41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsفہم القرآن

Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کسی کی ہوسکتی ہے کہ جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے اور اقرار کیا کہ میں مسلمان ہوں

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں میں اعلیٰ کردار اور بلند مقام کے حامل حضرات۔ اپنے رب پر ایمان لانا اور اس پر مرتے دم تک قائم رہنا بہت بڑاکام اور مقام ہے۔ مگر ایک جماعت ان حضرات سے بھی ارفع مقام کی حامل ہے اور ہوگی جن کے بارے میں ارشاد ہورہا ہے کہ یہ لوگ قول اور کردار کے لحاظ سے دوسرے مسلمانوں سے بہتر ہیں۔ جس نے اسلام قبول کیا اور پھر لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور خود صالح اعمال کرتا رہا۔” اللہ “ کی طرف بلانے سے مراد اس کے دین کی بلامفاد اور پوری جانفشانی کیساتھ دعوت دینا ہے۔ جس میں سرفہرست رب کی توحید کی دعوت ہے۔ کیونکہ دین کی ابتدا اور اس کی انتہا توحید پر رکھی گئی ہے۔ اسلامی انقلاب اور اصلاح انسان کے لیے اس سے بہتر اور زوداثر کوئی دعوت نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے تمام انبیاء ( علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اے رسول ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری ہی بندگی کرو۔ “ (الانبیاء : 25) اسی بنا پر آپ ﷺ نے مکہ میں تیرہ سال اسی بات پر زور دیا اور ماریں کھائیں۔ اگر آپ اپنی دعوت میں کسی اور بات کو سرفہرست رکھتے تو اتنی تکلیفیں کبھی نہ اٹھانا پڑتیں۔ توحید میں بھی سر فہرست توحید الوہیّت کو رکھا۔ اس لیے پوری امت کے اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت کے پہلے حضرت سرور دو عالم ﷺ ہیں۔ جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے اور صالح نمونہ پیش کرنے کا حق ادا کردیا۔ پھر آپ کے صحابہ کرام ؓ کی عظیم جماعت ہے جنہوں نے دعوت الیٰ اللہ کی خاطر وہ تکالیف بردشت کیں اور مال و جان کی قربانیاں دیں۔ جس کی مثال قیامت تک کوئی شخص پیش نہیں کرسکتا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا ؓ إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ ادْعُھُمْ إِلٰی شَھَادَۃِ أَنْ لَّاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِيْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً فِيْ أَمْوَالِھِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَاءِھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَاءِھِمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ آپ کی دعوت مان لیں تو انہیں بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ آپ کی اس بات میں اطاعت کریں تو انہیں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اموال میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔ “ (عَنْ أَبِيْ بَکْرَۃَ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ فَإِنَّ دِمَآءَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِيْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِيْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا إِلٰی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی ] ” حضرت ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے حج کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا یقیناً تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے لیے آج کا دن، مہینہ اور یہ شہر قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا میں نے ” اللہ “ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے ؟ تو لوگوں نے جواب دیا ہاں۔ “ مسائل 1۔ سب سے بہتر دعوت اللہ کی توحید کی دعوت ہے۔ 2۔ توحید پورے دین کی بنیاد ہے۔ 3۔ بہترین مبلّغ وہ ہے جو اپنی دعوت میں توحید کو سرفہرست رکھے اور خود بھی دین پر عمل کرے۔ تفسیر بالقرآن احسن قول اور احسن مسلمان : 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن التقویم بنایا ہے۔ ( التین : 4) 2۔ اللہ تعالیٰ نے احسن حدیث اتاری ہے۔ (الزمر : 33) 3۔ اللہ تعالٰٰ نے موت وحیات اس لیے بنائے تاکہ انسان احسن عمل کرئے۔ ( الملک : 2) 4۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دینا احسن بات ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : 33) 5۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینا احسن ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : 34) 6۔ جھگڑے کی بجائے احسن انداز اختیار کرنا۔ (النحل : 125)
Ayahs 41:34–35

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور اے نبی نیکی اور بدی برابر نہیں ہے تم برائی کا دفاع بہترین نیکی کے ساتھ کرو۔ دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑچکی ہے وہ دلی دوست بن جائے گا

