88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 88:1–7

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

بھلا آپ کو چھا جانے والی چیز (قیامت) کا حال بھی معلوم ہوا ؟

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس دن بہت سے منہ تو ذلیل

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

مشقت کش ہارے ہوئے ہوں گے۔

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

دہکتی آگ میں گرے پڑتے ہوں گے۔

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

ان کو کھولتے چشمے کا پانی پلایا جاوے گا۔

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

ان کو کھانا نہ ملے گا مگر اونٹ کٹارا

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ موٹا کرتا ہے اور نہ بھوک میں کام آتا ہے۔

ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون رفعاً علی البدل۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن الزبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں چھبیس آیات ہیں۔ غاشیہ ڈھانکنے والی چیز کو کہتے ہیں اور بیہوش کردینے والی کو بھی اور یہ قیامت کا اسی سبب سے نام ہے کہ اس کی دہشت لوگوں کو ڈھانک لے گی اور بیہوش کر ڈالے گی۔ یہ لفظ اس سورة میں ابتداء میں آیا اس لیے اس کا نام غاشیہ ہوا۔ مناسبت اس سورة کی پہلی سورة سے بہت سے مضامین میں ہے۔ ازانجملہ اس مضمون میں کہ سورة سبح اسم ربک میں اخیر مضمون یہ تھا کہ نجات سے الگ رہنے والا بڑی آگ میں ڈالا جاوے گا کہ جہاں نہ اس کو موت آوے گی نہ پوری زندگی ہوگی اور جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا اس نے فلاح پائی۔ اب اس سورة میں ان دونوں باتوں کا وقت بیان فرماتا ہے اور نیز ان دونوں گروہوں کے حالات کی پوری تشریح بھی ہے تاکہ نار کبریٰ سے لوگ ڈریں اور آخرت جو بہتر اور باقی ہے اس کی نعمتوں کا حال سن کر مشتاق ہوں اور لذائذ دنیا اور اس کی چند روزہ زرق برق کو حقیر جانیں اور اس پر دل نہ لگائیں۔ وہاں دو گروہ ہوں گے ایک بدلوگوں کا کہ جو اس دنیا کی محبت میں آخرت کو برباد کر بیٹھے تھے۔ دوسرا نیک لوگوں کا جنہوں نے اس چند روزہ زندگی میں آخرت کی کامرانی حاصل کرنے کو غنیمت جانا اور بڑی کوشش کی۔ اس لیے پہلے گروہ کا حال بیان کرتا ہے اور شروع قیامت کے حال سے کرتا ہے۔ فقال ھل اتاک حدیث الغاشیہ کہ کیا تجھے غاشیہ یعنی قیامت کی بات معلوم ہوئی ؟ ضرور ہوئی۔ بعض علماء نے یوں معنی بیان کئے ہیں کہ بیشک تجھ کو اے پیغمبر یا اے سامع ! قیامت کا حال معلوم ہوگیا ہے۔ غاشیہ سے مراد اکثرمفسرین کے نزدیک قیامت ہے اور اس کا یہ نام اس لیے ہوا کہ جو چیز ہر طرف سے ڈھانک لیتی ہے اس کو غاش کہتے ہیں اور یہ بات قیامت میں پائی جاتی ہے : (1) یوں کہ وہ لوگوں پر دفعۃً آجاوے گی اور نیز ایسے آنے والے کو یا غاش یا غاشیہ کہا کرتے ہیں جیسا کہ اس آیت میں افامنوا ان تاتیہم غاشیہ من عذاب اللہ۔ (2) یہ کہ سب لوگوں کو ڈھانک لے گی۔ ہوش و حواس کو بھی اور مجرموں کے بدنوں کو بھی چاروں طرف سے اس روز عذاب ڈھانک لے گا جیسا کہ اس آیت میں ہے یوم یغشاء ھم العذاب من فوقہم ومن تحت ارجلہم اور نیز ایمانداروں کی لغزشوں کو بھی بسبب مغفرتِ الٰہی کے اور کفار کے نامقبول اعمال کو بسبب عتاب کے اور اس طرز سے سوال کرنے میں کہ ھل اتاک حدیث الغاشیہ اس کی طرف سامع کی پوری توجہ دلانا اور آیندہ کلام کو حضور دل سے سنوانا مقصود ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے وجوہ یومئذ خاشعۃ کہ بہت سے منہ اس روز ذلیل و خوار ہوں گے۔ ان کے چہروں پر ذلت نمایاں ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں خدا کے آگے سر نہیں جھکاتے تھے ٗ کبر و گردن کشی کرتے تھے اور وہ بھی ہیں کہ جو تن پروری کرتے تھے اور وہ بھی ہیں جو دنیا میں عبادت اور دینی کاموں میں سستی کرتے اور عیش و آرام طلبی کی عادت بنا رکھی تھی۔ لوگ رمضان کے روزہ سے لب خشک تھے۔ بھوک پیاس کے آثار نمایاں تھے۔ یہ تھے کہ خوب مجلسوں میں بیٹھ کر نعمتیں اڑاتے اور روزہ داروں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے یا نماز کے لیے کے مسجدوں اور عبادت گاہوں میں نہیں جاتے تھے یا جہاد میں جانے سے پہلو تہی کرتے تھے یا اور دینی کاموں سے دل چرا کر گھروں میں بےفکر بیٹھ کر عیش کرتے تھے۔ ان کے منہ اس روز عاملۃ عمل کی مشقت میں پڑے ہوں گے کسی کو جہنم کے پہاڑ پر چڑھایا اور اتارا جاوے گا۔ کما قال سارھقہ صعودا۔ کوئی میدان قیامت میں دوڑا دوڑا پھرے گا کہ ہے آج کوئی میری دستگیری کرے اور مجھ کو اس بلا سے رستگاری دلائے۔ کسی کے ملائکہ زنجیریں اور ہتھکڑیاں ڈالے جہنم میں گھسیٹتے لے جاتے ہوں گے اور سر پر ہزاروں جوتیاں پڑتی جاتی ہوں گی۔ کسی کو وہاں جہنم میں کوئی اور سخت کام تفویض ہوگا۔ جیسا کہ دنیا میں قیدیوں کو مشقت میں ڈالا جاتا ہے اور ان اعمال شاقہ کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہوں گے۔ کما قال ناصبۃ کہ تکان ان کے چہروں پر نمایاں ہوگی۔ اگر دنیا میں کسی کی یہ حالت ہو تو دیکھنے والے کو رحم آجاوے گا مگر وہاں کون رحم کرے ؟ اب اس کے بعد ان کے اور حالات بیان فرماتا ہے۔ فقال تصلیٰ نارا حامیۃ کہ وہ دہکتی آگ میں گریں گے۔ یہ ان کی وہی شہوت کی اور حمایت کفر کی اور حب جاہ و مال کی آگ ہے۔ یہ تو مکان ملے گا۔ اب پینے کی سنئے تسقیٰ من عین آنیۃ کہ دنیا میں ٹھنڈے پانیوں اور لذیذ شربتوں اور برف آمیز شرابوں کے بدلے ان کو کھولتے پانی کے چشمہ سے پلایا جاوے گا۔ وہ بھی جب کہ مدتوں منت کریں گے اور وہ انتڑیوں میں سے پیتے ہی نکل پڑے گا۔ پیتے وقت منہ جھلس جاوے گا۔ اب کھانے کا حال سنئے لیس لہم طعام کہ سرے سے ان کو کھانا ہی نہ ملے گا۔ بھوکوں مریں گے۔ یہ حرام اور ناجائز نعمتیں کھانے کا بدلہ ہے جو کھاکر اکڑتے اور بدکاری کرتے تھے۔ الامن ضریع اور جو ملا بھی تو… اونٹ کٹارا جو لایسمن ولا یغنی من جوع۔ نہ موٹے کرے نہ بھوک دور کرے۔ ضریع کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے (1) اکثر کہتے ہیں خار دار چیز ہے جس کو اونٹ کھاتے ہیں اور خشک ہوجانے پر زہر ہے (جھوانساء) حسن بصری فرماتے ہیں زقوم کا نام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ضراعۃ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ذلت و خواری کے یعنی وہ ذلیل و خوار کھانا جو نہایت مکروہ اور قابل نفرت ہے جس سے فریاد کریں گے۔ واللہ اعلم بمرادہ۔
Ayahs 88:8–11

