Ayahs 48:20–23فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو اپنی رضا مندی کی خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی بتلا دیا کہ عنقریب تمہیں بہت سی غنیمتیں عطا کی جائیں گی۔
بیعت رضوان جن حالات میں ہوئی۔ کوئی آدمی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس قدر کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام ؓ کو اس موقعہ پر چار انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہیں ہر صورت کثیر مال غنیمت عطا کرے گا۔ اسی نے اپنے فضل سے حدیبیہ کے مقام پر مکہ والوں کے ہاتھوں کو تمہاری طرف بڑھنے سے روک لیا تاکہ مومنوں کو اللہ کی قدرت کا نمونہ دکھایا جائے اور ان کی صحیح راستے کی طرف راہنمائی کی جائے۔
اللہ تعالیٰ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا جو اللہ تعالیٰ کے احاطہ اختیار میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اہل مکہ تمہارے ساتھ لڑنے کی کوشش کرتے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور پھر وہ کسی کو اپنا مددگار اور خیرخواہ نہ پاتے۔ صحیح راستے سے مراد یہ بھی ہے کہ صلح حدیبیہ کی شرائط تمہیں نہ پسند ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہاری راہنمائی فرمائی کہ تم بالآخر اس معاہدہ پر مطمئن ہوگئے۔ اس سے پہلی آیت میں کثیر غنیمت کی خو شخبری دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم اس کو حاصل کرنے والے ہو لیکن یہاں ” قَدْ اَحَاط اللّٰہُ “ کے الفاظ میں اشارہ کیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے ایسی غنیمتیں بھی سنبھال رکھی ہیں جن پر تمہاری دسترس نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون اور طریقہ ہے جو پہلے لوگوں سے چلا آتا ہے۔ آپ اللہ کے قانون اور طریقے میں تبدیلی نہیں پائیں گے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام ؓ مدینہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر دور ہونے کے ساتھ اسلحہ سے بھی خالی ہاتھ تھے سوائے چند تلواروں کے جو عرب کے لوگ روایتی طور پر سفر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ وطن سے دور اور اسلحہ سے خالی ہاتھ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کفار پر صحابہ کا اس قدر رعب ڈال دیا کہ کفار نہ صرف معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے بلکہ وہ اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے اپنی طرف سے معاہدے کی پیشکش کی کہ آئندہ سال جب مسلمان عمرہ کے لیے مکہ آئیں گے تو ہم تین دن کے لیے مکہ خالی کردیں گے تاکہ کسی قسم کے تصادم کا خطرہ باقی نہ رہے۔ اس صورت حال کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے تمہارا کفار پر رعب ڈال دیا۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کرتے تو یقیناً پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور اس صورت میں ان کی کوئی مدد اور خیرخواہی کرنے والا نہ ہوتا کیونکہ عرب کے قبائل بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں جان چکے تھے کہ تینوں غزوات میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ مکہ والے اپنے لیے کوئی مددگار اور خیرخواہ نہ پاتے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا ضابطہ اور طریقہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کو سزا دینے پر آتا ہے تو پھر کوئی زندہ یا مردہ اس کی مدد کرنے والا نہیں ہوتا اور یہی کچھ اہل مکہ کے ساتھ ہوا کہ جب نبی ﷺ نے دو سال بعد مکہ والوں کی عہد شکنی کی وجہ سے مکہ کا محاصرہ کیا تو کسی ایک قبیلہ نے بھی اہل مکہ کی حمایت نہ کی۔ مکہ فتح ہونے کے چند ہفتے بعد حنین فتح ہوا۔
غزوہ حنین میں مال غنیمت :
چھ (6000) ہزار قیدی، چوبیس (24000) ہزار اونٹ، چالیس (40000) ہزار سے زائد بکریاں، چار (4000) ہزار اوقیہ چاندی ( یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم) نبی ﷺ نے ان سب کو جمع کرنے کا حکم دیا پھر جعرانہ کے مقام پر مسعود بن عمرو غفاری ؓ کی نگرانی میں دے دیا۔ جب غزوۂ طائف سے فارغ ہوئے تو اسے تقسیم فرمایا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حدیبہ کے مقام پر بیعت کرنے والوں کے ساتھ کثیر مال غنیمت عطا کرنے کا وعدہ کیا اور اسے پورا فرمایا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کے ہاتھ روک لیے تھے جس وجہ سے وہ صلح حدیبیہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔
3۔ صلح حدیبیہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو صحیح راستے پر قائم رکھا جس وجہ سے وہ حدیبیہ پر مطمئن ہوگئے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کا ضابطہ اور طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کی پکڑ کرتا ہے تو پھر اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا :
1۔ اللہ کا عذاب برحق ہے اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (یونس : 53)
2۔ اس دن وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے لیکن اللہ کی پکڑ سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (المومن : 33)