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

ان لوگوں کو یہ خوبی حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : داعئ حق کے لیے بنیادی ہدایت۔ ایک داعی کو اپنی دعوت کے دوران اس بات کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھنا چاہیے کہ اچھائی اور برائی، نیکی اور بدی کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ برائی پر چلنے اور اس کا پرچار کرنیوالے لوگ ہمیشہ جلد باز اور جذباتی ہوتے ہیں بالخصوص مشرک کی فطرت ہے کہ وہ شرک اور غیر اللہ کی محبت میں بڑا غالی اور جذباتی ہوتا ہے۔ جونہی اس کے سامنے اللہ وحدہٗ لاشریک کی بات کی جائے تو وہ سیخ پا ہوجاتا ہے اور توحید بیان کرنے والے کو بزرگوں کا گستاخ اور بےادب کہتا ہے۔ اس کے لیے وہابی کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ جس طرح نبی اکرم ﷺ کے دور میں صحابہ کرام ؓ کو مکہ کے کافرصابی کہتے تھے ہر دور میں مشرک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس میں داعی کے لیے بات کرنا مشکل ہوجاتی ہے۔ داعی کی دانش اور حکمت یہ ہونا چاہیے کہ وہ اشتعال انگیز ماحول بنانے سے اجتناب کرے۔ ظاہر بات ہے کہ اس کے لیے ٹھنڈے دل و دماغ اور بڑے حوصلے کی ضرورت ہے یہ حوصلہ پیدا کرنے کے لیے داعی کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات پختہ رہنی چاہیے کہ اچھائی اور برائی برا بر نہیں ہوتے۔ اچھائی کی اشاعت کے لیے تین باتیں ضروری ہوتی ہیں۔ 1 الدّاعی کا اخلاق اور کردار اچھا ہونا چاہیے۔ 2 الدّاعی کو اپنا حوصلہ بڑا رکھنا چاہیے۔ 3 الدّاعی کو اچھے ماحول میں بہتر سے بہتر سلیقہ کے ساتھ بات کرنے کا ڈھنگ اپنانا چاہیے۔ اس کے باوجود اگر کوئی اچھائی کا جواب برائی سے دیتا ہے تو پھر بھی برائی کا جواب برائی سے نہیں دینا چاہیے۔ بُرائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے سے ماحول میں تلخی بڑھتی ہے اور جس قدر ماحول میں تلخی بڑھے گی اسی قدر ہی داعی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا۔ اس لیے داعی کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ وہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالنے کی کوشش کرے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر زیادتی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ جس کا بالآخر یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ اور اس کے ساتھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ جو شخص تعصّب اور کسی مفاد کے بغیر ہماری خیر خواہی کر رہا ہے اور ہماری زیادتی کا جواب حسن سلوک سے دیتا ہے یقیناً وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے۔ داعی جن لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے مخاطب کررہا ہے۔ اگر وہ طبقہ نرم نہیں ہوتا تو بالآخر ان میں سے کچھ لوگ ضرور متوجہ ہوں گے جو اس کے ہمسفر ہوجائیں گے۔ اس کی ہر دور میں بیشمار مثالیں پائی جاتی ہیں۔ دور نہ جائیں آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے کسی مسجد میں توحیدوسنت کی بات کی جاتی تو بات کرنے والے کو مسجد سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا تھا اور لوگوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے مسجد کو دھویا جاتا تھا۔ لیکن آج لوگ قرآن و سنت کی بات کو ترجیح دیتے ہیں۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینا، زیادتی کے مقابلے میں خیر خواہی کرنا ہر کسی کا کام نہیں۔ یہ وہی مبلّغ اور کارکن کرسکتا ہے جسے اپنا مشن عزیز اور اپنے رب کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ ورنہ دوسرا شخص مخالف کی بات کو اپنی انا کا مسئلہ اور اپنے دھڑے کے لیے ذلّت سمجھتا ہے۔ بعض اَن پڑھ مبلّغ اور جذباتی کارکن کسی ایک صحابی کے ذاتی اور انفرادی واقعہ کو دلیل بنا کر اسے تبلیغ پر چسپاں کرتے ہیں۔ حالانکہ تبلیغ کے میدان میں پیغمبر اسلام ﷺ اور کسی صحابی نے گالی کا جواب گالی سے نہیں دیا۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے ذاتی معاملات میں بھی کسی صحابی کی طرف سے گالی کا جواب گالی سے دینا پسند نہیں فرمایا۔ حالانکہ اس کی ایک حد تک گنجائش بھی پائی جاتی ہے۔ مسائل 1۔ نیکی اور برائی برابر نہیں ہوتے۔ 3۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینا مخالف کو اپنا گرویدہ بنانا ہے۔ 2۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینا چاہیے۔ 4۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینے والا بڑے حوصلے کا مالک اور خوش نصیب ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مبلّغ کے لیے ہدایات : 1۔ اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھے طریقے سے بلائیں۔ (النحل : 125) 2۔ فرما دیجیے یہ میرا راستہ ہے میں اس کی طرف بصیرت کے ساتھ بلاتا ہوں۔ (یوسف : 108) 3۔ آپ انہیں دین حق کی طرف بلائیں اور اللہ کے حکم پر قائم رہیں۔ (الشوریٰ : 15) 4۔ حضرت ابراہیم نے دعا کی کہ اے رب ان میں نبی بھیج جو ان کو علم اور عقل کی باتیں سکھلائے۔ ( البقرۃ : 129) 5۔ داعی اور قائد کو ہمدرد ہونا چاہیے۔ (التوبۃ : 128) 6۔ قائد میں عفو و درگزر کا جذبہ ہونا چاہیے۔ (المائدۃ : 13) نوٹ : مزید ہدایات سورة مزمل اور مدثر کی ابتدائی آیات میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے آپ کوئی اُکساہٹ محسوس کریں تو اللہ کی پناہ مانگیں، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مبلّغ کو اپنے بچاؤ کے لیے ہدایات۔ مبلّغ بھی انسان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں دفاع کے لیے غیرت اور غصّہ رکھا ہے۔ اگر انسان میں غیرت اور غصہ نہ ہوتا تو یہ کبھی اپنی عزت اور مال و جان کی حفاظت نہ کرسکتا۔ غیرت کا اظہار اور غصہ کرنا بعض مواقع پر فرض ہے۔ لیکن کچھ مواقع ایسے ہیں جن میں غیرت اور غصہ کا اظہار فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ثابت ہوتا ہے۔ بالخصوص اگر الداعی جذباتی اور جھگڑالو ہوگا تو فائدے کی بجائے اپنا اور دین حنیف کا نقصان کربیٹھے گا۔ طبیعت میں غصہ اور طیش آئے تو حکم ہے کہ ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ “ پڑھے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور جاننے والا ہے۔ توجہ اور بار بار پڑھنے اس کا غصہ یقیناً رفوہوجائے گا۔ عربی میں عوذ چوپائے کے اس بچے کو کہتے ہیں جو ابتدائی ایّام میں چلنے کے قابل نہیں ہوتا۔ جس وجہ سے گرتے اور لڑکھڑاتے ہوئے چل کر اپنی مامتا کے دودھ تک پہنچتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ “ پڑھنے والا اس قدر اپنے آپ کو بےبس سمجھ کر پڑھے اور اپنے رب سے پناہ طلب کریں۔ (عن سُلَیْمَان بن صُرَدٍ ؓ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَہٗ جُلُوسٌ وَأَحَدُہُمَا یَسُبُّ صَاحِبَہٗ مُغْضَبًا قَدْ اِحْمَرَّ وَجْہُہٗ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ لَوْ قَالَ أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ فَقَالُوا للرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُول النَّبِیُّ ﷺ قَالَ إِنِّی لَسْتُ بِمَجْنُونٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ] ” حضرت سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں آپس میں گالی گلوچ کی۔ دونوں میں ایک شدید غصے میں تھا وہ دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں اگر وہ اسے پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ :” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ “ ” میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ “ صحابہ کرام ؓ نے اس شخص سے کہا کیا تم نبی اکرم ﷺ کا فرمان نہیں سنتے ؟ اس شخص نے کہا میں پاگل تو نہیں ہوں۔ یعنی میں نے سن لیا اور اس پر عمل کرتا ہوں۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَیْسَ الشَّدِیْدُ بالصُّرْعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی کو پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہے طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ “ (قِیْلَ نَزَلَتِ الْآیَۃُ فِیْ أَبِیْ بَکَرٍ ؓ ، فَإِنَّ رَجُلاً شَتَمَہٗ فَسَکَتَ مِرَاراً ، ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ فَقَام النَّبِیُّ ﷺ ، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ شَتَمَنِیْ وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَیْہِ قُمْتَ ، قَالَ إِنَّ مَلِکًا کَانَ یُجِیْبُ عَنْکَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَیْہِ ذَہَبَ ذٰلِکَ الْمَلَکُ وَجَاء الشَّیْطَانْ ، فَلَّمْ أَجْلِسُ عِنْدَ مُجِیْءِ الشَّیْطَانِ ) (تفسیر الرازی) ” ایک موقعہ پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ایک شخص بد زبانی کر رہا تھا تنگ آکر جناب ابوبکر صدیق ؓ نے اس جیسی زبان استعمال کی تو نبی ﷺ نے فرمایا جب تک آپ صبر اور درگزر کر رہے تھے۔ اس وقت تک آپ کی طرف سے ایک فرشتہ جواب دے رہا تھا جب آپ نے اس کا جواب دیاتو اس کی جگہ شیطان آگیا۔ “ (الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) [ آل عمران : 134] ” جو لوگ آسانی اور سختی میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ غصہ سے نجات پانے کے لیے ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ “ پڑھنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں شیطان لعنتی اور پھٹکارا ہوا ہے۔ تفسیر بالقرآن تعوذ کی ترغیب اور اس کے فائدے : 1۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ : 67) 2۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : 46) 3۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : 63)
Ayahs 41:37–38

