Ayahs 89:1–5ترکیب ¦ والفجر الواواو للقسم والباقی معطوف علی الفجر و جواب القسم محذوف ای لتبعثن اونحوہ وقیل جو ابہ ان ربک لبا لمرصاد۔ و الشفع والوتر بفتح الواو وکسرھاھما لغتاں ومعناھما الزوج والفرد اذا یسر اذا ظرف والعامل فیہ محذوف ای اقسم بہ یسرقرء الجمہوری بحذف الیاء وصلاً ووقفًا اتباعًا لرسم المصحف وقرء نافع و ابو عمر وبحذفھا فی الوقف واثبا تھا فی الوصل وقرء ابن کثیر ویعقوب وابن محیص باثبا تھا فیھما قال الخلیل تسقط الیاء منھا موافقۃً لرئوس الآی وھو ماخوذ من السری وھو السیر لیلاً یقال سریت اللیل وسریت بہ واسناد السری الی اللیل قیل حقیقی ان معناہ جاء او ادبر وقیل مجازی ھل فی ذلک القسم قسم لذی حجر ای عقل و لب واصل الحجر المنع یقال لمن ملک نفسہ منعھا انہ لذوحجرو منہ سمی الحجر لامتناعہ بصلابتہ ومنہ حجر الحاکم علیٰ فلان ای منعہ والجملۃ استفہامیۃ لتقریر تعظیم ما اقسم اللہ تعالیٰ بہ وذلک اشارۃ الی تلک الامور المذکورۃ بتاویل المذکور ای ھل فی تلک الامور المذکورۃ التی اقسمت بھا قسم حقیق بان یتیقن بہ ذو عقل سلیم و فھم مستقیم۔
تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ جمہور کا اس پر اتفاق ہے۔ ابن عباس و عائشہ وابن الزبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں تیس آیات ہیں۔ لفظ فجر اس کے شروع میں ہے۔ اس لیے اس کو سورة ٔ فجر کہنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے جب معاذ کو لمبی قرأت پر تنبیہ فرمائی تھی تو منجملہ اور سورتوں کے اس سورة کے پڑھنے کا بھی حکم دیا تھا (رواہ النسائی)
واضح ہو کہ اس سورة میں بھی خدا تعالیٰ جزاء و سزا کا پانا اور ایک ایسے دن کا آنا کہ جس میں انسان نے جو کچھ اس ظلمت کدہ میں کیا تھا اس کا مشاہد کرنا بدلائل ثابت فرماتا ہے اور یہی وجہ اس سورة کی پہلی سورة سے مناسبت کی ہے مگر ہر سورة میں ایک نیا دلکش اور پراثر انداز ہے جو انسان کو شقاوت کے گڑھے سے نکال کر سعادت کی بلندی کی طرف لاتا ہے اور بعثت انبیاء (علیہم السلام) سے یہی مقصود اصلی بھی ہے۔ اس لیے اس سورة مبارکہ کی ابتداء ایسی چند چیزوں کی قسم سے کی کہ ان میں سے ہر ایک میں غور کرنا اس مقصود کو ثابت کرتا ہے اور لطف یہ کہ شبہات کو بھی زائل کردیتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے والفجر ولیال عشر والشفع والو تروالیل اذا یسر۔ یہ کل پانچ چیزیں ہوئیں کہ جن کی قسم کھائی گئی۔ اول فجر۔ اگر فجر کے معنی صبح کے لیے جاویں جیسا کہ جمہور کا قول ہے تو یہ بھی قیامت کے برپا ہونے کا پورا نمونہ ہے۔ رات کو ایک سناٹا ہوتا ہے۔ پرند چرند انسان حیوان پر نیند و آرام طاری ہوتا ہے جو ایک حالت موت سے پوری مشابہ ہے۔ نہ وہ شور و غل ہے نہ ہائے ہو۔ نہ وہ آفتاب کی مشعل کی روشنی ہے۔ پھر صبح نمودار ہوتے ہی ہر ایک بیدار ہوتا ہے۔ پرند چہکنے لگے۔ مسافروں نے چلنے کی تیاری کی۔ کاروباری اپنے کاروبار کی طرف ‘ درباری اپنے دربار کی طرف دوڑنے لگے۔ الغرض ایک شور برپا ہوگیا۔ یہ قیامت کا پورا نمونہ ہے کہ مرنے کے بعد خصوصاً جبکہ فنا کے صور سے ہر چیز نیست ہوجاوے گی اور عدم کی رات طاری ہوجاوے گی تو پھر صبح قیامت نمودار ہو کر لوگوں کو بیدار کر دے گی۔ بادہ غفلت کے مست کہیں گے من بعثنا من مرقدنا کہ ہم کو نیند سے کس نے جگا دیا ؟
اس تقدیر پر فجر سے مراد کسی دن معین کی فجر نہیں بلکہ عام ہے جیسا کہ اور جگہ بھی آیا ہے والصبح اذا تنفس ‘ والصبح اذا اسفر اور یہی حضرت علی و ابن عباس وابن الزبیر ؓ کا قول ہے اور جو اس سے کسی خاص دن کی فجر مراد لی جاوے تو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اور علماء فرماتے ہیں چناچہ (1) قتادہ کہتے ہیں کہ محرم کی پہلی تاریخ کی فجر مراد ہے۔ کس لیے کہ عرب کے نزدیک شروع سال محرم سے ہوتا ہے تب ان کے نزدیک اس فجر میں یہ خصوصیت ہوگی کہ گویا یہ تمام سال کا دیباچہ ہے اور برس بھر کے روزوں کا پیش خیمہ ہے جو ہر روز کے لحاظ سے پورا پورا قیامت کا نمونہ ہے اور سال بھر میں جو کچھ نیک و بد کام ہوتے ہیں ان کا دروازہ ہے اور مجاہد کہتے ہیں کہ یوم النحر 1 ؎ کی صبح مراد ہے کیونکہ یہ دن مناسک ملۃ ابراہیم کے ادا کرنے کا ہے جو تمام خدا پرستوں کے لیے ملت ابراہیمیہ کا شعار ہے۔
اور اس دن دنیا بھر کے خدا پرستوں کا ایک متبرک مقام پر مجمع ہوتا ہے جو ہر ایک اپنے خدائے پاک پر جان فدا کرنے کو تیار ہے اور جان کے بدلہ اپنی خاص رحمت سے جانوروں کی قربانی کی اجازت دے دی ہے۔ یہ دن بڑا متبرک دن ہے اور اجتماع کے لحاظ سے حشر کا بھی نمونہ ہے۔ پھر اس کی صبح تو کیا ہی مبارک صبح ہے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ ماہ ذی الحجہ کے پہلے روز کی صبح مراد ہے۔ کس لیے کہ مناسکِ حج جو حشر کا نمونہ ہیں اس سے شروع ہوتے ہیں اور اسی لیے اس کے بعد لیال عشر کی قسم کھائی ہے جو اسی مہینے کی دس رات ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرفہ کی فجر مراد ہے کس لیے کہ آج تو تمام حجاج کا مجمع ہوتا ہے۔ اعظم ارکانِ حج کے لیے۔
