Ayahs 56:41–44فہم القرآن
ربط کلام :” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے بعد ” اَصْحَاب الشِّمَالِ “ کا ذکر۔
یہاں بھی قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق دو فریقوں کا مقابلتاً ذکر کیا ہے۔ پہلے ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے بارے میں فرمایا کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کی خوش بختی کا کیا کہنا ؟ انہیں اللہ تعالیٰ قسما قسم کے انعامات سے نوازے گا اور کھانے کے لیے ہر قسم کے پھل اور پرندوں کا گوشت دیا جائے گا۔ پینے کے لیے ایسے مشروبات دیئے جائیں گے جن میں کسی قسم کی غنودگی اور نشہ نہیں ہوگا۔ ان کے مقابلے میں اصحاب الشمال کے بارے میں فرمایا ہے کہ ” اَصْحَاب الشِّمَالٍ “ کی بد نصیبی کا کیا کہنا ؟ وہ شدید ترین آگ کی لو، کھولتے ہوئے پانی اور اور کالے دھوئیں میں پھنسے ہوئے ہوں گے، انہیں نہ ٹھنڈا پانی دیا جائے گا اور نہ ہی پرسکون جگہ میسر ہوگی۔ دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ جب انہیں پیاس لگے گی تو نہ صرف انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا بلکہ جہنم کی پیپ بھی پلائی جائے گی۔ (ابراہیم : 16) پیاس کی شدت کی وجہ سے جہنمی پیپ اور کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اسی سورت میں ذکر کیا ہے کہ پیاس کی شدت کی وجہ سے جہنمی اس طرح کھولتا ہوا پانی پئیں گے جس طرح پیاسا اونٹ پانی پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54، 55)
مسائل
1۔ بائیں طرف والوں کا براحال ہوگا۔ 2۔ بائیں جانب والوں کو نہ ٹھنڈا پانی ملے گا اور نہ ہی وہ آرام پائیں گے۔
3۔ بائیں طرف والے آگ کی لپیٹ، کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں سے دوچار ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
بائیں طرف والوں کی مختلف سزائیں :
1۔ آنتوں اور کھالوں کا بار بار جلنا۔ (النساء : 56) 2۔ ان کی کی کھال کا بار بار بدلہ جانا۔ (الحج : 20)
3۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانادیا جانا۔ (الغاشیہ : 6) 4۔ کھانے کا گلے میں اٹک جانا۔ (المزمل : 13)
(الانعام : 70) (النبا : 25) (الحج : 19) (الحج : 21، 22) (بنی اسرائیل : 97) (الواقعہ : 42)
Ayahs 56:45–51فہم القرآن
ربط کلام : بائیں ہاتھ والوں کے جرائم اور انجام۔
ہائیں ہاتھ والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہوگی جو دنیا میں خوش حال اور مال دار تھے، یہی لوگ معاشرے میں اکثر برائیوں کے موجد تھے، مالدار ہونے کے باوجود لوگوں کے حقوق غصب کرتے تھے اور غریبوں کا خیال نہیں رکھتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر آسمانی کتاب میں لوگوں کے حقوق غصب کرنے سے منع کیا ہے اور غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں اور زیر دست لوگوں کا خیال رکھنے کا حکم صادر فرمایا ہے، خوش حال اور مال دار لوگوں کے مال میں کمزور لوگوں کا حق رکھا گیا ہے (الذاریات : 19) لیکن جہنم میں جانے والے مجرم کمزور لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تھے جس کا وہ جہنم میں اقرار کریں گے۔ (المدثر : 44)
بائیں ہاتھ والوں کا جہنم میں جانے کا سب سے بڑا سبب یہ ہوگا کہ جہنمی بڑے بڑے گناہوں پر قولاً یا عملاً اصرار کیا کرتے تھے۔ بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک بنانا ہے جسے شرک کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ مشرک کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : 116)
مشرک کی عادت ہے کہ جب بھی اسے شرک سے منع کیا جائے تو وہ اس پر اصرار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر لوگ بڑے گناہوں سے بچتے رہیں تو میں ان کے چھوٹے چھوٹے گناہ ازخود معاف کردوں گا۔ (النساء : 31)