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

رات اور دن اور سورج اور چاند، اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی بات پر اڑے رہے تو تیرے رب کے جو مقرب فرشتے ہیں وہ شب وروز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے

فہم القرآن ربط کلام : جس رب پر ایمان لانا اور اس کی توحید کی دعوت دینا ہے اس کی وحدت کے دلائل۔ جس رب کی طرف لوگوں کو بلانا اور غصہ کی حالت میں شیطان سے جس رب کی پناہ چاہنا ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ رات اور دن سورج اور چاند اسی کے تابع فرمان ہیں۔ کیا مجال کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے رب کی سرمو حکم عدولی کرے۔ جب رات اور دن، سورج اور چاند اس کے حکم کے تابع ہیں تو پھر چاند اور سورج کو سجدہ کرنا کیا معنٰی دارد ؟ سجدہ تو اس اللہ کو کرنا چاہیے جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، رات اور دن بنائے۔ جو حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اسے سب کی بندگی چھوڑ کر صرف اور صرف ایک رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ جو لوگ ایک رب کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں وہ متکبر ہوتے ہیں متکبروں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اپنے رب کی عبادت کا اندازہ کرنا چاہو توسنو ! جو فرشتے ہمہ وقت اس کے حضور حاضر رہتے ہیں۔ وہ رات اور دن کی ہر گھڑی میں اس کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ انہیں کبھی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ جو لگ اپنے رب کی بندگی نہیں کرتے یا اس کی بندگی میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ اپنے رب کی ذات اور اس کے حکم کے ساتھ تکبر کرتے ہیں۔ یاد رہے ! کہ چاند اور سورج کی عبادت کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ ہم چاند اور سورج کی عبادت نہیں کرتے۔ بلکہ انہیں خدا کی قدرت کا مظہر سمجھ کر اللہ کی قربت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی بات قبروں کے بچاری اور بتوں کے مجاور کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور حکم کے ساتھ تکبّر قرار دیا ہے۔ ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت چاہے مگر اسے اجازت نہ ملے اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ پھر سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبرہوا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] مسائل 1۔ رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ 2۔ سورج اور چاند کو سجدہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا چاہیے جو سورج اور چاند کا خالق ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جو اس کا حکم نہیں مانتا وہ تکبُّر کرتا ہے۔ 4۔ اللہ کے حضور حاضر رہنے والے فرشتے ہر وقت اس کی عبادت کرتے ہیں اور عبادت کرنے میں اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد کرتی ہے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے : 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : 1) 2۔ رعد اس کی حمد و تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرعد : 12) 3۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 44) 4۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : 5)
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین ویران ہوتی ہے پھر جونہی ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو یکایک وہ پھول اٹھتی ہے اور ابھر جاتی ہے، بیشک جو اللہ مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے وہ مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے، یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرت کی ایک اور نشانی۔ جس ذات کبریا نے سورج اور چاند پیدا کیے، رات اور دن بنائے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی بارش بھی ہے ہر کوئی دیکھتا ہے کہ زمین خشک اور ویران ہوچکی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے اور جو بیج اس میں پڑے ہوتے ہیں وہ اگ آتے ہیں۔ جس سے زمین سبز لباس پہن لیتی ہے۔ جس زمین پر ویرانی کی وجہ سے نظر نہیں ٹکتی تھی آج ہریالی کی وجہ سے اس قدر پُر کشش ہوچکی ہے کہ نظر کو سکون اور دل کو قرار حاصل ہوتا اور نظر اس سے اٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ زمین سے نباتات کا اگنا اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات کبریا نے بارش سے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس میں مدت سے دبے ہوئے بیج اگائے ہیں۔ وہی ذات قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی۔ وہ دنیا کی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور قیامت کے دن بھی وہی ہر چیز پر قادر ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْ نَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ )[ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ [ متفق علیہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ قیامت کے دن انسان کی دمچی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اسی سے پیدا اور جوڑا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بارش کے بعد مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ 2۔ جس طرح زمین سے بیج اگتا اور نکلتا ہے اسی طرح قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے نکال لیاجائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کرے گا : 1۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : 7) 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : 60) 3۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : 36) 4۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : 6 تا 18) 5۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : 7) 6۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12) 7۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : 47 تا 50) 8۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 56) 9۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن اللہ جمع کرے گا۔ (التغابن : 9) 10۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : 109) 11۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمہیں اور پہلوں کو بھی جمع کردیا ہے۔ (المرسلات : 38)
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیات کے ساتھ کج روی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں، کیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جائے گا یا وہ بہتر ہے جو قیامت کے دن پرسکون حاضر ہوگا تم جو چاہو اختیار کرو۔ تمہاری حرکات کو اللہ خوب دیکھ رہا ہے

