40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsفہم القرآن

Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور آسمان کو چھت ٹھہرایا، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بڑی ہی اچھی بنائیں اسی نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا، یہ ” اللہ “ ہی تمہارا رب ہے اور بےحساب برکتوں والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے اپنی ذات سے مانگنے کا حکم دیا ہے اور جس نے رات کو پرسکون بنایا اور دن کو روشن کیا ہے اس کی یہ بھی صفت اور قدرت ہے کہ اس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور وہی لوگوں کی شکل و صورت بناتا ہے اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں مشرک اور کافر جھگڑتے ہیں۔ حالانکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور آسمان کو چھت ٹھہرایا ہے اور پھر وہی ہے جو لوگوں کی بہتر سے بہتر شکل و صورت بناتا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے پاکیزہ رزق کا بندوبست کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی زندہ یا فوت شدہ اور کوئی بھی ہستی نہیں جس نے ان میں سے کوئی ایک کام کیا ہو یا ان کاموں میں کسی کا عمل دخل ہو۔ صرف ایک ” اللہ “ ہی سب کچھ پیدا کرنے والا ہے اور سارے کا سارا نظام چلا نے والا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنی تین قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ 1 اس نے صرف زمین بنائی ہی نہیں بلکہ لوگوں اور ہر جاندار کے رہنے کے لیے اسے جائے قرار بھی بنایا ہے۔ پہلے یہ زمین حرکت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑوں کی میخیں لگا دیں جس سے زمین میں ٹھہراؤ اور قرار پیدا ہوا۔ 2 اللہ تعالیٰ نے زمین کے ساتھ انسان کا انس یعنی قرار پیدا کردیا ہے جس وجہ سے ہر انسان اور جاندار اپنے علاقہ، بستی اور گھرکے ساتھ پیار کرتا ہے۔ بیشک پردیس میں اسے ہر چیز میسر ہو مگر پھر بھی اس کا دل اپنے وطن اور گھر کی طرف ہی مائل رہتا ہے۔ 3 زمین اس لحاظ سے بھی جائے قرار ہے کہ انسان کی زندگی بھر کی جسمانی ضروریات کا تعلق زمین کے ساتھ وابستہ ہیں۔ 4 ۔ انسان کا وجود زمین سے بنایا گیا ہے اور موت کے بعد اس نے مٹی میں جانا ہے لہٰذا اوّل و آخر انسان کا ٹھکانہ یہی زمین ہے۔ بہرحال یہ زمین انسان کے لیے کئی اعتبار سے جائے قرار ہے۔ ” اللہ “ ہی لوگوں کی شکل و صورت بنانے والا ہے : اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا بار ہا دفعہ ذکر فرمایا ہے۔ یہاں انسان کی تخلیق کے آخری مرحلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” اللہ “ ہی وہ ذات بابرکات ہے جس نے تمہیں بہتر سے بہترین شکل میں پیدا فرمایا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پریوں بیان فرمایا ہے۔ “ ” بیشک اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز چھپی نہیں ہے۔ وہی ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ نہایت غالب اور خوب حکمت والا ہے۔ “ (آل عمران : 5، 6) ” قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طو رسیناء کی اور اس امن والے شہر کی۔ یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے “ (التین : 1 تا 4) (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا جو ساری زمین سے لی گئی آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہوئی۔ ان میں سرخ، سفید سیاہ اور درمیانی رنگت کے لوگ ہیں ان میں سخت بھی ہیں اور نرم طبیعت بھی، نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ “ ” اللہ “ ہی لوگوں کو رزق دینے والا ہے : اللہ تعالیٰ نے انسان کے صرف رزق کام بندوبست نہیں کیا بلکہ رزق طیب سے نوازا ہے۔ طیب کا معنٰی ایسا رزق جو پاک بھی ہو اور طبع انسانی کے موافق بھی۔ انسان جب شکم مادر میں تھا تو اس کے لوتھڑے کو خون کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے خون سے اس لوتھڑے کی پرورش کی۔ جب لوتھڑے نے انسانی وجود کی شکل اختیار کی تو ماں کی خوراک سے اس کی خوراک کا بندوسبت فرمایا۔ جب پیدا ہوا تو کھانے پینے کے قابل نہ تھا تو اس کے لیے ماں کی چھاتی سے دودھ جاری کیا۔ اس طرح عمر کے لحاظ سے اس کے رزق کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ انسان کے لیے جو چیز پیدا کی وہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے پاکیزہ اور طیّب پیدا فرمائی۔ پھلوں کو لیجیے ! اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح چھلکوں میں سنبھال کر رکھا ہے۔ گندم، چاول اور دیگراشیاء کو دیکھیں۔ بیشک وہ گندے پانی میں ہی تیار کیوں نہ ہوئے ہوں۔ اس کے ذائقہ میں کسی قسم کی غلاظت کا ایک ذرہ بھی شامل نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ اس میں بو تک نہیں پائی جاتی گائے، بھیڑ، بکری اور دیگر دودھ دینے والے چوپاؤں کو دیکھیں کہ بیشک وہ گلاسڑا چارہ کھائیں لیکن ان کے دودھ اور گوشت میں کڑواہٹ یا گندگی کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر غور کریں کہ دنیا میں کروڑوں انسان ہوئے اور ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی روزی کا اس قدر انتظام کیا ہے کہ ہر آنے والے وقت میں ان کی روزی میں اضافہ ہی کیا جارہا ہے۔ گندم اور چاول وغیرہ آج سے پہلے جس زمین میں تھوڑی مقدار میں پیدا ہوتے تھے آج وہی زمین دگنی مقدار دے رہی ہے۔ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی بابرکت ذات ہے جو جہانوں کو پیدا کرنے اور پالنے والا ہے۔ مسائل 1۔ ” اللہ “ ہی نے زمین کو باعث قرار اور آسمان کو چھت بنایا۔ 2۔ ” اللہ “ لوگوں کی شکل و صورت بنانے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا پیدا کرنے والا اور سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ذات ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بابرکت ہستی ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ بابرکت ذات ہے جس نے اپنے بندے پر حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں۔ (الفرقان : 1) 2۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے۔ (الملک : 1) 3۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : 61) 4۔ ہر چیز تباہ ہوجائے گی صرف اللہ ہی وہ بابرکت ذات ہے جس کو دوام حاصل ہے۔ (الرحمن : 27) 5۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور : 35) 6۔ بابرکت ہے وہ ذات جو سب سے احسن پیدا کرنے والی ہے۔ (النور : 14) 7۔ بابرکت ہے وہ ذات جو تمام جہانوں کو پالنے والی ہے۔ (المومن : 64)
Ayahs 40:65–66