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اس دن بہت سے منہ تو ترو تازہ

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اور اپنی کوشش سے خوش ہوں گے۔

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

اونچے باغوں میں رہیں گے

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

جہاں کوئی بیہودہ بات بھی سننے میں نہ آئے گی۔

ترکیب ¦ وجوہ مبتداء ناعمۃ خبرہ یومئذ ظرف للخبر لسعیھا واللام تتعلق براضیۃ وھی خبر بعد خبر۔ وکذافی جنۃ عالیۃ لا تسمع قرء الجہور بفتح الفوقیۃ ونصب لاغیۃ وقریٔ بصیغۃ المجھول ورفع لاغیۃ ولاغیۃ اما صفۃ موصوف محذوف ای کلمۃ لاغیۃ او مصدر ای لاتسمع انت یا ایھا المخاطب فی الجنۃ لغواً ای اذا وباطلا ھذہ الجملۃ وکذاما بعد ھا صفۃ جنۃ واکواب جمع کو ب وانہ قدح الذی لاعروۃ ولا خرطوم نما رق جمع نمرقۃ بضم النون وبکسرھا عند الفراء وھی وسادۃ صغیرۃ (تکیہ) زرابی جمع زربی وزربیۃ فی القاموس الزرابی النمارق والبسط و کل مایبسط وتیکاء علیھا الواحد زربی بالکسر وبالضم۔ تفسیر ¦ اب دوسرے فریق کا حال بیان فرماتا ہے یعنی نیک لوگوں کا فقال وجوہ یومئذ ناعمۃ کہ بہت سے منہ اس روز شادماں اور خوش اور ترو تازہ ہوں گے۔ ان پر وہاں کی ہول اور سختی کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں روزہ کی بھوک پیاس اور راہ حق میں کوشش اور جہاد کے واسطے تکالیف شاقہ اٹھا کر اور نیز راتوں کو عبادت کرکے پژ مردہ ہوگئے تھے اور اللہ کی راہ میں فقرو فاقہ نے ان کے چہروں کو بےرونق کردیا تھا۔ اس لیے فرماتا ہے لسعیہا راضیۃ اپنی دنیاوی کوششوں سے جو انہوں نے اللہ کی راہ میں کی تھیں خوش و خرم ہوں گے کہ ہماری کوششوں کا نیک ثمرہ نمودار ہوا اور کفار بد مذہبوں کے کہنے کے موافق رائیگاں نہ گئیں اور وہ نیک ثمرہ یہ ہے فی جنۃ عالیہ کہ بلند باغوں میں ہوں گے جہاں حوادث دہر کے ہاتھ کو رسائی نہ ہوگی اور نیز بلندی پر جو باغ ہوتا ہے تو نہایت خوش فضا ہوتا ہے یا یہ معنی کہ بلند مرتبہ باغوں میں ہوں گے یعنی وہ دنیا کے باغوں جیسے باغ نہیں جن پر خزاں کو دسترس ہو بلکہ ایسے کہ جن کے آگے دنیا کے شاہانہ باغ ہیچ ہیں۔ جہاں تک عقل و وہم انسانی نعمتیں تجویز کرے ان سے بڑھ کر ان میں ہیں۔ ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ لاتسمع فیہا لاغیۃ کہ اے مخاطب ! تو اس میں کوئی لغو اور رنج دہ بات نہ سنے گا نہ کوئی کسی کو برا بھلا کہے گا، نہ کوئی خوف و اندیشہ کی بات کہے گا نہ کسی کے مرنے کی خبر ہوگی کہ عیش مکدر ہوجاوے نہ اپنی جوانی اور اس باغ و بہار کے فنا کی بات سننے میں آئے گی۔ الغرض کوئی رنج دہ بات کان میں نہ پڑے گی بلکہ ہر طرف سے فرحت بخش باتیں سننے میں آئیں گی اور دوسری بات یہ ہے کہ فیھا عین جایۃ کہ ان باغوں میں چشمے جاری ہوں گے۔ ان کے پانیوں کی خوش آئند روانگی اور ان سے باغوں کی ترو تازگی دوبالا لطف کر دے گی۔ دوزخیوں کو تو گرم چشمہ کا پانی پینے کو ملتا تھا۔ یہاں نہر تسنیم بےحساب ہے۔ یہ ان کے اعمال جاریہ اور خدا کے خوف و محبت سے روتی آنکھوں کا مظہر ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ فیہا سررمرفوعۃ ان باغوں میں بلند مرتبہ یا بلند تخت شاہانہ ہوں گے جن پر بیٹھ کر نظارہ کریں گے اور اس سلطنت کے بادشاہ ہوں گے۔ ہر جنتی اس جہان میں ملک باقی کا بادشاہ ہوگا۔ چوتھی بات یہ کہ اکواب موضوعۃ وہاں کو زے اور پیالے نعمتوں سے بھرے ہوئے اور نہایت خوش رنگ اور بیش بہا قرینہ سے چنے ہوں گے تاکہ جس چیز کی طرف رغبت ہو آسانی سے لے جاوے۔ پانچویں یہ کہ نمارق مصفوفۃ کہ برابر برابر حریری اور پر زر اور نہایت پر تکلف تکیے اور جواہر ٹکی ہوئی مسندیں بچھی ہوں گی کہ جن کے رنگوں اور تکلف کو دنیا کی آنکھ نے دیکھا بھی نہیں۔ یہ تکیے اور مسندیں تو تختوں پر ہوں گی اور مکانوں میں یہ یہ ہوگا۔ وزرابی مبثوثۃ کہ نہایت بےبہا قالین بچھے ہوں گے۔ ہر کمرہ میں ایک نئی تیاری ہے۔ اور مکانات کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں کیونکہ وہ جواہرات کے ہوں گے اور وہ جواہرات دنیا کے جواہرات سے بدرجہا فائق ہوں گے اور جب مکانوں اور وہاں کے سامانوں کی یہ کیفیت ہے تو ان مکانوں میں ان کے دل بہلانے اور آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے وہ وہ حسین عورتیں ہوں گی کہ جن کے حسن اور خوبی اور ان کی نوخیز جوانی اور ان کے نازو ادا اور ان کے لباس اور زیورات کی تصویر و ہم و ادراک سے بھی نہیں کھینچ سکتی۔ یہ سب چیزیں روحانی ملکات کے مظاہر ہیں۔ کور باطن ان باتوں کو اک تشبیہ اور دل لبھانے والا استعارہ سمجھتا ہے اور اس کی کوتاہ عقل درحقیقت ایسی چیزوں کے وجود کو اس قادر مطلق کی قدرت کے احاطہ سے باہر جانتی ہے۔ یہ سب باتیں برحق ہیں۔ عالم ناسوتی کا حجاب ان کے دیکھنے میں حائل ہے۔ جب یہ پردہ ظلمانی موت نے اٹھا دیا تب یہ سب چیزیں نظر آنے لگیں گی اور جو اہل صفاء ہیں اور ان کی روح میں کمال نورانیت پیدا ہوگئی ہے تو ان کو اس عالم میں بھی یہ چیزیں دکھائی دے جاتی ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کی آنکھوں میں نہ یہاں کے حسینوں کی قدر و منزلت باقی رہتی ہے نہ وہ دنیا کے عیش و نشاط کو خاطر میں لاتے ہیں اور اسی لیے وہ ہر دم اس عالم کے مشتاق رہا کرتے ہیں اور دنیا کی زندگی کو قید خانہ کی زندگی سے بدتر سمجھتے ہیں ہاں خسیس طبیعتیں بچوں کی طرح اس کھیل اور تماشا پر ایسے گرویدہ ہوتے ہیں کہ پھر اور نیک و بد کی تمیز ہی نہیں رہتی۔ کیا خوب فرمایا ہے عارف جامی نے ؎ دلا تاکہ دریں کا خِ مجازی کنی مانند طفلاں خاکبازی بیفشاں بال و پر زامیزش خاک بپر تا کنگر ایوان افلاف قرآن مجید دنیا کے غافلوں کو اس ملک جاودانی کی ہدایت کرتا ہے۔ نفس اور قوائے بہیمیہ ہیں کہ اس کو اٹھنے نہیں دیتے عجب کشمکش میں پڑا ہوا ہے مگر جس کو جاذبہ الٰہی چاہتا ہے ادھر کھینچ لے جاتا ہے۔
Ayahs 88:12–14