3۔ اگر اللہ کسی کو تکلیف دے تو کون ہے جو اسے اس سے بچا سکے۔ (الاحزاب : 17)
4۔ جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ (الحج : 18)
5۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو فرمایا کہ آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ (ھود : 43)
6۔ جب اللہ کسی قوم پر مصیبت نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ کوئی بچانے والا ہوتا ہے۔ (الرعد : 11)
7۔ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (الرعد : 34)
8۔ اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑلیا اور انہیں بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ ( المومن : 21)
9۔ اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ (ہود : 43)
Ayahs 48:24–25فہم القرآن
ربط کلام : فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کے حالات پر تبصرہ جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر جو حرم مکہ کے کنارے پر واقع ہے نہ صرف اہل مکہ کے ہاتھوں کو روکے رکھا بلکہ مسلمانوں کے ہاتھوں کو بھی کفار کی طرف بڑھنے سے روک لیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ وہی کافر ہیں جنہوں نے تمہیں مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا اور جو قربانیاں تم اپنے ساتھ لائے تھے انہیں بھی حرم میں نہ جانے دیا۔ بیشک یہ دونوں جرائم اپنی جگہ پر بہت بڑے تھے لیکن اگر اہل مکہ کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ ہوجاتی تو وہاں ایسے مومن اور مومنات بھی موجود تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے۔ لڑائی ہونے کی صورت میں اگر تم انہیں زخمی یا شہید کردیتے تو اس میں نہ صرف تمہیں نقصان پہنچتا بلکہ تمہاری عزت پر بھی حرف آتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہیں اس نقصان سے بچا لیا وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے دامن میں لے لیتا ہے۔ اگر کفار مسلمانوں سے الگ ہوتے تو ہم انہیں حرم سے روکنے کی وجہ سے تمہارے ہاتھوں سے شدید عذاب دیتے۔ اس آیت میں مرکزی طور پر دو مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ 1 ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو حرم میں داخل ہونے سے روک کر نہ صرف اللہ کے قانوں کی خلاف ورزی کی بلکہ وہ بیت اللہ کی توہین کے مرتکب بھی ہوئے۔ کیونکہ بیت اللہ پر کسی قوم کی اجارہ داری نہیں۔ یہ اللہ کا گھر ہے جس سے کسی مسلمان کو روکا نہیں جاسکتااِلاَّ یہ کہ کوئی حرم کی توہین کرنے والا ہو یا اس سے تخریب کاری کا خطرہ ہو۔ اہل مکہ نے نہ صرف نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو حرم میں داخل ہونے سے روکا بلکہ قربانی کے جانوروں کو بھی حرم تک نہ جانے دیا۔ یاد رہے قربانی کے جانوروں سے مراد عید الاضحی کے موقع پر ذبح کیے جانے والے جانور نہیں بلکہ عرب کے لوگ عمرہ کے وقت بھی اپنے ساتھ جانور لایا کرتے تھے تاکہ انہیں حرم کے زائرین اور اس کے مکینوں کے لیے ذبح کیا جائے۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ للنَّاسِ سَوَآءَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَ الْبَادِ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ) (الحج : 25)
” جن لوگوں نے کفر کیا اور جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور مسجد حرام کی طرف آنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے جس میں مقامی اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں۔ مسجد حرام میں جو بھی گمراہی اور ظلم کا راستہ اختیار کرے گا اسے ہم دردناک عذاب دیں گے۔ “
2 ۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اگر مکہ میں تمہاری اور کفار کی جنگ ہوجاتی تو اس سے ان مسلمان مردوں اور خواتین کو بھی نقصان پہنچتا جن کو تم نہیں جانتے تھے۔ ظاہر ہے کہ لاعلمی کی وجہ سے وہ بھی مارے جاتے جس میں مسلمانوں کا افرادی نقصان بھی ہوتا اور کفار پراپیگنڈہ کرتے کہ مسلمان انتقام لینے پر آئیں تو اپنوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اس سے مسلمانوں کی نیک نامی میں فرق آتا۔ اس فرمان میں ایک اصول یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کو ہر ممکن ایسی لڑائی سے بچنا چاہیے جس میں وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پایا جائے۔ ان وجوہات کی وجہ سے فرمایا کہ اگر کفار مکہ میں رہنے والے مسلمانوں سے الگ تھلگ ہوتے تو حرم سے روکنے کی وجہ سے انہیں سخت سزا دی جاتی۔
” رسول معظم ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے اس کو لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس میں کسی کا خون بہائے اور نہ ہی اس کا درخت کاٹا جائے۔ اگر کوئی شخص یہ بات کہے رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں قتال کیا تو تم کہو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کچھ دیر کے لیے اجازت دی تھی۔ تم میں سے کسی کو بھی یہ اجازت نہیں اور مجھے بھی چند گھڑیوں کے لیے اجازت دی گئی اس کی حرمت پہلے کی طرح ہی لوٹ آئی ہے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ دوسرے لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔ “