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

اللہ “ ہی ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کو پکارو اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرو، تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

اے نبی ان لوگوں سے فرما دیں کہ جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ مجھے ان کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلائل آچکے ہیں، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سر تسلیم خم کروں

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ سے مانگنے اور صرف اس کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی یہ صفت ہے کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جس ” اللہ “ نے زمین کو باعث قرار، آسمان کو چھت بنایا اور لوگوں کی بہترین شکلیں بنائیں اور ان کے لیے پاکیزہ رزق کا بندوبست فرمایا وہ بابرکت ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔” اَلْحَیُّ “ کا معنٰی ہے ہمیشہ ہمیش زندہ رہنے والا اور جب تک چاہے مخلوق کو زندہ رکھنے والا۔ اس کے سوانہ کوئی ہمیشہ سے زندہ ہے اور نہ رہے گا اور نہ اس کے سوا زمین و آسمانوں، اور انسان کی شکل و صورت بنانے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی رزق دینے والا ہے۔ وہ اپنی صفات اور ذات میں اکیلا ہے لہٰذا اس کی اسی طرح عبادت کرنی چاہیے۔ جس طرح اس نے حکم دیا ہے۔ اس لیے تمام تعریفات اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ اے نبی ﷺ ! آپ فرما دیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کی ہرگز عبادت نہ کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ اس لیے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ٹھوس دلائل آچکے ہیں کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنا۔ اسی بنا پر مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کائنات کے رب کی بندگی کرتا رہوں۔ اس مقام پر توحید کا بیان آیت 60 سے شرو ع ہوا۔ جس میں دعا کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہاں ” اَعْبُدُ “ اور ” تَدْعُوْنَ “ کے الفاظ کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے بالواسطہ یا بلا واسطہ مانگنا جائز نہیں۔ کیونکہ صرف ایک اللہ ہی پوری کائنات کا رب ہے۔ اس کے سوا کسی سے مانگنے اور اس کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (وَلَا تَدْعُ مِنْ دُون اللَّہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّکَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِینَ وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللَّہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہُ إِلَّا ہُوَ وَإِنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِہِ یُصِیبُ بِہِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ وَہُوَ الْغَفُور الرَّحِیمُ )[ یونس : 106، 107] ” اور اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کو مت پکاریں جو نہ آپ کو نفع دے سکتی ہے اور نہ آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر تو نے ایسا کیا تو بلاشبہ اس وقت ظالموں میں سے ہوجائے گا۔ اگر اللہ تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کو رد کرنے والا نہیں۔ وہ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے مستفید کرتا ہے اور وہی بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ مسائل 1۔ ” اللہ “ ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ 2۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صرف اسی کی ہی عبادت کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ ہی پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ لہٰذا اسی کی تابعداری کرنی چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اور آپ کے ذریعے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارنا چاہیے : 1۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : 104) 2۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : 56) 3۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : 71) 4۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : 20) 5۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : 194) 6۔ اللہ کے سوا کسی کو مت پکاریں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (یونس : 106)
Ayahs 40:67–68

