے دن مجرم دوزخ میں جھگڑیں گے تو چھوٹے لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے۔ (المومن : 48)
6۔ قیامت کے دن جہنمیوں کا آپس میں جھگڑنا یقینی ہے۔ ( ص : 64 )
7۔ مجرم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کے لیے اپنے برے اعمال کا کلیتاً انکار کریں گے۔ (الانعام : 23)
8۔ مجر م اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گناہوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالیں گے۔ (الاحزاب : 66۔ 68)
Ayahs 40:51–52فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کفار کی فریاد بھی قبول نہ ہوگی۔ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنوں کی مدد کرتا ہے اور اس دن بھی مدد کرے گا جس دن گواہ پیش کیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور بندوں کی دنیا میں مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی مدد فرمائے گا۔ جس دن ظالموں کی معذرت تک قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کرنے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا پوری طرح کوئی نہیں جانتا۔ تاہم قرآن مجید، تاریخ اور انبیاء کی سیرت سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ اس طرح ہے۔
1 اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو اخلاق اور کردار کے حوالے سے ہمیشہ سربلند فرمایا۔ جس کا اعتراف ان کے مخالفین بھی کرتے تھے۔
2 انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کی سچائی کفار بھی دل میں تسلیم کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی انبیائے کرام (علیہ السلام) کو شہادت کے منصب پر فائز فرمایا۔ جوہر نبی کی تمنا تھی اور یہی ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے۔
3 اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء ( علیہ السلام) کو نبوت کے ساتھ سیاسی اقتدار بھی نصیب فرمایا۔
4 کفار اور مشرکین انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت مٹانا چاہتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کا کام اور نام باقی رکھا
5 اللہ تعالیٰ نے بعض انبیائے کرام (علیہ السلام) کو نبوت کے ساتھ دنیا کے مال و اسباب سے بھی ہمکنار فرمایا۔
6 اللہ تعالیٰ نے بالآخر انبیائے کرام (علیہ السلام) کے دشمنوں کو ذلیل کیا اور اپنے رسولوں کو دنیا میں احترام اور مقام بخشا۔
7 اللہ تعالیٰ بیشمار نیک بندوں کو دنیا میں بھی کفار سے برتر رکھتا ہے۔
8 اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر صورت اپنے رسولوں اور بندوں کو معزز فرمائے گا۔
9 اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے رسولوں اور بندوں کی سفارش قبول کرے گا۔ ان کے مقابلے میں کفار کی معذرت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔
0 اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے رسولوں اور بندوں کو بےحساب انعامات سے نوازے گا۔ ان کے مقابلے میں کفار پر اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ لعنت برسائیں گے۔
! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنوں کو جنّت میں اعلیٰ مقام دے گا اور ان کے مخالفین کو جہنّم میں جھونکا جائے گا۔ جو رہنے کے اعتبار سے بدترین ٹھکانہ ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
لعنت کن لوگوں پر برستی ہے :
1۔ شیطان لعنتی ہے۔ (النساء : 118) 2۔ شیطان پر قیامت تک لعنت برستی رہے گی۔ (ص : 75)
3۔ اصحاب السبت لعنتی ہیں۔ (النساء : 47) 4۔ جھوٹے پر لعنتی برستی ہے۔ (آل عمران : 61)
5۔ ظالم پر لعنت برستی ہے، (ھود : 18) 6۔ حق چھپانے والے لعنتی ہیں۔ (البقرۃ : 159)
7۔ اللہ اور رسول کو تکلیف دینے والے لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 57) 8۔ یہودی لعنتی ہیں۔ (المائدۃ : 78)
9۔ بےگناہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر لعنت اور اللہ کا عذاب ہوگا۔ (النساء : 93)
10۔ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب۔ (الاحزاب : 64)
11۔ ظالموں کے لیے جہنم کا عذاب اور لعنت ہے۔ (حٰمٓ السجدۃ : 52)
12۔ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (المائدۃ : 64) 13۔ جہنمی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ (الاعراف : 38)
14۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الفتح : 6) 15۔ بچھڑا پوجنے والوں پر خدا کی لعنت ہوئی۔ (طٰہٰ : 87)
16۔ اللہ اور رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر لعنت برستی ہے۔ (الاحزاب : 57)
17۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدلنے کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی۔ (النساء : 46)
18۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو توڑنے پر لعنت ہوئی۔ (الرعد : 25)
Ayahs 40:53–55فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت اور کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایا اور بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنایا۔ جس میں عقل مندوں کے لیے نصیحت اور راہنمائی موجود ہے۔ کتاب سے مراد تورات ہے جو پہلی آسمانی کتابوں کی ترجمان ہے اور ہدایت سے مراد وہ راہنمائی ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو چلنے کی توفیق دیتا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور علماء کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ اس کتاب کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کریں۔ جو عقل مندوں کے لیے راہنمائی اور نصیحت کا سرچشمہ تھی۔ اولی الالباب کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے کہ صحیح عقل مند وہی ہوتا ہے جو اللہ کی ہدایت پر مستقل مزاجی سے گامزن رہتا ہے۔ اسی لیے رسول محترم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ کے راستے میں جو مشکلات آرہی ہیں اس پر صبر فرمائیں اور یقین رکھیں کہ اللہ کا وعدہ سچا اور پکا۔ اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کرتے رہو ! آپ کے رب کا وعدہ سچا ہے وہ آپ کی ضرور مدد فرمائے گا۔ حالات کے جبر سے پریشان ہو کر صحابہ کرام ؓ باربار نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کرتے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اپنے رب سے عرض کیجیے کہ کوئی ایسا معجزہ نازل کرے جس سے کفار ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں یا پھر انہیں تہس نہس کردیاجائے۔ ان حالات کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کے دل میں کئی باربار یہ خیال پیدا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نازل نہیں ہورہی۔ اللہ کی مدد طلب کرنا ہر شخص کے لیے لازم ہے۔ لیکن نبی کا مقام اتنا ارفع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ معمولی عجلت بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ عجلّت پسندی پر اپنے رب سے معافی مانگیں۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے بریلوی مکتبہ فکر کے ترجمان پیر کرم شاہ صاحب لکھتے ہیں۔
افضل اور اولیٰ کا ترک عام لوگوں کے لیے جرم اور گناہ تصور نہیں ہوتا۔ لیکن مقرّبین صمدیت سے غیر اولیٰ کا صدور بھی قابل مؤاخذہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی جس ذنب سے استغفار کی ہدایت کی جارہی ہے اس سے مراد ایسے امر سے استغفا رہے جو بذات خود اگرچہ مباح اور جائز ہے لیکن نبی اکرم ﷺ کے مقام رفیع اور شان عالی کے شایان شان نہیں اور سالکان راہ محبت سے یہ چیز مخفی نہیں کہ منزل محبوب کی طرف ان کے سفر میں ایک لمحہ کے لیے توقف بھی ناقابل برداشت ہے اور لائقِ صدا استغفار ہے۔ (ضیاء القرآن جلد 4 ص : 311، 312)
صبح و شام تسبیح کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیشہ اللہ کو یاد کرتے رہو ! دوسرا یہ کہ ان مخصوص اوقات میں نماز ادا کرو ! یہ دوسرے معنٰی لینے کی صورت میں اشارہ نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف ہے جو اس سورت کے نزول کے کچھ مدت بعد تمام اہل ایمان پر فرض کردیئے گئے۔ اس لیے عشیّ کا لفظ عربی زبان میں زوال آفتاب سے لیے کر رات کے ابتدائی حصے تک کے لیے بولا جاتا ہے جس میں ظہر سے عشاء تک کی چاروں نمازیں آجاتی ہیں۔ اور ابکار صبح کی پَو پھوٹنے سے طلوع آفتاب تک کے وقت کو کہتے ہیں جو نماز فجر کا وقت ہے۔ (تفہیم القرآن جلد 4)
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یَا أَیُّہَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللَّہِ فَإِنِّی أَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ إِلَیْہِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب اسْتِحْبَاب الاِسْتِغْفَارِ وَالاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ ]
