Ayah 59:21فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کی آگ سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کے قرآن پر غور کرکے اپنے آپ کو سنوار لے۔
اللہ تعالیٰ نے جہنم سے بچنے اور جنت میں داخل ہونے کے لیے قرآن مجید جیسی عظیم اور مؤثر کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس کی عظمت اور تاثیر کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کردیتے تو آپ دیکھتے کہ پہاڑ بھی اللہ کے خوف سے دب اور پھٹ جاتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ارشادات لوگوں کے سامنے اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ ان پر غور کریں اور اپنے کردار اور انجام کے بارے میں فکر کریں۔ قرآن مجید کی عظمت اور تاثیر کا ذکر کرتے ہوئے ” لَوْ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے اگر ہم قرآن مجید پہاڑ پر نازل کردیتے تو پہاڑ بھی اس کی عظمت اور تاثیر سے پھٹ جاتا۔ کچھ اہل علم نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ پہاڑ بھی خلافت کے بار گراں سے پھٹ جاتا جس کا تذکرہ قرآن مجید میں یوں کیا گیا ہے۔
ہم نے بار امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے معذرت کی وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھالیا، بیشک انسان ظالم اور جاہل ہے۔ (الاحزاب : 72)
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَرَأَ طٰہٰ وَیٰس قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ ، فَلَمَّا سَمِعْتِ الْمَلاَءِکَۃُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوبَی لأُمَّۃٍ یَنْزِلُ ہَذَا عَلَیْہَا، وَطُوبَی لأَجْوَافٍ تَحْمِلُ ہَذَا، وَطُوبَی لأَلْسِنَۃٍ تَتَکَلَّمُ بِہَذَا)
(رواہ الدارمی : باب فِی فَضْلِ سُورَۃِ طہ ویس (لم تتم دراستہ) قال النسائی ضعیف)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کی تخلیق سے ہزار سال پہلے سورة طٰہ اور یٰس کی تلاوت فرمائی۔ فرشتوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر قرآن نازل ہوگا، ان سینوں کے لیے مبارک ہو جو اس قرآن کو اٹھائیں گے اور ان زبانوں کو خوش آمدید ہو جو قرآن کی تلاوت کریں گی۔ “
قرآن مجید کی بےانتہا تاثیر :
(عَنْ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَالْکِتَابِ اَقْوَامًاوَیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ ) (رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن)
” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو جو اس پر عمل کریں گی بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو جو اس کو چھوڑ دیں گی انہیں ذلیل کر دے گا۔ “
جس طرح ” اللہ “ کی ذات وصفات اور اس کے جمال و کمال کی انتہا نہیں اسی طرح اس کے کلام کی عظمت اور تاثیر کی بھی انتہا نہیں ہے۔ قرآن مجید کو جو بھی اخلاص اور توجہ سے پڑھتا اور سنتا ہے وہ اس پر ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے سورة طٰہٰ کی ابتدائی آیات سنیں تو ایمان لانے پر مجبور ہوئے۔ ثمامہ بن اثال نے نبی ﷺ کو کعبہ میں قرآن پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس قدر متاثر ہوا کہ اپنے کانوں سے روئی نکال دی اور قرآن مجید سنتے ہی آپ ﷺ پر ایمان لے آیا۔
” حضرت ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے سنا کہ ایک آدمی اپنے گھر میں سورة الکہف کی تلاوت کر رہا تھا تو اس کے گھوڑے نے بدکنا شروع کردیا۔ اس نے سلام پھیر کر آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو اسے بادلوں کا ایک ٹکڑا نظر آیا جو اسے ڈھانپے ہوئے تھا اس نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ کے سامنے کیا آپ نے فرمایا اے فلاں پڑھتے رہو یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہوئی تھی یا قرآن کی وجہ سے نازل ہو رہی تھی۔ “ (رواہ البخاری : باب علاَمَات النُّبُوَّۃِ فِی الإِسْلاَمِ )
مسائل
1۔ اگر اللہ تعالیٰ قرآن مجید پہاڑ پر نازل کردیتا تو قرآن کی عظمت اور تاثیر سے پہاڑ دب اور پھٹ جاتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنے احکام اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان پر غور کریں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن کی عظمت اور فضیلت :
1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ ( البقرہ : 2) 2۔ قرآن مجید سرا پارحمت اور کتاب ہدایت ہے۔ (لقمان : 3)