اب اگر فجر کے اور معنی لیے جاویں جیسا کہ دیگر علماء نے لیے ہیں تب بھی ہر ایک معنی کے لحاظ سے یہ حشر و نشر اور اس دن میں اس کے جلال و جمال کے اظہار کا پورا نمونہ ہے چناچہ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مراد لغوی معنی کے لحاظ سے پھٹنا اور بہنا ہے جس سے چشموں کا بہنا اور پھوٹنا مراد ہے اور ان پر دنیا کی معاش کا دار و مدار ہے اور یہ اس کے جمال یعنی اس روز کی خاص رحمت کا جو نیکوں کے لیے رکھی گئی ہے ٗ پھوٹ پڑنے اور چشموں کی طرح بہنے کا پورا نمونہ ہے۔
بعض صوفیہ کرام فجر سے مبدئِ طلوع نور حق مراد لیتے ہیں جس کا اول مرتبہ تو روح کا بدن پر ظہور ہے جس کو انسان کی آفرنیش یا تولد سے تعبیر کرنا چاہیے اور پھر ترقی کرتے کرتے اس کے تجلیات تک نوبت پہنچتی ہے۔ یہ دوسرا مرتبہ ہے مگر اب تک آفتاب ذات حق اس پر طلوع نہیں ہوا۔ اب تیسرے مرتبہ میں جب آفتاب ذات حق جلوہ گر ہوتا ہے تو روز روشن ہوجاتا ہے۔ پھر کوئی بھی چیز مخفی نہیں رہتی۔ یہ مرتبہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اور ان کے بعض مخصوص لوگوں کو حیات ہی میں حاصل ہوجاتا ہے مگر اور لوگوں کو مرنے کے بعد حشر کے دن حاصل ہوگا اور اس میں آنحضرت ﷺ کے نور نبوت کی ابتداء کی طرف بھی اشارہ ہے کس لیے کہ جب یہ سورة نازل ہوئی ہے تو اس وقت نبوت کی فجر تھی مکہ ہی میں اسلام تھا پھر آفتاب جلوہ گر ہوا اور دنیا کو منور کرتا گیا۔ اس لیے اس سہانی حالت کی قسم کھاتا ہے۔
لیال عشر کی تحقیق ¦ دوسری چیز جس کی قسم کھائی ولیال عشر ہے جس کے معنی ہیں دس رات کے یہ وہ دس رات کہ جن کی خدا تعالیٰ قسم کھاتا ہے۔ بڑی متبرک راتیں ہیں جن میں بندہ کے لیے عالم بالا سے ایک خصوصیت خاصہ ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک ان دس راتوں سے ماہ ذی الحجہ کی دس راتیں مراد ہیں کہ جن میں دور دراز کے خدا پرست ایک متبرک مقام پر جمع ہو کر عبادت و دعا میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ ایام حج کی راتیں ہیں ٗ ان میں بھی مجمع حشر کا نمونہ ہے۔ دوسرا قول بعض مفسرین کا یہ ہے کہ اخیر رمضان کی دس راتیں مراد ہیں جن میں لیلۃ القدر بھی واقع ہوتی ہے اور اسی لیے آنحضرت ﷺ ان راتوں میں نہایت شب بیداری کرتے تھے اور گھر والوں کو بھی شریک کرتے تھے اور مسجد میں معتکف ہو کر بیٹھتے تھے۔ دنیاوی کاروبار چھوڑ دیتے تھے جیسا کہ بیع و شراوغیرہ اگرچہ آپ کے دنیاوی کام بھی بغرض تحفظ دین ہی ہوا کرتے تھے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ماہ محرم کی اول دس راتیں مراد ہیں کس لیے کہ دسویں تاریخ کے روزہ کے فضائل احادیث میں بکثرت وارد ہیں اور اسی لیے رفع درجات کے لیے حضرت امام حسین ؓ کی مصیبت اور شہادت بھی انہیں ایام میں واقع ہوئی ہے۔
1 ؎ نحر قربانی یوم النحر قربانی کا دن ذی الحجہ مہینہ کی دسویں تاریخ۔ 12 منہ
چوتھا قول یہ ہے کہ تمام سال میں سے یہ دس متفرق راتیں ہیں جن میں سے پانچ رات تو اخیر رمضان کی 21۔ 23۔ 25۔ 27۔ 29 جن میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے اور ایک عید الفطر کی رات اور ایک عرفہ کی رات اور ایک یوم الخر کی رات اور ایک لیلۃ المعراج یعنی ستائیسویں رجب کی رات اور ایک شب برات۔ چونکہ یہ راتیں فی الجملہ مبہم ہیں جیسا کہ چار قولوں میں مختلف اقوال گزرے اور نیز ان کی تعظیم بھی مقصود تھی اس لیے نکرہ لائی گئیں تاکہ ہر احتمال کو گنجائش ہو سکے۔ بعض صوفیہ کرام دس راتوں سے حواس عشرہ پانچ باطنہ اور پانچ ظاہرہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان کو رات سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ انوارِ حق و مجردات کے ادراک اور ان سے مشغول ہونے کے وقت یہ متکدر اور بیکار ہوجاتے ہیں اور شب کی طرح ان پر ظلمت طاری ہوجاتی ہے کیونکہ جب نور الٰہی کی تجلی ہوتی ہے تو یہ جسمانی آلات معطل ہوجاتے ہیں مگر بندہ کے کسب کمالات کے لیے عمدہ اوزار ہیں اس لیے ان کی قسم کھائی گئی اور یہ تعطل ایک جسمانی عالم کا بطلان ہے جو قیامت اور صور فنا کو یاد دلا رہا ہے۔
شفع و وتر کے معنی ¦ تیسری اور چوتھی چیز جس کی قسم کھائی والشفع والوتر ہے کہ قسم ہے شفع اور وتر کی۔ شفع زوج جس کو جفت کہتے ہیں وتر طاق یا فرد ان سے کیا مراد ہے ؟ اس میں علماء کے بہت اقوال ہیں مگر وہ سب دو قولوں سے باہر نہیں۔ کس لیے کہ یا تو ان سے نفس عدد مراد ہوگا یا معدود اول قول جو حسن کا قول ہے۔ یہ ہے کہ نفس عدد جفت و طاق کی قسم کھاتا ہے جس کی حساب کے لیے اور گنتی کے لیے لوگوں کو بس ضرورت ہے اور دنیا کی عمر یا خود انسان وحیوان کی عمر ضرور کسی نہ کسی عدد پر منتہی ہوتی ہے۔