جہنم میں جانے والوں کا تیسرا بڑا گناہ یہ ہوگا کہ دنیا میں جب بھی انہیں قیامت سے ڈرایا جاتاتو وہ کہتے تھے کہ کیا ہم مرجائیں گے اور ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو پھر ہمیں اٹھایا جائے گا ؟ کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھاے جائیں گے ؟ قرآن مجید نے اس باطل عقیدہ کی تردید کے لیے درجنوں دلائل دیئے ہیں لیکن قیامت کے منکر انہیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اے نبی ﷺ انہیں فرمائیں کہ یقیناً تمہارے پہلے اور پچھلے لوگوں کو ایک دن ضرور جمع کیا جائے گا۔ جس کا ایک وقت مقرر ہے۔ جس میں آگا پیچھا نہیں ہوگا۔ ( یونس : 49)
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَبَاءِرُ الإِشْرَاک باللَّہِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ ) (رواہ البخاری : باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ )
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اپنے مال سے کمزوروں کا حق ادا نہ کرنے والے مال دار جہنم میں جائیں گے۔
2۔ شرک اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرنے والے جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔
3۔ کوئی مانے یا انکار کرے قیامت ضرور برپا ہوگی کیونکہ اس کا ایک دن اور وقت مقرر کردیا گیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مال میں بخل، گناہوں پر اصرار اور قیامت کا انکار کرنے والوں کی سزا :
1۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری دیں۔ (التوبہ : 34) 2۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ نہیں رکھ سکتا۔ (ہمزہ : 3)
3۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : 9)
4۔ ” اللہ “ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : 16)
5۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (الفرقان : 11)
6۔ زمین میں چل، پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ (النحل : 36)
7۔ ہم نے ان سے انتقام لیا دیکھئے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الزخرف : 25)
8۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : 11) 9۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعہ : 92)
Ayahs 56:52–56فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کے حقوق غصب کرنے، بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرنے اور قیامت کا انکار کرنے والوں کی مزید سزا۔
جو لگ حق داروں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ان کے لیے تھور کا کھانا ہوگا اور پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ وہ اس طرح گھونٹ بھریں گے جس طرح پیاسا اونٹ گھونٹ بھرتا ہے۔ ملائکہ انہیں جھڑکتے ہوئے کہیں گے آج کے دن تمہاری یہی مہمان نوازی ہے۔ زقوم کا درخت جہنم کی تہہ سے پیدا ہوگا۔ (الصّٰفٰت : 64)
” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے۔ انہیں پینے کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی دیا جائے گا۔ خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو نہ موٹا کرے نہ ان کی بھوک مٹائے گا۔ “ (الغاشیہ : 4 تا 7)
مسائل
1۔ جہنمی کو کھانے کے لیے زقوم دیا جائے گا۔
2۔ جہنمی کو پینے کے لیے انتہائی ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا جسے وہ پیاسے اونٹ کی طرح پینے کی کوشش کریں گے۔
3۔ ملائکہ جہنمی کو جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ آج تمہاری یہی مہمان نوازی ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمی کی جہنم میں خوراک :
(الغاشیہ : 6) (الحج : 21، 22) (المزمل : 13) (الانعام : 70) (النبا : 25) (الحج : 19) (الواقعہ : 54 تا 55) (الواقعہ : 42)
Ayahs 56:57–59فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید اور آخرت کا انکار کرنے والوں سے ایک سوال جس میں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا ثبوت بھی ہے اور آخرت میں زندہ کرنے کی دلیل بھی۔