فہم القرآن ربط کلام : دلائل اور حقائق کو جھٹلانے والے لوگوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کرنے کے سینکڑوں دلائل دیئے ہیں جن میں عقلی ور نظری دلائل بھی شامل ہیں۔ نظری دلائل میں سے آسمان سے بارش نازل کرنا اور اس کے ذریعے زمین سے ہر قسم کی نباتات کو اگانا ہے۔ کافر ہو یا مسلمان ہر کوئی مانتا ہے کہ بارش نازل کرنا اور زمین سے نباتات کو اگانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ مگر اس کے باوجود کافر ” اللہ “ کی ذات کا انکار کرتا ہے اور مشرک اسکے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ اور اس کی آیات کو غلط معانی پہنچاتے ہیں ایسے لوگ اور ان کے خیالات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھلا جو شخص جہنّم کی آگ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا جو قیامت کے دن امن و سکون سے ہوگا وہ بہتر ہے ؟ ٹھوس دلائل اور واضح حقائق ہونے کے باوجود کافر اور مشرک نہیں مانتے تو انہیں انتباہ فرمائیں کہ جو چاہوعمل کرو لیکن اس بات پر یقین رکھو کہ جو بھی تم عمل کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہاں توحید و رسالت اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے لیے ” اِلْحَادْ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ ” اللہ “ کے احکام اور ارشادات کی غلط تأویل کرنا اور اس پر اصرار کرنا۔ جس طرح بےدین سائنسدان ایٹم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ دنیا کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں۔ مادہ خود بخود اپنی حالت بدلتارہتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور اس کی کوئی ابتدا اور انتہا نہیں۔ مشرک یہ کہہ کر ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کی ریاضت سے خوش ہو کر انہیں اپنی خدائی میں شامل کر رکھا ہے۔ اسی طرح کافر اپنے کفر اور مشرک اپنے شرک پر اصرار کرتا ہے۔ مسائل 1۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی من گھڑت تاویلیں کرتے ہیں حقیقت میں وہ کج روی کا شکار ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے کسی کی نیت اور عمل پوشیدہ نہیں رہتا۔ 3۔ کیا جہنّم کی آگ میں جانا بہتر ہے یا ہر قسم کے خوف سے مامون ہونا بہتر ہے ؟ 4۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا اور جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور دیکھتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 187) 2۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اللہ جانتا ہے۔ (النور : 41) 3۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : 7) 4۔ اللہ پر بھروسہ کیجیے کیونکہ وہ سنتا اور جانتا ہے۔ (الانفال : 61) 5۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (النور : 18) 6۔ اللہ دیکھنے والا ہے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ (آل عمران : 163) 7۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات : 16) 8۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے باطن اور ظاہر کو جانتا ہے وہی غیب کو جاننے والا ہے۔ (التوبۃ : 78) 9۔ کیا آپ نہیں جانتے اللہ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الحج : 70) 10۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : 74) 11۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تمہارے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے واقف ہے۔ (البقرۃ : 235) 12۔ اللہ سے ڈرؤ اور جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (البقرۃ : 233) 13۔ اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ (آل عمران : 156) 14۔ بیشک جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ (ھود : 111)
Ayahs 41:41–43

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے پاس نصیحت آئی اور انہوں نے اسے ماننے سے انکار کیا، حالانکہ یہ ایک زبردست کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس پر نہ باطل سامنے سے آسکتا ہے اور نہ آپ کے پیچھے سے یہ اللہ حکمت والے اور لائق تعریف کی طرف سے نازل کردہ ہے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے نبی آپ کو جو باتیں کہی جا رہی ہیں یہی باتیں آپ سے پہلے رسولوں کو کہی جا چکی ہیں، بیشک آپ کا رب بہت درگزر کرنے والا، اور بڑی سخت سزادینے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں کج روی تلاش کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے رب کی نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت قائم ہونے کے سینکڑوں دلائل دیئے ہیں اور باربار لوگوں کو سمجھایا ہے کہ تمہاری بہتری اسی بات میں ہے کہ تم اپنے رب کے ارشادات کو قبول کرو اور ان کے مطابق عمل کرتے رہو۔ اور یقین کرو کہ قیامت کے دن تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہے۔ لیکن لوگ اپنے رب کی نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس قرآن عزیز پہنچ چکا ہے۔ جس پر باطل کسی اعتبار سے دخل انداز نہیں ہوسکتا۔ یہ قرآن اس رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو بڑا ہی حکمت والا اور صاحب تعریف ہے۔ اے رسول ﷺ ! آپ کے بارے میں وہی باتیں کہی جاتیں ہیں جو آپ سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہی گئی ہیں۔ آپ کا رب بخشنہار بھی ہے اور سخت عذاب دینے والا بھی۔ قرآن مجید کے بارے میں کفار کئی قسم کے الزمات لگاتے تھے جن میں ایک الزام یہ تھا کہ اس شخص کو یہ باتیں شیطان القاء کرتا ہے۔ جس کی یہ کہہ کر تردید کی گئی ہے۔ ” اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔ نہ یہ کام ان کو لائق ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ وہ تو اس کو سننے سے بھی دور کردیئے گئے ہیں۔ “ (الشعراء : 210 تا 212) اتنی کھلی وضاحت کے باوجود کفار باربار یہ الزام دہراتے تھے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں یہ تو اس پر شیطان القاء کرتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ کو دوانداز میں تسلی دی گئی۔ اے محبوب ﷺ آپ کو اس پر زیادہ افسردہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ اس معاملے میں اکیلے نہیں بلکہ آپ سے پہلے جتنے رسول گزر چکے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی ان کے مخالف ایسی ہی بےہودہ باتیں کیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود آپ کا رب لوگوں کو مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے کیونکہ وہ گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ اور جو لوگ کفر و شرک سے باز نہیں آئیں گے انہیں سخت سزا دینے والا ہے۔ مسائل 1۔ قرآن مجید ہر اعتبار سے باطل کی آمیزش سے پاک ہے۔ 2۔ قرآن مجید عظیم المرتبت کتاب ہے۔ 3۔ قرآن مجید کو اللہ حکمت والے اور ہمہ صفت موصوف نے نازل کیا ہے۔ 4۔ جو الزامات اور باتیں نبی معظم ﷺ کے بارے میں کی گئیں۔ ایسی ہی یاوہ گوئی پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے بارے میں بھی کی گئی تھی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بخشنہار بھی ہے اور سخت عذاب دینے والابھی۔ تفسیر بالقرآن پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بارے میں کفار کی یا وہ گوئی : 1۔ حضرت نوح کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گذرتے تھے تو وہ ان سے مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 38) 2۔ یہ لوگ مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (التوبۃ : 79) 3۔ جب ہماری نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصّٰفّٰت : 14) 4۔ ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔ (الزخرف : 7) 5۔ جب بھی ان کے پاس آپ سے پہلے رسول آئے انہوں نے انہیں جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذاریات : 52) 6۔ لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جب بھی رسول آیا تو انہوں نے ان کے ساتھ استہزاء کیا۔ (یٰس : 30)
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اگر ہم قرآن کو عربی کی بجائے کسی دوسری زبان میں نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی ہیں۔ انہیں فرمائیں کہ ایمان لانے والوں کے لیے قرآن ہدایت اور شفاء ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے یہ ان کانوں کے لیے بوجھ اور ان کی آنکھوں کے لیے پردہ ہے، ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دور سے پکارا جا رہا ہو