دس بیس پچاس سو ہزار لاکھ یا کچھ ہو آخر کوئی نہ کوئی عدد ہوگا طاق ہو یا جفت اس میں دنیا و اہل دنیا کے حادث اور فانی ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ ان کی ابتداء یہی ہے پھر انتہاء بھی یہی ایک بات اگر عاقل غور کرے تو جلد قائل ہوجاوے کہ آخر ایک روز یہاں سے جانا ہے اور جا کر کئے کا بدلہ پانا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ معدود مراد ہیں پھر اس میں بھی کئی قول ہیں : (1) یہ کہ عام ہے سب کو شامل ہے رات دن کا جوڑا ‘ نیکی بدی کا ‘ شمس و قمر کا ‘ جن و انس کا ‘ کفر و ایمان کا ‘ سعادت و شقاوت کا ‘ مرد و عورت کا ‘ ذل و عزت کا ‘ دولت و فقر کا ‘ آسمان و زمین کا ‘ بحر و بر کا ‘ تندرستی بیماری کا ‘ موت وحیات کا ‘ جیسا کہ فرماتا ہے ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون یہ مخلوق تو سب شفع ہے اور وتر یعنی فرد ہے وہ سبحانہ ان کا خالق ہے جس کا کوئی جوڑا نہیں۔ یہ سفیان بن عیینہ و مجاہد و محمد بن سیرین و قتادہ وغیرہ کا قول ہے۔ (2) یہ کہ مخلوق میں سے شفع اور وتر مراد ہے شفع یوم النحر ہے اور وتر یوم عرفہ پہلے دن میں قربانی ہوتی ہے اور دوسرے پر بہت سے احکام حج کا مدار ہے۔ (3) ربیع بن انس و ابو العالیہ کہتے ہیں صرف نماز مغرب مراد ہے۔ اس کی پہلی دو رکعت شفع ہیں اور تیسری رکعت وتر ہے۔ (4) ضحاک و عطا کہتے ہیں شفع دس روز ذی الحجہ کے اور وتر اس کے بعد کے تین روز ہیں۔ (5) بعض کہتے ہیں آدم و حوا مراد ہیں کس لیے کہ آدم اکیلے تھے۔ پھر حوا کے ملنے سے جوڑا ہوگیا۔ (6) مقاتل کہتے ہیں شفع کل ایام ہیں رات دن کے لحاظ سے اور وتر وہ اخیر دن ہے یعنی قیامت کا۔ (7) حسین بن فضل کہتے ہیں شفع جنت کے درجات ہیں کیونکہ وہ آٹھ ہیں اور وتر جہنم کے طبقات ہیں کیونکہ وہ سات ہیں۔ (8) شفع صفات خلق ہیں علم ہے تو جہل بھی ہے قدرت ہے تو عجز نہیں۔ (9) شفع انسان کے بعض اعضاء دو کان دو ہاتھ دو پائوں اور وتر وہ جو ایک ہیں ناک ‘ سر قلب۔ (10) شفع سجدہ اور وتر رکوع ہے۔
اور بھی اقوال ہیں الفاظ قرآنیہ میں بڑی وسعت ہے سب کو حاوی ہے مگر ان میں ٹھیک وہی ہے جن کی طرف احادیث صحیحہ میں اشارہ ہو۔ ترمذی و امام احمد وغیرہما نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے شفع اور وتر کے معنی پوچھے۔ آپ نے فرمایا کہ نماز مراد ہے۔ بعض جفت ہیں دو دو یا چار چار رکعت بعض طاق یعنی تین رکعت لیکن اس روایت میں ایک راوی مجہول ہے اور اسی لیے ترمذی نے کہہ دیا کہ یہ روایت غریب ہے اور امام احمد و نسائی و حاکم نے روایت کی ہے کہ لیال عشر عید الضحیٰ کی دس راتیں اور وتر عرفہ کا دن اور شفع نحر کا دن ہے مگر محققین محدثین کے نزدیک ان روایات میں کلام ہے۔
لیل ¦ پانچویں چیز کہ جس کی قسم کھائی وہ رات ہے۔ فرماتا ہے والیل اذا یسر کہ قسم ہے رات کی جبکہ ڈھلے یسرٰی تھا ی فواصلِ آیات کے لحاظ سے محذوف ہوگئی اور کلام عرب میں ایسا بہت ہے۔ اس کے معنی ہیں جبکہ جاوے یعنی ڈھلے جیسا کہ ایک جگہ فرمایا ہے والیل اذا ادبر والیل اذا عسعس مگر قتادہ و ابو العالیہ کہتے ہیں اس کے معنی ہیں جبکہ آوے اس میں کسی رات کی تخصیص نہیں ہر رات میں جبکہ ڈھلتی ہے رحمت الٰہی کا ظہور اور اس کی تجلی ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے 1 ؎ اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں دوں اور کون ہے جو دعا کرے کہ میں قبول کروں اور ہے کوئی جو مجھ سے معافی مانگے میں معاف کر دوں اور بھی پچھلی رات کے برکات و فضائل آئے ہیں اور اسی لیے حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام و صالحین کا ہمیشہ پچھلی رات میں جاگنے اور عبادت و دعا کرنے کا دستور رہا ہے اور احادیث میں تاکید ہے۔
اور روز جزا پر شبہات ہوتے ہیں۔ ان کا بھی ان پانچ چیزوں کی قسم کھانے میں جواب ہے۔ شبہ : منکرین قیامت اکثر یہ شبہ کیا کرتے ہیں کہ دنیا میں نیکی و بدی کی جزاء و سزا دینے سے کون مانع ہے اگر خدا تعالیٰ ہے اور وہ بندوں کے نیک و بداعمال پر بھی نظر رکھتا ہے اور وہ جزاء و سزا پر قادر ہے تو پھر اسی جہاں میں کیوں بدلہ نہیں دیتا تاکہ جلدی قصہ طے ہوجاوے۔
جواب ¦ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی حکمت کاملہ کا مقتضٰی یہ ہے کہ اس بدلہ دینے میں قیامت کا انتظار کیا جاوے۔ کس لیے کہ انسان کی دو حالت ہیں۔ ایک اس کی یہ زندگانی دوسری موت اور بعد کا زمانہ۔ پہلی حالت سزاء و جزا کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے دوسری حالت پر موقوف رکھا ہے کیونکہ اس جہاں میں انسان کی تمام عمر دار آخرت کے لیے سامان جمع کرنے کے واسطے مقرر ہے کہ اخیر تک تحصیل کمالات کرے اور نیز ہر ایک کے ساتھ بہت سے لوگوں کے حقوق و آسائش بھی متعلق ہیں اور نیز بعض ایسے بھی لوگ ہیں کہ جن پر ظلم و ستم ہوئے ہیں اور ظالم زندہ ہے ٗ مظلوم مرگئے۔ اب اگر اس کو اسی جہان میں سزا دی جائے تو اول تو اسی کو اس کہنے کی جگہ باقی رہے کہ جلدی کیوں کی میں آیندہ توبہ و استغفار و عبادت کرنے کو تیار تھا ٗ مافات کی تلافی کا مجھے وقت باقی تھا۔ دوم اس کے سزا دینے سے اس کے متعلقین پر ایک مصیبت کا دروازہ کھلتا اس کے عیال و اطفال اور دیگر اہل حقوق اپنے حقوق سے محروم رہ جاتے۔ سوم جن مظلوموں پر ظلم ہوئے اگر ان کے بعد ظالموں کو سزا ہوتی تو انہیں کیا وہ دیکھتے تو دل ٹھنڈا بھی ہوتا یا وہ اپنے حقوق کا اس سے مطالبہ کرتے۔ چوتھے اس عالم میں جزاء و سزا ہونے پر بندوں کی وہ آزمائش جو دنیا میں آزادانہ زندگی پر منحصر ہے باقی نہ رہتی اس لیے اس کی سزاء و جزا کے لیے یہ زندگانی کافی نہیں بلکہ ایک دوسرا جہان ہے جہاں نہ یہ عذر باقی رہے گا کہ میرے لیے تلافی کا وقت باقی تھا نہ اس کی جزاء و سزا سے اس کے متعلقین کی آسائش میں کچھ فرق آئے گا نہ ان کے حقوق تلف ہوں گے اور جہاں مظلوم بھی موجود ہوگا اور ظالم بھی ہوگا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر دل ٹھنڈا کرے گا۔ پس اس جہاں کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ دنیا میں بھی بہت باتیں فوراً ہی نہیں ہوجایا کرتیں ٗ انتظار ہی کرنا پڑتا ہے۔ فجر کو دیکھو کہ اکثر لوگ اپنے کام اور ضرورتوں کے سرانجام کے لیے اس کا انتظار کیا کرتے ہیں۔ بیمار و عشاق تو رات میں تڑپ تڑپ کر صبح کی آرزو کیا کرتے ہیں۔ پرند اور چرند جب خالی پیٹ ہوجاتے ہیں تو صبح کے انتظار میں کلبلانے لگتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس۔ پھر لیال عشر دس راتوں کو دیکھو کہ ان کے انتظار میں برس گزر جاتا ہے ٗ خواہ ذی الحجہ کی دس رات ہوں یا رمضان کی یا محرم کی یا سال یا سال بھر میں سے متفرق اور عدد جفت و طاقت کو دیکھو جن کے انتظار سے چارہ نہیں۔ تمام دنیا کے کاروبار تنخواہ و طلب ‘ توالد ولین دین اسی عدد پر موقوف ہے۔ خواہ جفت ہو خواہ طاق۔ نو مہینے تک لڑکے
1 ؎ آسمان دنیا کی طرف اترتا یا نازل ہونا کنایہ ہے اس کی ایک توجہ اور التفات خاص سے جو اس کی تجلی سے عبارت ہے۔ نہ نزول و صعود جسمانی کیونکہ وہ اس سے پاک ہے۔ 12 منہ
کے پیدا ہونے کا انتظار ہوتا ہے۔ مہینہ یا سال بھر نوکر ماہوار یا سالیانہ کا انتظار کرتا ہے اور رات کو دیکھو کہ اس کا بھی انتظار ہوتا ہے۔ سینکڑوں کام رات کے آنے پر موقوف ہوتے ہیں پھر کیوں جھٹ پٹ اسی وقت نہیں کرلیتے۔ جب دنیاوی کاموں میں وقت وعدد کا انتظار ہے تو پھر اگر ایسے بھاری کام کے لیے ہو تو کیا تعجب ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے ھل فی ذالک قسم لذی حجر کہ کیا جو کچھ مذکور ہوا عقلمند کے لیے اس میں کافی قسم ہے ! ضرور ہے بلکہ بغیر قسم ہی کے عقلمند ان پانچ چیزوں میں غور و تدبیر کرکے کہہ سکتا ہے کہ بیشک قیامت آنے والی ہے اور مصلحتِ الٰہی سے اس کا ایک وقت مقرر ہے اور بندہ کے نیک و بد کام سے وہ غافل نہیں۔
Ayahs 89:6–14ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا والمراد بالواد وادی القری وھو موضع بقرب المدنیۃ من جہتہ الشام قراء الجمہور بالواد بحذف الیاء وصلا ووقفا اتباعًا لرسم المصحف وقراء ابن کثیر باثبا تھا فیھما وقری باثباتھافی الوصل دون الوقف و فرعون معطوف علی عاد ذی الاوتاد صفۃ فرعون والمراد بہ قومہ والا وتادجمع وتد بکسر التاء وفتحھا وعند اھل نجدبسکونھا والمراد بالا و تاد الجنود لان الملک یشد بھا الذین الخ الموصول صفۃ لعاد و فرعون ای طغت کل طائفۃ منھم فی ھلادہم و تمردت فصب ای القیٰ وافرغ وھذا استعارۃ عن ایقاع العذاب بھم علیٰابلغ الوجوہ ان ربک تعلیل لما قبلہ ایذانابانہ عالم باحوال القریش یوقع بھم ما او قع بمن قبلھم وقیل ھو جواب القسم۔
تفسیر ¦ اس بات کا ذکر ہوا تھا کہ جزاء و سزا کا دن قیامت ہے اور وہیں پوری سزاء و جزا ملا کرتی ہے۔ اب یہاں سے یہ ثابت کرتا ہے کہ کبھی دنیا میں بھی ہم کچھ سزا دے دیا کرتے ہیں اور نیکوں کو جزا بھی۔ اس لیے پہلی قوموں کے تین مشہور واقعات یاد دلاتا ہے کہ جن کی سرکشی پر خدا نے دنیا ہی میں ان کو سزا دی تھی۔ اول واقعہ : فقال الم ترکیف فعل ربک بعاد کہ کیا اے مخاطب ! تو نے نہیں دل کی آنکھ سے دیکھا (گو اس زمانہ کے لوگوں نے دیکھا نہیں مگر وہ مشہورواقعہ ایسا ہی یقین بخش ہے جیسا کہ آنکھ کا دیکھا ہوا کرتا ہے۔ اس لیے الم تر فرمایا (کہ تیرے رب نے عاد کی قوم سے کیا کیا۔ کون سے عاد سے آپ ہی فرماتا ہے ارم یعنی عاد ارم کی قوم سے (جن کو عاد اولیٰ بھی کہتے ہیں) ارم ان کے جد اعلیٰ کا نام تھا۔ عرب میں جد اعلیٰ کی طرف منسوب کرنا عام محاورہ ہے۔ کہتے ہیں قریش کنانہ اور وہ کیسی قوم تھی ؟ ذات العماد بڑی بلند قامت یعنی طاقت و ریا یہ معنی کہ مکانوں اور محلوں والی۔ کس لیے کہ عماد بلند مکانوں کو بھی کہا کرتے تھے یا خود ستونوں والی کیونکہ اس دولت مند قوم کی عادت تھی کہ اپنے بزرگوں کے مقابر پر بلند منارے بنوا دیا کرتے تھے۔ فخر اور یادگاری کے لیے جس کے آثار ملک مصر میں اب تک باقی ہیں۔ التی لم یخلق مثلہا فی البلاد ایسی قوم یا ایسے ستون یا ایسی عمارات کہ جن کی مثل اس عہد تک ملکوں میں پیدا نہیں کئے گئے تھے۔ یہ پہلا واقعہ ہے قوم عاد اولیٰ کا۔
1 ؎ وھذا کقولھم قریش کناۃ والیاس مضرو ربیعہ نزار۔ 12 منہ