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں پیدا کرتا اور تمہیں جوان کرتا ہے تاکہ تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ، پھر تم بڑھاپے کو پہنچو، اور تم میں سے کسی کو پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنی موت کو پہنچو اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے زندگی دینے والا، اور وہی موت دینے والا ہے، وہ جس بات کا فیصلہ کرتا ہے بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ کام ہوجاتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی الوہیت کے واضح دلائل دے کر حکم دیا ہے کہ صرف میری ہی فرمانبرداری کی جائے۔ اس لیے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اسی نے ہی انسان کو مختلف مراحل کے بعد پیدا کیا ہے۔ جس رب کی تابعداری کا حکم ہوا ہے اسی نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ لفظ رب کا پہلا معنٰی خالق ہے۔ اس بنا پر ارشاد ہوا کہ اسی نے تمہیں پہلے مٹی سے پیدا کیا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو پیدا کیا۔ پھر ان سے انسان کی آفزائش کا سلسلہ شروع فرمایا۔ (النساء : 1) اور تمام انسانوں کی تخلیق کا آغاز نطفہ سے کیا۔ جس سے لوتھڑا بنایا۔ پھر بچہ بنا کر تمہیں تمہاری ماؤں کے بطن سے پیدا کیا اور تمہیں بھرپور جوانی تک پہنچایا۔ پھر تمہیں بوڑھا کرتا ہے اور اس کے بعد تم اپنی موت کے وقت کو پہنچ جاتے ہو۔ یہ تخلیقی مراحل اس لیے بتائے اور سمجھائے جارہے ہیں تاکہ تم سمجھنے کی کوشش کرو کہ وہی ایک ذات ہے جو تمہیں زندگی عطا کرتی ہے اور وہی موت سے ہمکنار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اسے صرف ہوجانے کا حکم دیتا ہے تو وہ کام اس کی منشا اور نقشے کے مطابق ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کے ثبوت میں انسان کی تخلیق کا کئی بار تذکرہ کیا ہے اور بار بار انسان کو توجہ دلائی ہے تاکہ انسان اپنے بارے میں غور کرے کہ اسے کیسے اور کس نے اور کس لیے پیدا کیا ہے۔ ظاہربات ہے کہ اسے صرف ایک ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا ہے۔ لہٰذا اسی سے مانگنا اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ ” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اس طرح سب کچھ انسان کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِالْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ رِزْقِہِ وَأَجَلِہِ وَعَمَلِہِ وَشَقَاوَتِہِ وَسَعَادَتِہِ ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک بچے کی شکل میں ماں کے پیٹ سے پیدا کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی آدمی کو جوان اور بوڑھا کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی موت دیتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کی موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہی موت وحیات کا مالک ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ جو کام کرنا چاہے تو اس کے لیے صرف لفظ کُنْ کہتا ہے تو وہ کام اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ 8۔ انسان کو اپنی تخلیق اور اللہ کی توحید کے دلائل سمجھنے کے لیے عقل سے کام لینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ ” اللہ “ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 2۔ حوّا کو آدم سے پیدا کیا۔ (النساء : 1) 3۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 4۔” اللہ “ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : 4) 5۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 6۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4)
Ayahs 40:69–72

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں کہ کہاں سے وہ بھٹکائے جا رہے ہیں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جو لوگ اس کتاب کو اور ان کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں پر بھیجی تھیں، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

