Ayahs 49:14–15فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے پچھلی آیات کے حوالے سے وہ جانتا ہے کہ کچھ لوگ صرف زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ دوسروں کا مذاق اٹھانا اور عیب جوئی کرنا جہالت کا کام ہے ایسے لوگوں کو انتباہ کے طور پر بتلایا گیا ہے۔
نبی معظم ﷺ کے دور میں مدینہ کے مضافات میں رہنے والے ایسے لوگ بھی تھے جو آپ کی خدمت میں آکر ایسا انداز اختیار کرتے جس سے صاف معلوم ہوتا کہ یہ لوگ اپنے ایمان لانے کو نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نبی ﷺ سے ایسے مطالبات کرتے ہیں جن کا انہیں حق نہیں تھا۔ اس صورتحال میں نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں کہ تم نے ابھی تک اسلام کا اقرار کیا ہے۔ حقیقت میں ایمان نہیں لائے کیونکہ تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اگر تم رسمی کی بجائے حقیقی ایمان کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں پھر انہیں اپنے ایمان کے بارے میں کوئی شک نہ رہے۔ اس ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کریں۔ یہی لوگ دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔ جہاد کا جامع مفہوم یہ ہے کہ مسلمان ہر محاذ پر اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے رسمی اور حقیقی ایمان کا فرق بیان کیا ہے۔ رسمی اور نسلی ایمان یہ ہے کہ آدمی فائدے کے وقت اسلام پر عمل کرے اور مشکل کے وقت اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دے۔ اس طرح کا ایمان انسان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں کرتا۔ سچے ایمان اور حقیقی اسلام کا فائدہ یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے کسی پر احسان نہیں جتلاتا۔ وہ مسجد میں خرچ کرتا ہے تو اس کا کسی نمازی اور خطیب پر احسان نہیں ہوتا۔ وہ دینی مدرسہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو طلبہ اور اس کی انتظامیہ پر احسان نہیں جتلاتا۔ کسی غریب کی مدد کرتا ہے تو اس سے کسی خدمت کی توقع نہیں رکھتا۔ قتال فی سبیل اللہ میں حصہ لیتا ہے تو اس میں اس کا کوئی دنیاوی مفاد نہیں ہوتا۔ اس کی نیت و عمل میں یہ اخلاص اور جذبہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس کے دل میں ایمان راسخ ہوچکا ہوتا ہے۔ حقیقی ایمان کی یہی نشانی ہے کہ وہ مسلمان کے فکر و عمل میں انقلاب پیدا کرتا ہے جس بنا پر ایماندار شخص اپنے کسی عمل کا کسی پر احسان نہیں جتلاتا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ایسے لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا بلکہ اپنی مہربانی سے ان کی بشری کمزوریوں اور غلطیوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ کیونکہ وہ معاف کرنے والا اور انتہائی رحیم و شفیق ہے۔ رسمی اور حقیقی ایمان کے درمیان فرق یہ ہے کہ رسمی طور پر ایمان لانے والے رسماً اسلام پر عمل کرتے ہیں اور حقیقی طور پر ایمان لانے والے صرف اپنے رب کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں یہی لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں۔
مومن اور مسلمان میں فرق :
(عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌلَایَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّاإِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ إِلَّا رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَاءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِ ھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ ) (مشکوٰۃ : کتاب العلم، قال یحییٰ بن معین لیس بشی ءٍ ، حکمہ ضعیف)
” حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا، قرآن کی تلاوت عادت کے طور پر کی جائے گی، ان کی مساجد آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی، ان کے علماء آسمان کی چھت تلے شریر ترین لوگ ہوں گے، انہی سے فتنہ ظہور پذیر ہوگا اور انہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ فِی بَعْضِ صَلاَتِہِ اللَّہُمَّ حَاسِبْنِی حِسَاباً یَسِیرًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الْحِسَابُ الْیَسِیرُ قَالَ أَنْ یَنْظُرَ فِی کِتَابِہِ فَیَتَجَاوَزَ عَنْہُ إِنَّہُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَءِذٍ یَا عَاءِشَۃُ ہَلَکَ وَکُلُّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ یُکَفِّرُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ عَنْہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ تَشُوکُہُ ) (روہ احمد : مسند عائشہ صدیقہ ؓ
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی ﷺ کو بعض نمازوں میں یہ دعا مانگتے سنا آپ دعا کرتے۔ اے بار الٰہا ! میرا حساب آسان فرماناجب آپ نماز سے فارٖغ ہوئے تو میں نے عرض کی اللہ کے پیغمبر آسان حساب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ انسان کے نامہ اعمال کی طرف دیکھ کر اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس دن جس سے حساب و کتاب میں پوچھ گچھ ہوگئی وہ ہلاک ہوگیا اور ہر تکلیف جو مومن کو پہنچتی ہے اللہ عزوجل اس کے عوض اس کے گناہ مٹا دیتا ہے حتٰی کہ کانٹا چبھنے سے بھی گناہ مٹ جاتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ کچھ لوگ بظاہر مسلمان ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہوتا۔
2۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ایمان لائے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔
3۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بشری کمزوریوں کو معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔
4۔ حقیقی ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان لانے کے بعد آدمی کو اپنے ایمان کے بارے میں کسی قسم کا شک اور تردد نہیں ہونا چاہیے۔
5۔ حقیقی ایمان رکھنے والے لوگ ” اللہ “ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
حقیقی ایمان کے تقاضے :
1۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 1) 2۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 4)
3۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 136) 4۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ : 4)
5۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران : 84)
6۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے درمیان فرق نہ کرنا۔ (النساء : 151) 7۔ ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ : 285)
Ayahs 49:16–18فہم القرآن
ربط کلام : رسول محترم ﷺ پر جو لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلاتے تھے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔
جو لگ اپنے ایمان لانے کا نبی ﷺ اور مسلمانوں پر احسان سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کیا کہ اے رسول ﷺ ! ان لوگوں سے بتلا دیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنا دین بتلاتے اور جتلاتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے کیونکہ زمین و آسمانوں میں جو چیز موجود ہے وہ اس کے علم میں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ جو لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں کھلے الفاظ میں فرمائیں کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتلاؤ۔ یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف راہنمائی کی۔ ہمیشہ یاد رکھو ! کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کے غیب کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو انہیں دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دور کے کچھ دیہاتیوں کے ایمان کی نفی کی اور انہیں سمجھایا کہ یہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہاری اسلام کی طرف راہنمائی کی ہے۔ اسلام اور ایمان کا بنیادی فرق یہ ہے کہ ایمان کا تعلق انسان کی زبان اور دل کے ساتھ ہے اور اسلام کا زیادہ تعلق نیک اعمال کے ساتھ ہے، ایمان اور اسلام آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ ایمان اخلاص کا تقاضا کرتا ہے اور اسلام نیک عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اخلاص کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا یہ عقیدہ ہو کہ میرا کوئی عمل بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
(عَنْ عُمَرَابْنِ الْخَطَّاب ؓ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بَیَاض الثِّیَابِ شَدِیْدُ سَوَاد الشَّعْرِ لاَ یُرٰی عَلَیْہِ أَثَرُالسَّفَرِ وَلَا یَعْرِفُہٗ مِنَّا أَحَدٌ حَتّٰی جَلَسَ إِلَی النَّبِیّ ﷺ فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی فَخِذَیْہِ وَقَالَ یَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ اَلْاِسْلَامُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ وَتُقِیْمَ الصَّلٰوۃَ و تُؤْتِیَ الزَّکوٰۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا قَالَ صَدَقْتَ فَعَجِبْنَا لَہٗ یَسأَلُہٗ وَیُصَدِّقُہٗ قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنِ الْاِیْمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ باللّٰہِ وَمَلٰءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْأَخِرِ وَ تُؤْمِنَ بالْقَدْْرِخَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ الْإِحْسَانِ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ قَالَ فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ قَالَ مَاالْمَسْءُوْلُ عَنْھَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّاءِلِ قَالَ فَأَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَاتِھَا قَالَ أَنْ تَلِدَالْاَمَۃُ رَبَّتَھَا وَاَنْ تَرَی الْحُفَا ۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَاء الشَّاءِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِیاًّ ثُمَّ قَالَ لِیْ یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّاءِلُ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّہُ جِبْرءِیْلُ اَتٰکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَرَوَاہُ اَبُوھُرَیْرَۃَ مَعَ اخْتِلَافٍ وَفِیْہِ وَإِذَا رَأَیْتَ الْحُفَا ۃَ الْعُرَاۃَ الصُّمَّ الْبُکْمَ مُلُوکَ الْاَرْضِ فِی خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ قَرَأَ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَاتَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ) (رواہ مسلم : باب معرفۃ الایمان والاسلام والقدر والاعلامۃ الساعۃ)
” حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول محترم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ ہمارے پاس ایک ایسا شخص آیا کہ جس کا لباس بالکل سفید تھا اور بال نہایت ہی سیاہ تھے۔ اس پر سفر کے اثرات دکھائی نہیں دیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی اسے نہ پہچان سکا۔ وہ آتے ہی نبی کریم ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملاکر اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے آپ سے استفسار کرنے لگا۔ اے محمد ﷺ ! مجھے اسلام کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ ارشاد ہوا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کا رسول ہے، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت ہو تو اس کا حج ادا کرنا۔ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا ہم نے اس بات پر تعجب کیا کہ یہ سوال بھی خود کرتا ہے اور اس کی تائید بھی۔ پھر اس نے کہا مجھے ایمان کے بارے میں بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے وہ آپ ﷺ کی تائید کرنے کے بعد احسان کے بارے میں سوال کرنے لگا۔ ارشاد ہوا تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے دیکھ نہیں پاتا تو وہ تجھے یقیناً دیکھ رہا ہے۔ آخری سوال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے قیامت کے بارے میں بتلایا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے قیامت کے متعلق سوال کیا جارہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ پھر اس نے کہا مجھے اس کی نشانیوں سے ہی آگاہ فرمائیں۔ آپ نے فرمایا : جب لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی، تم دیکھو گے ننگے پاؤں برہنہ جسم نہایت غریب بکریوں کے چرواہے بڑے بڑے محلات بنانے پر فخر کریں گے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں جب وہ چلے گئے تو میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔ آپ ﷺ نے مجھے سے پوچھا اے عمر ! کیا آپ جانتے ہیں یہ سوال کرنے والا کون تھا ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا یہ جبریل امین تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھلانے کے لیے آئے تھے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ رسمی اسلام سے بےپرواہ ہے۔ 2۔ حقیقی اسلام کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے ایمان اور عمل کا کسی پر احسان نہ جتلائے۔
3۔ اللہ تعالیٰ جس کی ایمان کی طرف راہنمائی کرے اس پر اس کا بڑا احسان ہوتا ہے۔
4۔ بلاشبہ ” اللہ “ زمین و آسمانوں کے غیب جانتا ہے اور لوگوں کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ایمان اور عمل :
1۔ صالح عمل کرنے والے مومنوں کے لیے خوشخبری ہے اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ (الکھف : 2)
2۔ جو بھی مومن صالح عمل کرے گا اس کی محنت کو رائیگاں نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء : 94)
3۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الحج : 50)
4۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے گناہوں کو ” اللہ “ ختم کردیں گے۔ (العنکبوت : 7)
5۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں والی جنت ہے۔ (لقمان : 8)