واضح ہو کہ عاد دو فرقوں کا نام تھا ایک کو عاد اولیٰ اور عاد قدیمہ بھی کہتے تھے اور وہ اولاد عاد بن اوص بن ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) سے تھے اور انہیں کو عاد ارم کہتے ہیں۔ کس لیے کہ ارم ان کے دادا ہیں اور شہر ارم بھی عدن کے قریب نہایت عمدہ انہوں نے اپنے نام سے آباد کیا تھا جس کا مثل اس زمانہ میں دنیا بھر میں نہ تھا یا ملک عرب میں نہ تھا دوسرا فرقہ اس کو عاد اخریٰ کہتے ہیں وہ لوگ ہیں جو اس قوم کے ہلاک ہونے سے بچ رہے تھے اور یہ لوگ ملک یمن کے ضلع حضرموت میں احقاف کی زمین میں رہا کرتے تھے۔ پھر یہ بھی بڑے پھلے پھولے اور آخرکار جبار و سرکش ہوگئے۔ انہیں میں ہود (علیہ السلام) پیغمبر بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم ہوا کے طوفان سے ہلاک ہوئی تھی۔ ان کا قصہ قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے مگر عاد ارم کا صرف دو ہی جگہ آیا ہے۔ ایک انہیں آیات میں دوسرے سورة نجم میں جہاں کہ فرمایا وانہ اھلک عاد الاولیٰ ۔
اس قوم (یعنی عاد ارم کا) وہ واقعہ جو صحیح طور پر ثابت ہوا اسی قدر ہے کہ یہ ایک قوم قدیم زمانہ میں طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد ملک یمن میں آباد تھی۔ اس قوم کا یہاں تک عروج ہوا کہ تمام عرب بلکہ مصر و دیگر ممالک پر بھی ان کی سلطنت ہوگئی اور انہوں نے بڑے بڑے عجائب شہر آباد کئے اور دولت و حشمت نے ان سے قول ہار دیا تھا۔ منجملہ ان کے شہر ارم بھی اس وقت میں ایک عجائبِ زمانہ تھا۔ یہ بڑی طاقتور اور بہادر قوم تھی مگر پھر دولت و ثروت کے ساتھ بدکاری اور عیاشی اور ظلم بھی ان میں آیا اور یہ باتیں دولت و ثروت کا خمار ہیں۔ ہرچند اس عہد کے انبیاء (علیہم السلام) نے ان کو سمجھایا اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی مگر ان کے گناہوں کی کشتی جو بھر چکی تھی غرق ہونے کو تھی۔ کب مانتے تھے آخر عذاب الٰہی کا کوڑا ان پر پڑا برباد و ہلاک ہوگئے۔ سلطنتیں جاتی رہیں ٗ دولت و ثروت نے منہ پھیرلیا۔ وباء اور دیگر مصائب نے ہجوم کرلیا ٗ برباد ہوگئے۔
شہر ارم کا بیان ¦ مروی ہے کہ عاد کے دو بیٹے تھے شدید اور شداد یہ ملکوں پر قابض ہوگئے ٗ شدید مرگیا تو شداد اس کا قائم مقام ہوا۔ اس کے اقبال نے بڑی ترقی کی۔ بڑے بڑے بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے۔ اس نے جنت کا ذکر سن کر کہا کہ میں بھی ایک ایسی ہی بہشت تیار کرتا ہوں۔ تب اس نے یمن کے بعض جنگلوں میں شہر ارم کی بنیاد ڈال دی اور تین سو برس میں ایک شہر تیار ہوا جس کے چاندی سونے کے محل اور یاقوت زبرجد کے ان کے ستون تھے اوراقسام اقسام کے اس میں باغ اور نہریں تھیں جب بن کر تیار ہوا تو ارکان دولت کو لے کر اس بہشت میں چلا جب قریب رہ گیا تو آسمان سے ایک کڑک آئی اور سب کو ہلاک کردیا۔ شداد نو سو برس کی عمر میں مرا۔
یہ بھی روایت ہے کہ ابو قلابہ اپنا اونٹ ڈھونڈتے ہوئے اس جنگل میں جا نکلے اور شہر ارم میں جا پہنچے اور وہاں سے بہت کچھ جواہرات اٹھا لیے۔ اس کی خبر معاویہ ؓ کو پہنچی۔ انہوں نے بلا کر پوچھا۔ سارا احوال بیان کردیا۔ تب معاویہ ؓ نے کعب سے دریافت کیا تو کہا یہ وہ شہر ارم ہے جو شداد نے بنایا تھا۔ اگر یہ روایت صحیح تسلیم کرلی جائے تو ممکن ہے کہ شہر ارم کے کھنڈرات میں جا پہنچے ہوں اور بیش بہا پتھر لے آئے ہوں مگر اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ شہر ارم اسی طرح اب بھی یمن کے جنگلوں میں موجود ہے اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہے۔ دوسرا واقعہ : اس کے بعد دوسرا واقعہ بیان فرماتا ہے جو اس کے بعد گزرا ہے۔ فقال وثمود الذین جابوا الضحر بالواد اور قوم ثمود کے ساتھ کیا کیا وہ قوم ثمود کہ جس نے جنگلوں میں پتھر تراشے تھے اور بڑے مستحکم مکان بنائے تھے کہ ہم ہمیشہ ان میں رہا کریں گے۔ یہ قوم شمال عرب میں رہتی تھی۔ حجر سے لے کروادی القریٰ تک ان کی بستیاں تھیں۔ پہاڑ تراش کر نہایت خوبصورتی کے ساتھ مکان بنایا کرتے تھے۔ تصویریں اور پھولوں اور درختوں کی صورتیں بھی تراشا کرتے تھے۔ نہایت شادمانی اور مزے سے زندگانی بسر کیا کرتے تھے مگر ساتھ ہی بدکاری اور بت پرستی بھی بےحد تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) اس قوم کی طرف مبعوث کئے گئے پھر کب یہ ماننے والے تھے۔ آخر ایک ہی بار ہلاک ہوگئے۔ ان کا قصہ بھی کئی بار قرآن مجید میں آچکا ہے۔ ان کے آثار اب تک شام کی طرف جانے والوں کو دکھائی دیا کرتے ہیں۔ حال کے سیاحوں نے بھی ان کے سنگین مکانات کے کچھ کچھ آثار دیکھے ہیں۔
تیسرا واقعہ ¦ اس کے بعد تیسرا واقعہ قوم فرعون کا بیان فرماتا ہے فقال وفرعون ذی الاوتاد اور فرعون کے ساتھ کیا کیا جو لشکر والا تھا او تا دوتد کی جمع ہے جس کے معنی ہیں میخ کے۔ مفسرین کے اس کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں : (1) یہ کہ اوتاد لشکروں کو کہتے ہیں کیونکہ سلطنت و حکومت کی یہی میخ ہے جس بادشاہ کا لشکر مہیا اور کارآمد نہیں اس کی بادشاہت بےبنیاد ہے اور یہی ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
(2) یہ کہ اس قدر گھوڑے اور خیمے تھے کہ بیشمار میخیں ساتھ چلا کرتی تھیں جس سے اس کی حشمت اور کثرت مال و جاہ کی طرف اشارہ ہے۔ (3) یہ کہ وہ موذی ایمانداروں کو چومیخا کیا کرتا تھا۔ اس لیے میخیں رکھ چھوڑی تھیں۔ اس لیے اس کو اس بری صفت سے یاد کیا گیا۔