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

وہاں بہتا 1 ؎ چشمہ ہوگا

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

ان باغوں میں اونچے اونچے تخت

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آبخورہ چنے ہوئے

1 ؎ وما احسن قول بعض الصوفیۃ المعنی الجاریۃ لمن عینہ فی خشیۃ اللہ جاریۃ ھل جزاء الاحسان الا احسان۔ شہاب
Ayahs 88:15–16

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور گاؤ 2 ؎ تکیے قطار سے لگے ہوئے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور قالین بچھے ہوئے ہوں گے۔

؎ النمرق و النمرقۃ و سادۃ صغیرۃ والنمرقۃ بالکسرۃ لغتہ دربما سموا الطنفہ التی فوق الرجل نمرقنہ (مختار الصحاح)
Ayahs 88:17–20

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

پھر کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کو (نہیں دیکھتے) کیسا بلند کیا گیا ہے

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو (نہیں دیکھتے) کہ کیونکہ کھڑے کئے گئے

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔

ترکیب ¦ افلا ینظرون الاستفہام للتوبیخ والفاء للعطف علیٰ مقدر والجملۃ مستانفۃ مسوقۃ لاثبات البعث ولاظہار القدرۃ علی الاعادۃ وقیل الجملۃ فی محل جر علی انھا بدل اشتمال من الابل وعن الاصمعی انہ قال من قرء خلقت بالتخفیف عنٰی بہ البعیر ومن قرء بالتشدید عنٰی بہ السحاب ای بالابل وقال المبردالمراد من الابل ھھنا القطیعۃ العظیمۃ من السحاب والابل اسم جمع لا واحد لہ من لفظہ وانما واحدہ البعیر والناقۃ والجمل والسطح بسط الشیء قراء الجمہور مبنیاً للمفعول مخففًاوقرء الحسن مشددو قرء علی بن ابی طالب وغیرہ فی المواضع کلھا مبنیا للفاعل وضم التاء فیھا علی انھا صیغۃ الواحد المتکلم۔ تفسیر ¦ دوزخ کے عذاب اور جنت کے نعماء سن کر قریش مکہ تعجب کرتے تھے۔ خصوصاً جنت کی نعمتوں پر کہ اس قدر عیش و آرام کے سامان کہ جو دنیا میں بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں اس افراط سے کیونکر پیدا ہوجاویں گے اور دنیا میں تو ایسی چیزیں کیا بلکہ روزمرہ کھانے پینے کی چیزیں بھی بمشکل میسر آتی ہیں اور عرب پر کیا موقوف ہے ہر طبقہ کے انسان کا (بشرطیکہ نور باطن سے اس کی عقل بہرہ یاب نہ ہو) اس بذل وجود اور ان چیزوں کے وجود پر تعجب کرنا بعید نہیں۔ اس لیے اس تعجب کے دور کرنے کو دنیا کی چیزوں میں جو غریب و امیر کو میسر ہیں اور کیسی عظیم الشان ہیں ٗ نذر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ فقال۔ افلاینظرون الی الابل کیف خلقت کہ پھر وہ کیوں اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کئے گئے یا میں نے ان کو کیسا پیدا کیا ؟ اونٹ کے فوائد ¦ یہ اول نمونہ اس کی قدرت کاملہ اور بذل وجود کا ہے جو عرب کے ہر وقت سامنے رہتا ہے اور جس پر ان کی معاش کا دار و مدار ہے۔ اونٹ کی اول تو خلقت ہی عجیب و غریب ہے۔ اس قدر اونچا اور جب بٹھاؤ بیٹھ جاوے اور جانوروں پر کھڑا کرکے سوار ہوتے اور بوجھ لادتے ہیں مگر اس کو بٹھا کر اور پھر اپنا پورا بوجھ لے کر گردن کی لچک اور اس کے زور سے کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی جانور میں خوبی نہیں۔ پھر جس قدر اطاعت کا اس میں مادہ ہے کسی میں نہیں۔ سینکڑوں کی قطار کو ایک لڑکا مہار تھام کے جدھر چاہے لے جائے پھر بارکش ایسا کہ تمام گھر بار اس پر لاد لو گویا خشکی میں رواں کشتی ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ غلہ یا اور اشیا لے جانے میں چھکڑا یا ریل گاڑی ہے۔ پھر جلد چلنے اور اس پر آرام کے سامان کے ساتھ لے جانے میں ڈاک گاڑی ہے کہ جس کے لیے نہ سڑک کی ضرورت ہے نہ رستہ کا ہموار ہونا۔ سانڈنی (جو سواری کا اونٹ ہوتا ہے) دن میں سو کوس تک جاسکتی ہے۔ اس پر جفاکش اتنا کہ کیسی ہی دھوپ اور گرمی ہو کچھ بھی پروا نہیں کرتا۔ پھر کم خوراک اتنا کہ تھوڑے سے چارہ میں گزر کرلیتا ہے جو بلند درختوں کے پتے اور کڑوے کسیلے اور کسی کے کھانے کے نہیں ہوتے۔ یہ کھا لیتا ہے۔ کچھ ہری بھری گھانس اور دانہ اور مالیدہ کی حاجت نہیں اس پر کئی کئی روز تک پانی نہ ملے تو کچھ بھی پروا نہیں۔ سواری کا یہ آرام اسی کے دودھ میں یہ برکت کہ ایک گھر کو کافی ہے اور پھر استسقاء وغیرہ امراض کے لیے دوا بھی ہے۔ اس کی پشم بھی کام آتی ہے۔ کیسے کیسے نفیس کپڑے بنے جاتے ہیں ٗ خصوصاً عرب کے لباس کمل اور جبے جو برسوں میلے نہیں ہوتے اور مدتوں چلتے ہیں اور خوبصورت بھی ہوتے ہیں۔ اسی کی پشم سے بنتے ہیں۔ اس پر اس کا گوشت بھی حلال ٗ گھر بھر کیا محلے کو کافی ہوسکتا ہے۔ اس پر اس کی نسل میں برکت سستا مل سکتا ہے اور عرب میں ہر جگہ مل سکتا ہے اور خشک ‘ گرم اور ریگستانی ملکوں کی معاش تو اسی پر موقوف ہے۔ یہ باتیں کسی جانور میں نہیں۔ ہاتھی قد و قامت میں اتنا بڑا جانور ہے۔ نہ اس میں یہ فوائد ہیں نہ وہ ہر ایک کو مل سکتا ہے۔ نہ تھوڑے سے پتوں پر گزر کرسکتا ہے۔ پھر اس کی قدرت کاملہ کو دیکھو اور اس پر اس کے اس احسان کو عام کرو۔ پھر اگر اس عالم میں وہ بندوں کے آرام کے لیے ایسے ایسے سامان پیدا کرکے یہ احسان کرے تو کیا تعجب کی بات ہے۔ وہاں کے بہت بلند تخت اونٹوں کی طرح اونچے اونچے ہوجاویں تو کیا بڑی ہے۔ دوسرا نمونہ : والی السماء کیف رفعت اور آسمان کی طرف کیوں نہیں دیکھتے کہ اس کو کیسا بلند کیا گیا (یا ہم نے اس کو کیسا بلند کردیا) یہ دوسرا نمونہ ہے جس سے ہر ملک اور ہر قوم سمجھ سکتی ہے کہ اول تو اس قدر بلندی کہ جہاں طائرِ وہم بھی اڑ کر نہیں جاسکتا کیسی قدرت کاملہ ہے پھر اس کی وسعت کہ جس کے سایہ میں ہر نیک وبد بادشاہ و امیر ہے۔ کیسی قدرت و انعام عام کی دلیل ہے۔ پھر اس کے ستارے بھی قدرت کا نمونہ ہیں۔ آفتاب کو دیکھو کہ کتنا بڑا جسم ہے کہ جو زمین سے لاکھوں حصے زیادہ ہے کس نے بنا دیا اور اس میں یہ نور اور نور میں یہ گرمی کس نے دی ؟ جس سے تمام دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اگر آفتاب نہ ہو تو زندگی وبال ہوجاوے پھر یہ کیسا انعام عام ہے اس دنیا کے ظلمت کدہ کا چراغ ہے تو آفتاب ہے اگر یہ نہ ہو تو جنگلوں اور دریائوں اور شہروں اور گائوں کو کونسی شمع روشن کرسکتی ہے اور کس تنور کی گرمی پھل پھول اور پیداوار کو پکا سکتی اور اگا سکتی ہے۔ سرد موسم میں آفتاب کے سب مشتاق رہا کرتے ہیں ٗ غریبوں کی انگیٹھی ہے تو آفتاب ہے۔ پھر چاند کے فوائد اور اس کی جسامت اور اس کی روشنی میں غور کیا جاوے تو عقل سلیم کبھی انکار نہ کرے کہ وہ قادر مطلق جواد کریم اس جہان میں نیک بندوں کے لیے جیسے چاہے سامان پیدا کرسکتا ہے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض ستارے لاکھوں کوس دور ہونے کے سبب نظر بھی نہیں آتے۔ حالانکہ وہ زمین سے بہت بڑے ہیں۔ پھر جب زمین میں یہ کچھ سامان ہیں باغ و بہار بھی ہے جو جنت کا نمونہ ہے اور گرمی وسوزش اور تکالیف کے سامان بھی ہیں ٗ سانپ بچھو بھی ہیں جو جہنم کا نمونہ ہے تو ان اجسام میں کیا کچھ نہ ہوگا پھر وہ ایک نہیں لاکھوں ہیں پھر اس پر اس کی قدرت و عظمت و انعام و اکرام کو خیال کرلو جو تمہارے تنگ فہم میں بخوبی آسکے۔ تیسرا نمونہ ¦ لو اب نیچے اتر آؤ اور اپنی زمین اور اس کے عجائبات کو ہی غور کرو۔ والی الجبال کیف نصبت اور پہاڑوں کو دیکھو کہ کیسے کھڑے کردیے گئے اور کس طرح گاڑ دیے گئے ہیں (یا ہم نے ان کو کیسا کھڑا کردیا ہے) یہ تیسرا نمونہ ہے۔ پہاڑ بھی اس کی قدرت اور بذل و احسان کا کامل نمونہ ہیں۔ اول تو باوجود یکہ وہ بھی زمین ہی کا ایک جز ہیں۔ پھر زمین سے کس طرح ممتاز ہیں اول تو ان کی بلندی قابل حیرت ہے اور بلندی کے ساتھ عرض و طول بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ حکماء و عقلا نے عقل کے بڑے گھوڑے دوڑائے ہیں مگر اب تک کوئی تسکین بخش وجہ پیدا نہیں کرسکے کہ زمین کے اس ٹکڑے کو یہ بلندی اور پھر یہ سختی اور پھر یہ رنگتیں کیونکر پیدا ہوگئیں۔ اس قدر کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ بدئِ خلقت میں جب قدرت نے زمین بنائی تو اوپر سے پانی برسنے شروع ہوئے۔ ادھر ادھر کی زمین گھیر کر بہہ گئی تو ٹیڑھے ترچھے۔ یہ ٹیلے ویسے ہی بلند رہ گئے اور پھر آفتاب کی حرارت سے ان ٹیلوں میں حجریت آگئی یعنی مٹی کا پتھر بن گیا اور جیسی زمین تھی اس رنگ کے سرخ ‘ سپید ‘ سیاہ پتھر بنے اور بارشوں اور چشموں کے پھوٹ پڑنے سے پہاڑوں میں گھاٹیاں ہوگئیں۔ بعض کہتے ہیں یوں نہیں پہلے تمام دنیا پر پانی سمندر کا محیط تھا۔ یہ ٹکڑے جو اوپر ابھر آئے پانی کی موجوں نے ان میں نشان کردیے اور پھر پانی درجہ بدرجہ اترتا گیا اور بہت سی زمین اور ملک کھلتے گئے مگر یہ ٹکڑے سخت ہوگئے۔ بظاہر باتیں تو ٹھیک ہیں تک تو ملا دی مگر اس پر سینکڑوں شبہات پیدا ہوسکتے ہیں۔ آخرکار یہی کہنا پڑتا ہے کہ اس قادر مطلق نے ایسا ایسا کردیا اور چلو اسباب بھی تلاش کرو مگر پھر ان اسباب میں گفتگو ہوگی کہ وہ کیونکر پیدا ہوئے ؟ پھر آخرکار تو اس قادر مطلق کی ید قدرت تک سلسلہ تمام ہوگا۔ پہاڑوں کے فوائد ¦ اب پہاڑوں کے منافع میں غور کیجئے تو عقل حیران رہ جائے۔ انہیں پہاڑوں میں سے یہ خوش گوار پانی کے دریا نکلے۔ گنگا ‘ جمنا ‘ نیل ‘ فرات ‘ جیحوں ‘ دجلہ وغیرہ اور پھر ان سے ملک شاداب ہوئے اور کیا کیا نعمتیں پیدا ہوئیں اور بھی سینکڑوں فوائد ہیں جن کے ذکر کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ چوتھا نمونہ ¦ والی الارض کیف سطحت اور زمین کو دیکھو کہ کیسی بچھائی گئی (یا ہم نے کس نے طرح بچھا دیا) یہ قدرت کا چوتھا نمونہ ہے۔ اگر غور کیا جاوے کہ زمین ایک کروی الشکل یعنی گول ہے تو گول چیز پر کوئی رہ نہیں سکتا ہے نہ کھیتی باڑی کرسکتا ہے مگر اس قادر مطلق اور حکیم متقن نے باوجود اس کروی ہونے کے اس کو ایسا بچھایا کہ سینکڑوں کیا ہزاروں کوس تک ہموار جنگل اور میدان اور پہاڑ اور دریا رواں ہیں۔ لوگ کس کشادگی سے بس رہے ہیں۔ سینکڑوں کوسوں تک سڑکیں ہیں اور بیشمار باغ اور کھیت ہیں اور کیا کیا نفیس وسیع شہر آباد ہیں اور کیسی کیسی بلند شان عمارات ہیں کہ جن میں اس کی کرویت سے کوئی بھی حرج واقع نہیں ہوتا اور یہاں تک وسعت دی ہے کہ بڑے بڑے ملکوں پر بادشاہ حکمرانی کر رہے ہیں یہاں تک کہ عقول عامہ کے نزدیک زمین گول ہی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک ہموار فرش بچھا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین کے رہنے والوں کو زندگی وبال اور محال ہوجاتی۔ یہ کیسا انعام ہے جس سے ہر امیر فقیر برابر نفع اٹھا رہا ہے اور یہ اس کی کیسی قدرت اور کاری گری ہے کہ اس قدر اس کے محدب کو وسعت عطا کی کہ کرویت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ پھر کیا وہ قادر و حکیم اور منعم اس عالم میں نیک بندوں کے لیے یہ نعمتیں نہیں پیدا کرسکتا ٗ ضرور پیدا کرسکتا ہے اور لطف یہ کہ ان چاروں نمونوں میں بہشت کی شان بھی نمایاں ہے اور دوزخ کی بھی۔ اونٹ کے منافع پر غور کیجئے تو شان بہشت نمایاں ہے۔ جدھر چاہولے چلو ‘ بٹھالو ‘ کھڑا کرکے بوجھ لاد لو اور جو خود اونٹ کی مشقت اور بارکشی کو دیکھئے تو جہنم کی تکالیف کا نمونہ ہے۔ آخر وہ بھی تو ہماری طرح خدا کا بنایا ہوا ہے۔ پھر بیچارہ کس مشقت میں ہے اور سرسبز پہاڑوں میں جنت کی شان نمایاں ہے۔ خشک اور گرم پہاڑوں میں خصوصاً ان میں کہ جہاں آتش فشانی ہوتی ہے یا آتشیں مادہ نکل کر بہتا ہے۔ جہنم کا غصہ اور اس کی چنگاریاں نظر آجاتی ہیں۔ آسمان کی فضا اور چاند و سورج کی پربہار روشنی اور اچھی موس میں جنت کا نمونہ ہیں۔ پھر اندھیری راتیں اور گرم لو کے دن جہنم کا نمونہ ہیں۔ زمین کے شاداب ٹکڑے اور باغات جنت کا نمونہ ہیں اور خشک و گرم اور بدبودار اور عمیق گڑھے جہنم کا نمونہ ہیں مگر یہ چیزیں روزمرہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ہر روز دیکھتے دیکھتے ایک معمولی بات ہوگئی مگر روشن دل ان میں پورے نمونوں کا ملاحظہ کیا کرتا ہے اور یہی آثار قدرت ہیں جو بندوں کو خدائے پاک دکھاتا ہے۔ اس لیے جنت کے بیان میں شہوت انگیز مضامین بیان نہیں ہوئے بلکہ ان کو سن کر عالم آخرت کی طرف رغبت ہوتی ہے اور دنیا سے نفرت اس لیے فرمایا :
Ayahs 88:21–26