3۔ قرآن مجید بابرکت اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ (الانعام : 93)
4۔ قرآن مجید میں ہدایت کے متعلقہ ہر چیز واضح کی گئی ہے۔ (النحل : 89) (المائدۃ : 15) (المائدۃ : 48)
Ayah 59:22فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ نے قرآن مجید جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی ہے اس کی عظیم اور بےمثال صفات۔
” اللہ “ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی ہر قسم کی پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جانتا ہے، سب کچھ جاننے کے باوجود اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ” الٰہ “ اللہ تعالیٰ کا متبادل نام بھی ہے اور عظیم صفت بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے سب نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اس لیے صرف اسی کی بندگی کرو۔ وہی اپنی مخلوق کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرنے والا ہے۔ وہ ان چیزوں کو جانتا ہے جو اس کی مخلوق کے لیے غیب ہیں اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں اس کی مخلوق کے سامنے ہیں۔ غیب سے مراد مخلوق کے حوالے سے کسی چیز کا پوشیدہ ہونا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے غائب اور ظاہر، پوشیدہ اور اعلانیہ دونوں برابر ہیں کیونکہ اس کا فرمان ہے۔
(عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ سَوَآءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَہَرَ بِہٖ وَ مَنْ ہُوَ مُسْتَخْفٍ بالَّیْلِ وَ سَارِبٌ بالنَّہَارِ ) (الرعد : 9، 10)
” وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے رات کی روشنی میں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں چلے پھرئے اس کے نزدیک سب برار ہیں۔ “
رحمن فعلان کے وزن پر مبالغے یعنی سپر ڈگری (Super degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اس کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔ الرحمن : لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے اور لفظ ” الرحیم “ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔ معنٰی یہ ہوا کہ وہ ” اللہ “ بےانتہا مہربان، ہمہ وقت اور ہر حال میں رحم فرمانے والا ہے۔ فرق یہ ہے کہ رحیم کا لفظ کسی مشفق شخصیت کے لیے استعمال جاسکتا ہے مگر کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ” الرحمن “ کہنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحیمیّت کسی اضطرار اور مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اس کی رحمانیت کا عین تقاضا ہے۔ اس صفت کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں پایا جاتا ہے۔ انسان جس قدر سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے لیکن جب اللہ کے حضور یہ کہتے ہوئے آب دیدہ ہوجائے کہ الٰہی ! میرے جرائم اور خطاؤں کی آندھیوں نے میرے گلشن حیات کو برباد کردیا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے ہوئے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سبز و شاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے بھی حیات نو سے ہمکنار کر دے۔ بندۂ مومن کی عاجزی اور سرافگندگی کی وجہ سے رحمن و رحیم کی رحمت کے سمندر میں تلاطم برپا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے بندے کو معاف کردیتا ہے۔ الرحمن کی رحمت کی وسعتوں کا تذکرہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلاَّ مَنْ ہَدَیْتُہُ فَاسْتَہْدُونِی أَہْدِکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ جَاءِعٌ إِلاَّ مَنْ أَطْعَمْتُہُ فَاسْتَطْعِمُونِی أُطْعِمْکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ عَارٍ إِلاَّ مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُونِی أَکْسُکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ تُخْطِءُون باللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا فَاسْتَغْفِرُونِی أَغْفِرْ لَکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم)