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ایک اور یا وہ گوئی۔ اس سے پہلے آیت 40 اور 41 میں بتایا گیا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کی غلط توجیح کرتے ہیں اور اس کی نازل کردہ نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں کسی باطل کی کسی حوالے سے بھی آمیزش نہیں ہے۔ کفار یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن کسی غیر عربی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ اگر ہم اسے غیر عربی میں نازل کرتے تو یہ اعتراض کرتے کہ ہم عربی ہیں اور قرآن مجید کی زبان عجمی ہے۔ ہم اسے سمجھیں تو کسی طرح ؟ یہ عربی میں ہونا چاہیے تھا۔ تاکہ اس کی زبان اور احکام کو ہم اچھی طرح سمجھ جاتے۔ درحقیقت ان کی نیت میں خرابی ہے جس بنا پر یہ ایک ہی وقت میں متضاد قسم کے اعتراضات کرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں کفر کا مرض ہے۔ جس وجہ سے یہ قرآن مجید کو من جانب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں فرمادیجیے کہ جو لوگ اخلاص نیت کے ساتھ قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن ہدایت کا سرچشمہ ہونے کیساتھ شفا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کرتا اور ان کے دلوں کو کفر و شرک سے پاک کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل اس کی تلاوت سے بوجھ محسوس کرتے ہیں اور ان کی آنکھیں اور دل اندھے ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے قرآن مجید کی دعوت ان کے لیے اس طرح ہے جس طرح کسی شخص کو دور سے آواز دی جائے تو اس کے لیے اس بات کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ (وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ )[ البقرہ : 171] ” کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں ‘ انہیں عقل نہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عربی میں نازل کیا ہے۔ 2۔ قرآن مجید عربی میں اس لیے نازل کیا گیا کیونکہ نبی ﷺ عربی تھے۔ 2۔ عربی ہر دور میں جامع اور پُر کشش زبان رہی ہے اور رہے گی۔ 3۔ قرآن مجید کو نہ ماننے والے لوگ اس پر بےہودہ اعتراض کرتے ہیں۔ 4۔ قرآن مجید پر ایمان نہ لانے والا حقیقت میں اندھا اور بہرہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید اور ہدایت کے بارے میں اندھے بہرے لوگ : 1۔ کفار کی مثال اندھے بہرے کی طرح ہے۔ (ھود : 24) 2۔ ” اللہ “ کی آیات کی تکذیب کرنے والے اندھے بہرے ہیں۔ (الانعام : 39) 3۔ کانوں آنکھوں کا صحیح استعمال نہ کرنے والے لوگ جانوروں سے بدتر ہیں۔ (الاعراف : 179) 4۔ اندھے بہرے لوگ عقل نہیں رکھتے۔ (البقرۃ : 171) 5۔ اندھے بہرے لوگ ہدایت کی طرف نہیں آتے۔ (البقرۃ : 18) 6۔ نبی کریم ﷺ بھی اندھے بہرے لوگوں کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ (الروم : 52) 7۔ جہنمی کہیں گے کہ کاش ہم صحیح بات سنتے اور عقل سے کام لیتے اور جہنم میں داخل نہ ہوتے۔ ( الملک : 10)
Ayahs 41:45–46

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کے ساتھ بھی یہی اختلاف ہوا تھا، اگر تیرے رب نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے بارے میں پریشان کن شک میں پڑے ہوئے ہیں

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو نیک عمل کرے گا وہ اپنے ہی لیے کرے گا جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ آپ کا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لانے والوں کا صرف قرآن کے بارے میں یہ رویہ نہیں بلکہ ایسے لوگوں کا تورات کے بارے میں بھی یہی رویہ تھا۔ قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں میں سب سے جامع اور مفصّل کتاب تورات ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا۔ کچھ لوگ ایمان لائے اور باقی نے انکار کردیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ طے شدہ نہ ہوتا تو ان کا دنیا میں ہی فیصلہ کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ لوگوں کو دنیا میں اچھے، برے عمل کے لیے مہلت دی جائے۔ اور آخرت میں حساب و کتاب کیا جائے۔ اس مہلت کی وجہ سے ہی لوگوں تورات کے بارے میں اختلاف کیا اور اسی مہلت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ لوگ قرآن اور قیامت کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بالآخر قیامت کے دن ان لوگوں سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ لیکن کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی کیونکہ آپ کا رب اپنے بندوں پر زیادتی نہیں کرتا۔ مکہ والوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل واضح ہوچکی تھی کہ یہ قرآن من جانب اللہ ہے اور اس کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں یہ بات سخت اضطراب پیدا کیے ہوئے تھی۔ لیکن ضد کی بنا پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ کیونکہ جو کتاب اللہ کو نہیں مانتا وہ یقین کی دولت سے تہی دامن ہوتا ہے۔ جو یقین کی دولت سے محروم ہوتا ہے وہ ذہنی کشمکش کا شکار رہتا ہے۔ جسے یوں بھی بیان کیا گیا ہے یہ لوگ اپنی سرکشی میں پریشان پھرتے ہیں۔ ( البقرۃ : 15) یہ کیفیت انسان کے لیے بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ قیامت پر یقین ہی انسان کو نیکی میں اطمینان دلاتا اور برائی سے خوف پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قیامت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے گا۔ اس کے اعمال کا اسے ہی فائدہ ہوگا۔ جس نے ایمان لانے سے انکار کیا اور برے اعمال کرتا رہاوہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ ” حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! یقیناً میں نے اپنے آپ پر ظلم کرنا حرام کرلیا ہے اور تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیتا ہوں پس تم آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم ] مسائل 1۔ جس طرح لوگ قرآن مجید کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اسی طرح تورات کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا۔ 2۔ کتاب اللہ اور اس کی تعلیم کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہمیشہ اضطراب میں رہتے ہیں۔ 3۔ نیکی کا فائدہ اور برائی کا نقصان اس کے کرنے والے کو ہی ہوگا۔ 4۔ رب کریم اپنے بندوں پر زیادتی نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن رب کریم اپنے بندوں پر زیادتی نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (التوبۃ : 70) 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (الروم : 9) 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : 44) 4۔ قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال کو اپنے روبرو پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (الکھف : 49) 5۔ قیامت کے دن انصاف کا ترازو قائم کیا جائیگا اور کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا۔ (الانبیاء : 47) 6۔ آج کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائیگا۔ (یس : 54) 7۔ اللہ تعالیٰ بلاوجہ عذاب دینا پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 147) 8۔ اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ (النساء : 40)
Ayahs 41:47–48