” حضرت ابن عمر ؓ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو۔ بلاشبہ میں ہر روز سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اور راہنمائی سے سرفراز فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنایا۔
3۔ عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے اور اپنے رب کی ہدایت پر چلتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں۔
5۔ انسان کو اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔
6۔ ہر مسلمان کو نماز کی پابندی اور بالخصوص صبح و شام اپنے رب کا ذکر کرنا چاہیے۔
Ayah 40:56فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح راہنمائی آجانے کے باوجود جو لوگ اس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کے دلوں میں کبر ہوتا ہے۔
جو لگ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کے پاس جھگڑا کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ سوائے اس کے کہ ان کے دلوں میں یہ خواہش اور کوشش ہے کہ حق پر غالب آجائیں اور نبی ﷺ سے بڑا بن جائیں۔ مگر ان کی خواہش کبھی پوری نہ ہو پائے گی۔ اے رسول ﷺ ” آپ “ ہر قسم کے کبر، فخر سے پناہ مانگیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے ساتھ جھگڑا کرنے والوں کے پاس تکبر کے سوا کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی۔ کِبر کی بنیاد عام طور پر دو باتوں پر ہوتی ہے۔ پہلی وجہ ہے کہ آدمی دوسرے کو اپنے آپ سے نیچ سمجھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تکبر کرنے والا اپنے نظریات کو سچی بات پر مقدم جانتا ہے۔ اہل مکہ میں دونوں گناہ پائے جاتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے واقعی ہی کسی شخص کو نبی بنانا ہوتا تو وہ عمرو بن ہشام (ابوجہل) یا پھر طائف کے سردار اس لائق تھے کہ ان میں سے کسی کو نبی بنایا جاتا۔ مکہ والوں میں یہ کبر بھی پایا جاتا تھا۔ وہ کہتے تھے کیا ہم محمد ﷺ کے کہنے پر اپنے آباء اجداد کا دین چھوڑ دیں۔ اس کبر کی وجہ سے مکہ کے کئی سردار ہدایت سے محروم رہے۔ اللہ تعالیٰ کو کبر پسند نہیں۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کے حضور کبر سے پناہ مانگا کریں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کون کس نیت کے ساتھ بات کرتا ہے اور حق کی مخالفت کرتا ہے اور حق کی مخالفت کرنے والے دل میں کیا جذبات چھپے ہوئے ہیں۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُونَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَنَعْلُہٗ حَسَنَۃً قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک آدمی نے عرض کی کہا بلاشبہ ہر آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “
نبی ﷺ کی دعا :
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَتَعَوَّذُ بِہَؤُلاَءِ الْکَلِمَاتِ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْہَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوءِ الْکِبَرِ وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ )[ رواہ النسائی : باب الاستعاذۃ من شر الکبر ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرتے تھے ” اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخیلی، تکبر کی برائی، دجّال کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا یا ان کا انکار کرنا آیات کے ساتھ جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔
2۔ تکبر انسان کو حق بات قبول کرنے نہیں دیتا۔ 3۔ تکبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
کِبر کا گناہ اور اس کے نقصانات :
1۔ اللہ تعالیٰ فخر و غرور کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 36)
2۔ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر نہ اتراؤ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23)
3۔ زمین میں اکڑ اکڑ کر نہ چل تو زمین کو پھاڑ نہیں سکتا۔ (بنی اسرائیل : 37)
4۔ زمین میں اکڑاکڑکر نہ چل اللہ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان : 18)
5۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو دنیا میں تکبر اور فساد نہیں کرتے۔ (القصص : 83)
Ayahs 40:57–59فہم القرآن