کہ جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں انکے پاؤں میں ہونگی جن میں جکڑے ہوئے کھولتے پانی میں پھینکے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ واضح دلائل آجانے کے باوجود اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں توحید و رسالت اور قیامت کے بارے میں اتنے واضح اور ٹھوس دلائل دیئے ہیں کہ معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی انہیں قبول کیے بغیر نہیں سکتا بشرطیکہ وہ جھگڑالو نہ ہو۔ جھگڑالو آدمی اپنی انا اور تعصب کی بنیاد پر حقیقت قبول کرنے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بالخصوص مشرک توحید کی بات سمجھنا تو دور کی بات اسے سننا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو ” اللہ “ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کہاں سے بھٹک رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے بھٹک جانے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی شخص دین کے کسی مسئلہ کو مخصوص نقطہ نظر سے اختیار کرلے تو اس کے پاس بھی جھگڑا کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں نے کتاب اللہ اور اس چیز کو جھٹلایا جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ کتاب اللہ کے ساتھ جو چیز انبیائے کرام (علیہ السلام) کو دی جاتی تھی وہ کتاب اللہ کی تشریح اور اس پر عمل کرنے کا عملی طریقہ تھا جس کے بغیر کوئی شخص کتاب اللہ سے صحیح استفادہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے قرآن مجید کے ساتھ مستند حدیث پر ایمان لانا اور اس کے مطابق عمل کرنا فرض عین ہے اس کے بغیر گمراہی ہے۔ جو لوگ قرآن و حدیث کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی بجائے حیلے بہانے بناتے ہیں۔ عنقریب انہیں اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔ ان کی گردنوں میں طوق پہنائے جائیں گے اور انہیں زنجیروں سے جکڑکر جہنّم میں پھینکا جائے گا۔ جب انہیں پیاس لگے گی تو جہنّم کا ابلتا ہوا پانی پلایا جائے گا اور وہ جہنم میں جلتے رہیں گے۔ (وَعَنِ ابْنْ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُوؤتٰی بِجَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَّجُرُّوْنَھَا۔ ) [ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ وَبُعْدِ ۔۔] ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے ‘ جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔ “ مسائل 1۔ کتاب اللہ اور حدیث رسول ﷺ کو جھٹلانے والے گمراہ ہوتے ہیں۔ موت کے بعد انہیں اپنے انجام کا علم ہوجائے گا۔ 2۔ گمراہ شخص کے پاس اس کی گمراہی کی معقول وجہ نہیں ہوتی۔ 3۔ جہنّمیوں کے گلے میں جہنّم کے طوق اور انہیں بڑی بڑی زنجیروں سے جکڑا جائے گا۔ 4۔ جہنّمیوں کو جہنّم سے بےانتہا ابلتا ہوا پانی پلا یا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن جہنّمیوں کو جہنّم میں مختلف سزائیں دی جائیں گی : 1۔ آنتوں اور کھالوں کا بار بار گلنا۔ (النساء : 56) 2۔ دوزخیوں کی کھال کا بار بار بدلنا۔ (الحج : 20) 3۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانادیا جانا۔ (الغاشیہ : 6) 4۔ کھانے کا گلے میں اٹک جانا۔ (المزمل : 13) 5۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جانا۔ (الانعام : 70) 6۔ دوزخیوں کو پیپ پلایا جانا۔ (النبا : 25) 7۔ جہنمیوں کو آگ کا لباس پہنایا جانا۔ (الحج : 19) 8۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا دیا جانا۔ (الحج : 21، 22) 9۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97) 10۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55) 11۔ جہنمی گرم ہوا کی لپیٹ میں اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ (الواقعۃ : 42)
Ayahs 40:73–76

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ اب کہاں ہیں اللہ کے سوا

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ جن کو تم شریک بناتے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ وہ ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو نہیں پکارتے تھے، اس طرح ” اللہ “ کافروں کا گمراہ ہونا ثابت کر دے گا

