Ayahs 54:41–42فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے بعد قوم فرعون کا ذکر۔
مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا۔ کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا کیونکر ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو اعلانیہ طور پر رب اعلیٰ قرار دیا۔ اپنی قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے۔ میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے اعلیٰ کائنات کا رب ہوں۔ اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسی کے گھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کو پالا اور رسول منتخب فرمایا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا خطاب :
آل فرعون انتہائی ظالم لوگ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ میں تمہارے پاس اپنے رب کی ربوبیّت اور اس کی وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ تمہیں اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدہا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدھا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنے جبڑوں میں سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس سے بچائیں۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا جو پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ پھر اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو اس کے سامنے تمام روشنائیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے بھی زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان)
فرعون نے اقتدار کے نشہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کیے ہوئے تمام دلائل اور بڑے بڑے معجزات ٹھکرا دئیے۔ اقتدار بچانے، عوام اور لیڈروں کو ساتھ رکھنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ یہ رسول نہیں بلکہ جادوگر ہیں اور جادو کے زور پر ہمارے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ ہمیں ملک سے باہر نکال کر بنی اسرائیل کو مصر میں برسراقتدار لائیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو چیلنج کیا ہم اس طرح اقتدار چھوڑنے والے نہیں بلکہ ہم تمہارے جادو کا مقابلہ جادو کے ساتھ کریں گے۔ بس ہمارے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ طے پانا چاہیے جس کی نہ ہم مخالفت کریں گے اور نہ تمہیں مخالفت کرنی چاہیے۔ گویا کہ دونوں فریقوں کو اس کی پوری پوری پاسداری کرنا ہوگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن قومی تہوار کا دن مقرر کیا جائے اور وقت بھی سورج نکلنے کے بعد کا ہو۔ تاکہ لوگ کثیر تعداد میں جمع ہو کر دن کی روشنی میں کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ سکیں کہ حقیقت کیا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی مراد تھی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اتنا بڑا اجتماع کرنے کے وسائل اور اثر رسوخ کہاں رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہاتھوں ہی یہ کام کر دکھایا تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا چرچا اور ان کا پیغام پوری قوم تک پہنچ جائے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاہدہ طے پانے کے بعد فرعون نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی حکومت کے تمام وسائل جھونک دیے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ قومی دن کے موقع پر ملک کے دارالحکومت مصر میں بہت بڑا اجتماع ہوا کرتا تھا۔ جس میں مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے جاتے اور پورے ملک میں جشن کا عالم ہوتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ حکومت نے بہت بڑے اجتماع کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا اور ایسا اجتماع منعقد کیا جس کی مثال مصر کی تاریخ میں پہلے سے موجود نہ تھی جب کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ تو فرعون پورے شان و شکوہ اور دبدبہ سے انتظامیہ اور ملک کے جادوگروں کے ساتھ اجتماع میں نمودار ہوا۔ لوگوں کے جذبات انتہا پر تھے۔ ایک طرف جادوگروں کے گروہ اور دوسری طرف صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) تھے۔ مگر تنہائی اور کسمپرسی کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) بڑے اعتماد کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ جونہی ماحول قدرے پر سکون ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں اور حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پر افسوس کہ تم اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرتے ہو۔ اگر تم اپنی ضد پر قائم رہے تو وہ تمہیں تباہ و برباد کر دے گا۔ یاد رکھو جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا وہ ناکام ہوا۔
ملک بھر کے جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف صف آراء ہوئے تو انھوں نے بڑے غرور میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم لاٹھی پھینکتے ہو یا ہم اپنی چیزیں پھینکیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اعتماد اور پُر وقار لہجے میں فرمایا کہ تمہیں ہی پہل کرنا چاہیے۔ جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں لگا کہ جیسے رسیاں اور لاٹھیاں چھوٹے بڑے سانپ بن کر ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکتے ہی جادوگروں نے چلّا چلّاکر فرعون زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ آج ہم ہی کامیاب ٹھہرئیں گے۔ (الشعراء : 44) جادوگروں کا مظاہرہ اس قدر زبردست تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی خوف زدہ ہوگئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کے رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ( القصص : 31) جادوگروں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ رسیوں، بڑے بڑے بانسوں اور لاٹھیوں کو کھا گیا۔ جونہی رسیاں اور لاٹھیاں ختم ہوئیں تو جادوگر یہ کہتے ہوئے سجدہ میں گرگئے کہ ہم موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ اگر وہ اس موقعہ پر اپنے رب یا رب العالمین کا لفظ استعمال کرتے تو فرعون لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکہ دے سکتا تھا کہ جادوگر مجھے ہی رب العالمین سمجھ کر سجدہ کر رہے ہیں۔ لیکن جادوگروں نے بڑی بصیرت سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ کر اپنے ایمان کا اعلان کیا کہ ہم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے ہیں تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔ یہی سچے اور خالص ایمان کی نشانی ہے کہ اس میں کسی قسم کی کھوٹ اور شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ جادوگر اس لیے بھی اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوئے تاکہ دیکھنے والوں کو معلوم ہو کہ جادوگروں نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ اور اپنی ناکامی دیکھ کر جادوگر سجدہ میں گِر گئے۔ جس کے لئے گرا دینے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا کہ جادوگر اس قدر مغلوب ہوئے کہ بےساختہ سجدہ میں گِر پڑے۔ (الاعراف : 120)
جونہی فرعون نے دیکھا کہ جادوگر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لا چکے ہیں تو اس نے اپنی خفت مٹانے اور عوام پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے یہ اعلان کیا کہ تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو جو میرے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ یقیناً موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ میں اس جرم کے بدلے تمہارے مخالف سمت پر ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں پر تمہیں پھانسی دی جائے گی۔ تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کس کا عذاب سخت اور دیر پا ہے۔ (طٰہٰ : 71)
تفسیر بالقرآن
فرعون اور اس کے حواریوں کا انجام :
1۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الاعراف : 64)
2۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : 55)
3۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103)
4۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 66)
5۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : 40)
Ayahs 54:43–45فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون کا انجام ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو زبردست انتباہ اور ایک سوال۔
آل فرعون کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب انہوں نے ہماری تمام نشانیوں اور ارشادات کو جھٹلادیا تو ہم نے انہیں اس طرح پکڑا جس طرح ایک طاقت ور اور غالب قوت والا پکڑا کرتا ہے۔ اے مسلمانو ! کیا تمہارا مقابلہ کرنے والے کفار قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور آل فرعون سے بہتر اور زیادہ طاقت ور ہیں ؟ یا پھر پہلی کتابوں میں ان کے لیے کوئی معافی نامہ لکھ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بڑی مضبوط جماعت ہیں۔ انہیں کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ وہ وقت دور نہیں کہ جب انہیں شکست فاش ہوگی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ قرآن مجید نے اہل مکہ کو یہ وارننگ اس وقت دی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اہل مکہ کا اس قدر برا انجام ہوگا کیونکہ یہ سورت نبوت کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی اور اس وقت مسلمانوں کی کسم پرسی کا حال یہ تھا کہ انہیں سر عام پیٹا جاتا تھا یہاں تک کہ کفار کے مظالم سے تنگ آکر کچھ لوگ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور حضرت سعد ؓ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو ہماری سجھ میں یہ بات نہ آئی کہ ان آیات میں کون سی جماعت مراد ہے کہ جس کا برا انجام ہوگا۔ لیکن ان آیات کے نزول کے سات سال بعد بدر کے میدان میں یہ حقیقت کھل گئی کہ ان آیات کے مخاطب یہی لوگ تھے جن کا انجام ہمارے سامنے آچکا ہے اور نبی ﷺ نے بدر کے میدان میں انہی آیات کی تلاوت کی تھی۔ (تفسیرقرطبی، سورة القمر : 43 تا 46)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کافر کو اپنی پکڑ سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام اور اہل مکہ کو ذلیل کردیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سامنے بڑی سے بڑی جماعت اور قوت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
Ayahs 54:46–48فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو دنیا میں عذاب دینے کے ساتھ آخرت میں بھی عذاب دیا جائے گا۔
اہل مکہ کو جو انتباہ کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور ان کی جمعیت اور قوت کو تہس نہس کردیا گیا۔ اس کے باوجود فرمایا کہ انہیں اصل سزا قیامت کے دن دی جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ دن بذات خود بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ یقیناً مجرم کھلی گمراہی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں۔ اس دن ان کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر کیا ہے تاکہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کی پوری پوری جزا دے۔ مجرموں کے لیے اس لیے جہنم تیار کی گئی ہے تاکہ انہیں ٹھیک ٹھیک سزادی جائے۔ دنیا میں ایک قاتل اور ظالم کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا پھانسی ہوسکتی ہے۔ پھانسی لگنے والا شخص ایک ہی مقتول کے بدلے میں پھانسی کی سزا پاتا ہے۔ اگر وہ کئی مقتولوں کا قاتل ہے تو اس کی سزا اسے نہیں ملتی۔ قیامت کے دن مجرم کو ٹھیک ٹھیک سزادینے کے لیے دو کام کیے جائیں گے۔ ایک سزا یہ ہوگی کہ کافر اور مشرک کو جہنم میں موت نہیں آئے گی اور دوسرا کام یہ کیا جائے گا کہ اس کے جسم کی کھال باربار بدلی جائے گی۔ تاکہ وہ اپنے جرائم کی ٹھیک ٹھیک سزا پائے۔ اس سزا کے ساتھ فرشتے جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ اب اپنی نافرمانیوں کا مزہ چکھو۔
(اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًا کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًاغَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا) (النساء : 56)
” جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا یقیناً ہم انہیں آگ میں ڈالیں گے۔ جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں یقیناً اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتی کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “
مسائل
1۔ قیامت کا دن بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ 2۔ مجرم اپنے جرائم میں اندھا ہوجاتا ہے۔
3۔ قیامت کے دن مجرموں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔
4۔ قیامت کے دن مجرموں کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں گھسیٹا جائے گا۔
5۔ جہنم کے فرشتے جہنمیوں کو جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ اب ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں مختلف قسم کی سزائیں :
1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔ (التوبہ : 35)
2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
3۔ جہنم میں جہنمی کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 4 5 تا 55)
4۔ ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ (الانعام : 70)
5۔ کفار کے لئے اُبلتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔ (یونس : 4)
6۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکہف : 29)
Ayahs 54:49–53فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا دنیا اور آخرت میں انجام ذکر کرنے کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ کوئی چیز اپنے اندازے اور وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ اگر ان لوگوں کی ابھی تک گرفت نہیں ہوئی تو اس کا بھی وقت مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ان کی امتوں کی طرف بھیجا اور ہر نبی نے اپنی امت کو نیکی کرنے کا حکم دیا اور قیامت کے دن اس کے صلہ کی خوشخبری سنائی۔ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے لوگوں کو برے اعمال سے منع کیا اور اس کے انجام سے ڈرایا۔ ہر نبی کے مخاطبین کی اکثریت نے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا مذاق اڑایا اور ان سے عذاب اور قیامت لانے کا مطالبہ کیا اور یہی روّیہ اور مطالبہ اہل مکہ کا تھا۔ جس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ ہم نے ہر چیز کو اس کے اندازے کے مطابق بنایا ہے اور اس کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ جو کسی کی نافرمانی اور اس کے اصرار پر تبدیل نہیں ہوتا۔ جب اس کا وقت آتا ہے تو پھر ہمارا حکم آنکھ جھپکنے سے پہلے پورا ہوجاتا ہے۔ ہم ان جیسے مجرموں کو پہلے بھی ہلاک کرچکے ہیں۔ تو کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے ؟ جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں وہ سب کا سب ان کے اعمال ناموں میں درج ہے۔ کیونکہ ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ لیا جاتا ہے۔ گویا کہ جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ سب کا سب درج کیا جارہا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان نے جو کچھ کرنا ہے اللہ تعالیٰ نے وہ پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس بات کو حدیث کی زبان میں تقدیر کہا گیا ہے جس کی تشریح نبی ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے۔
(وَاِِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِینَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ اِِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَاِِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ ) (الانفطار : 10 تا 14)
” بیشک تم پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں۔ ایسے معزز کا تب۔ جو تمہارے ہر کیے کو جانتے ہیں۔ یقیناً نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے۔ “
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ ۔۔ ) (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ)
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے جو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے جو اس آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھ لیتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔۔۔ “
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے جو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم دیتے ہیں پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب ذکر الملائکۃ)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آنکھ جھپکنے سے پہلے نافذ ہوجاتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ اہل مکہ جیسے مجرموں کو پہلے بھی ہلاک کرچکا ہے۔
3۔ اگر کوئی سبق حاصل کرنا چاہے تو پہلی قوموں کے انجام میں لوگوں میں عبرت موجود ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ اپنا حکم نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayahs 54:54–55فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کا انعام اور مقام ذکر کیا جاتا ہے۔
متقی کی جمع متقین ہے۔ متقی کا معنٰی ہے اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی۔ متقین زمین و آسمان کے مالک اور شہنشاہ مطلق کے پاس نہایت ہی باعزت مقام پر ٹھہرائے جائیں گے۔
” حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے تقویٰ کے متعلق سوال کیا۔ کعب ؓ نے کہا کہ کیا آپ کبھی خار دار راستے پر نہیں گزرے ؟ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں حضرت ابی ؓ کہنے لگے تو اس وقت آپ کیا کرتے ہیں ؟ حضرت عمر ؓ کہنے لگے میں کپڑے سمیٹ کر اس راستہ سے گزرتا ہوں۔ حضرت ابی ؓ نے فرمایا یہی تقویٰ ہے۔ “ (تفسیر ابن کثیر : البقرہ، 2)
مسائل
1۔ متقین جنت میں داخل کیے جائیں گے جس میں نہریں جاری ہوں گی۔
2۔ متقین زمین و آسمانوں کے مالک اور شہنشاہ مطلق کے پاس باعزت مقام میں ٹھہرائے جائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
متقین کا انجام :
1۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128) 2۔ متقین امن و سلامتی والے گھر میں ہوں گے۔ (الدخان : 51)
3۔ متقین کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (النحل : 30)
4۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : 198)
5۔ اللہ تعالیٰ متقین کو قیامت کے دن جماعتوں کی صورت وہ جنت میں داخل کرے گا۔ (الزمر : 73)
6۔ ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ (یونس : 63۔ 64)