(رواہ البخاری : کتاب العلم، باب یبلغ العلم الشاہد الغائب)
مسائل
1۔ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا بڑے گناہ کا کام ہے۔ 2۔ جنگ کے دوران وہاں کے مسلمانوں کا خیال رکھنا لازم ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت میں شامل فرماتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے اذّیت ناک عذاب تیار کیا ہے۔
5۔ حدیبیہ کا موجودہ نام شمیسی ہے جو موجودہ مکہ کے ساتھ مل چکا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت کے دامن میں لے لیتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرتا ہے۔ (الانبیاء : 86)
2۔ ” اللہ “ نیک لوگوں کو اپنی رحمت سے ہمکنار کرتا ہے۔ (الانبیاء : 75)
3۔ ایمان میں پختہ رہنے والے کو اللہ اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (النساء : 175)
4۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (الشورٰی : 8)
5۔ ” اللہ “ کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ( الاعراف : 156)
6۔ ” اللہ “ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف : 56)
7۔ ” اللہ “ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ (التوبہ : 99)
Ayah 48:26فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو حرم مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی اصل وجہ اہل مکہ کی جہالت اور قومی عصبیّت تھی۔
اہل مکہ یہ حقیقت جان چکے تھے کہ مسلمان عمرہ کے سوا کوئی عزم نہیں رکھتے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ کسی کو بیت اللہ کی زیارت سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی جہالت اور عصبیت کی وجہ سے ضد کا مظاہرہ کیا۔ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو عمرہ نہ کرنے دیا۔ مکہ والوں کا یہ اقدام نبی معظم ﷺ اور صحابہ ؓ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ لیکن آپ نے انتہائی بردباری اور سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اہل مکہ کو مذاکرات کرنے پر مجبور کردیا۔ اس صورت حال کا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ سکینت اور تقویٰ کا نتیجہ تھا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو قائم رکھا اور وہ اس کے مستحق اور اہل تھے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں صحابہ کرام ؓ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے انہیں ” کَلِمَۃَ التَّقْوٰی “ پر قا ئم رکھا اور وہ اس کے حق دار اور اہل بھی تھے۔ یہاں تقویٰ سے مراد نبی ﷺ کی اطاعت اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑائی سے بچنا ہے۔ اس سے پہلی آیت 15 میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں پر راضی ہوگیا جنہوں نے درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو جانتا ہے۔ ان پر سکینت نازل کی گئی اور وہ بہت جلد فتح یاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کے دلوں کی گواہی دی اور فرمایا کہ جن لوگوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر تقویٰ کو لازم کردیا تھا اور وہ اس اس بات کے حق دار تھے۔ یہاں صحابہ کرام ؓ کے پاک دل ہونے کی گواہی دی گئی ہے۔ پہلے پارے میں ان کے ایمان کو ایمان کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ (البقرۃ : 137) یہ گواہی اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس فرمان سے ان لوگوں کی یا وہ گوئی کی نفی ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے بعد چند صحابہ کرام اپنے ایمان پر پکے رہے باقی اپنے ایمان سے منحرف ہوگئے۔ ان کی ہرزہ سرائی سے صرف صحابہ کرام ؓ کی توہین نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی گواہی کی بھی توہین ہوتی ہے۔ اس قسم کی یا وہ گوئی کرنے والے لوگوں کو مسلمانوں میں شمار نہیں کرنا چاہیے۔
اہل علم نے ” کَلِمَۃَ التَّقْوٰی “ سے مراد کلمہ طیبہ اور اللہ کا خوف لیا ہے۔ جو شخص اپنے دل میں کلمہ طیبہ کا مفہوم اور اللہ کا خوف بٹھا لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے حق بات پر استقامت عطا فرمانے کے ساتھ اس کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔
مسائل
1۔ اہل مکہ نے صرف جہالت اور ضد کی بنیاد پر نبی ﷺ اور صحابہ کرام کو بیت اللہ کی زیارت سے روکا ورنہ ان کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔
2۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکون اور اطمینان نازل فرمایا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام کو تقویٰ پر قائم فرمایا۔ 4۔ صحابہ کرام ہر اعتبار سے تقویٰ کے مستحق اور اہل تھے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ صحابہ کرام آخر دم تک تقویٰ اور ایمان پر قائم رہیں گے، چناچہ صحابہ کرام ؓ تادم آخر تقویٰ پر قائم رہے۔
تفسیر بالقرآن