ربط کلام : حق کے بارے میں کبر اختیار کرنے والوں کو دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ پیدائش اور وجود کے اعتبار سے وہ بڑے ہیں یا زمین و آسمان بڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان بڑے ہیں مگر جو لوگ بلادلیل اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں حقیقتاً وہ اندھے ہیں اس لیے بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت برپا ہونے والی ہے جس کے بارے میں یہ شک یعنی قیامت کے دن ان کے کبر کا فیصلہ ہوجائے گا۔
جب آدمی تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو حقیقت پر غور کرنا تو درکنار اسے سننا بھی پسند نہیں کرتا۔ ایسا آدمی کافر ہے تو قولاً بھی قیامت کا انکار کرتا ہے۔ پھر اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے کہتا ہے کہ جب انسان مر کرمٹی کے ذرات بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے۔ آخرت کے منکر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہزاروں سال گزر چکے لیکن آج تک کوئی شخص مر کر زندہ نہیں ہوا۔ ان لوگوں کے کان کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ اے قیامت کا انکار کرنے والو ! ذرا رمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو کس طرح پیدا کیا ہے۔ کیا لوگوں کو پیدا کرنا بڑا کام ہے یا زمین و آسمان کو پیدا کرنا بڑا کام ہے ؟ اتنی واضح حقیقت دیکھنے اور جاننے کے باوجود لوگوں کی اکثریت اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ جو لوگ کھلے حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حقیقت میں وہ اندھے ہیں اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ہی باطل عقیدہ رکھنے والے اور برے کردار کے حامل لوگ صالح اعمال کرنے والوں کے برابر ہوسکتے ہیں۔ برے لوگوں کو اسے لیے اندھا کہا گیا ہے کہ یہ ان کے اندھے پن کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی۔ اگر قیامت قائم نہیں ہوگی تو دنیا میں بےبس مظلوم کو انصاف کہاں سے ملے گا ؟ کیا ظالم کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ کمزوروں پر ظلم کرتا رہے اور اسے پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ کیا ایسا سوچنا اور عقیدہ رکھنا اندھے پن کی دلیل نہیں ؟ ایک آدمی دنیا میں اپنے رب سے ڈر ڈر کر زندگی گزارتا اور دوسرا اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک کرتا اور ہر قسم کی نافرمانی کرتا رہتا ہے۔ کیا نیک کو جزا دینے والا اور نافرمان کو سزا دینے والا کوئی نہیں ہونا چاہیے ؟ اگر ہونا چاہیے تو اس کے لیے ایک وقت اور مقام ہونا بھی ضروری ہے اس دن کا نام قیامت اور اس جگہ کا نام محشر ہے۔ لہٰذا تم مانو یا انکار کرو قیامت آکر رہے گی۔ جو اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرتا ہے وہ بینا اور نیک ہے۔ جو اس کا انکار کرتا ہے وہ اندھا اور متکبر ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ قیامت ضرور برپا ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ اس پر ایمان لانے اور اپنے رب کی نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
” حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا دانا وہ ہے جس نے اپنے آپ کو عقل مند بنالیا اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے عمل کیے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو خواہشات کے پیچھے لگا لیا اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھی۔ “ [ رواہ الترمذی : باب الکیس من دان نفسہ ]
مسائل
1۔ لوگوں کو پیدا کرنے سے زمین و آسمان کو پیدا کرنا بڑاکام ہے۔ 2۔ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہوتے۔
3۔ صالح کردار ایمان دار اور براشخص برابر نہیں ہوسکتے۔ 4۔ لوگوں کی اکثریت نصیحت قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتی۔
تفسیر بالقرآن
قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی :
1۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ (الحجر : 85)
2۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے گا۔ (الحج : 7)
3۔ قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ (الکہف : 21)
4۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ (الحج : 1)
5۔ کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اچانک آجائے گی۔ (الحج : 55)