پھر اجمالاً ان تینوں قصوں کو بیان فرما کر سب کے افعال زشت اور حالاتِ بد کا اجمالی حال بیان فرماتا ہے جو ان پر دنیا میں قہر ٹوٹ پڑنے کا باعث ہوا۔ فقال الذین طغوا فی البلاد یہ سب قومیں وہ تھیں کہ جنہوں نے ملک میں رہ کر سرکشی کی اپنی حد سے گزر گئے تھے تکبر کی بھی انتہا نہ رہی تھی۔ محکوموں کے ساتھ نخوت اور بےپروائی سے پیش آتے تھے۔ اخلاق کا نام تک نہ تھا۔ شہوت پرستی اور عیاشی کا بھی کچھ انتہا نہ تھا۔ بہائم کو بھی شرما دیا تھا۔ اس پر درندے بھی بن گئے تھے جس کو چاہا پیٹ ڈالا ٗ قید کردیا ٗ مروا ڈالا ٗ الزام لگا کر گھر بار ضبط کرلیا۔ عدل و انصاف ‘ صداقت ‘ پارسائی ‘ پرہیزگاری ‘ رحمدلی ‘ خوش اخلاقی تو چھو کر بھی نہیں گئی تھی۔ اس پر اعتقادات وہ بد کہ الٰہی توبہ۔ خدا تعالیٰ کی بےادبی اس کے رسولوں اور ان کی شریعت کی بےعزتی ‘ بت پرستی ایک ادنیٰ بات تھی۔ دار آخرت اور اعمال کی جزا سزا کا تو خیال بھی نہیں آتا تھا۔ زناکاری اور شراب خواری کے دروازہ کھول دیے تھے۔ لوگوں کو بھی اسی روش اور انہیں خیالات پر پھیر کر لاتے تھے اور اپنی عقل و تدبیر اور شوکت و حشمت موجودہ پر بڑا غرور تھا۔ ان سب باتوں کی طرف اس ایک ہی جملہ میں اشارہ ہے فاکثروا فیہا الفساد کہ زمین میں بہت ہی فساد کیا ہے۔ ہر ایک بات جو اوپر مذکور ہوئی فساد فی الارض ہے۔ اب ان کی سزا بیان فرماتا ہے۔ فقال فصب علیہم رب سوط عذاب کہ تیرے رب نے (جو رب العالمین ہے اس کو اپنے غریب بندوں کی پرورش بھی ملحوظ ہے۔ مظلوموں پر رحم کھانا بھی اس کی ربوبیت کا مقتضٰی ہے) ان پر سزا کا کوڑا مارا سب کو ہلاک و برباد کردیا۔ اس کے تازیانہ سے ڈرنا چاہیے۔ کس لیے کہ ان ربک لبا لمرصاد تیرا رب اپنے بندوں کے حالات و حرکات دیکھتا رہتا ہے۔ سب کچھ اس کی نظروں میں رہتا ہے۔ کچھ انہیں قوموں پر انحصار نہیں اور صدہا قوموں پر سزا کے کوڑے مارے ہیں اور آیندہ مارے گا۔ اگر یہی اخیر جملہ بندے کے دھیان میں رہے تو بڑا ہی نیک ہوجاوے۔ قرآن نے تذکیر میں کوئی مرتبہ اٹھا نہیں رکھا۔ اس سے بڑھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا۔
Ayahs 89:15–16ترکیب ¦ فاما بھنا لمجر والتاکید لالتفصیل المجمل اذا شرطیۃ مازائدۃ فاکرمہ ونعمہ تفسیر للابتلا فیقول الخ جواب الشرط وقیل اذا ظریفۃ ودخلت الفاء فی فیقول لتضمن اما معنی الشرط ای فاما الانسان فیقول ربی اکرمنی وقت ابتلانہ بالنعماء۔ اکرمن اصلہ اکرمنی حذفت الیاء اتباعاً لرسم المصحف وبقیت الکسرۃ دلیلاً علیھا وقس علیہ واما اذا اما ابتلاہ فقدر الخ کلار وع للانسان عن قولہ ولا تحاضون والمفعول محذوف ای احدا او انفسکم قرء الجمہور تحضون من حضہ علی کذا ای اغرہ بہ وقریٔ تحاضون بفتح التا واصلہ تتحاضون ای لا یحض بعضکم بعضا وقری بضم التاء من الحض وھوالحث۔ طعام المسکین والطعام اما اسم مصدر ای اطعام المسکین اوا سم للمطعوم فالمضاف محذوف ای بذل طعام المسکین التراث اصلہ الوارث فابدلت التاء من الواؤ المضمومۃ کما فی تجاہ و وجاہ لما اصل اللم الجمع یقال لممت الشیء المہ جما الجسم الکثرۃ یقال جم الشیء الجسیم جموماً یقال فی المال وغیرہ فھم جم وجام۔
تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا ان ربک لبا لمرصاد کہ وہ آخرت کے مفید و مضر کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ فاما الانسان الخ اور انسان کا یہ حال ہے کہ وہ رات دن حصول دنیا اور اس کے لذات و شہوات میں مشغول ہے۔ اگر دنیا میں دولت و راحت مل گئی تو کہنے لگا کہ میرا خدا مجھ سے خوش ہے اور جب ہی تو اس نے مجھے یہ عزت دی ہے اور جو تنگ دستی یا تکلیف پیش آگئی تو کہنے لگا کہ ناراض ہے جس لیے اس نے مجھے ذلیل کر رکھا ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کی رضامندی اور اس کا عزت و اکرام حصول دولت و راحت دنیا پر منحصر جانا اور اس کی ناراضگی اور توہین کو دنیاوی فقر و فاقہ اور تکالیف پر محمول کیا اور یہ اس کا خیال باطل ہے کس لیے کہ دنیا کی راحت و نعمت اور اسی طرح افلاس و فقر ‘ بیماری و خواری اس کی آزمائش ہے کہ نعمت ہے کہ نعمت و راحت پا کر کیسی شکر گزاری و فرمانبرداری کرتے ہیں اور مصیبت میں کیونکر صبر کرتے ہیں۔ اگر مصیبت میں صبر کیا تو ترقی درجاتِ آخرت کا باعث ہے اور نعمت میں شکر نہ کیا تو اور بھی باز پرس کا باعث ہوگا۔ الغرض حصول دنیا اور اس کے عدم حصول پر ہماری رضامندی اور اکرام یا توہین و ناراضی سمجھنا غلط بات ہے جیسا کہ کفار سمجھے ہوئے ہیں اور یہی حجت پیش کیا کرتے ہیں اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے کلا کہ ہرگز ایسا نہیں۔