صحابہ کرام ؓ کا ایمان اور مقام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات : 3) 2۔ صحابہ ؓ ایمان کا معیار ہیں۔ (البقرۃ : 137)
3۔ صحابہ ؓ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلہ : 22) 4۔ صحابہ ؓ کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ : 13)
5۔ صحابہ ؓ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلہ : 22) 6۔ صحابہ ؓ بھی اللہ پر راضی ہوگئے۔ (البینہ : 8)
7۔ صحابہ ؓ کو اللہ نے اپنی رضا کی ضمانت دی۔ (البینہ : 8)
Ayah 48:27فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ نے مکہ کا سفر اس لیے اختیار کیا تھا تاکہ عمرہ کیا جائے لیکن کفار نے آپ کو حدیبیہ سے آگے نہ جانے دیا جس پر بعض صحابہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ کے نبی نے فرمایا تھا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ میں بیت اللہ کی زیارت کررہا ہوں لیکن ہم عمرہ کیے بغیر واپس جارہے ہیں آخر یہ معاملہ کیا ہے ؟
نبی معظم ﷺ کے خواب کی تائید اور بعض صحابہ کرام ؓ کے خیالات کی تطہیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے زوردار الفاظ میں اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اللہ نے اپنے رسول کے خواب کو سچ کر دکھایا ہے۔ اس لیے تم ہر صورت امن کے ساتھ اپنے سرمنڈواتے یاکتراتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوگے۔ تمہیں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ تمہیں علم نہیں مگر اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس نے تمہیں بہت جلد فتح عطا فرما دی ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے خواب کی بنیاد پر مکہ کا سفراختیار کیا تھا۔ جب آپ مکہ داخل ہونے کی بجائے مدینہ کی طرف جانے لگے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کر رہے ہیں۔ کیا معاملہ ہے کہ ہم مکہ جانے کی بجائے مدینہ کی طرف واپس جارہے ہیں ؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ خواب تو سچا ہے لیکن خواب میں یہ نہیں بتلایا گیا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے۔ (رواہ البخاری : باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع أہل الحرب وکتابۃ الشروط)
اس خواب کا ذکر سورة بنی اسرائیل آیت 60 میں بھی ہے وہاں ارشاد ہوا کہ ہم نے اس خواب کو آپ کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔ اس میں آزمائش یہ تھی کہ نبی ﷺ کو خواب میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آپ اسی سال بیت اللہ کی زیارت کریں گے۔ آپ ﷺ کے دل میں بیت اللہ کی بےپناہ محبت تھی جس بنا پر آپ نے خواب کے فوراً بعد عمرہ کرنے کا فیصلہ فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ آپ اگلے سال عمرہ کریں تاکہ آپ کے عمرہ کرنے سے پہلے مکہ والوں کے ساتھ ایک معاہدہ ہوجائے۔ جس بنیاد پر آپ کی مکہ میں تشریف آوری کے موقع پر امن و سکون ہو۔ آپ اور آپ کے ساتھی بلا خوف و خطر بیت اللہ کی زیارت کرسکیں۔ اس لیے بڑے زور دار الفاظ میں فرمایا کہ اللہ نے اپنے رسول کے خواب کو سچ کردکھایا ہے کہ آپ ہر صورت بیت اللہ میں داخل ہوں گے۔ اس کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کرنے کے ساتھ باربار ایسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جن میں تاکید در تاکید پائی جاتی ہے۔
1 ۔ صَدَقَ ماضی کا صیغہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام ہوچکا ہے۔
2 ۔ لَقَدْ کے لفظ میں ل اور قد دو نوں حروف تاکید کے لیے بولے جاتے ہیں۔
3 ۔ لَتَدْخُلُنَّ اس میں لام اور نون ثقیلہ کے حروف آئے ہیں جو تاکید در تاکید کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
4 ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے انشاء اللہ کا لفظ استعمال کیا ہے جو تاکید اور امید کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بعد مزید چار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
1۔ آمِّیْنَ ہر طرح کے خطرے سے امن میں رہنے والے۔
2۔ ” مُحَلِّقِیْنَ رُؤسَکُمْ “ اپنے سروں کو منڈوانے والے۔ اسی بنیاد پر حج اور عمرہ کے وقت سرمنڈوانے والے کے لیے آپ ﷺ نے یہ دعا کی۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اَللّٰھُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِےْنَ قَالُوْا وَالْمُقَصِّرِےْنَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اَللّٰھُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِےْنَ قَالُوْا وَالْمُقَصِّرِےْنَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَالْمُقَصِّرِےْنَ ) (رواہ البخاری : باب الذبح قبل الحلق)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں یہ دعا کی۔ ” یا الٰہی ! سر مونڈنے والوں پر رحم فرما۔ “ صحابہ ؓ نے عرض کیا۔ بال کترانے والوں کے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے دوبارہ وہی دعا کی صحابہ ؓ نے پھر عرض کی یا رسول اللہ ! سر کترانے والوں کی لیے بھی دعا فرمائیں ! تب آپ ﷺ نے بال کتروانے والوں کے لیے بھی رحم کی دعا کی۔ “