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو، میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جن و انس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین فاسق وفاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتا۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر آدمی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی اس کی پوری مخلوق کو نہیں جانتا۔
4۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور مخلوق پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں :
1۔ الٰہ ایک ہی ہے۔ (البقرۃ : 163) 2۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارنے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : 117)
3۔ اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نا پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں صرف وہی الٰہ ہے۔ (القصص : 88)
4۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
5۔ کون ہے جو لاچار کی فریادسنتا اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے، کیا اللہ کیساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ ( النمل : 62)
6۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سوا رہنمائی کون کرتا ہے ؟ کیا اللہ کیساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 63)
7۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنے اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا کون ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
8۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نا پکا رو وگرنہ عذاب میں مبتلا کیے جاؤگے۔ (الشعرآء : 213)
Ayah 59:23فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات کا بیان جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں کیونکہ وہی ان عظیم صفات کا مالک ہے کوئی نہیں جو اس جیسی صفات کا حامل ہو لہٰذا وہ لوگوں کے بنائے ہوئے ہر قسم کے شریکوں سے مبرا اور پاک ہے۔ وہ اَلْمَلِکُ ، اَلْقُدُّوْسُ ، اَلسَّلاَمُ ، اَلْمْؤْمِنُ ، اَلْمُہَیْمِنُ ، الْعَزِیْزُ ، اَلرَّحِیْمُ ، اَلْجَبَّار اور اَلْمُتَکَبِّرُ ہے۔
اَلْمَلِکُ :
اللہ ہی حقیقی اور دائمی بادشاہ اور مالک ہے اس کے سوا کوئی حقیقی اور دائمی بادشاہ اور مالک نہیں، وہ جسے چاہے بادشاہی عطا فرمائے اور جس سے چاہے اس کی بادشاہی چھین لے اس کے اذن کے بغیر کوئی بادشاہ نہیں بن سکتا ہے۔
” کہیں اے اللہ ! ساری کائنات کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت عطا فرمائے اور جسے چاہے ذلت دے تیرے ہی ہاتھ میں ہر قسم کی خیر ہے یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (آل عمران : 26)
اَلْقُدُّوْسُ :
اس نام میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی ہستی ہے جو ہر عیب، نقص، برائی اور ظلم سے پاک ہے۔ اس سے زیادہ کوئی ہستی پاک نہیں۔ وہی لوگوں کو گناہوں سے پاک کرنے والا ہے۔ نبی ﷺ تہجد کی نماز میں سجدے کی حالت میں یہ تسبیح پڑھا کرتے تھے۔
(عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ أَنَّ عَاءِشَۃَ نَبَّأَتْہُ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَانَ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ وَسُجُودِہِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَءِکَۃِ وَالرُّوحِ ) (صحیح مسلم : باب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ )
” حضرت مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ رکوع اور سجدے میں یہ دعاپڑھا کرتے تھے۔ ملائکہ اور جبرائیل امین کے رب ہر قسم کی تسبیح و تقدیس تیرے لیے ہے۔ “
اَلسَّلاَمُ :
اللہ تعالیٰ ہر نقصان اور کمزوری سے محفوظ ہے نہ اس کی ذات کو کسی قسم کی کمزوری لاحق ہوتی ہے اور نہ اس کی صفات میں ضعف واقع ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں السلام ہے اور سلامتی عطا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی سلامتی عطا نہیں کرسکتا ہے اس لیے ہر حال میں اسی سے سلامتی طلب کرنی چاہیے۔
(عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہ ﷺ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثًا وَقَال اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ ) (روا مسلم : باب اسْتِحْبَاب الذِّکْرِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ وَبَیَانِ صِفَتِہِ )
” حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور یہ دعا پڑھتے۔ ” اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَام “
” اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور سلامتی تجھی سے حاصل ہوتی ہے بیشک تو بابرکت اور جلال واکرام والا ہے۔ “
اَلْمْؤْمِنُ :
ہر قسم کے خوف و خطر سے محفوظ ہستی صرف ” اللہ “ کی ذات ہے اسے برے کی برائی اور بڑے کی بڑائی سے کوئی خطرہ نہیں، نہ صرف خود ہر اعتبار سے المؤمن ہے بلکہ ہر کسی کو امن دینے والا ہے۔
اَلْمُہَیْمِنُ :
ہر کسی کی نگرانی اور نگہداشت کرنے والا۔ ایسا نگران کہ نہ اس سے سے کوئی چیز پوشیدہ ہے اور نہ اپنی مخلوق کی نگرانی کرنے سے تھکتا ہے اور اس کی نگرانی اور نگہبانی سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔
” اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اس کی ملکیت میں زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے ؟ وہ جانتا ہے جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور لوگ اس کے علم سے کچھ نہیں لے سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتا ہے وہ بہت بلند وبالا اور بڑی عظمت والا ہے۔ “ (البقرۃ : 255)
الْعَزِیْزُ :
ایسی ذات جس کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا وہ اپنے فیصلے صادر اور نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے اور کسی کے تعاون کا محتاج نہیں۔ وہ کسی کو پکڑنا چاہے تو کوئی اسے چھڑا نہیں سکتا، کسی کو بچانا چاہے تو کوئی اسے گزند نہیں پہنچا سکتا وہ کسی کو دینے کا فیصلہ کرلے تو کوئی روک نہیں سکتا اگر کسی سے کوئی چیز لینا چاہے تو کوئی اسے ٹوک نہیں سکتا۔
” اے اللہ ! جو چیز تو عطاء فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع نہیں دے سکتا۔ “ (رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ )
اَلْجَبَّارُ :
الجبار کا معنٰی جبر کرنے والا۔ یاد رہے کہ وہ ظالموں اور باغیوں کے لیے جبار ہے لیکن مومنوں کے لیے الرّحمن اور الرحیم ہے۔ جس طرح اس سے بڑھ کر کوئی جبار نہیں اسی طرح اس سے بڑھ کر کوئی مہربان نہیں ہے۔ جب اپنے جبر کا استعمال کرتا ہے تو وقت کا فرعون بھی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا۔ اس کی جباری سے ہر دم پناہ مانگنا چاہیے۔
اَلْمُتَکَبِّرُ :
متکبر کا لفظ کبر سے نکلا ہے جس کا معنٰی ہے بڑا ہونا یا بڑا بننا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا ہونا اس کی ایک عظیم صفت ہے وہ اپنی ذات، صفات اور مقام کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے۔ کوئی اس کی ذات، صفات، اقتدار، اختیارات اور مقام میں اس سے بڑا نہیں۔ مخلوق کا اپنی حد سے بڑھ کر بڑا بننا گناہ ہی نہیں پرلے درجے کا جرم ہے۔
(وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ؓ عَنِ النَّبِی ﷺ قَال مَنْ قَال حینَ یُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّات أَعُوذ باللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ فَقَرَأَ ثَلَاثَ آیَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْحَشْرِوَکَّلَ اللَّہُ بِہِ سَبْعِینَ أَلْفَ مَلَکٍ یُصَلُّونَ عَلَیْہِ حَتَّی یُمْسِیَ وَإِنْ مَاتَ فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ مَاتَ شَہِیدًاوَمَنْ قَالَہَا حینَ یُمْسِی کَانَ بِتِلْکَ الْمَنْزِلَۃ) (رَوَاہ التِّرْمِذِیُّ وَقَال التِّرْمِذِی ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ)
حضرت معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے صبح کے وقت تین مرتبہ ان کلمات کا ورد کیا ” میں سننے والے اور جاننے والے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے بعد سورة الحشر کی آخری تین آیات پڑھیں، اللہ تعالیٰ ستر ہزار (70000) فرشتے مقرر کردیتے ہیں جو اس کے لیے دعا کرتے ہیں حتی کے شام ہوجاتی ہے اگر وہ اس دوران مرجائے تو اسے ” اللہ “ کی راہ میں شہید ہونے کا ثواب ملے گا اور جس نے یہ کلمات شام کے وقت بھی پڑھ لیے اسے بھی یہی اجر حاصل ہوگا۔ “
اللہ ہی ظاہر اور باطن کو جاننے و الا، وہی سب سے بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا، وہی اَلْمَلِکُ ، اَلْقُدُّوْسُ ، اَلْمُؤْمِنُ ، اَلْمُہَیْمِنُ ، اَلْعَزِیْزُ ، اَلْجَبَّارُاور اَلْمُتَکَبِّرُ ہے۔ بتاؤ ! ان میں کون سی صفت ہے جو اس کی مخلوق میں اس درجے میں پائی جاتی ہے۔ جب کسی کی ایک صفت بھی اس کی کسی صفت کا مقابلہ نہیں کرسکتی تو پھر اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرنا کتنی بڑی ناانصافی ہے۔ بس اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے تو پھر کیوں نہیں مانتے ؟