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا یہ تمہارا انجام ہے کیونکہ تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے اور اس پر اتراتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، تم نے ہمیشہ وہیں رہنا ہے یہ متکبرین کے لیے بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں سے کیے جانے والے سوالات میں سے ایک سوال۔ جہنمیوں کو جہنّم میں داخل کرنے سے پہلے میدان محشر میں دوسری مرتبہ عین جہنّم کے دروازوں کے سامنے کھڑا کرکے اور تیسری دفعہ جہنّم میں جھونک دینے کے بعد دیگرسوالات کے ساتھ ہر مرحلہ پر ان سے پہلا یہ سوال ہوگا کہ دنیا میں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے۔ آج وہ کہاں ہیں اور وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ جہنمی کہیں گے۔ مولا ہمیں تو کچھ یاد نہیں کہ وہ کون تھے۔ خوف کے مارے یہ بھی کہیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو پکارا ہی نہیں تھا۔ رب ذوالجلال کے رعب اور جہنم کے عذاب کی وجہ سے وہ سب کچھ بھول جائیں گے۔ دنیا میں کفار اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے اور آخرت میں کچھ مدت کے لیے اپنے خداؤں کو بھی بھول جائیں گے۔ کچھ مدت کے بعد انہیں ان کے مشکل کشا یاد کروائے جائیں گے تاکہ یہ ایک دوسرے کو ذلیل کریں۔ جب آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے تو انہیں کہا جائے گا۔ یہ ذلّت اور عذاب تمہیں اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تم باطل نظریات پر خوش ہوتے اور حق بات کا انکار کیا کرتے تھے۔ جہنّم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب اس میں تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ جو متکبّرین کے لیے بد ترین جگہ ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ مسائل 1۔ میدان محشر میں جہنّمیوں کو پہلا سوال یہ ہوگا کہ تمہارے مشکل کشا کہاں ہیں ؟ 2۔ ایک مرحلہ میں جہنّمی سب کو بھول جائیں گے اور پھر بالکل ہی انکار کردیں گے۔ 3۔ جہنمیوں کا ایک گناہ یہ بھی ہوگا کہ وہ اپنے گناہوں پر اترایا کرتے تھے۔ 4۔ جہنّم متکبرین کے لیے بد ترین جگہ ہے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں سے کیے جانے والے سوالات : 1۔ مجرموں سے سوال کیا جائیگا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ وہ اپنے گناہوں کی ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالیں گے۔ (الصّٰفّٰت : 22۔ 31) 2۔ ان کو ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا اب ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟۔ (الصّافات : 24 تا 25) 3۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا آج کس کی بادشاہی ہے ؟ (المومن : 16) 4۔ بلاؤ اپنے معبودوں کو اگر تم سچے ہو۔ (البقرۃ : 23) 5۔ اللہ کے علاوہ جن معبودوں کا تمہیں زعم ہے انھیں بلاؤ آج وہ بھی تمہاری مصیبت دور نہیں کرسکتے۔ (بنی اسرائیل : 56) 6۔ انہیں بلاؤ آج وہ تمہیں جواب بھی نہیں دیں گے۔ (الاعراف : 194) 7۔ اس دن ان سے کہا جائے گا بلاؤ اپنے معبودان کو، وہ بلائیں گے تو انھیں جواب نہیں ملے گا۔ (القصص : 64)
Ayahs 40:77–78

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس اے نبی صبر کر۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، ہم چاہیں گے تو آپ کے سامنے ان کو ان برے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں گے۔ جن سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں یا اس سے پہلے آپ کو دنیا سے اٹھالیں، انہیں بھی ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اے نبی تجھ سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں۔ جن میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے۔ کسی رسول کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی نشانی لے آئے۔ جب اللہ کا حکم آیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت باطل پرست خسارے میں پڑگئے