کلا یعنی فراغدستی ‘ کثرت مال و اولاد سے یہ سمجھنا کہ خدا مجھے معزز سمجھتا ہے اچھا اور محبوب جانتا ہے یا تنگدستی سے برا جانتا ہے ٗ غلط خیال ہے جس کو لفظ کلا سے تعبیر کیا بلکہ فراغدستی بھی اس کی آزمائش ہے اور تنگدستی بھی کہ فراغدستی میں کیا شکر اور تنگدستی میں کیا صبر کرتے ہو ؟ فراغدستی سے خدا کے نزدیک عزت دار نہیں ہوجاتا نہ تنگدستی سے ذلیل۔ بل بلکہ ذلت کے یہ اسباب اور یہ کام ہیں۔ گو وہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو اور وہ ذلت کے کام کیا ہیں جن کے کفار مرتکب تھے۔ آپ ہی بیان فرماتا ہے۔ (1) لاتکرمون الیتیم تم یتیم کی عزت نہیں کرتے حالانکہ وہ بےباپ کے ہیں۔ دنیا کے مصائب اس پر پڑے ہوئے ہیں اور خود بھی کم سن ہے کچھ کر نہیں سکتا۔ اب تم اپنے تکبر سے اس کو منہ بھی نہیں لگاتے۔ شفقت اور کھانا کھلانا اس کی حاجت بر آوری کرنا تو کجا یہ کام ہے جس سے اللہ کے نزدیک انسان ذلیل ہوجاتا ہے۔ خواہ بظاہر کیسا ہی دولت مند کیوں نہ ہو۔ جہال عرب میں یہ بھی عیب تھا کہ یتیموں پر مہربانی نہیں کرتے تھے۔ احادیث صحیحہ میں یتیموں پر مہربانی کرنے کے بڑے فضائل آئے ہیں۔ (2) ولا تحاضون علیٰ طعام المسکین اور نہ مسکین کے کھانا کھلانے کی ترغیب دلاتے ہو نہ اپنے آپ کو اور نہ اور کسی کو۔ حالانکہ غریب محتاج کو کھانا کھلانا تمام اہل عقل و نقل کے نزدیک مسلم نیکی ہے۔ برخلاف اس کے بدبخت جاہل یہ کہتے ہیں کہ جب اس کو خدا ہی نے نہ دیا اور اس نے اس کی بےقدری کی اور خدا ہی نے یتیم کے باپ کو مار دیا تو ہم اس پر کیوں رحم کریں کیوں کھانا کھلائیں۔ نہ کرنے میں تو یہ دو کام نہیں کرتے جو کرنے چاہئیں تھے اور کرنے میں یہ دو کام کرتے تھے۔ (3) وتاکلون التراث اکلا لما کہ مردوں کا مال جو بلامشقت ورثہ میں ملتا ہے اس کو سمیٹ لیتے ہو اور خوب دل کھول کر کھاتے ہو۔ فضول خرچی کرتے ہو۔ عیاشی اور نمود کے کاموں میں اوڑاتے ہو۔ سچ ہے مال مفت دل بےرحم۔ (4) وتحبون المال حبا جماً اور مال کی دل سے محبت کرتے ہو بڑے لالچی اور طماع ہو۔ معاذ اللہ تمام گناہوں کی جڑ یہی محبت دنیا اور یہی لالچ اور طمع تو ہے یہی حق تلفی کراتی ہے۔ یہی جھوٹ بلواتی ہے۔ یہی خون کراتی ہے۔ یہی بےشرم بےحیا بنا دیتی ہے۔ یہ ہیں وہ کام جو تم اے قریش ! کر رہے ہو۔ بجائے عبادت ٗ صداقت ‘ ایمان ‘ پرہیزگاری ‘ خیرات ‘ صلہ رحمی کے۔ پھر تم سمجھ لو کہ عاد وثمود و فرعون پر جو کوڑا پڑا تھا وہ تمہارے لیے بھی تیار ہے۔ پھر بتاؤ اہانت و ذلت خدائی کا سبب حبِّ دنیا ہے یا فقر و فاقہ۔
Ayahs 89:17–30ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض ای کعذابہ وثاقہ قرء الجمہور لایعذاب ولا یوثق مبنیا للفاعل فالضمیر فی عذابہ ووثاقہ یرجع الی اللہ تعالیٰ ای لایعذب احد کعذابہ ولا یوثق احد مثل وثاقہ وقریٔ بصیغۃ المجھول ایضاً فالضمیران راجعان الی الانسان الکافر راضیۃ مرضیۃ حال من فاعل ارجعی۔
تفسیر ¦ پھر فرماتا ہے کہ یہ مت سمجھو کہ وہ خدا تعالیٰ جو تمہارے نیک و بد کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ بدلہ دینے سے عاجز ہے یا بدلہ نہ دے گا۔ کلا ہرگز یہ خیال نہ کرو بلکہ وہ ضرور بدلہ دے گا کس روز ؟ اذا دکت الارض دکا دکا جس دن کہ زمین جو اس دنیا کا فرش ہے ریزہ ریزہ ہوجاوے اور بلندو پستی ہموار کردی جائے۔ یہ نفخ صور اول کے بعد ہوگا جبکہ زلزلہ عظیم زمین کو زیرو بالا کر دے گا اور اس کے بعد یہ تمام عالم فنا ہوجاوے گا تب ایک دوسرا جہان پیدا ہوگا اور مردے قبروں سے زندہ ہو کر نکلیں گے اور تمام اولین و آخریں عدالت کے لیے خدا تعالیٰ اور اس کے ملائکِ مقربین کی راہ تکیں گے کہ اس گرمی و مصیبت سے فیصلہ کرکے ہم کو نجات ملے وجاء ربک تیرا رب آوے گا یعنی صفت جلال و قہر میں تجلی کرے گا اور بندوں کی عدالت کی طرف متوجہ ہوگا والملک صفا صفا اور فرشتے بھی صف باندھ کر آحاضر ہوں گے۔ یہ تعمیل حکم کرنے کے لیے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ ہر ایک مرتبہ کے فرشتوں کی ایک صف ہوگی۔ وجایٔ یومئذ بجہنم اور جہنم بھی لا کر لوگوں کے سامنے موجود کی جاوے گی اور اس کی بڑی بڑی چنگاریاں اڑتی ہوں گی اور اس کے جوش و خروش کی ایک ہیبت ناک آواز لوگوں کے ہوش و حواس پریشان کرتی ہوگی۔ لانے سے مراد ظاہر کیا جانا بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے وبرزت الجحیم لمن یری۔ یومئذ یتذکر الانسان اس روز انسان یاد کرے گا جو اس نے دنیا میں کیا تھا اور اس روز اس کا نشہ ہرن ہوجاوے گا اور اس کو نصیحت ہوجاوے گی کہ جو کچھ دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائبوں نے خبر دی تھی۔ سب حق ہے اور ہم اپنی بدبختی سے آنے والی مصیبت کو ٹھٹھوں میں اڑاتے رہے اور اس کے لیے نیک عمل اور ایمان صادق کا سرمایہ جمع کرنے سے دنیاوی لذات و شہوات فانیہ میں مستغرق رہے۔ وانی لہ الذکریٰ مگر اس روز کے سمجھنے سے اس کو کیا فائدہ ہوگا۔ اس روز پچھتانا ‘ دانت پیسنا ‘ رونا سر پیٹنا کچھ کام نہ آئے گا اور اس دن اس رونے پیٹنے میں منہ سے کیا کہے گا ؟ یلیتنی قدمت لحیاتی اے کاش میں آج کی زندگی کے لیے جو ابدی ہے دنیا میں ایمان و اعمال نیک کا سرمایہ آگے بھیجتا اس کے بعد مرتا۔ میں بدنصیب تو جو کرتا رہا چند روزہ زندگانی کے لیے کرتا رہا جو ابک خواب سا تھا۔