3۔” مُقَصِّرِیْنَ “ سرکے بال کتروانے والے۔
4۔ ” لَاتَخَافُوْنَ “ جب تم مکہ میں داخل ہو گے تو تمہیں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا نتیجہ تھا کہ مکہ والوں نے صلح حدیبیہ کے وقت ازخود یہ شرط پیش کی کہ جب تم اگلے سال عمرہ کے لیے آؤ گے تو ہم تین کے لیے شہر خالی دیں گے۔ بالفاظ دیگر انہوں نے تین دن کے لیے مکہ کو نبی معظم ﷺ کے حوالے کردیا تھا۔ اس لیے آپ اور آپ کے اصحاب نے پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ عمرہ ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام کے اخلاص اور عزم بالجزم کو دیکھ کر یہ بھی خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ بہت جلد تمہیں مکہ کی فتح سے سرفراز کرے گا۔ چناچہ ابھی دو سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ قریش کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ کردیا۔ قریش نے معاہدہ کا احترام کرنے کی بجائے بنو بکر کی حمایت کی اس پر بنو خزاعہ کا بھاری بھر کم وفد چالیس اونٹوں پر سوار ہو کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی مظلومیت کی داستان پیش کی۔ ان کی داستان سن کر نبی اکرم ﷺ نے قریش کی طرف ایک وفد بھیجا کہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کرلیں۔
1 ۔ بنوخزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دیا جائے۔ 2 ۔ یا بنو بکر کی حمایت سے برأت کا اعلان کیا جائے۔
3 ۔ مذکورہ بالا شرائط میں اگر کوئی شرط بھی منظور نہیں تو معاہدہ توڑنے کا اعلان کردیں۔
وفد نے تینوں شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کے جذباتی لوگوں اور نوجوان طبقہ نے آخری شرط قبول کرلی اور ان کی طرف سے فرط بن عمر نے اعلان کیا کہ آج کے بعد حدیبیہ کا معاہدہ ختم کیا جاتا ہے۔ وفد نے واپس آکر آپ ﷺ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔ نبی نے اس کے بعد فی الفور مکہ پر پیش قدمی کی تیاری شروع کردی۔ مکہ والوں کو اپنی بدعہدی اور حماقت کا احساس ہوا تو انہوں نے ابو سفیان کو بھیجا کہ وہ مدینہ جاکر تجدید عہد کی کوشش کرے۔ ابو سفیان نے مدینہ پہنچ کر نبی ﷺ سے درخواست کی کہ ہمیں اپنے کیے پر افسوس ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ معاہدہ کو برقرار رکھاجائے۔ آپ ﷺ نے اس کی درخواست قبول نہ کی۔ اس کے بعد ابو سفیان یکے بعد دیگرے حضرت ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اس کی درخواست مسترد کی کہ جس بات کو نبی ﷺ نامنظور کرچکے ہیں ہم اسے منظور کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ بالآخر ابوسفیان مایوس ہو کر مکہ واپس ہوا۔ اس کے بعدنبی معظم ﷺ نے مکہ پر چڑھائی کی اور اپنے ساتھیوں کو ہدایت فرمائی کہ چار آدمیوں کے سوا جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوجائے اس پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو اسے بھی کچھ نہ کہا جائے۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے اسے بھی نہ چھیڑا جائے۔ جو مکہ سے بھاگ جائے اس کا بھی پیچھا نہ کیا جائے۔ ان ہدایات کے بعد نبی ﷺ دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ ایک دو مقامات پر معمولی مزاحمت کے سوا پورے مکہ اور اس کے گردونواح میں لڑائی کا کوئی واقعہ پیش نہ آیا۔ نبی معظم ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے اور عثمان بن طلحہ سے بیت اللہ کی چابی لی اور سیڑھی لگوا کر بیت اللہ کے اندار داخل ہوئے اور دو نفل نماز ادا کی۔ آپ کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہونے والے حضرت بلال اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بھی تھے۔ جو آپ ﷺ کی نماز کی کیفیت اور جہاں آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تھی اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ نبی ﷺ دونفل پڑھنے کے بعد اسی سیڑھی کے ذریعے اتر کر مسجد حرام یعنی بیت اللہ کے صحن میں تشریف لائے۔ نظر اٹھائی اور دیکھا کہ بڑے بڑے سردار آنکھیں جھکائے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ نے ان سے استفسار فرمایا کہ آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے عاجزانہ انداز میں دراخوست کی۔
(عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ اَنَ النَبِیَّ ﷺ لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ فَقَالَ ۔۔ أَتَی الْکَعْبَۃَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتِی الْبَابِ فَقَالَ مَا تَقُوْلُوْنَ وَمَا تَظُنُّوْنَ قَالُوْا نَقُوْلُ اِبْنَ اَخٍ وَابْنَ عَمٍّ حَلِیْمٌ رَحِیْمٌ قَالَ وَقَا لُوْا ذٰ لِکَ ثَلَا ثا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَقُوْلُ کَمَا قَالَ یُوْسُفُ (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَہُوَ اَرْحَمُ الرّٰاحِمِیْنَ ) (السنن الکبرٰی : جزء 9، قال الشیخ البانی حسن)