فہم القرآن ربط کلام : ٹھوس دلائل اور پُر خلوص کوشش کے ساتھ سمجھانے کے باوجود جو لوگ نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اے نبی ﷺ آپ کو صبر سے کام لینا اور اپنے رب کے حکم کا انتظار کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ اپنا کام اور آرام چھوڑ کر دن، رات اس کوشش میں لگے رہتے کہ لوگ ہدایت پاجائیں۔ لیکن آپ کے مخاطب ہدایت حاصل کرنے کی بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ہر قسم کی زیادتیاں کرتے۔ جس پر آپ ﷺ کو رنج پہنچتا اور آپ سوچتے کہ یہ کیسے ناہنجار لوگ ہیں کہ میں کسی مفاد کے بغیر ان کے لیے رات، دن ایک کیے ہوئے ہوں۔ لیکن یہ ” اللہ “ کا قرآن سمجھنے کی بجائے اس سے مزید دور ہورہے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ صبر و حوصلہ کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔ اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے تو ہم آپ کی زندگی میں وہ کچھ دکھائیں گے جس کا ان سے وعدہ کرتے ہیں یا پھر آپ کی وفات کے بعد انہیں دکھایا جائے گا۔ بالآخر انہوں نے ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ وہاں اپنے کیے کا پورا انجام پالیں گے بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے۔ جن میں بعض کے واقعات ہم نے آپ کے سامنے بیان کر دئیے ہیں اور بعض کے حالات ہم نے بیان نہیں کیے۔ کسی رسول کو یہ اختیار نہ تھا کہ وہ کوئی معجزہ اپنی مرضی سے پیش کرسکے۔ ہاں جس وقت ” اللہ “ کا حکم یعنی اس کا عذاب آئے گا تو ان کا قضیہ پورے عدل و انصاف کے ساتھ چکا دیا جائے گا۔ البتہ باطل کو اختیار کرنے والے ہر صورت دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ساتھ اپنا وعدہ آپ کی زندگی میں اس طرح پورا فرمایا کہ آپ کے بڑے بڑے دشمن بدر کے میدان میں قتل ہوئے اور باقی مسلمان ہوگئے۔ کچھ آپ کی حیات مبارکہ میں اور باقی یہودی اور عیسائی خلفائے راشدین کے دور میں سرنگوں ہوگئے۔ اس طرح اسلام سربلند ہوا اور کفر و شرک ذلیل ہوئے۔ یہاں تک پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کا مقصد ہے ان میں آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے راہنمائی اور تسلی کا سامان ہے۔ نوح (علیہ السلام) کو دیکھیں ساڑھے نو سو سال دن، رات محنت کرتے رہے لیکن چند لوگ مسلمان ہوئے بالآخر ان کے مخالفین کو ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی جد وجہد پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو کس طرح بچایا اور کامیاب فرمایا۔ ان کے مخالف اپنی سازشوں اور شرارتوں میں کیسے ناکام اور ذلیل ہوئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات پر توجہ فرمائیں کہ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر کتنا اور کتنی مدت تک ظلم ہوتا رہا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) ہمت نہ ہارے اور ان کے ساتھیوں نے بھی صبر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً فرعون اور اس کے لشکر و سپاہ ذلّت کی موت مرے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کامیاب ٹھہرے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف سے عطا کردہ عظیم معجزے بنی اسرائیل کے سامنے پیش کیے لیکن انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ اپنی طرف سے انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو آسمانوں پر اٹھاکران کی مد فرمائی اور ان کے دشمنوں کو ہمیشہ کے لیے ناکام اور ذلیل کردیا۔ یقین رکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم نافذہوتا ہے تو اہل باطل دنیا میں بھی ناقابل تلافی نقصان پایا کرتے ہیں اور آخرت کا عذاب تو لامحدود اور لامتناہی ہے۔ ” حضرت خباب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت شکایت کی جب آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں چادر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد فرمائے۔ آپ اپنے چہرے سے چادر ہٹاکر بیٹھ گئے اور فرمایا اللہ کی قسم تم سے پہلے لوگوں کو پکڑا جاتا اور ان کو ایک گھڑھے میں گاڑ کر اس کے سر پر آرا چلا کر دو ٹکڑے کردیا جاتا۔ وہ پھر بھی اپنے دین پر قائم رہتا اس کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے نوچ لیا جاتا لیکن پھر بھی دین سے منحرف نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ اس دین کو غالب فرمائے گا کہ ایک سوار صنعا سے لے کر حضرموت تک تن تنہا سفر کرے گا۔ اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا اسے صرف اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا خوف ہوگا، لیکن تم عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ “ [ رواہ البخاری : باب علامات النبوۃ ] مسائل 1۔ مسلمان کو مصیبت کے وقت صبر کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دنیا میں بھی مدد کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کامیاب فرمایا اور آپ کے دشمنوں کو ذلیل کیا۔ 4۔ کسی نبی نے کوئی معجزہ اپنی مرضی سے پیش نہیں کیا۔ 5۔ اہل باطل دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھایا کرتے ہیں۔ 6۔ بالآخر سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر کا حکم اور اس کا اجر : 1۔ صبر کیجئے اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : 115) 2۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ( البقرۃ : 153) 3۔ صبر کرنے والے کا میاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 4۔ صبر کرنے والے کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24) 5۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ ( الفرقان : 75) 6۔ صبر کرنے والے بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ( الزمر : 10) 7۔ صبر کیجیے اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ (الروم : 60) 8۔ اگر تم صبر کرو تو صبر کرنے والوں کے لیے بہترین اجر ہے۔ (النحل : 126) 9۔ صبر کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (الانفال : 46) 10۔ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کیجیے۔ (الدھر : 24) 11۔ بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 249)
Ayahs 40:79–81

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہی نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر سواری کرو اور کسی کا گوشت کھاؤ

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں، تمہارے دلوں میں جہاں کا ارادہ ہو وہاں ان پر پہنچ سکو۔ ان پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سواری کرتے ہو

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اللہ اپنی نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے آخر تم اس کی کس کس نشانی کا انکار کرو گے ؟