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، جو اپنے شگوفوں سے نکلنے والے پھل اس کے علم میں ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے، پھر جس دن وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک۔ یہ کہیں گے ہم عرض کرچکے ہیں آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اس وقت وہ تمام معبودان سے گم ہوجائیں گے جنہیں وہ اس سے پہلے پکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو شخص کتاب اللہ کے بارے میں شک کرتا ہے وہ قیامت کے بارے میں بھی شک کا شکار ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا اسلوب بیان خطاب برائے خطاب نہیں۔ قرآن انسان کی ہر پہلو پر راہنمائی کرتے ہوئے اس کی توجہ حقیقت پر مرکوز رکھتا ہے۔ اس کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی ترغیب دینا ہے۔ فکر آخرت کو اس لیے بنیادی عقائد میں شامل کیا ہے کہ اس کے سوا آدمی کو نہ نیکی کرنے میں حوصلہ ملتا ہے اور نہ ہی برائی کرنے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے توحید و رسالت کی تسلیم و اطاعت کے لیے آخرت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیام آخرت کی منکر تھی جس بنا پر وہ نبی معظم ﷺ سے بار بار سوال کرتے کہ جس قیامت سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ کب برپا ہوگی ؟ قرآن مجید نے اس سوال کے کئی جواب دیئے ہیں۔ اس موقع پر صرف یہ ارشاد فرمایا کہ جس قیامت کے بارے میں تم استفسار کرتے ہو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ کوئی پھل اپنے خوشے سے نہیں نکلتا اور نہ ہی مامتا اپنے بچے کو جنم دیتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کو اس کا مکمل علم ہوتا ہے جس قیامت کا تم انکار کرتے ہو اس کا علم بھی اسی کے پاس ہے اس دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو حکم فرمائے گا کہ جنہیں تم میرا شریک بناتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ انہیں سامنے لایا جائے۔ قبروں کے پجاری، بتوں کے مجاور، بزرگوں اور حکمرانوں کے پرستار عرض کریں گے۔ بارِ الٰہا ! ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ قیامت کے بارے میں یہ جواب دینے کے بعد پھل کا اپنے خوشے سے نکلنا اور مامتاکا بچے کو جنم دینے کا اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ منکرین قیامت کو احساس ہو کہ جس طرح کوئی انسان ماں کے رحم سے جنم لینے والے بچے اور خوشے سے نکلنے والے پھل کے بارے میں حقیقی علم نہیں رکھتا۔ اسی طرح ہی قیامت کے بارے میں اسے کچھ علم نہیں ہوسکتا۔ جو ذات بیج سے خوشہ اور خوشے سے پودا پھر پودے سے پھل نکالتی ہے اور جو ماں کے رحم سے بچہ کو مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کرتی ہے اسی ذات کا فرمان ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ جنہیں تم اس کا شریک بناتے اور سمجھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہیں ” اللہ “ کی گرفت سے چھڑا نہیں سکیں گے۔ جب قیامت قائم ہوگی تو تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم اس بات کا اقرار کرو گے کہ جنہیں ہم دنیا میں اپنا سہارا سمجھتے تھے آج وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ اس وقت تمہیں یقین ہوجائے گا کہ آج ہماری کسی طرح نجات نہیں ہوسکتی نہ ہی بھاگنے کی جگہ ہوگی۔ مشرک کے بنائے ہوئے شریکوں کے لیے ” ضَلَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ” ضَلَّ “ کا معنٰی ہے گم ہوجانا، بھول جانا، راستے سے بھٹک جانا، دین سے پھرجانا۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ رب ذوالجلال کے جلال کی وجہ سے مشرکوں کو ان کے شریک بھول جائیں گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ 2۔ کوئی نہیں جانتا کہ پھل پکے گا یا پہلے ضائع ہوجائے گا۔ 3۔ کوئی ماں نہیں جانتی کہ وہ کب صاحب امید ہوگی اور کیسا بچہ جنم دے گی۔ 4۔ قیامت کے دن مشرک اپنے مشکل کشاؤں کو بھول جائیں گے۔ 5۔ قیامت کے دن مشرکوں کی نجات نہ ہوگی۔
Ayahs 41:49–51

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعا مانگتے ہوئے کبھی نہیں تھکتا اور جب اس پر کوئی آفت آتی ہے تو مایوس اور دل شکستہ ہوجاتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