” حضرت ابی ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن جب مکہ میں داخل ہوئے۔۔ آپ ﷺ کعبۃ اللہ کے پاس آئے اور اس کی دہلیز پکڑ کر فرمایا تم میرے متعلق کیا کہتے ہو اور کیا امید کرتے ہو ؟ قریش کہنے لگے ہم کہتے ہیں آپ ہمارے بھائی کے بیٹے، چچا کے بیٹے ہیں۔ حلیم الطبع اور رحم کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ الفاظ تین بار کہے۔ آپ نے فرمایا میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی۔ آج کے دن کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف فرمائے یقیناً وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “
(عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ قَالَ دَخَلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْبَیْتَ ہُوَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ ؓ فَأَغْلَقُوا عَلَیْہِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا کُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ فَلَقِیت بلاَلاً فَسَأَلْتُہُ ہَلْ صَلَّی فیہِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ : نَعَمْ بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ الْیَمَانِیَیْنِ ) (رواہ البخاری : باب إِغْلاَقِ الْبَیْتِ وَیُصَلِّی فِی أَیِّ نَوَاحِی الْبَیْتِ شَاءَ )
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، اسامہ بن زید، حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ ؓ بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے اور دروازہ بند کردیا جب دروازہ کھولا تو سب سے پہلے میں اندر داخل ہوا اور میں حضرت بلال ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے اندر کس جگہ نماز پڑھی ہے اور انہوں نے کہا دو ستونوں کے درمیان۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے خواب کو سچ کر دیکھایا۔
2۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ نے پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ اگلے سال عمرہ کیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ٹھیک دو سال بعد نبی ﷺ کو فتح مکہ سے سرفراز فرمایا۔
Ayah 48:28فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نبی معظم ﷺ کو نبوت، مکہ کی فتح اور دیگر فتوحات اس لیے عطا فرمائیں تاکہ اللہ کا دین غالب آجائے۔
قرآن مجید نے تین مقامات پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ ” اللہ “ نے اپنا رسول ہدایت اور دین کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے حق غالب کرنے پر قادر ہے اور اس کی گواہی اپنے رسول اور دین کے بارے میں کافی ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے غلبے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ دین اسلام کا کوئی قانون اور مسئلہ ایسا نہیں جسے دلائل کی بنیاد پر جھوٹا یا ناقابل عمل ثابت کیا جاسکے۔ دین ہمیشہ دلائل اور حقائق کی بنیاد پر ہر دور کے باطل نظریات پر غالب رہا ہے اور رہے گا۔ البتہ مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی غلبے کے لیے شرط یہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک ہی غالب رہیں گے جب تک یہ دین کے تقاضے پورے کرتے رہیں گے۔ ” بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ “ کے الفاظ مفہوم کے لحاظ سے آپس میں مترادف ہیں۔ جس ہدایت کے ساتھ ” اللہ “ نے اپنے رسول کو بھیجا ہے اس کی تشریح دین ہے اور اس کی اساس ” اللہ “ کی توحید ہے۔ دین کا مقصد ہدایت اور راہنمائی کرنا ہے۔ دوسرے مقام پر اسی کو صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ (الفاتحہ : 5) ” بِالْھُدیٰ “ سے مراد وہ راہنمائی اور بصیرت ہے جس کے ساتھ آپ ﷺ نے لوگوں کو دین سمجھایا اور اس کا نفاذ فرمایا۔ جہاں تک نبی ﷺ اور دین حق کے غلبہ کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور دین کو جزیرۃ العرب جو موجدہ جغرافیہ کے مطابق سعودی عرب، یمن، کو یت، بحرین، مسقط، سلطنت عمان اور متحدہ عرب امارات کا پورے رقبہ پر مشتمل تھا، اس پر غالب فرمایا۔ اس سیاسی، اخلاقی، جہادی اور دینی غلبہ کے اثرات تھے کہ نبی ﷺ نے تبوک کی طرف پیش قدمی فرمائی تو رومی جو اس دور کی واحد سیاسی قوت تھے وہ آپ کے سامنے آنے کی جرأت نہ کرسکے۔
(ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) (الصف : 9)
” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے دوسرے ادیان پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ “
(ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) (التوبہ : 33)
” وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کردے، خواہ مشرک لوگ برا سمجھتے رہیں۔ “
(ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی باللّٰہِ شَہِیْدًا) (الفتح : 28)
” وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ “
(کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) (المجادلہ : 21)
” اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے یقیناً اللہ زبردست اور غالب ہے۔ “