فہم القرآن ربط کلام : اگر باطل پرست حق پانا اور دنیا، آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں کم ازکم چوپاؤں اور کشتیوں پر ہی غور کرلینا چاہیے اگر بلا تعصّب غور کریں گے تو یقیناً ہدایت پائیں گے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے آیت نمبر 60 میں حکم دیا گیا ہے کہ صرف اپنے رب سے مانگو اور اس کی عبادت کرو اس کے بعد آفاق اور انسان کو اپنی تخلیق اور خوراک پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پیدا کرنے اور پالنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ بس اس کے حکم کے مطابق اور پورے اخلاص کے ساتھ صرف اسی ہی کی عبادت کرو کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندگی و موت کا مالک ہے۔ پھر مشرکین کے روییّ ان کے انجام کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی نبی ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور اس بات سے آگاہ فرمایا کہ کہ کفر و شرک پر اصرار کرنے والے بالآخر نقصان اٹھائیں گے۔ اب کفر و شرک کے متوالوں کو ایک دفعہ پھر توحید کے ایسے دلائل دیئے جارہے ہیں۔ جن سے ہر کس وناکس کا واسطہ پڑتا ہے اور ہر دور کے انسانوں کو ان سے واسطہ پڑتا رہے گا۔ کون سا علاقہ اور ملک ہے جہاں چوپائے نہیں ہوتے اور لوگ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔ لہٰذا توجہ دلائی جارہی ہے کہ جس اللہ سے مانگنے اور جس کی عبادت کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے اسی نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ہیں۔ جن میں ایسے بھی ہیں جن پر تم سواری کرتے ہو اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا دودھ، گوشت استعمال کرنے کے ساتھ ان سے اور بھی کام لیتے ہو اور جہاں جانا چاہتے ہو انہیں سواری کے طور پر استعمال کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلاتا اور بتاتا ہے۔ لہٰذا تم اس کی کس کس قدرت کا انکار کرو گے۔ صرف اس بات پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو سواریاں عطا فرمائی ہیں بیک وقت ان کے کتنے فائدے ہیں۔ انسان کو ابتدائے آفرینش سے یہ چوپائے میسر ہیں کہ ہزاروں سال شہری اور دیہاتی انہیں سواریوں کو ہی استعمال کرتے رہے ہیں۔ اونٹ پر غور فرمائیں کہ آج بھی یہ ایسی سواری ہے جو صحراء میں کئی کئی دن کھائے پیے بغیر مسافر کو لیے پھرتا ہے۔ بیشک انسان نے تیز سے تیز تر سواریاں بنالی ہیں۔ مگر عام لوگوں کو صحراء میں صرف اونٹ ہی کام دیتا ہے۔ جس کا گوشت کھایا جاتا ہے اور اس کی مادہ کا دودھ پیا جاتا ہے۔ اس کے اور بھی فوائد ہیں۔ اسی طرح گھوڑے کو دیکھیں کہ بڑی بڑی حکومتوں نے جدید سے جدید ترین ہیلی کا پٹر، گاڑیاں اور ٹینک تیار کرلیے ہیں۔ مگر گھوڑے کے بغیر آج بھی گزارا نہیں۔ کیونکہ پہاڑوں میں نقل و حمل کے لیے گھوڑے اور گدھے ہی فوج کے کام آتے ہیں۔ گھوڑے، اونٹ اور ہاتھی کی طاقت اور وجود کا اندازہ کریں۔ اگر انہیں طبعاً سرکش بنایا جاتا تو انسان کے بس میں تھا کہ اتنے آرام سے ان پر سواری کرلیتا۔ اب کشتی پر غور کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو کشتی بنانے کی سمجھ نہ دیتا تو نہ صرف دنیا کے انسان ایک دوسرے سے کٹ کر رہ جاتے بلکہ باہمی تجارت بھی اس قدر محدود ہوتی کہ لوگ ایک دوسرے سے استفادہ کرنے سے محروم رہ جاتے۔ کشتی سازی اور کشتی رانی اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر وہ فضل عظیم ہے کہ جس کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ کشتی بنانا سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو سکھلایا گیا تھا۔ یہ بات اس لیے قرین قیاس نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) پر وحی کی کہ تیری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے بعد کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا ان پر افسوس کرنے کی بجائے آپ ہمارے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی تیار کریں اور ظالموں سے مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اب غرق ہونے والے ہیں۔ (ھود : 36، 37) اللہ تعالیٰ انسان کو ہر حوالے سے اپنی قدرتیں دکھلاتا ہے جس کا برے سے برا شخص بھی اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے باوجود کافر اپنے رب کا انکار کرتا ہے اور مشرک اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے چوپائے بنائے جن کا انسان دودھ پیتا، گوشت کھاتا اور ان پر سواری کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے چوپاؤں میں بیشمار فوائد رکھ دیئے ہیں۔ 3۔ انسان چوپاؤں کو اپنی مرضی سے ہانکتا اور ان سے کام لیتا ہے۔ 4۔ کافر اور مشرک اپنے رب کی قدرتوں کو جانتے ہیں مگر پھر بھی اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔
Ayahs 40:82–85