مگر جونہی تکلیف کے بعد ہم اسے اپنی رحمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے کہ میں اسی کا حقدار تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آئے گی، اگر بالفرض میں اپنے رب کی طرف لٹایا گیا تو وہاں بھی میر انجام بہتر ہوگا۔ حالانکہ کفر کرنے والوں کو یقیناً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے، اور جب اسے کوئی آفت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مشرک کے شرک کی بنیادی وجہ مفاد پرستی اور جلد بازی کرنا ہے۔ مشرک کی طبیعت میں مفاد پرستی اور جلد بازی کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ مشرک دنیا کے بارے میں بڑا حریص ہوتا ہے۔ مشرک اور دنیا پرست انسان معمولی آزمائش اور نقصان برداشت نہیں کرسکتا۔ ہمیشہ دنیا کے لیے ہی دعائیں کرتارہتا ہے۔ (البقرۃ : 200) مشرک کو تکلیف پہنچے اور اس کی دعا جلد قبول نہ ہو تو یہ اپنے رب سے ہی مایوس ہوجاتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نواز دے تو سمجھتا ہے کہ یہ میری کوشش کا نتیجہ ہے۔ بسا اوقات اپنی زبان سے بھی کہتا ہے کہ میری تکلیف اس لیے رفع ہوئی کہ میں نے اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی اختیار کی اور ہر وقت اس کا علاج کرلیا ہے۔ مشرکانہ عقیدہ اور دنیا پرستی کی وجہ سے اس کا مستقل ذہن بن جاتا ہے۔ بالخصوص ان لوگوں کا جو کئی نسلوں سے دولت مند ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا نظام اس طرح ہی چلتا رہے گا۔ بالفرض اگر قیامت قائم ہوگئی تو وہاں بھی ہمیں دوسروں پر برتری حاصل ہوگی۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں طویل سے طویل تر زندگی حاصل ہوجائے۔ یہاں تک کہ ہم ہزار سال زندہ رہیں۔ حالانکہ طویل زندگی انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی (البقرۃ : 96) ایسے انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ملے تو منہ پھیر لیتا ہے اور ناشکری کرتا ہے۔ تکلیف پہنچے تو لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔ یہ حالت اس شخص کی ہوتی ہے جو رسمی طور پر اسلام کا نام لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کافر گردانا ہے جنہیں سخت اور شدید عذاب دیا جائے گا۔ (عَنْ خَبَّابٍ ؓ قَالَ کُنْتُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَاءِلِ السَّہْمِیِّ سَیْفًا، فَجِءْتُ أَتَقَاضَاہُ فَقَالَ لاَ أُعْطِیکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قُلْتُ لاَ أَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ ﷺ حَتَّی یُمِیتَکَ اللَّہُ ، ثُمَّ یُحْیِیَکَ قَالَ إِذَا أَمَاتَنِی اللَّہُ ثُمَّ بَعَثَنِی، وَلِی مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَنْزَلَ اللَّہُ (أَفَرَأَیْتَ الَّذِی کَفَرَ بآیَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَیَنَّ مَالاً وَوَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَیْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَہْدًا)[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہِ (أَطَّلَعَ الْغَیْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَہْدًا )] ” حضرت خباب ؓ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں لوہار تھا۔ میں نے عاص بن وائل سھمی کے لیے تلوار بنائی۔ اس کے پاس مزدوری لینے کے لیے گیا۔ تو اس نے کہا میں اس وقت تک تجھے تیری اجرت نہیں دوں گا جب تک تو محمد ﷺ کی رسالت کا انکار نہ کردے۔ میں نے کہا اللہ تجھے موت دے پھر زندہ کرے میں پھر بھی محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا۔ جب اللہ تعالیٰ میری موت کے بعد مجھے زندہ کرے گا تو اس وقت بھی میرے پاس مال ہوگا لہٰذا میں قیامت کے دن تیری مزدوری ادا کردوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی کہ کیا اسے غیب کا علم ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ اسے آخرت میں بھی اچھا مقام اور مال دیا جائے گا۔ “ دنیا دار کے مقابلے میں مؤمن کا کردار : (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر ] ” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے معاملات عجیب ہیں۔ اس کے تمام معاملات میں خیر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے اگر اس کو آسانی ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یہ اسکے لیے بہتر ہے اور اگر اسے تنگدستی آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “ مسائل 1۔ مشرک اور کافر دنیا کے معاملے میں بڑا حریص ہوتا ہے۔ 2۔ دنیا دار شخص تکلیف کے وقت اپنے رب سے مایوس ہوجاتا ہے۔ 3۔ دنیا دار شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر حاصل ہو تو وہ اسے اپنی لیاقت سمجھتا ہے۔ 4۔ دنیا پرست انسان کو اللہ تعالیٰ سخت عذاب دے گا۔ تفسیر بالقرآن دنیا پرست انسان کا انجام : 1۔ جو لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ دور کی گمراہی میں ہیں۔ (ابراہیم : 3) 2۔ جن لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا، قیامت کے دن ہم ان کو بھلا دیں گے۔ (الاعراف : 51) 3۔ یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (النحل : 107) 4۔ جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیا کو ترجیح دی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (الناز عات : 37 تا 39) 5۔ دنیا چاہنے والوں کو دنیا اور آخرت چاہنے والوں کو آخرت ملتی ہے۔ (آل عمران : 145)
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

اے نبی ان سے فرمائیں کبھی تم نے یہ سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے اور تم اس کا انکار کرتے رہے تو اس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور نکل گیا ہو