ہر انسان بالخصوص کافر اور مشرک کو یہ سوال کیا گیا ہے کیا ہم بچہ پیدا کرتے ہیں یا تم اسے پیدا کرتے ہو۔ لیکن اس کے باوجود تم اپنے خالق کو نہیں مانتے اور نہ ہی قیامت کے دن زندہ ہونے کی تصدیق کرتے ہو۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ جو نطفہ تم ڈالتے ہو اس سے تم بچہ پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ بچہ پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ہے کہ پہلے انسان یعنی آدم (علیہ السلام) کو کس طرح پیدا کیا گیا۔ پھر آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو کس طرح پیدا کیا۔ (النساء : 1) آدم (علیہ السلام) اور حوا سے کس طرح نسل انسانی کی افزائش کا سلسلہ جاری فرمایا۔ جس میں یہ بتلایا گیا کہ جس نطفہ سے انسان پیدا ہوتا ہے وہ عورت کی چھاتی اور مرد کی کمر سے کس طرح نکلتا ہے۔ (الطّارق : 7) اس کے بعد نطفہ کن کن مراحل سے گزر کر بچے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ (المومنون : 14) بچہ اپنی ماں کے رحم میں کتنے مہینے ٹھہرتا ہے پھر ماں اسے کس تکلیف کے ساتھ جنم دیتی ہے۔ (لقمان : 14) میاں بیوی کے ملاپ کے سوا بچہ پیدا کرنے میں ماں اور باپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یہ صرف احسن الخالقین کا کمال ہے کہ وہ ایک جرثومے سے انسان کی تخلیق کا آغاز کرتا ہے اور پھر شکم مادر میں اس کی شکل و صورت بناتا ہے اور ماں کے پیٹ میں ہی کالے، گورے، نیک اور بد کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سارے عمل میں ماں باپ اور کسی دوسرے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایک مرحلہ پر دخل انداز ہوسکے۔ اس لیے سوالیہ انداز میں ارشاد فرمایا کہ بتاؤ ! اس سے تم بچہ پیدا کرتے ہو یا ہم اسے پیدا کرتے ہیں ؟ ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں ؟ “ (الطور : 35) ” اللہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ (الشوریٰ : 49)
مسائل
1۔ اللہ ہی نے لوگوں کو پیدا کیا ہے لیکن لوگ اللہ کی ذات اور اس کے فرمان کی تائید نہیں کرتے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچہ بنانے اور پیدا کرنے والا نہیں۔
Ayahs 56:60–62فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دیتا ہے۔
سورۃ الملک کی دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ اسی ذات نے زندگی اور موت پیدا کی ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے۔ آل عمران کی آیت 185 میں ارشاد ہوا کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور قیامت کے دن تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جسے جہنم کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوا۔ سورة یونس کی آیت 49 میں ارشاد فرمایا کہ ہر نفس کا ایک وقت مقرر ہے جب وقت آتا ہے۔ تو ایک لمحہ بھی اس میں آگا پیچھا نہیں کیا ج۔ اس بات کو یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کی ہے لہٰذا موت ہر انسان کا مقدر ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کب اور کس مقام پر آئے گی۔ موت کا فیصلہ صادر کرنے میں ” اللہ “ کو کوئی بےبس نہیں کرسکتا۔ ہم پوری قدرت رکھتے ہیں کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور تمہیں ایسی شکل میں پیدا کردیں جسے تم نہیں جانتے اگر تم واقعی اپنی پہلی پیدائش کے بارے میں سوجھ بوجھ رکھتے ہو تو پھر نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے یعنی قیامت پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں تین ارشاد فرمائے ہیں۔
1۔ ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کردی ہے جس سے کوئی شخص بھی چھٹکارا نہیں پاسکتا جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا، بادشاہ ہو یا فقیر، نیک ہو یا بد یہاں تک کہ نبی بھی موت کو ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں کرسکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ موت کے وقت میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔
2۔ اگر ” اللہ “ یہ فیصلہ کرلے کہ لوگوں کی شکل و صورت اور قدوقامت تبدیل کردیئے جائیں اور انہیں کسی دوسری شکل میں پیدا کیا جائے تو زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کے فیصلے کو تبدیل کرسکے۔ صرف اللہ کی ذات ہے جو انسان کو شکل و صورت اور قدوقامت عطا فرماتی ہے اگر وہ کسی کو کالے رنگ کا پیدا کر دے تو کوئی ایسی ذات نہیں جو اس کی رنگت کو سفید کرسکے، اگر وہ کسی کو ٹھگناپیدا کردے تو کوئی حکیم اور ڈاکٹر اس کے قد کو پورا نہیں کرسکتا، اگر کسی کو کسی عضو سے محروم کردے تو کوئی ایسا ہسپتال نہیں جو حقیقی عضور تیار کرسکے۔
3۔ اگر انسان اپنے رب کو پہچاننا اور قیامت پر یقین کرنا چاہے تو اسے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی پیدائش پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا ہے، وہ انسان کو بچپن سے جوان کرتا ہے اور وہی انسان کی جوانی کو بڑھاپے میں ڈھالتا ہے۔ کیا کوئی ایسی ذات ہے جو انسان کو بڑھاپے اور موت سے بچا سکے۔ جب زندگی کا کوئی لمحہ بھی انسان کے اپنے یا کسی کے بس میں نہیں تو پھر انسان کو اس بات پر کلی طور پر ایمان لانا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی بلاشرکت غیرے ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ حقیقت آشکارا ہونے کے باوجود لوگوں کی اکثریت اپنے رب پر اس کے حکم کے مطابق ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان موت کا سلسلہ مقرر کر رکھا ہے۔ 2۔ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں کی ایسی شکلیں بنادے جس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتے۔
4۔ انسان اپنی پیدائش پر توجہ کرے تو ہر صورت اپنے رب کو پہچان لے گا اور قیامت پر ایمان لے آئے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں دیکھنے کے باوجود انسان نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے :
1۔ بیشک میرا ” اللہ “ جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ (یوسف : 100)
2۔ ” اللہ “ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ (آل عمران : 13)
3۔ جو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوتا وہی ہوتا ہے جو ” اللہ “ چاہتا ہے۔ (الدھر : 30)
4۔ جو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوتا مگر وہی ہوتا ہے جو جہانوں کا رب چاہتا ہے۔ (التکویر : 29)
5۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (آل عمران : 37)
6۔ ” اللہ “ جسے چاہے معاف فرمائے جسے چاہے عذاب دے۔ ( آل عمران : 129)
7۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 1) 8۔ اللہ جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے۔ (التوبہ : 27)
9۔ اللہ جس کی چاہتا ہے اپنے نور (قرآن) کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (النور : 35)
Ayahs 56:63–67فہم القرآن
ربط کلام : اللہ ہی انسان کو پیدا کرتا اور موت دیتا ہے اور وہی بیج سے کھیتی پیدا کرتا ہے۔ بیج اور کھیتی کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق اور موت کا حوالہ دے کر سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی اسے موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ اب بیج اور کھیتی کی مثال دے کر انسان کو اپنے خالق ہونے اور قیامت کے دن زندہ کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ ارشاد ہوا جو بھی تم بوتے ہو اس پر غور کرو کہ کیا اس سے فصل تم اگاتے ہو یا ہم اسے اگانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو بیج کو زمین میں ہی ناکارہ کردیں، اگر ہم چاہیں تو لہلہاتے ہوئے باغوں اور ہر بھری کھیتیوں کو خاکستر کردیں اور تم مختلف قسم کے تبصرے کرتے رہ جاؤ اور یہ کہنے پر مجبور ہوجاؤ کہ ہم پر تاوان پڑگیا ہے، بلکہ کہو کہ ہمارے نصیب ہی پھوٹ گئے ہیں۔ بیج اور کھیتی کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اپنے خالق اور رازق ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ایک زمیندار کو اپنی فصل پر صرف اتنا ہی اختیار ہے کہ وہ زمین بنانے اور ہموار کرنے کے بعد اس میں بیج ڈالے یا اس میں پودے لگائے۔ اس کے بعد بیج کو اگانا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔ وہی بیج کو اس کی فطرت کے مطابق زمین میں نَم، حرارت اور ہوا پہنچاتا ہے۔ ان تین عناصر کے علاوہ بھی ایسے اسباب ہیں جن تک کسی زرعی سائنسدان کی اب تک رسائی نہیں اور نہ ہی بیج اگانے میں کسی کا کوئی عمل دخل ہے۔ صرف ایک ” رب “ کی ذات ہے جو بیج کو اگاتی ہے جس سے انسان اور ہر جاندار فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ چاہے تو بیج کو زمین میں بےکار کردے اور یہ بھی اسے اختیا رہے کہ وہ سرسبز کھیتی اور اور لہلہاتے ہوئے پودوں کو بھس بنا کر رکھ دے۔ ایس صورت میں کھیتی کا مالک مختلف قسم کی توجیہات اور باتیں بنانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ بالآخر یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ میں نے محنت کی اور بیج کے اخراجات برداشت کیے مگر یہ تو میرے لیے بوجھ اور چٹی ثابت ہوئے ہیں۔ بالآخر انسان یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ میرے نصیب ہی سڑ گئے ہیں اور میں محروم ہوگیا ہوں۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو خالق، رازق اور مالک ثابت کرنے کے بعد یہ بھی ثابت کیا ہے کہ زمین میں کروڑوں نہیں بلکہ لاتعداد بیج اگتے ہیں اور کچھ اگنے کے بعد گل سڑ جاتے ہیں اور کچھ فصل کے طور پر تیار ہوتے ہیں جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی خوراک بنتے ہیں۔ یہی انسان کا حال ہے کچھ ایسے ہیں جو ماں کے پیٹ میں مرجاتے ہیں کچھ بچپن میں فوت ہوجاتے ہیں کچھ جوانی میں چل بستے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو اس قدر بوڑھے اور کمزور ہوجاتے ہیں جنہیں اپنے آپ کا ہوش نہیں ہوتا۔
مسائل
1۔ انسان زمین میں بیج بوتا ہے مگر اسے اگانے والا صرف ” اللہ ہے۔
2۔ ” اللہ “ چاہے تو بیج کو زمین میں ختم کردے اور چاہے تو لہلہاتے ہوئے کھیتیوں کو بھس بنادے۔
3۔ کھیتی تباہ ہونے کی صورت میں اس کا مالک پریشان ہونے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی کھیتی اور باغات پیدا کرنے والا ہے :
1۔ ” اللہ “ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11)
2۔ ” اللہ “ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے ہیں۔ (المومنون : 19)
3۔ ” اللہ “ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : 34)
4۔ ” اللہ “ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99) 5۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات پیدا فرمائی۔ ( الانعام : 100)
6۔ ” اللہ “ ہی نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141)
7۔ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنا، زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے تم کہاں بہک گئے ہو ؟ ( الانعام : 95)
8۔ تمہارا رب ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (المومن : 62)
9۔ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے زمین میں سے نباتات پیدا فرمائے۔ (البقرۃ : 61)
10۔ تمہارے لیے مسخر کیا نباتات کو زمین پر پھیلاکر، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : 13)
11۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : 102)
12۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : 102)
Ayahs 56:68–70فہم القرآن
ربط کلام : کھیتی کا ذکر کرنے کے بعد پانی کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ اپنی ذات کی طرف مرکوز کروانے کے لیے ایک دفعہ پھر ار شاد فرمایا ہے کہ غور تو کرو ! کہ جو پانی تم پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم نے اسے نازل کیا ہے ؟ اگر ہم چاہیں تو اس پانی کو کھارا بنادیں تو پھر تم اسے کس طرح میٹھا بنا سکتے ہو ؟ لیکن اس کے باوجود تم شکر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم آسمان سے بارش نازل کرتے ہیں اور بارش کے ذریعے باغات، نباتات اور کھیتیاں اگاتے ہیں۔ یہ بات عرض ہوچکی ہے کہ سورج کی تپش سے سمندر کا پانی بخارات کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے۔ جسے ہوا فضا میں ایک خاص مقام تک اوپر لے جاتی ہے، پھر بخارات بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور بادلوں کا فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جہاں اسے حکم دیتا ہے بادلوں کو ہانک کر وہاں لے جاتا ہے اور پھر وہاں بارش برستی ہے۔ یہاں اس بات کو اختصار کے ساتھ یوں بیان فرمایا ہے کہ اے لوگو ! جو تم پانی پیتے ہو اس پر غور کرو کہ کیا تم اسے بادل سے نازل کرتے ہو یا ہم نازل کرتے ہیں ؟ اگر اللہ تعالیٰ اس پانی کو کھارا بنادے تو نہ صرف پینے کے قابل نہ رہے بلکہ اس سے فصلیں بھی تباہ ہوجائیں گی۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ سمندر کے کھارے پانی کو ہوا کے ذریعے صاف (FILTERIZE) فرما کر نازل کرتا ہے تاکہ لوگ اسے پئیں، فائدہ اٹھائیں اور اپنے رب کا شکر ادا کریں۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس کا شکر ادا نہیں کرتی۔ شکر کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان صرف اللہ کو اپنا خالق، مالک، رازق اور حاکم سمجھے اور بلاشرکت غیرے اس کی عبادت کرے، یہی اس کا سب سے بڑا شکر ہے اور شکر گزار بندے ہی عبادت گزار اور اس کے حقیقی فرمانبردار ہوا کرتے ہیں۔
شکر وہ جذبہ ہے جس سے انسان اپنے محسن کو پہچانتا ہے اور اس کی اطاعت میں لذت محسوس کرتا ہے جس نے اپنے محسن حقیقی کو فراموش کردیا وہ پرلے درجے کا ناشکرا اور ناقدردان ٹھہرے گا۔ جب شیطان کو بارگاہ ایزدی سے دھتکارا گیا تو اس نے سب سے پہلے یہی بات کہی تھی کہ جس کی وجہ سے مجھے دھتکارا گیا ہے آپ ان کی اکثریت کو اپنا شکر گزار نہیں پائیں گے۔
(قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَ مِنْ خَلْفِہِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِہِمْ وَ عَنْ شَمَآءِلِہِمْ وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ )
(الاعراف : 16، 17)
” اس نے کہا پھر جس وجہ سے تو نے مجھے دھتکارہ ہے۔ میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔ پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ “
اللہ تعالیٰ کی ناشکری سے بچنے کے لیے انسان بالخصوص مسلمان کو اپنے رب کے حضور یہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ )
(رواہ أبوداوٗد : باب فی الإستغفار قال البانی صحیح)
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ انسان کو پانی کی نعمت پر غور کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بارش نازل نہیں کرسکتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ پانی کو کھارا کردے تو کوئی اسے میٹھا نہیں بنا سکتا۔
تفسیر بالقرآن
لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (لقمان : 12) 2۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 172)
3۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ (الاعراف : 58)
4۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والے کو زیادہ عطا کرتا ہے۔ (ابراہیم : 7) 5۔ شکر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ (الزمر : 7)
6۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو بہتر جزا دیتا ہے۔ (القمر : 35) 7۔ شکر گزار تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ (سباء 13)
8۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کا قدر دان ہے۔ (النساء : 147) 9۔ شیطان کا مقصد انسان کو ناشکرا بنانا ہے۔ (الاعراف : 17)
Ayahs 56:71–74فہم القرآن
ربط کلام : پانی کے بعد آگ کا تذکرہ۔
جس طرح پانی عظیم نعمت ہے اور اس پر انسان کی زندگی کا انحصار اسی پر ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ دنیا میں پھلنے پھولنے والی کوئی چیز بھی نمو نہیں پاسکتی۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کا انحصار پانی پر رکھا ہے لیکن پھر تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ (الانبیاء : 30) جس طرح پانی کے بغیر زندگی باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح انسان کی زندگی اور ترقی کے لیے آگ بھی ناگزیر ہے اگر آگ پیدا نہ کی جاتی تو انسان اور حیوان کی زندگی کے درمیان معمولی فرق ہوتا اور انسان کسی صورت بھی ترقی نہ کرسکتا۔