” یہ تو محض تمہاری خوشی اور اطمینان قلب کے لیے ہے ورنہ مدد تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو غالب، حکمت والا ہے۔ “ (آل عمران : 126)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : دین آسان ہے کوئی شخص اسلام پر غالب نہیں آسکتا بلکہ دین ہی غالب ہوگا۔ اجروثواب کا راستہ اور میانہ روی اختیار کرو، لوگوں کو خوشخبریاں دو ، صبح و شام اور رات کے کچھ حصے میں اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرتے رہو۔ “ (رواہ البخاری : باب الدین یسر)
(اَلْاِسْلَامُ یَعْلَمُوْ وَلَا یُعْلیٰ ) (ارواء الغلیل حدیث نمبر : 1268)
” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “
اس غلبے کے نتیجے میں مسلمان دنیا میں تقریباً ایک ہزار سال تک سیاسی، اخلاقی اور علمی طور پر غالب رہے۔
مسائل
1۔ اللہ نے اپنے رسول کو دین اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا تاکہ دین حق تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے۔
2۔ رسول اور دین اسلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور دین کو غالب فرمایا :
1۔ وہ ذات جس نے رسول کو مبعوث کیا تاکہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے۔ (الفتح : 28)
2۔ ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور دین خالصتاً اللہ کے لیے ہوجائے۔ (البقرۃ : 193)
3۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : 160)
4۔ اللہ تعالیٰ اپنا حکم نافذ کرنے پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21)
5۔ کتنی قلیل جماعتیں جو ” اللہ “ کے حکم سے کثیر جماعتوں پر غالب آئیں۔ ( البقرۃ : 249)
6۔ ” اللہ “ کا وعدہ ہے کہ میں اپنے رسولوں کو ضرور غالب کروں گا۔ (المجادلہ : 21) ( المومنوں : 55)
Ayah 48:29فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنے رسول اور دین کو غالب فرمایا بلکہ ایک طویل مدت تک مسلمانوں کو دنیا میں غلبہ عطا فرمایا۔
اس سے پہلی آیت کے آخر میں یہ الفاظ استعمال فرمائے کہ اللہ کی گواہی کافی ہے جس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھی ہیں کفار پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ آپ ان کو رکوع، سجود کی حالت میں دیکھیں گے کہ وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کرتے ہیں اور سجدوں کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ ان کی صفات کا تذکرہ تورات اور انجیل میں بھی پایا جاتا ہے۔ ان کی مثال اس کھیتی کی مانند ہے جس نے پہلے زمین سے اپنی سوئی نکالی پھر مضبوط ہوئی پھر اپنی ٹہنی پر کھڑی ہوگی جو زمیندار کو بھلی لگتی ہے اور کفار کے دل اس سے جلتے ہیں۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں معاف فرمائے گا اور اجر عظیم عطا کرے گا۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی رسالت کی گواہی دینے کے ساتھ صحابہ کرام ؓ کے درج ذیل اوصاف بیان کیے ہیں۔
1۔ صحابہ کرام ؓ کو نبی ﷺ کے ساتھی قراردیا گیا ہے۔
2۔ صحابہ کرام کفار پر سخت تھے اور آپس میں نرم تھے۔ کفار پر سخت ہونے کا یہ معنٰی نہیں کہ مسلمان غیرمسلم کے ساتھ ترشی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کا معنٰی یہ ہے کہ وہ اپنے دین میں پکے ہیں اور کفر کے بارے میں شدیدنفرت رکھنے کی وجہ سے حالت جنگ میں کفار کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں کرتے جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ جنگ بدر میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بیٹے کا ان کے ساتھ آمنا سامنا ہوا لیکن بیٹے نے اپنے باپ پر حملہ نہ کیا۔ جب بعد میں بیٹا مسلمان ہوا تو اس نے ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ ابّا جان بدر کے میدان میں آپ میری تلوار کے نیچے کئی بار آئے لیکن میں نے آپ کے احترام میں آپ پر تلوار کا وار نہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ﷺ نے فرمایا کہ بیٹا تو میری تلوار کے نیچے آتا تو میں تیرا سر قلم کردیتا۔ بدر کی فتح کے بعد جب قیدیوں کو رسیوں میں جکڑا جارہا تھا تو حضرت عمیر ؓ نے دیکھا کہ ان کے بھائی کو بھی رسی سے باندھا جارہا ہے۔ حضرت عمیر ؓ نے باندھنے والے صحابی کو کہا کہ اس کے ہاتھ اچھی طرح باندھنا کیونکہ اس کی ماں کے پاس بڑا مال ہے۔ حضرت عبیدہ ؓ نے بدر کے معرکہ میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا کیونکہ وہ باربار نبی کریم ﷺ پر حملہ آور ہو رہا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ نے انہیں اشارے کنائے سے روکنے کی کوشش کی کہ وہ نبی کریم ﷺ پر حملہ نہ کریں جب نہ رکے تو حضرت ابو عبیدہ نے آگے بڑھ کر اپنے باپ کو قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ کا واقعہ بڑا مشہور ہے کہ انہوں نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں یہ رائے دی تھی کہ ہر کوئی اپنے اپنے رشتہ دار کو قتل کرے اور سب سے پہلے میں اپنے رشتہ دار قیدیوں کو قتل کروں گا۔
صحابہ کرام ؓ کی آپس میں محبت اور شفقت :