بعض نے لحیاتی کے لام کو فی کے معنی میں بھی سمجھا ہے۔ تب یہ معنی ہوں گے کہ اپنی زندگانی دنیا میں اس دن کے لیے کاش کچھ آگے بھیجتا۔ یہ حسرت و ندامت بھی عذاب جسمانی کے سوا ایک اور روحانی عذاب ہوگا ‘ اس لیے فرماتا ہے فیومئذ لایعذب عذابہ احد کہ پھر اس روز اس کے عذاب جیسا اور کوئی عذاب نہ کرے گا یعنی جس قدر اللہ تعالیٰ اس روز اس بےایمان بدکردار کو عذاب دے گا ویسا کسی نے نہ دیا ہوگا۔ کس لیے کہ اول تو اس کا عذاب روحانی اور جسمانی ہوگا۔ دوم ایسا سخت ہوگا کہ ویسا دنیا میں ہو نہیں سکتا۔ سوم دنیا کے عذاب کی انتہا خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو موت ہے جس سے چھٹکارا ہوجاتا ہے مگر وہاں موت بھی نہیں کہ چھٹکارا ہوجاوے۔ ولا یوثق و ثاقہ احد اور نہ اس کی قید جیسی کسی نے قید کی ہوگی وہاں کی بیڑیاں خدا کی پناہ وہاں کے جیل خانہ سے کوئی نکل نہیں سکتا لے دے کر کوئی راحت نہیں پہنچا سکتا۔ آخر ہمیشہ کی قید الامان ‘ الامان ! اس کے علاوہ عقل و ادراک تمام اسی تکلیف کی طرف متوجہ غمزدہ آدمی کہیں جائے اس کے غم کی بیڑیاں اس کے پائوں میں رہا کرتی ہیں۔ یہ روحانی قید ہے جو وہاں بدرجہ کمال ان بدبختوں کو ہوگی۔ پھر ایسی قید اور کون کرسکتا ہے۔ بعض قاریوں نے لایعذب ولا یوثق کو مجہول کا صیغہ پڑھا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ اس غافل بدبخت جیسا اور کسی کو عذاب نہ کیا جاوے گا نہ اس جیسی اور کوئی قید کی جاوے گی کس لیے کہ وہ کافر و مشرک اور اس پر بدکار لذات و شہوت دنیا کا فریفتہ کسی وقت اور کسی حال میں بھی دنیا میں خدا تعالیٰ اور دار آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا۔ برخلاف اور ایمانداروں گنہگاروں کے کہ اگر وہ کبھی بدی کرتے تھے تو دوسرے وقت کوئی نیکی بھی کرلیتے تھے۔ ان کو آخرکار ان کے ایمان یا اعمال نیک کے سبب رستگاری ہوجاوے گی۔ یہاں تک تو بدوں کا حال بیان فرمایا جو قیامت میں ان پر طاری ہوگا۔ اس کے بعد نیکوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ان سے اس روز کیا معاملہ پیش آوے گا ؟ فقال یا ایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ کہ اس خوف و ہراس کے وقت فرشتے ان سے تسلی دے کر یہ کہیں گے کہ اے اطمینان یافتہ جان ! اپنے رب کی طرف عدالت میں خوش خوش چل تو اس سے خوش وہ تجھ سے خوش ‘ کوئی غم و ہراس نہ کر۔ اس عظمت و شان سے اس کو پیشی میں لاویں گے۔ پھر جب وہ حق سبحانہ کے سامنے ہوگا جو کچھ عنایت و مہربانی اس پر ہوگی اس کا انتہا نہیں۔ آخرکار خدا تعالیٰ اس کو فرما دے گا کہ فادخلی فی عبادی کہ آپ اس بلند مرتبہ اور بلند جگہ میں آؤ جو میرے بندگان خاص کے لیے ہے۔ جیسا دنیاوی عدالت میں حاکم کسی کی تعظیم و تکریم کے لیے کہا کرتا ہے کہ آپ ادھر معزز لوگوں میں آئیے۔ ہمارے پاس دائیں طرف عزت کی کرسی پر بیٹھئے جہاں اور معزز ہیں۔ وادخلی جنتی اور میری بہشت میں جو میں نے خاص تمہارے لیے پہلے سے تیار کر رکھی ہے ٗ اس میں رہئے ‘ سدا آرام کیجئے۔ دنیاوی بادشاہ بڑے عالیشان مکانوں اور باغوں میں ملا کرتے ہیں اور ملنے والوں کے لیے بیٹھے رہنے کی جگہ کی کیسی تیاری کرتے ہیں تو پھر کیا خدا پاک کا جہاں دیدار ہوگا وہ کوئی کوڑی اور ویرانہ ہوگا ؟ ہرگز نہیں جہاں ان کا جلوہ جہاں ان کا دیدار وہ جگہ گلزاربل کہ لاکھ گلزار اس پر نثار۔ یہ بات جنتی کے لفظ سے سمجھی جاتی ہے جس میں جنت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ بہت سے خشک زاہدوں اور بےسمجھ شاعروں نے جنت نہیں سمجھی۔ جنت کو دنیا کا باغ اور چکلہ اور کیا کیا بتانے لگے۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ جو اس دیوان خاص میں نہ جانے پائے گا اس کو اس کا دیدار ہی نصیب نہ ہوگا۔ کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تجلی دکھائی۔ پھر کیا اس کی وہ جنت دنیا کے کوہ طور سے بھی کم ہوگی ؟ ہرگز نہیں۔
فائدہ 1: اس نیک کو اطمینان والی جان کیوں فرما دیا ؟ اس لیے کہ اس کو اس لفظ کے سنتے ہی عذاب و عتاب کی دہشت سے اطمینان ہوجاوے۔ گویا یہ تسلی دینے والا لفظ پہلے سے بطور مژدہ کے سنایا جاوے گا کہ تجھے اطمینان ہے۔
فائدہ 2: واضح ہو کہ انسان کے نفس کی تین صفات ہیں۔ امارہ ‘ لوامہ ‘ مطمئنہ۔ امارہ کفار و دنیا کی لذات پر فریفتہ لوگوں کی صفت ہے کہ وہ ان کو بدکاری پر بار بار امر یعنی حکم کرتا رہتا ہے اور وہ مانتے رہتے ہیں۔ لوامہ لوم ملامت کرنے والا یعنی اپنی برائیوں پر ملامت کرے۔ یہ عامہ ایمانداروں کی صفت ہے۔ ان میں حس و ادراک باطنی باقی ہے۔ ابھی گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں ٗ افسوس کرتے ہیں دل میں گناہ کرکے رنج ہوتا ہے۔ مطمئنہ۔ اطمینان یافتہ یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیاء کرام و صالحین کے نفس کی حالت ہے۔ ان کو عبادت و معرفت سے اطمینان ہوجاتا ہے الابذکر اللہ تطمئن القلوب اور کاموں میں ان کا دل بیقرار رہتا ہے۔ ہر پھر کر اپنے مرکز اصلی ذکر الٰہی کی طرف آرہتا ہے۔ یہ بات بوقت مرگ بھی نیکوں سے پیش آتی ہے کیونکہ یہ بھی قیامت صغریٰ ہے۔ رحمت کے فرشتے نہایت مہربانی سے کہتے ہیں کہ اے روح اطمینان والی چل اپنے رب کی طرف اس ویرانہ دنیا کو چھوڑ تو اس سے خوش وہ تجھ سے۔ تیرے لیے وہاں بڑی بڑی تیاریاں ہیں۔ احادیث صحیحہ میں اس کی بکثرت تصریح ہے۔ جعلنا اللہ منہم۔