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر دنیا کے فائدے کی خاطر قرآن مجید کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم انسان پر جب انعام کرتے ہیں تو وہ شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری اور اعراض کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سب سے بڑا انعام قرآن مجید کا نزول ہے جس میں انسان کی راہنمائی کا انتظام کیا گیا ہے اکثر انسان اس پر ایمان لانے کی بجائے کفر اختیار کرتے ہیں جو شخص قرآن کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا۔ اے رسول ﷺ ! ان لوگوں سے استفسار فرمائیں کہ جس قرآن اور اس کی تعلیمات کا انکار کرتے ہو۔ اگر واقعی ہی یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے اور تم نے اسے نہ مانا اور اس کی مخالفت میں دور نکل گئے تو بتاؤ ! اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا۔ قرآن مجید کے سمجھانے کا یہ بھی ایک اسلوب ہے کہ وہ انسان کو توجہ دلاتا ہے کہ اے انسان ! بار بار سوچ ! کہ جس قرآن کا تو انکار کرتا ہے۔ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ تو پھر قیامت کے دن تیرا کیا حال ہوگا ؟ قرآن مجید کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کے دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں جن و انس کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ شیطان کی شیطنیت سے ہر اعتبار سے محفوظ ہے اور نہ ہی یہ شاعرانہ کلام ہے۔ اگر پھر بھی تمہیں یقین نہیں آتا تو سب کے سب جمع ہو کر قرآن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ۔ لیکن تم ہرگز اس جیسا کلام نہیں بنا سکتے۔ جب تم ایسا کر نہیں سکتے تو پھر اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں یہ منکرین کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (البقرۃ : 23، 24) اس انتباہ کے باوجود اگر تم انکار کیے جارہے ہو تو یاد رکھو ! جو قرآن کی مخالفت میں ہر قسم کی اخلاقی حدود پھلانگ جائے۔ کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی شخص گمراہ نہیں ہوسکتا۔ مسائل 1۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ 2۔ قرآن کی مخالفت کرنے والا پرلے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب انہیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفوس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے، کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : قرآن کی مخالفت کرنے والوں کو ایک اور انتباہ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان اور قوم کے لیے ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔ جب کوئی انسان اور قوم اس حد کو پھلانگ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اعتاب کا کوڑا حرکت میں آجاتا ہے۔ منکرین حق کو اس وقت سے آگاہ کرنے کے لیے بتلایا گیا ہے کہ ہم عنقریب انہیں آفاق اور ان کی ذات سے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر حق آشکارا ہوجائے گا۔ یعنی اس وقت حق کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ لیکن اس وقت اعتراف اور اظہارِ حق کا نہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اے محبوب ﷺ ! آپ اس یقین کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں کہ آپ کا رب ہر حال میں ہر چیز کو دیکھتا اور اس پر گواہ ہوتا ہے۔ اُفق کی جمع آفاق ہے جس کا معنٰی حد نگاہ یا آسمان کا کنارہ ہے اور نفس کی جمع نفوس یا اَنْفُس آتی ہے جس سے مراد تمام انسان ہیں۔ لیکن یہاں انسان سے مراد کافر لوگ ہیں۔ انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ انہی کے نفوس میں سے اور آفاق سے اپنی قدرت کی نشانیاں ظاہر کرے گا۔ اکثر مفسّرین نے آفاق سے مراد اسلام کی فتوحات لی ہیں اور وضاحت فرمائی ہے کہ فتوحات بذات خود کوئی بڑی بات نہیں۔ کیونکہ دنیا میں ظالم اور فاسق قومیں ہوئیں اور صدیوں تک برسر اقتدار رہی ہیں۔ اسلامی فتوحات کی خوبی یہ ہے کہ اس میں دیانت و امانت کا بول بالا ہوا، شرم و حیا نے اپنا مقام پایا اور مظلوم کا ہاتھ ظالم کے گریباں تک پہنچا۔ اور عدل و انصاف قائم ہوا۔ جس سے دنیا جنت کی نظیر پیش کرنے کے قابل ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی فتوحات ” اللہ “ کی قدرت اور اس کی رحمت کا کرشمہ تھیں کہ جس بنا پر دنیا نے اسلام کے دامن میں سکون پایا۔ مگر آفاق کی نشانیوں میں ان نشانیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ جنہیں مکہ میں ظاہر کیا گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی انگلی کے اشارے سے مکہ والوں کے سامنے چاند دو ٹکڑے ہوا جس کی شہادت دینے پر اہل مکہ مجبور ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کو مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے لے کر آسمانوں کی سیر کروائی۔ کفار نے مسجد اقصیٰ کی نشانیاں طلب کیں تو آپ ﷺ کے سامنے مسجد اقصیٰ پیش کردی گئی۔ جن کے سامنے انہیں خاموشی اختیار کرنا پڑی۔ آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی پتھروں نے دی۔ مکہ کے بڑے بڑے سردار میدان بدر میں تہہ تیغ ہوئے اور باقی نے اللہ کی وحدت، نبی ﷺ کی رسالت اور قرآن کی صداقت کو دل وجان سے قبول کیا۔ اس طرح ہمارے رب کا فرمان سچ ثابت ہوا اور قیامت تک اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلاتا رہے گا۔ اس آیت مبارکہ کو سائنسی تجربات اور میڈیکل سائنس کے حوالے سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان اور بھی آشکارا ہوجاتا ہے۔ ” فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ “ ! اس لیے انسان کو اپنے افکار اور اعمال کو قرآن و سنت کے تابع کردینا چاہیے اور ہر دم یہ عقیدہ تازہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ آفاق، نباتات اور قدرت کے عجائبات کا ادراک کرنے کے لیے ملاحظہ فرمائیں سو سائنسدانوں کے مشاہدات پر مشتمل کتاب ” اللہ “ موجود ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے نفوس اور آفاق میں سے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ دلائل اور اپنی قدرت کی نشانیوں سے حق کو واضح کرتا ہے۔ 3۔ ہر انسان کو ہر وقت یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز اور کام کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا اور جانتا ہے : 1۔ تم جو بھی عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : 61) 2۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : 79) 3۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدہی توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ ہر چیز کو جانتا اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 17) 4۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 32) 5۔ جو کچھ تم اللہ کے دئیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ (النساء : 39) 6۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ (لقمان : 34) 7۔ فرشتوں نے کہا تو پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھلایا ہے اور تو جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (البقرۃ : 32)
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

آگاہ رہو یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک کرتے ہیں، اللہ ہر چیز پر محیط ہے

فہم القرآن ربط کلام : کفار اپنے رب کی قدرتیں دیکھنے کے باوجود اس کی ذات اور ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔ انسان کا ذہن آخرت کے فکر سے خالی ہوجائے تو وہ بڑے سے بڑے حقائق اور دلائل کو ٹھکراتا چلا جاتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ ان کے سامنے اللہ کی الوہیّت کے دلائل پیش کیے جاتے تو وہ انہیں مسترد کردیتے۔ نبی ﷺ کی رسالت کا ثبوت دیا جاتا تو وہ مذاق کا نشانہ بناتے۔ فکر آخرت کی بات ہوتی تو اہل مکہ یہ کہہ کر انکار کرتے کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو اسے کس طرح دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ دیکھیں یہ لوگ کس طرح اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں متردّد اور شک کا شکار ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو رب انہیں آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی قدرتیں دکھلاتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر یہ لوگ بےبس ہوجاتے ہیں اور اکثر مرتبہ ان کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پھر غور کرو ! کہ جس نے زمین و آسمان، صحراء، دریا، شجرو حجر اور انسان کو پیدا کیا۔ کیا وہ انسان کو مارنے کے بعد اسے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ بلاشبہ وہ اس بات پر قاد رہے اور اس نے انسان کو ہر حالت میں دوبارہ زندہ کرنے کے بعد اپنی بارگاہ میں حاضر کرنا ہے۔ کوئی اس کا اقرار کرے یا انکار کرے اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے علم، اختیار اور اقتدار کے حوالے سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ انسان جل کر مرے یا پانی میں تحلیل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہر صورت اسے اپنے حضور حاضر کرے گا۔ مسائل 1۔ آخرت کے منکرکے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلائل موجود نہیں۔ 2۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے اس کی اپنے رب کے ساتھ ملاقات ضرور ہوگی۔ 3۔ یقین کریں ! کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