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

سو (اے رسول ! ) آپ سمجھاتے رہیں آپ کا کام تو سمجھانے کا ہے۔

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تم ان پر کو توال تو نہیں ہو

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

لیکن جس نے منہ موڑ لیا اور منکر ہوگیا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

سو اس کو اللہ ہی بڑی سزا دے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ان کو ہمارے پاس پھر کر آنا ہے۔

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے۔

ترکیب ¦ فذکر الفاء لترتیب مابعدھا علی قبلھا مصیطر بالصادو السین قال فی الصحاح ھوالمسلط علی الشیء لیشرف علیہ ویتعھدا حوالہ الا استثناء متصل من اعم المفاعیل وقیل منقطع والعذاب الاکبر العذاب الشدید الدائم وھو عذاب جھنم وانما قال الاکبر لانھم عذبوافی الدنیا بالعذاب الاصغر وھوالجوع والقتل والا سرقرء قتادہ وابن عباس الا التی للتنبیہ ایابھم اسم ان الینا خبرھا وقس علیہ حسابھم و جمیع الضمیر فی ایابھم وحسابھم باعتبار معنی من کما افراد الضمیر فی یعذبہ باعتبار لفظھا۔ تفسیر ¦ جب عالم آخرت کی طرف رغبت کرنے کے اسباب بیان ہوچکے اور اس چند روزہ زندگی کا انجام کار لوگ سن چکے اور نیک و بد کاموں کا انجام بھی معلوم کرچکے تو آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ فذکر کہ آپ نصیحت کیجئے۔ وعظ وپند سے سمجھایئے۔ کس لیے کہ انما انت مذکر آپ کا کام ہے سمجھانا اس لیے آپ اس پر آشوب زمانہ میں مبعوث کئے گئے ہیں کہ لوگوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ پھر جو کوئی ہٹ دھرم اور شقی ازلی نہ مانے تو اپنا سر کھائے کس لیے کہ لست علیہم بمصیطر آپ ان پر کو توال یا داروغہ نہیں کہ زبردستی ان کو ایمان پر لائیں اور جو نہ مانے تو اس کا ذمہ آپ پر ہو۔ فائدہ : بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت اور اس قسم کی دیگر آیات منسوخ ہیں۔ آیت واقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے یعنی یہ حکم جب تھا کہ کفار کا غلبہ تھا اور اسلام غالب ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لاویں تو ان کو قتل کیا جاوے مگر یہ کہنا صحیح نہیں کس لیے کہ اب بھی جو نہ مانے تو زبردستی مسلمان بنانے کا حکم نہیں۔ ہاں یہ بات ہے کہ وہ لوگ عرب سے نکال دیے جاویں اور دیگر ممالک میں اگر رہنا چاہیں تو شاہ اسلام کی اطاعت میں ذمی 1 ؎ بن کر رہیں۔ کچھ جبر نہیں کہ ان کو مسلمان بنایا جاوے اور قتل کا حکم بوقت مقابلہ ہے۔ الامن تولیٰ وکفر بعض مفسرین نے اس کو مفعول عام سے مستثنیٰ کیا ہے کہ فذکر کلواحد الا من تولیٰ وکفر کہ سب کو نصیحت کر مگر اس کے لیے کچھ ضرور نہیں جو منہ موڑ جاوے۔ اور منکر ہوجاوے کس لیے کہ اس ہٹ دھرم کو نصیحت کچھ فائدہ نہیں دیتی جیسا کہ پہلے فرمایا تھا ان نفعت الذکری ابن عباس و قتادہ الا کو الاتنبیہ کا کلمہ قرار دیتے ہیں۔ تب یہ معنی ہوں گے کہ خبردار جو منہ موڑے اور انکار کرے گا اس کو خدا سخت سزا دے گا۔ بعض نے اس کو علیہم کی ضمیر سے استثناء کیا ہے کہ آپ ان پر داروغہ نہیں لیکن جو نہ مانے گا وہ سخت سزا پاوے گا۔ ان الینا ایابہم آخر ان سب کو مر کر ہمارے پاس آنا ہے۔ ثم ان علینا حسابہم پھر ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے ٗ ہم ضرور باز پرس کریں گے اور منہ موڑنے اور انکار کرنے والے کو سخت سزا دیں گے۔ وہ کیا ہے ؟ جہنم کا ابدی عذاب اور اس کے مقابلہ میں سب سزائیں کم ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ 1 ؎ ذمی اس شخص کو کہتے ہیں جو مسلمان نہ ہو اور شاہ اسلام کی رعیت ہو کر رہے۔ اس کی حفاظت کا شاہ اسلام پر اور اس کو شاہ اسلام کی اطاعت کا ذمہ ہے۔ اس لیے ذمی کہتے ہیں۔ اس سے ایک خاص ٹیکس حفاظتی لیا جاتا ہے جس کو جزیہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ فوجی خدمت سے معاف کیا جاتا ہے۔ 12 منہ