مسائل
1۔ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر اچھی صفت کے مالک ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والوں سے بری ہے۔
Ayah 59:24فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی صفات کا تذکرہ جاری ہے۔
اَلْخَالِقُ :
یہ نام خلق سے بنا ہے۔ خلق کا معنی تقدیر اور اندازہ ہے۔ الخالق صرف اللہ ہے وہی جن وانس، حیوانات، نباتات، جمادات اور ہر چیز کو اس کی فطرت کے مطابق پیدا کرنے کے ساتھ اس کی نشوونما کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے خالق کا لفظ نہیں بولا جاسکتا۔ کوئی کسی چیز کا بانی اور موجد تو ہوسکتا ہے لیکن خالق نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا کسی کو خالق کہتا ہے پرلے درجے کی جہالت اور گناہ ہے۔
(ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ) (الانعام : 102)
” یہی اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے سو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ “
اَلْبَارِئُ :
اللہ تعالیٰ ہی الباری ہے اس کے بغیر کوئی الباری نہیں ہوسکتا کیونکہ الباری کا معنی ہے ایسی چیز پیدا کرنے والا جس کا پہلے سے کلی طور پر وجود نہ ہو یہاں تک کہ اس کا مواد (Material) اور تصور بھی نہ پایا جائے۔ قرآن مجید میں اس لفظ کو یوں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ (فَتُوْبُوْ اِلٰی بَارِءِکُمْ ) (البقرۃ : 54)
اَلْمُصَوِّرُ :
شکل و صورت بنانے والا۔ دنیا میں جو لوگ مصوری کے پیشے سے منسلک ہیں اور مختلف چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں چاہے وہ (Painting) کے ذریعے ہی تصویر کشی کرتے ہیں ان کے ذہن میں کسی نہ کسی چیز کا تصور ہوتا ہے۔ جس میں آگا پیچھا کر کے کوئی تصویر پیش کرتے ہیں لیکن انہیں المصّور نہیں کہا جاسکتا کیونکہ المصور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اسی نے بغیر کسی پہلے سے موجود نقشے کے عربوں اور کھربوں صورتیں بنائیں اور قیامت اور قیامت کے بعد بھی بناتا رہے گا جو آپس میں مختلف ہیں اور ہوں گی انسان خود اپنے آپ پر غور کرے کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو دوسرے کے ساتھ سو فیصد مماثلت رکھتا ہو اس لیے صرف ایک ہی ذات ہے جو حقیقی الخالق، الباری، المصور ہے۔ کیونکہ وہی عدم کو وجود دیتا ہے وہی جسم میں روح ڈالتا ہے اور وہی شکل و صورت میں امتیاز اور انفرادیت پیدا کرتا ہے۔
اس کے تمام نام اچھے ہیں اس کو اسی کے اچھے ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیے کیونکہ زمین و آسمانوں کی کوئی چیز ایسی نہیں بیشک وہ بےجان ہو یا جاندار۔ سب اپنی اپنی زبان میں اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور اس کے حضور اپنی فریاد رکھتے ہیں۔ اسی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے اور وہ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہونے کے باوجود اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔
(ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (آل عمران : 6)
” وہی ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ نہایت غالب خوب حکمت والا ہے۔ “
(وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ) (التین : 1 تا 4)
” قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔ اور طور سینا کی۔ اور اس پُر امن شہر کی۔ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔ “
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِّنْ طینٍ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ اَنشَءْنٰہُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) (المومنون : 12 تا 14)
” اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔” پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں بناکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے جس نام سے بھی پکارا جائے وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو اس پیدا فرمایا جب اس کا وجود بھی نہیں تھا۔
3۔ زمین و آسمان میں ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے