88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (قیامت) کا حال معلوم ہوا ہے ؟

اللہ تبارک وتعالی قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا دی جائے گی لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔
Ayah 88:2

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے

جہنمیوں کے وصف میں فرمایا (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ ) اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے (خَاشِعَةٌ) ذلت، فضیحت اور رسوائی کیوجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 88:3

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے

(عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ) سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ۔ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ) میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بنجائے گا۔ یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا بلکہ پہلے معنی ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کردیا اور وہ ہے قیامت کا دن کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے، بہت ہی چھوٹا ساجز ہے کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے لیے حال میں ہے اور اس دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔
Ayah 88:4

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

(تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً ) دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہوگی جو ان کو ہر جگہ سے گھیر لے گی۔
Ayah 88:5

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

(تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ ) ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایاجائے گا۔ یعنی انتہائی گرم۔ (وان یستغیثوا یغاثوا بما کالمھل یشوی الوجوہ۔ الکھف 29) اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہوگا جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔ پس یہ ہوگا ان کا مشروب۔
Ayahs 88:6–7

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

اور خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا نہیں (ہوگا)

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ فربہی لائے گا نہ بھوک میں کچھ کام آئے

رہا ان کا طعام تو (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۔ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ ) خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔ یہ اس وجہ سے کہا گیا کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنا یا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کے کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ کھانا کرواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہوگا ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
Ayah 88:8

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوگے

رہے نیکوکار تو روز ان کے چہرے ( نَّاعِمَةٌ) تروتازہ ہوں گے۔ یعنی ان نعمتوں کی تازگی عیاں ہوگی ان کے بدن تروتازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔
Ayah 88:9

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل

(لِّسَعْيِهَا) اپنے اعمال سے۔ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا (رَاضِيَةٌ) خوش ہوں گے کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا پس انہوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انہیں ہر وہ چیز حاصل ہوگئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔
Ayah 88:10

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

بہشت بریں میں

اور یہ سب کچھ (فِيْ جَنَّةٍ ) ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں (عَالِيَةٍ ) جو اپنے محل ومنازل میں بہت بلند ہے۔ پس اس محل ومقام اعلی علیین میں ہے اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں۔ اس میں بالاخانے ہیں اور بالاخانوں پر بنائے گئے بالاخانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کرسکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔ (قطوفھا دانیۃ) الحاقہ 23) جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے انہیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہوگا۔
Ayah 88:11

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے

(لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً ) اس میں نہیں سنیں کوئی حرام کی بات۔ یعنی جنت کے اندر حرام کی بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی نہیں سنیں گے بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہوگا جوا للہ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہوگا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔
Ayah 88:12

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں چشمے بہہ رہے ہوں گے

(فِيْهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ) یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہل جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے ان چشموں کا رخ موڑکر ان سے نہریں نکال کرلے جائیں گے۔
Ayah 88:13

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے

(فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ) السرر۔ سریر کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔
Ayah 88:14

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے

(وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ) یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھ ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے۔ اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم رہے ہوں گے۔
Ayah 88:15

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور گاؤ تکئے قطار لگے ہوئے

(وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ) یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان کے بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف درصف بچھایا گیا ہوگا وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔
Ayah 88:16

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

(وَّزَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌ) الزرابی سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
Ayahs 88:17–18

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کئے گئے ہیں

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا ہے

اللہ تبارک وتعالی ان لوگوں کو جو رسول اللہ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں فرماتا ہے (اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ) کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے ؟ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بیشمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کردیا جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔
Ayah 88:19

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں

(وَاِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ) اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں۔ ؟ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے جس سے زمین کو استقرار اور اثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ نے ان پہاڑوں میں انسان کے لیے بڑے بڑے فوائد ودیعت کیے ہیں۔
Ayah 88:20

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی

(وَاِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ) اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کرسکیں، اس پر کھیتی باڑی کرسکیں، باغات اگاسکیں، عمارتیں تعمیر کرسکیں اور اس کے راستے پر سفر کرسکیں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہوگئے ہیں کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔
Ayahs 88:21–22

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

تو تم نصحیت کرتے رہو کہ تم نصحیت کرنے والے ہی ہو

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

(فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ) یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجے اور انکو خوشخبری دیجئے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کرکے نہیں بھیجا گیا اور انہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر بھیجا گیا ہے پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کردی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے (وماانت علیھم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید۔ ق 45) ۔ اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔
Ayah 88:23

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا

(اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ ) مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کارویہ اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے۔
Ayah 88:24

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا

(فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ ) تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔
Ayahs 88:25–26

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے

(اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ ) یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو ہمارے ہی پاس اکٹھے ہونا (ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ) پھر انہوں نے جو کوئی اچھا براعمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