آپ زندگی کے کسی شعبے پر غور فرمائیں اس کی ترقی میں بنیادی کردار آگ کا دکھائی دے گا۔ سائیکل سے لے کر ہوائی جہاز اور تیر سے لے کر ایٹم بم بنانے کے لیے آگ کی ضرورت ہے، یہاں تک انسان کی خوردونوش کا تعلق ہے آگ کے بغیر انسان روٹی بھی نہیں پکا سکتا۔ پہلے زمانے کے لوگ پتھر رگڑ کر آگ پیدا کرتے تھے اور قدیم عرب دو درختوں کی ہری بھری ٹہنیوں کو ایک دوسرے پر مار کر آگ حاصل کرتے تھے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے مرخ اور عفار درختوں کی ٹہنیاں سبز ہیں اور ان میں آگ نہیں پانی ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان سے آگ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی کہ اس نے بیشمار چیزوں سے آگ حاصل کرنا شروع کردی لیکن انسان کی بےعقلی کا اندازہ کریں کہ بیشمار لوگ آگ کی پرستش کرتے ہیں۔ صرف اَن پڑھ نہیں بڑے بڑے ترقی یافتہ اور علم وفنون کی ڈگریاں رکھنے والے حضرات آگ کے سامنے جھکتے ہیں اور اسے حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے ہیں حالانکہ آگ پیدا کرنے والا صرف ” اللہ “ ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ بس اپنے رب عظیم کی تسبیح پڑھاکریں جوہر کمزوری سے پاک اور ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے۔
(عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍقَالَ فَکَانَ رَسُول اللَّہ إِذَا رَکَعَ قَال سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ ثَلاَثًا وَإِذَا سَجَدَ قَال سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَیوَبِحَمْدِہِ ثَلاَثًا) (رواہ البیہقی : باب الْقَوْلِ فِی الرُّکُوعِ )
” عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے تو تین مرتبہ یہ کلمات (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہ) پڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو تین دفعہ یہ کلمات (سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی وَبِحَمْدِہِ ) پڑھتے۔
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتیں ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رکوع و سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ( ُ سبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَءِکَۃِ وَالرُّوح) “ (رواہ ابوداؤد : بَابُ مَا یَقُول الرَّجُلُ فِی رُکُوعِہِ وَسُجُودِہِ ، قال البانی صحیحہٌ)
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ ، خَفِیْفَتَانِ عَلَیْ اللِّسَانِِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِیْ الْمِیْزَانِ سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ )
( رواہ البخاری : کتاب التوحید)
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن کے لحاظ سے بھاری ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی سرخ اور عفار درخت پیدا کیے جن سے پرانے زمانے کے لوگ آگ حاصل کرتے تھے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے ہی آگ بنائی ہے۔ 3۔ آگ سے انسان قوت حاصل کرتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں آگ بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے۔ 5۔ انسان کو آگ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی ایک جھلک :
1۔ رات اور دن کو اللہ نے نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : 12)
2۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : 37)
3۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، دن اور رات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : 190)
4۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6)
5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ (الذاریات : 21)