Ayah 40:60فہم القرآن
ربط کلام : اندھے پن سے نجات اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ صرف ایک رب کی عبادت کی جائے۔ اور صرف اسی سے دعائیں کی جائیں۔
قیامت کا انکار کرنے والوں کی اکثریت ہمیشہ ایسی رہی ہے جو اپنے رب کی عبادت کرنے اور صرف اسی سے مانگنے کی بجائے بتوں، دیوتاؤں، جنّات اور فوت شدہ بزرگوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی اور ہستی سے مانگنا اپنے رب کے ساتھ تکبّر کرنا ہے۔ کیونکہ اس کا حکم ہے کہ لوگو ! صرف مجھ ہی سے مانگا کرو۔ میں ہی تمہاری دعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔ جو لوگ للہ تعالیٰ سے اس کے حکم کے مطابق نہیں مانگتے وہ متکبر ہیں۔ اس کا فرمان ہے کہ عنقریب میں متکبرین کو جہنم میں ذلیل کروں گا۔ اس آیت کریمہ میں ہمارے رب کا حکم ہے کہ لوگو ! دعا مجھ ہی سے کیا کرو۔ پھر اس دعا کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ” اُدْعُوْا “ کو تین معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔
دعا بمعنٰی عبادت :
(وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِےْنَ ےَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَےَدْ خُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِےْنَ ) [ المومن : 60]
” تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے بےپرواہی کرتے ہیں ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ “
دعا کا معنی مدد طلب کرنا :
(وَادْعُوْا شُھَدَاٰءَ کُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ إِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِےْنَ ) [ البقرۃ : 23]
” اللہ کے بغیر اپنے مدد گاروں سے مدد مانگو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ “
دعا اور پکار :
(وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا ےَنْفَعُکَ وَلَا ےَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِّنَ الظّٰلِمِےْنَ ) [ یونس : 106]
” اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔ “
دعا اور عقیدہ :
انسان جس سے مانگتا ہے اس کے بارے میں تین باتوں میں سے کوئی ایک بات اس کے سامنے ضرور ہوتی ہے۔ وہ مجھے دیکھتا ہے، میری فریاد کو سنتا ہے اور میری مدد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اوصاف اور قدرت رکھنے والاتو صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ لہٰذا جو شخص ان میں کسی ایک بات کے بارے میں عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ خوبی فلاں بزرگ، فرشتے، جن یا کسی اور میں بھی پائی جاتی ہے۔ تو وہ صرف شرک ہی نہیں کرتا بلکہ کفر کا مرتکب بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان میں کوئی خوبی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی میں حقیقی طور پر نہیں پائی جاتی۔
( اَلدُّعَاءُ ہُوَ الْْعِبَادَۃُ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلوۃ، باب الدعاء ] ” دعا عبادت ہے۔ “
(رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرٰی کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَےَصِےْرُ کَالْمَےِّتِ فِیْ ےَدِ الْغُسَّالِ ) [ حجۃ اللّٰہ البالغۃ ]
” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت و عظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس میت کی طرح سمجھے جو نہلانے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کرتا ہوں۔
2۔ جو لوگ صرف ایک رب سے نہیں مانگتے وہ تکبر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو جہنم میں داخل کریگا۔
تفسیر بالقرآن
دعا کے بارے میں ہدایات :
1۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مجھ سے مانگو۔ ( المؤمن : 60) 2۔ اللہ تعالیٰ شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ ( ق : 16)
3۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔ ( البقرۃ : 186)
4۔ اے لوگو ! تم محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ ( فاطر : 15)
5۔ ہمارے رب ہم نے ایمان کی دعوت قبول کی تو ہماری خطاؤں کو معاف فرما۔ (آل عمران : 193 )
6۔ اے رب ہمارے ! ہمیں اور ہمارے مومن بھائیوں کو معاف فرما۔ (الحشر : 10)
7۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر بالمقابل ہوئے تو انھوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر نازل فرما اور ہمیں ثابت قدم فرما اور کافروں کی قوم پر ہماری مدد فرما۔ (البقرۃ : 250)
8۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب بیشک ہم ایمان لائے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ (آل عمران : 16)
Ayahs 40:61–63فہم القرآن
ربط کلام : جس رب کی عبادت کرنے اور اس سے مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔ جو کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔ لہٰذا صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کے سامنے اپنا دامن حاجت پھیلاؤ۔ جس طرح تمہاری نیند کے بعد تمہیں اٹھاتا ہے اسی طرح تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گا اور تم سے حساب لے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی جن قدرتوں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے ان میں سے لیل و نہار بھی ہیں۔ انہیں اپنی قدرت کی عظیم دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ رات کو لباس اور باعث سکون بنایا ہے۔ رات کے مقابلے میں دن ہے جس کے لیے یہاں ” مُبْصِراً “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی دن کو دیکھنے والا بنایا گیا ہے۔ لیل و نہار کو بنانے والا ” اللہ “ اپنے بندوں پر بڑا ہی فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ یہاں شکر سے پہلی مراد یہ ہے کہ آدمی صرف ایک رب کی عبادت کرے اور اسی کے سامنے اپنا دامن حاجت پھیلائے۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ اپنے رب کے ناشکرے اور متکبر ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کا رب ہے اور اسی نے ہر چیز پیدا فرمائی ہے اس کے سوا نہ کسی نے کوئی چیز پیدا کی اور نہ کسی کی عبادت کرنا جائز ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی ذات ایسی ہے جو اپنی مخلوق کی ضرورتیں پوری کرے اور لوگوں کی مشکلات کو رفع فرمائے۔ ایسی قدرتوں اور فضل کرنے والے رب کو چھوڑ کر کہاں ٹکریں کھاتے پھرتے ہو۔ جس طرح مشرک در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی مارے مارے پھرتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ یعنی کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی قدرت اور تخلیق کی سب سے پہلی دلیل یہ دی ہے کہ اس نے رات کو سکون کا باعث قرار دیا ہے۔ جو انسانوں کے لیے ہی باعث سکون نہیں کہ تھکے ماندے انسان کی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور صبح کے وقت وہ گزرے ہوئے کل کی طرح پھر تازہ دم ہو کر اپنے کام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ رات ہر جاندار کے لیے باعث سکون بنائی گئی ہے اور وہ بھی صبح کے وقت تازہ دم ہوجاتا ہے۔ دن کو اس لیے روشن بنایا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنا کام کاج کرنے اور ادھر سے ادھرجانے میں پریشانی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہر قسم کا فضل فرماتا ہے۔ صرف رات اور دن پر غور فرمائیں کہ اگر رات کو روشن کردیا جائے تو لوگوں کی نیند حرام ہوجائے گی اور دن کے کسی حصہ کو تاریک کردیا جائے تو لوگوں کے کام کاج ٹھپ ہوجائیں۔ رات اور دن کا حوالہ دے کر یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن ہے اسی طرح مرنے کے بعد زندگی اور دنیا کے بعد آخرت ہے۔ مگر پھر بھی لوگ خالص ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ سب سے بڑا تکبر اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی رات کو باعثّ سکون اور دن کو روشن بنایا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اس کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔
3۔ ہر دور کے مشرک اور کافر اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے رہے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور حاجت روا، مشکل کشا نہیں۔ 5۔ مگر اس کے باوجود لوگ ادھر ادھر بہکے پھر رہے ہیں۔
6۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس کا شکر ادا نہیں کرتی۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ “
1۔ (البقرۃ : 22) (الروم : 20) (التین : 4) (الدھر : 2) (الاعراف : 189) (الاعراف : 54) (النساء : 1) (الانعام : 102)