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کو ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور ان سے بڑھ کر طاقتور تھے، اور زمین میں بڑے بڑے آثار چھوڑ گئے ہیں۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ان کے کسی کام نہ آیا

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تو وہ اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔ اور پھر اسی کے چکر میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو پکاراُٹھے کہ ہم نے اللہ وحدہٗ لا شریک کو مان لیا اور جن کو ہم اس کا شریک بناتے تھے۔ ان سب کا انکار کرتے ہیں

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لیے فائدہ مند نہ ہوا، کیونکہ اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ سے اس کے بندوں پر جاری رہا ہے، اور کافر اس وقت خسارے میں پڑگئے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں اور اس کے واضح دلائل کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی اور داخلی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت پانے کے لیے انسان کا سلیم الفطرت ہونا ضروری ہے۔ انسان کی فطرت جتنی زندہ اور بیدار ہوگی اتنا ہی وہ ہدایت قبول کرنے میں مستعد ہوگا۔ خارجی اسباب میں خوف اور ڈر ایک ایسا سبب ہے کہ اگر انسان کو اپنے رب کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود نافرمانی کا راستہ چھوڑ کر اپنے رب کی تابعد اری کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اور بھی خوف ہیں جن کی بنا پر آدمی نافرمانی کو چھوڑ کر ہدایت قبول کرلیتا ہے۔ اس خوف کو بیدار کرنے کے لیے قرآن مجید میں کئی بار اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اگر ظالموں کو اللہ تعالیٰ کی گرفت پر یقین نہیں آرہا تو انہیں چاہیے وہ زمین میں چل پھر کر ان کھنڈرات کا مشاہدہ کریں اور قرآن مجید اور تاریخ میں ان کے حالات پڑھیں۔ یقیناً انہیں معلوم ہوجائے گا کہ بالآخر ظالموں کا کیا انجام ہوا۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اہل مکہ سے زیادہ طاقتور اور ترقی کے اعتبار سے بہت آگے تھے۔ انہوں نے اپنی ترقی کی نمائش اور اپنا نام اور کام باقی رکھنے کے لیے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت کی تو نہ وہ اپنے آپ کو بچا سکے اور نہ ہی انہیں کوئی اور بچانے والا تھا۔ ان کی بستیاں اجڑ گئیں، محلات قبرستانوں کی شکل اختیار کرگئے اور ان کی ترقی ہی ان کے لے وبال جان ثابت ہوئی۔ ان کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے تو انہوں نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اپنے علم، عقل اور ترقی پر ناز کیا۔ رسولوں نے انہیں ” اللہ “ کے عذاب سے بہت ڈرایا مگر وہ انہیں مذاق کرتے رہے اور یہی مذاق ہی ان کی تباہی کا سبب ثابت ہوا۔ جب انہوں نے عذاب کو اپنے سامنے دیکھا تو بےساختہ پکار اٹھے کہ جن کو ہم اپنے رب کے شریک بنایا کرتے تھے۔ ہم ان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا اصول اور طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو پھر اس کا ایمان لانا اور اور آہ وزاریاں کرنا اسے کوئی فائدہ دیتا۔ یہی پہلی قوموں کے لیے اصول تھا کہ نزول عذاب سے پہلے جو لوگ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے تھے۔ وہ دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں نا ختم ہونیوا لانقصان پائیں گے۔ (فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ ) [ یونس : 98] ” پھر کوئی ایسی بستی نہ تھی جو ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان نے اسے فائدہ دیاہو، سوائے یونس کی قوم کے وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا اور انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا۔ “ توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إِِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یقیناً اللہ عزوجل بندے کی توبہ قبول کرتارہتا ہے جب تک جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔ “ مسائل 1۔ مغضوب قوموں نے اپنے علم و فہم اور ترقی کو انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت پر ترجیح دی اور انہیں مذاق کا نشانہ بنایا۔ 2۔ پہلی اقوام کی تباہی سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن پہلی اقوام کی تباہی کا ایک منظر : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 2۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 3۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13) 4۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5) 5۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 68) 6۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6) 7۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : 35) 8۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : 82) 9۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 95) 10۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 60) 11۔ یہودیوں پر اللہ نے ذلت و محتاجی مسلط کردی۔ (البقرۃ : ا 6) 12۔ یہودی اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (البقرۃ : 90) 13۔ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لعنت کی۔ (المائدۃ : 78)