(وَعَنِ النُّعْمَانِ ابْنِ بَشِیْرِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَرَی الْمُوْمِنِیْنَ فِیْ تَرَاحُمِھِمْ وَتَوَادِّھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ کَمَثَلِ الْجَسَدِ إذَا اشْتَکیٰ عُضْوًا تَدَاعٰی لَہٗ سَاءِرُ الجَسَدِ بالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی) (رواہ البخاری : باب رحمۃ الناس والبہائم)
” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ‘ تم مسلمانوں کو باہم ‘ رحم ‘ محبت اور شفقت کرنے کے حوالے سے ایک جسم کی مانند پاؤ گے۔ جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے سارا جسم تکلیف اور بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ “
(وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلْمُؤْمِنُوْنَ کَرَجُلٍ وَّاحِدٍ اِنِ اشْتَکیٰ عَیْنُہُ اشْتَکٰی کُلُّہٗ وَاِنِ اشْتَکٰی رَأْسُہُ اشْتَکٰی کُلُّہٗ ) (رواہ مسلم : باب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِینَ وَتَعَاطُفِہِمْ وَتَعَاضُدِہِمْ )
” حضرت نعمان بن بشیر ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن ایک شخص کی طرح ہیں کہ اگر اس کی آنکھ میں درد ہو تو اس کا سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے اور اگر اس کے سر میں درد ہو تو بھی اس کا سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی مُوسَی ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا وَشَبَّکَ أَصَابِعَہُ ) (صحیح بخاری، باب تشبیک الأصابع فی المسجد وغیرہ)
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے دیوار کی طرح ہے یہ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملا کر سمجھایا۔ “
صحابہ کے رکوع و سجود :
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کی نماز کا کئی مقامات پر تذکرہ کیا ہے۔
” وہ لوگ اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ “ (الفرقان : 64)
صحابہ کرام کی نماز اور ان کے رکوع و سجود کا یہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے کہ ان کے چہروں پر ان کے سجدوں کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں۔ سجدوں کے آثار کا یہ معنٰی نہیں کہ کسی کے ماتھے پر کالا نشان پڑا ہوا ہو۔ آثار کا یہ معنٰی ہے کہ ان کے چہروں سے روحانیت ٹپکتی ہے جس سے بالخصوص عبادت گزار آدمی پہچانا جاتا ہے کہ یہ اپنے رب کے حضور جھکنے والا ہے۔
صحابہ کرام ؓ کی جماعت کا نظم اور مضبوطی :
مسلمانوں کی جماعت اور اس کی مضبوطی کے لیے لازم ہے کہ ان کی رشتہ داریاں اور معاملات غیروں کی بجائے آپس میں ہونے چاہئیں اور ان کی محبت اور دوستی کفار کی بجائے مسلمانوں سے ہونی چاہیے۔ نبی ﷺ نے قرآن مجید کی روشنی میں صحابہ کرام کو انہی خطوط پر منظم فرمایا جس کا نقشہ قرآن مجید ان الفاظ میں پیش کرتا ہے آپ کے ساتھیوں کی مثال یوں ہے جس طرح بیج سے شگوفہ نکلتا ہے پھر وہ نرم و نازک کونپل کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر کونپل سے ٹہنی بنتی ہے جو سیدھی کھڑی ہو کر اپنے تنے پر مضبوط ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد پھر اس سے گل و گلزار نکلتے ہیں۔ جن کی مہک باغ کے مالی اور کھیت کے مالک کو خوش کرتی ہے اور دوسری طرف حاسد کے حسد میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی کیفیت کی بنا پر جوں جوں اسلام پھیل رہا تھا اور صحابہ کرام کی جماعت آگے بڑھ رہی تھی اسی قدر ہی کفار حسد و بغض کا شکار ہورہے تھے۔
یہ ایسی جماعت تھی جو دنیا میں ہر اعتبار سے کامیاب ہوئی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اجرِعظیم دینے کا وعدہ فرمایا۔ یہ اپنے رب پر راضی ہوئے اور ان کا رب ہمیشہ کے لیے ان پر راضی ہوگیا۔
( وَیُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُوْلٰٓءِکَ حِزْبُ اللّٰہِ اَلاَ اِِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (المجادلہ : 22)
” وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ اللہ کی فوج ہیں، خبردار رہو ! اللہ کی فوج ہی کامیاب ہونے والی ہیں۔ “
مسائل
1۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ آپس میں نہایت مہربان اور کفار کے بارے میں سخت تھے۔
2۔ صحابہ کرام ؓ کے چہروں پر رکوع اور سجود کے آثار نمایاں دکھائی دیتے تھے۔
3۔ تورات اور انجیل میں صحابہ کرام ؓ کی تعریف پائی جاتی ہے۔
4۔ صحابہ کرام ؓ کی جماعت باہمی محبت اور نظم وضبط کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھی۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے صالح اعمال مومنوں کے لیے بخشش اور عظیم اجر کا وعدہ کیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
صحابہ کرام ؓ کی عظمت و فضیلت :
1۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات : 3) 2۔ صحابہ ایمان کا معیار ہیں۔ (البقرۃ : 137)
3۔ صحابہ ؓ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلہ : 22) 4۔ صحابہ کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ : 13)
5۔ صحابہ ؓ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلہ : 22) 6۔ صحابہ ؓ بھی اللہ تعالیٰ پر راضی ہوگئے۔ (البینہ : 8)
7۔ صحابہ ؓ کو اللہ نے اپنی رضا کی ضمانت دی ہے۔ (البینہ : 8)